Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes Readelle 50367 Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 16) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 16) Last Episode
Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes
رات کی تاریکی ہٹ چکی تھی ۔۔۔۔ ایک نیا سویرا سب کا منتظر تھا ،،،سورج کی کرنیں ہر سو اپنے پر پھیلائے ہوے تھی ،،پرندے چہچا رہے تھے ،،خوبصورت کلیاں بیدار ہو رہی تھی ۔۔
آج کی صبح دو افراد کے لیے بہت حسین اور روشن تھی وہی وہ دونو ایسی بھی تھی جو اپنے خاص دن کو بھلائے گدھے گھوڑے بیچ کے سو رہی تھی
کھڑکیوں سے آتی سورج کی کرنوں نے اُسکی نیند میں حلل پیدا کیا تھا ۔۔
افق نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے گھڑی کی جانب دیکھا جو بارہ بجا رہی تھے ۔۔
افف ” میں اتنی دیر سوتی رہی فوراً سے اٹھ کر بیٹھی نظر ساتھ سوئی رامین پر پڑی جو اب بھی بے سدھ پری تھی ۔۔
مینو اٹھ جا یار” بہت ٹائم ہو گیا ہے اُسے بازو سے جھنجھوڑتے وہ اٹھ کر واشروم چلی گئی۔۔
رامین بھی اٹھ کر بیٹھ گئ ،،کچھ ہی دیر میں دونو فریش ہوتی نیچے چلی گئیں
آج شجاع صاحب گھر پر موجود تھے لاونج میں بیٹھے وہ نیوز دیکھ رہے تھے ۔۔ان دونوں کو قریب آتے دیکھ محبت سے گویا ہوے ۔۔
اٹھ گئی میری پریاں ” ۔۔
رامین اپنے بابا کے سینے سے سر ٹکا کر منھ بناتی بیٹھ گئی
کیا بات ہے میری گڑیا کی نیند نہیں پوری ہوئی ابھی بھی” اُس کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ وہ محبت سے مسکرآتے بولے
افق دوسرے صوفے پر بیٹھی بلند آواز میں بولی ۔۔
ممانی بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دے دیں ۔۔ پلیز ۔۔
سونیا بیگم جوس ان کے سامنے رکھتی اس کے سر پر پیار کرتی گویا ہوئی مجھے معلوم تھا میری آفت کی پرکالوں نے ایسے ہی شور مچانا ہے اسلیے ناشتا ریڈی کر دیا تھا پہلے ہی۔۔۔۔
بس آنے ہی والی تھی میں دونو کو جگانے “.. میری بچی کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ”…
رامین کو پیار کرتی وہ محبت سے بولی ۔۔
ٹھیک ہوں میں مما ٫٫ آؤ میری جان تھوڑا سا کھا لو رات بھی کچھ نہی کھایا تھا انہوں نے قریب بیٹھتے پیار سے پچکارتے کہا
شجاع صاحب اُسے ساتھ لگاتے گویا ہوے میری گڑیا تھوڑا سا کھا لو ورنہ آپکی مما نے پریشان ہوتے رہنا ۔۔
وہ سر ہلاتی جوس کا کلاس ہونٹوں سے لگا گئ ،،یہ لو میری جان یہ سلائس بھی ساتھ کھاؤ ۔۔
سونیا بیگم نے مکھن لگا ایک سلائس اس کے آگے کیا
افق جو سب کو اُسکے لاڈ اٹھاتا دیکھ رہی تھی منھ بناتی بولی ۔۔اب بس بھی کرو مجھے جلن محسوس ہو رہی ہے کیسے سب تمہارا خیال کر رہے ہیں ۔۔کسی کو خبر ہی نہیں میں بھی پاس بیٹھی ہوں ۔۔
اُسکی بات پر پاس بیٹھے تینوں فرد کا قہقہ گونج اُٹھا
میری جان ہم آپ سے بھی بہت محبت کرتے ہیں سونیا بیگم اُس کے ماتھے پر بوسا دیتی بولی ۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کے وہ دونو سونیا بیگم کی کیچن میں ہیلپ کروا رہی تھی آج ہمدان کی فیملی نے آنا تھا آدم نے فون پر ان کے آنے کی اطلاع دی تھی ۔۔شجاع صاحب کی ہمدان کے والد کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی ۔۔
