Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 15) 2nd Last Episode

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

وہ لوگ جب گھر پہنچے تو سب انکا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ۔

اُس نے نکلتے ہانی بیگم کو کال کر دی تھی وہ لوگ بٹ ہاؤس جا چکے تھے اور پھر ساری بات شجاع صاحب اور سونیا بیگم کے گوش گذار کی تھی

سونیا بیگم تو انکی بات سنتی کانپ کے رہ گئی تھی ،، اور اپنی معصوم بیٹی کو سوچ کر ت اُٹھی ،،

میری بچی ” ۔۔۔۔ وہ کس حال میں ہو گی اس وقت بٹ صاحب ” کال کریں آدم کو “….

حکم دیں اُسے کے مجھے میری بیٹی ابھی اسی وقت اپنی آنکھوں کے سامنے سہی سلامت چاہیے “

وہ روتی ہچکیاں بھرتی شجاع صاحب کا شانہ جنجھورتی چیخی “… شجاع صاحب نے ضبط سے اپنے ہونٹ بینچ لیے ۔

وہ کیا کرتے اس وقت ” انہیں یقین تھا اپنے بیٹے پر کے وہ اپنی بہن کو باخفاظت گھر لائے گا ” لیکن ایک ماں کے دل کو وہ کیسے سمجھا سکتے تھے جو اپنی بیٹی کے لیے ترپ رہا تھا ۔

ہانی بیگم نے انہیں روتا دیکھ آگے بڑھ کر حوصلھ دیا کے رامین ٹھیک ہے اور وہ لوگ گھر آ رہے ہیں ۔۔

افق بھی بیٹھی اُسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی اُس نے رو رو کر اپنی آنکھیں سجا لی تھی ۔

آدم کی گاڑی کا ہارن سنتے سب بے چین ہوے تھے ۔۔

اور تیزی سے اٹھتے باہر کی جانب بھاگے

آدم رامین کو اپنے ساتھ لگائے لاؤنج میں داخل ہوا تھا جو اب خاموش تھی لیکن خوف سے ابھی بھی تھوڑا تھوڑا کانپ رہی تھی ۔

سونیا بیگم نے جھٹکے سے آگے بڑھتے اُسے سینے سے لگا لیا ” اور بے تخاشا رونے لگی

میری بیٹی ” میرا بچہ ٹھیک ہو میری جان ” اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ” لہجے میں ترپ لیے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

میں ٹھیک ہوں مما ” بس تھوڑا سا درد ہے ۔۔

اُس نے مجھے تھپڑ مارا تھا ” وہ نم لہجے میں بولی ۔۔

چہرے پر انگلیوں کے نشانات واضح تھے جنہیں دیکھ کر سونیا بیگم کا دل بیٹھنے لگا “

شجاع صاحب نے بھی اُسے سینے سے لگایا انکی بیٹی میں انکی جان بستی تھی ،، وہ جانتے تھے اور انکا خدا ” کے کیسے انہوں نے یہ لمحے گزارے تھے ” ان کا دل خوف سے کانپ رہا تھا لیکن وہ سونیا بیگم کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہتے تھے ” تاکہ وہ خود کو کمزور محسوس نا کریں۔

امی ٹھیک ہے ہماری گڑیا” کچھ نہیں ہوا … آپ جانتی ہیں بہت بریو ہے میری شیرنی “…

آدم نے سونیا بیگم کے گرد حصار بناتے انہیں ساتھ لگایا اور ان کے ماتھے پر لب رکھے ۔۔

آدم وہ زندہ نہیں بچنا چاہیے” یاں اسکو ایسی سزا دو کے وہ ساری زندگی کسی لڑکی کی جانب نگاہ نہ اٹھا سکے

