Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 6)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

پارٹی تھی وہ یہاں تماشا نہیں بنانا چاہتی تھی اسی لیے ان کے قریب جاتے رامین کے ہاتھ پر دباؤ بڑھآتے وہ ان تینوں کو زبردستی دوسری جانب لے گئی ۔۔

رامین اُسکا سرخ چہرہ دیکھ کر پریشان ہوئی ، اُس نے کچھ نہیں کہہ کر ٹال دیا ” وہ جانتی تھی اُس کی نازک طبیعت پر یہ چھوٹی سی بات بہت اثر کر جانی تھی اور اُس کا موڈ بری طرح خراب ہو جانا تھا ،،رامین کی خاطر وہ اپنا موڈ فریش کرتی باتوں میں مشغول ہو گئ

یار آؤ ذرا ٹک ٹاک بناتے ہیں افی ” کچھ یادیں اکٹھے سمیٹتے ہیں ۔۔اُسکی دوست چہک کر بولی وہ دونو بھی تیار ہو گئی ۔

لیکن کرنا کیا ہے رامین سر کھجاتی بولی ” بس جب سونگ پلے ہوگا نا تو ایک ایک کرکے آنا ہے اور اپنا ڈریس دیکھا کر گھوم کر اپنے جلوے دکھانے ہیں۔۔

تم دیکھو پھر میرے جلوے ” افق اپنا فروک تھامتے ایک ادا سے کہتی سامنے آئی ۔۔

اوک ٹھیک ہے تو چلو شروع کرتے ہیں” ان دونوں نے کیمرے کے سامنے آتے اپنے ڈریسز کو تھامتے گھمایا ” آخر میں جب افق دھیمے قدم بڑھاتے آگے بڑھی اور اپنا فروک تھام کر گمایا اور خود بھی گھومی ” اُسکے گھومتے ہی اُسکا دوبٹہ بھی بڑی خوبصورتی سے آگے کو آیا تھا دیکھنے میں یہ منظر نہایت حسین لگ رہا تھا ” اُسکی پلکوں کا یوں گرنا اٹھنا کسی کے دل نے ایک بیٹ محسوس کی وہ پلک جھپکائے بغیر اسے دیکھے گیا لیکن جلد ہی اپنی بے خودی کا احساس ہوتے اُس نے سر جھٹکتے قدم آگے کو بڑھاے ” ۔۔

لیکن ان سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے لڑکے پر نگاہ پڑتے اُسکی سفید رنگت میں سرخیاں بھرنے لگی ” جو کمینگی سے آنکھیں پھارے افق کو دیکھ رہا تھا

وہ جو سب سے مل مر مس صائمہ سے جان چھڑوا کر انہیں واپسی کا کہنے آیا تھا یہ سب دیکھتے اُسکا دماغ گھوم گیا ۔۔ اُس نے قریب جاتے ایک تیز نگاہ اُس لڑکے پر ڈالی تو وہ گربراتا تیزی سے وہاں سے غائب ہوا ۔

اُن کے قریب آتا وہ سرد نظروں سے انہیں دیکھتا سخت لہجے میں گویا ہوا ” جلدی آؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں ” کہتا وہ ایک پل میں غائب ہوا تھا پیچھے وہ دونوں منھ بناتی پیر پٹکتی اپنی دوستوں سے ملتی چلی گئی ۔۔

گاڑی میں بیٹھتے وہ منھ پھلاتے بولی تھی ” ابھی ہم نے رکنا تھا ۔

کوئی ضرورت نہیں بہت وقت ہو گیا ہے ،اور میری ایک بار کی بات تمہارے دماغ میں کیوں نہیں گھستی افق ابراہیم ” ۔۔وہ سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتا گرایا اور سٹرنگ پر اپنی گرفت سخت کی”.. اسے اس وقت شدید غصّہ آ رہا تھا لیکن خود پر قابو پآئے وہ کچھ غلط نہیں کہنا چاہتا تھا

اب میں نے کیا کر دیا افق منھ بگاڑتی بولی

یہ جو تم دونوں جھول رہی تھی پارٹی میں ” وہ کس خوشی میں تھی ” اُسکے مُںہ بنانے پر وہ لب سختی سے بینچّتا بولا ۔۔