ہمدان کی فیملی آ چکی تھی،، آدم اور شجاع صاحب اُن کے قریب بیٹھے باتوں میں مصروف تھے،، ہانی بیگم ہمدان کی والدہ کے ساتھ بیٹھی تھی
افق اور رامین ڈاینگ ٹیبل سیٹ کر رہي تھی ،،کچھ ہی دیر میں ایک اچھے ماحول میں سب نے کھانا کھایا ۔
اُس کے بعد چائے کا دور چلا “۔۔افق اور رامین بھی سب کے درمیان بیٹھی تھی ۔۔
ہمدان کی والدہ نے رامین کو اپنے قریب بلایا اور اُسے اپنے پاس بیٹھایا” رامین جو پہلے ہی ہمدان کو دیکھ کر کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔اُس کے بلکل قریب بیٹھنے پر اپنی نم ہوتی ہتھیلیان ملنے لگی۔۔
آپ لوگو نے بہت زیادہ تردد کر دیا ” ہم لوگ دراصل یہاں ایک خاص مقصد سے آئے ہیں ۔۔ وہ ٹھہرے ہوے لہجے میں گویا ہوئیں
شجاع صاحب اور سونیا بیگم نے کشمکش سے انکی جانب دیکھا ” ہانی بیگم بھی انکی جانب ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
آدم ریلیکس سا بیٹھا تھا کیوں کہ وہ ان کے آنے کے مقصد سے آگاہ تھا اور ایک شرارتی نظر ہمدان پر ڈالی جو خود بھی تھوڑا کنفیوز سا تھا ۔۔
رامین اور افق اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔
جی جی فرمائیں کیا کر سکتے ہیں ہم آپ کے لیے ۔۔شجاع صاحب نے نارمل انداز میں استفسار کیا ۔
ہم چاہتے ہیں کے آپ رامین کو ہماری بیٹی بنا دیں “..
وہ مسکراتے ہوے گویا ہوئی
سب انکی بات سنتے خیران بیٹھے تھے ۔۔ لیکن وہ کچھ توقف کے بعد گویا ہوے۔۔
لیکن ابھی رامین چھوٹی ہے ،،اور ہم اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتے
شجاع صاحب ہمدان کی فیملی کو اچھے سے جانتے تھے اور انہیں اس رشتے میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی تھی لیکن وہ اتنی جلدی رامین کا رشتہ نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔
ہم جانتے ہیں اسی لیے بس ابھی رشتہ لے کے آئے ہیں
آپ ہمارے گھر تشریف لائے اُسکا بہت شکر گزار ہوں میں لیکن ابھی ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے ۔۔۔آپ جانتے تو ہیں ہماری بچی ابھی خوف زدہ بھی ہے ۔۔
ہم ساری بات سے آگاہ ہیں بھائی صاحب ” یہی وجہ تو ہمیں یہاں جلدی کھینچ لائی ہے ” ورنہ ہم ابھی مزید انتظار کر لیتے ۔۔۔ جو کچھ ہو چکا ہے
ایسے میں بہتر یہ ہے کے ہم فلہال بچوں کا نکاح کر دیں ” پھر جب آپ رخصتی مناسب لگے تب کر لین گے ۔۔
بھای صاحب آپ تو ہمارے خاندان کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔
آپ لوگ سوچ سمجھ کر جواب دیجئے گا ہمیں کوئی جلدی نہیں ۔۔ اور آپ جانتے ہیں ہمارا اکلوتا بیٹا ہے ہمدان ،، اس کی خواہش پر ہم لوگ یہاں آئے ہیں اور آپ یقین کریں ہم رامین کو اپنی بہو نہیں بیٹی بنا کر لے جانا چاہتے ہیں ۔۔ان کے لہجے میں اپنا پن اور مان محسوس کرتے
شجاع صاحب نے اثبات میں سر ہلایا ،،
ان کے جاتے ہی آدم وہی لاونج میں شجاع صاحب کے قریب بیٹھ گیا ۔۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بابا “…
میں جانتا تھا کے وہ کیوں آنا چاہتے ہیں ” اور ہمدان رامین کے لیے پرفیکٹ ہے ،،
