Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 5)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

رات میں ڈنر پر سب موجود تھے سوائے آدم بٹ کے جو ضروری کام سے گیا تھا

سب لوگ بیٹھے خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے سوائے افق کے جو بار بار رامین کو شجاع بٹ سے بات کرنے کا اشارا کر رہی تھی لیکن وہ صدا کی ڈرپوک کہاں خود میں اتنی ہمت رکھتی تھی ۔۔۔

رامین نے اُسے آنکھیں دکھائی ” بات کرو نالائق ڈرپوک پھوہڑ لڑکی ” منھ میں جتنی گالیاں آئ وہ اُسے دے چکی تھی لیکن سامنے والی پر کہاں اثر ہونا تھا

رامین ہونٹ دانتوں میں دباتے معصومیت سے افق کی جانب دیکھتی تو کبھی اپنے بابا کی جانب “

بات کرو ورنہ روم میں نہیں آنے دونگی افق نے دادنت پیستے جھک کر اُسکے کان میں سرگوشی کی ۔۔

رامین پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ایک نظر اپنے باپ کو دیکھنے لگی ” ۔۔دونو کو باتیں کرتا دیکھ شجاع صاحب ان کی جانب متوجہ ہوئے

کیا بات ہے میری بیٹیوں نے کچھ کہنا ہے مجھ سے “

جی مامو افق جلدی سے بولی “

ہانی بیگم اُسے گھور کے رہ گئی اُنکی بیٹی کی زبان کہا رکتی تھی ۔۔

جی میرا بیٹا بولو میں سن رہا ہوں ۔۔

مامو جان ” ہمارے کالج پارٹی ہے اور ہمیں جانا ہے پلیز”۔۔۔افق چہرے پر معصومیت طاری کرتے منت بھرے لہجے میں بولی ،،

ٹھیک ہے بیٹا آپ لوگ چلے جانا ان کی اجازت سے دونو کی بانچھیں کھل گئی

لیکن آدم سے پوچھ لینا ، وہ وہاں ہوگا تو زیادہ بہتر رہے گا ۔۔

اُنکی اگلی بات پر ان کی مسکراہٹ پھیکی پڑی ۔۔

ہانی بیگم اور سونیا بیگم نے دونو کے دمکتے چہرے کو دیکھا اور پھر سر نیچے گراتے دیکھ دونو نے بمشکل اپنی مسکراہٹ دبائی

جی بابا ” ۔۔۔کہتی خاموشی سے کھانا کھانے لگی ۔۔

انہیں مسکراتا دیکھ دونو نے منھ بنا کر شکوہ کنا نگاہوں سے انھیں دیکھا اور اٹھتی اپنے کمرے میں چلی گئی

روم میں آتے ہی رامین اپنے نوٹس کھول کر بیٹھ گئی جبکہ افق روم میں چکر لگاتے کوئی نیا آئیڈیا سوچ رہی تھی آدم کو راضی کرنے کا ۔۔

افق تھک جاؤ گی بیٹھ جاو ” اُسے مسلسل چکر لگاتے دیکھ رامین تنگ آتی بولی ۔۔

مل گیا آئیڈیا وہ چٹکی بجاتی اُس کے قریب آئی تھی ۔۔

میں صاف بتا رہی ہوں میں اب کچھ نہیں کروں گی تم خود تو پھنستی ہو ساتھ مجھے بھی پھساتی ہو

کیا !! رامین دانت نکالتے پوچھنے لگی ۔۔

کل بتاؤ گی ابھی سو جا مجھے بھی نیند آ رہی ہے ۔۔

بتمیز ٫،، اُسے لیٹتے دیکھ وہ اسکو ایک دھمک مارتی اپنے نوٹس بیگ میں ڈالنے لگی۔۔

________

اگلے دن وہ دونوں مس صائمہ کے آفیس میں موجود تھی ۔۔

مس صائمہ کو دونوں نے ساری بات بتائی تھی اور اب ان کے بولنے کی منتظر تھے “

تو اس میں میں آپکی کیا ہیلپ کر سکتے ہوں وہ سوالیہ نگاہوں سے دونو کو دیکھتی آئبرو اچکا کر بولی ،،رامین نے ان کے سوال پر جھنجھلائے افق کو دیکھا

