Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 10)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

وہ کافی دیر سے گھر آیا ہوا تھا ،، جانے کیوں دل اتنا بے چین تھا وہ سمجھ نہ پا تھا ” اور اگلے ہی پل اٹھتے اس نے قدم افق کے کمرے کی جانب بڑھاے

لیمپ کی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی ٫ سامنے رامین سنگل بیڈ پر بے صد سوئی ہوئی تھی لیکن وہ موجود نہیں تھی ۔۔ اس نے بے چین ہوتے نگاہیں پورے کمپرے پر ڈالی ،، واشروم کا۔ ڈور بند تھا ” بتی بھی بجھی ہوئی تھی ۔۔

نظر ٹیرس کے تھوڑے سے کھلے دروازے کی جانب ڈالی اور دھیمی چال چلتا اس تک پہنچا جہاں وہ ریلنگ پر اپنے نازک مومی ہاتھ جمائے خاموشی سے کھڑے آسمان کو دیکھ رہی تھی

آہستگی سے اُس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا لیکن وہ آسمان کو دیکھنے میں اتنا کھوئی ہوئی تھی کے اُسکی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا تھا

آدم بٹ کو خود سمجھ نہی آ رہا تھا کے کیوں دل بار بار اسکو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا ۔۔

دوسری جانب افق ابراہیم بغیر دوبٹہ کے ڈھیلی سے چٹیاں میں اپنا سوگوار حسن لیے آسمان کو تک رہی تھی۔۔۔۔

وہ جو ہمیشہ اُس کے بولنے سے تنگ پڑتا تھا آج اُسکی خاموشی اُسے بری طرح محسوس ہو رہی تھی ۔۔

افق جو چاند کو دیکھتی گہری سوچ میں تھی ” اُس نے جب سے ہوش سمبھالا تھا اپنا ننھیال ہی دیکھا تھا

اُسے اپنے باپ سے بے حد محبت تھی” وہ شروع دن سے دل میں اپنے باپ کے آنے کی دعائیں کرتی اور اپنی ماں سے بار بار انکے آنے کا پوچھتی

لیکن جب اُس نے محسوس کیا کے اُس کے بابا کے ذکر سے اُسکی مان کی آنکھیں نم ہوتی ہیں اُس نے اُن سے پوچھنا چھوڑ دیا ۔۔

وہ جو اپنی شرارتوں اور مزاق میں سب کچھ بھلائے ہوئے تھی آدم بٹ نے آج اُس کے زخم پھر سے تازہ کر دیے

وہ تکلیف سے سوچتی آنکھیں موند گئ آنسو لڑیوں کی صورت گالوں پر گرے تھے ۔۔۔

آدم نے اُس کے سامنے آتے دیکھا ” وہ رو رہی تھی” ۔۔لیکن کیوں ” اُسے بے چینی نے آ گھیرا تھا

کیا اُسے درد ہو رہا تھا یاں کوئی اور وجہ تھی ۔۔۔

افق طبیعت ٹھیک ہے وہ جو آنکھیں موندے آنسو بہا رہی تھی اُسکی آواز سے جھٹکے سے آنکھیں کھولی

وہ اُس کے بلکل قریب کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا ٫،، ایک ہاتھ سے آنسو صاف کیے تھے ۔۔

آپ یہاں اس وقت٫،،” لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی تلخی کی آمیزش تھی جسے آدم بٹ نے محسوس کیا تھا وہ خیران سے اُسکی جانب دیکھنے لگی۔۔

آدم کا اُس طرح اُسکی بات کو اگنور کرنا اسے برا لگا تھا لیکن اُس نے آج تک کون سا اُس کے ساتھ ایسا سلوک کیا تھا

ہاں مجھے تمہیں کچھ دکھانا تھا اُس کے چہرے سے بمشکل نظریں ہٹاتا وہ بولا اور فون اُسکی جانب بڑھایا