ہمدان ایک بہت نرم مزآج انسان ہے انکار کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔۔ آپ جانتے ہیں رامین کتنی حساس ہے ،، بات بات پر رو پرتی ہے ،، باتوں کو دل پر لے لیتی ہے ۔۔ایسے میں بہتر یہی ہے کے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمیشہ رہے
لیکن بیٹا رامین کی رضامندی بھی ضروری ہے سونیا بیگم پریشان حال سی بولی تھی وہ جانتی تھی اپنی بیٹی کی حساس طبیت کے بارے میں۔۔
کچھ نہیں ہوگا امی ” میں خود بات کر لونگا ۔۔
آدم نے انہیں تسلی دی ۔۔
آدم رامین سے بات کرنے اُس کے کمرے کی جانب جا رہا تھا لیکن سامنے سے آتی افق نے اُسے روک لیا ۔۔
کہاں جا رہے ہیں آپ ۔۔۔اور یہ ہمدان بھای کی فیملی کیوں آی تھی ،، دونوں بازوں کمر پر رکھتی وہ بڑے اشتیاق سے اُسے جواب طلب کر رہی تھی ۔۔ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔۔
اب آپ مجھے بتائیں اصل بات کیا ہے “
ہولڈ آن لڑکی” کتنا بولتی ہو تم …
میں رامین سے کچھ ضروری بات کرنے جا رہا ہوں اور ہمدان کے آنے کا بھی تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا ۔۔
اب تم اپنا کام کرو جو کرنے جا رہی تھی،، میں رامین سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔
وہ تیوری چڑھائے بولتا آگے بڑھ گیا ” افق نے اُسکی جانب تندہی سے دیکھا کیسے اُسے نظر انداز کرکے جا سکتا ہے وہ “..
دروازہ بند ہوتے ہی وہ دوڑتی دروازے کے قریب کھڑی ہو گئی تاکہ ان کی باتیں آسانی سے سن سکے
میں بھی تو دیکھو آدم بٹ کون سی خاص بات کرنے والا ہے۔
رامین جو خاموشی سے بیٹھی تھی دروازہ کھلتے دیکھ سامنے کی جانب نگاہ اُٹھآئی ” آدم کو سامنے کھڑا دیکھ وہ چونکی” بھای وہاں کیوں کھڑے ہیں ۔۔
سوالیہ نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتی وہ گویا ہوئی
آدم چہرے پر نرم مسکراہٹ لیے آگے بڑھا ” ۔۔
اور قریب بیٹھتے رامین کے گرد بازو خمایل کیے ،،
بھای خیریت ہے نا ؟؟ وہ بے چینی سے آدم کو دیکھتی بولی ۔
ہاں کیوں بھئی میں اپنی بہن کے کمرے میں نہیں آ سکتا ۔۔
نہیں بھائی ایسی بات نہی میں تو بس ویسے ہی ۔۔ رامین شرمندہ ہوتی نگاہ جھکا گئ
رامین میری گڑیا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،،جو ہوا وہ بھول جاؤ ۔۔
آدم نے اُس کے سر پر پیار کرتے محبت سے اسے سمجھایا
اچھا آج میں اپنی بہن سے بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں ۔۔
جی بھای ” رامین نے آدم کی جانب دیکھا ۔۔
میری جان” ہمدان کی فیملی آج آپ کے رشتے کے سلسلے میں یہاں تشریف لائے تھے۔۔ رامین نے شاک کے عالم میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے آدم کو دیکھا جو اطمینان سے اُسے ساری بات سے با خبر کر رہا تھا
پریشان ہونے کی بات نہیں ہے میرا بچہ ” لہجے میں بے حد محبت سموئے وہ اُسے سینے سے لگاتا اُس کے بال سہلاتا گویا ہوا
اور مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں “
ہمدان بہت اچھا لڑکا ہے ،،آپکو خوش رکھے گا
رامین نے فوراً نفی میں گردن ہلای ” نہیں بھای میں کہی نہیں جاؤنگی آپ لوگو کو چھوڑ کر ۔۔
رامین نے روتے پل میں سرخ ہوتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے کہا
