Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 8)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

تھکن کے باعث اُسکا دماغ چکرا رہا تھا ” وہ ہانی بیگم کے کمرے میں اس وقت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی ” ۔۔

اس کے قریب ہانی بیگم اور سونیا بیگم بیٹھی تھی ” کو اُسے زبردستی سوپ پلا رہی تھی” رامین بھی ساتھ ہی بیٹھی پہلے سے کچھ بہتر تھی ۔

اُسکا دل چاہ رہا تھا کے بس اس وقت اُس پر نیند مہربان ہو جائے ” کیوں کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا درد کی شدت زیادہ ہو رہی تھی ” جس کو برداشت کرتے اب وہ تھک چکی تھی ” ضبط کے مارے آنکھوں کے کونے سرخ تھے ،،۔۔۔

مما مجھے بہت نیند آ رہی ہے ” اُس نے آنکھیں موندتے نم لہجے میں کہا “۔۔۔

سو جاؤ میری جان” یہی ۔۔۔

زخم گہرا ہے ” ۔۔۔میں خیال رکھوں گی ۔۔۔سوئے میں کہی تم اس جانب کروٹ نہ لے لو ۔۔

افق نے ایک نگاہ

رامین کی خوف زدہ سی صورت پر ڈالی ۔۔

نہیں مما ،،میں خیال رکھوں گی ” آپ بھی تھک گئ ہیں سو جائیں ۔

مما میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔

میری جان “” میرا پیارا بیٹا ” اُسے خود میں بنچتے انہیں اُس پر بے پناہ پیار آیا “..

وہ جانتی تھی اپنی تکلیف بھلائے وہ صرف رامین کے لیے جا رہی تھی کمرے میں ورنہ اُسکا آج اپنا بھی ان کے ساتھ سونے کا ارادہ تھا ۔

چلو میرا بچہ ” میں تمہارے ساتھ آتی ہوں شرٹ کے سلیو کٹ کر دیتی ہوں ۔۔

وہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی

رامین نے اُسے سہارا دیا ” دھکا دینے کی وجہ سے وہ دور گری تھی ” ۔۔ اور اُس کے گھٹنے بھی کافی زخمی ہوے تھے۔۔

کمرے میں آتے ہی ہانی بیگم نے اُسے شرٹ کا بازو کاٹ کر دیا تھا اور اختیار سے چینج کرنے میں اُسکی مدد کی کیوں کہ اُس کے پاس بغیر سلیولیس کوئی ڈریس نہ تھا ۔۔

کل میں اپنی جان کے لیے سلیولس ڈریس لے آؤں گی ” درد تو نہی ہو رہا زیادہ انہوں نے اُس کے بال ٹھیک کرتے پوچھا تھا ۔۔۔

جاؤ رامین میرا بیٹا ” ایک باؤل میں گرم پانی لے آؤ “

رامین سر ہلاتی چلی گئی

تم جانتی ہو افق آج میں بہت ڈر گئ تھی ۔۔میرا کل سرمایہ تم ہو ،،

تمہیں کھونے کا احساس ہی مجھے اندر سے مار رہا تھا وہ اُسے سینے سے لگاتے روتی ہوئی بولی تھی

مما پلیز ایسے روئے مت ” میں ٹھیک ہوں آپ کے سامنے ہوں ۔۔۔اور آپ جانتی ہیں رامین خوف زدہ ہو جاتی ہے اس طرح آپکو روتے دیکھے گی تو پریشان ہو جائے گی

افق تمہیں ذرا خوف نہ آیا اگر وہ ایسڈ تمہارے چہرے پر گر جاتا ۔۔ وہ خوف زدہ سی بولی تھی ۔۔

نہیں ” میں اپنے سے جڑے رشتوں کو کبھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی مما ” اگر مجھے کچھ ہو بھی جاتا تو خیر تھی لیکن مینو کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی وہ ٹہڑے ہوے لہجے میں گویا ہوئی تھی ۔۔

