Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes Readelle 50367 Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 13)
Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes
آدم بٹ آج بہت خوش تھا اُس نے جو چاہا تھا وہ پا لیا تھا گھر آتے ہی وہ سونیا بیگم کے پاس گیا تھا اور انہیں یہ خوشی کی خبر سنای تھی ۔۔۔
سونیا بیگم ہانی بیگم کے جانے کے بعد آج خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی ،،دل کو بہلانے کی خاطر وہ کچن میں چلی گئی ،، اور کچھ خاص بنانے لگی بچوں کے لیے ۔
امی ،،امی جلدی آئیں آدم گاڑی سے اترتا اندرونی گیٹ عبور کرتے ہی انہیں آوازیں دینے لگا ۔۔
یا اللہ،،، خیر ” وہ دل پے ہاتھ رکھتے عجلت میں سب کام چھورتیں لاؤنج میں داخل ہوئی ” کیا بات ہے آدم “..
امی ،،،ی “………
میں آج بہت خوش ہوں ” ان کے گرد اپنے توانا بازوں خایل کرتا وہ چمکتی آنکھوں سے بولا ۔
اچھا جی ایسی کیا بات ہے جس کی خوشی میرے بیٹے کی آنکھوں سے واضح ہو رہی ہے۔۔۔
مما کین یو بیلیو اٹ” ۔۔۔۔۔ بھای مجھے بھی نہیں بتا رہے کچھ “٫
سارے راستے میں ان سے پوچھتی آئ ہوں ،
بھای نے مجھے بھی نہیں بتایا کہتے سرپرائز ہے ۔۔رامین نے منھ بصورتِ کہا ۔۔آدم نے لب دباتے اُس کے گال کھینچے “
بتا رہا ہوں نہ ” میری جان “
میں نے پھو سے افق کو مانگ لیا ہے ” اور انہیں کوئی اعتراض نہی ” ۔۔۔
وہ مسکراتا ان دونوں کو خیران کر گیا ۔۔
کیا بھای سچ میں ” مطلب آپ ،،افق “
اوہ بھای یو آر دا بیسٹ ” ۔۔۔ برادر۔
رامین خوشی سے اچھلتے چیخ اٹھی اور آدم کے گلے میں بازو خایل کیے “.
میں افق سے بات کرکے آتی ہوں مجھے کیوں نہیں بتایا اُس نے کچھ ” رامین کہتی اندر بھاگنے لگی ” لیکن آدم نے روک دیا ۔
ابھی نہ کرو گڑیا” ابھی تو اُسے بھی تھوڑا شاک لگے گا ۔
پھو نے ابھی تک اُس سے اس بارے میں بات نہیں کی ،،
ٹھیک کہہ رہا ہے آدم ،، افق تھوڑی جذباتی ہے جانے کیسا ریکٹ کرے گی جان کے ” ذرا وقت دو اُسے ۔
پھر آرم سے بات کرنا ۔
اوک مما ” وہ کہتی کمرے میں بھاگ گئی
ہانی بیگم کچھ مضطرب سی تھی،، وہ جانتی تھی افق نہیں مانے گی ” صرف انکا بیٹا ہی نہیں وہ بھی آدم سے دور بھاگتی ہے تو اس سے شادی کرنا تو بہت دور کی بات تھی لیکن ،،
وہ اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش تھی اُسے صدا خوش رہنے کی دعا دی اُس کے ماتھے پر لب رکھے اور ن دونو کی خوشیوں کی دائمی دعا دل میں مانگی اور ہانی بیگم کو کال کرنے لگی۔
تاکہ جان سکے کے وہاں کیا صورت حال ہے ۔
رات کھانے کی ٹیبل پر سونیا بیگم نے شجاع صاحب کو ساری بات بتائی وہ جان کر بے حد خوش ہوئے ۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے
