Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 12)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

وہ آنکھوں میں آتی نمی کو اپنے اندر اتارتی کمرے میں داخل ہوئی تو رامین سامنے کاوچ پر بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔۔

وہ گہرا سانس خارج کرتی اُس کے قریب آئی ۔۔

اپنی ناراضگی سے وہ پہلے ہی اُسے بہت ہلکان کر چکی تھی ،، اس لیے اب سارا غصّہ بلائے طاق رکھتے وہ اُس کے قریب گئ

کیا ہوا میری جانو کو ۔۔

کیوں رو رہی ہے اُسکی سرخ آنکھوں کو دیکھتی وہ محبت سے گویا ہوئی ۔۔

تم چلی جاو گی افی میرا کیا ہوگا “

وہ اپنی نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی معصوم شکل بنا کے بولی کے افق کو بے اختیار اُس پر ڈھیروں پیار آیا ۔۔

میری جان ” میں کونسا دور جا رہی ہوں..قریب ہی تو ہوں اور ویسے بھی ہم کالج میں ساتھ ہوں گے اور میں ہر ویکینڈ یہاں آ جایا کروں گی ۔۔

روز تم سے ویڈیو کال پر بات کیا کرونگی ۔۔

افق اُسے کسی بچے کی طرح بہلاتے سب حل بھی بتانے لگی

لیکن پھر بھی تم تو نہیں ہوگی نا ” وہ پھر بھی منھ لٹکاتے بولی تو افق کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے ۔

میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ” اور میں بہت دور نہیں جا رہی ۔۔۔۔ جب تم مجھے بلاؤ گی میں آ جایا کرو گی اب آنسو صاف کرو ۔

آ جاؤ آج کوئی مووی دیکھتے ہیں اُسکا موڈ اچھا کرنے کی خاطر وہ بولی تھی ۔۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ بولتی اس سے پہلے افق بول اٹھی ” مینو کیا تم نہیں جانتی کے میں نے کتنا عرصہ اس وقت کا انتظار کیا ہے ۔۔۔اپنے بابا کے پیار کے لیے میں کتنا ترپی ہوں ۔۔

میری مما نے عمر کا ایک خوبصورت حصّہ اکیلے گزار دیا

پھر بھی تم مجھے یہاں روکنا چاہتی ہو ” سب جاننے کے باوجود ۔۔افق کی آنکھوں میں شکوہ دیکھ کے وہ اُٹھتی جلدی سے بولی ۔۔نہیں یار وہ تو میں بس ویسے ہی اُداس ہو گئی تھی ۔

تم ضرور جاؤ اپنے بابا کے پاس

لیکن پرومس کرو جب میں کال کروں گی مجھ سے ملنے اؤ گی ۔۔

افق نے خوشی سے آنکھیں میچتے اُسے ساتھ لگایا

اور پھر دونو دیر رات تک مووی دیکھتی رہی اور ڈھیر ساری باتیں کرتی رہی جس میں زیادہ تو افق نے اُسے اُسکے جانے پر قائل ہی کیا تھا ۔

________

آدم صبح اٹھتے ہی سونیا بیگم کے کمرے میں گیا تھا اجازت طلب کرتا وہ ان کے قریب جا بیٹھا تھا ۔۔

امی میں افق سے نکاح کرنا چاہتا ہوں آپ پھو جان سے بات کریں ۔۔

وہ اپنی مطلوبہ بات کرتا ان کے سر پر خیرتوں کا بمب گراتا مزے سے بیٹھا تھا جیسے کوئی ٹوفی مانگ لی ہو۔

سونیا بیگم کو اُسکی فرمائش پے پہلے خیرت اور پھر شدید غصہ آیا۔

تم ہوش میں تو ہو آدم ” تم نے خود اس رشتے سے مجھے انکار کیا تھا اور میں تمہارا انکار تمہاری پھو کو بتا چکی ہوں ۔۔۔

سخت لہجے میں اُسے کہتی وہ اٹھنے لگی ۔۔

میں نہیں جانتا امی مجھے افق چاہیے تو بس چاہئے ،،اگر وہ نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ” جبریں بینچے وہ بھاری سرد آواز میں اپنا فیصلہ سناتے ان کے جواب کا منتظر تھا۔۔

لکین بیٹا تم تو انکار کر چکے تھے اب کیا ہوا ہے جو انکار اقرار میں تبدیل ہو گیا سونیا بیگم بیٹے کی ضد سے تنگ آتی استفسار کرنے لگی