سونیا بیگم کا لہجہ حد درجہ سرد تھا ” ۔۔

امی آپ فکر نہ کریں ایسا ہی ہوگا ۔

اگر اُس نے دوبارہ کبھی “… امی ایسا کچھ نہیں ہوگا

سونیا بیگم کے اندر ایک خوف بیٹھ گیا تھا ” اور آدم ان کے خوف اور خدشات سمجھ رہا تھا ۔ اسی لیے انہیں مکمل طور پر مطمئن کر رہا تھا ۔

افق اُسے سب سے ملتا دیکھ جھٹکے سے اُٹھی اور اُس کی جانب دیوانہ وار لپکی ” اُس کو گلے لگاتے وہ زارو قطار رونے لگی ۔۔ اور بربرانے لگی “

سوری یہ میری وجہ سے ہوا مجھے تمہیں اکیلے نہیں چھوڑنا چاھیئے تھا ۔۔

رامین اُس کی محبت پر نہال ہوتی اُسے خود میں بینچ گئ ” پاگل ۔۔

تمہاری وجہ سے تو میں آج بچ گئی ہوں بھای نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے صالح کو دیکھا تھا

اگر تم اُسے نہیں دیکھتی اور گاڑی کا نمبر نہ بتآتی تو آج جانے کیا ہو جاتا ۔۔ اُس کے سرخ چہرے سے آنسو صاف کرتی وہ اسے ایک بار پھر اپنے ساتھ لگا گئ .

مجھ سے کبھی ناراض نا ہونا افی ” میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ” نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی اُس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے بولی ۔

کبھی نہیں ” افق اُس کو دیکھتی ہلکا سا مسکرائی ۔

سب ان سے ساری بات پوچھنے لگے ” وہ بیٹھتی سب کے درمیان اُنھیں سب بتانے لگی کے کیسے ہمدان نے اُسے وقت رہتے بچا لیا ۔۔

سونیا بیگم تو روتی اپنی بیٹی کی تکلیف کا سوچنے لگی۔۔

امی اب بس بھی کریں رامین بلکل ٹھیک ہے آدم انکو روتا دیکھ تنگ ہوتا بولا تھا ۔۔

آدم تم اپنے دوست کو گھر لے کر آنا ہم اُسکا شکریہ ادا

کریں گے اُس بچے نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔۔۔

جی ٹھیک ہے ۔۔

افق یہاں آؤ میری بچی میں کیسے تمہارا شکریہ ادا کروں …

آج پھر تم نے میری بچی کو بچا لیا ” ۔۔۔

تم ہمارے لیے فرشتہ ثابت ہوئی ہو آج “

افق کے ماتھے پر لب رکھتے انہوں نے محبت سے کہا “

آدم کی بے ساختہ نگاہ اُٹھی اور اس پر پری ” پل میں آنکھوں میں خون اتر آیا “…

نظریں اُس کی سوجی سرمئی آنکھوں سے سرکتی لال بھبھوکا چہرے پر پڑی اور یہان آدم بٹ کو اپنا ضبط ٹوٹتا محسوس ہوا ۔

اس نے کچھ ہی پل میں اپنی حالت اتنی بری کرلی تھی۔۔

افق کو اپنے چہرے پر کسی کی نگاہوں کی تیش محسوس ہوئی تو نظریں اٹھا کے دیکھا سامنے وہ دشمن جان کھڑا بڑے استحاق سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا “..

افق کے ہاتھ کی ہتھیلیاں پسینے سے نم ہونے لگی ” ان نظروں میں جانے کیا تھا کے افق ابراہیم کا دل باہر آنے کو تھا ۔

اس کی آنکھوں کی سرخی اور سرد اسپاٹ چہرے کو دیکھتے افق نے لب دانتوں تلے دباتے نظریں جھکا لی “

جانے اب اُس نے کیا کر دیا تھا جو وہ آج سچ مچ کا آدم خور بنا اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا

نہیں ممانی میں نے نہیں ہمدان بھای اور آدم نے رامین کو بچایا ہے وہ ان کے ساتھ لگتی ایک چور نگاہ آدم کی جانب ڈالتی بولی