اوہ وہ” وہ تو ہم ٹک ٹاک بنا رہے تھے وہ براہ مزے سے اُسکی گھوری کو نظر انداز کرتے اپنی دھن میں جواب دیتی باہر دیکھنے لگی ” پیچھے بیٹھی رامین نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اُسکی کم عقلی پر” ۔۔۔اب ایک اور لیکچر کے لیے تیار ہو جاو پاگل لڑکی “… رامین نے آگے کو ہوتے اُس کے کان میں سرگوشی کی.. تو افق نے اپنی زبان دانتوں میں دباتے معصومیت سے سوری کہا ‘

یہ کونسا گھٹیا کام ہے ” تم لوگ وہاں یہ سب کرنے گئ تھی” وہ اُسکی بات سنتا اشتعال بھرے لہجے میں دھاڑا

اسکی گرج دار آواز سنتے رامین خوف سے سپید پڑتی ایک دم گاڑی کے دروازے کے ساتھ چیکی” آدم نے اُسے خود سے ڈرتے دیکھ پل میں آنکھیں بند کرتے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی ۔۔

آئندہ کے بعد تم لوگ اس طرح کی کوئی فضول حرکت نہیں کرو گی ۔۔ غصے کی شدت سے اُسکے دماغ کی رگیں تنگ گئ ،،، یہ سب فضول حرکتیں مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہیں ” اور نہ میں یہ برداشت کر سکتا ہوں کے میرے گھر کی عورتوں پر کسی غیر کی نظر پڑے ” ۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ” ہم نے کونسا اپلوڈ کیا ہے کچھ ” ہم بور ہو رہے تھے تو ایک ویڈیو بنا لی ” ہماری دوست کا پرائیویٹ اکاؤنٹ ہے ،،،اس کے لہجے کی سختی اور الفاظ کی تپش سے افق ابراہیم کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تو اُس نے آدم بٹ کو جواب دینا ضروری سمجھا ” ۔۔

اس کی بات سے آدم کو اپنا دماغ پھٹتا محسوس ہوا اس کی آنکھیں جلنے لگی ” تمہیں ایک بار کی کہی گئی بات کیوں سمجھ نہیں آتی افق ” جب میں نے کہہ دیا ہے کے ان سب سے دور رہو تو پھر بحث کا مطلب “۔۔۔

صبح ہی تم اپنی دوست کو کھو گی اح ویڈیو ڈیلیٹ کرے”

ڈو یو گیٹ ڈیٹ ” افق ۔۔ اُس نے افق کو گھورتے اپنی بات کی تصدیق چاہی ” لیکن مقابل بھی افق ابراہیم تھی اُس نے کہا کسی سے ڈرنا سیکھا تھا ۔۔

کوئی غلط حرکت تو نہیں کی جو آپ ڈانٹ رہے ہیں ” اپنے دوپٹہ کو ٹھیک کرتے اس نے تقریبا اُسکی بات ہوا میں اراتے سلگتے لہجے میں کہا

یہ لڑکی کیوں اُسکی جان کا عزاب بنی رہتی تھی وہ سوچتا لب بینچ گیا تھا ۔۔

اُسکی وجہ سے وہ اپنی بہن کو خود سے خوف زدہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے خاموش رہا ۔۔۔

گھر پہنچ کر ان دونوں کا موڈ بہتر ہو چکا تھا ” لاؤنج میں بیٹھتے ہی دونو سب کو پارٹی کی روداد سنانا شروع ہو گئی”

اُف مما اتنا مزہ آیا ،،آدم نے گزرتے اُسکی آواز سنی

آدم سر نفی میں ہلاتا اپنا کمرے میں چلا گیا ۔۔

یہ لڑکی کب سدھرنے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا راستے میں وہ اچھی خاصی ڈانٹ کھا کر آئی تھی لیکن افق ابراہیم اپنے نام کی ایک تھی ” کہا اُسکی سننے والی تھی ۔

وہ دونو کافی تھک چکی تھی ،، رامین تو جلد ہی سو گئ لیکن افق کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ” کُچھ وہ بھوک کی بہت کچی تھی ” ۔۔۔اب اُسے سخت قسم کی بھوک ستا رہی تھی ۔۔۔پہلو بدل بدل کر جب وہ تھک گئ تو اٹھ کر بیٹھ گئی “

کچن میں جاتی ہوں ورنہ جب تک یہ میرا پاپی پیٹ نہیں بڑھے گا مجھے یوں ہی ستاتا رہے گا کہتی وہ اٹھ کر نیچے آنے لگی ۔۔

______________yumna writes

کیا میں اندر آ سکتی ہوں ” سونیا بیگم دروازہ کھول کر وہی کھڑی لیپ ٹاپ میں مصروف آدم کی جانب دیکھتے اجازت طلب کرنے لگی “…