ہانی بیگم نے اُسکے ماتھے پر لب رکھے تھے ” تم بلکل اپنے بابا جیسی ہو نا ڈر” بے خوف ۔۔۔وہ بھی بلکل ایسے تھے ۔

افق نے نم آنکھوں سے مان کو دیکھا تھا وہ ان سے اس وقت کوئی بھی سوال کرکے انہیں پریشان نہی کرنا چاہتی تھی ۔

رامین جو کمرے میں داخل ہونے لگی تھی اُسکی باتیں سنتی رونے لگی اور تیزی سے کمرے سے باہر نکلی،،

آدم جو ان کے کمرے کی جانب ہی آ رہا تھا اُسے روتے دیکھ تیزی سے قریب آتے ساتھ لگایا ۔۔

کیا ہوا ہے میری گڑیا” کیوں رو رہی ہے ۔۔

بھای سب میری وجہ سے ہوا ” ۔۔افی آج میری وجہ سے اتنی تکلیف میں ہے ۔۔وہ روتی اُس کے ساتھ لگتی کانپنے لگی ۔۔

بھای کی جان” وہ آپ سے پیار کرتی ہے اسلیے ،،اور آپ رو کر اُسے تکلیف دے رہی ہو ۔۔

اُس نے آپکو اس تکلیف اور خوف کی وجہ سے بچایا تھا اور خود آپکی تکلیف خود پر لی ،، لیکن آپ اس طرح کا رو کے اُسے تکلیف دے رہی ہیں ۔۔

جاؤ روم میں اُسکا خیال رکھو ” وہ ان شاء اللہ جلد ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔

آدم نے اُسے نرمی سے سمجھآیا تھا اور وہ دیمھے قدم اٹھاتے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔

سامنے ہانی بیگم بیٹھی اُس کے بال بنا رہی تھے ۔۔آ جاؤ بیٹا تم کہا رہ گئی تھی ۔۔

وہ دھیمے قدم اٹھاتے ایک جانب ٹیبل پر باؤل رکھتی افق کے قریب بیٹھی تھی ۔۔

مجھے معاف کردو افی یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے تم اتنی تکلیف میں ہو ۔۔وہ روتی ہوئی بولی

اے پاگل کیوں رو رہی ہو زندہ ہوں میں ” کچھ نہیں ہوا یہاں آؤ اسے اپنے ساتھ لگاتے افق نے ایک ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کیے ۔۔

تم میری بہن ہو اور میں اپنی بہن پر کبھی کوئی تکلیف نہی آنے دوں گی ۔۔اب رونا نہیں” ۔۔

تم مجھے ٹھیک ہو لینے دو دیکھنا اُنکا کیا حال کرتی وہ منھ بناتی بولی تو رامین روتی روتی مسکرا دی ۔۔

افق بھی مسکرائی تھی لیکن ایک پھیکی سی ہنسی ” آنکھوں نے ساتھ نہ دیا تھا ۔۔

میری جان کسی چیز کی بھی ضرورت ہوئی تو مجھے آواز دے دینا اور اگر رات میں درد ہوئی تو یہ دوا رکھی ہے کھا لینا ۔۔

اُس کے جلے ہوے بازو کو دیکھا تھا اور ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی ۔۔

بہت جل گیا ہے ۔۔انہوں نے نرمی سے ٹیوب لگای تھی ۔۔دھیان سے سونا ” کہی سوتے ہوے ہاتھ نہ لگ جائے ،،

رامین بیٹا دھیان رکھنا بہن کا اور گرم پانی سے اس کا چہرہ صاف کر دینا کہتی وہ چلی گئیں تھی ۔۔

رامین نے اس کے قریب بیٹھتے آرام سے اُسکا چہرہ صاف کیا ” اور افق کو میڈیسن دی ۔۔

وہ دونو ہی آج کے سخت ترین دن سے کافی تھک چکی تھی ۔۔۔کچھ افق کا زخم ابھی تازہ تھا تو تکلیف کے باعث وہ دوا لیتی جلد ہی سو گئ