اس طرح ہم دونو بہن بھائی کا رشتہ اور بھی مضبوط ہو جائے گا ۔۔
سونیا بیگم یہ سن کے سر ہلاتی مسکرا دی
اگلے دن وہ لوگ ابراہیم بٹ کے گھر موجود تھے ۔۔
ہانی بیگم نے ابرہیم بٹ سے پہلے ہی ساری بات کر لی تھی انہیں اس رشتے سے کوئی اعتراض نا تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ افق کی مرضی جان لی جائے
ویسے بھی آدم گھر کا بچہ تھا کسی کو کیوں اعتراض ہوتا ۔۔
افق جو اپنے کمرے میں لیٹی سامنے دیوار گیر ایل ای ڈی پر کوئی انڈین ڈراما دیکھ رہی تھی ،، ٹھا ،،، کی آواز سے دروازہ کھلنے پر پریشان ہوتی اٹھ بیٹھی ۔۔
سامنے سے رامین نے آتے چیختے اُسے زور سے ہگ کر لیا ” افق تو اُسے اتنا خوش اور اس وقت وہاں دیکھ کر خیران رہ گئی
تم یہاں کیا کر رہی ہو ” ۔۔۔صرف میں ہی نہیں مما بابا اور بھای سب آئے ہیں ۔۔
پیاری بابھی صاحبہ ٫،، وہ مسکراتی ہوئی معنی خیزی سے گویا ہوئی تو افق نے پریشانی سے اُسکی جانب دیکھا ۔۔
کیا کہہ رہی ہو رامین مجھے کچھ سمجھ نہیں آ ی کون بھابھی ،،، کہاں ہے بھابھی ،،، کہی آدم بھای کی بات پکی تو نہیں ہو گئ ۔۔
وہ اُسکی باتوں سے بیک وقت زچ پریشان ہوتی بولی ۔
اوہو یہ کے نیچے سب بڑے بیٹھے ہیں ،،، آدم بھای اور تمہارے نکاح کی بات چل رہی ہے سب بڑوں کے درمیان ۔۔رامین ماتھے پر ہاتھ مارتی بولی ۔۔
افق جسے ایسی کسی بات کی توقع نہیں تھی
وہ ششدر ہوئی تھی اور پھر پل میں چہرے کے تاثرات بدلے تھے ۔۔
ہانی بیگم کو اندر آتا دیکھ وہ سرخ آنکھوں سے دیکھتی بتمیزی سے چیخی تھی ۔۔
رامین کیا کہہ رہی ہے مما ” ۔۔
بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے ” وہ نظریں چراتی گویا ہوئی ہم نے تمہارا اور آدم کا رشتہ تہہ کر دیا ہے ۔۔
کس سے پوچھ کر کیا ہے آپ نے ایسا ” افق اشتعال میں آتی بغیر کسی لحاظ کے چیخی ،،میں اُس شخص سے کبھی شادی نہی کرونگی ۔۔ سن لیں آپ یہ “
اور یہ میری زندگی ہے ” اس لیے فیصلہ کرنے کا حق بھی مجھے خاصل ہے ۔
وہ انکی بات سنتی غصے سے بپھری شیرنی لگ رہی تھی اس وقت ۔۔
اُسے اپنی ماں پر حیرت ہو رہی تھی وہ کیسے اُس سے پوچھے بغیر اُسکی زندگی کا اتنا برا فیصلہ کر سکتی ہیں ۔۔
رامین اُس کے چیخنے اور غصے سے خوف زدہ ہوتی اچھل پڑی ” افق تمیز مت بھولو ۔۔
ہانی بیگم سخت تاثرات سے اُسے گھورتے رامین سے مخاطب ہوئی ۔
رامین بیٹا آپ نیچے جاؤ میں ابھی آتی ہوں
رامین جو اُس کے اس انداز سے گھبرا گئی تھی ہانی بیگم کی بات سنتے سر ہلاتی باہر نکل گئی
آواز نیچے رکھو اپنی افق !! تم سے بات کرنے والی تھی میں لیکن اچانک بھای آ گئے ۔۔
اور کیا خرابی ہے آدم میں جو تم اُس رشتے سے انکار کر رہی ہو ؟؟… وہ تیوری چڑھائے اسکو سرد نگاہوں سے دیکھتی استفسار کرنے لگی
کیا خرابی نہیں ہے اُس رشتے میں ؟….
آپ یہ پوچھیں !
