Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 11)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

رات اس کی رامین سے کوئی بات نا ہوئی تھی وہ غصے میں بعد پر گرتی جلد ہی سو گئ ۔۔

آج مہینے بعد وہ دونوں کالج گئ تھی ” رامین تو بہت خوف زدہ تھی آدم نے اُسے یقین دلایا تھا کے ان لڑکوں کو وہ کالج سے نکال چکے ہیں اسلیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔ افق سارے معاملے میں خاموش کھڑی تھی

آج دونو نے ساری کلاسز لی تھی ” وہ قدرے بہتر موڈ میں آج کالج آئی تھی ۔۔رات کی کہی گئ آدم کی باتوں کا اُس نے کوئی خاص اثر نہیں لیا تھا ۔۔

واپسی پر آدم بٹ نے اُس پر ایک سنجیدہ سی نگاہ ڈالی تھی جو اُسے سرے سے نظر انداز کرتی باہر دیکھ رہی تھی ،، یاں جان بوجھ کر سارا دن اُسے اگنور کر رہی تھی

اُسے دیکھتے وہ ارادہ کر چکا تھا کہ بہت جلد وہ اُسے اپنے نام کر لے گا ۔۔اُس سے مزید دوری وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا گزشتہ کچھ دنوں میں وہ اس بات پر ایمان لا چکا تھا ،،، اُس کے دل نے جیسے آدم بٹ کو یقین دلایا تھا کے محبت نے اسے چن لیا ہے ۔

رامین نے کئی بار افق سے مخاطب ہونے کی کوشش کی لیکن وہ کتاب کھول لیتی اور خود کو مصروف ظاہر کرنے لگتی ،،، رامین مشکل سے اپنے آنسو ضبط کرتی خاموش ہو جاتی ۔

_________

گھر آتے ہی رامین بغیر کچھ کھائے پیے سو گئ جبکہ افق فریش ہونے چلی گئی ،،

مما مجھے بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دے دیں

وہ فریش سی نیچے آتی ہانی بیگم کو اپنی ہی دھن میں آوازیں دے رہی تھی ۔۔

ہانی بیگم اور سونیا بیگم کیچن میں کھانا بنا رہی تھی ۔

لاؤنج میں آتے اُس نے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے سامنے دیکھا تھا اور نظر جیسے ساکت سی ہو گئی تھی

مقابل شخص نے جھکے شانو کے ساتھ اُس کے قریب آتے اُسے پُکارا تھا لیکن وہ پلکیں جھپکاے بغیر انہیں دیکھی جا رہی تھی

افق ” ان کے لبوں سے اپنا نام سنتے اُسکی آنکھوں سے قطار با قطار آنسو گرے تھے ۔۔

بابا ” اُس نے کانپتے ہاتھوں سے ان کے چہرے پر اپنا سرخ و سپید ہاتھ سے چھوا تھا ۔۔

اُسے سب ایک خواب سا لگ رہا تھا ۔یہ کیسے ہو سکتا تھا ،،کیا معجزے آج بھی ہوتے ہیں ،،بے ساختہ اُس کے دل نے پکارا ۔۔

اللہُ اکبر “

ابرہیم بٹ اُس کے لمس کو محسوس کرتے نم آنکھوں سے اپنے سامنے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے ۔۔

ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے ،،

دونو باپ بیٹی کتنے ہی پل ایک دوسرے کو دیکھتے رہے

برسوں کی پیاسی آنکھیں ایک دوسرے کے دید کے لیے ترسی تھی کیسے اتنی جلدی بھر جاتی ۔۔

بابا سے ملنا نہیں میری جان نے ،،، ابراہیم بٹ نے نم لہجے میں پچکارا ۔۔

افق انکی آوز سنتی جھٹکے سے ان کے سینے سے لگی تھی ۔۔

پیچھے سے آتی ہانی بیگم پتھرآئی ہوئ آنکھوں سے انہیں دیکھتی خود میں ہمت مجتمع کرتی کانپتی ٹانگوں سے آگے بڑھی تھی ۔۔۔

پیچھے سے آتی سونیا بیگم کے بھی قدم ٹھٹھک گئے تھے

وہ دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگے بے آواز رو رہے تھے ۔۔

ہانی بیگم نے قریب آتے نم آنکھوں سے ایک نظر اُن کے چہرے پر ڈالی تھی جو کافی حد تک کمزور ہو گئے تھے ۔۔

ابرہیم بٹ نے ہانی بیگم کو دیکھ کر اُن کے جانب ہاتھ بڑھایا تھا جنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اپنے لرزتے ھاتھوں سے تھام گئ تھی

