Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 14)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

دن تیزی سے گزرتے جا رہے تھے افق اس دن کے بعد آدم بٹ سے ہمکلام نہ ہوئی تھی ۔۔

ان کے پیپرز کی وجہ سے وہ لوگ کافی بزی ہو گئ تھی

اُسکی خاموشی آدم بت کو بری طرح چب رہی تھی لیکن ایک بار وہ فارغ ہو لے پھر وہ اُس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا

اُسے یوں ڈسٹرب کرنا اُسے مناسب نہ لگا تھا

وہ رامین سے بہت کھچی کھچی سی رہنے لگی تھی رامین کے بارہا پوچھنے پر بھی وہ کچھ نہ بولی ۔۔

لیکن رامین کے ہزار بار منانے کے باوجود وہ خاموش رہی

آج اُنکا آخری پیپر تھا رامین نے اُسے اپنے ساتھ آنے کا بہت کہا لیکن وہ سرعت سے بات بناتی ٹال گئ تھی۔۔

آدم کو ضروری کام تھا اُس نے رامین کو کالج رکنے کا ہی کہا تھا کے وہ جلد اپنا کام نپٹا کے آ جائے گا ۔۔۔

وہ دونوں پارکنگ میں کھڑی تھی ۔۔رایان بھی ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔

دونو کھڑی انتظار کر رہی تھی جب پارکنگ میں ایک چھوٹا بچہ بھاگتا ہوا آیا ۔۔

باجی آپکو وہ گاڑی والے بھای بلا رہے ہیں ۔۔

کون ” کہاں ۔۔۔

وہ باہر کھڑے ہیں وہ بچہ کہتا جا چکا تھا

مجھے لگتا ہے بھای ہوں گے آج انہیں کام تھا اسلیے چلے گئے تھے ۔

وہ افق کی جانب دیکھتی کہتی باہر نکلنے لگی۔۔

روکو میں بھی آتی ہوں جانے کیوں افق کا دل عجیب سا ہوا تھا ۔۔

رامین سر ہلاتی باہر نکل گئی ۔۔اُسے گیٹ سے باہر نکلتا دیکھ افق بھاگتے اُپنا بیگ لینے گئ تھی جو قریب سٹول پر رکھا تھا۔

وہ گاڑی آدم کی نہیں تھی اُس نے کالے ڈالے کو دیکھ کر سوچا تھا اور پھر اُس کی نظر گاڑی میں بیٹھے صالح پر پڑی تھی ۔۔

اس کے دل میں کچھ بہت غلط ہونے کا اندیشہ ابھرا تھا وہ ساکت سی اُسے دیکھ رہی تھی

رامین جو باہر نکلی تھی ارد گرد دیکھا لیکن آدم تو کہی نہیں تھا ۔۔

ایک لڑکا اُس کے قریب آیا تھا آپ رامین ہیں ۔۔ آدم بٹ کی سسٹر ” اُس لڑکے نے تصدیق کرنی چاہی ،،اس بار وہ لوگ کوئی گربر نہیں چاہتے تھے

رامین نے ہولے سے سر ہلایا تھا لیکن آپ کون ۔۔وہ اُس کو پریشان صورت سے دیکھتی ابھی اتنا ہی بول پای تھی کے

لڑکے نے اُس کے منھ پر رومال رکھا تھا اور وہ پل میں اپنے ہوش کھوتی اُس کے ہاتھوں میں جھول گئ ۔۔

کوئی لڑکا رامین کو اٹھاتے صالح کی گاری میں ڈال رہا تھا۔۔مینو “… وہ دیکھتی چیختی بھاگی تھی لیکن جب تک وہ قریب جاتی گاڑی زن سے روڈ پر بھاگتی غائب ہو چکی تھی ۔۔

گارڈ اُسے چیختے دیکھ بھاگتا قریب آیا تھا لیکن وہاں پیچھے صرف دھول تھی وہ کا چکے تھے

افق وہی زمین پر ڈھیر ہو گئی وہ چیختی رونے لگی ۔۔

رایان جو آج تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا اُسے روڈ کے بیچ بیچ بیٹھے دیکھ پل میں گاڑی سے اترتا پریشان خال اُسکی جانب لپکا تھا

دوسری جانب سے آدم کی گاڑی بھی رکی تھی ۔۔آدم اُسے روتا دیکھ بھاگتا اس تک پہنچا ،،

افق کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے ” رایان اُس کے قریب بیٹھا اسے ساتھ لگائے اضطراب میں گھرا اُس کے ہاتھ صاف کرتے استفسار کرنے لگا “

