Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 3)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

رامین اُسے گھسیٹتے لے کر گئ تھی ” تمہارا دماغ خراب ہے افی تم جانتی بھی ہو کے اگر بھائ کو اس بات کا علم بھی ہوا تو کیا خشر کریں گے ہمارا رامین گھبراتے ہوے بولی تھی

کچھ نہیں ہوتا تم زیادہ خوف زدہ مت ہوا کرو ” دیکھا نہیں تھا کیا بکواس کر رہا تھا وہ جاھل ” اُسکی ایک ہی رٹ دیکھتی افق اُس پر پھٹ پڑی تھی ۔۔

ڈانت کیوں رہی ہو میں بہت زیادہ ڈر گئ تھی وہ کہتی رو پری ” افق نے اُسے روتا دیکھ ساتھ لگایا ۔۔

ارے میری جان میں ہوں نہ تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا ” اور ایک بات یاد رکھنا “میرے بابا کہتے تھے کہ جو انسان اپنا دفاع نہ کر پائے وہ اندر سے حد درجہ کمزور ہوتا ہے ۔۔

اور میں کمزور نہیں ہوں اور تمہیں بھی نہیں بننے دونگی ۔۔اب جلدی سے آنسو صاف کرو ورنہ وہ چنگیز خان آ کر پھر یہیں اپنی کچہری لگا لے گا اور ہاں بھای کو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں افق نے اُسے آنکھیں دکھاتے تنبیہہ کی ” کیوں کہ وہ جانتی تھی اس کے پیٹ میں بات نہیں رہتی تھی اپنے بھای کو بتائے بغیر “

کہاں تھی تم لوگ ” انہیں آتا دیکھ وہ برہم ہوتا استفسار کرنے لگا

ابھی وہ پارکنگ میں پہنچی تھی کے اُسے وہاں اپنا انتظار کرتے پایا تھا ۔۔

وہ بھای آج کلاس لیٹ ہو گئی اسلیے افق جلدی سے بہانہ گرھتی بولی اور رامین کو چپ رہنے کا اشارہ کیا

دونو خاموشی سے بیٹھ گئی۔۔انکی یہ خاموشی آدم کو کھٹکی تھی کچھ تو تھا جو وہ لوگ چھپا رہی تھی

کیا ہوا ہے رامین تمہاری آنکھیں کیوں سرخ ہیں ” رامین نے بوکھلاتے ایک نظر افق کو دیکھا جو اُسے آنکھیں نکال رہی تھی ۔۔

کّ کچھ نہیں بھائی بس طبیعت کچھ ٹھیک نہی وہ ارٹکتے بس اتنا بول پائ،،اگر زیادہ طبیعت خراب ہے تو ڈاکٹر پر چلتے ہیں آدم بہن کی سرخ آنکھیں دیکھتا متفکر ہوتا بولا ۔۔

نہیں بھائی گھر جا کے کچھ دیر آرام کرونگی تو ٹھیک ہو جاؤنگی ،،رامین نے ذبرستی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے کہا ۔

اور تم کیوں خاموش ہو ” افق کی جانب دیکھتے اُس نے آئیبرو اچکاتے استفسار کیا ” ۔۔ نہ _نہیں “کچھ نہیں افق جلدی سے بولی “

اگر کوئی بات ہے ” کچھ چھپا رہے ہو تو بتا دو ،،مجھے کسی دوسرے سے معلوم ہوا تو اچھا نہی ہوگا ۔۔۔

نن،،نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ کو ہمیشہ میں ہی کیوں غلط لگتی ہوں ۔۔کبھی جو آپ مجھ پر ٹونٹ کرنے کا موقع جانے دیں کہتی وہ منھ پھیر گئ

آدم نے سٹیرنگ پر اپنی گرفت سخت کی اور لب بینچ لیے وہ فلحال اُس سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا تھا

وہ جتنا بھی سخت تھا ” غصیل تھا بقول سب کے لیکن اپنوں کے لئے بے حد حساس تھا ” محبت کرتا تھا لیکن اظہار کبھی نا کیا اور نہ کبھی آگے کرنے کہا ارادہ رکھتا تھا ۔۔