افق نے نہ سمجھی سے اُس کی جانب دیکھا ،،ادم نے فون اس کے ہاتھ میں تھمایا

اور پھر جیسے جیسے ویڈیو چل رہی تھی افق کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی

جسے دیکھ آدم بٹ کو اندر تک سکون ملا تھا ۔۔۔۔

تھینک یو ” اُس نے ایک نظر اُسکی جانب دیکھتے کہا تھا

اسے خوشی ہوئی تھی کے آدم بٹ نے اس لڑکے کے کیے کی سزا اُسے دی تھی

یہ میرا فرض تھا لیکن تم نے جو کچھ کیا رامین کے لیے اور جس طرح خود کو اور اسکو محفوظ رکھا مجھے بہت اچھا لگا

میں رامین کو بھی تمہاری طرح دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ وہ بھی خود کی حفاظت کر سکے ۔۔

افق نے خیران ہوتے اُسکی جانب دیکھا تھا گویا یہ وہی آدم بٹ ہے جو اُسے ریجیکٹ کر چکا تھا

ایسے کیا دیکھ رہی ہو ” ۔۔۔ آدم نے اُسکی پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا

اُس نے نفی میں سر ہلایا۔۔

درد تو نہیں ہو رہا ” اُس کے بازو کی جانب دیکھتے اُس نے متفکر ہوتے استفسار کیا۔

یہ درد بہت کم ہے ” اُس درد سے جو دل میں ہے اُس نے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ سجائے ہولے سے کہا

کیا کہا “…

کچھ نہیں کہتی وہ اندر آ گئ تھی

آدم بٹ نے اُسے با غور دیکھا تھا اُسے ایک پل کو خیال آیا کہی افق نے اُسکی اور سونیا بیگم کی باتیں سن تو نہی لی ۔۔

لیکن پھر اپنا خیال جھٹکتے اُسے سونے کا کہتا باہر نکل گیا

دن یوں ہی خاموش بے کیف گزرنے لگے ،، اُسکا زخم بھرنے لگا تھا ۔۔

لیکن اُسکی اُداسی اور خاموشی سب نے نوٹ کی تھی ،،ہانی بیگم کو لگا وہ سب سے اداس ہو گئ ہے شاید اس وجہ سے اتنی خاموش ہے

انہوں نے اس کے تایا کو کال کرکے اسے لے جانے کے لئے بلا لیا ،،افق بھی مسکرا اُٹھی وہاں جانے کے لیے۔

وہ دو دن سے اپنی دادی کے گھر گئ ہوئی تھی

رامین تو چلتے پھرتے اُسے یاد کر رہی تھی لیکن کوئی اور بھی تھا جسکا اس کو دیکھے بغیر دل نہیں لگ رہا تھا

وہ بے چین سا تھا ٫،، اور خود اپنے حال سے انجان تھا

ہمدان نے اُسکی بے چینی اور خاموشی نوٹ کی تھی لیکن وہ ٹال گیا تھا ۔۔

آج اُسے گئے تیسرا دن تھا اور گھر میں بلکل خاموشی چھائی ہوئی تھی جو آدم بٹ کو بری طرح کھل رہی تھی

رامین لاؤنج میں مان کی گود میں سر رکھ کر خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔

مما افی کے بغیر دل نہی لگ رہا دن میں کوئی ستر بار یہ بات اپنی ماں کو کہہ چکی تھی ۔۔

بیٹا کل کو جب اُسکی شادی ہوگی تب کیا کروگی ” تب بھی تو اُسے جانا ہوگا نہ اسلیے عادت ڈالو ،،

انہوں نے اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے نرمی سے کہا تھا لیکن یہ بات لاونج میں داخل ہوتے آدم کو حد درجہ بری لگی تھی ۔۔۔

