Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 13)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
وہ آفس سے گھر میں پہنچا تو عام دنوں کی بانسبت تمام کمروں کی لائٹس بند تھی اُس دن مشی اور اُس کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کے بعد دونوں ہی خاموش اپنی اپنی جگہ خود نارمل ہوچکے تھے دونوں ہی اپنے کمروں میں محدود اپنا پرانا روٹین گزار رہے تھے دلاور آفس سے گھر آتا اپنے کمرے کا ہوکر رہ جاتا یا کبھی لاؤنج میں بیٹھا ایل ای ڈی پر کوئی ڈاکومنٹری مووی یا ٹاک شو دیکھ لیتا اگر وہ مشی سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتا تو مشی کا اُس کی باتوں کا جواب دینا مشی کے موڈ پر منحصر کرتا کبھی وہ اُس کی باتوں کا نارمل جواب دے دیتی کبھی بالکل خاموش رہتی یا اُس کی باتوں کو نظراندز کردیتی اور کبھی کبھار دلاور سے بری طرح الجھ جاتی تب دلاور بحث میں پڑنے کی بجائے اپنے کمرے میں چلا جاتا رات میں دلاور نے کھانے کے بعد اپنا روٹین بنالیا تھا وہ کورس کی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا ہے اس لیے مشی کو سونے سے پہلے اُسے چائے یا کافی کا پوچھنا پڑتا اور یہ مشی کا پورے دن کے بعد کچن کا آخری کام ہوتا
مشی ناک منہ بناکر یا پھر رو دھوکر کام کرنے کی بجائے اب سارا کام دلچسپی سے کرتی کیونکہ اس کے پاس اور کوئی دوسری ایکٹیوٹی نہیں تھی نہ ہی وہ دلاور کی طرح اپنی اسٹڈیز مکمل کرسکتی تھی کیونکہ فلیٹ سے باہر نکلنا اس نے بالکل بند کردیا تھا دلاور نے ایک مرتبہ اسے اپنے ساتھ باہر لےجانا چاہا جس پر مشی اُسے صاف انکار کرچکی تھی دلاور زورِ اوّل کی طرح باہر سے دروازہ لاکڈ کرکے کہیں جاتا مشی کا سیل فون ابھی تک دلاور کے پاس تھا جو اُس نے مشی کو نہیں دیا تھا نہ ہی مشی نے اُس سے مانگا تھا اس دن کے بعد سے رملہ کی مشی سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی مشی جانتی تھی کہ شیردل نے ہی رملہ کے بات کرنے پر پابندی لگائی ہوگی اتوار کا دن آتا تو مشی اپنے اور دلاور کے پورے ہفتے کے کپڑے دھو لیتی یا پھر کوئی دوسرا پھیلا کام نکال لیتی یا کوئی نیو ریسیپی ٹرائے کرلیتی، دلاور اپنا چھٹی کا دن گھر پر ہی زیادہ تر ایل ای ڈی کے سامنے بیٹھ کر گزارتا وہ مشی کو یہاں سے وہاں کسی نہ کسی کام میں الجھا دیکھتا رہتا، دو اتوار گھر میں گزارنے کے بعد تیسرا اتوار وہ صبح سے گاڑی لےکر گاؤں نکلا ہوتا اور روز روٹین کی طرح باہر کا تالا لگانا نہیں بھولتا اس دن مشی کو معلوم ہوتا کہ اب وہ رات گئے تک گاؤں سے واپس لوٹے گا نہ تو مشی کو اُس کا انتظار ہوتا نہ ہی فکر اِس طرح مشی اور دلاور دونوں ہی اپنے آپ کو مکمل طور پر حالات کے دھارے پر چھوڑ چکے تھے
“مشی کہاں ہو” تمام کمروں کی لائٹس ان کرکے اس نے مشی کو پکارا ہاتھ میں موجود شاپر اُس نے کاؤنٹر پر رکھ دیئے صبح آفس نکلتے وقت مشی نے اُس سے اپنی ضرورت کا کچھ سامان منگوایا تھا جس کو لینے کے بعد اس نے ایک بیکری کے آگے کار روک کر چیز کیک بھی خریدا کیونکہ کل چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے مشی نے چیز کیک گھر میں بیک کرنے کا تجربہ کیا تھا اور وہ تجربہ خاصہ ناکام ہوا تھا جبھی آج وہ بیکری سے چیز کیک لےکر آیا تھا تاکہ کل والے عجیب سے کیک کا ذائقہ بھول سکے دلاور ٹیرس کا دروازہ کھول کر چاروں طرف نظر دوڑاتا واپس لاونچ میں آیا تو صوفے پر سوتی ہوئی مشی کو دیکھ کر ٹھٹکا دو مرتبہ وہ لاؤنج سے گزر کر رومز میں مشی کو ڈھونڈنے گیا تھا مگر صوفے کی بیک سامنے ہونے کی وجہ سے اس کی مشی پر نظر نہیں پڑی تھی وہ یہاں صوفے پر سو رہی تھی
