Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 2)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

اُن دونو نے شکر ادا کیا تھا کے آج انہیں ٹیسٹ نہیں ملا تھا دونو آج خوشی خوشی واپس آئی تھیں ۔۔

وہ اس وقت ہانی بیگم کے سامنے بیٹھی ان سے بال بنوا رہی تھی ” مما مجھ سے نہیں سمبھالے جاتے اتنے لمبے بال ” وہ جو ابھی لاؤنج میں داخل ہو رہا تھا اُسکی جھنجھلائ ہوئی آواز کانوں میں پڑی ” اُسکے بالوں پر نظر پڑتے ہی وہ بات سمجھ گیا بلاشبہ اُس کے بال بہت حسین تھے ” اس کے دل میں اچانک خیال آیا کہ کیسے کوئی لڑکی اتنے حسین بال کٹوا سکتی ہے ” وہ تو کبھی نہ اسے ایسا کرنے کی اجازت دے ” اپنے خیال کو جھتکتا وہ ایک نظر اُس پر ڈال کر اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔۔

وہ اکثر اپنے بالوں سے تنگ آ کر ہانی بیگم کو بال کٹوانے کا کہتی تھی لیکن وہ اُسے سختی سے منع کر دیتی تھی

اتنے پیارے بال ہیں ” تمہارا کیسے دل کرے گا کٹوانے کو ” اور تم جانتی ہو افی اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں ۔

لڑکیوں کے بال کٹوانے سے گناہ ملتا ہے انہوں نے اُسے سمجھآنے کی خاطر تھوڑا سا ڈرایا تھا اور ویسے بھی تم جانتی ہو تمہارے بابا کو لمبے بال بہت پسند ہیں ۔۔

جب تم چھوٹی تھی تب بھی وہ مجھے تمہارے بال نہیں کٹوانے دیتے تھے ،، اگر ابھی وہ ہوتے تو انہیں کتنا دکھ ہوتا کے انکی شہزادی جانتی بھی ہے اپنے بابا کی پسند کو پھر بھی اتنا تنگ پرتی ہے اپنے اتنے پیارے بالوں سے ۔

کیا سچ میں مما ” بابا کو لمبے بال پسند ہیں وہ اپنی ماں کی جانب رخ کرتی اشتیاق سے بولی ۔۔

جی میری جان” اسی لیے تو کہتی ہوں انہیں مت کٹواو ہانی بیگم نے پیار سے کہتے اُسکے ماتھے پر لب رکھے۔

اب میں بہت خیال رکھونگی اپنے بالوں کا اور پھر جب بابا آئین گے تو وہ کتنا خوش ہونگے میرے بال دیکھ کر “

افق ابراہیم آنکھوں میں چمک لیے بولی تھی ۔۔

لیکن مما بابا آئین گے کب” ہم کب اپنے گھر واپس جائیں گے ۔۔ مجھے اپنے گھر جانا ہے سب کے پاس ” وہاں کتنا مزہ آتا ہے کوئی روکتا نہیں ،،ڈانٹتا بھی نہیں

اُسکی آنکھوں کی چمک ایک دم ماند پڑی تھی اور اب آنکھوں میں واضح نمی تھی جسے دیکھتے ہانی بیگم کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔

بہت جلد میری جان ” انہوں نے کہتے اُسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔

کیا ہوا میری بیٹی کو اُداس کیوں ہے سونیا بیگم نے قریب آتے اُسے ماں کے گلے لگا دیکھ استفسار کیا

کچھ نہیں بابھی نم آواز میں ہانی بیگم اس کے بال سہلاتی گویا ہوئی ٫،، یہاں آؤ میری جان !! سونیا بیگم نے بانہیں پھیلائے افق کی جانب اشاره کیا