میں اپنے ناپسندیدہ شخص کو کیسے اپنی زندگی میں شامل کر سکتی ہوں ۔۔جسے میں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی
اور ویسے بھی میں ابھی ان چکروں میں نہیں پرنا چاہتی وہ تنگ آتی کہتی بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔
تو بیٹا ہم کون سا ابھی تمہاری شادی کر رہے ہیں بس رشتہِ پکا کر رہے ہیں ” شادی جب تم کہو گی تب ہو گی۔
انہوں نے اُس کے قریب بیٹھتے پیار سے سمجھانا چاہا
مما آپ کیوں نہیں سمجھ رہی میں اُس آدم خور سے نہیں کرنا چاہتی شادی ” ۔۔
وہ بے بس سی نم آنکھوں سے انہیں دیکھتی بولی ۔۔
افق یہاں دیکھو میری طرف مجھے بتاؤ کیا وجہ ہے جو تم آدم سے دور بھاگ رہی ہو ۔۔
میری جان ہم شادی نہیں کر رہے بس آپکی بات پکی کر رہے ہیں ۔۔
مما جس شخص نے مجھے ریجیکٹ کیا ” ہمیشہ میری ذات کی نفی کی ،،مجھے اس شخص سے کوئی رشتہ نہی رکھنا ۔۔
آپ جہاں چاہے میری شادی کر دیں لیکن آدم نہیں ،میں اُس سے کبھی بھی کوئی بھی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی
وہ کہتے اپنی آنکھوں کی نمی اپنے اندر اتارنے لگی
میرے بھائی نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا ہے افق ” میں کیسے انہیں خالی ہاتھ لوٹا دوں ۔۔
سب بہت خوش ہیں اس رشتے سے ،،میں انکو انکار کی کیا وجہ بتاؤ۔۔
کیا یہ وجہ کم ہے کے آپکی بیٹی اُس شخص کو پسند نہیں کرتی ۔
ہانی بیگم نے بے بسی سے اُسے دیکھا” ابھی وہ مزید کچھ کہتی کے آدم بھاری قدم اٹھاتا دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا اور ان کے قریب آتے ہی گویا ہوا
پھو آپ باہر جائیں مجھے افق سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے ۔
ہانی بیگم ایک نظر افق کے خاموش چہرے پر ڈالتی باہر نکل گئی ۔۔
رامین نے نیچے جاتے آدم کو افق کے انکار کرنے کا بتایا تھا اور اب ہانی بیگم کو اُسے سمجھآتے آدھا گھنٹہ ہونے والا تھا لیکن وہ اپنی ضد پر اٹکی ہوئی تھی ..
نیچے سب لوگ آپس میں باتؤں میں مشغول تھے ابراہیم بٹ ، فرید بٹ اور شجاع صاحب ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔
فرید صاحب کی بیوی ( آمنہ ) سونیا بیگم کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔
ہانی بیگم ملازمہ سے ریفریشمنٹ لگواتے افق کے پاس آئی تھی لیکن آگے اُس کے انکار نے انہیں دہلا کے رکھ دیا تھا ۔۔
وہ کیسے اپنے بھای کو انکار کرتی جو اتنے مان سے انکے گھر آیا تھا ۔۔۔
کیوں نہیں کرنا چاہتی تم مجھ سے نکاح آدم نے قریب آتے سلگتے لہجے میں پوچھا تھا ۔۔
لیکن افق نے بغیر خوف کے اسکی آنکھوں میں دیکھتے جواب دیا تھا
کیا آپ نہیں جانتے ” ۔۔
ڈیم اٹ!!! پہلے بھی بتا چکا ہوں تمہیں بار بار صفائیاں پیش نہیں کر سکتا ۔۔
آدم نے اُسکا بازو کھینچتے اپنے مقابل کرتے سخت لہجے میں کہا ۔۔ جو مرضی کہیں آپ ،، ہاں اور میں نے آپ سے کوئی صفائیاں نہیں مانگی
بس میں آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتی ۔۔۔
آفق ابرہیم اب تعلق تو تمہارے سارے مجھ سے ہی ہیں اور ہاں سوچ لو تمہارا ایک انکار دو خاندانوں کو دور کر سکتا ہے ۔۔
رشتے سے انکار مطلب اپنی مما کو ان کے بھائی سے جدا کرنا ۔۔
اب ظاہر ہے کے اگر رشتے سے انکار ہوگا تو بابا کو برا لگے گا اور دو بہن بھائی کے بیچ درار پیدا ہوگی جس کا سبب تمہارا انکار ہوگا ۔۔