وہ روتی جا رہی تھی اُسے اس وقت ہوش نہی تھی کے وہ کہا بیٹھی ہے۔۔ کا حال میں ہے

آدم بٹ اُسے یوں روڈ کے بیج کسی اور کے ساتھ چپکے دیکھ اشتعال زدہ سا ہوتا ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا جھٹکے سے گاڑی روکتا اپنے بھاری قدم اٹھاتا اُس تک پہنچا ” گردن کی رگیں واضح ہونے لگی” غصے کی زیادتی سے تنے ہوے جبڑے اور لال بھبوکا چہرے سے وہ جھکتا اپنی سرد آواز میں استفسار کرنے لگا

افق یہاں کیوں بیٹھی ہو ،، ہوش ہے تمہیں ” یہاں کتنے لوگ ہیں ” دانت پیستے وہ خود کو کچھ سخت بولنے سے روک رہا تھا ،،

مینو کہاں ہے ؟؟…..

بھائی میں بھی یہی پوچھ رہا ہوں لیکن یہ روئے جا رہی ہے رایان پریشانی سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔

آدم نے اس پر ایک نگاہ ڈالی اور افق کے زخمی ہاتھ کو دیکھا جو رایان کے ہاتھوں میں تھا ” آدم نے اُسکا ہاتھ تھامتے اُس کی جانب دیکھا جس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے” یہ کیسے ہوا ہے افق “..

اتنی چوٹ کیسے آئی ” اُس کے دوسرے ہاتھ کو بھی تھامتے قدرے نرمی سے پوچھا ” جن پر تھوڑا تھوڑا خون جما ہوا تھا “

افق نے اُسکی جانب دیکھا اور زارو قطار رونے لگی

رامین “…… آدم ” ۔۔۔۔

آدم کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا “

رامین کہاں ہے “

آدم نے افق کا چہرہ ہاتھوں میں لیا” افق یہاں دیکھو میری طرف ” ۔۔مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے اور رامین کہا ہے ۔

افق روتی اُس کے سینے سے لگ گئی ” آدم کو کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔

افق میں کیا پوچھ رہا ہوں اُسکا بازو دبوچے وہ سخت لہجے میں استفسار کرنے لگا ۔۔۔

رامین ” ۔۔۔۔ وہ لے گیا ” میں نے بہت کوشش کی روکنے کی ،،لیکن ۔۔۔۔۔” روتی فقط اتنا بول پای “.. وہ خود اس وقت صدمے میں تھی یہ ہوا کیا تھا ان کے ساتھ ۔

کیا ہوا ہے رامین کو ۔۔کہاں ہے وہ آدم بٹ پاگل ہونے کو تھا ۔۔

لے گیا وہ مینو کو “..وہ …. بدلہ لے گا اُس سے” وہ اٹکتی بمشکل کانپتے لبوں سے بس اتنا ہی بول پای تھی ۔۔

ڈیم” افق بولو کون لے گیا ۔۔۔افق کی آنکھوں میں اپنی لہو چھلکاتی آنکھیں گھارتے وہ دھارا تھا ۔۔۔

افق اُسکی دھار سے کانپ اُٹھی “

آدم کو اپنا آپ اس وقت زلزلوں کی زد میں دھنستا محسوس ہوا ” اُسکی معصوم بہن ۔۔

افق بتاؤ مجھے میری جان کون لے گیا مینو کو کہا ہے وہ ۔۔تم نے دیکھا ہے اُسے ” ۔۔۔۔

قدرے نرم لہجے میں وہ اس سے استفسار کرنے لگا

افق نے آدم کی شرٹ مٹھی میں بینچ لی صالح ” وہی تھا ہاں وہی تھا اُس کی گاڑی میں وہ اُسے لے گیا

میں جب تک اُسکی گاڑی کے قریب پہنچی وہ غائب ہو چکا تھا ،،،اُسکی شرٹ کھینچتی روتے ہوئے وہ ہزيانی ہونے لگی تھی۔۔

افق میری جان کچھ نہی ہوگا ” میں لے آو گا اُسے اس کے سر پر لب رکھتے وہ لال آنکھوں سے بولا تھا ۔۔

گاڑی کا نمبر یاں کچھ اور ” ۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے

افق نے سر اثبات میں ہلایا ” کار کا نمبر مجھے یاد ہے افق یاد آنے پر جھٹ سے نمبر بولی ” ۔۔

بہت اچھے ” ۔۔۔۔اب اُسے میرے ہاتھوں سے کوئی نہیں بچا سکتا

آنکھوں میں اس وقت شعلے بھڑک رہے تھے ” دماغ کی رگیں غصے سے پھول گئ تھی۔۔ چہرے پر چٹانوں جیسی سختی لیے