کیوں عادت ڈالے وہ ” اور کیوں وہ کہی جائے گی ؟؟۔۔

وہ غصے سے دندناتا ان کے سر پر آ کر بولا

ظاہر ہے کل کو اُسکی شادی بھی تو کرنی ہے نہ سونیا بیگم اُسکا انداز دیکھ کر ٹھٹھک کر بولی تھی

ہاں تو ضروری تو نہیں کے وہ کہی جاے ۔۔وہ یہی رہے گی ہم سب کے ساتھ اور آئندہ اس ٹاپک پر میں کوئی بات نہیں سننا چاہتا سلگتے لہجے میں کہتا وہ ہانی بیگم اور سونیا بیگم کو خیران کر گیا ۔۔

ان دونوں نے دبی دبی مسکراہٹ سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ہانی بیگم بھی یہی چاہتی تھی کے انکی بیٹی ہمیشہ ان کی آنکھوں کے سامنے رہے لیکن آدم کو اُس سے چر کھاتا دیکھ وہ خاموش ہو گئی تھی ۔۔

لیکن آج اُسکا انداز انہیں بہت کچھ باور کروا گیا تھا ۔۔

اٹھو رامین ہم ابھی افق کو لینے جائیں گے ” ۔۔

کیا سچ بھای ” رامین خوشی سے اچھلتی بولی

جی بھائی کی جان چلو جلدی سے ریڈی ہو جاؤ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں ۔۔

آدم کے لہجے میں چھپی بے تابی انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی

لیکن آدم ” وہ کچھ بولتی اس سے پہلے وہ بول اٹھا امی میں اپنی بہن کو اُداس نہیں دیکھ سکتا وہ کہتا باہر نکل گیا ۔۔پیچّھے رامین خوشی خوشی تیار ہونے چلی گئی

کیا کروں ان بچوں کا ” ۔۔۔سونیا بیگم سر پر ہاتھ مارتی بولی ۔۔

انکا کچھ نہی ہو سکتا آپ چھوڑیں انہیں ہانی بیگم نے انہیں دیکھتے کہا ۔۔

دوسری جانب افق مزے سے سب کے درمیان بیٹھی لوڈو کھیل رہی تھی ۔۔

اُس کے بڑے بابا فرید بٹ ( ابرہیم کے بڑے بھائی) کے تین بیٹے تھے ۔۔

سب سے بڑا بیٹا آدم کا ہم عمر تھا ،دوسرے نمبر والا افق کی عمر کا تھا اور سب سے چھوٹا بیٹا چودہ سال کا تھا ۔۔

اُسکے ددھیال میں اُسکی دادی ” اور اُس کے تایا کی فیملی قیام پزیر تھے ۔۔

وہ سب اُس سے بہت محبت کرتے تھے ۔۔افق سب کے ساتھ اٹیچ بھی بہت تھی ۔۔کچھ یہاں کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہ تھی ” اُسکی شرارتی طبیعت کی وجہ سے اُسکی دادی اُسے بہت یاد کرتی تھی اور بار بار آنے کا کہتی ۔۔اسکی اوٹ پٹانگ حرکتیں سب کا دل لگائے رکھتی تھی

اُسے لینے بھی اُس کے تایا کا بڑا بیٹا آیا تھا جب آدم کو اس بات کا علم ہوا تو بہت برا لگا لیکن افق ابراہیم کو اُسکی بلکل بھی پرواہ نہ تھی ۔۔۔۔

_________

وہ رات آٹھ بجے گاڑی ان کے گیٹ کے سامنے روکتا رامین کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوا تھا ۔۔

جہاں سامنے ہی وہ بیٹھی کسی بات پر کھلکھلا رہی تھی ۔۔

منظر بہت حسین تھا ” آدم بٹ کے دل کو قرار آیا تھا اُسے دیکھ کر لیکن اُس کے ساتھ بیٹھے کزن کو دیکھ کر جس سے وہ مسکرا کر بات کر رہی تھی پل میں چہرے پر غصّہ در آیا تھا ۔۔