ابراہیم بٹ نے اپنی دونو متاع جان کو سینے میں بینچ لیا

سات سال ابرہیم ” وہ دور ہوتی نم آنکھوں سے بولی تھی ۔۔انکی آنکھوں میں ،،شکوہ ،محبت، ناراضگی کیا کچھ نہ تھا ۔

ابرہیم بٹ افق کو ساتھ لگائے آگے بڑھے تھے ۔۔

وہ کیا بتاتے انہیں کے ان سات سالوں میں انہوں نے دکھوں کے پہاڑ جھیلے تھے

________

سب لاؤنج میں موجود تھے گہرا سکوت تھا ” سب کی نظریں اس وقت ابراہیم بٹ پر تھی ۔۔

انہوں نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور بولنا شروع کیا ۔۔

میں یہاں سے بزنس میٹنگ کے لیے ملائشیا نکلا تھا ” لیکن راستے میں کسی نے میرے بیگ میں ڈرگز ڈال دیے تھے میں نہیں جانتا تھا یہ کیسے ہوا ۔۔

جب میں وہاں ایئرپورٹ پر پہنچا تو چیکنگ کے دوران میرے بیگ سے ان لوگو نے ڈرگز برآمد کیے اور میں کہتا رہ گیا کے میں نہیں جانتا لکین کسی نے میری ایک نہ سنی اور مجھے وہاں کی جھیل میں ڈال دیا گیا ۔

میں نے اُن کے بہت منتیں کی کے مجھے کسی سے رابطہ کرنے دیا جائے لیکن تمام ثبوت میرے خلاف تھے

اسلیے مجھے سیدھا جھیل میں ڈال دیا گیا

وہ لوگ مجھ پر تشدد کرکے روز مجھ سے پوچھتے کے اپنے گروہ کا بتاؤ لیکن میرے ہزار بار بولنے کے باوجود وہ ایک نہ سنتے اور مارنے لگتے ۔۔

کچھ دن بعد وہاں کے ایک آفیسر نے مجھے جانے کونسا انجیکشن لگایا ٫ ،، جس سے میرا جسم مفلوج ہونے لگا

مجھے لگا تھا اب میں نہیں بچ سکوں گا “

وہاں جھیل میں میں پانچ سال تک قید رہا جب میری خالت زیادہ بگڑنے لگی تو مجھے وہاں کے ایک سرکاری ہسپتال بیجھ دیا گیا ۔۔

میں نہیں جانتا آگے کیا ہوا ٫ جب مجھے ہوش آیا تو میں وہاں کے بستر پر موجود تھا ۔۔۔

وہاں کا ایک ڈاکٹر بہت نرم دل تھا اس نے میرا مکمل علاج کیا اور وطن واپس آنے میں میری مدد کی ،،

افق اپنے بابا کی تکلیف کا سوچتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ،،اور ان کے سینے میں منھ چھپایا

نہ میری جان ٫ ایسے نہیں روتے اب بابا آ گئے ہیں نا ٫، میں آج یہاں اپنی بیٹی اور بیوی کی دعاؤں کی وجہ سے ہی موجود ہوں “

ورنہ میں تو کب کی ہمت ہار چکا تھا ان کی باتوں میں گہرا دکھ تھا اپنوں سے دوری کی ازیت تھی ۔۔

ان کی باتوں سے وہاں بیٹھے سب لوگو کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔۔

ہانی بیگم کو اپنا آپ چھلنی ہوتا محسوس ہوا تھا ” وہ بے آواز روتی سامنے بیٹھے اپنے مجازی خدا کو دیکھ رہی تھی جو کتنی مشکلات کے باوجود اُن کے لیے یہاں کھڑا تھا اور وہ کیا سوچتی رہی تھی ان کے بارے میں ” ان میں ہلنے کی بھی سکت نا رہی تھی وہ آنسو بہاتی باپ بیٹی کو دیکھ رہی تھی ۔۔

ان کی بات سنتے ساری بدگمانی ختم ہو گئی تھی ۔۔سات سال انتظار کیا تھا انہوں نے ۔۔لوگو کے طعنے ٫ طنز کیا کچھ برداشت نہیں کیا تھا

افق اپنے بابا سے ایک پل کے لیے بھی دور نہی ہوئی تھی آدم بٹ نے اُسکی آنکھوں میں دیکھا تھا جن میں آج ایک الگ ہی چمک تھی ” ہاں وہ چمک ” محبت کی تھی ،،کچھ پا لینے کی تھی ۔۔

افق ابراہیم نے آج آدم بٹ کو ایک چیز سیکھای تھی وہ تھا توکل ” ۔۔۔

اللہ کی ذات پر پختہ یقین “…

جب دل سے کسی چیز کو چاہ کی جاے اور اُسے خدا سے مانگا جائے تو خدا ضرور عطا کرتا ہے ۔۔