رایان کو اُس نے اُسے ساتھ لے جانے کا کہا تھا وہ روتی رہی کے وہ اُس کے ساتھ جائے گی لیکن آدم نے اُس کو سختی سے کسی سے بھی بات کرنے سے منع کیا اور بڑی مشکل سے گھر بیجھا تھا ۔۔۔

اس نے گاڑی میں بیٹھتے حمدان کا نمبر ملایا تھا ۔۔

جو فوراً اٹھایا گیا تھا ۔۔۔

ہاں آدم سب ٹھیک ہے نہ “.. کچھ ٹھیک نہیں وہ صالح رامین کو کہی لے گیا ہے جلدی یہاں پہنچ میں اُسکی گاڑی کا نمبر تجھے سینڈ کرتا ہوں۔۔اُسے ٹریس کروا کے وہ اس وقت کہاں ہے اور مجھے سینڈ کرکے وہاں پہنچ ۔

ہمدان رامین کی گمشدگی کا سن کے غصے سے آتش فشاں بنا تھا ” برداشت کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا “

کیوں اُسے ہی ہمیشہ دوری نصیب ہوتی ہے ” وہ جب جب اُسکے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے ۔

ہمدان نے اُسکی لوکیشن ٹریس کروائ تھی اور آدم کو سینڈ کی ۔۔

خود بھی تیزی سے گاڑی میں بیٹھتا گاڑی بھگا لے گیا وہ جانتا تھا اس کی حساس طبیت کے بارے میں ،،وہ بہت جلد خوف زدہ ہو جاتی تھی اور اب جانے وہ کیسی ہو گی یہ سوچ ہی اُسے تکلیف دے رہی تھی۔..

آج وہ اُس شخص کا قصہ ہی ختم کرنے والا تھا ” اُس لڑکے کو سوچتے وجود میں شدید نفرت اور حقارت کی لہر دوڑ پڑی ،،

آدم اُسکی لاسٹ لوکیشن یہی شو ہو رہی ہے تو وہاں پہنچ میں بھی نکل گیا ہوں آدم کو کہتا وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا تھا ۔۔ دل مسلسل بے چین سا تھا

آدم فون رکھتا لب بینچ گیا تھا ” کیسی ہوگی وہ ۔۔۔کس حال میں ۔۔ بے بسی سے اُسکی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔

آدم کو بار بار گھر سے کال آ رہی تھی ” وہ کیا کہتا اپنی ماں کو کے وہ اپنی بہن کی حفاظت نہ کر پایا ۔۔

اس نے جلدی سے ہانی بیگم کو فون کیا تھا اور انہیں گھر میں کسی کو بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا ۔۔

پھو گھر کال کرکے کہیں کے رامین آپ کے گھر ہے اور ماں کو کچھ نہیں بتانا ۔

افق کو روتا دیکھ سب پریشان ہو گئے تھے ۔۔اُس نے ساری بات روتے ہوے ہانی بیگم کو بتای تھی ۔۔ہانی بیگم کا دل کانپ کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔

پہلے آدم کا فون اور اب افق کو روتا دیکھ اُنکی جان ہوا ہونے لگی تھی ۔

ہانی بیگم نے سونیا بیگم کو کال کرکے بتایا کے آدم رامین کو ان کے پاس چھوڑ گیا ہے رات میں آ جائے گی ۔۔

سونیا بیگم سن کر پرسکون ہوئی تھی ۔۔۔

_________

اُسکی آنکھ منھ پر پانی گرنے سے کھلی تھی ” رامین نے ہربرا کر آنکھیں کھولی تھی ۔۔

اُس کے دونو ہاتھ بندھے ہوئے تھے اس نے آنکھیں کھولتے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تھا ۔۔میں تو گھر جا رہی تھی یہ میں کہاں ہوں ۔۔

اُسکی آنکھوں میں نمی آنے لگی تھی” ۔۔

ویلکم بیک پیاری لڑکی ” صالح نے اُس کے سامنے کرسی رکھتے اس پر بیٹھتے معنی خیزی سے کہا

رامین نے خوف زدہ نظروں سے اُسے دیکھا تھا ۔۔تم ” مجھے یہاں کیوں لائے ہو مجھے گھر جانا ہے وہ روتی ہوئی بولی تھی ۔۔

اوہ بے بی کو گھر جانا ہے چلے جانا جان من لیکن تب جب تمہارے بھای کی عزت حاک میں مل جائے ۔