میری گڑیا ہم کون سا آپکو کہی دور بھیج رہے ہیں ،، ابھی تو صرف بات پکی کرنا چاہ رہے ہیں پھر جیسے آپ جب کہیں گی دھوم دھام سے آپکی شادی کریں گے
وہ اُس کے ماتھے پر بوسا دیتا محبت اور مان سے بولا ۔۔
سب بہت خوش ہیں اس رشتے سے ” ہمدان پسند کرتا ہے آپ کو اس بات کا اظہار وہ بہت پہلے مجھ سے کر چکا ہے ،،اب آپ بتاؤ آپ کیا چاہتی ہو ۔۔
دیکھو میری جان اس وقت خالات کا تقاضا یہی ہے کے ہم آپکو کسی سیف ہاتھوں میں دیں تاکہ جو خوف ماں کو آپ کے مطلق دل میں بیٹھ گیا ہے اس پر بھی قابو پایا جا سکے ۔
جبکہ اُسکی اس بات سے رامین کے چہرے کا رنگ خوف و دہشت سے ایک دم سپید پڑنے لگا ۔۔
آدم اُسکا خوف سمجھتا آنکھوں میں نرمی لیے اُسے اپنے ہونے کا یقین دلاتے ساتھ لگاتے گویا ہوا ۔۔۔۔کسی میں اتنی ہمت نہیں کے دوبارہ میری بہن کی جانب نگاہ بھی اٹھا سکے “..۔۔جو خال میں اس کمینے کا کر چکا ہوں وہ سب کے لیے عبرت کا نشان ہے ،،
اس طرح آپ کی آنکھوں میں موجود خوف مجھے کمزور کر رہا ہے رامین “… آدم نے اشتعال سے آنکھیں میچتے خود پر قابو پاتے التجایہ لہجے میں کہا ” ۔۔۔
رامین اُسکی بات پر ترپتے آنکھوں میں نمی لیے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی گویا ہوئی ۔۔نہیں بھای ایسے مت کہیں مجھے آپ پر پورا یقین ہے ،، اُس کے لیے اُسکا بھای بہت عزیز تھا اور آدم کا یوں خود کو قصور وار سمجھنا اُس کے لیے بھی اذیت کا باعث تھا ۔۔
میری جان!!! اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو آپ بلا جھجھک مجھے بتا سکتی ہو ۔۔
آپ جیسا چاہے گے ویسا ہی ہوگا ” مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔
اپنے بھائی کے چہرے پر وہ تکلیف ده تاثرات دیکھ سکتی تھی اسی لیے جلد ہی فیصلے کا اختیار گھر والوں کو دے دیا
ابھی وہ مزید کچھ بولتی کے افق دھار سے دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئی ۔۔
دل و جان سے قبول ہے اسے یہ رشتہ ” انکار کا تو کوئی جواز بنتا ہی نہیں ۔کیوں مینو ۔۔”
اگر مجھے یہ آفر ملتی تو میں تو فٹ سے ہاں کہہ دیتی افق اپنی ہی دھن میں پر فرفر بولتی رامین کے گلے لگی۔
آدم نے سخت نظروں سے اُسے دیکھا” تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔
افق اُسکی بات پر لب دانتوں تلے دباتے معصومیت سے اُسکی جانب دیکھتی گویا ہوئ۔۔
وہ مجھے ممانی نے بیجھا تھا رامین کو بلانے ” ۔۔۔تھوک نگلتی وہ جھوٹ کا سہارا لیتے بولی
اور کیا بکواس کر رہی تھی تم “….
خطرناک تیور سے اُسکی جانب بھرتے وہ استفسار کرنے لگا ۔۔
آ ۔۔۔۔۔ہاں کچھ نہیں میں بس اندر انے لگی تھے تو آپکی بات سن لی افق کان کھجاتی گویا بولی ۔۔
رامین کو اُسکی شکل دیکھ کر بے ساختہ ہنسی آئی ۔
جو بولتے ہوئے سوچتی نہیں تھی اور بعد میں پچھتاتی تھی۔
آدم اُس سے بعد میں نپٹنے کا سوچتے رامین کی جانب متوجہ ہوا تھا ” بتاؤ میری جان… آپ کا کیا فیصلہ ہے
بھای جیسا آپ سب کو ٹھیک لگے ۔۔وہ سر جھکاتے آہستہ آواز میں بولی ۔۔
شاباش میری گڑیا مجھے یقین تھا آپ میری بات کا مان ضرور رکھو گی،، اُس نے کہتے رامین کے سر پر لب رکھے تھے اور جاتے ہوئے افق پر ایک تیز نگاہ ڈال کر گیا تھا ..