امی پلیز ” ۔۔۔آپ پھو سے بات کریں ۔۔وہ جنجھلاتا ہوا بولا

سوچ لو ایک بار یہ وہی لڑکی ہے کل تک جس میں تمہیں دنیا جہاں کی برائیاں دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔

امی پلیز ” وہ ان کی گود میں سر رکھتا لاڈ سے بولا

سونیا بیگم نے اثبات میں سر ہلاتے جھکتے اس کے ماتھے اور لب رکھے “

میرے بیٹے کو محبت ہو گئ ہے اُس شرارتی سی لڑکی سے سونیا بیگم نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔

محبت کا تو پتہ نہیں لیکن اُسے دیکھے بغیر دل بے چین ہو جاتا ہے وہ انکے ہاتھ تھامتے جذبات سے بولا تھا تو وہ مسکرا دی تھی۔۔۔

____________

افق اور رامین کالج نہیں گئ تھی سارا دن انہوں نے ساتھ گزارا تھا ۔۔ابرہیم بٹ بھی صبح ہی آ گئے تھے ۔۔

دو دن پر لگا کر گزر گئے افق ابراہیم آج جا رہی تھی جانے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یاں پھر واپس آنے کے لیے یہ کوئی نہیں جانتا تھا

وہ سب سے مل کر جب جانے لگی تو رامین بہت روئ تھی کے اُسے خاموش کروانا مشکل ہو گیا ۔۔

آدم بٹ نے اپنی سرخ ہوتی انکھوں سے اُسے دیکھا تھا جو اندر تک سرشار سی اپنے بابا کے سینے سے لگی وہاں سے جا رہی تھی ۔۔

ہانی بیگم بھی سب سے ملتی رو دی تھی اتنے سال کا ساتھ تھا ان کا ،،،،سب کے ساتھ وقت کیسے گزرا تھا پتہ ہی نہ چلا ،،،

دکھ تو تھا لیکن اپنے گھر جانے کی خوشی بھی تھی ۔۔

وہ گاڑی میں بیٹھتی ایک نظر بٹ ہاؤس کو دیکھتی جا چکی تھی ۔۔

آج اُسکی دعائیں قبولیت کا مقام پا چکی تھی وہ ٹیرس پر بیٹھ کر ہمیشہ سوچا کرتی تھی کے ایک دن وہ اپنے بابا کے ہمراہ اس گھر سے چلی جائے گی۔۔

بے شک اس گھر میں اُسے بہت محبت ملی تھی لیکن آدم بٹ کی بے اعتنائی اور ریزرو طبیت اُسے اکثر اُداس کر دیتی تھی ۔۔

اُسے لگتا تھا شاید آدم کو انکا اُسکے گھر رہنا اچھا نہی لگتا تھا ۔۔

اور جب سے اُس نے آدم بٹ کے خیالات اپنے بارے میں جانے تھے اسکا دل اُسکی جانب سے بہت برا ہو گیا تھا

اُس رات وہ کتنا روئی تھی اور خدا سے اُسکے بابا کے جلد لوٹ آنے کی دعا مانگی تھی ۔۔

_______

افق بٹ جا چکی تھی ان کے گھر سے ” اُسکی آنکھوں سے دور ۔۔اُس نے ایک بار بھی پیچھے مر کر اسے نہیں دیکھا تھا کہ پیچھے اُس شخص کی کیا حالت ہوگی جس کے لیے اب وہ بہت خاص ہو چکی تھی ۔۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا جو کچھ وہ اُس کے ساتھ کر چکا تھا وہ کبھی اُسے پلٹ کر نہ دیکھتی ۔

وہ روتی ہوئی رامین کو ساتھ لگاتے اندر لے کر آیا تھا

بھای میں اکیلے کیسے سویا کرونگی مجھے اُس کے بغیر سونے کی عادت نہیں رامین اُس کے ساتھ لگتی سوں سوں کرتی اپنا مسئلہ کشمیر بیان کرنے لگی ۔۔

میری گڑیا میں آپ کے ساتھ والے روم میں شفٹ ہو جاتا ہوں ۔۔اُسے خاموش کرواتے اُس نے ساتھ لگایا تھا ۔۔

کتنی ہی دیر وہ اُسے ساتھ لگاے بیٹھا رہا تھا سونیا بیگم اپنی بیٹی کی حساس طبیت کو لے کر اکثر پریشان ہو جایا کرتی تھی ۔۔