آپ نے کیا کہا ہے میری بیٹی کو ۔۔

وہ مشکوک نظروں سے انہیں دیکھتی بولی۔۔

کچھ نہیں کہا میں نے ” آپکی بیٹی آپکے بے جا لاڈ پیار کی وجہ سے بگڑ گئ ہے ۔۔

جاؤ میرا بچہ ” مینو کو اٹھاو ابھی تک سو رہی ہے نماز کا وقت ہونے ولا ہے ۔۔

وہ سر ہلاتی اٹھ کے چلی گئی

کیا بات ہے ہانی ٫ آپ پریشان کیوں ہیں ” انہوں نے ہانی بیگم کی پریشان صورت دیکھتے استفسار کیا

افق بڑی ہو گئی ہے بابھی ” بار بار باپ کے آنے کا پوچھتی ہے ،،میں کب تک اُسے جھوٹی اُمید دلاؤ گی ” ۔۔

بار بار کہتی ہے اپنے گھر چلیں ” اتنا وقت بیت گیا ہمیں یہاں آئے ہوئے لیکن اُسے اپنے باپ کا گھر ہی پسند ہے یہاں اُسے کسی چیز کی کمی نہیں” پھر بھی آئے روز وہاں جانے کی ضد کرتی ہے اور کبھی اپنے بابا کا پوچھتی ہے ۔۔

مجھے خوف آتا ہے کہی میری بیٹی ٹوٹ نہ جائے ” میں نہیں چاہتی کے میری بیٹی کی آنکھوں کی چمک کبھی کم پڑے ۔۔ ابراہیم کے نام سے ہی وہ کھل اُٹھتی ہے “

میری معصوم بچی ٹوٹ جائے گی

اُسکا باپ اُسے ایسی ہی زندہ دل اور چنچل سا دیکھنا چاہتا تھا وہ کہتی بے بسی سے رو دی ۔۔

آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں ،، ان شاء اللہ سب بہتر ہوگا ۔۔وہاں بھی اُسکے کزن موجود ہیں اسلیے وہاں جانے کی ضد کرتی ہے اور کچھ آپ جانتی ہیں آدم کی روک ٹوک سے وہ تنگ ہوتی ہے ،میں بات کرونگی آدم سے ۔۔

آپ فکر مند نہ ہوں “

آدم جو باہر گیا ہوا تھا انہیں لاؤنج میں بیٹھے دیکھ ان کے قریب آیا۔۔اسلام کرتا ہانی بیگم کا پریشان چہرہ دیکھ کر اُن کے قریب بیٹھ گیا ۔۔

کیا بات ہے میری پھو جان ” اتنی اُداس کیوں ہیں ان کے گرد اپنے توانا بازوں کا حصار بناتے وہ شائستگی سے کہتا اُنھیں دیکھنے لگا ۔۔

تمہاری وجہ سے پریشان ہے تمہاری پھو ” سونیا بیگم نے اسکو گھورتے ہوئے اس کے شانے پرایک دھپ لگایا “

میری وجہ سے ” اُس نے پریشانی سے ان کی جانب دیکھا

ایسی کوئی بات نہیں میرا بیٹا تو لاکھوں میں ایک ہے ” اتنی عزت محبت کرنے والا ” ۔۔

ہاں اور تھوڑا زہریلا بھی ” سونیا بیگم نے کیچن کی جانب جاتے ہوئے کہا ۔۔

امی آپ بھی ،،کہتے وہ ہانی بیگم کی جانب متوجہ ہوا ۔۔

کیا بات ہے پھو ” مجھے نہیں بتایں گی ۔۔۔

وہ انکا ہاتھ تھامتے محبت سے گویا ہوا

بیٹا افی اپنے بابا کو بہت یاد کرتی ہے ،،بار بار انکا پوچھتی ہے وہ کب آئے گے ۔۔اور اپنے ڈھڈیال جانے کی ضد کرتی ہے

میں اُسے کیا بتاؤں ،،اُسکے کسی سوال کا میرے پاس جواب نہیں ہوتا ۔۔

ڈرتی ہوں اُسے کھونے سے ٫،،میری زندگی کا وہی تو سہارا ہے ،، اگر وہ چلی گئی تو میرے پاس پیچھے کچھ نہیں بچے گا وہ کہتی رونے لگی