افق کو سمجھ آ گئ تھی کے گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلنے والا اسی لیے بولی ۔۔

میم سب نے اجازت دے دی ہے لیکن آدم بھائ نہیں مان رہے ٫ اب دیکھیں نہ اگر ہم نہ آئے تو وہ بھی نہیں آئے گے پارٹی میں ۔۔

اور انہیں چاہیے کے پارٹی اٹینڈ کریں،،اپنے کولیئیگز کے ساتھ گپ شپ لگایں ایسے موقعے روز تھوڑی نہ آتے ہیں ۔۔

افق نے آنکھیں گھوماتے معصومیت سے کہا ” ہاں انہیں آنا چاہیے ۔۔رامین نے بھی معصوم صورت بناتے اُسکی بات کی تردید کی ۔

یہی تو میں بھی کہہ رہی ہوں لیکن نا وہ ہمیں اجازت دیں گے اور نہ خود آئیں گے وہ منھ لٹکاتے بولی

ہمم تم دونوں فکر نا کرو میں خود بات کرو گی ان سے ” ویسے بھی ضروری تو نہیں کے سینیئرز کے ساتھ ہی پارٹی کی جائے ۔۔

لڑکیاں دوسری طرف الگ سے اپنی پارٹی انجوائے کر لیں ۔۔وہ مسکراتے بولی

شکریہ مس دونو کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی ” کہتے وہ دونو باہر آئی اور ایکسایٹمنٹ سے اچھل پڑی

آدم بٹ اپنے آفیس میں بیٹھا تھا جب پیون نے آ کر اُسے پرنسپل کا میسج دیا

پرنسپل نے اسے اپنے آفیس میں بلایا تھا ” ۔۔وہ اٹھتا باہر نکل گیا ۔۔

___________

کالج سے واپسی پر وہ دونوں اُس کی جانب بار بار دیکھتی رہی لیکن وہ بلکل خاموش رہا ۔۔

گھر میں داخل ہوتے جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں جانے لگی پیچھے سے اُسکی کڑہت آواز سنتے ان کے قدم تھمے

ٹھہرو ” ۔۔

اُسکی گرج دار آواز سن کر دونو کی ٹانگیں کانپنے لگی

جج ،،جی بھای دونو نے پلٹتے اُس کی جانب دیکھا

لیزا مراد کو کیوں مارا تھا تم نے افق “…

اُسکی سخت آواز سنتے مینو نے آنکھیں میچی تھی ۔۔ وہ تو اُسکی سخت آواز سے ہی خوف زدہ ہو چکی تھی اوپر سے لیزا مراد والی بات ” انھوں نے تو اپنی جانب سے پوری کوشش کی تھی کے اُسے اس بات کی بھنک بھی نہ لگے ۔

کس کا پوچھ رہے ہو بیٹا ” سونیا بیگم نے قریب آتے آدم سے استفسار کیا ۔۔

انہی دونو سے پوچھ لیں” کیا ہے وقوفیاں کر رہی ہیں کالج میں ” ۔۔آدم نے سرخ چہرے سے تپے کہا “

اب تم مجھے پریشان کر رہے ہو آدم سنایا بیگم نے متفکر ہوتے تینوں کی جانب دیکھا ٫ ایک جانب وہ دونو سر جھکائے کھڑی تھی ۔

آج پرنسپل نے مجھے آفیس بلایا تھا افق کی شکایت کرنے کے لیے ۔۔۔۔

آپکی لاڈلی نے کلاس کی سٹوڈنٹ کو بری طرح پیٹا ہے اور پھر اُسے دھمکایا بھی ہے اگر مجھے بتایا تو اُسکے لیے اچھا نہیں ہوگا مٹھیاں بینچتے آدم نے اُسکی کارستانی سنائی “