اندر داخل ہوتے اُس نے سب کو اسلام کیا تھا ” رامین بھاگتے ہوئے افق کے قریب گئ تھی ۔۔

ما شاء اللہ ہمارے بچے آئے ہیں آدم کو پیار کرتے دادی نے محبت سے کہا ۔۔

باقی سب بھی اٹھ کر اُس سے ملنے لگے ۔۔

افق خیرت زدہ سی اُسے دیکھ رہی تھی ” تم یہاں ؟…

رامین اُسکی بات کا جواب دیے بغیر زور سے اسے گلے لگاتے بولی

مجھے تم اتنی یاد آ رہی تھی میرا دل نہیں لگ رہا تھا بلکل بھی اسلیے ہم تمہیں لینے آ گئے ۔۔

تمہیں پتہ ہے سب تمہیں بہت یاد کر رہے ہیں میرا تو وقت ہی نہیں گزر رہا تھا رامین منھ بناتے اُس سے الگ ہوتی بولی

اور تم نے مجھے بلکل بھی یاد نہیں کیا ” ۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے میں نے بہت مس کیا تمہیں لیکن میں یہاں بھی رہنا چاہتی ہوں نا ۔۔

افق نے ایک نظر آدم کی جانب دیکھتے کہا تو رامین نے خفا نظروں سے اُسے گھورا ۔۔

آدم نے اُسکی بات سنتے سخت نظروں سے اُسے دیکھا تھا ۔۔

بیٹا ابھی تو آئی ہے کچھ دن اسے یہی رہنے دو ” ہم سب کا بھی دل لگا رہتا ہے دادی رامین کی بات سنتی مسکراتی گویا ہوئی تھی ۔۔۔۔

ہاں بھآئی ابھی تو ہم نے اتنا مزہ کرنا ہے ،،

تم مت جاو افی اُسکے کزن نے کہا ” تو آدم کو مانو جیسے آگ لگ گئی ہو

وہ اپنے اندر اٹھتی جلن کو کنٹرول کرتا خاموش رہا

رامین نے نم آنکھوں سے آدم کو دیکھا تھا ۔۔

دراصل دادی کالج میں ٹیسٹ ہونے والے ہیں ان کی تیاری بھی کرنی ہے پہلے ہی کافی چھٹیاں ہو چکی ہیں اسلیے پھو نے کہا کہ اسے ساتھ لے آئیں ۔۔

آپ فکر نہ کریں پھر آ جائے گی کہتے اس نے افق کو دیکھا تھا ۔۔

جاؤ افق اپنا سامنا لے آؤ “۔۔

افق خاموشی سے اٹھتی کچھ دیر میں سب سے ملتی ان کے ساتھ واپس آ گئ ۔۔

سارے راستے اُس نے رامین اور آدم کو مخاطب نہ کیا تھا رامین بے چینی سے پہلو بدلتی اُسے دیکھ رہی تھی جو خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔

گھر پہنچتے ہی وہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتی اندر چلی گی ۔۔

پیچھے آدم غصے سے پیچ و تاب کھاتا رہ گیا ۔۔بھای مجھے لگتا ہے افی ابھی واپس نہیں آنا چاہتی تھی وہ مجھ سے ناراض ہو گئ ہے بات بھی نہیں کر رہی ۔۔

رامین رونی شکل بناتے بولی ” بھائی کی جان ایسی بات نہیں ہے ۔۔

بات کر لے گی آپ سے ابھی ،، وہ اسے ساتھ لیے اندر داخل ہوا ۔۔

افق لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اپنی ماں اور سونیا بیگم سے ملی تھی ۔۔

مما آپ نے اتنی جلدی کیوں بیجھ دیا انہیں مجھے لینے ” مجھے ابھی رکنا تھا وہان وہ ناگواری سے انہیں دیکھتی سخت بے زار لہجے میں بولی ،،