پھو آپ پریشان نا ہوں میں خود بات کرونگا اُس سے اور سمجھاؤ گا بھی اُنکے ماتھے پر لب رکھتا وہ کافی وقت اُن سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔۔

_________

رامین کو اٹھانے کے بعد وہ لوگ کافی وقت تک باتیں کرتی رہی ،،رامین کھانا کھانے نیچے چلی گئی لیکن اُس نے بھوک نہیں ہے کہہ کے ٹال دیا اور اٹھ کر ٹیرس پر آ گئ۔۔

چاروں سوں چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی” اُسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ” بابا آ جائیں نا ” افق مس یو آ لوٹ ” ۔۔

دیکھیں اللہ جی اب تو میں نے بال بھی نہیں کٹوائے اور مما کو تنگ بھی نہیں کرتی پلیز میرے بابا کو بیجھ دیں ۔۔ وہ روتی اپنے رب سے فریاد کر رہی تھی

اُسے بہت محبت تھی اپنے باپ سے ” اُسے اپنا بچپن یاد تھا اُسکا باپ کیسے اُسکے بال بناتا ” اُسکی ہر خواہش پوری کرتا “..

جب رامین کو وہ شجاع بٹ کے ساتھ دیکھتی تو اُسے اپنے بابا کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ۔۔

جب تک ہاتھ میں ہاتھ تھا بابا “

سب ٹھیک تھا ،،،باقی بہت مشکل سفر ہے بابا ۔۔

اشک آنکھوں سے روا تھے ۔۔ماں باپ کے بغیر دُنیا کہا دنیا لگتی ہے ۔۔جانے کتنا ہی وقت وہ وہاں کھڑی روتی رہی تھی “

ٹیبل پر سب موجود تھے سوائے افق کے

خاموشی سے کھانا کھایا گیا “

اتنی خاموشی دیکھ شجاع صاحب ہانی بیگم کی جانب متوجہ ہوتے گویا ہوئے

آج ہماری بیٹی کہاں ہے؟؟…. اُس کے بغیر کتنی خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔۔

بھای جان اسکو نیند آ رہی تھی اسلیے اُس نے انکار کر دیا

ہمم ” ۔۔ما شاء اللہ میری بیٹی سے رونق چھای رہتی ہے ہر جگہ ۔۔

آدم تم نے تو میری بیٹی کو کچھ نہی کہا ” شجاع بٹ نے آدم کی جانب مشکوک انداز سے دیکھتے استفسار کیا ۔۔

سریسلی بابا ” میں ان کو صرف انکی غلطی پر ڈانٹتا ہوں اور آپکی بیٹی تو ویسے بھی اپنی من مرضی کرتی ہے اس نے کب کسی کی سنی ہے ۔۔

آدم نے تپ کر کہا “

ہاں تو ٹھیک ہے نہ ہماری بیٹیاں اپنے لیے آواز تو اٹھا سکیں گی کل کو کہتے انہوں نے مینو کو ساتھ لگایا ۔

بابا میری پاکٹ منی ختم ہو گئی ہے اور اس بار بھای نے بھی نہیں دیے تھے پیسے ” وہ آدم کی کلاس لگتی دیکھ اُسکی ایک اور شکایت لگا گئ۔۔۔ آدم نے اُسے گھور کر دیکھا جو آئے روز پیزہ اور برگر لا کر دیتا ہوں وہ تو آپکو یاد نہیں۔۔

اچھا میرا بیٹا یہ لو افق کو بھی صبح دے دینا اُنہوں نے اپنی پاکٹ سے دو پانچ پانچ ہزار والے نوٹ نکالے ۔وہ خوشی سے باپ کے گلے لگتی بھاگ گئی افق کو بتانے اور پیچھے سب اُسے جاتا دیکھ مسکرا اٹھے ۔

