Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 1)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

افق اٹھ جاؤ بیٹا نیچے سب تمہارا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں ” ام ہانی افق کی والدہ اُسکا کمرہ ٹھیک کرتے ہوئے اُسے پچلے پندرہ منٹ سے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن وہ ڈیٹھ بنی سو رہی تھی۔۔

افق اب اگر تم نہ اٹھی تو آدم کو تمہارے روم میں بیجھ دونگی وہ اُسکے کان پر جوں رینگتی نہ دیکھ غصے کے عالم میں سرخ پڑتے چہرے سے بولی۔۔ ان کی سخت آواز سنتی چاروں ناچار اُسے اٹھنا پڑا ۔

اور اُنکی دھمکی کار آمد ثبوت ہوئی تھی کیوں کہ افق ابراہیم کو صرف آدم بٹ ہی کنٹرول کر سکتا تھا

اوہو مما کیوں تنگ کر رہی ہیں ” اتنی جلدی کیوں اٹھا رہی ہیں ۔۔۔ اور کیا آپکو وہی آدم خور ملتے ہیں دھمکیاں دینے کے لیے

وہ منھ بناتی خود سے کمفرٹر ہٹاتی اپنے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کرتی بولی ” امہممم ” بڑا ہے تم سے تمیز سے بات کیا کرو

آٹھ بج چکے ہیں “.. یہ جلدی ہے تمہارے لیے ” ام ہانی اُسے گھورتی ہوئی بولی

اوہّھ مما ” آٹھ بج گئے اور آپ نے مجھے اب اٹھایا ہے آج میرا کوئز بھی ہے اور اگر میں لیٹ ہو گئی تو وہ آدم خور مجھے یہی چھوڑ جائے گا

بری بات افق ” ۔۔۔تم اتنا لیٹ کروگی تو ایسا ہی ہوگا نا “

میں اتنی جلدی کیسے ریڈی ہونگی ” آدھے گھنٹے میں تو بس میرے بال سلجھتے ہیں ” وہ واشروم میں جاتی روہانسی ہوتے بولی

کچھ نہیں ہوتا تم چینج کرکے آؤ میں بنا دیتی ہوں تمہارے بال”…

اسے اپنے بالوں کو پکڑے دیکھ وہ نرمی سے گویا ہوئی اور اُسکا روم ٹھیک کرنے لگی

پانچ منٹ میں وہ چینج کیے باہر آی اور تیزی سے ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے بالوں کو سلجھانے لگی “

کیا کر رہی ہو پاگل لڑکی بال ٹوٹ جائیں گے ایسے ” ہانی بیگم نے اُسے ٹوکتے اُس سے برش پکڑا اور اُس کے بالوں میں پھیرنے لگی “

نہیں مما ابھی بلکل ٹائم نہیں ہے آ کر بنواؤ گی آپ سے بال ابھی خجاب کر لیتی ہوں عجلت میں کہتی وہ حجاب کرنے لگی۔۔

کچھ لگا تو لو منھ پر اُنہوں نے موسچرایزر اُس کے سامنے کیا ” وہ جلدی سے لگاتی بیگ کندھے پر ڈالتی نیچے کی جانب بھاگی۔ افف یہ لڑکی جانے کب اس میں عقل آئے گی وہ نفی میں سر ہلاتے اُسکا بکھرا روم سمیٹنے لگی ۔

سب کو سلام کرتی وہ رامین کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی ،،بریڈ کے سلائس پر جیم لگا کر اُس نے ایک بائٹ لی اور رامین کی جانب جھکتے دانت پیستی بولی تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں “..

میں نے بہت اٹھایا لیکن تم گھوڑے” گدھے بیچ کر سو رہی تھی اب جلدی سے فینیش کرو ورنہ بھائی ہمیں یہی چھوڑ جائیں گے اُس نے سامنے بیٹھے آدم کی جانب اشارہ کیا ” جو پلیٹ دور کرتا جانے کے لیے تیار تھا

افق نے کن اکھیوں سے اُسے دیکھا اور جلدی سے جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگایا

اُسے اٹھتا دیکھ رامین بھی جلدی سے بیگ لیتی اُسکے پیچھے بھاگی” جبکہ افق ابراہیم اپنی ماں کو ملتی اُنھیں ٹیسٹ کے لیے دعا کرنے کا کہتی اُس کے پیچھے گئ

وہ باہر آئی تو پیچھے رامین بیٹھ چکی تھی اور اُسے کھسیانی ہنسی سے دیکھ رہی تھی

افق نے دل میں اُسے کوستے خود پر آیت لکرسی پڑھ کر پھونکی اور فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی۔۔

صد شکر کے سارا راستہ خاموشی سے گزرا ” گاڑی جوں ہی پارکنگ لاٹ میں رکی ،،اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی آدم بٹ کی بھاری آواز گاڑی میں گونجی ” ۔۔تم دونوں کا آج اسٹیٹ کا ٹیسٹ ہے ناں “.. کیسی تیاری ہے ؟..