اُسکا باپ بہت بڑا بزنس مین ہے آج وہ خود کالج آیا تھا ” اُسکی بیٹی اتنی خوف زدہ ہو گئی ہے کہ کالج ہی نہیں آ رہی ۔۔آپ جانتی ہیں امی ان امیر لوگو کے چونچلے ” اتنی نزاکت سے تو وہ بچے رکھتے ہیں اپنے ” اُسکا باپ سخت غصے میں تھا وہ تو پرنسپل اچھا ہے جو اُسے کسی بھی طرح قابو کیے رکھا اور معاملہ وہی رفع دفع ہو گیا

وہ سرخ آنکھوں سے افق کو دیکھتا سونیا بیگم کو بتا رہا تھا ہانی بیگم انکی بلند ہوتی آوازیں سن کر کچن سے جلدی سے باہر نکلی ” آدم کی بات سنتے ہے ساختہ انہوں نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور خیران ہوتے اپنی بیٹی کی جانب دیکھا،،

افق ” ۔۔۔کیوں کیا تم نے یہ “.. ہانی بیگم شدید برہم ہوتی اس کے قریب آتی اُس کے بازو کو جھنجھوڑ کر استفسار کرنے لگی ،،میں نے ایسا کچھ نہی کیا جھوٹ بول رہی ہے وہ لڑکی ” اگر آپکو یقین نہیں تو میری کلاس سے کنفرم کے لیں ۔۔۔آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کے ہانی بیگم نے اُسے سختی سے ہاتھ لگایا تھا ۔۔اور اس چیز نے افق کے دل کو ٹھیس پہنچائی تھی اسی لیے وہ خاموش رہی آنکھیں پل میں نم ہوئی

مانی جان افق نے مارا تو نہیں تھا اسے بس دھکا دیا تھا اور قسم لے لیں پہلے غلطی اُسکی تھی ۔۔

اُس نے ہمیں حاجن بیبی اور تھرڈ کلاس کہا لیکن افق خاموش رہی ۔۔رامین جو کب سے خاموش کھڑی تھی اپنی مما کے ساتھ لگتی ہمت کرتی بولی ۔۔

لیکن جب اُس نے میرے بابا کا نام لیا تو مجھے غصّہ آ گیا ۔۔

میں نے اسے منع کیا تو وہ مجھ پہر ہاتھ اٹھانے لگی تھی میں نے تو بس اپنے بچاؤ کے لیے اُسے دھکا دیا تھا اگر ایسا نہ کرتی تو وہ مجھ پر ہاتھ اٹھا دیتی وہ نظریں جھکائے رندھے لہجے میں کہتی رکی تھی ۔۔

اور مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں ” میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں لیکن اپنے بابا کے لیے ایک لفظ نہیں ” میں اس بندے کی زبان گدی سے کھینچ ڈالو جو میرے بابا کی جانب غلط الفاظ کا استعمال کرے افق نے سرد تاثرات سے آدم بٹ کی جانب دیکھتے کہا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے اپنے کمرے میں بند ہو گئی

پیچھے رامین نے ماں کے ساتھ لپٹے کن اکھیوں سے آدم کی جانب دیکھتے کہا بھائی غلطی اُسکی نہیں تھی “

آدم کو اس وقت اُس پر شدید غصّہ آ رہا تھا کیا تھی یہ لڑکی ہر جگہ اُسے بے عزت کروانے پر تلی ہوئی تھی

آدم اس میں غلطی افق کی تو نہیں ” پہل اُس نے کی تھی میری بچی بلکل ٹھیک کہ رہی ہے” سونیا بیگم رامین کے سرخ و سفید چہرے کی جانب دیکھتی بولی ۔۔