اور اب پھر اُسے یوں روتے دیکھ انہیں ایک نئی فکر ستآنے لگی تھی ۔۔

آدم نے ماں کی نم آنکھیں دیکھی تو مضطرب ہوتا ان کے قریب آیا ۔۔

رامین میری گڑیا آپ سو جاؤ صبح کالج بھی جانا ہے میں اپنا سامنا اوپر شفٹ کروا لونگا ۔۔

وہ نم آنکھوں سے سر ہلاتی آنکھیں موند گئ ۔۔سونیا بیگم کتنی ہی دیر اُس کے قریب بیٹھی اُس کے بال سہلاتی رہی ۔۔

امی کیا ہوا ہے آپ کیوں پریشان ہیں ” ان کے قریب ہوتے ان کی نم انکھوں میں دیکھتے استفسار کیا

میں رامین کی حساس طبیعت سے بہت پریشان ہو آدم ۔۔

کل کو ہم نے اسکو بیاہنا بھی ہے تب کیا کریں گے

افق سے دوری کی وجہ سے اسکا یہ حال ہے تو آگے کیا کرے گی۔

ہر چیز سے اسکا خوف زدہ ہو جانا ” اونچی آوازوں سے ڈر جانا “…

وہ آنسو بہاتی اُس کو دیکھنے لگی جو رو رو کے اب نیند میں جا چکی تھی ۔۔

امی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں ” ہم سب ہیں نہ اُس کے پاس تو پھر اس طرح آپکو پریشان ہونے کی کوئ ضرورت نہیں انہیں حوصلا دیتا وہ ساتھ لگائے باہر آیا تھا

سونیا بیگم دھیرے سے سر ہلاتی اُس کے ساتھ باہر آ گئ۔

_______

افق سب کے درمیان بیٹھی بے حد خوش تھی ۔۔۔

آج اس کی فیملی مکمل تھی ۔۔سب لوگ اکٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے

اُسے رامین کا خیال آیا تھا لیکن وقت دیکھا تو بارہ بج چکے تھے اسلئے اُسے فون کرنا مناسب نہ لگا ۔۔

اُسکا روم وہی تھا جہاں وہ پہلے بھی آ کر رہا کرتی تھی

لیٹتی وہ صبح اُس سے بات کرنے کا ارادہ کرتی سو گئ ۔۔

ابراہیم بٹ جب کمرے میں داخل ہوئے تو ہانی بیگم سامنے بیڈ پر خاموش بیٹھی ہوئی تھی ۔۔

ہانی ” ابراہم نے قریب آتے انہیں پکارا تھا ۔۔وہ سر اٹھاتے نم نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔

میں جانتا ہوں بہت تکلیف پہنچا چکا ہوؤں آپکو ” جس کے لیے معافی جیسا لفظ بہت چھوٹا ہے لیکن پھر بھی میں آپ سے معافی چاہتا ہوں میری وجہ سے آپ اتنی تکلیف میں رہی ۔۔

میں اپنا وعدہ نہ نبھا پایا ” آپکو خوش رکھنے کی بجاۓ آپکی زندگی میں دکھ دے کر چلا گیا

وہ ان کے ہاتھ تھامتے نم لہجے میں گویا ہوئے

انکی بھاری نم آواز سن کر ہانی بیگم کا دل کرلایا تھا

نہیں ابرہیم آپ ایسے مت کہیں بلکہ آپ مجھے معاف کر دیں جو آپکو گنہگار سمجھتی رہی

لوگو کی باتؤں میں آ کر میں بھی یہی سمجھی کے آپ جان بوجھ کر ہمیں چھوڑ کر گئے تھے ۔۔

لیکن جو تکلیف آپ نے سہی ہے وہ میری تکلیف کے آگے کچھ نہی ۔۔

آپ اتنے مشکل وقت سے گزرے وہ کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔

ہانی میری جان ایسے مت روئیں ” کیوں مجھے تکلیف دے رہی ہیں ۔۔

وہ انکے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں گویا ہوے ۔۔

ابراہیم بٹ کی اپنی آنکھیں بھی اس ملن پر نم تھی ،،،میں ہمت کھو چکا تھا ہانی ،،مجھے لگا تھا میں کبھی آپ سے نہیں مل پاؤں گا ،،اپنی گڑیا کو کبھی نہیں دیکھ پائو گا کہتے وہ خود بھی رونے لگے ۔۔

ہانی بیگم ان کے سینے پر سر رکھتی بری طرح کانپتے سر نفی میں ہلانے لگی ۔۔

ہچکیاں لیتی وہ آنسو بہاتی ان کے درد پر ترپ رہی تھی

ہانی ،،، ان کے آنسو اپنے سینے پر محسوس کرتے ابرہیم بٹ نے ت کر انکا چہرہ ہاتھوں میں لیا اور بڑی نرمی سے ان کے آنسو صاف کیے ۔۔