آدم کے لیے یہ بڑا خوش کن سا احساس تھا کے اُس نے آج پہلی مرتبہ اُسکا نام لیا تھا ۔۔ اور اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتا اپنا نام اُسے آج بے حد بھایا تھا۔

وہ چہرے پر گہری مسکراہٹ لیے مسلسل اسے تکتا زچ کر رہا تھا افق اُسکی نظروں کی تپش سے گھبراتی رامین کے ساتھ اس کے روم میں چلی گئی ۔۔

اور یہی تو آدم چاہتا تھا ” وہ گہرا مسکرایا ۔

کافی وقت بیٹھے سب باتیں کرتے رہے سب نے سکون کا سانس لیا تھا کے کچھ برا ہونے سے بچ گیا ہے ۔

آدم تمہاری ماں بلکل درست کہہ رہیں تھی ،،

ہمدان سے کہو اُس لڑکے کو جلدی آزاد نا کرے اُسے سخت سے سخت سزا دے تاکہ وہ دوبارہ کبھی ایسا کرنے کا نہ سوچے ۔۔

اگر آج افق اُسے نہ دیکھتی تو جانے ہماری بچی کا کس حال میں ہوتی وہ متفکر سا گویا ہوا ۔۔۔

بابا آپ فکر نہ کریں وہ پہلے ہی چلنے کے قابل نہیں رہا اور ہمدان اُسے جلدی چھوڑے گا نہیں ،، اسے ایسی سزا دے گا کے دوبارہ کسی بھی لڑکی کی جانب آنکھ اٹھانے کی بھی ہمت نہی کرے گا ۔۔

پھو آپ کچھ دن کے لیے افق کو یہی رہنے دین رامین کے پاس تاکہ وہ آج کے دن کو جتنا جلدی ہو سکے بھول جاے

میں نہیں چاہتا اس کے ذہن پر آج کا برا دن نقش کر جائے ۔

ٹھیک ہے آدم ” ویسے بھی اب دونو فری ہیں ،، بھابھی

بس آپ رامین کا خیال رکھیں ” معصوم بچی ہے جانے اس سب کا دماغ پے کیسا اثر پرا ہوگا ۔

سونیا بیگم اثبات میں سر ہلاتی گویا ہوئی شکر خدا کا میری بچی محفوظ ہے ۔۔۔۔

_________

ہانی بیگم نے افق کو یہی رکنے کا کہا تھا کچھ وہ خود بھی یہی چاہتی تھی کے وہ رامین کے قریب رہے ۔

رات کے پہر وہ ٹیرس پر کھڑی چاند کو تک رہی تھی

ہر سو خاموشی کا راج تھا ” ۔۔۔ آسمان پر تارے پوری آب و تاب سے جگمگا رہے تھے ” ۔۔

رامین سو چکی تھی لیکن اُس کی آنکھوں سے جانے کیوں نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔

یاں پھر شاید وہ آج اپنے لا شعور میں آدم بٹ کی ذات اور اپنے مطلق سوچ رہی تھی

وہ آدم اور اپنے رشتے کے بارے میں الجھن کا شکار تھی ” اُس نے تو کبھی آدم کے بارے میں ایسا سوچا ہی نہیں

اور پھر آدم کا کہا گیا ایک ایک لفظ وہ چاہ کر بھی بھلا نہیں پا رہی تھی

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی جو شخص اُس سے بات کرنے کا روادار نہیں تھا اچانک ایسا کیا ہوا کے وہ اُس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔

وہ انہی خیالوں میں تھی جب آدم بٹ اُس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا اُسکے بالوں سے آتی محصور کن خوشبو آدم بٹ کے اعصاب سلب کر رہی تھی ۔۔