سوچو کیا گزر رہی ہو گی اُس پر جب وہ تمہیں لینے وہاں پہنچا ہوگا ” کتنا ترپا ہو گا نہ تمہارا وہ کتا ،،،

خر _____ * بھای ۔۔ نفرت کے کہتا وہ قہقہے لگانے لگا ۔

اب اُسے پتہ چلے گا تکلیف کیا ہوتی ہے” میں نے کیا کیا تھا ہاں ،،

تم اچھی لگی تھی تم سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن تمہاری وہ ک “…. یا ____ کزن نے کیا کیا ” میرا تماشا بنا دیا کالج میں ۔۔

تمہارے بھای کی وجہ سے مجھے کالج سے نکال دیا گیا۔

اب دیکھنا کیسا ترپاتا ہوں میں اسے بھی ،،، اُس کے قریب بیٹھتے کروفر سے کہتا وہ اُس کے چہرے پر تھوڑا سا جھکتا بولا

رامین کی جان جا رہی تھی اسے اس وقت وہ کوئی دردندہ لگ رہا تھا جو صرف اپنی پیاس بھوجانا چاہتا تھا

اُس نے آنکھیں میچتے شدت سے آدم کے آنے کی دعا کی تھے ۔۔

بھای پلیز آ جائیں “….

ہاں بلاؤ اپنے بھای کو اور اونچا چیخو ” اس کے بال مٹھی میں بھرتے وہ اُس کے چہرے پر پھنکارہ تھا ۔۔

میں نے سوچا تھا اگر یہ حسین چہرہ میرا نہ ہو سکا تو کسی اور کا بھی نہ ہوگا ” اُس نے کہتے اُس کے بال چھورے تھے ۔۔

رامین کا بدن خوف کے باعث کانپنے لگا تھا پلیز مجھے جانے دو۔۔

وہ کانپتے ہاتھوں کو جوڑتی التجاء کرنے لگی ۔۔

صالح نے اُسکی بات کا تمسخر اڑاتا اپنی جیب سے سگریٹ نکالتے لبوں سے لگایا تھا۔۔

ویسے قسمت بری اچھی ہے تمہاری ہر بار بچ جاتی ہو لیکن اب کیا کروں گی ۔۔

کیوں کہ اس وقت تمہارے اور میرے سوا اس فارم ہاؤس میں کوئی بھی نہیں۔۔

اُس کے چہرے پر دھوا چھوڑتا وہ مسکرایا تھا ۔۔

ایک ہاتھ میں سگریٹ تھامے اُسکی نظریں رامین کے جسم پر گھڑی ہوئی تھی جس سے رامین کو بیک وقت خوف اور کراہیت محسوس ہو رہی تھی۔۔

اسے اپنے اوپر جھکتے دیکھ رامین نے خوسلہ کرتے اُس کے پیٹ پر اپنی پوری ہمت مجتمع کرکے ایک ضرب لگائی جس سے وہ نیچے گرا تھا ۔۔

سالی تیری اتنی جرات اس نے اٹھتے غصے اور طیش میں آتے رامین کے چہرے پر دو تین تھپڑ مارے ،،،

رامین کو اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔سالی بہت غرور ہے نہ تجھے اس چہرے پر ” تو دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں نحوت سے کہتا وہ اُسکی جانب بڑھا تھا

رامین کی سانسیں بند ہونے کے در پر تھی اُس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی تھی

اور اس سے پہلے کے وہ سگریٹ اُس کے چہرے پر لگاتا کسی نے اُسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔

صلاح نے اپنے پیچھے مر کر دیکھا تو ہمدان لال بھبوکا چہرے سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

ایک پل کے لیے وہ اُسکی آنکھوں میں اتری سرخی اور ویحشت سے خوف زدہ ہوا

اُسکے اُسی ہاتھ کو مورتے ہمدان نے ایک زور دار جھٹکا دیا تھا کے صلح کو اپنا بازو ٹوٹتا محسوس ہوا تھا

تکلیف کی شدت سے وہ دہرا ہوا تھا

بے غیرت انسان ” تیری ہمت کیسی ہوئی اُسے چھونے کی ” میری عزت پے ہاتھ ڈالنے کی “..

