Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 8)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
“اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں”
مشی جیسے جیسے رملہ کی باتیں سنتی گئی حیرتوں کے پہاڑ اُس پر ٹوٹتے چلے گئے
“کیا بتاتی جو قیامت میرے اوپر ٹوٹی شیر تو اس سے بالکل بھی واقف نہیں، میری ہی سگی بیٹی کے ساتھ اُس نے، بعد میں کمرے میں آکر مجھ سے معافی مانگ کر گیا تھا، اُسے کس دل سے میں نے معاف کیا ہے یہ میرا دل ہی جانتا ہے اور ہانیہ وہ الگ یہ سمجھ رہی تھی کہ شیر سے اُس کی شادی کروانے میں جیسے میرا ہاتھ ہے بہت مشکلوں سے اس کو منایا ہے”
رملہ مشی سے اپنا دکھ کہتی ہوئی خود کو ہلکا کرنے لگی اتنے دنوں سے وہ مشی سے کونٹیکٹ کرکے اُس کی خیریت بھی معلوم نہیں کرپائی تھی
“پہلے تو مجھے اپنے کیے پر ندامت ہورہی تھی اب تو صاف محسوس ہورہا ہے جو بھائی نے ہانیہ کے ساتھ جو کیا، اس کے بدلے میں مجھے اتنی بڑی سزا ملی شدید افسوس ہورہا ہے مجھے بھائی کی حرکت پر یعنٰی مرد خود چاہے تو کسی دوسری لڑکی کے ساتھ کچھ بھی کرسکتے ہیں وہ مرد ہیں تو اُن کو سب معاف ہے اور اگر یہی سب کچھ ان کی بہن کے ساتھ ہوجائے یا بہن سے غلطی ہوجائے تو بات عزت پر بن آتی ہے واہ اِن مردوں کا انصاف”
مشی رملہ سے تلخی سے بولتی ہوئی فون رکھ چکی تھی مگر شیردل کا سوچ کر اسے ابھی بھی غصہ آرہا تھا اپنا موبائل وہی چھوڑ کر وہ کمرے سے جانے والی تھی تب اُس کے موبائل پر میسج آیا
Talab hai tou tou he nasha…
Ghulam hai dil ye tera…
Khul ke zara jee lo tujhe…
Aja meri banho mai aa…
Mareez e ishq hoon main kar de dua…
Hath rakh de tou dil pe zara…
دلاور کے موبائل سے آیا میسج دیکھ کر مشی کا مذید دماغ گھوم گیا اِس سے پہلے وہ کمرے سے نکل جاتی اُس کے موبائل پر دلاور کی کال آنے لگی
“جب انسان کو ٹینشن ہو تو اُسے گانے ٹیکس کرنے کی بجائے اپنا سر پھاڑ لینا چاہیے”
مشی دلاور کی کال ریسیو کرتی ہوئی اُس کے کچھ بھی بولنے سے پہلے خود بول اٹھی اس کا لب و لہجہ بتارہا تھا وہ کسی بات پر چڑی ہوئی ضرور ہے مگر ناراضگی اب ان دونوں کے درمیان سے ختم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے دلاور خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا
“مجھے اِس وقت ٹینشن نہیں تھی بلکہ آپ کا حال چال پوچھنے کے لیے آپ کو میسج کردیا تھا”
دلاور آفس میں موجود سیدھے سادے لفظوں میں بول نہیں پایا کہ وہ اُس کو اِس وقت مِس کررہا تھا
“حال چال تو میرا ایسے کال کرکے پوچھ رہے ہو جیسے بڑی پرواہ کرتے ہو میری”
مشی اُس سے طنزیہ لہجے میں گویا ہوئی جس پر دلاور بےساختہ بولا
“کیوں ایسا لگا آپ کو کہ میں آپ کی پرواہ نہیں کرتا”
وہ کرسی سے تھوڑا آگے ہوکر اپنی دونوں کہنیاں ٹیبل پر ٹکاتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“اگر میری پرواہ کرتے تو جانے سے پہلے مجھے جگا کر جاتے مجھ سے مل کر جاتے”
مشی نے بولتے ہوئے بےساختہ دانتوں تلے اپنی زبان دبالی کیونکہ جانے سے پہلے وہ جو کہہ کر اور کر کے گیا تھا مشی کو وہ سارا منظر یاد آگیا
“یعنٰی آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب میں جانے سے پہلے آپ سے ملنے کے لیے زرش کے کمرے میں آیا تھا آپ اُس وقت سچ میں سو رہی تھی”
دلاور ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ چھپاتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا
“اچھا ایسا بھی کوئی سین ہوا تھا مجھے تو بالکل خبر نہیں”
مشی انجان بننے کی اداکاری کرتی ہوئی دلاور سے بولی تو دلاور اس کی بات پر مسکرا دیا
“پھر تو آپ اِس بات سے بھی انجان ہوگیں کہ آپ کے آنسوؤں کا ذائقہ نمکین نہیں بہت میٹھا ہے”
دلاور ہونٹوں پر آئی دلفریب مسکراہٹ چھپاکر پیچھے کرسی سے ٹیک لگاتا مشی کو کچھ یاد دلانے کے لیے بولا جس سے مشی کے گالوں پر سرخی اتر آئی انگلیوں کے پوروں نے بےساختہ اپنی آنکھوں کو چھوا جن پر دلاور اپنے ہونٹوں کی مہر چھوڑ کر گیا تھا
“معلوم نہیں تم کیا بات کررہے ہو مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آئی تمہاری بات”
مشی اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی آہستہ آواز میں دلاور سے بولی دلاور اُس سے اِس طرح بات بھی کرسکتا تھا اُسے یقین نہیں تھا
“مجھے معلوم ہے ابھی آپ کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا اب یہ بات میں آپ کے پاس آکر روبرو آپ کو سمجھاؤں گا بالکل ویسے ہی جیسے زرش کے کمرے میں سمجھا کر گیا تھا”
دلاور مشی کی خاموشی سے اندازہ لگا چکا تھا کہ اُس کی کہی ہوئی بات پر مشی کی پلکیں جھگ گئی ہوگیں کاش اِس وقت وہ مشی کا حسین چہرہ دیکھ سکتا
“تو پھر دوبارہ کب آرہے ہو”
تھوڑے وقفے کے بعد مشی کے پوچھے گئے سوال پر دلاور کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ دوڑ گئی کچھ نہ کہہ کر بھی وہ بہت کچھ کہہ گئی تھی یعنٰی وہ اس کی آمد کی منتظر تھی