جاو میری جان جا کر دیکھو اُسے کافی غصے میں لگ رہی تھی ” رامین سر ہلاتی بیگ کندھے پر ڈالتے چلے گئ

انہیں شروع سے ہی افق بہت پسند تھی اور انہوں نے آدم کے لیے اُسے سوچا ہوا تھا ۔۔

سفید یونیفارم میں گلابی دوبٹہ کا حجاب کیے ،،سادہ سے چہرے پر گلابی گالوں والی یہ لڑکی اُنہیں بہت عزیز تھی ۔۔ہمہ وقت اُسکی آنکھوں کی چمک اور ان میں ناچتی شرارت اُنھیں بہت بھاتی تھی ۔۔ان کے بیٹے کے لیے وہ پرفیکٹ تھی جو اُسکی زندگی میں روشنیاں بھر دے ورنہ تو اُسکے غصے اور سخت لہجے کی وجہ سے اُسکی بہن بھی اُس کے آگے کبھی نا بول پای تھی ۔۔

امی آپ اسکی طرفداری کر رہی ہیں اُسے ٹوکنے کی بجائے آدم سرخ آنکھوں سے ماں کی جانب دیکھتا بولا

کیوں کہ غلطی اُسکی نہیں ہے بیٹا “…

بیشک غلطی اسکی نہیں ہے بابھی لیکن اسکو چاہیے تھا کے یہ بات آدم کو ضرور بتاتی ،،اُس کے علم میں ہونا چاہیے تھا کے وہاں کیا ہو رہا ہے ۔۔

ہانی بیگم کو بولتا دیکھ سونیا بیگم نے ایک گہرا سانس خارج کرتے ان کی جانب دیکھا تھا کیوں کہ وہ جانتی تھی کے وہ ہمیشہ آدم کی ہی سائڈ لیتی تھی ۔۔

اس کی کوئی غلطی نہی اور ویسے بھی آپ جانتی ہیں وہ اپنے بابا کا نام کسی کو نہیں لینے دیتی

سونیا بیگم نے سرد انداز میں آخری بات آدم کی جانب دیکھتے کہی تھی۔۔

آدم نے اُن کی بات سنتے غصے سے لب بینچے تھے ۔

لیکن بھابھی اسے تمیز سے رہنا چاہیے آدم بڑا ہے اس سے”

ہانی آپ بس کیا کریں بچی ہے وہ ابھی ‘ اگر یہ سنجیدہ ہے تو اسکا یہ مطلب تو نہیں کے سب ہی ایسے ہوں ۔۔

ماشاء اللہ میری افق اتنی ہنس مکھ بچی ہے ” وقت کے ساتھ ساتھ عقل بھی آ جائے گی ۔۔۔

آدم جاؤ دیکھو بچیوں کو ” ڈرا کے رکھ دیا آتے ہے انہیں ،،تم جانتے بھی ہو کے رامین کتنی جلدی خوف زدہ ہو جاتی ہے اس کے باوجود تم اپنا لہجہ نرم نہیں رکھتے

اب کھڑے کھڑے میرا منھ نہ دیکھو جاؤ اوپر میں آتی ہوں پانی لے کر ” اُس کی اچھی کلاس لیتی وہ کچن میں چلی گئی ،،جبکہ ہانی بیگم وہی صوفے پر ٹک گئی ۔۔

آج اُسکی باتوں میں ” اپنے باپ کے لیے محبت اور جنون دیکھ کر وہ ڈر گئ تھی۔۔۔

رامین نے کمرے میں آتے ہی اپنا بیگ پھینکا اور دروازے سے لگتی تھر تھر کانپنے لگی،، افق جو غم و غصے سے اپنے کمرے میں آئی تھی کچھ ریلیکس ہونے واشروم گئ ،،اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتے باہر آتے سامنے دیکھا تو رامین کی غیر ہوتی حالت دیکھ بھاگتے اس کو ساتھ لگایا