افق نے چور نظر اُس پر ڈالی جو اسے ہی سخت نگاہ سے گھور رہا تھا ۔۔اسکی نگاہوں میں جانے کیا تھا کے افق کے ہاتھ کانپنے لگے ،،
آدم کے جاتے ہی وہ بیڈ پر بیٹھتی اپنا اٹکا سانس بخال کرنے لگی ،، میں بے تخاشا خوش ہوں تمہارے لیے رامین کو گلے لگاتی وہ خوشی سے چیخی ۔۔
____________yumna writes ![]()
![]()
آدم نے نیچے آتے سب کو رامین کی رضامندی سے آگاہ کر دیا تھا ۔۔ہمدان کے گھر فون کرکے انہوں نے جواب دے دیا تھا ۔۔
سب بہت خوش تھے ۔۔۔۔
کچھ ہی دنوں میں دونو خاندان اکٹھے ہوے اور نکاح کی تاریخ تہہ پای ۔۔
افق اور آدم کا بھی نکاح ساتھ ہی تھا ” ۔۔دونو خاندانوں کا کہنا تھا کے جب تک بچیاں اپنی پڑھآئی مکمل نہیں کر لیتی تب تک رخصتی نہیں ہوگی ۔۔
بٹ ہاؤس میں آج اچھی خاصی رونق لگی ہوئی تھی افق اور آدم ۔۔۔رامین اور ہمدان کے لیے الگ الگ اسٹیج لگاے جا رہے تھے ۔۔لان کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا جا رہا تھا
آخر اُسکی لاڈلیوں کے نکاح تھے ،، ” ۔۔ اس سب میں آدم کو ابھی تک تیار ہونے کا بھی وقت نہ ملا تھا کیونکہ وہ خود سب کے سے پر کھڑا ہو کر سب کام کروا رہا تھا
آفق اور رامین کو بیوٹیشن تیار کرنے اس چکی تھی ،،
ہانی بیگم ہمدان کی فیملی کا استقبال کرتی اور سب مہمانوں کو آتا دیکھ رامین اور افق کو دیکھنے گئ تھی
ہانی بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو وہ دونو پریاں شرمائی لجھای سی سامنے بیڈ پر بیٹھی تھی،، ا جو اس وقت گولڈن گوٹے کے کام والے شرارے میں ،، ہلکے میک آپ میں سر پر جالی دار سرخ دوپٹہ لیے بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔
آنکھوں میں پل میں آنسو جمع ہونے لگے “
ماشا اللہ میری دونو پریاں بہت حسین لگ رہی ہیں آنسو خشک کرتے ان کے قریب جاتے
دونو کے ماتھے پر لب رکھے ۔۔ نم آنکھوں سے انہیں دیکھتے وہ محبت بھرے لہجے میں بولی ،،
سونیا بیگم جو عجلت میں دونو کا پوچھنے آرہی تھی
سامنے دونوں کو کھڑا دیکھ قدم رک گئے ” میری بیٹیاں کتنی حسین لگ رہی ہیں انہوں نے آگے بھرتے دونو کو ساتھ لگایا ،، بہت ضبط کے باوجود آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ،،
رامین تو رونے کے لیے مکمل تیار بیٹھی ہوئی تھی ” سونیا بیگم کے سینے سے لگتی وہ رونے لگی
افق نے اُسے ان سے الگ کیا ” پاگل ہو گئی ہو چریل بننے کا ارادہ ہے تمہارا ” افق دانت پیستی بولی ،،
سونیا بیگم اور ہانی بیگم کا اُسکی بات سے قہقہہ گھونجا “… تمہاری وجہ سے مجھے لگتا ہے میں بہت اگنور ہو رہی ہوں” وہ منھ پھلاتے اسے گھورتی بولی ۔۔
ایسی بات نہیں ہے جھلی” تم دونوں میں ہماری جان بستی ہے ۔۔
انہیں باہر لاتے دونو کے چہرے پر گھونگھت ڈالا گیا ڈوبتے کے اوپر گولڈن تار سے آدم کی دلہن ” اور رامین کے ڈوبتے پر ہمدان کی دلہن لکھا ہوا تھا ۔۔جو گھونگھٹ دینے سے نمایاں ہونے لگا تھا۔۔
ہانی بیگم اور سونیا بیگم انہیں لیے سٹیج کے سامنے آئے تھے ” شجاع صاحب بھی نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھتے قریب آئے تھے ۔۔
افق بھی ابراہیم بٹ کا ہاتھ تھامتے ان کے ساتھ قدم اسٹیج کی جانب بڑھانے لگی۔۔