“یعنی آپ چاہ رہی ہیں کہ میں اب روبرو آپ کو اپنی بات لفظوں سے نہیں سمجھاؤں بلکہ عملی مظاہرہ کر کے سمجھاؤں”
بولتے ہوئے دلاور کا لہجہ شوخ ہوا جس پر مشی بری طرح جھینپی
“الٹی بات مت کیا کرو میں تو ویسے ہی تمھارے آنے کا پوچھ رہی ہوں کہ کب آرہے ہو تم”
مشی اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی دلاور سے بولی
“اگر آپ کا دل مجھے یاد کررہا ہے تو آپ حکم دیں میں ابھی دوڑا چلا آتا ہوں آپ کے پاس”
دلاور ٹیبل پر رکھا ہوا سیگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر اٹھاتا ہوا سنجیدہ لہجے میں مشی سے بولا
“اب میرا دل اتنا بھی فارغ نہیں ہے جو تمہیں یاد کرنے بیٹھ جائے”
مشی پل بھر میں اس کی خوش فہمی کو ہوا کرتی بولی
“کاش کہ دلاور کی زندگی میں کوئی ایسا پل آجائے جب دلاور کو بھی اپنی خوش قسمتی پر ناز ہو کہ کوئی ایسا ہے جو دلاور کو شدت سے یاد کرتا ہے”
دلاور سیگریٹ جلانے کے ساتھ افسردگی اپنے لہجے میں شامل کرتا مشی سے بولا
“تمہارے بابا سائیں اور زرش تمہیں شدت سے یاد کررہے ہیں ان دونوں کے لیے جلدی سے آجاؤ”
مشی ہونٹوں پر آئی حسین مسکراہٹ کو چھپاتی ہوئی دلاور سے بولی
“مجھ سے اِس وقت صرف اپنی بات کریں کسی دوسرے کی نہیں یہ بتائیے آپ یاد کررہی ہیں کہ نہیں”
وہ سیگریٹ پیتا ہوا لہجے میں گہری سنجیدگی لائے مشی سے پوچھنے لگا
“چلو مان لو کہ میں بھی تمہیں یاد کررہی ہوں ویسے بھی دونوں بار تمہارے جانے سے ہمارے بیچ کچھ ادھورا رہ گیا تھا اچھا ہے وہ کام بھی پورا ہوجائے گا”
مشی کے بولنے پر دلاور شاکڈ سا کرسی سے گرتے گرتے بچا
“ہم دونوں کے بیچ جو ادھورہ رہ گیا تھا۔۔۔ مطلب ایسا کیا رہ گیا تھا؟؟”
دلاور گہری سوچ میں ڈوبا مشی پوچھنے لگا پچھلی ملاقات میں کیا وہ اور بھی کچھ توقع کررہی تھی دلاور سے جب وہ زرش کے کمرے سے جارہا تھا اور اُس سے پہلے یعنٰی جب وہ مشی کی جیولری اتار رہا تھا، اور پھر اُس نے مشی کو روتا ہوا دیکھ کر سونے کا بول دیا تھا تو کیا وہ اُس وقت بھی چاہتی تھی کہ اُن دونوں کی بیچ سب کچھ مکمل ہوجائے یعنی اُن دونوں کا بےنام سا رشتہ
“دلاور تم بھی ناں ایک نمبر کے بھلکڑ ہو بھول گئے ہم دونوں کے بیچ کمپٹیشن ہونا تھا جو جیتے گا ہارنے والا اُس کی بات مانے گا یہ ہم دونوں میں تہہ ہوا تھا”
مشی دلاور کی غائب دماغی کو موبائل پر محسوس کرچکی تھی تبھی اُس کو یاد دلاتی ہوئی بولی جس پر دلاور آہستہ سے ہنسا
“تو آپ پنجہ لڑانے کے لئے مجھے آنے کی دعوت دے رہی ہیں”
دلاور افسوس بھرے لہجے میں بولتا اسموکنگ کرنے کے ساتھ مشی سے پوچھنے لگا
“ارے تم یہ سوچ کر یہاں آؤ کہ اگر تم مشی سے جیت گئے تو میدان مار لوگے”
مشی اُس کو جیتنے کا لالچ دیتی ہوئی بولی جس پر دلاور مسکرا دیا
“میدان تو میں ویسے بھی مار ہی لوں گا۔۔ ویسے آپ کو مجھ سے جو بات منوانی ہو ایسے ہی بول دیں میں وہ بھی مان لوں گا مجھ سے پنجہ لڑا کر اپنی ننھی سی جان پر کیوں ستم کرنے کا سوچ رہی ہیں”
دلاور منہ اور ناک سے سیگریٹ کا دھواں نکلتا ہوا مشی سے بولا
“بڑا کونفیڈنس ہیں خود کی جیت پر دلاور ایسا کرو جمعے کی شام کو آجاؤ”
مشی دونوں آئی برو اونچی کرکے بولی پھر بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلی
“کیو جمعے کی شام کو آپ کچھ خاص دینے والی ہیں”
دلاور سیگریٹ پیتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“اوفو دلاور ایک تو تم بحث بہت کرتے ہو سنو تم پرسوں آرہے ہو”
مشی اب کی جھنجھلاتی ہوئی بولی
“ٹھیک ہے میں پرسوں شام کو آرہا ہوں پھر آپ سے ملاقات ہوتی ہے”
دلاور سیگریٹ کا بچا ہوا ٹکڑا ایش ٹرے میں پھینک کر مشی کو اپنے آنے کا پروگرام ڈن کرتا ہوا بولا تو مشی اُس کی بات سن کر مسکراتی ہوئی کال بند کرچکی تھی
“یہ لیں پانی پی لیں دلاور سے بات کررہی تھی پرسوں شام کو آرہا ہے میں زرش کو دیکھ کر آتی نہ جانے کہا ہے اتنی دیر سے”
مشی اپنے سُسر کو جو کافی دیر سے کھانس رہا تھا پانی دے کر اُسے دلاور کے آنے کی اطلاع دیتی زرش کو ڈھونڈنے کے لیے چھت پر جانے لگی دلاور کے باپ نے پانی کا گلاس لینے کے ساتھ ناگوار نظروں سے اپنی بہو کو دیکھا تھا جسے دوپٹہ تک لینے کی تمیز نہ تھی کاندھے کے ایک سائیڈ پر دوپٹہ ڈالے، کمر تک آتے بالوں کو دوسرے کاندھے پر کیے وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی
***
“شاید کوئی چھت پر آرہا ہے”
مشی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی چھت پر آرہی تھی تبھی اُسے زرش کی گھبراتی ہوئی آواز آئی جب تک مشی چھت پر پہنچی وہ دوسری چھت پھلانگتا ہوا وہاں سے جاچکا تھا زرش سفید پڑتا چہرہ لیے مشی کو گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگی
“کون تھا وہ”
مشی جو کسی لڑکے کو چھت پھلانگتے ہوئے دیکھ چکی تھی زرش کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی
“کک۔۔۔ کون تھا کوئی بھی تو نہیں بھابھی”
زرش تھوڑا گھبراہٹ کے ساتھ اٹکتی ہوئی مشی سے بولی اور مشی کی نظروں اور سوال سے بچنے کے لیے سر پر دوپٹہ رکھتی وہ چھت سے نیچے جانے لگی
“زرش میری ایک بات یاد رکھنا کچی عمر کی محبت صرف اور صرف رسوائی کا سبب بنتی ہیں اور کچھ نہیں”
مشی رزش کی لڑکھڑاتی ہوئی زبان اور چہرے کی اڑی ہوئی رنگت کو دیکھ کر معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی تھی تبھی اُس کو سمجھاتی ہوئی بولی اور خود سیڑھیوں سے اتر کر نیچے جانے لگی
***
“مہرین بند کرو اپنی بکواس روز روز تمہارے طنز سن کر میں تنگ آچکا ہوں”
حسام چاۓ سے بھرا ہوا کپ میز پر پٹختا ہوا مہرین پر چلایا جس کا مہرین پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ خود غصُے میں بھری ہوئی بیٹھی تھی
“تم مجھ سے تنگ آچکے ہو حسام ارے تنگ تو میں تم سے آچکی ہوں اگر تمہیں اُس سے اتنی ہی محبت تھی تو اُس کو چھوڑ کر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی”
مہرین میز پر زور سے ہاتھ مارتی ہوئی چیخ کر بولی تو میز پر رکھے ہوئے ناشتے کے برتن بھی بج اٹھے حسام مہرین کی بات سن کر اپنا غصّہ ضبط کرتا چل کر مہرین کے پاس آیا
“تمہاری اطلاع کیلئے عرض ہے شادی ہوچکی ہے اُس کی چند دنوں پہلے اُسی شیردل کے ساتھ اِس لیے اب میرا نام اُس کے نام کے ساتھ جوڑ کر مجھے اُس کے نام کے طعنے دینا بند کرو”
حسام غصّے کے باوجود مہرین کو سمجھاتا ہوا بولا تو مہرین کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور حسام کے سامنے آتی ہوئی بولی
“اگر اُس کی شادی ہوچکی ہے تو یہ بات تم اپنے آپ کو سمجھاؤ نا کہ مجھے، پہلے تم جاگتے میں اُس کے خیالوں میں کھوئے رہتے تھے اب تم نیند میں بھی اُس کا نام پکارتے ہو کاش کہ مجھے پہلے معلوم ہوجاتا تم اُس کی محبت میں مکمل ڈوب چکے ہو تو میں کبھی بھی تم سے شادی نہیں کرتی”
مہرین اپنی قسمت پر افسوس کرتی بولی اسے بٹے ہوئے انسان کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مشکل ترین کام لگ رہا تھا ساتھ ہی اُس کو اپنے مستقبل تاریک نظر آرہا تھا
“اگر اب تم نے میرے سامنے اُس کا نام لیا تو میں تمہیں بھی طلاق دے دو گا، کیوکہ تم جیسی شکی مزاج عورت کے ساتھ گزارا کرنا بہت مشکل کام ہے”
حسام مہرین کو دھمکی دیتا ہوا آفس کے لیے نکل گیا
اسے نہیں معلوم تھا کہ مہرین سچ بول رہی ہے یا اپنی طرف سے باتیں بنارہی ہے وہ نہیں جانتا تھا لیکن کل ہی اسے پتہ لگا کہ شیردل ہانیہ سے شادی کرچکا ہے جس کے بعد وہ رات کافی دیر تک ہانیہ کے بارے میں سوچتا رہا
***
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی دلاور سے موبائل پر بات ہوئی تھی یوں موبائل پر باتوں کا سلسلہ کیا چل نکلا اسے تو اب آہستہ آہستہ دلاور اچھا لگنے لگا تھا
“اونٹ کہیں کا” اس کی لمبی ہائیٹ کو سوچتی وہ زیرلب بڑبڑائی پھر اپنی سوچ پر اس کے چہرے پر خود ہی مسکراہٹ آگئی
“یہ اکیلے تنہا بیٹھے خود ہی خود کیوں مسکرایا جارہا ہے خیریت تو ہے بھابھی”
زرش مشی کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے بولی اس دن کے بعد سے نہ تو منور زرش سے ملنے چھت پر آیا تھا نہ ہی مشی نے منور کے متعلق زرش سے کچھ پوچھا تھا نہ ہی منور کے حوالے سے ان دونوں کے درمیان کوئی بات ہوئی تھی
“ہاں بس تمہارے بھائی کی یاد آگئی تھی تو چہرے پر خود بخود مسکراہٹ آگئی”
مشی مسکرا کر زرش کو جواب دیتی ہوئی واش روم جانے لگی تاکہ شاور لے سکے
“اُف بھابھی آپ یہاں اکیلے اکیلے مسکراتی ہیں، بھائی وہاں اکیلے اکیلے مسکراتے ہوگے اس سے تو اچھا ہے آپ بھائی کے پاس جاکر شہر میں رہ لیں”
زرش وہی بیٹھی مشی کو مشورہ دیتی بولی جس پر مشی الماری سے کپڑے نکالتی ہوئی ایک مرتبہ پھر مسکرا کر زرش کو دیکھنے لگی جیسے زرش نے اس کو اس کے دل کی بات بول دی ہو
“دلاور بھی ذکر کررہا تھا مگر میں نے ہی منع کردیا مجھے یہاں رہنے میں کوئی پرابلم نہیں”
مشی زرش کو دلاور اور اپنے درمیان ہونے والی گفتگو کے متعلق بتانے لگی فون پر مشی نے بھلے ہی دلاور کی آفر سچ میں رد کردی تھی لیکن اندر سے وہ خوش تھی اور اس کا اپنا ارادہ بھی شہر جاکر دلاور کے ساتھ رہنے کا تھا
“لو جی یعنٰی آپ نے خود بھی اکیلے بیٹھے بیٹھے مسکرانا ہے اور میرے بھائی کو بھی ترسانا ہے”
زرش منہ بنا کر بولی تو مشی زور سے ہنس دی
“اتنی چھوٹی ہو تم زرش اور کتنی بڑی بڑی باتیں کرتی ہو”
مشی زرش کو بولتی ہوئی اپنا منتخب کردہ ڈریس بیڈ پر رکھ چکی تھی
“ارے یہ والا ڈریس تو بہت عام سا لگتا ہے یہ مت پہنے آج، میں خود آپ کے لیے اپنی پسند کے کپڑے نکالتی ہوں”
زرش بولتی ہوئی جھٹ سے بیڈ سے اٹھی اور بنا مشی کے جواب کا انتظار کرتی اس کے لیے الماری سے ایمبرائڈری ہوا ایک ڈریس نکال چکی تھی
“نہیں یار یہ ڈریس میں گھر میں پہن کر نہیں بیٹھ سکتی”