رونا نہیں بس جتنا برداشت کرنا تھا کر لیا اب سارے دکھ درد ختم ہو چکے ہیں ۔۔

ویسے ایک بات کہو انکا دھیان بٹھکانے کی خاطر وہ آنکھوں میں چمک لیے گویا ہوئے ۔

تو ام ہانی نے روتے روتے اثبات میں سر اثبات میں ہلایا ۔۔

وقت گزرنے کے ساتھ آپ اور بھی حسین ہو گئی ہیں ” جیسے وقت نے چھوا ہی نہ ہو آپکو وہ ان کے ماتھے پر محبت سے لب رکھتے گویا ہوے تو ہانی بیگم ان کے نظروں سے خائف ہوتی سٹپٹا گئ ۔۔

آپ بلکل نہیں بدلے ابھی بھی ویسے ہی بے شرم ہیں جیسے پہلے تھے وہ انہیں گھورتی ہوئی گویا ہوئیں

اور آپ کی بیٹی بھی بلکل آپ پر ہے بے باک ۔

ظاہر ہے میری بیٹی ہے تو مجھ پر ہی جائے گی نہ ان کے سرخ چہرے کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے وہ قہقہ لگاتے بولے ۔۔

ابراہیم آپ نہیں جانتے بہت مشکل وقت تھا وہ ” افق مجھ سے بار بار آپکا پوچھتی تھی اور میں ،،،

وہ نم لہجے سے کہتی خاموش ہو گئی

ابراہیم بٹ نے انہیں اپنے حصار میں لیا تھا بھول جائیں ساری پرانی باتیں جو وقت گزر گیا اُسے یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں ایک بار پھر سے ملایا ہے ۔۔

ہانی بیگم نے ان کے سینے پر سر رکھتے آنکھیں موند لی ۔

بے شک وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی جس نے پھر سے ان کی زندگی روشن کر دی تھی

__________

صبح وہ ریان کے ساتھ کالج گئ تھی ،،جس وقت آدم کی گاڑی پارکنگ میں رکی تھی عین اسی وقت افق بھی رایان کے ساتھ گاڑی سے اتری تھی ۔۔

اُسے رایان کے ساتھ مسکراتا دیکھ آدم بٹ کی آنکھوں میں شعلے بھڑکے تھے ۔۔

وہ غصے کی زیادتی سے اپنی پل میں سرخ ہوتی آنکھوں پر گلاسز لگاتا باہر نکلا تھا

رامین گاڑی سے باہر آتی افق کو دیکھ کر تیزی سے اُسکی جانب لپکی تھی ۔۔افق نے بھی مسکراتے اُسے سینے سے لگایا تھا ۔۔

کیسی ہے میری جانو ” اُس کے گال کھینچتے اُس نے محبت سے پوچھا ۔۔

ٹھیک ہوں ۔۔رامین منھ لٹکاتے ہوے بولی ۔۔

اُسے معصوم شکلیں بناتا دیکھ افق کی ہنسی چھوٹی

پیچھے آتے آدم نے اُسکے مسکراتے ہوئے چہرے پر ایک نظر ڈالی تھی اور اپنے اندر سکون محسوس کیا تھا لیکن اُس کے پیچھے رایان کو دیکھتے اُسکے چہرے کے تاثرات پل میں اسپاٹ ہوے تھے ۔۔۔

رایان نے آگے بھر کے اُس سے مصاخفہ کیا تھا آدم نے ایک تیز نظر افق پر ڈالی اور اسپاٹ لہجے میں بولا

جاؤ تم دونوں کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔۔

افق کس وقت لینے آؤں رایان نے اُسے جاتا دیکھ پوچھا تھا ۔۔

وہ کچھ بولتی اُس سے پہلے ہی آدم بول اُٹھا

کوئی ضرورت نہیں آج ہم پھو سے ملنے آئیں گے اسے بھی ساتھ ہی لے آئیں گے ۔۔

رایان سر ہلاتا چلا گیا جبکہ آدم وہی کھڑا افق کو دیکھ رہا تھا جو آنکھیں پھیلاے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔..

