Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 16)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
“آپ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے ہیں بابا سائیں میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا”
تین دن گزر چکے تھے اسے واپس شہر آئے آج دلاور نے خود سے اپنے بابا سائیں کو کال ملائی تھی تاکہ وہ اُن کو مناسکے اس عمر میں وہ اپنے باپ کو یوں نہیں چھوڑ سکتا تھا اور جو کال پر اُس کا باپ اسے کہہ رہا تھا دلاور وہ بھی نہیں کرسکتا تھا
“کیوں نہیں چھوڑ سکتا ایسی بدزبان اور بدتمیز لڑکی کو، اُوئے دو دن یہاں رہ کر گئی ہے کیسے کیسے تماشے دکھا کر گئی ہے۔۔۔ وہاں تو تیرے ساتھ معلوم نہیں کیا کیا کرتی ہوگی اے دلاورے عقل کے ناخن لے ایک لڑکی پر دنیا ختم نہیں ہوجاتی نوشین ابھی بھی تیرے انتظار میں بیٹھی ہے میں کل ہی تیرے چاچے سے بات کر کے آتا ہوں”
دلاور کا باپ مشی سے بری طرح عاجز آچکا تھا وہ مسلسل دلاور سے اس کو چھوڑنے کا بول رہا تھا اور نوشین سے اس کی شادی کروانے کی بات کررہا تھا اب دلاور اپنے بابا سائیں کو کال کرکے پچھتا رہا تھا
“میری دنیا تو اُسی ایک لڑکی پر ختم ہے بابا سائیں میری گھر والی ہے وہ، میری عزت ہے۔۔ اُسی سے میرا گھر آباد ہے (اور دل بھی) دوسری اب کوئی بھی دل کو نہیں بھائے گی۔۔۔ آپ میری مجبوری بھی سمجھیں ناں اور آپ چچا سائیں سے کوئی بھی بات نہیں کریں گے نوشین کے متعلق”
دلاور سچ میں اس معاملے میں بےبس تھا اور وہ اپنے بابا سائیں کے سامنے بےبسی کا اظہار کرتا بولا ساتھ ہی اس نے نوشین سے رشتے کے متعلق بات پر بھی منع کردیا
“او بڑا آیا میری عزت ہے۔۔۔ اوئے تیری عزت ہی تو نہیں کرتی ہے وہ۔۔ کیسے منہ زوری کررہی تھی تیرے ساتھ، سُسر کا بھی کوئی لحاظ نہیں، تیری دونوں چچیوں کے مقابلے میں دس ہاتھ آگے ہے تیری گھر والی ان دونوں سے مقابلہ کروا ذرا دونوں پر ہی اکیلی بھاری پڑے گی ایسی تو کوئی فرانٹے بھرتی زبان ہے اس کی”
دلاور کا باپ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا دلاور سے بولا
“بابا سائیں میں نے دل دکھایا ہے اُس کا اِس لیے مجھے باتیں سناکر اپنا خود کا خون جلاتی ہے۔۔۔ آپ اُس کی باتوں پر اپنا دل برا مت کریں اگلی بار جب اُسے ساتھ لےکر آؤ گا تو وہ خود آپ سے معافی مانگے گی دل کی بری نہیں ہے وہ”
دلاور اپنے باپ کو مشی سے بدزن دیکھ کر اپنے باپ کی نظر میں مشی کا امیج کلیئر کرتا ہوا بولا
“اوئے مجھے تیری گھر والی کی معافی نہیں چاہیے میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں تُو اگلی بار اُس فتنے کو اپنے ساتھ یہاں نہ لائیو۔۔۔ کیسا آدمی ہے تُو اپنی گھر والی سے اتنی باتیں سن کر بھی مجھ سے اُس کی اچھائیاں بیان کررہا ہے۔۔۔ کہیں اُس نے تیرے اوپر تعویز شعویز تو نہیں پھونک دیے اوئے تیرے پلنگ کے نیچے دبے ہوگے تعویذ صبح اٹھ کر دیکھیو۔۔۔ پہلے تیری ماں جادو ٹونے کی باتیں کرتی تھی تو دو چپیڑے لگا کر اُسے چپ کروا دیا کرتا تھا اب مجھے لگ رہا ہے ضرور تیری گھر والی نے تجھ پر منتر پڑھوایا ہے جبھی تُو نے زندگی میں پہلی بار زرش پہ ہاتھ اٹھایا پر اپنی گھر والی کی چلتی زبان نہ روک سکا۔۔ بتا میری پھول سی بچی کو مارتے ہوئے تجھے حیا نہیں آئی بچپن میں گودوں میں اٹھائے پھرتا تھا او مجھ سے زیادہ تو تُو اس کے لاڈ اٹھاتا تھا”
دلاور کے بابا سائیں کو ایک نیا شکوہ یاد آیا دلاور اور مشی کے نکلنے کے بعد ہی زرش نے اپنے اوپر ہاتھ اٹھانے والی دلاور کی بات اپنے باپ کو بتادی تھی جس پر اُس کا باپ اس پر مزید غصہ تھا
“بلاوجہ نہیں اٹھایا ہاتھ اس کی غلطی پہ مارا ہے۔۔۔ بابا سائیں میں سوچ رہا ہوں اب زرش کی شادی کے متعلق ہم لوگوں کو سنجیدہ ہوکر سوچنا چاہیے میرے خیال میں اب اس کی جلد شادی ہوجانا ہی ٹھیک ہے بالغ ہوچکی ہے اب زرش”
دلاور نے سوچ رکھا تھا اپنے بابا سائیں سے زرش کی شادی کے متعلق بھی بات کرے گا کیوکہ اب وہ مکمل طور پر مشی کو ہی قصور وار نہیں سمجھ رہا تھا پہلی بار اس کے دماغ نے مشی کے بجائے زرش پر شک کیا تھا جبھی وہ اُس کا موبائل اپنے ساتھ لے آیا تھا
“اوئے سال بھر پہلے تو تجھے اپنی بہن ننھی کاکی لگتی تھی جب میں تجھ سے اُس کے بیاہ کی بات کرتا تھا اب ایک ہی سال میں کوئی جڑی بوٹی کھا کر بالغ ہوگئی ہے وہ۔۔۔ تُو زرش کے متعلق زیادہ مت سوچ ابھی میں زندہ ہوں مجھے جب کرنا ہوگا اُس کا بیاہ کر ڈالوں گا بس تو اپنی اُس پھلجڑی کی زبان کو قابو میں رکھنا سیکھ لے جب دیکھو چنگاریاں ہی پھینکتی ہے زبان سے”
دلاور کا باپ غصے میں رابطہ منقطع کرچکا تھا
دلاور نے گہرا سانس لےکر موبائل ٹیبل پر رکھ دیا اور اپنے سامنے کھلی کتاب کو بند کرتا وہ بچی ہوئی کافی کے آخری گھونٹ اپنے اندر اتارنے لگا جو تھوڑی دیر پہلے ہی اُسے مشی نے بناکر دی تھی