رامین جو خوف سے کانپ رہی تھی اس کے ساتھ لگتی رونے لگی کچھ نہیں ہوا میری جان ” ڈرنے والی کوئی بات نہیں ۔۔

افق اسے ساتھ لگائے خاموش کروا رہی تھی ” افق بھائی کو ہم غلط لگ رہے ہیں ” ہماری بات سنے بغیر وہ اتنا غصّہ ہو گئے آدم جو ان کے کمرے کی جانب آ رہا تھا ناب پر ہاتھ رکھے اندر آنے لگا تھا اُسکی بات سنتے اُسے پشیمانی ہوئی ۔۔

کمرے میں قدم رکھتے دیکھا تو وہ بری طرح کانپتے رو رہی تھی “

آدم اُسے روتا دیکھ متفکر سا ان کے قریب گیا ،،مینو اُسے قریب آتا دیکھ مزید افق کے ساتھ لگی تھی ۔۔

اُسے خود سے ڈرتے دیکھ آدم کو شرمندگی ہوئی تھی “

میرے پاس آؤ میری جان” ۔۔رامین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو پیار بھری نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔

جاؤ میری جان بھای کے پاس ” ہانی بیگم نے اُسے دور کھڑے دیکھ کر کمرے میں داخل ہوتے کہا رامین نے ایک نظر اُس پر ڈالی جو قریب کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

وہ ڈرتی اُس کے قریب گئ ” بھای افق نے کچھ نہیں کیا ۔۔ وہ روتی ایک بار پھر سے بولی ۔۔

آئی ایم سوری میری جان ” کچھ نہی کہتا میں اسے” اب بس کرو ،،رونا نہیں وہ اُسکے آنسو صاف کرتا محبت سے بولا تھا ۔۔

وہ جانتا تھا اُسکی بہن اُس کی سخت طبیعت کے باعث اُس سے زیادہ بات نہی کرتی لیکن اُسکا خود سے یوں خوف زدہ ہونا آج اُسے ازیت میں مبتلا کر گیا تھا ۔۔

اُسکی چھوٹی بہن اس سے دور بھاگتی تھی ی بات بہت عجیب تھی اور آج تک اُس نے نوٹس نہ کی ‘

اچھا میں نے آپکو تو کچھ نہیں کہا پھر رو کیوں رہی ہو ۔۔ اس نے اُس کے گال سہلاتے نرمی سے استفسار کیا

آپ نے افی کو کہا ہے نا ” وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے ،،اور آپ نے اُسے اتنا ڈانٹا بھی ،، وہ اُسی سے ہی شکایت بھی کر رہی تھی اُسکے سخت رویے کی ۔۔

اسکی بات سنتے آدم کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اُسکی بہن کتنی معصوم تھی ،، اچھا اب میں کچھ نہیں کہوں گا ،،اب خوش ہے میری جان ” آدم نے مسکراتے اُسکی جانب دیکھا تھا ۔۔

اور کل۔آپ دونو میرے ساتھ پارٹی میں جا رہی ہیں ۔۔۔تیار رہنا شام کو ،،

کیا سچ بھای” اُسنے خوشی سے چمکتے چہرے سے اُسے دیکھتے پوچھا ۔۔

آدم نے ہولے سے سر ہلایا ۔۔

بھائی آپ بہت اچھے ہیں کہتے وہ اُسکے سینے سے لگی تھی ۔۔۔

خوشی سے سرشار وہ افق کو یہ خبر دینے نیچے بھاگی ” افق نے دونو بہن بھائ کو ایک دوسرے میں مدغم دیکھتے وہاں سے جانے میں ہی بہتری جانی اور ایک جانب سے نکلتی نیچے لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئی

ہانی بیگم اُسے یوں اکیلا بیٹھا دیکھ کے پریشان سی اُس کے قریب آئی” میری جان یہاں کیوں بیٹھی ہو ۔۔