وہ اپنی گرے نم آنکھوں سے چاند کو تکنے میں اتنی مخو تھی کے آدم بٹ کی موجودگی کا احساس ہی نہ ہو سکا

آدم نے اُس کی خوبصورت سرمئی آنکھوں میں دیکھا جہاں جانے کیوں آج بہت اُداسی تھی ” ۔۔

کیا دیکھ رہی ہو ” اُس کے بلکل قریب کھڑے ہوتے بھاری آواز میں استفسار کیا گیا

افق اپنے دل پر ہاتھ رکھتی پیچھے اس کی موجودگی محسوس کرتی آنکھیں میچ گئ

آپ “…. آپ نے مجھے ڈرا دیا ۔۔

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں افق جو دوبٹہ کندھے پر ایک جانب لٹکائے کھڑی تھی اُسے دیکھ کر بوکھلا گئ ۔

کیوں میں یہاں نہیں آ سکتا ” میری بہن کا کمرہ ہے وہ اپنی بھاری گھمبیر آواز میں تھوڑا سختی سے بولا تھا ۔۔

افق نے جواب نہیں دیا تھا۔۔

کیوں رو رہی تھی تم ” اُسکے شانو سے تھام کر اُسے اپنے مقابل کرتے استفسار کیا “… اُس کی سرخ پرتی آنکھوں میں دیکھتے ۔۔

آپکو کیوں بتاؤ ” کیا لگتے ہیں آپ میرے ۔۔

وہ غصے سے اُس سے دور ہوتی بولی “

آدم کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اور افق کو لگا تھا وہ اُسکا مزاق ارها رہا ہے ۔۔

ہنس لین جیت جو آپکی ہو گئی اپنی مرضی کر لی آپ نے لیکن یاد رکھیے گا ابھی صرف منگنی ہوئی ہے اور یہ ٹوٹ بھی سکتی ہے ۔۔

افق کو اُس کے رویے سے بے ساختہ چرتی چیخ پڑی “.

کیا ،،کیا بکواس کی تم نے آدم نے پل میں اپنی لال ہوتی آنکھوں سے اسکے چہرے کو سختی سے تھامتے دانت پیستے اُسے جھنجھوڑا “

چھوریں مجھے درد ہو رہا ہے ” آدم کی سخت گرفت میں نہ چاہتے ہوئے بھی اُسکی آنکھیں نم ہونے لگی

پہلے کہو تم میری ہو ” ۔۔۔

افق نے نم انکھوں سے اُسے دیکھا اور بھرائے ہوئے لہجے میں بولی ” میں نہیں کہوں گی “..

اُس کی آنکھوں میں بے خوفی سے اپنی آنکھیں گھاڑے وہ مضبوط لہجے میں بولی ۔

افق” مجھے سختی پر مجبور مت کیا کرو ۔۔ اس کی کمر کو سختی سے جھکرے وہ آتش فشاں بنا گرایا

آدم اپنی آنکھیں بند کرتا غصّہ پیتا بولا ” اور جو آپ کرتے ہیں وہ ٹھیک ہے ۔۔

وہ اُسکی مسلسل ایک ہی تکرار سے تنگ آ گیا تھا

میں جانتا ہوں تم نے جو سنا اُس سے تمہیں تکلیف ہوئی اُس کے لیے میں پہلے بھی معزرت کر چکا ہوں لیکن مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی نہ ورنہ زندہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں ۔۔ تم صرف میری ہو ۔

اُسکا سرد لہجہ اور سخت الفاظ سنتے افق کی آنکھوں سے لڑیوں کی صورت آنسو بہنے لگے ۔۔

وہ اپنی بے بسی پر ہاتھوں میں چہرہ دے کے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔

اسے اتنا سخت روتے دیکھ آدم کے ہاتھ پاؤں پھول گئے

یار اس طرح کیوں رو رہی ہو افق “…

میں نے ایسا کیا کہہ دیا ” ۔۔اوکے سوری آئی ایم ریلی سوری ۔۔۔

یہاں دیکھو میری طرف ” اُسے روتا دیکھ اُسے پشیمانی ہوئی ۔

وہ تو یہاں اُس سے بات کرنے آیا تھا اور یہاں آ کر سب الٹا کر بیٹھا تھا ،،افق ” اُسکا نام پکارتے اُسکے آنسو صاف کیے

میں تمہیں یہاں تکلیف دینے نہیں آیا تھا بلکہ تم سے بات کرنے آیا تھا لیکن تمہاری باتوں نے مجھے غصہ دلا دیا ۔۔

یہاں دیکھو میری آنکھوں میں اُسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے اُسکی آنکھوں میں دیکھتے آنچ دیتے لہجے میں گویا ہوا

اُسکی نظروں میں اس وقت صرف محبت رقص کر رہی تھی ۔۔۔

میں جانتا ہوں تمہیں نہ چاہتے ہوئے بھی تکلیف دے چکا ہوں لیکن میں اپنے پرانے رویے پر تم سے معافی مانگتا ہوں

افق نے اپنی سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا جو آج اُسے بے ہوش کرنے کے مقام پر تھا۔۔۔

مجھے تم سے محبت ہے ” تمہاری ان حسین زلفوں سے مجھے عشق ہونے لگا ہے ،،تمہاری ان گرے آنکھوں میں میں جب جب دیکھتا ہوں مجھے اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوتا ہے ۔۔

جب تم سامنے نہی ہوتی تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دل بند ہو جائے گا ” ۔۔

کیا اس سے بھر کر بھی تمہیں اظہار کی ضرورت ہے ۔۔

تم میرے لیے بہت عزیز ہو ” تمہارا مقام میرے دل میں بہت اونچا ہے ” اور سب سے بڑھ کر تم میری عزت ہو میرے لیے قابل احترام ہو ” میں کیوں تمہارا مزاق بنائو گا ” ایسا کبھی سوچنا بھی مت “..

افق کو معلوم نہیں تھا کے وہ کیسا محسوس کر رہی ہے یہ سب کچھ اس کے لیے نیا اور مختلف تھا لیکن جو بھی تھا اُسے آج آدم بٹ کا کہا گیا ایک ایک لفظ خفظ ہو گیا تھا ” اس کا ایک ایک لفظ اپنے کے دل میں اترتا محسوس ہ رہا تھا ،، اس کے دل کی کیفیت عجیب ہو رہی تھی

تم جانتی ہو میں بہت پریکٹکل سا بندہ ہوں ۔۔مجھے لگتا تھا یہ محبت عشق میرے لیے نہیں بنے۔۔

لیکن جب تمہیں تکلیف میں دیکھا پھر اندازہ ہوا کے میرے جیسے بندے پر بھی محبت مہربان ہو چکی ہے ۔

تمہاری تکلیف پر میں بے چین ہو جاتا ہوں۔۔

اظہار کے معاملے میں بہت کمزور ہوں لیکن آج تمہاری بدگمانی دیکھ کر مجھے کہنا پڑا ہے ۔۔

میں دیکھتا ہوں اُسے”

اور بتاتا ہوں اسے ۔۔۔۔

کہ اُس جیسا یہاں دیکھنے کو کچھ نہیں!!!!

آدم کا گھمبیر لہجہ اور محبت میں ڈوبی آواز اُسے بلکل ساکت کر گئ تھی ۔۔اُسکی پلکیں لرزنے لگی اور گال دھکنے لگے ” ۔۔

ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی “

اُسے آدم بٹ سے اس طرح کے اظہار کی توقع نہیں تھی وہ گلنار ہوتے چہرے کے ساتھ اُسکی جانب دیکھنے سے گریز برت رہی تھی ۔۔