مشی اس لباس کو دیکھتی ہوئی زرش سے بولی وہ گھر میں کیجول ارام دے ڈریس پہننے کی عادی تھی
“ارے تو آپ سے کس نے کہہ دیا کہ آج ہم گھر میں وقت گزاریں گے میں بابا سائیں سے اجازت لے چکی ہوں ابھی آپ اور میں شہر جارہے ہیں مجھے بہت ساری شاپنک کرنی ہے وہاں جاکر”
زرش شہر جانے کے لیے کچھ زیادہ ہی ایکسائٹڈ تھی اس لیے مشی سے بولی
“مگر دلاور کو تو نہیں معلوم ہے ناں یار وہ کہیں ناراض نہ ہوجائے اس طرح ہم دونوں کے اکیلے شہر جانے پر” مشی فکرمند لہجے میں بولی تھی
“ارے میری پیاری بھابھی بابا سائیں نے اجازت دے تو دی پھر بھائی کیوں ناراض ہوں گے، بابا سائیں سے تو بڑے نہیں ہیں بھائی ویسے بھی گھر میں بابا سائیں کی ہی چلتی ہے شروع سے پلیز بھابی بابا سائیں نے صرف اس شرط پر شہر جانے کی اجازت دی ہے کیونکہ آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں انکار مت کیجئے گا پلیز فرح کا بھائی ہم دونوں کو شہر چھوڑ دے گا”
زرش مشی کو کنفیوز دیکھ کر التجائی انداز میں بولی تو مشی نے اپنا سیل فون اٹھایا
“اوکے میں دلاور کو پہلے انفارم کردیتی ہو کہ ہم دونوں بابا سائیں کی پرمیشن پر وہاں آرہے ہیں”
مشی نے بولتے ہوئے دلاور کا نمبر ڈائل کیا مگر بیل جارہی تھی وہ کال ریسیو نہیں کررہا تھا تب مشی کو یاد آیا کہ تھوڑی دیر بعد ہی اس کو میٹنگ کے سلسلے میں کہیں جانا تھا شاید وہ اس وقت اسی سلسلے میں بزی ہوگا مشی نے سوچتے ہوئے سیل فون سائیڈ پہ رکھ دیا اور شاور لینے چلے گئی
مشی کے واش روم جانے کے بعد زرش نے مشی کا فون اٹھایا اور منور کو کال کرتے ہوئے اپنے پلان کا بتانے لگی چند دنوں پہلے ہی وہ کال ریکارڈنگ کا اپشن کلوز کرچکی تھی اور مشی کے موبائل میں منور کا نمبر فیڈ کرچکی تھی جس کا مشی کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا مگر منور نے کبھی بھی مشی کے نمبر پر کال نہیں کی تھی وہ صرف زرش سے چھت پر ملنے آتا مگر جب سے مشی کو ان دونوں کے بارے میں پتہ چلا تھا تب سے ان دونوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ ترک ہوچکا تھا
***
“یہ فرح کا بھائی تو نہیں ہے زرش یہ لڑکا کون ہے، اے تم جو بھی کوئی ہو گاڑی فوراً روک دو”
شہر کی حدود میں داخل ہوتی گاڑی ایک جگہ پر روک دی گئی تھی جہاں ماجد (فرح کا بھائی) گاڑی سے اترا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا لڑکا گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیونگ کرنے لگا اس صورتحال کو دیکھ کر مشی کی رنگت اڑ چکی تھی مگر زرش بالکل نارمل بیٹھی ہوئی تھی
“آپ پریشان مت ہوں بھابھی مجھ سے خوف مت کھائیے میں صرف آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں میرا نام منور ہے زرش اور میں ایک دوسرے کو پچھلے دو سال سے جانتے ہیں میں زرش کے متعلق سنجیدہ ہوں اور اس کو اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں اس سے آپ کے گھر کی چھت پر میں ہی ملنے آتا رہا ہوں پلیز بھابھی آپ ہم دونوں کو ملانے میں ہمارا ساتھ دیں میں اور رزش آپ کا یہ احسان زندگی بھر یاد رکھیں گے”
منور ڈرائیونگ کے دوران بولے جارہا تھا جبکہ غصے کے مارے مشی زرش کو دیکھ رہی تھی جو اب اس کے ساتھ شرمندہ سی بیٹھی تھی
“منور گاڑی یہی روک دو اگر تم سچ میں زرش کو اپنی عزت بنانا چاہتے ہو تو اپنے گھر والوں کو بیچ میں لاؤ اور اس کو عزت دار طریقے سے اپناؤ اس طرح تو میں تم دونوں کا کبھی بھی ساتھ نہیں دوں گی کیونکہ میں دلاور کو دھوکا نہیں دے سکتی میں اس سے کچھ بھی نہیں چھپاؤں گی”
مشی نے آخری جملہ زرش کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولا یہ لڑکی کتنی سیدھی لگتی تھی اور اس کو دھوکے بازی سے شہر لےکر آئی تھی مشی کی بات سن کر منور نے گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے روک دی مشی فوراً گاڑی سے نیچے اتر گئی دوسری سائیڈ سے زرش بھی گاڑی سے باہر آئی تو مشی زرش کا ہاتھ تھام کر وہاں سے جانے لگی نکلی
“بھابھی پلیز میری بات سنیں کیا ہم یہاں بیٹھ کر تھوڑی دیر بات کرسکتے ہیں”
منور مشی کا راستہ روکتا ہوا اس سے بولا اس سے پہلے مشی اس کو کوئی جواب دیتی سامنے سے آتے دلاور کو دیکھ کر وہ بری طرح گھبرا گئی وہاں دلاور کو دیکھ کر گھبرا تو زرش اور منور بھی گئے تھے
“آپ دونوں یہاں کیا کررہی ہیں اور یہ کون ہے”
دلاور جوکہ اس ہوٹل میں شیردل کے بغیر ہی میٹنگ اٹینڈ کرنے آیا تھا گاڑی سے نکلتے اس کی نظر وہاں موجود مشی اور زرش پر پڑی جنہیں دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا اور ساتھ موجود وہ لڑکا، دلاور اس لڑکے کو پہچانتا تھا وہ اس کے گاؤں کا ہی لڑکا تھا مگر وہ مشی اور زرش کے ساتھ کیا کررہا تھا
“دلاور یہ منور ہے گاؤں میں ہی رہتا ہے”
مشی دلاور کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر سخت گھبرائی تھی مگر کچھ نہ کچھ تو بولنا ہی تھا اس لیے منور کا تعارف کروانے لگی