_______

آدم نے اپنے کمرے میں آتے ہی کسی کو کال ملای تھی ” کل کالج میں پہنچ ” اپنی فورس کے ساتھ۔۔۔

ہوا کیا ہے یار ” دوسری جانب سے پریشانی سے استفسار کیا ،،،!!!! آدم نے لب بینچتے آج کا ہوا سارا واقع اُس کے گوش گزار کیا

۔

ہمدان رامین کا نام سنتے کچھ پریشان ہوا تھا اور آخر میں اُس نے غصے سے لب بینچے تھے

جبڑے غصے کی زیادتی سے بینچ لیے ” دماغ کی رگیں پھول گئ ۔۔اُسکا خون کھولنے لگا

وہ رامین کو پسند کرتا تھا لیکن وہ ابھی کافی چھوٹی تھی جانتا تھا آدم ابھی بلکل نہیں سننے والا تھا کچھ بھی ،،،

اسی لیے وہ کچھ وقت انتظار کر رہا تھا ۔۔کچھ وہ اُنکے گھر اکثر جاتا تھا اور رامین کی حساس طبیت سے واقف تھا ۔ اس کی چھوٹی سی جان کو وہ ابھی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا لیکن اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا اور جب کوئی نے چارہ ملتا تو وہ دیدار یار کے لیے بٹ ہاؤس چلا جاتا ۔۔

وہاں کسی نہ کسی بہانے اس کی نظر اُس پر پڑ ہی جاتی اور اُس کے بے قرار دل کو کچھ پل کے لیے چین مل جاتا۔

تو فکر ہی نہ کر دیکھ ان سالو کا کیا خال کرتا ہوں کہتے اُس نے فون بند کیا ۔

ہمدان آدم کے بچپن کا دوست تھا ” وہ پولیس آفیسر تھا اور اس فیلڈ میں اپنی قابلیت کی بنا پر پہنچا تھا

آدم گھر سے شام کے وقت اکثر غائب رہتا تھا اُسکی وجہ یہی تھی کے وہ ہمدان کے ساتھ کیس سولو کرتا تھا

شکار کو پکڑ کر مار دھار آدم کرتا تھا اور اسکو لیگلی ہمدان تھانے میں ڈال دیتا ۔۔

آدم کو فورس میں جانے کا بہت شوق تھا لیکن وہ جانتا تھا اُس کے گھر والے کبھی اس بات کی اجازت نہیں دے گے

اکلوتا بیٹا ہونے کے باعث اُس کا باپ اسے آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتا تھا

اسی وجہ سے وہ ہمدان کی مدد کرتا تھا اور گھر میں کسی کو کانو کان خبر نہیں تھی اس بات کی۔

اُسے بے صبری سے صبح کا انتظار تھا کب وہ ان لڑکوں کو پکڑ کر ان کی چیر پھار کرے گا ۔۔

صبح کا سورج نمودار ہوا تھا ،،،،، آسمان پر بادل اٹھکیلیاں کر رہے تھے ” دھوپ چھاؤ کا خوبصورت موسم تھا

آدم بٹ رامین کو لیتا کالج کے لیے نکلا تھا۔ رامین خوف کے مارا بلکل خاموش بیٹھی تھی ۔۔

اُس نے گھر میں بھی خوب رونا دھونا ڈالا کے وہ نہیں جائے جی افق کے بغیر ” لیکن آدم اسے زبردستی ساتھ لایا تھا ۔

رامین ریلیکس رہو گارڈ بھی ساتھ ہیں ۔۔

اس نے گاڑی سے باہر نکلتے رامین کو ساتھ لگایا تھا ۔۔

فورتھ ایئر کے تمام ڈیپارٹمنٹ میں وہ اُسے لے کر گیا تھا

یہ آخری کلاس تھی جہاں وہ اسے لے کر گیا تھا رامین کی نظر صالح رانا اور اُس کے دوست پر پڑی تھی ۔۔