________________

گھر آتے ہی وہ دونو کمرے میں بند ہو گئی تھی ،،سارا دن دونو کمرے سے نہیں نکلی تھی جس وجہ سے سب ہی پریشان ہو گئے تھے ۔۔خوف کے مارے رامین کو تو بخار ہو گیا تھا جبکہ افق کو تو ذرا برابر بھی پرواہ نا تھی بس اپنے ٹیسٹ کی وجہ سے خاموش تھی ۔

رات میں کافی وقت گزر گیا جب ڈور نوک ہوا ۔۔

افق نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے آدم کھڑا تھا ” اُس نے ایک نظر اُسکی جانب ڈالی جو اس وقت بےبی پنک کلر کے نائیٹ ڈریس میں موجود تھی لیکن سر پر حجاب کیا ہوا تھا ۔۔ حسب معمول وہ افق نے آنکھیں پھیلاے اس سے بے تکا سا سوال کیا “

بھائی آپ اس وقت ” ۔۔

ہاں مجھے رامین کو دیکھنا تھا ،، وہ چہرے پر ازلی سردمہری لیے گویا ہوا

وہ تو سو رہی ہے پین کلر لی تھی اُس نے ،،افق نے پلٹتے سوئ ہوئی رامین کو دیکھتے کہا

ہمم ٹھیک ہے وہ کہتا پلٹ گیا ۔۔۔

اگلے دن دونو ہی کالج نہیں گئ ” آدم نے بھی کچھ نہ کہا تھا لیکن اُسے لگ رہا تھا کچھ تو ایسا ہے جو وہ دونو چھپا رہی ہیں ۔۔

سب شام میں لاونج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے

رامین اور افق بھی موجود تھیں ” رامین کی طبیعت پہلے سے کچھ بہتر تھی اسلیے وہ بھی سب کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ،،

افق بیٹا جاؤ مینو کے لیے سوپ لے آؤ ،، گیس بند کی تھی نہ ؟…

ہانی بیگم افق کو دیکھتی استفسار کرنے لگی

مما میں تو گیس بند کرنا ہی بھول گئی وہ کہتی کیچن کی جانب بھاگی ۔۔

آفف ” یہ نکمی لڑکی ” کیا کروں میں اسکا ۔۔اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتی ہانی بیگم برہمی سے ساتھ بیٹھی سونیا بیگم سے ہمکلام تھی

جانے ہمارے کب آرام کرنے کے دن آئے گے ” انکا تو بچپنا ہی ابھی تک ختم نہیں ہوتا اور یہ صاحب زادے شادی کے لیے مانتے نہی ۔۔ اب تمام توپو کا رخ آدم بٹ کی جانب تھا

بہو آئے تھوڑا مجھے بھی سکون آئے سونیا بیگم افسردگی سے بولی ۔

زیادہ تر تو وہ گھر پایا نا جاتا تھا کالج سے آ کر اکثر شاپ کے چکر لگانے چلا جاتا یاں پھر دوستوں کے ساتھ ” ۔۔آج وہ ہاتھ آیا تو سونیا بیگم نے آج اُسے جھا لیا تھا ۔۔

امی کر لونگا شادی بھی ” آپکا یہ شوق بھی پورا کر دونگا پھر روز آپ نے ہی میرے آنے تک شکایتوں کا ایک انبار لگا کر رکھنا ہے وہ شوخ لہجے میں کہتا ہانی بیگم کی گود میں سر رکھ گیا “

برخوردار ٹھیک کہہ رہی ہیں تمہاری ماں! اگر کوئی پسند ہے تو بتا دو ورنہ اب ہم خود پسند کر لیں گے ۔۔

اسکو بات کو ٹالٹا دیکھ شجاع صاحب سنجیدگی سے گویا ہوئے

ٹھیک ہے آپ لوگ دیکھ لین مجھے کوئی اعتراض نہی ٫٫لیکن لڑکی میرے مقابلے کی ہونی چاہئے تبھی کرونگا نکاح ” وہ کہتا اٹھ کر اند کی جانب چلا گیا جانتا تھا انکی تلاش میں ہی سال گزر جانا ہے “