دو خاندان ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گے
افق اُسے فق چہرے کے ساتھ دیکھ رہی تھی وہ کیسے اپنی ماں کو تکلیف دے سکتی تھی ابھی تو انکی زندگی میں خوشیوں نے دستک دی تھی۔۔
اور تم جانتی ہو کے پھو کو بابا سے کتنی محبت ہے ۔۔
اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کے میں آپ کی ان فضول باتوں سے مان جاؤ گی تو غلط فہمی ہے آپ کی مسٹر ،،
میں خود ابھی مامو سے بات کروں گی ،،مجھے یقین ہے وہ میری بات ضرور مانیں گے ۔۔
اور ویسے بھی کیا وہ نہیں جانتے آپ کیسے ہیں ۔۔
افق بھی بغیر خوف کھائے دوبدو جواب دیتی اُسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی
تمہاری سوچ ہے پھر افق بٹ “
یہ رشتہ بابا ہی چاہتے تھے ” اور تمہیں کیا لگتا ہے جب تم بڑھے خاندان میں انہیں انکار کرو گی تو کیا وہ دوبارہ یہاں آئین گے ،،جس جگہ ان کے بیٹے کو انکار کیا گیا ہو
اور ہاں آخری بار بتا رہا ہوں ۔۔
میں نہیں جانتا کہ کیسے لیکن مجھے تم سے محبت ہے ،،میری سانسوں کی وجہ بن چکی ہو تم ،، نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر ۔۔۔۔
تم سے دوری مجھے کسی طور قبول نہیں ،جہاں تم نہیں ہوتی وہاں ہوا میں آکسیجن کی کمی لگتی ہے۔۔
تم سمجھو یاں نہ نہیں ” لیکن اب میں تم سے دور نہیں رہ پاؤں گا
بس اتنا کہنا چاہتا ہوں اپنے الفاظ پر نادم ہے یہ آدم خور ۔۔۔
باقی اب سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اسلیے فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا کہتا وہ باہر نکل گیا تھا ۔۔
جانتا تھا کے وہ اپنی ماں کی وجہ سے کبھی انکار نہیں کرے گی،،لیکن دل پریشان بھی تھا اگر اُس نے انکار کر دیا تو وہ ہمیشہ کے لیے اُسے کھو دے گا
وہ نیچے آتا سب کے درمیان آرام سے بیٹھ گیا تھا اب بس اُس کے فیصلے کا انتظار تھا ۔۔۔
ہانی بیگم جب اُس کے کمرے میں آئی تو اُس نے اپنی نم آنکھیں جھپکتے پھٹتے ہوے دماغ اور دیکھتے دل سے انہیں کہا تھا
مجھے اس رشتے سے کوئی مسلئہ نہیں آپ لوگ جیسا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں ۔۔ اور پھر وہ خاموش ہو گئ
کچھ ٹوٹا تھا بہت زور سے ،،شاید وہ اُسکی انا تھی ،،میں تھی ۔۔ یاں دل ،،
ہانی بیگم نے اُسکا جواب سنتے اُسے محبت سے چوم لیا ۔
کچھ ہی دیر میں ہانی بیگم اسے ساتھ لیے نیچے آئی تھی
وہ پنک سادہ سے سوٹ میں سرخ پرتے چہرے سے کسی بھی ارادش زیبائش سے پاک سب سے ملتی ابراہیم صاحب کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔
اُسکا سرخ چہرہ اور نم پلکیں رونے کا پتہ دے رہی تھی
گھی اگر سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑھتی ہے افق ابراہیم وہ سوچتا دل میں مسکرایا تھا ۔،،لیکن حقیقت یہ تھی وہ خود بھی مضطرب سا تھا
وہ اپنی نم آنکھوں کو جھپکتے بار بار اپنے آنسو کو روک رہی تھی ۔۔
اُسکی سرخ آنکھیں آدم بٹ سے چھپی نہ تھی اسے تکلیف میں دیکھ کر اُسکا اپنا دل بے چین ہوا تھا
وہ اُسے تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا لیکن اگر وہ ایسا نہ کرتا تو افق کبھی اُس سے نکاح کے لیے تیار نہ ہوتی
وہ اپنے باپ کے ساتھ بیٹھی ان کے سینے سے لگی ہوئی تھی ۔۔۔ ابراہیم بٹ اُسے اپنے بازو میں سموے ہوئے تھے جیسے سب دکھوں سے اُسے بچانا چاہ رہے ہوں
ہانی بیگم ابراہیم بٹ کو اُسکا جواب بتا چکی تھی اسی لیے وہ بھی پرسکون تھے ..