اُس نے آئی برو اٹھا کر اُنکی جانب دیکھا “

جوں منھ میں دہی جماے ہوئے تھی ۔۔۔۔ کان بند ہو گئے ہیں کیا ” سنائی نہیں دے رہا کیا پوچھ رہا ہوں آدم بٹ کی گرجدار آواز سے خوف زدہ ہوتے دونو نے ایک نظر ایک دوسرے کی جانب ڈالی اور تھوک نگلتے دھیمی آواز میں بولی ۔۔

اچھی “…مشکل سے دونو کے منھ سے فقط اتنا ہی نکل پایا ۔۔

ہمم وہ تو لگ ہی رہا ہے ” انہیں گھورتے حکم سنایا گیا جاؤ اب کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے۔۔

اُسکی اجازت ملتے ہی وہ دونوں بوتل کے جن کی طرح غائب ہوئی۔۔

____________

وہ اپنی فائل تھامے اپنے آفیس میں داخل ہونے لگا تھا کے سامنے سے آتی مس صائمہ نے اُسے اپنے آفیس کی جانب جاتا دیکھا اُسکے قریب آتے اسلام کیا

اسلام علیکم!! کیسے ہیں پروفیسر ؟؟..

جی الحمدللہ ٹھیک !! آپ کیسی ہیں؟..

اخلاقیات نبھاتے اُسے بھی پوچھنا پڑا” بہت اچھی ۔۔

اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی آدم سے چھپی نہ تھی اسی لیے وہ اُس سے زیادہ مخاطب نہ ہوتا تھا ۔۔

وہ یہاں صرف اپنا کام کرنے آتا تھا ” پیار محبت ” وہ اس سب کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا تھا ۔۔اور نہ ہی ان سب کی کوئی جگہ تھی اُسکی زندگی میں ۔

گڈ ‘ ایکسکیوز می” میرا کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے وہ سنجیدگی سے کہتا جانے لگا ۔۔

جی ضرور لیکن میں بھی بس رامین اور افق کے بارے میں ہی بات کرنے آئی تھی ۔۔ آدم کے قدم تھمے “

اس نے پلٹ کر اُنکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا “

کہیں کیا بات کرنا چاہتی ہیں آپ…

دراصل بات یہ ہے کے دونو کچھ دن سے اپنی اسٹڈیز پر بلکل بھی فوکس نہیں کر رہی ” جس وقت میں لیکچر دے رہی ہوتی ہوں باتوں میں مشغول ہو جاتی ہیں اور اگر کھڑا کرکے پوچھا جائے تو بلکل بلینک فیسز “

مس صائمہ نے کچھ اور بولنا چاہا لیکن وہ اس سے پہلے ہی وہ بول اُٹھا

آپ کو دوبارہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا وہ کہتا اپنے آفیس میں چلا گیا ۔۔

پیچھے مس صائمہ سر جھٹکتے اپنی کلاس لینے چلی گئیں ۔۔

یہ سچ تھا کے وہ آدم بٹ سے بات کرنے کا بہانا تلاش کرتی تھی ۔۔

اُسکی سحر انگیز پرسنیلٹی بہت سے لوگوں کو اُسکی جانب متوجہ کرتی تھی ۔۔

وہ صاف رنگت کا حامل چھبیس سالا لمبا چوڑا جوان مرد تھا ” گہرے شہد رنگ بال ” سیاہ گہری آنکھیں ،ہلکی بیئرڈ ،، عنابی لب جن پر مشکل سے ہی مسکراہٹ نمودار ہوتی تھی ۔۔

اُسکی پرسنلٹی کسی کو بھی اپنا گرویدہ کر سکتی تھی لیکن اُس نے آج تک کسی لڑکی کی جانب پلٹ کر نہ دیکھا تھا ۔۔

اُسکے دوست اور احباب اُسے “بٹ” کے نام سے ہی پکارتے تھے ” کچھ اُسکا غصہ ایسا تھا جس سے سب ہی خوف زدہ ہو جاتے ۔۔۔۔