اس کے اسی بازو کو اپنے شانے پر رکھتے اُس نے اتنی۔زور کا جھٹکا دیا کے وہ ٹک کی آواز سے ٹوٹا ” اور وہی صالح درد سے بلبلاتے زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا

ہمدان کا غصّہ پھر بھی کم نہ ہوا اُسے زمین سے اٹھاتے

اس کے چہرے پر پے درپے تھپڑوں کی بارش کرتے وہ چلایا تھا ۔۔

رامین نے اپنی آنکھیں کھولی تو سامنے وہ دھرا دھر اُس کی درگت بنا رہا تھا ۔۔

ہمدان ” رامین کے لب ہلے تھے ۔۔اُسکی آواز سنتے ہمدان کو ہوش آیا ” اپنے اندر سکون سرایت کرتا محسوس ہوا ” بے چین دل کو قرار آیا اُسکی میٹھی سی سرگوشی میں لیا اپنا نام سن کے “

صالح کو وہی زخمی گرا چھوڑ کر وہ تیزی سے رامین کے قریب گیا تھا اُس کے ہاتھ کھولنے لگا ” اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھے وہ ،،اُس کے بازو پر وہ پاگلوں کی طرح اُسے دیکھنے لگا ” کہی چوٹ تو نہیں لگی ” ٹھیک ہو نہ ۔۔

اُس کے لہجے کی ترپ پر رامین نے نم آنکھوں سے ہولے سے سر ہلایا

ہاتھ کھلتے ہی وہ ہمدان کے کشادہ سینے سے لگی تھی ۔۔

ہمدان کو خود کہاں ہوش تھا ٫٫٫ وہ اسے دیوانہ وار ساتھ لگائے اُس کے نقش نقش کو آنکھوں میں اتارے اُس کے قریب سہی سلامت ہونے کی یقین دھانی کر رہا تھا

یہ بہت برا ہے اس نے مجھے مارا وہ روتی ہچکیاں بھرتے اُسکی جانب اشارہ کرتی بولی

ہمدان نے اپنی مٹھیاں بینچی تھی ۔۔۔کچھ نہیں ہوا میں آ گیا ہوں نہ … یہ آج زندہ سلامت نہیں جائے گا یہاں سے ۔۔

اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشان دیکھتے وہ اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا اٹھا تھا ،، وہ ابھی اٹھا تھا کے اتنے میں

آدم بھی ہانپتا بھاگھتا ہوا وہاں پہنچا تھا۔۔

رامین کو سہی سلامت اپنے سامنے کھڑا دیکھ اُس کے اندر سکون کی ایک لہر اُتری تھی ۔۔

رامین بھاگتی آدم کے سینے سے لگی تھی ۔۔میری جان” میری گڑیا ٹھیک ہے نہ آدم نے اُسے ساتھ لگاے پوچھا

وہ روتے ہوے سر ہلا گئ ۔۔

رامین کو خود سے دور کرتے اُس نے اپنی شعلہ برساتی نگاہ سے ہمدان کو دیکھا تھا ۔۔

اور آگے بڑھتے صالح پر مکو کی بارش کر دی ،، نم آنکھیں اس کی تکلیف کی گواہ تھی ” کتنی شدت سے وہ راستے میں اپنی بہن کے لیے دعا کرتا آیا تھا ” کتنا بے بس محسوس کے رہا تھا وہ آج خود کو ،،، راستے میں دو بار اُسکی گاڑی ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچی “

وہ جو اپنا بازو ٹوٹنے کی وجہ سے پہلے ہے درد سے بلبلا رہا تھا ۔۔

آدم کی مار سے بلکل بے جان ہوتا فرش مر ڈھ گیا ۔۔

بہت غلط لوگو پر ہاتھ ڈالا ہے تو نے “

تجھے کیا لگا تو میری بہن کو لے جائے گا اور مجھے خبر نہیں ہوگی ” تیری تو “…. اُس کے پیٹ پر پاؤ سے ٹھوکر مارتے وہ طیش کے عالم میں دھاڑا

وہ حال کرونگا تیرا کے ساری زندگی یاد کرے گا ۔

رامین آدم کو اُسے مارتا دیکھ خوف زدہ ہوتی ہمدان کے پیچھے چھپنے لگی۔۔

آدم بس کرو مر جائے گا یہ ” ۔۔۔۔ہمدان رامین کے ڈر کی وجہ سے بولا ورنہ اُسکا اپنا ارادہ آج اُسے سبق سیکھانے کا تھا

اس پر ایسا کیس کرو کے ساری زندگی یہ جھیل کی چکی پیستا رہے ۔۔ تاکہ آئندہ کوئی آدم بٹ کی فیملی پر نگاہ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچے

وہ اٹھتا اسکو ایک ٹانگ رسید کرتا گرایا تھا اور پھر رامین کو ساتھ لگائے گاڑی میں بیٹھا تھا

ہمدان پیچھے سر ہلاتا اپنے بندوں کو سب کچھ کلیئر کرنے کا کہتا اُسے گاڑی میں دھکیلتا تھانے لے گیا تھا ۔