میں نے تو کسی کو نہیں بیجھا ” رامین کا دل نہیں لگ رہا تھا اور تمہاری ممانی بھی اُداس ہو گئی تھی بس اسی لیے آدم نے کہا کہ وہ تمہیں لے آتا ہے ۔۔

وہ انکی بات سنتی خاموش ہو گئی اب انہیں کیا بتاتی ۔۔

آدم اور رامین بھی آ کر اُن کے قریب بیٹھ گئے ۔۔

مما میں اپنے روم میں جا رہی ہوں مجھے نیند آ رہی ہو تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔

رامین خاموشی سے وہی بیٹھ گئی جبکہ آدم اٹھتا اُس کے پیچھے گیا تھا ۔۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ اپنا سلیو اوپر کر رہی تھی

زخم اُسکا کافی بہتر تھا لیکن مکمل طور پر بھرا نہیں تھا جس وجہ سے وہ اُس بازو کو زیادہ ہلاتی نہ تھی

سس ” اُسکی سلیو زخم پر لگی تھی ۔۔

آدم جھٹکے سے اس کے قریب آیا تھا پاگل لڑکی کیا ضرورت تھی فل سلیو پہننے کی ” اُسکا بازو پکڑتا وہ دیکھنے لگا تھا ۔۔

آپ یہاں کیوں آئے ہیں ” افق نے غصے سے اُسکی جانب دیکھا تھا ۔۔

آدم نے اُسے گھوری سے نوازتے بہت آرام سے اُسکا سلیو اوپر کیا تھا اور اسے فولڈ کر دیا ۔۔

ٹیوب کہا ہے اسکی جانب دیکھتے بولا ۔۔

آپ رہنے دین میں خود کر لونگی اس سے فاصلہ بناتے رامین ہچکچاتے گویا ہوئی “

آدم گہرا سانس خارج کرتا دور ہوا تھا ۔۔جذبات میں اسے اندازہ نا ہو سکا کے وہ اُس کے اتنے قریب کھڑا تھا ۔۔

رامین سے بات کیوں نہیں کر رہی تم اسکی جانب دیکھتے سختی سے استفسار کیا ۔۔

میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ جھوٹ بول

کر مجھے کیوں واپس لائے ،،،؟؟؟

افق نے آئی برو اچکا کر پوچھا ۔۔

کیوں کہ رامین کا دل نہیں لگ رہا تھا ” اُس نے قریب سے ٹیوب اٹھاتے جواب دیا ۔۔

میں آپ لوگو کے دل بہلانے کا سامان نہیں ہوں اور جلد یاں دیر جب چلی جاو گی تب بھی تو رہے گی نہ میرے بغیر تو اچھی بات ہے اب ہی عادت ڈال لے ۔۔

افق نے سرخ آنکھوں سے اس کے ہاتھ سے ٹیوب جھپٹ کے کہا ” آدم نے ایک نظر اُسکی سرخ آنکھوں پر ڈالی تھی ۔۔

کہی نہیں جا رہی تم ہمیشہ یہی رہو گی سمجھی تم ” آدم نے ٹیوب لیتے اُسکے بازو پر لگاتے کہا ۔

وجہ بتانا پسند کریں گے آپ ” وہ انسان جو میری اس گھر میں موجودگی کو سب سے زیادہ نا پسند کرتا ہے آج مجھے یہاں سے کہی جانے نہیں دینا چاہتا ۔۔

ارے آپ تو شکر کریں آپ کے سر سے بوجھ اتر جائے گا

نہ کوئی اپنی فضول حرکتو سے آپکو زچ کرے گا اور نہ آپ لوگو کے سروں پر دوسروں کی اولاد کا بوجھ ڈالے گا

افق نے مسکراتے تلخی سے کہا ۔۔۔

لیکن آدم بٹ کو اُسکی مسکراہٹ کھوکھلی لگی تھی

ایسی بات نہیں ہے افق ،،تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے

میں نے کبھی تمہیں بوجھ نہیں کہا ،،چاہتے ہوے بھی وہ اپنا لہجہ سخت نہیں کر پایا تھا ۔۔