وہ پرسکون سا بیٹھا تھا کیوں کے اُس دن وہ خود کالج میں تھا اُس نے اپنے دو دوستوں کو اس کام کے لیے بیجھا تھا ۔۔جن میں سے ایک اس کے ساتھ بیٹھا تھا

رامین کی نظر اُس لڑکے پر پڑی تو وہ ڈر کے آدم کے پیچھے چھپی ۔۔

کون ” آرام نے رامین کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا اور شیر کی طرح جھپٹ کے اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔

سر کیا بات ہے ” ہمیں کیوں کھڑا کر رہے ہیں آپ ” صالح بلکل انجان بنتا بولا تھا ۔۔

یہ ” اُس نے ایک نظر رامین کی جانب ڈالی تھی ” رامین نے آنکھوں میں خوف لیے سر ہلایا “

آدم نے سرخ چہرے اور بنچے لبوں کے ساتھ صالح اور اُس کے دوست کو گریبان سے پکڑ کر باہر کھینچ کے لایا تھا

اور دیکھتے ہے دیکھتے پے در پے اُن کے چہروں پر مکوں کی بوچھاڑ کی تھی ۔۔۔۔

دیکھیں سر آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔آپ میری بات تو سنیں ۔۔ وہ اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ اپنے چہرے پر رکھتے بولے لیکن آدم ان کی ایک بھی سنے بغیر

انہیں گھسیٹتا پرنسپل آفیس لے کر جانے لگا ۔۔

پرنسپل کے آفیس میں لے جاتے اُس نے دونو کو اندر دھکیلا تھا ۔۔

آدم یہ کیا حرکت ہے ” پرنسپل نے ایک نظر ان لڑکوں پر ڈالتے استفسار کیا ۔۔

سر جو انہوں نے حرکت کی ہے اُس کے سامنے تو یہ کچھ بھی نہیں ” پھر وہ تمام بات انہیں بتاتا چلا گیا ۔۔

پرنسپل نے افسوس سے نفی میں گردن ہلای تھی ۔۔

بہت افسوس کی بات ہے شرم نہ آئی آپ دونو کو ایسی غلیظ حرکت کرتے ہوے ۔۔

میں آپ دونو کو کالج سے نکال رہا ہوں اور آپکے گھر والوں کو بھی آج ہی کالج بلاتا ہوں ۔۔

سر ہم نے ایسا کچھ نہی کیا ” آدم سر اپنی بہن کو بچا رہے ہیں اور سارا الزام ہم پر لگا رہے ہیں جبکہ “…

ان دونوں نے ہمیں اپنی جانب مائل کیا تھا صالح پرنسپل کو برہم دیکھتا بولا تھا ۔۔

بکواس بند کرو نہی تو جان لے لونگا ” غلیظ آدمی ۔۔تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے گھر کی لڑکیوں کے بارے میں کچھ بولنے کی آدم نے آگے بڑھتے اُس کے چہرے پر تھپڑ رسید کیا ۔۔

آدم سٹوپ اٹ ” بیٹھ کے بات کرتے ہیں لیکن آدم کو کہاں ہوش تھا ۔۔

اس سے پہلے کے وہ ان لڑکوں کی حالت بگاڑتا ہمدان آفیس میں داخل ہوا اور آگے بڑھتے اُسے قابو کیا جو اس وقت کسی کے ہاتھ نہ آ رہا تھا ۔۔

چھوڑ مجھے ہمدان میں آج اسکی جان لے لونگا ” وہ بپھرا ہوا دھارا ۔۔ اُسکی دھار سن کر پرنسپل بھی ڈر گیا

آدم قابو رکھو خود پر ” اس وقت ہم کالج میں موجود ہیں تمہارا ایک غلط قدم تمہاری بہن کا فیوچر خراب کر سکتا ہے ۔۔

ہمدان نے اُس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ کچھ سمبھلا”..