رات جلدی سونے کی وجہ سے وہ جلد اٹھ گئ تھی ” تیار ہوتے اُس نے خاموشی سے قدم آدم کے کمرے کی جانب بڑھائے ” وہ جانتی تھی کے وہ صبح واک کرنے ضرور جاتا ہے اور آتے ہی شاور لینے چلا جاتا تھا اسی لیے خاموشی سے اُس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔

ڈریسنگ کے سامنے ان گنت پرفیومز موجود تھی ” کھڑوس آدم خور خود اتنی پرفیومز رکھی ہوئی اور ہمیں لگانے سے منع کرتا ہے کہتے اُس نے اُسکی پرفیومز چیک کرنا شروع کی ۔۔

دو ،تین پرفیومز اچھی طرح خود پر سپرے کی ” اپنے سٹالر سے لے کر شوز تک ” اگر اس وقت آدم بٹ اُسے اپنی اتنی مہنگی پرفیومز کو یوں ضایع کرتا دیکھتا تو ضرور اُسکا گلا دبا دیتا ۔۔

دبے قدم اٹھائے جیسے وہ آئی تھی ویسے ہی خاموشی سے باہر نکل گئی ،،آدم جو ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا تھا کمرے میں آتے ہی اتنی ملی جلی خوشبو محسوس ہوئی اچانک اُسکی صاف رنگت میں سرخی گھلنے لگی “

افق ابراہیم ” تم بچو میرے ہاتھوں سے اب ” کہتے وہ تیار ہونے لگا ۔۔

افق ابراہیم جو بڑی شان سے آ کر اپنا کارنامہ مینو کو بتا رہی تھی اور وہ اُسکی بات سنتی حق دق سی رہ گی

کیا چیز ہو تم افی تمہیں ذرا خوف نہیں آیا اگر بھای آ جاتے تو ” ۔۔

جو ڈر گیا وہ مر گیا اپنے یونیفارم کا کولر درست کرتی وہ اکڑ کر کہتی بیگ لے کر کھڑی ہو گئ آ جاؤ اب تم بھی پھر تمہارا کھڑوس بھای “جن ” بن جائے گا کہتے وہ نیچے چلی گئی لاؤنج میں اپنا بیگ رکھتی وہ کیچن کی جانب جانے لگی کے سامنے سے آدم بٹ کو آتے دیکھ اردگرد چّھپنے کی جگہ دیکھنے لگی

اُسے دیکھتے ہی وہ سو کی سپیڈ سے واپس بھاگنے لگی جیسے چوری پکڑے گئ ہو لیکن اس سے پہلے ہی آدم کی سخت گیر آواز اُس کے کانوں میں سنائی دی ۔۔

ٹھہرو !! وہ وہی کھڑی رہی لیکن پلٹی نہیں تھی ٫ ال تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو” وہ منھ میں بربرانے لگی

یہ مجھے دیکھ کے تم ایسے کیوں بھاگ رہی تھی جیسے کوئی چوری پکڑی گئ ہو وہ غصے سے بولا تھا

نہ ،نہیں ایسا تو نہیں ہے وہ تو مجھے مما نے بلایا تھا اس لیے ” افق نے اپنا حلق تر کرتے وضاحت دی ۔۔

آدم نے اُسکی جانب دیکھا تھا جو لب کاٹتی اُسکی اجازت کا انتظار کر رہی تھی ۔۔

میرے روم میں ابھی تم آئی تھی ” جھوٹ بلکل نہیں بولنا ورنہ پھو کو بتا دونگا ٫.. آدم نے سخت لہجے میں تنبیہہ کیا تو وہ رونی صورت بناتی اپنی نازک مومی اُنگلیاں مروڑنے لگی

وہ میں ” میں تو آپ سے کام پوچھنے آئی تھی تو ..میں نے آپکی پرفیومز دیکھی ۔۔ وہ تو میں بس چیک کر رہی تھی سچ ” آپ باہر نہیں آئے تو پھر میں واپس آ گئ