شاید محبت تھی جو اُسے بے بس کر رہی تھی۔۔

غلط فہمی ” ہاں!!! وہ استہزایہ مسکرائی تھی ” اگر میں نے اپنے کانوں سے نہ سنا ہوتا تو شاید میں ایسا کہہ سکتی تھی لیکن آپ اُس دن جو میرے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے وہ میں سن چکی ہوں اس لیے میرے سامنے اب کوئی ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

وہ سب بس میں غصے میں بول گیا تھا ایسی کوئی بات نہیں ۔۔

اُس نے اپنی بات کا اثر زائل کرنا چاہا تھا لیکن مقابل کے دل میں اُسکی کہی باتیں تیر کی مانند لگی تھی ۔۔۔

اور سچ بول گئے تھے آپ ” مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں آپ نے جو کہا بلکل ٹھیک کہا تھا ۔۔

لیکن ہاں ایک بات کے لیے میں آپکو کبھی معاف نہیں کرونگی ” وہ نم لہجے سے بولی تھی ۔۔آدم کو ڈھیروں شرمندگی نے آن گھیرا تھا

میرے بابا کے بارے میں آپ نے بہت غلط بولا ۔۔

میرے بابا نہ بھی آئے لیکن اب میں مزید آپ لوگو کے گھر نہیں رہونگی ۔۔ میں اپنے گھر چلی جاؤں گی جہاں میں کسی پر بوجھ نہیں ۔۔نہ میری ذات کسی کے لیے تنگی کا باعث بنتی ہے ۔۔

آدم جو اُسے بولتا دیکھ خاموشی سے سن رہا تھا اُسکی بات اور اچانک دماغ گھوما تھا ” ۔۔۔

کیا بکواس کر رہی ہو تم ” کہی نہیں جاؤ گی تم ۔۔

بکواس کر رہا ہوں میں کہ غصے میں نہیں پتہ چلا کیا کچھ بول گیا لیکن اُسکا مطلب یہ نہیں کے تم اب سر پر چڑھ جاؤ ۔۔

تم یہاں سے کہی نہیں جاؤ گی یہی ہے تمہارا گھر “

وہ خود پر قابو پاتے بولا تھا ۔۔

کیوں سنو میں آپ کی بات” کس حق سے آپ مجھے روک رہے ہیں ۔۔ وہ بھی طیش میں آتی چیخی ,،،

میں بھی دیکھتی ہوں کون مجھے روکتا ہے میں ضرور جاو گی اور اب ہمیشہ کے لیے جاو گی ،،

افق اُسکی بات کا اثر لیے بغیر سرخ چہرے سے پھٹ پڑی

آدم نے ایک جھٹکے سے اُسے اپنے قریب کرتے سلگتے لہجے میں کہا

افق ابراہیم تمہارے سارے حق مجھے ہی حاصل ہیں اور بہت جلد تمہیں بھی معلوم ہو جائے گا ۔۔لیکن ایک بات یاد رکھنا اس گھر سے اب تمہیں کسی صورت رہائ نہیں ملے گی کہتا وہ بھاری قدم اٹھاتا نکل گیا ۔۔

پیچھے افق اپنے دل پر ہاتھ رکھتی اپنی اٹکی ہوئی سانسوں کو پرسکون کرنے لگی ۔۔جنگلی ،،سانڈ ،،،۔۔۔۔ آدم خور اپنی بازو کو سہلاتی وہ اُسے صلواتیں سناتی لائٹ آف کرنے کے لیے آگے بڑھی ۔۔

تمہاری سوچ ہے آدم بٹ کے اب میں تمہارے ہاتھ آؤ گی

ہنہہ ” دل میں سوچتی وہ آنکھیں موند گئ۔