اپنا کولر ٹھیک کرتا وہ کرسی پر بیٹھا ” سر مجھے اپنی بہن پر یقین ہے لیکن اگر آپ پھر بھی چاہیں تو وہاں موجود سٹوڈنٹس سے پوچھ سکتے ہیں کے کس طرح یہ دو ہفتوں سے میری بہن کو تنگ کر رہا تھا ۔۔

پرنسپل نے سر اثبات میں ہلاتے رامین کو بلایا اور اُس کے ساتھ دو دوستوں کو ۔۔

انہوں نے آ کر تمام حقیقت بتا دی ۔۔

سر مجھے لگتا ہے آپکو معلوم ہو گیا ہوگا کے کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ “…

میں کالج کی رپوٹیشن خراب نہیں کرنا چاہتا اسی وجہ سے پولیس کو یہاں نہیں لایا ” لیکن انسپکٹر ہمدان میرے دوست ہیں اور انہیں یہاں بلایا ہے تاکہ وہ ان دونوں کو لے جا سکے

اور ان کو ان کے کیے کی سزا مل سکے ۔۔۔

صالح تم نے یہ جو حرکت کی ہے مجھے تم سے اسکی اُمید نہیں تھی۔۔پرنسپل نے ایک افسوس بھری نظر اُس پر ڈالی تھی جو سوجھے ہوئے چہرے سے بلکل خاموش تھا

ٹھیک ہے آپ لے جا سکتے ہیں انکو ” میں انکے گھر انفارم کر دیتا ہوں ۔۔

نہیں سر پلیز ہمیں معاف کر دیں ” آئندہ کبھی ایسی غلطی نہی کریں گے ۔۔ دوسرا لڑکا رونے لگا تھا ۔۔

ہمدان دونو کو لیے کالج سے باہر آیا تھا اس سب میں رامین آدم کے بازو سے چپکی ہوئی تھی ۔۔

ہمدان نے ایک نظر اُسکی جانب ڈالی ” پنک دوپٹہ سر پر لیے ٫،، روئی روئی سرخ نم آنکھیں جن میں خوف لیے وہ ارد گرد دیکھ رہی تھی ” ۔۔

سفید چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آدم کے بازو کو دبوچے وہ اُسے معصوم سی بچی لگی تھی ۔۔

اُس کے دل میں ایک خواہش جگی تھی کاش کوئی وقت ایسا ہو جب وہ اُسے بھی ایسے ہی تھامے “..

اُسے گھبرائے دیکھ ہمدان نے نظروں کا زاویہ بدلا ” ۔۔میں رات میں آؤنگا ۔۔تب تک تو ان سے تیسرے لڑکے کا پتہ لگا جس نے ایسڈ پھینکا تھا ۔۔

آدم کی آواز سے وہ اپنے خیال سے نکلتا سر ہلایا انہیں گاڑی میں دھکیلتا وہاں سے نکل گیا ۔

پیچھے آدم کا بھی کالج جانے کا کوئی ارادہ نا تھا اسی وجہ سے وہ بھی رامین کو لیے گھر کے لیے نکلا

اُس کے ذہن میں افق کے بات آئی ” ۔۔۔ وہ جانتی تھی ان غلیظ لڑکوں کی سوچ کو ۔۔

وہ اس سے اتنی سمجھداری کی اُمید نہ رکھتا تھا لیکن بہرحال اس نے بہت اچھا کام کیا تھا ۔۔

اُسکی بہن اور خود کو محفوظ رکھا تھا ۔۔لڑکیوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔۔مضبوط ” اور نا ڈر ۔۔

اُسے خود بھی معلوم نہ ہو سکا کے وہ کل سے کیوں افق ابراہیم کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