ہائے ” کتنا مزہ آئے گا مینو اور افق چیخ اٹھی ۔۔

بھای کی شادی ہوگی ۔۔ ممانی کیا ہمیں بھای جیسی ہی نک چڑھی ڈھونڈھنی پڑے گی ” افق ابراہیم کے اس نئے شوشے پر ہانی بیگم نے جوتا اُتار لیا تو وہ دونو بھاگ نکلی “

انکی ایکسایٹمنٹ پر سب مسکرا اٹھے” پاگل لڑکیاں ہانی بیگم نے انہیں اپنے کمرے کی جانب بھاگتے دیکھ کہا

___________

ہائے مزے ” مزے افق ناچتے ہوئے بلند آواز میں بول رہی تھی اور ساتھ ساتھ جھول رہی تھی ۔۔۔

تم کیوں اتنی خوش ہو رہی ہو جیسے تمہاری ہو رہی ہے افق کو اچھلتا دیکھ وہ ترح کے بولی تھی

پاگل مجھے کہاں شوق ہے شادی وادی کا ۔۔وہ تو میں اس لیے خوش ہوں

ایک بار بھای کی شادی ہو لینے دو ہم دونوں کی تو جان چھوٹ جائے گی ۔۔

تمہیں پتہ ہے میں نے سنا ہے شادی کے بعد لڑکے اپنی بیوی کی باتین ہی مانتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے ہی گھومتے رہتے ہیں ۔۔

کتنا مزہ آیا کرے گا سوچو ہم دونوں مزے سے موویز دیکھیں گی” باہر جائیں گی

افق سوچتی خوش ہو رہی تھی اور ساتھ رامین کو بھی گھول گھمانے لگی ۔۔۔۔

دروازہ نوک ہوتا دیکھ دونو ایک دم سیدھی ہوئی تھی ..

سامنے آدم کو کھڑا دیکھ کر دونو بوکھلا گئ تھی ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے وہ اس وقت ان کے کمرے میں آئے گا ۔۔

دونو کا اُسے دیکھ کر سانس خشک ہوا تھا ،،،بھای آپ اس وقت وہ اٹکتی بولی تھی ۔۔

کیوں نہیں آ سکتا ” نہیں بھای وہ آپ گھر نہیں نہ ہوتے اس ٹائم اسلیے پوچھا “.. رامین اپنی سفید پڑتے چہرے پر ہاتھ مارتی بولی “

ہمم تم دونوں کا اسٹیٹ کا ٹیسٹ ہوا تھا آج ملنا تھا پروفسیر اکبر آج چیک کر رہے تھے ۔۔

مجھے دکھاؤں اپنا ٹیسٹ دونو ” وہ اپنے ازلی سرد لہجے میں بولا تھا جبکہ وہ دونوں تو ساکت کھڑی تھی

میں کہہ رہا ہوں ٹیسٹ دکھاؤ ان کو ہلتے نہ دیکھ وہ سختی سے بولا تھا ۔۔

ہنننن “” آہ جی “… وہ دونوں اُسکی سرد آواز سنتی اچھلتی اپنے بیگ کی جانب بھاگی تھی ۔۔

ٹیسٹ نکالتے دونو نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ،،رامین کے تو باقاعدہ ہاتھ کانپ رہے تھے وہ آدم کے غصے سے بہت ڈرتی تھی جبکہ حال تو افق کا بھی برا تھا

ان دونوں کو قریب آتا دیکھ اُس نے اُن کے ہاتھ سے پیپر جھپٹے تھے ۔۔

اللہ جی پلیز اس بار اس دیو سے بچا لیں اگلی بار اچھی تیاری کرونگی ” افق آنکھیں میچتی التجائیں کر رہی تھی ۔۔

آدم کا ٹیسٹ دیکھ کر غصے سے برا حال تھا ” کیا ہے یہ !!؟

وہ غصے سے مٹھیاں بینچتا دھارا تھا ۔۔

اسکی گرج دار آواز سن کے رامین کانپنے لگی تھی ” افق بھی گربرا کر دور ہٹی تھی ۔۔

میں پوچھ رہا ہوں کیا کرتی رہی تھی تم دونو ” ٹیسٹ میں یہ مارکس لیے ہیں ۔۔

فائنل میں فیل ہونے کا ارادہ ہے تم دونوں کا ” ۔۔کچھ شرم ہے ” اپنی نہیں تو میری عزت کا خیال کر لو دونو “