لیکن افق خاموش سی بیٹھی زمین پر نظریں جھکائے ہوئے تھی ۔۔افق میری جان ” ناراض ہو مما سے

اُس کے قریب صوفے پر بیٹھتے ہانی بیگم نے نرمی سے اُس کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرا تو وہ بے تاثر نگاہو سے ماں کی جانب دیکھنے لگی ،،

اس کی آنکھوں کا سرد پن کر ہونٹوں پر قفل لگا دیکھ ہانی بیگم پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔۔

افق نے بوکھالاتے انہیں خاموش کروایا ” کیا ہو گیا ہے مما بلکل بچی نا بن جایا کریں ” رو کیوں رہی ہیں آپ ۔۔

وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے انہیں ساتھ لگاتے بولی

رامین جو اسے خوشی خوشی کل پارٹی جانے کا کہنے آئی تھی دونو ماں بیٹی کو اُداس روتا دیکھ کر نم نگاہوں سے تیزی سے ان کے قریب آئ ” کیا ہوا ہے پھو جان

کیوں رو رہی ہیں آپ ؟؟….

اپنی نم آنکھوں سے انہیں دیکھتی فرش پر ان کے قریب بیٹھتے بولی ” افق کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے

کیا یہاں کسی کو ناراض ہونے کا حق بھی نہیں ہے اب تم روئ نہ تو تمہارا منھ توڑ دونگی میں افق تندہی سے گویا ہوئی ۔۔۔

کچھ نہیں میری جان” تم رونا نہیں ‘ بتاؤ کیا کہنے آئی تھی اسے پیار کرتے خاموش کروآیا تو وہ لاڈ سے ان کے گلے میں بانہیں پھیلائے بولی ۔۔

آدم بھای نے کل جانے کی پرمشن دے دی ہے ” وہ دانت نکالتے بولی تو افق بھی چیختی اٹھ بیٹھی” وُوں ۔۔

مزے مزے ” ایکٹر بھولے کی ایکٹنگ کرتے وہ ہاتھ گھماتے بولی تو وہ دونو مسکرا دی

اگلے دن وہ پارٹی میں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی ۔۔

افق نے ملٹی شیڈز کا فروک زیب تن کیا ہوا تھا اُس کے ساتھ کا ہم رنگ دوبٹہ ایک کندھے پر ڈالے ” پنک کلر کا حجاب لیے ” ۔۔گھنی پلکوں کو مسکرائے سے سجائے ” ہونٹوں پر پنک گلوز لگائے وہ سادہ سی تیاری میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔

دوسری جانب رامین پرپل شورٹ فروک اور پلازو میں مکمل تیاری کے ساتھ باہر آئی تو سامنے اُسے دیکھا جو اپنا حجاب درست کر رہی تھی ۔۔

افی تم بہت پیاری لگ رہی ہو ” رامین نے اسے دیکھتے دل سے تعریف کی تھی ۔۔لیکن جویلری کیوں نہیں پہنی ،،

نہیں یار مجھے اچھی نہیں لگتی اُس نے منھ بنا کر کہا تو وہ مسکرا دی ،، اچھا چلو بھای ویٹ کر رہے ہوں گے ۔۔

اُنھیں قریب آتا دیکھ سونیا بیگم نے دونو کی بلائیں لی تھی ” ما شاء اللہ میری بیٹیاں بہت حسین لگ رہی ہیں ” اللہ پاک نظر بد سے بچائے کہتے اُنہوں نے دونو کا ماتھا چوم لیا ۔۔

وہ دونوں مسکرا دی تھی ” ہانی بیگم کیچن سے باہر نکلیں تو دونو پر نظر پڑتے بے اختیار منھ سے ماشا اللہ نکلا ۔۔

مما دیکھیں ” میں بلکل سنڈریلا لگ رہی ہوں افق اپنا فروک پھیلاتے گھومتے ہوئے بولی ۔۔

میری بیٹی سنڈریلا سے زیادہ پیاری ہے کہتے انہوں نے نم انکھوں سے اُسے دیکھا تھا ۔۔

انہیں اُس میں ہمیشہ اُسکے باپ کا عکس نظر آتا تھا اُس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے انہوں نے آیت لکرسی پڑھ کر پھونکی ۔۔

جاؤ اب آدم باہر انتظار کر رہا ہے تم دونوں کا “..