وہ گھبرا کے جلدی سے اپنی صفائی پیش کرنے لگی کیوں کہ صبح صبح وہ اپنی ماں سے اپنی کلاس نہیں لگوانا چاہتی تھی۔۔

اسلیے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا

آدم نے ایک نظر اُس کے گھبرائے ہوئے چہرے کی جانب دیکھا اور جانے کیوں اُسکا دل نہ کیا اُسے کچھ کہنے کو ۔۔

ہمم جاؤ کالج میں سمجھ لینا سوال ” افق نے منھ کھولے خیرانگی سے اُسکی جانب دیکھا ” وہ تو خود کو اُسکے طعنے سننے کے لیے تیار کر چکی تھی ۔۔

اُسے خود کو یوں تکتا دیکھ وہ بھڑک کر بولا ،اب جاؤ بھی کے پاؤں میں ایلفی لگ گی ہے ۔۔

جی ،،جی کہتے وہ کیچن میں بھاگ گئ ۔

پاگل لڑکی کہتا وہ ڈائننگ ہال میں چلا گیا ۔

___________

آج اُنھیں اسٹیٹ کے پروفیسر نے ٹیسٹ کے نمبر دیے تھے اور وہ دونوں ہی اس وقت حد درجہ اُداس گراؤنڈ میں بیٹھی تھی اور اپنی آنے والی شامت کا سوچ رہی تھی

افق نے بیس میں سے دو نمبر لیے تھے جبکہ رامین نے پانچ نمبر “..

اب کیا کریں گے افی اگر بھای نے پوچھا تو ” رامین اپنے ناخن کترتی رونی شکل بنا کر اُسے دیکھ کر بولی تھی

تم چل کرو یار میں ہوں نہ ” اگر اُس ڈایناسور نے کچھ پوچھا تو کہہ دینا گم ہو گیا پیپر “..

بکواس بند کرو سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے اور میرے بھای کو ان فضول کے ناموں سے مت بلایاں کرو رامین غصے سے اُسے گھورتی بولی

اوئے ہوئے بہن کو درد ہوا افق نے کہتے مزاق اڑایا “

افق میں سنجیدہ ہوں اس معاملے میں یار ۔۔تم جانتی ہو بھای کتنا غصہ کریں گے پہلے بھی ہماری شکایت لگ چکی ہے اور اب ۔۔

وہ کہتے لب بینچ گئ اُسے سنجیدہ دیکھ کر افق بھی پریشان ہو گئ

ہمم کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو ۔۔لیکن اب کیا کر سکتے ہیں کلاس تو ہماری لگ جانی ہے ۔۔ایسا کرو تم بس دعا کرو اب اللہ تعالیٰ سے کے بھائی کا دل نرم پڑ جاے اُس نے اپنی جانب سے بڑے پتے کی بات کی تھی”..

رامین اُسے دیکھتے سر نفی میں ہلا گئی تم کبھی نہی سدھر سکتی ۔۔

چلو اٹھو چھٹی ہونے والی ہے ” وہ اُسکی بات سنتی تپ کر بولی۔۔

_______

آج پھر وہی لڑکا پارکنگ میں بلکل ان کے سامنے کھڑا تھا

اور رامین کی جانب دیکھ کر سیٹی بجا رہا تھا

تم رکو ذرا میں آج اسے نہیں چھوڑوں گی افق شدید اشتعال میں آتی آگے بڑھی۔

رامین نے اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ اس وقت غصے سے لال ہوتی اُسکی جانب بڑھ گئی

اوئے کیا تکلیف ہے تمہیں ” کیوں فضول کی سیٹیاں بجاتے ہو میری بہن کو دیکھ کے افق لال بھبوکا ہوتی اُسے گھورتے دھاری “

تو کیا تمہیں دیکھ کر بجاو وہ لڑکا اُسکا مزاق اڑاتا اپنے دوست کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا بولا ۔۔