جب سے مشی اُس کے ساتھ واپس شہر آئی تھی تب سے ان دونوں میں بول چال بند ہوچکی تھی ایک مرتبہ پھر ان دونوں کے رشتے میں فاصلہ آچکا تھا جس کو سمیٹنا دلاور کے لیے فی الوقت مشکل تھا کیوکہ اس کے امتحانات شروع ہوگئے تھے کل اُس کا پہلا پرچہ تھا وہ سکون سے امتحان دینے کے بعد ہی باقی کے تمام معاملات پر نظر ڈالنے کا سوچے بیٹھا تھا۔۔۔ اس نے سرسری سا کامران سے منور کے متعلق بھی پوچھا تھا کامران کے مطابق منور دوبارہ گاؤں سے لاپتہ ہوچکا تھا دلاور نے ان سارے معاملات کو مدنظر رکھ کر منور سے ملاقات کے بارے میں بھی سوچا تھا۔۔۔ جس معاملے کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتا تھا وہ تھا اُس کے باپ کی ناراضگی۔۔ بےشک اُس کا باپ حق پر نہ ہو اپنی باتوں سے اُس کے باپ نے مشی کا دل بھی دکھایا لیکن اِس کے باوجود دلاور اپنے باپ کو خود سے ناراض نہیں رکھ سکتا تھا۔۔ اس وقت وہ اپنے باپ سے فون پر بات کرکے خود کو ریلکس محسوس کررہا تھا
کافی کا خالی کپ کچن میں رکھتا ہوا وہ مشی کے بیڈ روم میں چلا آیا بےشک ان دونوں کے درمیان فاصلہ آگیا تھا مگر پچھلے تین دن سے دلاور صرف اسٹڈیز اپنے روم میں کرتا مگر مشی سے ناراضگی کے باوجود وہ سونے کے وقت مشی کے بیڈ روم میں آجاتا تھا۔۔۔ عام دنوں کی بانسبت آج کافی زیادہ ٹھنڈ تھی مشی کمفرٹر سر تک ڈالے نہ جانے کب کی سو چکی تھی دلاور خود بھی کمفرٹر اپنے سینے پر ڈال کر مشی کے برابر میں لیٹ گیا لیکن چند سیکنڈ بعد ہی مشی نے نیند میں کمفرٹر کھینچ کر خود کو لپیٹ لیا تو دلاور نے رخ موڑ کر مشی کو دیکھا وہ نیند میں اپنے پاؤں آپس میں رگڑ رہی تھی شاید اُسے سردی محسوس ہورہی تھی ہر مرتبہ کی طرح اِس بار بھی شاید صلح میں پہل اُسی کو کرنا تھی یہی سوچ کر دلاور سرک کر مشی کے مزید قریب ہوکر لیٹا اور آہستگی سے اُس نے اپنے پاؤں مشی کے دونوں پاؤں پر رکھے مشی کے ٹھنڈے پاؤں کو گرمائش کا احساس ملا تو نیند میں ہوتی اُس کی بےسکونی ختم ہوئی۔۔۔۔ وہ مزید سکون (گرمائش) کی طلب میں سرک کر دلاور کے اور قریب ہوکر لیٹ گئی مشی کی پشت دلاور کے سینے سے لگی ہوئی تھی مشی کا دل اور دماغ باقی کچھ بھی سمجھنے سے قاصر مکمل نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ مشی کی قربت اور اس کے جسم کی خوشبو دلاور کے حواسوں پر چھانے لگی اب کی بار اس نے اپنے ہاتھ کی گرمائش سے مشی کے جسم کی تقویت بخشنی چاہی مشی کی شرٹ کے اندر موجود دلاور کا ہاتھ مشی کی کمر سے ہوتا پیٹ کو نرمی سے چھوتا ہوا اوپر کی جانب بڑھنے لگا جبکہ دلاور کے ہونٹ مشی کے شانے کو آہستہ سے چھونے لگے وہ اپنی ایک ٹانگ مشی کی دونوں ٹانگوں کے اوپر رکھ کر اسکو خود سے مزید قریب کر چکا تھا
اپنے سینے پر پڑنے والا ہلکا سا دباؤ اُس کو حواسوں میں لانے کے لیے کافی تھا اِس سے پہلے وہ مکمل طور پر حواس میں آتی دلاور مشی کو شانے سے تھام کر سیدھا کرتا مکمل طور پر اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ دلاور کے ہونٹ مشی کی گردن اور شانوں پر جابجا اپنی مہر چھوڑ دے رہے تھے۔۔۔ دلاور کا ایک ہاتھ مشی کی کمر کے نیچے جبکہ دلاور کے دوسرے ہاتھ کے نیچے مشی کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا
“میری جان مت جلایا کرو اپنا خون معلوم ہے تم صرف میری ہو جیسے دلاور صرف تمہارا ہے”
دلاور مدہوشی کے عالم میں بولتا ہوا مشی کے ہونٹوں پر جھکا اپنی سانسیں مشی کی سانسوں میں گھولتا وہ مزید مدہوش ہونے لگا۔۔۔ تبھی مشی نے اپنے جسم پر قابض ہوئے دلاور کے وجود کو اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر قوت سے پیچھے دھکیلا
“دور رہو مجھ سے”
مدہوشی کا عالم جیسے پل میں ہوا ہوا۔۔۔ ماحول پر چھایا سحر بھی چھناکے سے ٹوٹا وہ مشی سے دور ہوا تو مشی نے فوراً بیڈ سے اتر کر لائٹ کھول دی
“مجھے چھونے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی”
غصے سے کانپتی ہوئی اور بےقابو دھڑکنوں کو اعتدال میں لاکر وہ دلاور کو دیکھتی ہوئی غرائی۔۔۔ دلاور اب مشی کو غصے میں دیکھ کر بیڈ پر بیٹھتا ہوا سنجیدگی سے اُس کا رد عمل دیکھنے لگا
“چھونے کے لیے ہمت کی نہیں اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے جو شادی کے بعد ہر شوہر کو حاصل ہوتے ہیں”
وہ مشی کا غصہ سے سرخ چہرہ دیکھ کر خود بھی سنجیدہ لہجے میں بولا
“بکواس بند کرو اپنی تم شوہر کہلانے کے لائق نہیں ہو”
مشی اُس کی بات پر مزید تپتی ہوئی بولی تو دلاور بیڈ سے نیچے اتر کر اُس کے مقابل آیا
“بابا سائیں بالکل صحیح بول رہے ہیں تمہاری زبان سچ میں بہت لمبی ہوچکی ہے اُس کو قابو میں رکھو اور میری نرمی کا فائدہ اٹھانا بند کرو” دلاور اس کے جملے پر آنے والے غصے کو دباتا ہوا بولا کیوکہ وہ رات کے وقت کوئی نئی بحث شروع کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
“فائدہ تم نے اٹھانے کی کوشش کی ہے مجھے نیند میں دیکھ کر، کیا سمجھ رہے تھے دوبارہ میرے ساتھ زبردستی کرو گے اور میں سب تمہیں کرنے دوں گی اب ایسا دوبارہ ہرگز نہیں ہوگا”
