Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 4)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

ممانی جان آپ ہی ہتا دیں کیا کہا بابا نے ” ۔۔میری مّاما تو بزی ہیں بہت ۔۔افق آئل کی بوتل ان کہ سامنے رکھتے بولی “..

سونیا بیگم اسکو اتنا اتاولا ہوتا دیکھ مسکراتی گویا ہوئی

تمہارے بڑے بابا کی کال آئی تھی کہہ رہے تھے دادی بہت اُداس ہیں تم سے لینے آنا چاہتے ہیں کچھ دن کے لیے تمہیں”

تمہاری مما نے کہا پوچھ کے بتاؤ گی کیا کہتی ہے سونیا بیگم اُس کے بالوں میں چمپنگ کرتی بولی تھی

بس پارٹی ہو لینے دیں پھر جاؤ گی اور پورا ہفتہ رہ کر آؤنگی سب کے ساتھ ” میں خود بہت اُداس ہو گئی ہوں سب سے “

وہ خوشی سے چہکتے ہوے بولی ،،،پورا ہفتہ ” تمہیں شرم نہیں آتی مجھے اکیلے چھوڑ کر جاتے ہوے صرف دو دن کے لیے جاؤ گی تم” ۔۔ تمہارے پیچھے میں اکیلے کیا کرونگی ۔

رامین اُسکی بات سنتی پھٹ پڑی ” ۔۔

نہیں مجھے زیادہ دن کے لیے جانا ہے ایسا کرنا تم بھی میرے ساتھ چلنا

وہ خوش ہوتی بولی ” تم جانتی بھی ہو بھای اجازت نہیں دیں گے مجھے ” وہ مسکین صورت بناتی اُسے دیکھنے لگی۔۔

اچھا بھئی جلدی آ جاؤں گی منھ نہ لٹکاؤ اب ” لیکن عادت ڈال لو جب میرے بابا جانی آئے گے تب تو میں پکا پکا چلی جاونگی وہ آنکھوں میں چمک لیے خوش ہوتی کہتی اپنے ناخن دیکھنے لگی ۔۔

سونیا بیگم کے ہاتھ تھمے تھے ” رامین نے بھی پریشانی سے ماں کی جانب دیکھا تھا

قریب آتی ہانی بیگم نے اس کی بات سنتے ازیت سے ایک نظر اُس کے مسکراتے چہرے پر ڈالی تھی ” کتنی خوش تھی انکی بیٹی ” اپنے باپ کے واپس آنے کی اُمید لیے بیٹھی تھی وہ جو پچھلے نو سالوں سے واپس نہ لوٹا تھا کتنا ڈھونڈھا تھا اُسے ” کہاں کہاں نہیں اُس کو تلاش کیا لیکن جو خود چھپے ہو وہ کہا ملتے ہیں ۔۔

ہانی بیگم نے تو اُمید چھوڑ دی تھی لیکن اپنی بیٹی کو جب بھی باپ کا ذکر کرتا دیکھتی دکھی ہو جاتی۔۔

وہ کیا بتاتی اُسے بھولے بھٹکے لوگ کبھی واپسی کی راہ نہیں لیتے “

اچھا مجھے بتاؤ کب ہے آپ دونو کی پارٹی ” بات پلٹنے کی خاطر سونیا بیگم اُن سے پارٹی کی بابت پوچھنے لگی

اور پھر افق تو شروع ہو گئ اپنی ہی دھن میں۔۔

ہائے مینو کتنا مزہ آئے گا نا ” میرا تو ابھی سے دل کر رہا ہے اُس نک چڑھی ” چھپکلی لیزا کو دیکھنے کا ۔۔

دیکھنا تم کیسے میک اپ منھ پر تھوپ کر آئے گی ..میک اپ کی دکان “..

افق ابراہیم اپنے ہاتھوں کو ہلاتی اُسکی کلاس فیلو کے بارے میں گوہر افشانیاں جھر رہی تھی۔۔

بس کر جاؤ افق اٹھو ” کچھ کام کروا دو میرے ساتھ تھک گئ ہوں میں ام ہانی (افق کی والدہ ) اپنے تاثرات چھپاتی تھک کر قریب پرے کاوچ پر بیٹھتی بولی ۔۔

سونیا بیگم نے ان کی سرخ مائل آنکھوں میں غم کے بادل چھائے دیکھے تھے ” آخر کب تک ایک عورت ایک شخص کے نام بیٹھ سکتی ہے اور بھی شخص بھی وہ” جو آپ کو دل و جان سے عزیز ہو ۔۔۔

محبوب کی جدای انسان کو ہے موت مار دیتی ہے ” یہ ہانی بیگم کا حوصلھ تھا کے ایک عرصہ انہوں نے انتظار میں گزار دیا ۔۔۔۔

آپ آرام کر لیں میں دیکھ لیتی ہوں باقی سب ” سونیا بیگم ان کی تھکن کا خیال کرتی گویا ہوئی۔