بکواس بند کرو اپنی اور اگر اب تم نے میری کزن کو اپنی گندی نظروں سے دیکھا تو میں تمہارا منھ توڑ دونگی

اُنکی آنکھوں میں عجیب خوس دیکھ کر افق سرخ ہوتی چلای۔۔

افق کو ان کے قریب کھڑے دیکھ کر رامین مزید خوف زدہ ہونے لگی تھی ،،کچھ اُسے آدم کے یہاں آنے کا خوف تھا ۔۔

اُسے اس وقت خود پر شدید غصہ آ رہا تھا وہ کیوں اُسے لے کر یہاں دس منٹ پہلے ہی آئی تھی وہ تو یہ سب بھول گئ تھی لیکن وہ لڑکا تو اُس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پر گیا تھا

وہ اردگرد دیکھتی ڈرتے افق کے قریب گئ تھے ” افی آ جاؤ چلیں بھای آنے والے ہیں اس نے ایک نظر اُس لڑکے پر ڈالتے افق کو منت بھرے لہجے میں کہا ۔۔

دیکھ بھائی تیرے والی تو خود چل کے آ گئ ہے دوسرے لڑکے نے مکرو ہنسی ہنستے ہوئی کہا تو اُس لڑکے نے ایک نظر رامین کو اوپر سے لے کر نیچے تک جانچتی نگاہوں سے دیکھا “

رامین کا دل کیا اُسکی نظروں سے اُس وقت اوجھل ہو جائے ،، پیشانی پسینہ سے نم تھی ،،

تم کیوں اتنا ترپ رہی ہو اگر تمہیں کوئی مسلہ نہی تو میں دو دو کو ہینڈل ،،ابھی اُسکے الفاظ منھ میں ہی تھے کے افق کا ہاتھ اٹھا تھا اور اُسکے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا ۔۔

اُسکا دوست جو ہنس رہا تھا اُسکی ہنسی تھمی تھی اور وہ ہربرا کے بھاگنے لگا اس سے پہلے کے وہ آگے بڑھتا کے افق نے اپنا جوتا اُتار کے اُس کے سر پر دے مارا ” کیا کہہ رہے تھے تم ” ارد گرد سٹوڈنٹ اکٹھے ہونے لگے۔۔

افق نے اُس کے سر پر دھڑا دھڑ جوتوں کی ضربیں لگانےلگی ۔۔

افق ابراہیم ہوں میں ،،کسی کے باپ سے نہیں ڈرتی میں ۔

آئندہ کے بعد میری کزن یاں کسی بھی لڑکی کے بارے میں بکواس کی تو پرنسپل کو شکایت لگا دونگی ۔۔

افق نے سرد لہجے میں اُسے دیکھتے دھمکایا تھا ،

بہت بڑی غلطی کر بیٹھی ہو تم افق ابراہیم ” جانتی نہیں ہو ابھی مجھے ” صالح مراد ہوں میں ” اس تھپڑ کو سود سمیت نہ لوٹآیا تو میرا نام بدل دینا ۔۔۔۔

ارے جاؤ جاؤ بکواس نہ کرو بڑے آئے تمہارے جیسے ” افق اُسکی بات کا اثر لیے بغیر لال چہرے کے ساتھ کہتے پلٹی،،، رامین پسینے سے شرابور خوف زدہ سے اُسے کھینچتی لے کر جا رہی تھی ۔۔

لیکن وہ دونوں انجان تھی کے کس مصیبت میں پھنسنے جا رہی ہیں ۔۔

😯😯😯اتنا ٹھنڈا رسپانس !!! لائک سیریسلی ؟؟؟

اتنی مشکل سے وقت نکال کے آپ کے لیے لکھا جاتا ہے اور آپ لوگ ایسے کرتے ہیں ۔۔

🥵🥵اب جب تک اس پوسٹ پر آپکا رسپانس اچھا نہیں ہوگا میں نیکسٹ ایپی نہیں دونگی