دلاور کے بابا سائیں کے ذکر پر اُس کے باپ کو بخشتی ہوئی وہ سارا غصہ دلاور پر چیختی ہوئی نکالنے لگی زبردستی کا لفظ سن کر دلاور کو بھی سخت غصہ آیا جسے ضبط کرتا ہوا وہ بولا
“پہلے کب زبردستی کی ہے میں نے تمہارے ساتھ کیا سب کچھ زور زبردستی سے کیا تھا اس رات۔۔۔ زبردستی کا مطلب معلوم ہے کیا ہوتا ہے اگر میں تمہارے ساتھ ابھی زبردستی کرتا تو تم میرے سامنے کھڑی مجھ سے لڑ نہیں رہی ہوتی بلکہ وہاں بیڈ پر روتی سسکتی مجھ سے اپنا آپ چھڑوا رہی ہوتی معافیاں مانگ کر اِس کو کہتے ہیں زبردستی۔۔۔ مشی اب کچھ بھی مزید فضول بول کر میرا دماغ مت خراب کرنا پیپر ہے میرا صبح”
دلاور اُس کے اندر کا غصہ سمجھتا تھا جو شاید جائز بھی تھا اس لیے اُس نے بات نہیں بڑھائی نہ ہی وہ اُس پر چلایا کمرے لائٹ بند کرتا ہوا وہ واپس بیڈ پر آکر لیٹ گیا جبکہ مشی غصے میں وہی کھڑی اُس کو گھورتی رہی تھوڑی دیر گھورنے کے بعد جب سردی لگنے لگی تو پیر پٹختی ہوئی بیڈ پر لیٹ کر بڑبڑانے لگی
“پیپر ہے تو اپنا دماغ پڑھائی میں لگاؤ ناں، صبح یہی سب اپنا کارنامہ لکھ کر آنا ہے پیپر میں۔۔۔ اچھی خاصی نیند آچکی تھی مگر اپنے چھچھورے پن کے چکر میں میری نیند خراب کردی۔۔۔ بندہ دوسرے کی نیند کا ہی خیال کرلیتا ہے مگر نہیں یہاں تو اپنے ٹھرکی جذبات نہیں سنبھالے جارہے”
وہ اب دلاور کے برابر میں لیٹ کر طنز کے تیر چلانے لگی۔۔۔ دلاور جس نے مشی کو کچھ نہ بولنے کی قسم کھائی تھی مگر اُس کے طعنوں کی تاب نہ لاسکا اور بول پڑا
“میں لائٹ بند کرچکا ہوں تم اپنی زبان بند کرلو تو بہتر ہے”
دلاور اس کے برابر میں لیٹا خود پر ضبط کرتا اتنا ہی بولا اور آئندہ کے لیے وہ توبہ بھی کرچکا تھا کم از کم جب تک اُس کے پیپر ختم نہیں ہوجاتے وہ خوابوں میں بھی مشی کے قریب نہیں آئے گا
“دور ہوکر لیٹو زیادہ میرے اندر گُھسنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اچھا خاصا الگ بیڈ روم میں سو رہے تھے معلوم نہیں کیا ضرورت پڑی ہے جو یہاں آکر سونے لگے ہو۔۔ بس دوسرے کو پریشان کرنا بلاوجہ میں”
مشی کو ڈر تھا وہ سوتے میں دوبارہ اس کے قریب نہ آجائے اِس لیے خود بھی فاصلہ قائم کرتی بولی تھوڑی دیر پہلے دلاور کے ہاتھوں سے ہونے والی بدتمیزی پر اُس کا دل ابھی تک بری طرح دھڑک رہا تھا وہ ابھی بھی دلاور کے ہاتھوں کا لمس اپنے دل پر محسوس کر کے بری طرح بوکھلائی ہوئی تھی
“تمہیں زیادہ پریشانی ہے تو خود وہاں جاکر سو جاؤ روکا کس نے ہے”
آنکھوں پہ رکھا ہوا ہاتھ ہٹاکر دلاور بولا تین دن سے وہ چپ تھی تب ہی سکون تھا دلاور کو زرا علم نہ تھا کہ اُس کی ایک چھوٹی سی جذباتی حرکت رات میں اِس طرح کا طوفان برپا کرسکتی ہے
“میں کیوں تمہارے بیڈ پر سوؤں میں اپنی جگہ اِسی روم میں اِسی بیڈ پر سونے کی عادی ہوچکی ہوں”
نیند خراب ہونے کی وجہ سے اُس کا موڈ شدید خراب ہوچکا تھا اوپر سے دلاور کا چہرہ دیکھ کر مشی کو غصہ آرہا تھا
“اگر عادی ہو تو دوبارہ سو کیوں نہیں جاتی جاگ کر میرا دماغ کیوں چاٹے جارہی ہو اتنی دیر سے”
اب کی بار دلاور نے جان بوجھ کر اسے بلند آواز میں ڈانٹا تبھی مشی کی زبان کو بریک لگا
“ہونہہ” وہ کروٹ لیتی دوبارہ دلاور کی طرف پشت کر کے لیٹ گئی دلاور بھی سونے کی کوشش کرنے لگا
***
“منّور یہاں کیا کررہے ہو تم خدا کے لیے واپس چلے جاؤ اگر بابا سائیں نے تمہیں یہاں دیکھ لیا تو وہ میری جان لے لیں گے”
زرش چھت پر سے واپس آئی تو اپنے کمرے میں منّور کو دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی
“اِس وقت تمہارے بابا سائیں گھر پر موجود نہیں ہیں ڈر کیوں رہی ہو مجھ سے میرے پاس آؤ یار”
منّور زرش کے پاس آکر اسے اپنے حصار میں لیتا بولا تو زرش آنکھیں بند کرکے اس کے سینے سے لگ گئی
“تم دوبارہ سے کہاں غائب ہوگئے منور۔۔۔ کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا تمہارے بارے میں مجھے فکر رہنے لگی ہے تمہاری”
زرش اس کی بانہوں میں موجود منور سے بولی جب سے اُس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا تب سے وہ کبھی شہر چلا جاتا تو کبھی واپس اپنے گھر آجاتا کبھی کہیں دوسری جگہ پر پناہ تلاش کرتا
“وقار کے بھائی میری تلاش میں ہیں، مجھے لگ رہا تھا تین چار ماہ گزرنے کے بعد وہ لوگ وقار کے قتل کو بھول جائے گے معاملہ ٹھنڈا ہونے پر میں منظر عام پر آجاؤ گا مگر ایسا سلسلہ نہیں ہے وہ لوگ ابھی تک میری تاک میں ہیں ایسے میں میرا مستقل طور پر یہاں پہ رہنا میری جان کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے”
منور کی بات سن کر زرش پریشان ہوتی اسے دیکھنے لگی
“یوں پریشان مت ہو میری جان میں سب کچھ ٹھیک کردو گا”
منور زرش کو کہتا ہوا بیڈ تک لے آیا
“آخری مرتبہ جب ہم ملےتھے بھائی یہی موجود تھے بھائی کو مجھ پر شک ہوچکا ہے وہ مجھ سے موبائل بھی لے چکے ہیں وہی جو انہوں نے دیا تھا۔۔۔ ہم دونوں ہمیشہ کے لیے ایک ساتھ کیسے رہ پائیں گے منور مجھے تو سب ناممکن سا لگتا ہے”
زرش کو اپنے مستقبل کی فکر ستانے لگی وہ روہاسی لہجے میں منور سے پوچھنے لگی