سامنے اسٹیج پر آدم اور ہمدان انہیں قریب آتے دیکھ کھڑے ہو گئے ،،دونو نے ایک جیسی ڈریسنگ کی ہوئی تھی۔
سفید شلوار قمیص پر مہرون واسکٹ پہنے دونو چہرے پر مسکراہٹ سجائے ان کے آگے ہاتھ بڑھاے کھڑے تھے
افق نے اعتماد سے آدم کی چوری ہتھیلی پر اپنا ہاتھ رکھا اور اُس کے ساتھ کھڑی ہوئی ۔۔جبکہ رامین لرزتی کانپتے اپنے بابا کے ساتھ لگی اسٹیج پر بیٹھی “
کچھ ہی دیر میں اجاب و قبول کا مرحلہ ختم ہوا ” ۔۔
افق اپنے بابا کے ساتھ لگتی رو دی جبکہ رامین کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔
آدم نے بھی آگے بڑھتے اُسے اپنے ساتھ لگایا تھا “۔۔
مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا سب آ کے انہیں مٹھائی کھلا رہے تھے۔۔
دونو کے گھنگٹ نہیں ہٹاے گئے تھے اور دونوں ہی دولہے اپنی بیوی کو دیکھنے کے لیے بے چین تھے ۔۔
دلہنوں کو ان کے ساتھ بیٹھایا گیا ٫ آدم کی نظر اٹھی تھی اور پھر پلٹنا بھول گئی ۔۔وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کے آدم بنا پلکیں جھپکتے اُسے دیکھی جا رہا تھا افق اُسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی اُنگلیاں مروڑنے لگی ۔
دوسری جانب ہمدان نے ساتھ بیٹھی رامین کی جانب دیکھا ٫ تو دل دھک سے رہ گیا اسے دیکھتے جیسے پوری کائنات کھو سی گئ ۔۔۔
وہ اپنی تمام تر معصومیت سمیت سیدھا اُس کے دل میں اتر رہی تھی” جو اُسکی نظروں سے خوف زدہ ہوتی لرزتی پلکوں سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔
دونو دلہنوں کو اُن کے کمرے میں چھوڑ آیا گیا.
کھانا دونو کے کمرے میں بیجھ دیا گیا ” صبح سے دونو نے کچھ کھایا پیا نا تھا ،،،
رامین تھکن سے بے خال ہوتی نم آنکھوں سے بولی مما مجھے چینج کرنا ہے تھک گئ ہوں بہت ۔۔!!!
نہیں میری جان بس تھوڑی دیر صبر کر کو ہمدان ملنا چاہتا ہے آپ سے ..
نو مما بلکل بھی نہیں وہ بے یقینی سے نفی میں گردن ہلانے لگی ۔۔
کچھ نہیں ہوتا بچے یہ اُسکا حق ہے ،،اُس نے آپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور مجھے اس میں کوئی مضائقہ نہیں لگا ۔۔
افق بھی اپنے روم میں ہے ،،آدم کو بھیجنے لگی ہوں اس کے روم میں۔۔
ایسے کب تک چلے گا رامین ” آپ اب اس کے نکاح میں ہو کوئی غیر نہیں بلکہ محرم ہے وہ آپ کا “.. اسے بڑی مشکل سے سمجھا کے وہ باہر نکلی تھی ۔۔
دوسری جانب افق اپنے دل پر ہاتھ رکھتی اپنی نم ہوتی ہتھیلیوں سے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں سختی سے دبوچے اس کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔
اسکی معنی خیز نگاہوں کا سوچتے اُسکا دل کانپنے لگا ” لیکن وہ جانتی تھی جو مرضی کر لیتی وہ ،،لیکن اُس ڈھیٹ انسان نے کرنی تو اپنی مرضی تھی اسلئے خاموش رہی
آدم کمرے میں داخل ہوا تو وہ سامنے مزے سے صوفے پر بیٹھی ٹانگیں جھلاتی اپنی چوریاں اُتار رہی تھی ۔۔
آدم نے نفی میں سر ہلاتے قدم اُسکی جانب بڑھائے ” وہ کبھی نہیں سدھر سکتی تھی” ۔۔
افق کے ہاتھ اُس کے قریب آنے پر تھمے ” آدم نے قریب آتے اُس کے مدہوش کن سراپے سے نظریں چرائی جو آج اُس کی جان لینے کے در پر تھی ،،لیکن اس بات سے مکمل طور پر بے نیاز ۔۔