جاؤ اب کے یہاں کھڑی مجھے ہی گھورتی رہو گی آدم نے سلگ کر کہا تو وہ ہربرا کر فوراً رامین کے ساتھ چلی گئی ۔۔

__________

واپسی پر وہ آدم کے ساتھ گئ تھی ” آدم کو دیکھتے ہی ہانی بیگم نے آگے بڑھتے اُسکا چہرہ چوم لیا

میرا بیٹا آیا ہے وہ مسکراتا سب کو اسلام کرتا بیٹھ گیا ۔۔

افق رامین کو اپنا روم دیکھانے کے لیے لے گئ جبکہ آدم نے ہانی بیگم کے قریب بیٹھے اُنکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔

پھو اگر میں آپ سے کچھ مانگو گا تو دیں گی آدم نے آنکھوں میں اُمید لیے ہانی بیگم کو دیکھا تھا

میری جان ” میرا بیٹا آپ کو پوچھنے کی کب سے ضرورت پیش آ گئ

آپ بولو میرے بس میں ہوا تو میں اپنے بچے کو ضرور دونگی۔۔

مجھے افق چاہیے ” نکاح کرنا چاہتا ہوں اُس سے ۔۔

ہانی بیگم جانتی تو تھی اس بارے میں لیکن یوں اُسکے منھ سے اقرار سن کر وہ خیران رہ گئی۔

اس کی آنکھوں میں موجود جنونیت دیکھ کر وہ دھنگ رہ گئی تھی

پھو دیں گی نہ مجھے جو چاہیے ہے وہ ہانی بیگم کے ہاتھ تھامے بے چینی سے استفسار کر رہا تھا

وہ تو خود بھی یہی چاہتی تھی ” میرا شہزادہ ایسا ہو سکتا ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے کچھ مانگے اور نہ دوں ۔

پھر افق میری ہے نہ پھو ” وہ چھوٹے بچے کی طرح اُن کے سامنے بیٹھا اُسے مانگ رہا تھا جیسے کوئی کھلونا مانگ رہا ہو

بتائیں نہ پھو انہیں خاموش دیکھتا وہ پھر سے بولا

جی میرا بیٹا۔۔۔میرے شہزادے نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا ہے میں کیوں نہیں دونگی ۔۔

وہ اُس کے بال سہلاتی محبت سے گویا ہوئی ۔۔

پھر ٹھیک ہے پھو مجھے نکاح کرنا ہے افق سے” وہ اٹل لہجے میں بولا ۔۔

لیکن بیٹا اتنی جلدی کیسے ابھی تو میں نے اس سے بات کرنی ہے اور وہ پڑھ بھی تو رہی ہے وہ پریشانی سے گویا ہوئی

پھو ابھی بس نکاح کر دیں شادی جب آپ کہیں گی تب ہو جائے گی لیکن نکاح ابھی کرنا چاہتا ہون میں ۔۔

ہانی بیگم کو متفکر دیکھ کر وہ اُنکی آنکھوں میں دیکھتا بولا ۔۔کیا بات پریشان کر رہی ہے پھو آپکو ۔۔۔

بیٹا ابھی میں نے افق سے بات نہیں کی اس بارے میں جانے پتہ چلنے پر کیسا ري ایکٹ کرے اور کچھ تم جانتے تو ہو افق کو ” ابھی نادان ہے ،،غلطیاں کر جاتی ہے اور اتنی سمجھ بھی نہیں ۔۔

وہ افق کا رد عمل سوچتی کچھ پریشان سی تھی ۔۔

پھو آپ پریشان نا ہوں میں خود اُسے سمجھا لوں گا اور میں جانتا ہوں وہ کیسی ہے ۔۔۔وہ جیسی بھی ہے مجھے قبول ہے آپ پریشان نا ہوں ۔۔

اٹھ کر اُن کے ماتھے پر لب رکھتا انہیں پرسکون کر گیا ۔

افق جو رامین کے ساتھ نیچے آ رہی تھی اُس کو مسکراتا دیکھ اُسے جھٹکا ہی تو لگا تھا ۔۔

آدم بٹ اور مسکرا رہا تھا یہ کیسے ممکن تھا ۔۔چلو رامین بہت وقت ہو گیا ہے امی انتظار کر رہی ہوں گی وہ ہانی بیگم سے پیار لیتا باہر نکل گیا ۔

افق ہانی بیگم کے قریب آتی بولی ” مما آدم خور کو کیا ہوا ہے جو یوں مسکرا رہا تھا ۔۔

اہنہہہہ” ایسے نہیں کہتے وہ اُسے ٹوکتے اندر چلی گئی ابراہیم بٹ فرید بٹ کے ساتھ فیکٹری کا چکر لگانے گئے تھے۔۔

ہانی بیگم ان کی فیورٹ ڈیش بنانے کی خاطر کیچن میں چلی گئی ۔