نہیں بابھی یہ کر لے گی بلکل ہی کچھ نہیں کرتی جھلی کہی کی ” ہانی بیگم نے افق کو آنکھیں دکھائ ۔۔لیکن وہ افق ابراہیم ہی کیا جو بات سن لے ۔

نہیں مما میرے نیلز خراب ہو جائیں گے میں کچھ نہیں کر رہی اور آپ ایسا کریں ہمیں کل شاپنگ پر لے جائیں مجھے پارٹی کے لیے ایک پیاری سی فروک لینی ہے اور مینو نے بھی اور ہاں میں بال بھی کھولوں گی ۔۔۔

بڑی آئی وہ لیزا مراد ” مجھے حاجن بیبی کہہ رہی تھی اُس نے دل میں سوچا اور خوش ہونے لگی

اپنی دھن میں مست وہ ماں کو اپنی پلاننگ بتا رہی تھی یہ جانے بغیر کے پیچھے کھڑا شخص اُسکی بات سنتا سرخ پڑا تھا ۔۔

کوئی ضرورت نہیں یہ فضول کام کرنے کی ” آدم بٹ لاؤنج میں داخل ہوتا اُسکی جانب ایک سخت نگاہ ڈالتے اپنا حکم سنا چکا تھا ۔۔

کہی نہیں جاؤ گی تم دونوں ” اور بحث نہیں سننا چاہتا میں کہتا وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی طرح اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔۔

پیچھے افق ابراہیم اور مینو منھ پھولاتی اُسے دل میں گالیاں نکالتی رہ گئی ۔۔جاؤنگی تو میں ضرور ۔۔

ممانی اپنے بیٹے کو سمجھا لیں ،،ہر وقت ہم پر رعب جھارتے رہتے ہیں ۔۔ افق سیخ پا ہوتی بولی

افی بری بات ،، بڑا بھائی ہے ہانی بیگم نے اُسے آنکھیں دیکھاتے ٹوکا تھا ۔۔

تو وہ منھ بناتی بولی ،،مما مجھے جانا ہے ضرور ” پلیز آپ کہیں بھای کو ۔۔ہمیشہ ہمارے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں ہر وقت ٹوکتے رہتے ہیں کہتی وہ پاؤں پٹکتے اپنے کمرے کی جانب چلے گئی اور اسکے پیچھے ہی مینو بھی منھ پھولائے غائب ہو گئ ۔۔۔

کمرے میں آتے ہی جتنی گالیاں تھی وہ اُسے دل میں دے چکی تھی ۔۔

یقین جانو مینو ” تمہارا جو یہ آدم خور بھای ہے نا ” ایک نہ ایک دن سہی جورو کا غلام بنے گا تب اسکو ذرا تکلیف نا ہوگی ۔۔

ہماری باری میں یہاں نہ جاؤ وہاں نہ جاؤ ہر وقت رعب جھاڑتا رہتا ہے اس نے خود پر ہوتے ظلم پر ترپ کر دہآئی دی تھی ۔۔

بس کرو تم تو اب” ہر وقت بھای کے پیچھے ہی پڑی رہتی ہو رامین اُسے بولتے دیکھ منھ بگاڑتی بولی

ہاں اور وہ جو تمہارا بھای ہر وقت ڈریکولا بن کر ہمارا خون چوستا ہے وہ ۔۔

افق ابراہیم بھی کہاں چپ رہنے والی تھی اسلیے دوبدو بولی ۔۔

اچھا چھوڑو اس بات کو ” اب بتاؤ کرنا کیا ہے ” رات میں ڈنر پر مامو سے بات کرو گی تم ” اور انہیں راضی کرو گی وہ بڑے آرام سے نیل پینٹ اُتارتی اُسے حل بتا رہی تھی

ممم ” میں ،،،میں کیسے کہوں گی بھائی بھی اُس وقت موجود ہو نگے ،،مجھے ڈر لگے گا رامین سہمتی اٹکتی بولی ۔۔

کیا ساری زندگی ڈر ڈر کے گزار دو گی” اپنے حق میں آواز اٹھانا سیکھو ۔۔مجھے تو شرم آتی ہے تمہیں دیکھ کر کے میری کزن اتنی ڈرپوک ہے جو اپنے لیے ہی نہیں بول سکتی افق نے آنکھیں گھوماتے کہا

تو میں کیا کروں ،میں ڈر جاتی ہوں ۔۔مجھ سے نہیں بولا جاتا “…. تم جانتی بھی ہو بچپن سے مجھے اونچی آوازوں سے خوف آتا ہے وہ رونی صورت بناتی بولی ۔

اچھا بس بس اب یہاں اپنا میلو ڈراما نہ شروع کر دینا

تم مامو سے بات کرو گی آج فائنل ہے اور میں ذرا اس آدم خور کو تو سبق سیکھا کر آؤ جو ہر بات میں ٹانگ آرانا اپنا فرض سمجھتا ہے کہتی وہ باہر نکلی تھی ۔۔