اُس کے قریب جھکتے کان کے قریب محبت بھرے لہجے میں سرگوشی کی ۔۔
نکاح مبارک ” افق آدم بٹ”…
افق کو لگا جیسے اُسکا دل باہر آ جائے گا ،،، دل سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا ۔۔
آدم نے اُس کے قریب بیٹھتے اُسکی کمر کے گرد بازو حمایل کیے ،، افق جو اس صورت حال کے تیار نا تھی اُسکی پیش رفت سے اچانک اچھل پڑی ۔۔۔
کیا کر رہے ہیں آدم دور ہٹیں ،،اُسکی انگلیوں کی سرسراہٹ اپنی کمر پر محسوس کرتے اُسکی پیشانی نم ہوئ ۔۔ جسم میں کپکپی طاری ہونے لگی ۔
تمہیں بہت قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں محسوس کرنا چاہتا ہوں کے تم میری ہو ۔۔
آدم نے بے خود سا ہوتے اُس کے گال پر لب رکھے ۔۔
افق نے ہونٹوں کو تر کرتے اُسکی جانب بمشکل نگاہ اٹھا کر دیکھا ۔۔اور اُسکے حصار میں کسمسا کر تھوڑا سا دور ہوی ۔
اپنی پاکٹ سے ایک خوبصورت پینڈیت نکالتے افق کی گردن کی زینب بنایا ،،یہ تمہارا منھ دکھائ کا گفٹ “
اُسکی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہوتی افق کی جان ہوا ہونے لگی
You are all Beautiful,,,From your Eyes to your vains …![]()
![]()
ان اُٹھتی گرتی پلکوں سے مجھے عشق ہونے لگا ہے ،،ان حسین زلفوں کی مہک مجھے پاگل کرنے لگتی ہے۔۔بس اتنا کہنا چاہتا ہوں آدم بٹ دل کی گہرائیوں سے تم سے وفا کرے گا ۔
میں نہیں جانتا مجھے کب تم سے محبت ہوئی ،، میں اپنے اندر بدلتے احساسات کو سمجھ ہی نہیں پایا اور جب سمجھ آئ تو یقین ہوا کے افق بٹ کے بغیر آدم بٹ نہ مکمل ہے ۔۔
افق نے نم آنکھوں سے اُسے دیکھا اُس نے کہاں سوچا تھا اُسے اتنا محبت کرنے والا شخص ملے گا ۔
اُسکی نم آنکھوں پر آدم نے اپنے تشنہ لب رکھے ،،کبھی کسی تکلیف کو تمہیں چھونے بھی نہیں دونگا یہ آدم بٹ کا وعدہ رہا ۔۔
اب کہہ بھی دو تم سے محبت ہے ۔۔
اُس کے دونو ہاتھ اپنی نرم گرفت میں لیتا بے تابی سے بولا ۔۔
م،،مجھے شرم آتی ہے ،،افق نے شرماتے اُس کے سینے میں منھ دیا ” آدم بٹ کا زندگی سے بھرپور قہقہ گهونجا”
کہو ایک دن ،،، یہ جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے سب
کچھ ہمارا ہے ،،کہو ایک دن “…
تمہارے ہیں کہو اک دن!!!!…..
آدم کی خوبصورت گھمبیر آواز کمرے میں رقص کرنے لگی ۔
________________
ہمدان رامین کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سامنے اپنا سوگوار حسن لیے خاموشی سے بیٹھی تھی
اُس کے قریب آتے ہمدان نے اپنی بھاری آواز میں سلام کیا
جانتا تھا وہ بہت مشکل سے راضی ہوئ تھی اسلیے اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا ۔
رامین اسلام کا جواب دیتے اپنی انگلیاں مروڑنے لگی” آنکھوں میں نمی پھیلنے لگی
اگر آپکی اجازت ہو تو یہان بیٹھ سکتا ہوں ،،اجازت طلب کرتے اُسکی آنکھیں اُس کے نقش نقش کو حفظ کر رہی تھی
اُسکی پلکوں کی چلمن سے ہمدان کو اپنی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہوئی تھی
رامین نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا ” ہمدان سرشار سا ہوتا اس کے قریب بیٹھ گیا ۔۔
اُسکی نظریں اُسکے ہوش ربا حسن سے ہٹ نہیں رہی تھی ،،دل تھا کے اُسے سینے میں چھپانے کی ضد پر ارا تھا