اتنی مشکلات کے باوجود ابراہیم بٹ ان کے ساتھ موجود تھے یہ اُسکا توکل ہی تھا۔

اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں بھای جان کیا میں اپنی بیٹی اور بیوی کو لے جا سکتا ہوں ۔۔

انہوں نے شجاع بٹ سے اجازت طلب کی تھی ۔۔

جو کھڑے ہوتے ان کے بغلگیر ہوے تھے!!! شرمندہ مت کرو یار ۔۔

تمہاری بیوی بچی ہے لیکن ہاں تم ہمارے گھر کی رونق کو ساتھ لے جا رہے ہو انہوں نے افق کی جانب دیکھا تھا جو باپ کے ساتھ لگی ہوئی تھی ۔۔

رامین جو اٹھ کے نیچے آئی تھی سب کو لاؤنج میں بیٹھے دیکھ وہی آ بیٹھی ،،، ان کی بات سنتے اسکی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگی” افق کے جانے کا خیال اسے تکلیف دے رہا تھا ۔۔

اس کے جانے کا خیال آدم بٹ کے لیے بھی سوہانے روح تھا ،،،وہ کب تک خود کو جھٹلاتا ” وہ جان چکا تھا کے افق بٹ کے بغیر اُسکا سانس لینا دوبر ہے ۔۔

اب جب وہ اُس کے قریب آنا چاہتا تھا تو وہ دور جا رہی تھی بے بس سا وہ سب کو دیکھ رہا تھا

بابا کیا ہم سب کے ساتھ رہیں گے افق ابراہیم بٹ کی جانب دیکھتی خوشی سے اچھلتی بولی ،،

جی میری جان “

بابا لیکن ابھی ہم نے اپنا سامان لینا ہے افق نے باپ کے ساتھ چپکے ہی مسلئہ بتایا ۔۔

تو بیٹا ہم کل آ کر لے لیں گے .. ٹھیک ہے بابا چلتے ہیں پھر ” اس وقت وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔

ابرہیم ہم ایک دو دن تک ساتھ چلیں گے” کچھ ضروری سامان تو پیک کر لیں پھر جو رہ گیا وہ بعد میں لے جائیں گے ” رامین کی آنکھوں میں آنسو وہ دیکھ چکی تھی

اسلیے بہانہ گرتی بولی وہ نہیں چاہتی تھی جن لوگو نے انکا اتنا ساتھ دیا اب وقت آنے پر وہ انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ۔۔

ٹھیک ہے آپ کو جیسا بہتر لگے انہوں نے نرمی سے کہتے افق کے ماتھے پر لب رکھے ۔۔

لیکن مما میں بابا کے ساتھ جاؤنگی ” افق اپنا فیصلہ سناتے ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار تھی

افی بیٹا بابا کو ریسٹ کرنے دو پھر چلے جانا ساتھ “

پھر بابا آپ مت جائیں یہی رہ جائیں ہمارے ساتھ افق نے حل بتایا ۔۔

ہاں ابراہیم یہ بھی تمہارا گھر ہے تم یہی رک جاؤ شجاع بٹ بولے تھے۔۔

نہیں بھائی جان ” میں تو ابھی کسی سے ملا بھی نہیں ہوں مجھے جیسے پتہ چلا آپ لوگ یہاں ہیں سیدھا چلا آیا ۔

میں پرسوں آپ کو لینے آ جاؤ گا میری جان” پھر کافی وقت وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔۔

شام کا کھانا سب نے ساتھ کھایا تھا اور پھر وہ چلے گئے

افق اپنے بابا کے جانے پر تھوڑی اُداس ہوئی تھی ،،

مما آپ نے مجھے بابا ساتھ کیوں نہیں جانے دیا ” کیچن میں ان کے ساتھ برتن رکھتے ہوے اُس نے منھ پھلاتے کہا

ہانی بیگم پلٹ کر اُس کے قریب آئی” میری جان!! تم نے دیکھا نہیں تھا رامین تمہارے جانے کا سنتے کتنا اُداس ہو گئی تھی

اور پھر اچانک ہمارا یوں جانا مناسب بھی نہیں لگتا اتنا وقت یہاں سب کے ساتھ گزارا ہے اب اچانک وہاں جاتے تو عجیب لگے گا ۔۔

اور میری گڑیا کے بغیر سب اُداس بھی تو ہو جائیں گے نہ اسی لیے تم زیادہ وقت رامین کے ساتھ گزارو اور اُسے بتاؤ کے تم اُس سے ملنے آتی رہو گی ۔۔تم جانتی ہو نہ وہ تم سے کتنی اٹیچ ہے