میں کچھ پوچھ رہا ہوؤں انہیں ہنوز خاموش پا کر وہ مزید بھڑک گیا ۔۔

بھای سوری پلیز ” نیکسٹ ٹائم ایسا نہی ہوگا رامین نے اٹکتے کہا ۔۔۔۔

میں نے وجہ پوچھی ہے ” تیاری کیوں نہیں کی تھی ۔۔

بھای تیاری تو کی تھی لیکن پروفیسر نے سوال اس طرح لکھوائے کے ہمیں سمجھ ہی نہیں آئی افق فٹ سے بولی تھی کہی رامین سچ ہی نہ اُگل دے ” ۔۔

یہ لاسٹ ٹائم تھا اگر دوبارہ ایسا ہوا تو تم دونوں کی ساری کلاس کے سامنے انسلٹ کرونگا میں “

شرم آنی چاہیئے تم دونو کو پروفیسر آدم کی بہن ہو کے یہ حال ہے ۔۔

کتنی شرمندگی محسوس ہوتی ہے مجھے جب تم دونوں کی پروگریس کا علم ہوتا ہے ان کی جانب ایک سرد نظر ڈالتا وہ باہر نکل گیا اور پیچھے دونو نے اپنا اٹکا سانس بخال کیا تھا۔۔۔

آج تو بال بال بچے ” افق نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا تھا۔۔

یار تم اتنا کیوں ڈر رہی ہو مینو ” رامین کو ابھی تک کانپتا دیکھ کر وہ اُس کے قریب بیٹھتی بولی ۔۔

بھای چلے گئے ہیں کچھ نہیں ہوا ” کہتے اُس نے پانی کا گلاس اُس کے آگے کیا ۔۔

وہ نم آنکھیں جھپکتے بولی جسم کانپ رہا تھا

مجھے ڈر لگ رہا تھا ” اس کے چہرے کا رنگ خطرناک حد تک سپید پڑ گیا ” مینو ریلیکس ” کچھ نہیں ہوا اُسے ساتھ لگاتے افق نے اس کی پشت سہلای ،، اور اسے پانی کا گلاس دیا ۔۔اسکا سانس بخال ہوتے دیکھ افق نے اُسے ٹوکا ” مینو تمہیں میں کتنی بار کہہ چکی ہوں یوں خوف زدہ مت ہوا کرو ” رامین نے دانتوں میں ہونٹ دباتے معصوم سی شکل بنای “

اوہ میری ڈرپوک سہیلی میں ہوں نہ ساتھ ” پھر ڈرنے کی کیا ضرورت .. افق نے پیار سے کہتے اُسے گلے لگایا تھا ۔

تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی نا ” اُس کے گرد بازو حائل کرتی مینو نے اُسکی بات کی تصدیق کرنی چاہی تھی ۔۔

میں ہمیشہ میری ڈرپوک بہن کے ساتھ رہونگی افق نے اُسے یقین دلایا تو وہ ہولے سے مسکرا دی

___________

آج وہ لوگ کالج گئ تو کلاس میں پارٹی کی باتیں چل رہی تھی ” پوچھنے پر معلوم ہوا کے لاسٹ سمیسٹر والوں کی پارٹی ہے اور سب کو انوائٹ کیا گیا ہے

وہ دونوں ہی خوشی سے اچھل پڑی تھی ” ویسے تو دونوں کو کسی دوسرے کی ہوش ہی نہ ہوتی لیکن ایک اُنکی دوست تھی جو ہے تو دوسرے ڈیپارٹمنٹ کی تھی لیکن اکثر فری پیریڈ میں اکٹھے ہو جاتی تھی تینوں ۔