اُسے بے انتہا شرمندگی ہوئی تھی کے پروفیسر آدم کی بہن اور کزن کو یوں سب کے سامنے کھڑے ڈسکس کیا جا رہا تھا ۔۔

غصّہ ضبط کرتا وہ اپنی کلاس کے لیے چلا گیا ۔۔

_____________

وہ دونوں کلاس میں آتی جلدی سے اپنے کوئز کی تیاری کرنے لگی تھی ” رات میں مووی دیکھنے کے چکر میں وہ دونو بلکل بھی تیاری نہیں کر پائی تھی۔۔

اسٹیٹ کے پروفیسر نے آ کر جب سب کو پیپرز دینا شروع کیے تو دونو نے ایک دوسرے کی جانب اڑھی ہوئی رنگت سے دیکھا کیوں کے اُنھیں اس ٹیسٹ میں سے ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا ۔۔۔۔

بہت کوشش کرکے ارد گرد نظر دوراه کر مشکل سے دو تین سوال حل کیے تھے ۔۔

کلاس ختم ہونے کے بعد رامین منھ بسورتی افق کی جانب دیکھتے بولی

اگر ہم ٹیسٹ میں فیل ہوے تو بھای نے ہمارا قیمہ بنا دینا ہے ۔۔

تمہیں کہا بھی تھا افی تیاری کر لیتے ہیں لیکن تمہیں تو مووی دیکھنی تھی ۔۔اب ہمارا انڈا آیا نہ تو دیکھنا بھای کیسے ہم دونوں کو مرغیاں بنائے گے وہ ٹیسٹ کا سوچتے روہانسی ہوئی ” آدم سے وہ بہت زیادہ ڈرتی تھی اسلئے رونے والی شکل بناتی رامین کو دیکھ رہی تھی جسے کوئی فکر نہیں تھی ۔۔

فکر نوٹ میری جان ” بھای کو بتاۓ گے ہی نہیں” کہیں گے ٹیسٹ ملے ہی نہیں .. سمپل ” اب ٹینشن نہ لو اور چلو جلدی نیکسٹ کلاس ہے بیگ کندھے پر ڈالتے وہ اُسے ساتھ لیے آگے بڑھ گئی ۔

___________

ضیاء بٹ کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا ” ان کی بازار میں اپنی دکانیں تھی اور گودام تھے جہاں سارا فوڈ اسٹاک ہوتا تھا ۔۔

ان کے دو بچے شجاع بٹ جن کی اپنی خالہ زاد کزن سونیا کے ساتھ شادی ہوئی تھی اور سب کی جان اُنکی لاڈلی بیٹی ام ہانی جن کی اپنے یونی ورسٹی فیلو سے لوو میرج ہوئی تھی ۔۔۔

ان کا گھر بہت بڑا نہ تھا لیکن اُسکی سجاوٹ اور اُس میں رہنے والے لوگو کی نفاست پسند طبیعت کی وجہ سے وہ بہت خوبصورت دکھای دیتا تھا

شجاع بٹ کے والد کے بعد اُنہوں نے ہی سارا کام سمبھال لیا ۔۔ان کے دو بچے تھے ” سب سے بڑا چھبیس سال کا آدم بٹ جو حد سے زیادہ نفاست پسند تھا ۔۔اور سنجیدگی اُسکی طبیعت کا خاصہ تھی انہوں نے اسے بھی اپنے ساتھ ان کہ کاروبار سنبھالنے کا کہا لیکن اُس نے یہ کہتے ٹال دیا کے وہ اس شعبے میں جانا چاہتا ہے ۔۔

اکثر فارغ وقت میں وہ دکانوں کے چکر لگا لیا کرتا تھا ٫ اُس سے چھوٹی اٹھارہ سالہ رامین ،جسے پیار سے سب مینو کہتے تھے ۔۔

ام ہانی کی شادی کے ایک سال بعد ہی اللہ پاک نے اُنھیں رحمت سے نوازہ” سب بیٹی کی پیدائش پر بہت خوش تھے

انکے سسرال والے بہت محبت کرنے والے لوگ تھے ” شادی کے سات سال بعد ابراہیم بٹ کام کے سلسلے میں ملک سے باہر گئے ” انکے بزنس کی وجہ سے ان کا آنا جانا لگا رہتا لیکن دِن گزرنے لگے اور ان کی غیر موجودگی کا علم نہ ہو سکا کے وہ کہاں گئے