تمہاری دوری وہ اتنی جلدی ایکسیپٹ نہیں کر پائے گی ۔

انہوں نے اُس کے چہرے پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے سمجھایا تھا ” اس کے چہرے پر موجود مسکراہٹ انہیں دلی سکون بخش رہی تھی ۔۔جاؤ اب اس کے پاس کہی بیٹھی رو نہ رہی ہو ۔۔

وہ سر ہلاتی اوپر کی جانب چلی گئیں ۔۔

وہ اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی جب کسی نے جھٹکے سے کھینچ کر اسے دیوار کے ساتھ پن کیا تھا ۔۔

افق اس سب کے لیے تیار نا تھی اسی کے خلق سے چیخ برآمد ہوئی لیکن مقابل نے ہاتھ رکھ کر اُسکا گلا گھونٹ دیا ۔۔

اُس نے اپنی میچی ہوئی آنکھیں کھولی تو آدم بٹ اپنے سرخ چہرے سے اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔

آدم نے اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اُس کے منھ سے ہاتھ ہٹایا ۔۔

بڑی خوشی ہو رہی ہے یہاں سے جانے کی لیکن ایک بات یاد رکھنا واپس تمہیں یہی آنا ہے آدم اُسکی آنکھوں میں اپنی سرخ ہوتی آنکھیں گھآرتا بولا

ہاں تو کیوں نہ ہو ۔۔میں اپنے گھر جا رہی ہوں جہاں میری ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔۔میری موجودگی کسی کو بے زار نہیں کرے گی افق اسکی انکھوں میں دیکھتی اعتماد سے بولی ۔۔

ہٹیں سامنے سے مجھے جانے دیں ” ۔۔جانے تو تمہیں میں دونگا لیکن ایک بات یاد رکھنا ۔۔اپنے ان کزنوں کے ساتھ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔

اور اگر میں نے تمہیں ان کے ساتھ قہقہے لگاتے یاں بلاوجہ گھومتے پھرتے دیکھا تو تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا

اُسکی بات سنتا آدم تیش میں آتا گرایا تھا وہ کتنی بار اُس لڑکی کو بتا چکا تھا کے غصے میں اُسے نہیں پتہ چلا وہ کیا بول گیا ۔۔لیکن وہ تھی کے مسلسل انہی باتوں کو دہرا رہی تھی ۔۔

اُس کے بازو کو اپنی سخت گرفت میں لیتا وہ اسے وارن کر رہا تھا ۔۔

میرا ہاتھ چھوڑیں افق ایک دم غصے میں آتی چیخی تھی۔۔

میں اپنی مرضی کی مالک ہوں پہلے بھی آپکو بتا چکی ہوں اور اب آخری بار بتا رہی ہون ۔۔

میرا آپکا ایسا کوئی رشتہ نہیں کے میں آپکی بات مانو اسلیے اپنی لمٹس میں رہیے ،،

جو دو دن میں یہاں ہوں مجھ سے دور رہیے گا کیوں کہ اس وقت آپ مجھے بلکل زہر لگ رہے ہیں ۔۔

میں چاہے تمہیں زہر لگو یاں شہد لیکن برداشت تو تمہیں کرنا پڑے گا ۔۔اور بہت جلد تمہارے تمام تر حقوق کا مالک بھی ہونگا ۔۔ اسی لیے تمیز سے بات کیا کرو مجھ سے افق بٹ ۔

بس کچھ دن اور پھر تم میری دسترس میں ہوگی تب میں تمہیں اچھے سے میرے حق سمجھاؤ گا ۔۔

معنی خیز لہجے میں کہتا وہ ایک لمحے کے لیے افق کو ساکت کر گیا تھا ۔۔

اور ایسا کبھی نہیں ہوگا آدم بٹ ” افق ابراہیم اتنی گری پڑی نہیں کے جب کسی کا دل کیا اُسے ریجیکٹ کر دے اور جب دل چاہا منھ اٹھا کر اپنا حق جمآنے لگے

اُس سے اپنا ہاتھ آزاد کرواتی وہ غصے سے سرخ پرتی چیختی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔

پیچھے آدم بٹ اپنے کھولتے دماغ کے ساتھ کمرے میں آ گیا ۔۔وہ ارادہ کر چکا تھا کے صبح ہی وہ سونیا بیگم سے بات کرے گا وہ مزید اُسے خود سے بدگماں نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ کچھ انا بھی تھی جو اُسے جھکنے نہیں دے رہی تھی لیکن وہ جانتا نہیں تھا مقابل کوئی عام لڑکی نہیں افق ابراہیم ہے۔