“پریشان مت ہو یار حالات تھوڑے سے بہتر ہوجائیں تو تمہیں یہاں سے اپنے ساتھ شہر لے جاؤں گا وہاں ہم دونوں کو الگ کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ وہی ہم دونوں شادی بھی کرلیں گے”
منور نے زرش سے بولتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹادیا اور اس پر جھکا
“کیا کررہے ہو منّور۔۔۔ جب تک ہم لوگ شادی کرکے ایک نہیں ہوجاتے تب تک بالکل نہیں”
زرش منور کو پیچھے کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اب وہ حالات دیکھ کر بری طرح ڈر چکی تھی
“ابھی فلاحال تو ایک ہونے دو بعد میں شادی بھی ہوجائے گی کوئی پہلی بار ہورہا ہے یہ سب کچھ ہمارے درمیان”
منّور اُس کو بہلاتا ہوا دوبارہ اس پر جھک گیا
***
شام کا وقت تھا وہ رات کے ڈنر کی تیاری کر کے اپنے روم میں جانے لگی تبھی دروازے سے باہر اسے دلاور کے علاوہ کسی عورت کے بھی باتوں کی آواز سنائی دی دلاور کی آواز مشی پہچان گئی تھی مگر وہ بات کسی عورت سے کررہا تھا مشی تجسس کے مارے چونکتی ہوئی خود بھی دروازے کی طرف بڑھی دلاور کے ساتھ بھلا کون عورت ہوسکتی تھی جو یہاں آئی تھی فلیٹ کا دروازہ کُھلتے ہی جہاں دلاور مشی کو دروازے کے پاس کھڑا دیکھ کر چونکا وہی مشی دلاور کے ساتھ کھڑی دلاور کی چچی کو دیکھ کر حیران ہوئی یہ وہی چچی تھی جو اس کے ولیمے میں کافی پیش پیش تھی
“ہائے مشی بچے کیسی ہے تُو”
دلاور کی چچی حیران کھڑی مشی سے اگے بڑھ کر خوش ہوکر خود سے ملی تو مشی جھجک کر اُن سے ملتی ہوئی سلام کرنے لگی۔۔۔ اُس کی نظریں دلاور پر آ ٹھہری جو اُسی کو دیکھ رہا تھا
“چچی یہاں شہر میں اپنے بھانجے کے پاس آئی تھیں تو پھر انہیں میرا بھی خیال آگیا انہوں نے سوچا بھتیجے سے بھی مل لوں اِس لیے انہیں اپنے ساتھ یہاں لے کر آیا ہوں”
مشی کی انکھوں میں سوال دیکھ کر دلاور مشی کو اپنی چچی کی آمد کی وجہ بتانے لگا
“اچھا کیا آپ آئی مجھے خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر”
مشی اخلاقیات کا تقاضہ نبھاتی ہوئی دلاور کی چچی کو دیکھ کر مسکرا دی جبکہ دلاور کی چچی دلاور کو شانے پر چپت رسید کرتی ہوئی بولی
“یہ بیوی ہے تیری یا کوئی چڑیا جو تُو نے اس کو بند کر کے رکھا ہے گھر پر، کیا کام پر جاتے وقت تُو روز باہر سے تالا لگاکر جاتا ہے”
دلاور کی چچی دلاور کو ڈانٹتی ہوئی بولی تو مشی نے دلاور پر نظر ڈالی دلاور بےساختہ اس سے نظریں چرا گیا
“میرے لیے میری بیوی سونے کی چڑیا سے کم نہیں ہے چچی ڈر لگتا ہے میرے پیچھے اُڑ نہ جائے اِس لیے اِس کو اپنے پاس قید کر کے رکھتا ہوں”
دلاور بات کو مزاح کا رنگ دیتا ہوا بولا جو مشی کو طنز لگی۔۔۔ کاٹ دار نگاہوں سے اُس نے دلاور کو دیکھا
“پگلا کہیں کا بیویاں ایسی تھوڑی ہوتی ہیں جو اُڑ جائے گھروں سے”
چچی نے دلاور کو بولنے کے ساتھ مشی کو دیکھا
“مشی بچے”
بےباک سی چچی اُس کے پیٹ کو دیکھتی ہوئی آنکھوں کے اشارے سے پوچھنے لگی جس پر مشی گڑبڑا کر دلاور کو دیکھنے لگی
“ابھی ایسا کچھ نہیں ہے چچی جب بھی خوشخبری ہوئی تو مٹھائی لےکر سب سے پہلے آپ ہی کو سنانے آؤں گا”
دلاور اُن کی بات کا مطلب سمجھتا ہوا اپنی چچی سے بولا آج اس نے بھی اپنی بےباک چچی کی بات پر بےباک ہوکر جواب دیا تھا جس پر مشی دلاور کو دیکھنے لگی
“یہاں کیوں کھڑی ہو سٹنگ ایریا میں لےکر جاؤ چچی کو میں چینج کر کے آتا ہوں”
دلاور کی بات سن کر مشی مسکراتی ہوئی دلاور کی چچی کو وہاں سے لے گئی جبکہ دلاور خود چینج کرنے چلا گیا آج اُس کا پرچہ تھا عموماً اسے پرچے دینے کے بعد آفس جانا تھا مگر اپنے موبائل پر چچی کی کال دیکھ کر وہ اُن کے بھانجے کے گھر چچی کو لینے چلا گیا اور پھر اُن کو اپنے ساتھ یہاں لے آیا
****
“اے مشی بچے تیرا کوئی پھڈا شڈا چل رہا ہے اپنے شوہر کے ساتھ”
مشی ان کے ساتھ صوفے پر برجمان تھی تب دلاور کی چچی مشی سے پوچھنے لگی جس پر وہ ایک دم گڑبڑا سی گئی
“نن۔۔۔نہیں تو چچی ایسا تو کچھ نہیں ہے”
نہ جانے دلاور کی چچی نے یہ سوال کیوں کیا تھا مشی اچانک سے چچی کو دیکھ کر انکار کرتی بولی
“بھائی صاحب (دلاور کے بابا سائیں) کی بڑی کوئی بری عادت ہے کسی کی بات اگر بری لگ جائے تو بس پیچھے پڑ جاتے ہیں اس بندے کے”
دلاور کی چچی کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی اپنے جیٹھ کے بارے میں بولی تو مشی کو تجسس سا ہوا
“کیوں کیا ہوا ہے ویسے بابا سائیں مجھ کو کچھ خاص پسند نہیں کرتے ہیں”
مشی کو اندازہ ہوچکا تھا اگلی بات دلاور کی چچی کے منہ سے اُسی کے متعلق نکلے گی تبھی وہ اپنے سسر کے بارے میں اپنے لیے اُن کی ناپسندیدگی کا بتاتی ہوئی بولی جس پر دلاور کی چچی نے اپنے ہی ہاتھ پر خود تالی ماری
“جبھی تو میں کہوں وہ کیوں نوشین کے پیچھے پڑ گئے ہیں تجھے معلوم ہے دلاور کی دوسری شادی کروانے کے چکر میں ہیں بھائی صاحب”
چچی رازدارانہ انداز میں بولی جس پر مشی کو زوردار دھچکا لگا
“ایسا وہ چاہتے ہیں مگر دلاور کبھی نہیں کرے گا دوسری شادی”