“یہ بات میں جانتا ہوں لیکن یہ آپ دونوں کے ساتھ کیا کررہا ہے اور آپ دونوں یہاں کیسے آئی ہیں”
دلاور کے نہ صرف لہجے میں سختی عیاں تھی بلکہ انکھوں سے بھی سختی صاف جھلک رہی تھی اور اب کی بار وہ غصب ناک نظروں سے مشی کی بجائے زرش کو دیکھ رہا تھا جو باقاعدہ خوف سے کانپ رہی تھی
“دلاور بھائی میں ماجد کا دوست ہوں آپ کی بہن اور وائف اسی کے ساتھ یہاں آرہی تھی مگر اس کی گاڑی اچانک خراب ہوگئی تو میں انہیں یہاں تک لایا ہوں اور ویسے بھی بھابھی سے تو میری پہلے سے اچھی سلام دعا ہے یہ مجھے جانتی ہیں کیوں بھابھی”
منور دلاور کو مشی سے اپنی جھوٹی واقفیت سے اگاہ کرتا ہوا گویا ہوا جس پر مشی کی جان جل کر رہ گئی وہی دلاور کے ماتھے پر لاتعداد شکنوں کا جال واضح ہوا جو مشی کو صاف نظر آیا
“ہاں میری ایک دو مرتبہ سرسری سی بات چیت ہوئی تھی اچھا لڑکا ہے یہ”
مشی نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا کر بولی تاکہ دلاور کو زرش اور منور کے بارے میں شک نہ ہوسکے ناجانے اس نے کیو زرش کو بچایا تھا شاید اسے اپنا وقت یاد آگیا تھا
“اوکے اب آپ لوگ مجھے اجازت دیں میں چلتا ہوں”
منور اپنی جان بچاتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا جبکہ دلاور ابھی بھی اپنی انکھوں میں ناگواری سمائے اب مشی کو دیکھ رہا تھا
“کب سے بات چیت ہے آپ کی اس لڑکے سے آپ نے پہلے تو کبھی میرے سامنے ذکر نہیں کیا اور یوں کسی غیر لڑکے کے ساتھ اتنی دور آنا، مشی کیا آپ میں عقل نہیں اور آپ خود تو آئی ہیں زرش کو بھی اپنے ساتھ لے آئیں”
دلاور نے وہی کھڑے زرش کے سامنے مشی پر اعتراضات اٹھانے شروع کردیے
“دلاور پلیز ایسا کچھ نہیں ہوا ہے جو تم اتنا برا مان رہے ہو ہم بابا سائیں کی پرمیشن پر ہی یہاں آئے تھے”
مشی یہ بالکل بھی نہیں چاہتی تھی کہ دلاور زرش کے سامنے اسے کچھ کہے اس لیے خود بھی سیریس ہوکر بولی جس پر دلاور خاموش تو ہوگیا مگر اُس کے چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ اُس نے اپنے غصے کو کنٹرول کیا ہے
“مجھے دیر ہو رہی ہے نذیر آپ کو واپس گاؤں چھوڑ دے گا میں رات میں کال کروں گا بعد میں بات کرتے ہیں”
دلاور نے مشی سے کہتے ہوئے سخت نگاہ زرش پر بھی ڈالی اور وہاں سے چلا گیا جبکہ شیردل کا ڈرائیور مشی اور زرش کو لےکر واپس گاؤں کے راستے چل دیا
***
شیردل نے آفس سے واپس گھر آنے کے بعد اپنے بیڈ روم میں قدم رکھا تو ہانیہ کو آئینے کے سامنے کھڑا پایا وہ شاید کہیں جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی
“کہیں جانے کی تیاری ہے کیا”
شیردل ہانیہ کے پاس آتا اُس سے اچھے موڈ میں سوال کرنے لگا تو ہانیہ کے خود پر پرفیوم کرتے ہاتھ رک گئے وہ ابرو اچکا کر شیردل کی طرف دیکھنے لگی
“تو تمہیں کیا لگ رہا ہے میں تمہارے لئے تیار ہو رہی ہوں”
اس نے اپنے طنز سے شیردل کے اچھے موڈ کا ستیاناس کرنا چاہا وہ نہ تو اُس کو خود سے مخاطب کرتی تھی نہ ہی چاہتی تھی کہ شیردل اُس سے کوئی بات کرے جبھی شیردل کے نارمل باتوں کے جواب میں اُس کو جلی کٹی باتیں سناتی تھی مگر شاید سامنے کھڑا یہ شخص کوئی صدا کا ڈھیٹ انسان تھا جو اُس کے اتنے تحقیر آمیز رویہ پر بھی اُس پر جان چھڑکتا تھا
“میرے لیے تیار نہ ہو تب بھی کوئی مسئلہ نہیں تم مجھے ہر روپ میں دل و جان سے قبول ہو”
شیردل ہانیہ کا کا رُخ اپنی جانب کرتا اس کی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہانیہ کو پُرشوق نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا وہ اِن دنوں اُس کو پانے کے بعد بےحد خوش تھا اِس لئے اُس کی باتوں کا برا نہیں مانتا تھا
“کاش کہ میں بھی تم کو تمہارے بولے گی لفظ لوٹا سکتی مگر میں یہ نہیں بول سکتی کہ میں بھی تمہیں ہر روپ میں قبول کرچکی ہوں”
ہانیہ شیردل پر طنز کرتی بےذار سے لہجے میں بولتی ہوئی اُس کے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹاچکی تھی جس پر شیردل کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی
“قبول تو تم مجھے کرچکی ہو چاہے انجانے میں ہی سہی ہمارا نکاح زور زبردستی سے نہیں بلکہ تمہاری دلی رضا مندی سے ہوا ہے میرے لئے یہی کافی ہے کہ تم جائز رشتے میں بندھ کر مجھ سے جڑ چکی ہو”
ہانیہ سے شیردل کی بات پر کوئی جواب نہیں بن پڑا تو وہ شیردل کو گھورتی ہوئی اپنا ہینڈ کلچ ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھانے لگی تاکہ کمرے سے باہر نکل جائے
“خفا کیوں ہورہی ہو یار میں نے کوئی غلط بات تو نہیں بولی تم سے، اتنا غصّہ مت کیا کرو ہر وقت”
شیردل کو اندازہ ہوگیا تو وہ اُس کی بات پر اب کمرے سے جانے والی ہے تبھی شیردل ہانیہ کی کمر میں اپنے دونوں بازو حماہل کرتا ہوا پیار بھرے لہجے میں بولا ویسے بھی جو کنڈیشن آج کل کے دنوں میں اُس کی تھی ایسے میں ہانیہ کا زیادہ غصّے میں رہنا ٹھیک بھی نہیں تھا
“یہ رات کا وقت نہیں ہے جب تم مجھ پر حاوی ہوکر اپنی چلاؤ پیچھے ہٹو”