ابھی وہ نیچے آئی ہی تھی کے سونیا بیگم نے اُسے کیچن میں بلا لیا ۔۔

جی مّمانی ” ۔۔بیٹا ذرا آدم کی شرٹ تو پریس کر دو میں کھانے کی تیاری کر رہی ہوں اور ہانی آرام کر رہی ہیں

کوئی بات نہیں میں کر دیتی ہؤں ،،دھیان سے کرنا میری جان” اُس نے کہی ضروری کام سے جانا ہے۔۔ سونیا بیگم نرمی سے کہتی کچن میں چلی گئی

جی جی آپ فکر نہ کریں بہت اچھی کرونگی کہتی وہ آئرن اسٹینڈ کے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔۔

ہائے کیا موقع ملا ہے تم سے بدلا لینے کا آدم خور کہی کے آج تو قسمت بھی میرا ساتھ دے رہی ہے تو کیوں نہ بدلا لیا جائے

اوہ نیو شرٹ ” کہتے اُس نے استری اچھی طرح گرم کی اور اس کے اوپر رکھ دی۔۔

اوپر سے آتی رامین اُسے دیکھتی چیخی ” پاگل یہ کیا کر رہی ہو شرٹ جل جائے گی ۔۔

ہاں تو ” ایسے ہی ہمارا دل بھی تو جلایا تھا نا تمہارے بھائی نے ،،میں تو بس اُسکی شرٹ جلا رہی ہون دانت پیستے رامین نے اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور استری اٹھائی تو شرٹ کا آدھا کپڑا استری کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔۔۔

تم بچو اب بھای سے ۔۔انہوں نے کہی جانا تھا ،،میں تو چلی ” اس سے پہلے کے بھای آ جائیں ۔۔ رامین کہتی غائب ہو گئ

افق نے شرٹ اٹھاتے اُسے دیکھا ” اب مزا ائے گا آدم بٹ ” کہتے وہ اُسکے کمرے کے باہر جا کھڑی ہوئی ۔۔

دستک دے کر اجازت مانگتے وہ اندر داخل ہوئی ۔۔

ہاں بولو!! آدم جیل سے اپنے بال سیٹ کرتا اُسے سامنے دیکھ ایک نظر ڈال کر سخت لہجے میں بولا

وہ بہادر بن کر اُس کے کمرے میں تو آ گئ تھی لیکن اُسے سامنے دیکھتے ساری دلیری گل ہوئی تھی ۔۔

وہ ۔۔۔۔مم میں ” بول بھی دو اب ” ۔۔آدم تنگ ہوتا بولا تھا

اُس نے اپنے پیچھے چھپای شرٹ سامنے کی تھی جس سے اُسکا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔

آدم کو اپنی نیو شرٹ دیکھ کر صدمہ لگا ” پل میں اُس نے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اُسے دیکھا تھا

یہ کس نے کیا ہے ؟؟…

اُسکی چنگھاڑ پر وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھے ۔۔

وہ،،وہ ممانی نے مجھے دی تھی پریس کرنے کے لئے لیکن میرا یقین کریں بھائی اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے ۔۔

استری خراب تھی ،،میں نے تو بس اُسے پانچ منٹ گرم کرکے جیسے ہی شرٹ پر رکھا تو جل گئ افق ابراہیم

دل میں خوف محسوس کرتے لیکن بضاہر معصومیت کے ریکارڈ توڑتی بہت آہستہ بول رہی تھی ۔۔ یقیناً رامین وہاں موجود ہوتی تو اُسکی ایکٹنگ پر غش کھا کر گر گئی ہوتی ۔

آدم نے اُسکی بات سے غصے سے مٹھیاں بینچی تھی وہ جانتا تھا ضرور اُس نے یہ حرکت جان بوجھ کر کی ہوگی

بہت اچھے سے جانتا ہوں میں تمہیں ” جان بوجھ کر کیا ہے یہ تم نے ہے وقوف لڑکی ” ۔۔

آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں میں کیوں کرو گی جان بوجھ کے ” مجھ پر الزام لگاتے رہتے ہیں وہ روتی منھ بناتی بولی تو آدم کا دل کیا اس لڑکی کا کچھ کر دے۔

دفع ہو جاؤ میری نظروں سے اس سے پہلے کے میں تمہاری جان لے لوں اپنی جلی ہوئی شرٹ فرش پر پھینکتا وہ چیخا “..

اُس کی بات سنتی وہ منٹ سے پہلے باہر نکلی تھی اور اُسکے کمرے سے نکلتے ہی نعرے لگاتے اپنے کمرے میں داخل

ہوئ۔۔۔

کیا ہوا ہے کیوں جنگلیوں کی طرح بھاگ رہی ہو ” ضرور پھر کوئی کارنامہ سر انجام دے کر آئی ہو گی

اُسے بیڈ پر لیٹے دیکھ وہ اُسکے سرخ چہرے پر طنز کرتی بولی ۔

تم تو بس خاموش ہی رہو روتو بےبی ” افق منھ بناتے بولی ۔