مشی پُر اعتماد لہجے کے ساتھ اُن کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر دلاور کی چچی نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی کی عقل پر ماتم کیا
“ہائے تُو بھی کتنی بھولی ہے بھائی صاحب کو تو نہیں جانتی مگر میں اُن کی رگ رگ سے واقف ہوں انہوں نے دلاور کو کسی دن ایمرجنسی میں اپنے پاس بلانا ہے اس کے سامنے جھوٹی موڈ کا بیمار ہوکر اپنی موت کا رونا ڈالنا ہے اور اپنی آخری خواہش کہہ کر تیرے خاوند کا اُس میسنی نوشین سے نکاح پڑوا دینا ہے”
دلاور کی چچی کی بات سن کر مشی خالی خالی نظروں سے اُن کو دیکھنے لگی جبکہ دلاور کی چچی کمرے سے باہر جھانک کر دلاور کو دیکھنے لگی جو اِس وقت گھر کے کیجول کپڑوں میں موجود لاؤنج میں کھڑا ہوا موبائل پر آفس کے کسی بندے سے باتیں کرنے میں مگن تھا
“میری بات غور سے سن اپنے شوہر کو یوں اکیلے مت جانے دیا کر بھائی صاحب کے پاس پچھلے اتوار تُو نہیں آئی تھی دلاور کے ساتھ، بھائی صاحب نے اُس میسنی نوشین کو دلاور کی آمد سے پہلے ہی بلوا لیا تھا اپنے گھر۔۔۔ وہ تو اتفاق سے میں وہاں پہنچ گئی تیرے چاچے کے ساتھ بھیا تیرے سُسرال میں تو الگ ہی ڈرامے چل رہے تھے وہ میسنی نوشین دلاور سے ایسے ہنس ہنس کر فری ہوکر باتیں کررہی تھی کیا ہی بتاؤں تجھے۔۔۔ خود اپنے ہاتھ سے اُس نے گاجر کا حلوہ دلاور کے لیے بنایا اور پیالیاں بھر بھر کے دلاور کو دے رہی تھی منحوس ماری”
دلاور کی چچی پوری انکھیں کھول کر آہستہ آواز میں مشی کو ساری روداد سنانے لگی جو کہ مشی بہت غور سے دلاور کی چچی کو دیکھتی ہوئی سننے بھی لگی پھر اچانک ہی پوچھنے لگی
“اور دلاور۔۔۔ اس نے کھالیا وہ گاجر کا حلوہ”
چچی سے پوچھتے ہوئے مشی کے لہجے میں تجسس شامل تھی جیسے وہ دلاور کا رسپانس جاننا چاہتی ہو
“کھالیا۔۔۔ تجھے نہیں معلوم کتنا پسند ہے اسے گاجر کا حلوہ بھر بھر کے دو پیالیاں ڈکار گیا اسی وقت”
دلاور کی چچی کی بات پر مشی کو جیسے صدمہ ہوا چلا۔۔۔ اُس نے تو کبھی دلاور کو کسی لڑکی سے آج تک فری ہوتے نہیں دیکھا تھا جو وہ دلاور کی چچی سے سن رہی تھی اِسے یقین نہیں آرہا تھا
“اور بتائیے چچی اور کیا کیا ہورہا تھا وہاں پر”
مشی خود کو نارمل رکھتی ہوئی چچی سے پوچھنے لگی اس کی لہجے میں تجسس شامل تھا
“اور کیا بتاؤں کھانے کے بعد وہ تیری چلاکو مائی چھوٹی نند زرش ننھی کاکی بنی ہوئی ضد کررہی تھی بھائی آئسکریم کھانے جانا ہے وہ بھی گاڑی میں بیٹھ کے پھر دلاور اُس میسنی اور چلاکو مائی دونوں کو ہی گاڑی میں بٹھاکر آئسکریم کھلانے لے گیا ویسے تو زرش کی بچپن میں نوشین سے نہیں بنتی تھی لیکن اب تو دونوں ایسی کوئی سہیلیاں بنی ہوئی ہیں نہ ہی پوچھ تُو”
چچی کی باتیں سن کر پہلی مرتبہ مشی کا دل افسردہ ہوا یعنٰی وہ زرش کو معاف کرچکا تھا یا پھر اُس کو ابھی بھی قصوروار نہیں سمجھتا تھا وہ بےیقینی سے لاؤنج میں موجود موبائل پر بات کرتے ہوئے دلاور کو دیکھنے لگی جو اُس کی طرف متوجہ نہ تھا تبھی دلاور کی چچی مشی کی توڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر مشی کے چہرے کا رخ اپنی جانب موڑ کر اسکی توجہ اپنی طرف دلاتی ہوئی بولی
“دیکھ بچے یہ جو شوہر ہوتا ہے ناں ان سے یوں بےپرواہ نہیں ہوجاتے ویسے تو فریدہ (نوشین کی ماں) بڑی اچھی عادت کی عورت ہے میں تجھ سے اُس کی برائی نہیں کرو گی لیکن اگر بھائی صاحب کے دباؤ میں آکر دلاور نوشین سے شادی کے لیے راضی ہوجاتا ہے تو پھر فریدہ ذرا بھی انکار نہیں کرے گی اس شادی سے اور شوہر کی تو فریدہ کے آگے چلنی ہی نہیں ہے دیکھ تُو مجھے شروع دن سے چنگی لگی اس لیے تجھے عقل دلانے آئی ہوں اپنے شوہر پر نظر رکھ”
جانے دلاور کی چچی اسے اور کیا کیا نصیحتیں کررہی تھی مگر مشی کا دماغ جیسے گم سم ہوچکا تھا
***
“اور کیا کیا باتیں ہورہی تھیں چچی سے”
تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اپنی چچی کو واپس اُن کے بھانجے کے گھر چھوڑ کر آیا تھا رات کو ڈنر کے وقت مشی سے پوچھنے لگا جو اِس وقت اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی
“وہ تمہارے کوئی کارنامے نہیں سنا رہی تھیں جو تمہیں یوں تجسس ہورہا ہے”
مشی منہ بناتی ہوئی بولی تو دلاور حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا
“میرے سنانے لائق کوئی کارنامے موجود بھی نہیں ہے اُن کے پاس۔۔۔ میں نے ایک نارملی بات پوچھی تھی تم سے”
دلاور اُس کو بلاوجہ روڈ ہوتا دیکھ کر بولا پھر اپنے باپ کا لفظ “پھلجڑی” جو انہوں نے مشی کو کہا تھا وہ سوچ کر اُسے ہنسی آگئی
“تم ہنس کیوں رہے ہو”
مشی اُس کوہنستا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگی تو دلاور ایک دم اُس کا موڈ دیکھتا ہوا الرٹ ہوا جیسے ہنس کر اس نے کوئی برا کام کردیا ہو
“نہیں ہنس تو نہیں رہا میں تو کھانا کھا رہا ہوں”
دلاور اس کو انکار کرتا ہوا بولا اور خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگا
“جھوٹ ابھی تم ہنسے تھے اور تمہیں ہنستے ہوئے میں نے دیکھ لیا تھا تم کیوں ہنس رہے تھے دلاور مجھے جاننا ہے”
