Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes Readelle 50367

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes Readelle 50367 Last updated: 16 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

آج پھر وہی لڑکا پارکنگ میں بلکل ان کے سامنے کھڑا تھا اور رامین کی جانب دیکھ کر سیٹی بجا رہا تھا تم رکو ذرا میں آج اسے نہیں چھوڑوں گی افق شدید اشتعال میں آتی آگے بڑھی۔ رامین نے اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ اس وقت غصے سے لال ہوتی اُسکی جانب بڑھ گئی اوئے کیا تکلیف ہے تمہیں " کیوں فضول کی سیٹیاں بجاتے ہو میری بہن کو دیکھ کے افق لال بھبوکا ہوتی اُسے گھورتے دھاری " تو کیا تمہیں دیکھ کر بجاو وہ لڑکا اُسکا مزاق اڑاتا اپنے دوست کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا بولا ۔۔ بکواس بند کرو اپنی اور اگر اب تم نے میری کزن کو اپنی گندی نظروں سے دیکھا تو میں تمہارا منھ توڑ دونگی اُنکی آنکھوں میں عجیب خوس دیکھ کر افق سرخ ہوتی چلای۔۔ افق کو ان کے قریب کھڑے دیکھ کر رامین مزید خوف زدہ ہونے لگی تھی ،،کچھ اُسے آدم کے یہاں آنے کا خوف تھا ۔۔ اُسے اس وقت خود پر شدید غصہ آ رہا تھا وہ کیوں اُسے لے کر یہاں دس منٹ پہلے ہی آئی تھی وہ تو یہ سب بھول گئ تھی لیکن وہ لڑکا تو اُس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پر گیا تھا وہ اردگرد دیکھتی ڈرتے افق کے قریب گئ تھے " افی آ جاؤ چلیں بھای آنے والے ہیں اس نے ایک نظر اُس لڑکے پر ڈالتے افق کو منت بھرے لہجے میں کہا ۔۔ دیکھ بھائی تیرے والی تو خود چل کے آ گئ ہے دوسرے لڑکے نے مکرو ہنسی ہنستے ہوئی کہا تو اُس لڑکے نے ایک نظر رامین کو اوپر سے لے کر نیچے تک جانچتی نگاہوں سے دیکھا " رامین کا دل کیا اُسکی نظروں سے اُس وقت اوجھل ہو جائے ،، پیشانی پسینہ سے نم تھی ،، تم کیوں اتنا ترپ رہی ہو اگر تمہیں کوئی مسلہ نہی تو میں دو دو کو ہینڈل ،،ابھی اُسکے الفاظ منھ میں ہی تھے کے افق کا ہاتھ اٹھا تھا اور اُسکے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا ۔۔ اُسکا دوست جو ہنس رہا تھا اُسکی ہنسی تھمی تھی اور وہ ہربرا کے بھاگنے لگا اس سے پہلے کے وہ آگے بڑھتا کے افق نے اپنا جوتا اُتار کے اُس کے سر پر دے مارا " کیا کہہ رہے تھے تم " ارد گرد سٹوڈنٹ اکٹھے ہونے لگے۔۔ افق نے اُس کے سر پر دھڑا دھڑ جوتوں کی ضربیں لگانےلگی ۔۔ افق ابراہیم ہوں میں ،،کسی کے باپ سے نہیں ڈرتی میں ۔ آئندہ کے بعد میری کزن یاں کسی بھی لڑکی کے بارے میں بکواس کی تو پرنسپل کو شکایت لگا دونگی ۔۔

افق نے سرد لہجے میں اُسے دیکھتے دھمکایا تھا ، بہت بڑی غلطی کر بیٹھی ہو تم افق ابراہیم " جانتی نہیں ہو ابھی مجھے " صالح مراد ہوں میں " اس تھپڑ کو سود سمیت نہ لوٹآیا تو میرا نام بدل دینا ۔۔۔۔

ارے جاؤ جاؤ بکواس نہ کرو بڑے آئے تمہارے جیسے " افق اُسکی بات کا اثر لیے بغیر لال چہرے کے ساتھ کہتے پلٹی،،، رامین پسینے سے شرابور خوف زدہ سے اُسے کھینچتی لے کر جا رہی تھی ۔۔ لیکن وہ دونوں انجان تھی کے کس مصیبت میں پھنسنے جا رہی ہیں ۔۔