میری جان میرے پاس آو اُسے ابراہیم بٹ کے ساتھ خاموش چپکے دیکھ سونیا بیگم نے پیار سے اپنے قریب بلایا تھا وہ اٹھتی ان کے ساتھ جا بیٹھی تھی ۔
ہانی میں آپکو کہتی تھی نہ افق میری بیٹی ہے اور آج میں اپنی افق کو سہی معنی میں اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں۔
اُسے آدم کے پہلو میں بیٹھایا گیا تھا لکین اُسے ہوش ہی کہا تھا
آدم نے اُس کو رنگ پہنائ تھی ” سونیا بیگم نے اُسکا ماتھا چوما تھا آج سے افق میری بیٹی ہے،، سرشار سی وہ ہانی بیگم کو دیکھتی مسکرائی ،
ہانی بیگم نے افق کی جانب دیکھا تھا جو بلکل خاموش بت بنی بیٹھی تھی اس سے پہلے کے وہ یہاں سب کے سامنے پھٹتی وہ رامین کو دیکھتی گویا ہوئی
رامین بیٹا افق کو اُس کے روم میں لے جاؤ
رامین افق کے قریب آتے اُسے اُس کے روم میں لے گئ تھی ۔۔
کمرے میں آتے ہی رامین نے اُس کے اسپاٹ چہرے کو دیکھا تھا جو حد سے زیادہ سرخ ہو رہا تھا ۔
افی کیا ہوا ہے تمہیں پلیز مجھے بتاؤ وہ افق کے قریب آتے روہانسی ہوتی بولی ۔
مجھے اس وقت اکیلے رہنا ہے پلیز تم مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دو ،، کہتے افق نے اُس کی جانب سے منھ مور لیا تھا۔
اسکا دل اس وقت رونے کو چاہ رہا تھا آج اُسے اس شخص کے نام کی انگوٹھی پہنای گئ تھی جو اُسکی ذات کو بری طرح توڑ چکا تھا ۔۔
اُسکا دل درد سے پھٹ رہا تھا۔۔
رامین اُسکا سرد رویہ دیکھ کر اپنے آنسو روکتی کمرے سے نکل گئی ۔۔
پیچھے وہ کتنی ہی دیر بیٹھی روتی رہی تھی اور روتے روتے جانے کس وقت اُسکی آنکھ لگی اُسے معلوم نہ ہو سکا ۔
اُسکی خاموشی آدم نے محسوس کی تھی اور اُسکی نم آنکھیں بار بار آنکھوں کے سامنے آ کر اُسے بے چین کر رہی تھی ۔۔
دل چاہ رہا تھا اُس کے قریب جائے اور اسے بتا دے کے وہ آدم بٹ کے جینے کی وجہ بن چکی تھی ،،محبت کرتا ہے آدم بٹ اُس سے،،،اُسکی روح میں بسنے لگی ہے وہ ،،پھر کیوں اُسے یقین نہیں ،،
کیسے یقین دلائے اُسے وہ ،
لیکن اس وقت سب کے درمیان بیٹھے وہ مجبور تھا ۔
گھر آتے آدم نے رامین کی خاموشی نوٹ کی تھی اور اُسکا بجھا بجھا سا چہرہ دیکھتے آدم نے نرمی سے استفسار کیا ۔۔
میرا بیٹا کیا بات ہے ،،اتنی اُداس کیوں ہیں ۔
میری گڑیا کیا ہوا ہے اس طرح سے نہیں روتے بتاؤ مجھے “
بھای افی ناراض ہے مجھ سے ،،بات بھی نہیں کر رہی تھی اور مجھے کمرے سے جانے کا بھی کہا “
وہ روتی ہوئی بولی ۔۔
میری گڑیا اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔۔وہ پریشان ہو گی اس وجہ سے آپ کو جانے کا کہا ہوگا ۔۔ آپ کو پہلے بھی بتایا تھا میں نے کے ابھی کچھ وقت لگے گا اُسے ،،آپ جانتی ہو نہ وہ مجھ سے کتنا خائف ہوتی ہے۔
صبح دیکھنا ٹھیک ہو جائے گی اُس کو پیار سے سمجھاتا وہ بولا۔۔۔
چلو اب سو جاو بہت وقت ہو گیا ہے۔