مشی برا مناتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی جو سچ بات سے انکار کررہا تھا
“بابا سائیں نے تمہیں اُس دن پھلجڑی کہا تھا۔۔۔ ہر وقت چنگاریاں چھوڑتی رہتی ہو کول بھی رہا کرو یار”
دلاور مسکرا کر مشی کا ہاتھ تھام کر بولا جس پر مشی نے بناء مسکرائے سر جھٹکا۔۔۔ وہ اُس کے باپ کے ذکر پر مزید کچھ بول کر ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی
“وہ ڈریس اتنا برا لگ رہا تھا ناں جبھی میں نے چینج کرکے یہ ڈریس پہن لیا”
اچانک مشی نے اُس کی اپنے ڈریس کی طرف توجہ دلائی جس کا دلاور نے نوٹس ہی نہیں لیا تھا کہ اُس کے واپس آنے کے بعد مشی نے ڈریس چینج کیا ہوا تھا وہ اِس وقت پنک کلر کے کپڑے پہنی ہوئی تھی دلاور نے خود اُسے بتایا تھا کہ وہ پنک کلر میں اسے کیوٹ لگتی ہے
“نہیں ایسی بات تو نہیں ہے وہ ڈریس بھی اچھا لگ رہا تھا”
دلاور کا اتنا بولنا ہی غضب ہوگیا مشی گھور کر اسے دیکھنے لگی جس پر وہ مشی کی انکھیں دیکھ کر سمجھ گیا کہ اُس نے پھر کوئی غلط بات کی تھی
“مگر تم نے تو اپنے گھر پر مجھے خود بتایا تھا کہ میں تمہیں پنک کلر کے ڈریس میں کیوٹ لگتی ہوں”
مشی غصہ کرتی ہوئی دلاور کو یاد دلانے لگی جس پر دلاور پریشان ہوا۔۔۔ یہ امتحان اُس پرچے سے زیادہ مشکل تھا جو وہ صبح دے کر آرہا تھا
“تم مجھے ہر وقت کیوٹ لگتی ہو مشی پلیز یار کھانا کھاؤ”
دلاور اُس کی کھانے کی طرف توجہ دلاتا ہوا خود بھی کھانا کھانے لگا
“سنو ہم کھانے کے بعد آئسکریم کھانے چلیں”
مشی کے اچانک بولنے پر دلاور نے حیرت سے پہلے اُس کو دیکھا پھر گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا بےساختہ اُس کے منہ سے نکل گیا
“اس وقت” دلاور کے منہ سے یہ دو لفظ سن کر مشی کے چہرے کا تاثرات یک دم بدلے جس پر دلاور کو اپنی غلطی کا فوراً احساس ہوا جبھی وہ جلدی سے بولا
“ہاں۔۔۔۔ ہاں چلتے ہیں کیوں نہیں بس یہ ذرا ڈنر کرلیں”
آج معمول سے ہٹ کر اُس کے مختلف روڈز پر چکر لگے تھے زیادہ ڈرائیونگ کی وجہ سے اِس وقت تھکن سے اُس کا ایک پرسنٹ بھی دل نہیں کررہا تھا وہ دوبارہ باہر نکلے مگر مشی کا چہرہ دیکھ کر دلاور اُس کی بات مانتا ہوا تیار ہوگیا تھا
“رہنے دو شاید تمہارا موڈ نہیں ہے”
مشی سیریس ہوکر دلاور سے بولی اور اندر ہی اندر گڑھنے لگی
“میں نے کب انکار کیا ہے مشی یہی بولا ہے کھانا کھا کر چلتے ہیں” دلاور مشی کو وضاحت دیتا ہوا بولا وہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی بیوی کا موڈ خراب ہو اتنے دنوں بات تو وہ لوگ نارمل بات چیت کررہے تھے اور اُس نے خود سے کہیں جانے کا بولا تھا
“مجھے انکار نہیں کیا مگر واچ دیکھ کر تمہارے فیس ایکسپریشن ایسے ہی تھے انکار والے۔۔۔ ویسے بھی میرا کوئی خاص موڈ نہیں ہورہا میں نے ویسے ہی بول دیا تھا”
مشی کی بات پر وہ خاموشی سے مشی کو دیکھنے لگا۔۔۔ کسی نے صحیح بولا تھا بیوی کو خوش رکھنا بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے آج دلاور کو یقین ہورہا تھا مشی نے اپنے سائیڈ پر ٹیبل سے سوئٹ ڈش اٹھاکر دلاور کے سامنے رکھ دی کیونکہ دلاور کھانا کھا چکا تھا
“یہ لو ٹیسٹ کرو یہ میں نے تمہارے لیے بنایا ہے”
مشی ہلکی سی اسمائل دے کر اس سے بولی تو دلاور نے اُس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر شکر ادا کیا کہ وہ کسی بات کا برا نہیں مانی تھی بلکہ اچھے موڈ میں تھی دلاور ڈش میں موجود چیز کو غور سے دیکھنے لگا ہے
“ویسے ہے کیا یہ”
دلاور باؤل اور اسپون اٹھاتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا مگر اُس کی بات پر مشی کے چہرے کی اسمائل ایک دم غائب ہوچکی تھی دوبارہ اپنی غلطی پر دلاور نے دل میں ہی خود کو کھوسا تھا آخر یہ غلط سوال اُس نے کیوں کیا اُسے اپنی بیوی سے ایسے نہیں پوچھنا چاہیے تھا
“او۔۔۔ یہ تو گاجر کا حلوہ”
اُس نے زبردستی کا مسکرا کر اندازہ لگایا یہ گاجر کا حلوہ ہوسکتا تھا جس پر مشی نے اقرار میں سر ہلایا تو اس نے دل میں شکر ادا کیا کہ وہ گاجر کا حلوہ ہی تھا۔۔۔ دلاور نے گاجر کے حلوے کی شکل دیکھ کر اسے ذرا سا ہی نکالا
“سہی سے لو ناں یہ میں نے اپنے لیے نہیں بنایا۔۔۔ اور آج بنایا بھی فرسٹ ٹائم ہے۔۔۔ ریسپی بہت پہلے سے نوٹ کر چکی تھی میں اس کی”
مشی ایکسائٹڈ ہوتی اُس کو بتانے کے ساتھ اُس کے باؤل میں مزید حلوہ ڈالنے لگی۔۔۔ دلاور نے پہلا نوالا یہی سوچ کر کھایا تھا اب کی بار کوئی غلطی کی گنجائش نہیں تھی اس کو اپنے چہرے کے تاثرات بالکل صحیح رکھنے تھے چاہے وہ ذائقے میں کیسا بھی ہو مگر یہ زائقہ۔۔۔ یہ ذائقے میں جو حلوہ تھا اگر اسے گاجر کا حلوہ کہا جاتا تو اُسے آج اس ڈیزرٹ سے نفرت ہوجانی تھی
“کیسا بنا ہے” مشی اُس کے تاثرات دیکھ کر جج نہیں کر پائی تھی جبھی اپنا کھانا چھوڑ کر دلاور کی طرف متوجہ ہوتی اُس سے پوچھنے لگی
“ہہمم۔۔۔ یہ گاجر کا حلوہ ہے۔۔۔ میرا مطلب صحیح”
دوسرا نوالہ زبردستی حلق میں اتارتا ہوا دلاور اتنا ہی کہہ سکا
“کیا مطلب صرف صحیح۔۔۔ بس صحیح لگا تمہیں”