وہ تینوں کلاس میں بیٹھی پارٹی کی باتیں کر رہی تھی

جب قریب سے گزرتی انکی کلاس کی ایک کافی

” موڈ سکاڈ ” لڑکی نے اُنکی بات سنتے اُنکا مزاق اڑایا تھا

دیکھو دیکھو ذرا گرلز یہ حاجن بیبیاں بھی آئیں گی پارٹی میں ۔۔ہنہہہہ ” تم لوگو کا پارٹی میں کوئی کام نہی کاز یہ پارٹی ہے نا کہ کوئی میلاد ” اس نے کہتے ایک ادا سے اپنے بال پیچھے جھٹکے ” اُسکی دوسری دو دوستیں بھی اُسکی بات پر ہنستے اُن کا مزاق بنانے لگی۔۔

یہ ایک پرائیویٹ کالج تھا جہاں امیر سے امیر اور غریب طبقہ بھی اپنے میریٹ کی بنیاد پر وہاں آتا تھا ” کالج کافی ہائی کلاس تھا لیکن اس کے باوجود وہاں کے ڈسپلن اور رولز بہت سخت تھے کچھ کالج کا پرنسپل بہت اچھا انسان تھا ” رنگ برنگے ملبوسات پہن کر آنا منع تھا تاکہ جو غریب طبقہ ہے وہ خود کو کالج میں کنفرٹیبل محسوس کرے ۔۔

لیکن کچھ ہای سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے بھی سٹوڈنٹس تھے جو کچھ رولز تو فالو کرتے تھے لیکن کچھ کو اگنور کر جاتے ۔۔

ایسی ہی” لیزا مراد ” بھی تھی ” جو آتی تو یونیفارم میں تھی لیکن اُسکا پیسہ اور اسٹیٹس دیکھ لڑکے اور لڑکیاں اُس کے پیچھے پاگل تھے۔۔

ایکسکیوز می ” میک اپ کی دکان” کیا تم نے ہمارے بارے میں کچھ کہا ” افق نے اُسکے سامنے جاتے اُسے گھورتے کہا تو اُسکا تو دماغ ہی گھوم گیا ۔۔

رامین اور اُسکی دوست بھی بات کو بھرتے دیکھ اُسکے قریب آ گئ

ہاؤ ڈیر یو کال می لائک ڈیٹ ” ۔۔ تمہاری اتنی ہمت ” کے تم مجھے کچھ کہو ،، ہے کون تم غریب باپ کی اولاد منھ اٹھا کر آ چلے آتے ہیں یہاں “…لیزا مراد غصے سے سرخ ہوتی اُس پر چلاتے ہاتھ اٹھانے لگی ۔۔

لیکن افق نے بر وقت اُسکا ہاتھ تھام کر جھٹکے سے موڑ کر اُسکی پشت سے لگایا ” ۔۔۔

لیزا مراد کا مسکراتا چہرہ پل میں تاریک ہوا تھا

آئندہ کے بعد میرے باپ تک جانے کی ہمت کی تو یہ ہاتھ جو ابھی سلامت ہے اسکو توڑ کر ہاتھ میں دے دونگی “

ایک جھٹکے سے اُسے دور پھینکتے وہ لال ہوتے چہرے کے ساتھ اُس پر غرائ تھی

لیزا مراد اُس کے جھٹکنے سے منھ کے بل دور فرش پر گری تھی ” اُسکی دوستیں بات بڑھتے دیکھ وہاں سے رفو چکر ہو چکی تھی جبکہ افق اُس کے قریب آتے نیچے بیٹھتے تندہی سے بولی ۔۔۔

چچ ” چ دیکھو ذرا مینو اُسکی تو بیچاری کی چمچیان اسے یہاں اکیلے چھوڑ کے چلی گی ،،اب تم بتاؤ تمہارا کیا حشر کروں ۔۔

لیزا سیدھی ہوتی اُسے قریب بیٹھے دیکھ گھبرائ تھی”

تم ،،تم جانتی نہیں میرے ڈیڈ کو” میرا اسٹیٹس میں دو منٹ میں تمہیں اس کالج سے نکلوا سکتی ہوں وہ ماتھے پر آئے پسینے کو ہمت کرتی صاف کرتے بولی تھی ۔۔۔

احّھ ” میں تو ڈر گئ” افق نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے مسکرا کر رامین کی جانب دیکھا ۔۔