وہ دونوں مسکراتی باہر کی جانب بڑھ گئ ۔آدم جو اپنی گھڑی دیکھتا بے زار ہو رہا تھا اسے ان پارٹیز اور رش والی جگہوں سے کوفت محسوس ہوتی تھی ۔

نظر اٹھا کر ایک نظر سامنے دیکھا تھا ” وہ دونوں سامنے سے آ رہی ۔۔

کچھ وقت کے لیے وہ ساکت سا رہ گیا تھا ” بے اختیار نظر اُس پر پڑی تھی اور پلٹنا بھول گئی تھی ،،وہ رامین سے بات کرتے کسی بات پر مسکرا رہی تھی اور یہ منظر آدم بٹ کی آنکھوں کو ہے حد حسین لگا تھا ۔۔

وہ اپنی سوچ جھٹکتا فوراً گاڑی میں بیٹھا تھا ” ۔۔وہ دونوں بھی مسکراتی بیٹھ گئی تھی ” بھای آپ نے بتایا ہی نہیں میں کیسی لگ رہی ہوں ساتھ بیٹھی رامین نے کیوٹ سا منھ بناتے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرا دیا ” میری گڑیا بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔یوں ہی باتوں میں راستہ گزر گیا

انہیں گاڑی سے نکلتا دیکھ اُس نے روکا ” میری بات دونو غور سے سن لو ‘ کوئی شرارت یاں الٹی حرکت نہیں کرنا مجھے شکایت نہ ملے کوئی ۔۔

وہ دونوں سر ہلاتی اندر بھاگ گئ ۔۔

__________

پارٹی سٹارٹ ہو چکی تھی ” وہ دونوں اپنی کلاس کی جانب بھاگ گئ جہاں کچھ لڑکیاں ابھی بھی تیار ہو رہی تھی اور کچھ اپنا فوٹو شوٹ کر رہی تھی ۔۔

ان کا لباس دیکھ کر افق کو عجیب سی کوفت ہوئی ” بے ڈھنگا سا لباس ” اور میک اپ سے لدھے چہرے ۔۔

وہ دونوں اپنی دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے لگی ۔۔

آدم انہیں چھور کر کسی کام سے چلا گیا تھا ” کافی وقت گزرنے کے بعد ان کی دوستوں نے باہر جانے کا کہا تھا ۔۔

اوو یار باہر جا کر دیکھتے ھیں کیا ہو رہا ہے سینئرز کیسے انجوائے کر رہے ہیں انکی ایک دوست نے کہا تھا اور وہ بھی اس کے ساتھ باہر نکل گئی ۔۔

باہر دیکھا تو لاؤڈ سپیکر آن تھا ” لڑکوں کا ایک گروپ ڈانس کر رہا تھا اور سب جھرمٹ بنائے اُنھیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

دھکے لگنے کی وجہ سے افق ان سب سے تھوڑا دور ہو گئی تھی لیکن وہاں کھڑے اُس کی نظر مقابل پر پڑی اور وہ وہی ساکت ہو گئی ۔

وہ اُس دن والا لڑکا ہی تھا افق کی نظروں نے اُسے کسی کو دیکھتے پایا ” آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ رامین کو ہی دیکھ رہا تھا “۔ ۔۔۔

وہ لڑکا اُس سے کافی دور کھڑا تھا ورنہ آج وہ اُسکا منھ توڑ دیتی ۔۔

پارٹی تھی وہ کسی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی ورنہ انکے چہرے بگار دیتی ۔۔