ہانیہ شیردل کو دیکھ کر غراتی ہوئے بولی تو شیردل ہانیہ کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹاتا ہوا آہستہ آواز میں بڑبڑایا
“رات میں ہی سہی 24 گھنٹے میں دو گھنٹے تو مجھے ایسے مئیسر ہوتے ہیں جن میں، میں خود کو اپنے نام کی طرح شیر سمجھو”
شیردل کی بڑبڑاہٹ پر ہانیہ گھور کر شیردل کو دیکھنے لگی اِس لئے شیردل جلدی سے بولا
“نہیں وہ ایسے ہی منہ سے نکل گیا ارے ہاں یاد آیا دوپہر میں ڈاکٹر صاحب کی کال آئی تھی آج ان کی طرف انوائٹیڈ ہیں ہم دونوں ڈنر پر رائٹ میں دس منٹ میں ریڈی ہوجاتا ہوں پھر چلتے ہیں”
ِاِس سے پہلے ہانیہ کا غصّہ مزید بڑھتا شیردل جلدی سے بات بناتا ہوا ہانیہ سے بولا وہ واقعی فراموش کر بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر عزیر نے دوپہر میں خود اِس کے نمبر پر پرسنلی کال کرکے اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی
“ایسا کرو تم گھر پر ہی رہو، تمہارے وہاں جانے کا کوئی فائدہ نہیں شاید تمہیں وہاں جاکر اچھا محسوس بھی نہ ہو”
ہانیہ اُس کو وارڈروب کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر بولی تو شیردل مڑکر ہانیہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا
“میرے کہنے پر صائمہ آنٹی نے میری یونیورسٹی کی فرینڈ کو بلایا ہے وہاں لائبہ کے ساتھ ردا بھی موجود ہوگی، ردا وہی لڑکی جس کا تم نے اُس کے باپ سے ایک رات کے لیے سودا کرکے اُس کو یوز کیا تھا بالکل ویسے ہی جسے تم نے حسام کو میری دو راتوں کی قیمت دے کر مجھے دو راتوں تک استعمال کیا تھا”
ہانیہ تحقیر آمیز لہجے میں شیردل سے بولی جس پر شیردل کا خجالت سے ایک پل کے لئے رنگ سرخ ہوا مگر دوسرے ہی پل وہ قدم اٹھاتا ہوا ہانیہ کے پاس آیا
“میں نے تمہیں دو راتیں یوز کیا اُس کی معافی میں تم سے مانگ چکا ہوں، اچھا ہے آج وہاں ردا بھی موجود ہے میں اُس سے بھی سب کے سامنے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں اگر وہ یہ کہہ دے کہ میں نے اُس رات اُس کو بھی یوز کیا”
شیردل ہانیہ کے پاس آکر اُس سے سنجیدگی سے بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلا گیا
***
“اگر تم اس لیے ایسا بول رہی ہو کہ اب وہ میرا شوہر ہے اور مجھے اُس کا کارنامہ سن کر دکھ ہوگا تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے”
ہانیہ کو ایک پل کے لئے ردا کی بات سن کر حیرت ہوئی تھی مگر دوسرے ہی پل وہ سنبھلتی ہوئی ردا سے بولی
“نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے میں سچ بول رہا ہوں اگر تمہارا شوہر اُس رات میرے ساتھ کچھ غلط کرتا تو میں ابھی تک خاموش نہیں بیٹھتی، اُس رات اُس نے میرے ساتھ کچھ بھی نہیں کیا میں نے اُس کے پرپوزل کو ریجیکٹ کیا تھا شاید اِس بات پر اُس کی ایگو ہرٹ ہوئی ہو یا پھر وہ اِس کو اپنی انسلیٹ سمجھا ہو اور ابو نے بھی اُس کو چیٹ کیا تھا تبھی بدلہ لینے کے لئے تمہارے شوہر نے یہ قدم اٹھایا وہ اپنے فلیٹ میں مجھے بلا کر اُس رات وہاں رکا نہیں بلکہ وہاں سے چلاگیا تھا لیکن اِس کے باوجود میں اُس کو شریف آدمی ہرگز نہیں کہوگی نہ ہی وہ اچھا انسان ہے اپنی دشمنی پوری نکالتا ہے وہ بھی بہت برے طریقے سے”
ردا کی بات پر ہانیہ اور لائبہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں، یہاں مکس گیدرنگ نہیں تھی جینٹس کا الگ روم میں بیٹھنے کا انتظام تھا جبکہ صائمہ کی دوستیں برابر والے روم میں بیٹھی تھی صرف یہاں وہ تینوں موجود تھیں ردا کے خاموش ہونے پر لائبہ بولی
“جو بھی تم دونوں کے ساتھ ہوا اچھا نہیں ہوا، بس اب اِس ٹاپک کو کلوز کرو اور ہانیہ میرے خیال سے اب تمہیں اپنے شوہر کی طرف سے بدگمانی ختم کرلینی چاہیے کیوکہ وہ تم سے محبت بھی کرتا ہے”
لائبہ ہانیہ سے نکلوز تھی اِس لیے سارے حالات سے واقف تھی وہ ہانیہ کو مخلصانہ مشورہ دیتی ہوئی بولی
“ایسے مردوں کی محبت صرف بیڈ روم تک محدود ہوتی ہے، کوئی زیادہ خوبصورت لڑکی نظر آجائے تو اُسی پر ان جیسوں کی رال ٹپکنے لگ جاتی ہے میں تمام عمر بھی اُس کے ساتھ گزار دو میرا دل تب بھی صاف نہیں ہوسکتا ایسے شخص سے”
ہانیہ لائبہ کو دیکھتی ہوئی بولی ردا کی حقیقت جاننے کے باوجود اُس کے دل میں شیردل کے لئے کوئی خاص اچھا امیج قائم نہیں ہوا تھا صرف ایک ردا کو اُس نے چھوڑ دیا تھا مگر وہ ایسا ہی مرد تھا، جس کی نظر میں لڑکی کی اہمیت ایک ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں تھی جسے یوز کرکے وہ پھینک دیا کرتا تھا
“لیکن اُس نے تم سے شادی کی ہے اِس کا مطلب ہے وہ اب بدل چکا ہوگا”
لائبہ نے ہانیہ کو سمجھانا چاہا تو ہانیہ نے بےدلی سے سر جھٹک دیا
“تو کیو نہ تم اپنے شوہر کا ٹیسٹ لےکر دیکھ لو کہ وہ شادی کے بعد بھی تم سے مخلص ہے یا وہی پرانی عادتیں اپنائی ہوئی ہیں اُس نے”