مشی دلاور کو دیکھ کر حیرت سے پوچھنے لگی
“نہیں میرا مطلب تھا اچھا۔۔۔ یہ کمال ہے”
دلاور اُس کے تاثرات دیکھ کر فوراً زبردستی مسکرایا اور اگلا نوالہ حلق سے اتارنے کے لیے اُس نے پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑ لیا
“صرف اچھا۔۔۔ کمال یہ کیا بول رہے ہو سہی سے بتاؤ یہ حلوہ تمہیں کیسا لگا”
مشی کو اُس کی تعریف پہ اپنی محنت رائیگاں ہوتی محسوس ہوئی مشی کے چہرے پر مایوسی والے تاثرات دیکھ کر دلاور نے ایک اور چمچہ حلوے کا بھر کر منہ میں ڈالا
“اعلیٰ۔۔۔ پرفیکٹ تم تو ماسٹر ہوچکی ہو کوکنگ میں اس سے زیادہ بہترین گاجر کا حلوہ میں نے ابھی تک نہیں کھایا”
اسے یاد نہیں پڑتا تھا اس سے بڑا جھوٹ اُس نے کب بولا ہو مگر اپنی بیوی کے چہرے پر اسمائل دیکھ کر وہ بھی مسکرا دیا اور اپنے جھوٹ پر اسے کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہوا حلوہ جیسے تیسے ختم کر کے وہ ٹیبل سے اٹھ گیا
“ہونہہ بڑی آئی میسنی”
مشی تصور میں نوشین کو بولتی ہوئی سر جھٹک کر اتنی محنت سے بنایا ہوا حلوہ ٹیسٹ کرنے لگی مگر پہلا نوالہ لیتے ہی اس نے ابکائی کرکے حلوہ منہ سے باہر نکال دیا اور پانی پینے لگی۔۔۔ یہ حلوہ تھا اتنا شدید کڑوا شاید وہ اس میں پسی ہوئی چینی کی بجائے نمک ڈال چکی تھی وہی ٹیبل پر موجود کرسی پر بیٹھی ہوئی ٹپ ٹپ کر کے اُس کی انکھوں سے آنسو گرنا شروع ہوگئے
“سنو مشی ہم باہر چلتے ہیں یار۔۔۔ آؤ تمہیں آئسکریم کھلانے۔۔۔
دلاور واپس ڈائننگ ہال میں آتا ہوا بولا مگر مشی کا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر وہی ٹھہر گیا
“کیا ہوا تمہیں” وہ پریشان ہوتا مشی کا چہرہ دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ اُس کو مسکراتا ہوا چھوڑ کر گیا تھا اب اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر دلاور کو حیرت ہونے لگی
“کیوں جھوٹ بولا تم نے مجھ سے”
مشی سرخ آنکھوں سے اُس کو دیکھ کر ایک دم غُصے میں چیختی ہوئی دلاور سے بولی وہ مشی کے سامنے باؤل میں حلوہ دیکھ کر سمجھ گیا مگر مشی کا یہ ردعمل حیران کن تھا اتنی سی بات پر وہ یوں رو رہی تھی
“میری بات سنو” اِس سے پہلے دلاور اُس کو سمجھانے کے لیے مشی کے پاس آتا وہ غُصے میں حلوے سے بھرا باؤل اٹھاکر زمین بوس کرچکی تھی دلاور کو اس کی حرکت انتہا کی فضول لگی
“یہ کیا گھٹیا حرکت ہے، رزق کی ایسے بے ادبی کرتے ہیں”
دلاور ناگوری میں اُس کے رد عمل پر ڈانٹتا ہوا مشی سے بولا تو مشی اُس سے زیادہ زور سے چیخی
“مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تم نے۔۔۔ ہمیشہ میرے ساتھ تم یہی کرتے ہو، تمہاری محبت بھی اِسی طرح جھوٹی ہے، تم نے اِسی طرح میری چھوٹی تعریفیں کر کے مجھے خوش کیا ہے اپنی جھوٹی محبت کا یقین دلایا۔۔ میرے لیے تمہاری فیلنگز تمہارے ایموشنز سب جھوٹے ہیں آج مجھے معلوم ہوگیا ہے”
مشی بولنے کے ساتھ ساتھ زار و قطار روئے جارہی تھی جبکہ دلاور حیرت کے ساتھ اُس کو دیکھ رہا تھا
“کیا۔۔۔ کیا جھوٹ بولا ہے میں نے تم سے ذرا بتاؤ مجھے”
دلاور مشی کی طرف قدم بڑھاتا ہوا اُس کے پاس آکر پوچھنے لگا
“کیوں بولا تم نے کہ یہ گاجر کا حلوہ بہت اچھا بنا ہے کیوں مجھ سے جھوٹ بولا”
غُصے میں بولتے ہوئے اس نے دلاور کے سینے پر ہاتھ مارا
“میرے لیے اِس گاجر کے حلوے کا ٹیسٹ اہمیت نہیں رکھتا تھا جتنی تمہارے چہرے پر مسکراہٹ اہمیت رکھتی تھی جو میری تعریف کے بعد تمہارے چہرے پر آئی بھی، مشی میرے لیے میری پسندیدگی میں یہ ساری چیزیں بعد میں آتی ہیں پہلے تمہاری ذات میرے لیے اہم ہے”
دلاور نے نرمی سے بولتے ہوئے اُس کے گال پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا جسے مشی نے بےدردی سے جھٹک دیا
“جھوٹ، بالکل جھوٹ، ابھی بھی تم جھوٹ بول رہے ہو، اگر تمہارے لیے میری ذات اہم ہوتی تو تم مجھے پہلی دفعہ کے کہنے میں آئسکریم کھلانے کے لیے لےکر جاتے”
جو بات اُس نے دلاور کے سامنے رکھی تھی دلاور حیرت سے منہ کھول کر اُس کو دیکھتا رہ گیا وہ اُس کی محبت کا پیمانہ ایک آئسکریم سے ناپ رہی تھی جس کا اُس نے انکار بھی نہیں کیا تھا
“مشی ہوا کیا ہے مجھے تمہارے غُصے کی اصل وجہ جاننی ہے بتاؤ کیا سوچ رہی ہو تم”
اُس کی بات اِس قدر بچگانہ تھی کہ دلاور سمجھ گیا اصل وجہ کوئی اور ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ اِس قدر ہرٹ ہوئی تھی
“کوئی وجہ نہیں ہے تم جاؤ یہاں سے میرا دماغ خراب نہیں کرو، جس کے ہاتھ کا حلوہ تمہیں اچھا لگتا ہے اُسی کے ہاتھ کا حلوہ ٹھوسو جاکر۔۔۔ نہیں آتی ہے مجھے کوکنگ نہیں بناسکتی میں کوئی بھی چیز اچھی”
مشی دلاور کو ایک مرتبہ پھر پیچھے دھکا دیتی ہوئی غُصے میں بولی اور اپنے چہرے پر ہاتھ رگڑ کر آنسوؤں کو صاف کرنے لگی۔۔۔ دلاور کا ماتھا بری طرح ٹھنکا آج فلیٹ میں چچی کا آنا، گاجر کا حلوہ، باہر جاکر آئسکریم کھانے کی فرمائش
“یارررر یہ تم عورتیں، کتنی۔۔۔
اگے وہ کچھ نہیں بول سکا اپنی پیشانی پکڑ کر مشی کا چہرہ دیکھنے لگا جو رونے کی وجہ سے اچھا خاصا سرخ ہوچکا تھا