ان کے تمام دوستوں سے رابطہ کیا گیا لیکن کسی کو بھی کچھ معلوم نہ تھا ۔۔

یوں ہی وقت گزرنے لگا اور لوگ باتیں بنانے لگے کہ دل بھر گیا ہوگا بیوی سے اسی لیے چھوڑ گیا ،،کوئی کہتا کے بھاگ گیا ہے ۔۔

اب یہ باتیں ام ہانی اور سات سالہ افق کے دماغ پر برا اثر ڈالنے لگی

وہ ماں سے بار بار اپنے باپ کا پوچھتی ” افق اپنے باپ سے حد سے زیادہ اٹیچ تھی ۔۔جس وجہ سے وہ بیمار رہنے لگی۔۔

ابرہیم کے بڑے بھائی نے ہر جگہ معلوم کر لیا لیکن اُسکی کوئی خبر نا ملی ۔۔

رو رو کے اب تو ام ہانی کے بھی آنسو خشک ہو چکے تھے اپنی بہن کو اس حال میں دیکھ کر شجاع بٹ اُسے اپنے ساتھ واپس بٹ ہاؤس لے آئے اور وہ دونوں ماں بیٹی گھر کے دوسرے پورشن میں رہنے لگی ،،

رامین افق کی ہم عمر تھی اور ان دونوں کا آپس میں بہت پیار تھا اس لیے وہ اسکول بھی اکٹھے پڑھی اور اب کالج میں بھی ایک ساتھ تھی۔۔

آدم نے زبردستی اپنے کالج میں جہاں وہ اپوئنٹ تھا اُن کا آئی سی ایس میں ایڈمیشن کروایا تھا ۔۔۔دونو آدم کے پاس پڑھتی تھی جیسے تیسے وہ پارٹ ون تو کلیئر کر چکی تھی لیکن آگے جانے کیا ہونا تھا

دونو کزنوں میں بہنوں جیسا پیار تھا ایک دوسرے سے بہت محبت کرتی تھے ۔۔

افق ابراہیم حد سے زیادہ لا پرواہ ” تھی ،، متناسب سراپا ” سرخ و سفید رنگت ” پھولے گال ” گرّے آنکھیں ،،گھنی لمبی پلکیں ۔۔

اور سب سے حسین اُس کے گھنٹوں کو چھوتے چاکلیٹ براؤن سلکی لمبے بال ” ۔جنہیں سمبھالنا اسے دنیا کا مشکل ترین کام لگتا تھا ۔۔لیکن اُسکی ماں کو اُس کے بال بہت پسند تھے اسلیے کبھی کٹوانے نا دیتی ۔

بلاشبہ وہ بہت حسین تھی ” اُس کی دمکتی رنگت سامنے والے کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیتی تھی۔لیکن وہ

اپنے حسن سے لا پرواہ بس اپنی ہی شرارتوں میں مگن رہتی تھی اور ساتھ دینے کے لئے رامین تھی جو حسن میں اُس سے تھوڑی کم تھی لیکن خوبصورت تھی۔۔ اور عادات میں بھی دونوں کا زمین آسمان کا فرق تھا لیکن ایک دوسرے میں ان کی جان بستی تھی

ان دونوں کی شرارتوں پر صرف آدم بٹ ہی قابو پا سکتا تھا باقی گھر میں وہ کسی کے ہاتھ نہ آتی تھی۔۔

جس وجہ سے وہ آدم سے تھوڑا دور ہی رہتی ۔

___________

آدم کی کلاس دونوں نے بہت توجہ سے اٹینڈ کی جانتی تھی ذرا سی لا پرواہی اُنھیں پوری کلاس کے سامنے شرمندہ کر سکتی تھی ۔۔

آف ٹائم میں دونو پارکنگ میں کھڑی اُسکا انتظار کرنے لگی ،،جب سینئر کلاس کے ایک لڑکے نے رامین کو دیکھ کر سیٹی بجای ،،افق اُسے گھورتی آگے بڑھنے لگی کے رامین نے اُسکا ہاتھ تھام کر روک لیا ” وہ ابھی کچھ کہتی کہ آدم کی گاڑی ان کے قریب رکی اور وہ دونوں بغیر مرے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔

دونوں کا موڈ آف دیکھ کر آدم نے رامین کی جانب دیکھ کر پوچھا ” کیا بات ہے مینو ” ۔۔

کچھ نہیں بھای بس تھک گئی ہوں اُس نے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے جواب دیا