آپ حسین ہیں ہے میں جانتا ہوں لیکن آج آپ جان لیوا حد تک حسین لگ رہی ہیں
اُس کے معصوم چہرے سے مشکل سے نظریں چراتا وہ اُس میں محو ہوتا بولا ۔
رامین اُسکی تعریف سے جھنیپ سے گئی ،، اور بے چین سی ہوتی اُس سے تھوڑا فاصلہ بنا گئ ،،جس پر اُس نے دانتوں تلے لب دبائے ۔
رامین ہم بہت مضبوط رشتے میں بند چکے ہیں میں چاہتا ہوں آپ اپنی پوری خوشی سے اس رشتے کو قبول کریں۔
اور میرے ہوتے ہوے آپکو کسی سے بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔یہ بات میرے لیے شرمندگی کا باعث ہوگی ۔۔
میں صاف بات کرنے کا عادی ہوں ” مجھے شروع سن سے آپ پسند آئ تھی جب میں نے اس گھر میں قدم رکھا ” لیکن میں نہ جان سکا کب یہ پسندیدگی خوبصورتی میں تبدیل ہوئی اور آپ میرے لیے لازم ہو گئ
اُس نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔
رامین نے حلق تر کرتے آنکھیں جھکا لی ” ۔۔
ہمدان نے ایک بریسلیٹ اُس کے آگے کیا ” اگر آپکی اجازت ہو تو پہنا سکتا ہوؤں آپکو ” ہمدان نے اُسکی جانب دیکھا
رامین نے اثبات میں سر ہلایا ” ہمدان نے آگے بڑھتے اُسکی نازک سی کلای میں بریسلیٹ پہنایا ” ۔۔کیسا لگا ؟..
بہت خُوب صورت ” ۔۔ ہمدان نے اس بریسلیٹ پر اپنا لب رکھے ۔۔آپ کی کلائی میں یہ زیادہ پیارا لگ رہا ہے۔
بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے ،اسے اتنا حسین بنانے کے لئے ،،،میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے آپ کبھی یوں میرے سامنے بیٹھی ہونگی۔
بہت محبت کرتا ہوں آپ سے ” جب آپکو پہلی بار دیکھا تب ہی یہ دل بے قابو ہو گیا تھا
لیکن خاموش رہا ،،، لیکن جب صالح کی وجہ سے آپکی آنکھوں میں آنسو دیکھے اُس دن میں نے سوچ لیا کے آپکو اپنی زندگی میں شامل کرکے رہوں گا چاہے جو کچھ بھی ہو جائے ۔۔
وہ ایک جذب کے عالم میں بولا تھا ” رامین کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی ۔۔
اتنے چاہت والا بندہ خدا نے اُسکی زندگی میں بھیجا تھا
ہمدان نے جھکتے اُس کے ماتھے پر لب رکھے تھے آپ بہت قیمتی ہیں میرے لیے ” ہمدان بٹ کی محبت ہیں آپ “
میں نے آپکو بہت چاہا اور رب سے آپکو مانگا ،،اور آج پا لیا ۔۔۔بیشک اللہ پاک سننے والا ہے ۔۔۔
شکریہ میری زندگی !!!
رامین نے مسکرا کر اُسکی جانب دیکھا ” ہمدان نے اُسے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔
ان دونوں کو اپنی منزل مل گئ تھی ،،ہمدان بٹ نے آج اپنی محبت کو پا لیا تھا وہ اپنے رب کا شکر گزار تھا ۔۔
دوسری جانب آدم بٹ کے دل نے اعتراف کیا تھا کے افق بٹ اُس کے جینے کی وجہ ہے” جس لڑکی سے وہ بآرہا
ہار کھاتا رہا ۔۔دور بھاگتا رہا وہی اُس کے جینے کی وجہ بن گئ
افق بٹ نے یہ ثابت کر دیا کے اگر لگن سچی ہو تو خدا ضرور آپکو نوازتا ہے ۔۔
اُس نے ابراہیم بٹ کا شدت سے انتظار کیا تھا انہیں اللہ پاک سے مانگا تھا ” خدا ایک بیٹی کی دعا کیسے رد کر دیتا ۔۔ افق بٹ نے یہ ثابت کر دیا کے ضروری نہیں ہر لڑکی ایک جیسی ہو ،،، ہر ایک کی ایک الگ پرسنیلٹی اور کردار ہوتا ہے ۔۔
لڑکیاں ضروری نہیں خاموش مزاج ہی ہوں ،،، کچھ شرارتی اور چنچل ہونے کے ساتھ بے خوف اور سمجھدار بھی ہوتی ہیں ۔
ختم شد۔