میں تمہیں بتاتی ہوں مس میک اپ ” ۔۔تم نے شاید ہمیں ہلکے میں لے لیا ہے ” میں رامین بٹ ” اس کالج کے پروفیسر آدم بٹ کی سسٹر ہوں اور جو تم یہ سارا وقت منھ میں ٹھوستی رہتی ہو نہ بادام ” کاجو یہ ہماری ہی کمپنی کا ٹیگ لگ کے سپلاے ہوتے ہیں۔۔

اور یہ افق ابراہیم ” بٹ انڈسریز کے اونر کی بیٹی اور میری کزن” ۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے تمہیں مزید تعارف کی ضرورت نہیں ” اور ہاں! ہمارے پاس پیسہ اسلیے نہیں آتا کے ہم مکمل لباس پہننے کی بجائے اپنا لباس چھوٹے سے چھوٹا کرتے جائیں ۔

رامین نے کہتے اُس کے سامنے ہاتھ کرتے اُسے شرم دلائ ” ۔۔وہ بغیر کچھ کہے اُسکا ہاتھ تھامتے کھڑی ہو گئی

اور ہاں تم نے بتمیزی کی میں نے بھی اُسکا جواب دے دیا ” فضول میں دشمنیاں پالنے اور بات کو بڑھاے کی ضرورت نہیں اور میرے بھائی تک ي بات پہنچی تو پھر سوچ لینا میں تمہارے ساتھ کیا کرونگی اُسے دھمکاتے افق اپنی دوستوں کے ساتھ بیگ کندھے پر ڈالتی باہر نکل گئی ۔۔

پیچھے لیزا مراد اُسکی دھمکی سے فورن ڈر کر گھر کے لیے بھاگی ۔۔۔

واہ افق یار کمال کر دیا تو نے تو ” دل خوش ہو گیا ،،شکل دیکھی تھی اُسکی کیسے ڈری سہمی ہوئی تھی ،، اسٹرییلین طوطی” تینوں کے چھت پھار قہقہے نکلے تھے ۔۔۔۔

_____________

واپسی پر وہ دونوں ہی پارٹی کے لیے بہت ایکسائٹڈ تھی گھر آتے ہی دونو نے شور مچا دیا تھا۔۔

دونو اپنے کمرے میں جا کر اپنی الماریاں کھنکھال رہی تھی ،،سارے کپڑے نیچے زمین پر گرے پڑے تھے ،،آف یار مجھے تو کوئی ڈریس ہی نہیں مل رہا پارٹی کے لیے افق نے سارے کپڑے الٹتے منھ بصورتِ کہا تھا ٫،، مجھے بھی کچھ اچھا نہیں مل رہا رامین نے بھی وہی زمین پر بیٹھتے رونی صورت بنای تھی ۔

ہانی بیگم جو دونو کو دیکھنے آئی تھی کہ آخر کیوں آج دونو بھاگتی اپنے کمرے میں گئ تھی اور اتنا وقت بیت گیا لیکن باہر نا آئی ۔۔۔سامنے پھیلے کپڑوں کا ڈھیر دیکھ کر منھ پر ہاتھ رکھتی کمرے میں داخل ہوئی

یہ کیا حرکت ہے تم دونوں کی” ۔۔۔ہانی بیگم اُنکے قریب آتے ماتھے پر بل ڈالے برہم ہوئی تھی ،،

مما ہمیں پارٹی میں پہننے کے لیے اچھا ڈریس نہیں مل رہا ہم وہی ڈھونڈ رہے تھے افق منھ بناتی بولی

پاگل لڑکیوں کام ٹھیک تو کر نہیں سکتی کم ازکم بڑھایا تو نہ کرو ۔۔

اب پانچ منٹ سے پہلے یہ سب کچھ سمیٹ کے نیچے آؤ لاؤنج میں ” آج تمہارے بڑے بابا کی کال آئی تھی ۔۔

کیا سچ کیا کہہ رہے تھے افق فوراً نیچے گرے کپڑے ویسے ہی اٹھا کر رکھنے لگی

افی ایک بار بات سن لیا کرو ،،انکو اچھے سے ترتیب دے کر رکھو دونو اور پھر بتاؤں گی کیا کہا اُنہوں نے۔۔

کہتی وہ جا چکی تھی پیچھے سے دونو کپڑے سمیٹنے لگی۔