وہ سر ہلاتا ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہو گیا ،ایک نظر پیچھے بیٹھی افق پر ڈالی جو ونڈ سکرین سے لگی باہر دیکھ رہی تھی ۔۔

گھر آتے ہی وہ دونوں اپنے روم میں چلی گئی۔۔

افق نے غصے سے اپنا بیگ بیڈ پر پھینکا تھا ” تم نے مجھے کیوں نہیں جانے دیا ۔۔میں نے اُسکا منھ توڑ دینا تھا جس سے وہ تمہیں دیکھ کر سیٹیاں بجا رہا تھا ،،افق اشتعال سے چیخی “

افی کیا ہو گیا ہے میری بہن ” بھای آ گئے تھے اور اُس وقت سب وہاں موجود تھے تمہیں کیوں سمجھ نہیں آتی یہ بات کے بھای کی بھی عزت کا سوال ہے ۔۔

ہمیں ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے

اگر کل کو کچھ بھی ہوا تو سب سے پہلا سوال بھای پر اٹھایا جائے گا اور میں نہی چاہتی تھی ایسا ہو۔۔

کل سے ہم وہاں کھڑے نہیں ہونگے ” وہ خود ہی چلا جائے گا وہاں سے ۔۔ اور یہ عام بات ہے یار” لوفر تھا کوئی میری جگہ کوئی بھی ہوتی تو ایسا ہی کرتا

رامین نے اُس کا غصّہ ٹھنڈا کرنا چاہا ” اب اگر ایسا کچھ بھی ہوا تو تم مجھے نہیں روکو گی مینو ” ۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔

اچھا میری ماں ” جلدی سے فریش ہو جاؤ نیچے سب ہمارا ویٹ کر رہے ہونگے ۔۔

اُسکا موڈ بحال کرنے کی خاطر وہ بات کو رفع دفع کرتی بولی

اُسکا موڈ اب کافی بہتر تھا ٫ رات سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جبکہ افق ابرہیم کے بلکل سامنے وہ کرسی پر براجمان تھا اور اُسے گھور رہا تھا ۔۔

نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے اُس نے ان دونوں کی جانب دیکھتے سرد اسپاٹ لہجے میں استفسار کیا “

تم دونوں دو دنوں سے مس صائمہ کی کلاس کیوں نہیں لے رہی ” افق جو پانی پی رہی تھی اُسکی بات سے اچانک گلے میں پھندا سا لگا “..

دھیان سے افی” ہانی بیگم نے اُس کی کمر سہلای جبکہ رامین چور نظروں سے افق کو دیکھ رہی تھی۔۔

میں نے کیا پوچھا ہے اُسکی گرج دار آواز گونجی “..

وہ بھای میری طبیعت خراب ہو گئی تھی تو افق اور میں گراؤنڈ میں چلے گئے تازہ ہوا لینے اُس نے ڈرتے ڈرتے بہانہ گھرا ۔۔

ہمم اور دوسرے دن کیا بات تھی ” آدم بٹ نے کاٹ دار لہجے میں کہتے ایک نظر اُسکی جانب دیکھا۔۔

بس بھی کرو آدم ” بچیوں کو کھانا کھانے دو تم نے یہاں بھی اپنی کچہری کھول لی ہے ۔۔

سونیا بیگم نے دونو کے اُترے چہرے دیکھ کر اُسے گھرکا “

فری ہو کے دونو میرے روم میں آؤ وہ ایک نظر ان پر ڈالتا اٹھ گیا ۔۔

جبکہ ان دونوں کے تو پسینے ہی چھوٹ گئے ” آگے کا سوچ کر ۔۔

فارغ ہو کے دونو اُسکے کمرے کے باہر کھڑی تھی ” پہلے تو جا ” تیرا بھای ہے تجھے پھر بخش دے گا میرے سے تو اُسے ویسے ہی خاصہ بیر ہے افق نے رامین کو آگے کرتے کہا تو اس نے ہمت کرتے دروازہ نوک کیا ۔۔

آ جاؤ ۔۔اجازت ملتے ہی دونو آگے پیچھے اندر داخل ہوئی اور دروازے کے قریب ہی کھڑی ہو گئی جیسے وہ کوئی دیو ہو اور انہیں کھا جائے گا ۔