ردا کے مشورا دینے پر وہ دونوں نہ سمجھنے والے انداز میں اُس کو دیکھنے لگیں تب ردا ہانیہ کو دیکھتی ہوئی دوبارہ بولی
“کیمسٹری ڈیپاڑمینٹ کی خوبصورت سی امرحہ یاد ہے تمہیں وہی جو اپنی خوبصورتی کو کیش کروانا اچھی طرح جانتی تھی”
ردا ہانیہ کا یاد دلاتی ہوئی بولی جس پر ہانیہ ایک دم چونکی جو ردا اسے سمجھانا چاہ رہی تھی ہانیہ خود سمجھ گئی جبھی اپنا موبائل اٹھاتی ہوئی بولی
“آمرحہ کا نمبر دینا ذرا مجھے”
وہ ردا سے بولتی ہوئی آمرحہ کا نمبر اپنے سیل فون میں فیڈ کرنے لگی
***
تھوڑی دیر پہلے ہی دلاور کی مشی سے کال پر بات ہوئی تھی کی طرح گھنٹے بھر نہیں بلکہ صرف 10 منٹ وہ نہیں چاہتا تھا کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ان دونوں کے درمیان کشیدگی ہو جبھی اس نے مشی سے زیادہ کچھ نہیں کریدہ مگر دلاور کو یہ بات سخت ناپسند آئی تھی کسی غیر لڑکے سے اُس کی بیوی سلام دعا رکھتی، اپنے اور مشی کے رشتے میں کوئی دراڑ نہ پڑے دلاور بہت مشکل سے ہی سہی مگر یہ بات برداشت کرگیا تھا مگر اب اس کا جمعہ کے دن گاؤں جانے کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا
***
“خاموش کیوں ہو اتنی”
ڈاکٹر عزیر کے گھر سے واپسی پر کار ڈرائیو کرتا ہوا شیردل ہانیہ سے پوچھنے لگا تو ہانیہ اپنے خیالات سے نکل کر اُسے دیکھنے لگی ہانیہ کے دیکھنے پر شیردل اُسے اسمائل دیتا ہوا ڈرائیو کرنے لگا
“ردا کو اُس رات کیوں چھوڑ دیا تم نے، خوبصورت تو وہ بھی کم نہیں تھی کہیں کسی دوسری سی کوئی کمٹمینٹ تو نہیں کی ہوئی تھی اُس رات تم نے”
ہانیہ کے پوچھنے پر شیردل نے گاڑی کو بریک لگایا گاڑی جھٹکے سے رکی شیردل اُس کی بات پر ناگوار تاثرات چہرے پر لیے ہانیہ کو دیکھتا ہوا بولا
“تم نے مجھے کیا سمجھا ہوا ہے”
شیردل ماتھے پر بل لاتا ہوا ہانیہ سے پوچھنے لگا اب وہ اس کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھارہی تھی
“جیسا تم نے اپنا آپ مجھ پر ظاہر کیا ہے وہی تو سمجھو گی میں تمہیں کیا تم ویسے مرد نہیں ہو جو عورت کو استعمال کی چیز سمجھتے ہیں، کیا وہ سب کچھ تم نے صرف میرے ساتھ ہی کیا تھا مجھ سے پہلے کسی غیر عورت کو نہیں چھوا”
ہانیہ بالکل نارمل لہجے میں شیردل سے پوچھنے لگی تو شیردل اپنا غصّہ ضبط کرتا ہوا اُس سے بولا
“جب سے میرے دل میں تمہاری محبت پیدا ہوئی ہے، تب سے میں وہ شیردل نہیں رہا، تمہاری محبت نے مجھے بدل دیا ہے اور اب تمہیں اِس بات پر یقین کرنا پڑے گا”
شیردل وہی رکی ہوئی گاڑی کے اسٹیرینگ وہیل پر دونوں ہاتھ جمائے ہانیہ سے بولا اِس لڑکی کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے نہ جانے اُسے کیا کرنا پڑتا
“تم بدلو یا پھر ویسے ہی رہو مجھے تمہاری ذات سے کوئی بھی مطلب نہیں ہے، اور نہ ہی مجھے اِس بات سے فرق پڑتا ہے کہ تم کسی لڑکی کے ساتھ کیا کرتے پھرو”
ہانیہ سر جھٹکتی شیردل سے بولی نہ جانے اُس نے کون سا برا عمل کیا تھا جو اُسے ایسا مرد ملا تھا بےشک وہ شیردل پر یا کسی دوسرے پر یہ ظاہر نہیں کرتی مگر اندر سے اُسے اِس بات کا ملال بہت زیادہ تھا کہ وہ اچھا انسان ڈیزرو کرتی تھی جو دونوں بار ہی اُس کی قسمت میں نہیں تھا
“اگر فرق نہیں پڑتا تو یہ غصّہ، اتنا اشتعال کیوں بھرا رہتا ہے تمہارے اندر میرے لئے”
شیردل ہانیہ کے جواب میں اُس سے پوچھنے لگا تو ہانیہ کے تاثرات یک دم غصّے سے بھر گئے اِس سے پہلے وہ شیردل کو کچھ بولتی اچانک اسے وامیٹنگ کا احساس ہوا وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھتی ہوئی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی
شیردل بھی اُس کے پیچھے پانی کی بوتل لے کر گاڑی سے اترا ہانیہ سائیڈ پر کھڑی ہوکر ہونے والی وامیٹنگ سے ہلکان ہوچکی تھی شیردل نے ہانیہ کی کمر سہلاتے ہوۓ اُس کی جانب پانی کی بوتل بڑھائی
“ریلکس، یہ پانی پی لو تھوڑا سا”
پانی کی بوتل کے ساتھ اُس نے ہانیہ کے آگے رومال بھی بڑھایا تاکہ وہ اپنا چہرہ صاف کرلے
“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ دور ہٹ کر کھڑے ہو ایک تو تم پہلے ہی عذاب بن کر میری زندگی میں مسلط ہوچکے ہو اوپر سے یہ بھی، معلوم نہیں اور کتنے عذاب مسلط ہوگے اب میری زندگی میں تمہاری وجہ سے”
ہانیہ شیردل کے اپنائیت بھرے لہجے پر اُس کو جھٹرکتی ہوئی بولی اُس نے شیردل کے ہاتھ سے نہ تو پانی کی بوتل لی تھی نہ ہی رومال وہ اپنے دوپٹے سے چہرہ صاف کرتی ہوئی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی تبھی شیردل بولا
“یہ عذاب نہیں ہم دونوں کا بچہ ہے”
شیردل ہانیہ کے بےزار کن لہجے کو محسوس کرتا ہوا اُسے باور کرواتا ہوا بولا تو ہانیہ پلٹ کر شیردل کو دیکھنے لگی جو بےحد سنجیدگی سے اُس کو دیکھ رہا تھا
“ہم دونوں کا نہیں صرف تمہارا بچہ ہے یہ، میرے لیے صرف پاؤں کی زنجیر ہے اور کچھ نہیں”