امی ” کیوں مجھے گناہ گار کر رہی ہیں ۔۔کہتا وہ اٹھتا ماں کا ہاتھ تھامے اُنھیں بیڈ پر بیٹھاتا بولا ۔۔

وہ ہولے سے مسکرا دی جیتے رہو میرے بچے ” میں نے سوچا میرے بیٹے کے پاس تو وقت نہیں ماں کے لیے میں ہی چلی جاؤ ۔۔

وہ شکوہ کنا نظروں سے اُسے دیکھتے بولی ۔۔

نہیں امی ایسی بات نہیں بس کل کے لیے لیسن ریڈی کر رھا تھا ۔۔

آپ مجھے بلا لیتی خود کیوں آ گئ” وہ نرم لہجے میں کہتا ان کے گرد اپنے توانا بازو خایل کرتا بولا

نہیں بیٹا مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی ” میں نے سوچا تم سے آج جا کر بات کے لوں کافی وقت سے کرنا چاہتی تھی لیکن تمہاری مصروفیت کے باعث بھول جاتی ۔۔۔

جی امی بولیں ” ۔۔بیٹا میں کب سے تمہاری شادی کا سوچ رہی ہوں ۔۔میں چاہتی ہوں کے تم پر کوئی زور زبردستی نہ کرو اگر تمہیں کوئی پسند ہو تو تم اپنی مرضی سے بتا دو لیکن جب کے تمہیں کوئی پسند نہی تو میں نے خود ہی تمہارے لیے لڑکی پسند کرلی ہے

اور ایک بار تم سے پوچھنا چاہتی تھی کے تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ۔۔۔

امی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ مجھے کوئی اعتراض نہیں ” آپ کی پسند میری پسند ہے ان کے ماتھے پر لب رکھتے نرمی سے کہا تو وہ مسکرا دی

بیٹا میں نے شروع سے ہی افق کو اپنی بیٹی کی طرح چاہا ہے اور تمہارے لیے اُسے سوچا ہوا ہے ،،،میں چاہتی ہوں کے افق کے ساتھ تمہاری شادی ہو جائے ” گھر کی بچی ہے دیکھی بالی ۔۔

وہ اپنے ہی دھن میں کہی جا رہی تھی جبکہ آدم کو تو اُنکی بات سنتے ہی جھٹکا لگا تھا ۔۔

یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ امی “… افق ابراہیم ہرگز نہیں مجھے یہ رشتہ بلکل بھی منظور نہیں وہ پل میں لال ہوتے چہرے کے ساتھ پھنکارا تھا ” اُس کا لہجہ حد درجہ تلخ ہوا “… سونیا بیگم نے بے یقینی سے بیٹے کی جانب دیکھا “

لیکن کیوں بیٹا اتنی پیاری معصوم بچی ہے ” باپ کا سایہ بھی سر پر نہیں ” ۔۔اور تمہاری پھو کہا اُس کے رشتے دیکھتی رہیں گی ۔۔

وہ نرم لہجے میں اُسے سمجھانے کی خاطر بولی تھی

بلکل نہیں “۔۔۔۔۔میں کبھی ایسی لڑکی سے نکاح نہ کروں ،، جس میں بات کرنے کی تمیز نہیں ” عقل سے پیدل آدم طیش کے عالم میں سرخ رنگ آنکھوں کو میچتا بولا ۔۔

کہاں سے وہ آپ کو معصوم لگتی ہے ” ذرا سی اعقل نہیں اُس لڑکی میں “۔۔۔۔۔

کسی بات کو تو کبھی اُس نے سیریس لیا نہیں ،،کہاں کیا بولنا ہے ،،کیسے اٹھنا بیٹھنا ہے ،،،نہ پڑھای کو کبھی سیریس لیا ہے ۔۔

میں ایسی لڑکی سے ہرگز شادی نہیں کر سکتا جو ہر معاملے میں مجھ سے کمتر ہے ” مجھے ایک سلجھی ہوئی سمجھدار بیوی چاہیے ” سکون چاہیے اپنی زندگی میں نا کہ بے سکونِ” ۔۔۔

اُس کے لب و لہجہ میں پنپتی خقارت اور بدگمانی سے سونیا بیگم کو دلِ دکھ ہوا ،، بس آدم ” ۔۔۔ آن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا

اتنا غصّہ اتنی نفرت ” اُس معصوم بچی کے لیے ” مجھے تم سے یہ اُمید نہیں تھی

مجھے تو لگا تھا تم اُسے سمجھو گے کیا تم نہیں جانتے وہ معصوم اپنے باپ کے ساتھ کس قدر اٹیچ تھی ” اُسکا باپ چاہتا تھا کے ان کی بیٹی چّنچل سی ہو اور لڑکیاں ایسی ہی اچھی لگتی ہیں ” اپنی بہن کو دیکھ لو کہ قدر ڈرپوک اور بزدل ہے ” پھر تو اُس سے بھی کوئی شادی نہیں کرنا چاہے گا ” سونیا بیگم برہمی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ” امی ” آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں آدم نے پھٹی نگاہوں سے ماں کو دیکھتے درشت لہجے میں کہا

سونیا بیگم استہزایہ مسکرا دی ” کیوں اب کیوں دکھ ہو رہا ہے تمہیں ” میں نے صرف تمہیں حقیقت سے روشناس کیا ہے

وہ ابھی چھوٹی ہے ٹھیک ہو جائے گی وقت کے ساتھ ” آدم نے چٹخ کر کہا ” ۔۔۔

تو پھر تو افق کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے وہ رن لہجے میں کہتی اُسکی جانب دیکھنے لگی ” اپنے دل میں اُس کے لیے نرمی لاؤ آدم ” میرا بیٹا ایسا تو نہ تھا

اپنی پھو کا سوچو کتنی محبت کرتی ہیں تم سے .. ان کی بھی پریشان کم ہو جائے گی ” ۔۔ سونیا بیگم نے آخری بار اُسے رضامند کرنے کی کوشش کی

سوری امی ” پھو کی پریشانی کی وجہ سے میں اُس پاگل لڑکی کو اپنے اپنے گلے نہیں ڈال سکتا ” ۔۔

میں نے ہمیشہ اپنے لیے ایک ڈیسنٹ ویل ایجوکیٹ لڑکی کو سوچا ہے ” ۔۔۔

اُس نے ختمِ فیصلہ سنایا تھا ” چہرے پر دنیا جہاں کی سنجیدگی لیے انہیں وہ اپنا بیٹا نہ لگا تھا

افق ابراہیم کبھی میرا انتخاب نہیں ہو سکتی ” ۔۔اور آپ کیسے کہہ سکتی ہیں وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی ” وہ چھوٹی بچی تو نہی جانتی نہیں اُس کے باپ کا کارنامہ پھر بھی جھوٹی اُمید لیے بیٹھی ہے ۔۔

جو شخص اتنے سالو میں نہیں لوٹا کیا وہ اب لوٹے گا “

وہ غصے سے کہتا انکو صاف انکار کر گیا تھا ۔۔۔

سونیا بیگم ایک بے بس نگاہ اُس پر ڈالتی کمرے سے نکل گئی،، پیچھے وہ کمرے میں چکر کاٹتا اشتعال سے اپنی مٹھیاں بینچ گیا ۔۔۔۔ افق ابراہیم ” اُس نے تنفر سے اُسکا نام پکارا

__________

وہ جو کیچن کی جانب جا رہی تھی آدم کے کمرے کا ادھ کھلا دروازہ دیکھا ” ۔۔دیکھو تو سہی ذرا یہ آدم خور اتنی رات کو کون سی محبوبہ سے باتیں کر رہا ہے ۔۔

سوچتے اُس نے قدم اُسکے روم کی جانب بڑھاے ” اندر جھانک کر دیکھا تو سونیا بیگم سامنے بیٹھی اُس سے کسی بات پر بحث کر رہی تھی۔۔

مانی جان اس وقت کیا کر رہی ہیں آدم خور کے روم میں ” سوچتے وہ تھوڑا نزدیک ہوئی ۔۔۔

انکی باتیں سن کر افق ابراہیم کو اپنا وجود زمین میں دھنستا محسوس ہوا” ایسا لگا جیسے کسی نے تپتی دھوپ میں کھڑا کر دیا ہو ۔۔ پھر وہ جانے کیا کیا کہتا رہا اُس کے بارے میں ” وہ وہی کھڑی آنسو بہاتی آج تمام رازو سے آشکار ہوئی تھی ” اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے بیچ چوراہے پر اُسکی عزت کا سودا کیا کا رہا ہو