“کیا بول کر گئی ہیں چچی تم سے”
دلاور مشی کی کلائی پکڑ کر اس سے پوچھنے لگا مگر مشی نے دوبارہ اُس کا ہاتھ جھٹکا وہ تیار ہی نہیں تھی کہ دلاور اِس وقت اُس کو ہاتھ بھی لگائے
“وہاں تمہاری موجودگی میں تمہارے گھر پر نوشین کیا کررہی تھی”
مشی غراتی ہوئی دلاور کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی جیسے وہ دلاور کی چوڑی پکڑ چکی ہو
“مشی نوشین میری کزن ہے میرے چچا کی بیٹی، کوئی پہلی مرتبہ میرے گھر پر نہیں آئی تھی۔۔۔ تم سوچ کیا رہی ہو میرے متعلق مجھے یہ کلیئر کرو”
دلاور ڈائریکٹ اصل مدعے پر آتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا ساتھ ہی اُسے پچھتاوا ہونے لگا کہ وہ اپنی چچی کو یہاں کیوں لایا تھا
“زرش سے تو اُس کی اتنی اچھی دوستی نہیں ہے تو پھر وہ تمہاری موجودگی میں کس کے لیے آئی تھی تہمارے گھر تمہارے لیے ناں کیوں اس سے فری ہوکر ہنس ہنس کر بات کررہے تھے تم”
مشی اتنی زور سے چیخ کر بولی کی دلاور کچھ بولے بغیر مشی کا چہرہ دیکھنے لگا پھر چند سیکنڈ کے وفقے کے بعد وہ مشی سے پوچھنے لگا
“تم نوشین کو لےکر مجھ پر شک کررہی ہو”
دلاور اپنی انگلی اپنے سینے پر رکھتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا جس پر مشی نے غصے میں اُس کا گریبان پکڑ لیا
“جب بناء قصور کے تم مجھ پر شک کرسکتے ہو تو میں تم پر شک کیوں نہیں کرسکتی۔۔۔ کیوں آئی تھی وہ وہاں پر جواب تو مجھے۔۔۔ کیوں دو دو مرتبہ ٹھونسہ تم نے اُس کے ہاتھ کا گاجر کا حلوہ بتاؤ مجھے، کیوں لے کر گئے تم اسے گاڑی میں بٹھاکر آئسکریم کھلانے کے لیے۔۔۔ بولو آج میں بھی توڑ ڈالوں تمہارا یہ منہ اُسی دن کی طرح جیسے تم نے میرے منہ پر بےدردی سے تپھڑ مارے تھے”
وہ زار و قطار روتی ہوئی دلاور کا گریبان پکڑ کر چیختی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“چلو آج حساب کتاب برابر کرلیتے ہیں تمہیں مارنا ہے میرے چہرے پر مار لو۔۔۔ آج نکال لو اپنے اندر کا بھرا ہوا غصہ ٹھیک ہے اِس طرح پھر میرے اندر بھی گلٹ موجود نہیں رہے گا تم مار لو مشی مجھے”
دلاور اس کی کلائی پکڑتا ہوا بولا تو مشی نے دوبارہ اُس سے اپنی کلائی چھڑوائی دلاور نے اسے اپنی پناہوں میں قید کرنا چاہا تو مشی ایک دم پیچھے ہوئی
“اپنے دل میں کوئی بھی بات نہیں رکھو مشی اور چچی نے کیا کیا بولا ہے مجھے جاننا ہے”
دلاور اُس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا کیونکہ اُس کے بابا سائیں اُس کے منع کرنے کے باوجود اپنے بھائی سے نوشین کے متعلق اُس کے رشتے کی بات کرچکے تھے وہ الگ بات تھی کہ دلاور اپنے چچا کے گھر جاکر انہیں صاف صاف انکار کرچکا تھا۔۔۔ مگر پھر بھی یہ بات تقریباً پورے خاندان میں پھیل چکی تھی کہ دلاور کی دوسری شادی ہونے والی ہے
“تمہارے بابا سائیں تمہاری شادی نوشین سے کروا رہے ہیں سچ ہے یا جھوٹ”
مشی نے جس طرح غصے میں اُس کے باپ کا نام لیا تھا۔۔۔ وہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ مشی کا اُس کے باپ سے مزید دل برا ہو
“جھوٹ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ پوچھتا ہوں میں ابھی چچی سے فون کر کے کہ انہوں نے کیوں تمہارے کان بھرے ہیں”
دلاور مشی کے سامنے غصے میں بولا۔۔۔ وہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی چچی سے مشی کا دل بدگمان ہو مگر اسے اپنے باپ اور مشی کے درمیان بھی تعلقات بہتر کرنے تھے
“جھوٹ تم یہ بھی یہ جھوٹ بول رہے ہو تم ہو ہی جھوٹے تمہاری بہن جھوٹی ہے اس نے جھوٹا الزام لگایا مجھ پر تم سب ایک جیسے ہو”
جیسے وہ اس کی کسی بات پر سرے سے یقین کرنے کو تیار نہ تھی اس لیے دلاور سے بولتی ہوئی کمرے کی طرف تیزی سے بھاگی
“مشی رکو” اس سے پہلے دلاور اس کے پیچھے آتا وہ کمرے کا دروازہ بند کرچکی تھی
“مشی کیوں اس طرح پریشان کررہی ہوں یار کیوں بچوں جیسی حرکتیں کررہی ہو دروازہ کھولو پلیز”
دلاور دروازہ بجاتا ہوا مشی سے بولا مگر اندر کمرے میں جاکر اُس نے دوبارہ رونا شروع کردیا جیسے آج اُس کا دل بہت بری طرح ٹوٹ گیا تھا
“مشی اگر تم نے یہ دروازہ نہیں کھولا تو میں اس دروازے کو توڑ دو گا”
دلاور اب کی بار اس کے رونے پر دھمکی دیتا ہوا بولا نہ جانے وہ کس بات پر اِس قدر ہرٹ ہوچکی تھی
“اگر تم نے اندر آنے کی کوشش کی تو میں پنکھے سے لٹک کر سوسائیڈ کرلوں گی”
روتی ہوئی مشی کی آواز پر دلاور کو وہ وقت یاد آیا جب ایک مرتبہ اس نے یہی جملہ شیردل سے بھی کہا تھا دلاور جان گیا تھا وہ اب دروازہ اپنی مرضی پر ہی کھولے گی۔۔۔ اگر دلاور نے دروازہ کھولا تو پھر وہ غصے میں کوئی غلط قدم اٹھائے گی شاید کل صبح تک اس کو خود ہی نارمل ہوجانا تھا۔۔۔ اس کے ایگزمز چل رہے تھے مگر وہ پرچے اتنے مشکل نہ تھے جتنی مشکل اس کی زندگی کے امتحانات تھے دلاور کچھ دیر تک مشی کے کمرے کے باہر کھڑا افسردگی سے سوچتا رہا پھر ڈائننگ ہال میں آکر نیچے فرش پر گرا ہوا حلوہ اٹھانے لگا
***