اُس کی طبیعت کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن آچکا تھا وہ شیردل سے بولتی ہوئی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ گئی کیونکہ اِس وقت اُس کا کُھلی فضا میں رہنے کا دل کررہا تھا یہ وہی سنسان روڈ تھا جہاں دوسری بار اُن دونوں کا ٹکڑاؤ ہوا تھا شیردل اُس کی حالت کے پیش نظر اُس کے خراب موڈ کو سمجھ گیا تھا مگر پھر بھی رسانیت سے بولا
“تم مجھے پسند نہیں کرتی، نفرت کرتی ہو مجھ سے میں کبھی بھی نہیں بولوں گا کہ مجھے اپنی محبت بھیک بھی دو مگر یہ ہماری اولاد ہے ہانیہ پلیز اسے اِس بات کی سزا مت دینا کہ میں اِس کا باپ ہوں”
شیردل کے بولنے پر ہانیہ کو مزید غصّہ چڑھنے لگا
“لیکچر بند کرو اپنا”
ہانیہ شیردل کو جھڑکتی ہوئی بولی تبھی اُن لوگوں کی گاڑی کے پاس ایک گاڑی آکر رکی جس میں سے چار بندے بیک وقت باہر نکلے جنھیں دیکھ کر ہانیہ بالکل سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئی شیردل بھی ان چار آدمیوں کو گاڑی سے باہر نکلتا دیکھ کر محتاط ہوا
“اکیلی لڑکی کو دیکھ کر تنگ کررہا ہے اِس کو”
ان میں سے ایک دیوہیکل آدمی شیردل سے باروعب لہجے میں بولا تو شیردل انگلی اونچی کرکے اُس کو اشارے سے بولا
“اپنے کام سے کام رکھو، یہ بیوی ہے میری”
شیردل اُن چاروں کو دیکھ کر تنبیہ کرتا بولا
“کوئی سرٹیفکیٹ ہے اِس بات کا، نکاح نامہ یا کوئی ثبوت کہ یہ تیری بیوی ہے”
سیاہی کی مانند کالا بھاری بھرکم آدمی شیردل کی طرف بڑھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا ہانیہ ان لوگوں کی گفتگو اور حلیے دونوں سے ہی سہم گئی تھی وہ آگے بڑھ کر گاڑی میں بیٹھنے لگی اس سے پہلے شیردل اُس بھاری بھرکم آدمی کو کوئی جواب دیتا تیسرے آدمی نے آگے بڑھ کر ہانیہ کا راستہ روک لیا جس سے شیردل کی توجہ ہانیہ کی طرف مائل ہوگئی
“اس گاڑی میں نہیں جانِ من ہماری گاڑی میں چلو اور تُو شرافت سے جاکر اپنی گاڑی میں انتظار کر تھوڑی دیر تیری بیوی کو فارغ کرکے بھیج دیں گے تیرے پاس”
اُس آدمی نے شیردل سے بولتے ہوۓ ہتھیار بھی نکال لیا تھا جسے دیکھ کر ہانیہ کو سانپ سونگ گیا
“اگر تم میں سے کسی نے اس کو چھوا بھی تو میں اُس کی جان لیتے ہوئے ایک مرتبہ بھی نہیں سوچوں گا”
شیردل اُن لوگوں کو بولتا ہوا اس آدمی کی جانب بڑھا جس کے ہاتھ میں پستول تھی
“سوچ کیا رہا ہے مار دے اِس کو گولی نکل جاۓ گی اِس کی ساری بہادری”
دیو ہیکل آدمی اپنے ساتھی سے بولا جس کے ہاتھ میں پستول تھی اور شیردل بھی اُسی کی طرف بڑھ تھا ان لوگوں کو لگا تھا شیردل اُس کی دھمکی دینے پر ڈر کر وہی رک جائے گا مگر ویسے ہی فضا میں ایک گولی کی آواز گونجی ہانیہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہی کھڑی سارا منظر دیکھے گئی
***
“تم ٹھیک تو ہو ناں ہانیہ”
شیردل ساکت کھڑی ہانیہ کو دیکھتا ہوا بولا جو ابھی بھی سنسان سڑک کو سکتے کی کیفیت میں دیکھ رہی تھی
“ہانیہ”
شیردل نے ہانیہ کو ہوش میں لانے کے لئے اُس کا ہاتھ تھام کر دوبارہ ہانیہ کا نام پکارا تو ہانیہ ایک دم ہوش میں آتی شیردل کو دیکھنے لگی
“شیردل”
غائب دماغی میں اُس نے شیردل کا نام پکارا تھا نہ جانے اُسے کیا ہوا تھا وہ شیردل کے سینے میں منہ چھپا کر بری طرح سے سسک پڑی
“ہانیہ میری جان کیا ہوا یار وہ لوگ تو بھاگ گئے ڈر کے مارے”
شیردل ہانیہ کے رونے پر اُس کی کمر پر اپنے بازو حمائل کرتا ہوا اُسے بولا جس سے اُس کے رونے میں کمی نہیں آئی تھی
“اگر اُن کی پستول میں سچ میں گولی ہوتی وہ تمہیں مار دیتے پھر وہ لوگ میرے ساتھ”
ہانیہ شیردل کے سینے میں لگی روتی ہوئی بولی تو شیردل ہانیہ کی بات پر اُسے مزید اپنی باہوں میں بھینج لیا
“اگر اُن کی پستول میں سچ میں گولی ہوتی اور وہ مجھے مار بھی دیتے، تو میں اپنی سانسیں بند ہونے سے پہلے اُن لوگوں کو ختم کردیتا مگر تمہاری عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دیتا تمہاری عزت تو تب بھی میں نے بچائی تھی جب تم میرے لیے نامحرم تھی اب کیسے برداشت کرسکتا ہوں کہ کسی غیر مرد کی بری نگاہ تمہارے اوپر پڑے”
شیردل کی بات پر ہانیہ اُس کے سینے سے چہرہ اٹھا کر شیردل کو دیکھنے لگی جیسے اُس کی بات کا یقین کرنا چاہ رہی ہو
“شاید میری اِس بات پر بھی یقین نہیں کرو گی تم، میں اپنے بچے کی قسم کھاکر بول رہا ہوں تمہاری آبرو کی حفاظت میری ذمہ داری ہے جو میں آخری سانس تک کروں گا”
شیردل کی بات سن کر ہانیہ کو ایک مرتبہ پھر رونا آگیا شیردل اپنے ہاتھ میں موجود اپنی پستول دوبارہ چھپاتا ہوا ہانیہ کو گاڑی میں بٹھانے لگا
جب ہانیہ گاڑی کے نیچے اتری تھی تب شیردل نے پانی کی بوتل کے ساتھ احتیاطً گاڑی میں موجود اپنی پستول بھی اپنے پاس چھپا کر رکھ لی تھی کیونکہ یہ سنسان جگہ اکثر ایسے واقعات کے لئے مشہور تھی جب اُن چاروں نے شیردل کے ہاتھ میں پستول دیکھی جس سے شیردل نے ہوا میں فائل کیا تب وہ چاروں آدمی وہاں سے اپنی گاڑی میں بھاگ گئے کیوکہ اُن کے پاس موجود پستول خالی تھی جو اِس وقت ویران سڑک پر پڑی ہوئی تھی
***