وہ اپنی چیخ کا گلا گھونٹتی ،، قدم پیچھے لیتی اپنے کمرے کی جانب بھاگ گئ ۔۔،،

روم میں آتے وہ آنسو بہاتے ٹیرس پر بھاگ گئ ” اُسکی چیخیں سسکیاں بلند ہونے لگی اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے وہ روتی نیچے بیٹھتی چلی گئی ” وہ رامین کو اس بات کو بھنک بھی نہیں لگنے دینا چاہتی تھی ۔۔ اُس کے کانو میں اُسکے کہا گیا ایک ایک الفاظ گونج رہا تھا

کیا وہ اتنی بری تھی کے آدم بٹ اُسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا ہے شک وہ خود بھی ایسا نا چاہتی تھی لیکن اتنی تذلیل “

ایسی بات نہیں تھی کے وہ آدم کو پسند کرتی تھی،،اس نے کبھی آدم کے بارے میں ایسا نہ سوچا تھا اور اگر آدم اُس سے خار کھاتا تھا تو وہ خود بھی اُس سے دور بھاگتی تھی

لیکن وہ اُسے جو کچھ بھی کہتی تھی مزاق میں “… اُس نے کبھی دل سے اُس کے بارے میں برا نہی سوچا اور نہ چاہا ۔۔۔ تو پھر کیا اُسے حق بنتا تھا اُسکی ذات کی تذلیل کرنا ” اُس کی نسوانیت کو دھتکارنا ” اُسے یوں سرّراہ اچھالنا ” آخہ،،حّھ زندگی کیوں اتنی مشکل تھی ” وہ جو اپنے چہرے پر اپنی ماں کو خوش رکھنے کے لیے مسکراہٹ لئے پھرتی تھی ” خود پر ایک خول چڑھائے ہوے تھی ” آج بری طرح ٹوٹی تھی ” آدم بٹ نے ایک بار پھر اُس تلخ حقیقت کو اُس کے سامنے لا کھڑا کیا تھا جس سے وہ اتنے سالوں سے بھاگ رہی تھی ” نگاہیں چرا رہی تھی ” ۔۔۔ وہ بہت جلد یہ بات جان چکی تھی کے وہ کیوں اپنے مامو کے گھر آئے تھے لیکن اُسے یقین تھا کے اس کے بابا ضرور لوٹیں گے ۔۔ اُسے لگتا تھا وہ اکڑو ہے ،،،غصیل ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی وہ خود سر اور خود پسند ہے .

وہ گھٹنوں میں سر دیے رونے لگی” اُسکی شرارتوں اور مزاق کو آدم بٹ نے کوئی اور ہی رنگ دے دیا تھا وہ بھی ایک لڑکی تھی ٫ احسات رکھتی تھی لیکن آج آدم بٹ نے اُسکی ذات کو بری طرح توڑا تھا ۔۔۔۔

ہاں افق بٹ ٹوٹ چکی تھی بہت پہلے کی اس نے بہت مشکل سے خود کو سنبھالا تھا اپنی ماں کے لیے ” لیکن آدم نے آج نئے سرے سے اُس کے زخموں کو اُدھیڑا تھا کے وہ بلبلا کے رہ گئی “

تم نے دیکھا ہی نہیں خواب کا مرنا لوگو

تم کو معلوم نہیں ضبط کی قیمت کیا ہے!!!!….

اُس کے دل کو زخمی کر دیا تھا ” اُس کے کہے گئے الفاظ افق ابرہیم کی روح میں تیر کی مانند پیوست ہوئے تھے ۔اور اُسکی تکلیف وہ برداشت نہی کر پا رہی تھی ۔

وہ اپنی مان سے بات کرنا چاہتی تھی٫ ،، دکھانا چاہتی تھی انہیں دیکھیں یہ ہے آپکا لاڈلا ۔۔وہ ہر چیز نظر انداز کر سکتی تھی لیکن اپنے باپ کے لیے بولے گئے الفاظ کی آدم بٹ کو معافی نہیں دے سکتی تھی ۔۔

اُس نے بے دردی سے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے فیصلہ کیا تھا کے ایک دن آدم بٹ کو ضرور کرارا جواب دے گی ۔۔

جو تکلیف وہ اُسے اپنے لفظوں سے دے چکا ہے اُسے سود سمیت واپس لوٹاے گی ۔۔

کتنی ہی دیر وہ وہاں پر بیٹھی بے آواز روتی رہی دوسری جانب آدم بٹ اس بات سے انجان تھا کے وہ آج اپنے لفظوں سے کسی معصوم کو کتنی تکلیف پہنچا چکا ہے ۔