اُسکی لرزتی پلکیں آدم بٹ کو اپنی جانب اپیل کر رہی تھی

آدم بٹ آج اُسکے سامنے اظہارِ محبت کر چکا تھا وہ بندہ جو کسی کو دیکھنا گوارا نہیں کرتا وہ اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ بات اُس کے لیے بہت اہم تھی

جس بندے نے آج تک کسی لڑکی کی جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا ہے وہ آج اُس کے سامنے کھڑا اظہار محبت کر رہا ہے تو ” کیا یہ بات عام ہے ۔۔۔ کم ازکم

اُس کے لیے تو بلکل نہیں “…

دل میں سرگوشی ہوئی ” تم خاص ہو اس کے لیے ۔۔

اور پھر وہ سب کچھ بھلائے اس کے ساتھ ایک نئے سفر میں ساتھی بننے کے لئے تیار تھی

کیا تم میری زندگی میں شامل ہو کر اُسے اور بھی حسین بناو گی

وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتا ہاتھ بڑھا گیا تھا ۔۔

افق اپنی بھاری ہوتی سانسوں کے ساتھ گھنیری پلکیں گرائے خاموش کھڑی تھی ۔۔

افق ” اُس نے ایک بار پھر محبت سے اُسکا نام پکارا تھا

آپ کے لفظوں نے مجھے بہت تکلیف دی ہے آدم ” ۔۔میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا ہے ۔۔ایسے کیے بھول جاؤ ۔۔

وہ نظریں جھکائے نم آواز میں بولی ۔۔

جانے کیسے خدشات دل میں جنم لے رہے تھے

جانا معافی مانگ تو رہا ہوں ” اب کبھی تمہیں تکلیف نہیں دونگا ایک بار یقین کرکے دیکھو۔۔

وہ اُسکی آنکھوں کے کنارے اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرتے لہجے میں محبت سموئے بولا تھا ۔۔

افق نے سر ہلایا اور پھر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد واپس اپنی ٹون میں آئی تھی

وہ افق ابراہیم تھی خاموش تو رہ نہی سکتی تھی اور زیادہ وقت باتوں کو دل سے لگا کے نہیں رکھ سکتی تھی

لیکن میری ایک شرط ہے اُس نے ذرا نکھرا دکھاتے ہوئے کہا ۔۔

جی جی حکم کریں حادم حاضر ہے ۔۔

آپ مجھے کبھی ڈانٹے گے نہیں اور نہ مجھے روکے گے اور باہر بھی لے کر جایا کریں گے ۔۔

یہ ایک شرط تو نہ ہوئی وہ آنکھیں چھوٹی کرتا بولا ۔۔

ٹھیک ہے لیکن تم بھی مجھے آدم خور نہیں کہو گی ۔۔

اوک لیکن کبھی کبھی تو بول سکتی ہوں وہ لب دانتوں میں دباتی بولی ۔۔

آدم نے مسکراتے آنکھیں دیکھائ

افق نے اُسکا ہاتھ تھاما تھا اور اُس کے قریب ہوتے سر اُس کے شانے پر رکھ لیا

شکریہ میری زندگی مجھے مان دینے کے لئے اسکو محبت سے دیکھتے آدم نے سرشار ہوتے کہا تھا ۔۔

افق نے ساتھ لگتے اُسکے سینے سے سر ٹکا لیا تھا وہ شکر گزار تھی اُس رب کی کے وہ کوئی غلط فیصلہ کرنے سے بچ گئی تھی

آدم ” جی میری جاں “… آج جو ہوا اچھا نہی ہوا نہ

اُس نے اُسکی جانب دیکھتے کہا ۔۔

بھول جاؤ اس بات کو ۔۔سب ٹھیک ہے ” رامین اب بلکل سیف ہے ۔۔

ہمم وہ سر ہلاتی کتنی ہی دیر کھڑی اُس سے باتیں کرتی رہی ۔۔

اور وہ مسکراتا اُسکی باتیں سنتا رہا ۔۔