وہاں کیا کر رہی ہو دونو ” یہاں آو ۔۔

انہیں ایک جگہ فریز کھڑا دیکھ کے وہ غصے سے بولا

دونو اُس کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی ۔۔

اب صاف صاف بتاؤ مجھے کیا بات ہے ورنہ بہت برا خال کرونگا ۔۔

اُس نے ایک نظر اُنکے ارھے ہوئے چہرے پر ڈالتے کہا

وہ بھای ہمیں ٹیسٹ نہیں آتا تھا اسلیے کلاس بنک کی اور ٹیچر کی سمجھ بھی بلکل نہیں آتی ،، رامین نے رونی صورت بناتے اصل بات بتائی ۔۔اور یقیناً اس کے پیچھے کی ماسٹر پلان یہ نکمی لڑکی ہوگی ۔۔

اُسکی بات سنتی افق اچھل پڑی وہ کیسے جان جاتا تھا سب” لیکن پھر بھی خود پر قابو پاتے اُس نے شکل پر مسكينیت طاری کی۔۔

آدم نے بھڑک کر بولا “

توبہ کریں آدم بھای میں معصوم بچی ہوں ” آپ مجھے خامخوا اس سب میں گھسیٹ رہے ہیں ۔۔

چپ رہو تم” بہت اچھے سے جانتا ہوں میں تمہاری معصومیت کو “آج کے بعد ایسا ہوا تو بہت برا خال کرونگا دونو کا ..اب جاؤ جا کر اپنی بکس لے کے آؤ ۔۔

وہ دونوں شکر ادا کرتی سر ہلاتی جلدی سے غائب ہوئی ۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں اپنی کتابیں لے کے اُس کے پاس بیٹھی اہم پوائنٹس سمجھ رہی تھی ۔۔

افق دماغ کہاں ہے تمہارا نا لائق لڑکی” ایسے سوال حل کرتے ہیں ۔۔ایک ،دو سوال سمجھانے کے بعد اُس نے دونو کو الگ الگ سوال دیے تھے اور افق کا غلط جواب دیکھ کر وہ بھرق اٹھا تھا ۔۔

افق نے منھ بناتے دل میں اُسے ہزار گالیاں دی تھی ۔۔

پھر جب تک انہوں نے سہی جواب نہ لکھے تب تک آدم نے انہیں اٹھنے نہ دیا تھا

کمرے میں آتے ہی اُس نے کتابیں ایک جانب پھینکی تھی اور دھپ سے بیڈ پر گر گئی ۔۔

اُف ” آج تو دماغ کھا دیا اُس آدم خور نے ” مینوں کبھی کبھی مجھے وہ تیرا بھای نہیں بلکہ بندے کھانے والی مشین لگتا ہے یار ” مجھ سے جانے کیا مسئلہ ہے انہیں مجھے ڈی گریڈ کرنے کا کوئی بھی موقع وہ جانے نہیں دیتے ۔۔

بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی وہ بڑی مفکر بنی آدم بٹ کی ذات کو ڈسکس کر رہی تھی

ایسی کوئی بات نہیں” بس بھای چاہتے ہیں کے ہم پیپرز میں اچھے نمبر لیں اور تمہیں وہ اسلیے ڈانٹتے ہیں کہ تم جان بوجھ کر وہ کام کرتی ہو جن سے وہ منع کرتے ہیں

رامین نے اپنے بھائی کی صفائی پیش کی کچھ بھی تھا اُسے بہت محبت تھی اپنے بھای سے ،،وہ شروع سے ہی سخت طبیعت کا مالک تھا “

اُسے فضول میں لڑکیوں کا منھ کھول کر ہنسنا ” اور زیادہ باتیں کرنا پسند نہ تھا ۔۔

زیادہ اپنے بھای کی چمچی بننے کی ضرورت نہیں ۔۔

ارے مسکرانا تو حرام ہو جیسے ،،ہر وقت آدم خور کی طرح مجھے گھورتے رہتے ہیں ” مجھے تو یہ خوف ستائے رہتا ہے کسی دن کچا نا چبا جائیں مجھے افق اسکو آدم کی طرف داری کرتا دیکھ برا مناتے بولی

چل سو جا اب فجر کے لیے آنکھ نہیں کھلے گی رامین نے خود پر کمفرٹر لیا ۔

شجاع بٹ نے شروع دن سے گھر کا ایک ماخول بنایا ہوا تھا وقت پے سب نماز ادا کرتے تھے ،،انہیں گھر کی عورتوں کا ننگے سر رہنا نہیں پسند تھا اور بغیر چادر یاں برقعے کے باہر نکلنا ” اسی لیے رامین اور افق ہمیشہ حجاب میں رہتی تھی