“مشی اٹھو دیکھو جو چیزیں تم نے منگوائی تھی وہ کاؤنٹر پر رکھی ہیں اور کیک بھی وہی رکھا ہے ابھی چائے کے ساتھ نکال لینا”
دلاور صوفے کے قریب آتا ہوا مشی سے بولا مگر وہ صوفے سے نیچے بےشمار گندے ٹشو پیپر دیکھ کر سمجھ گیا کہ کل کپڑے دھونے کی وجہ سے آج اس کو فلو ہوچکا ہے کیونکہ اب موسم بھی بدل رہا تھا دلاور کی بات پر مشی نے مشکل سے انکھیں کھول کر دلاور پر ایک نظر ڈالی مگر اپنی نڈھال طبیعت کی وجہ سے اس نے کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا
“کوئی انتہا کی فضول حرکت لگتی ہے یہ جو تم نے کی ہے”
استعمال شدہ ٹشوز کو دیکھ کر انگلی سے ان کی طرف اشارہ کرتا اُس نے مشی کو ٹوکا اور شاپر لے کر آیا ایک ایک ٹشو کنارے سے پکڑ کر شاپر میں ڈالتا اسے ڈسبین میں پھینک کر آیا تو مشی ابھی تک ویسے ہی لیٹی ہوئی تھی
“مشی اُٹھ جاؤ یہ کوئی لیٹنے کی جگہ نہیں ہے طبعیت ٹھیک نہیں ہے تو جاؤ جاکر اپنے روم میں لیٹو اور کوئی موٹے کپڑے پہنو”
دلاور ایک مرتبہ دوبارہ اس کے سر پر کھڑا ہوکر بولا تو مشی نے ایک مرتبہ پھر انکھیں کھول کر اُس کو دوبارہ دیکھا
“اب مجھے دوبارہ اٹھنے کے لیے مت بولنا اور اگر میں مر جاؤں تو میری قبر بھی یہی بنا دینا تب بھی مجھے یہاں سے مت اٹھانا”
مشی دلاور کو بولتی ہوئی ٹشو سے ناک پوچھ کر دوبارہ اس کو فرش پر پھینک چکی تھی اب کی بار اُس کی حرکت پر دلاور کو غُصہ آیا
“ابھی منع کیا ہے تمہیں یہ گندے ٹشو یہاں نہیں پھینکو”
دلاور اب کی بار اس کو ڈانٹتا ہوا بولا اور کمرے سے جاکر چھوٹے سائز کا روم ڈسٹبن لے آیا وہ اس کی ضدی اور ہٹ دھرم طبیعت سے واقف تھا اس کے کہنے پر وہ کبھی بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں نہیں جانے والی تھی ڈسٹبن اس وجہ سے لاکر اس نے صوفے کے پاس ہی رکھ دیا تاکہ مشی سارے ٹشو پیپرز اُس میں ڈالے مشی نے دلاور کی ڈانٹ کا کوئی بھی نوٹس نہیں لیا وہ اب بھی اپنی سرخ ہوتی ناک سے نکلا پانی ٹشو سے پوچھنے میں مصروف تھی
“پھر کھانا تو آج نہیں بنایا ہوگا”
وہی برابر والے صوفے پر بیٹھ کر اپنے پاوں سے جوتے اتارتا وہ مشی سے پوچھنے لگا صاف ستھرا گھر دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا گھر کی صفائی وہ طبیعت خرابی میں ہی کرچکی تھی اس لیے کھانے کا پوچھنے لگا تاکہ معلوم ہوجائے کھانا اُسے باہر سے لےکر آنا ہے دلاور کی بات سن کر مشی کی جان جل کر رہ گئی
“اپنے خود کے سوئم کی بریانی کی دیگ چڑھائی ہے میں نے چولہے پہ جاؤ جاکر وہ بریانی ٹھوس لو کھانے کی فکر پڑی یہاں عورت بےشک مرتی مر جائے بس ٹھوسنے کو کھانا ملنا چاہیے”
وہ جلے ہوئے انداز میں بولی ایک تو اُس نے طبیعت خرابی میں بھی پورے گھر کی صفائی کی تھی اور اب اِس آدمی کو کھانے کی پڑی تھی مشی کی بات سن کر دلاور اپنے اتارے ہوئے شوز ایک سائیڈ پہ رکھ کر سلیپر پاؤں میں ڈالتے ہوئے مشی کا تپا ہوا چہرہ دیکھنے لگا
“زبان دراز عورتوں کی عمر اللہ نے کافی دراز کر رکھی ہے میں نے خود دیکھا ہے اُن عورتوں کو، منہ کے دانت بےشک سارے گر جائیں لیکن زبان چلنے سے پھر بھی نہیں رکتی، تم فکر نہیں کرو تمہارا سوئم اتنی جلدی نہیں ہونے والا”
یعنٰی وہ بولنا چاہتا تھا اس کی زبان بھی کافی لمبی ہے اور وہ بھی ان عورتوں سے کم نہ تھی اپنی بات مکمل کرنے کے ساتھ ہی اس نے ڈریس پینٹ میں اڑسی ہوئی شرٹ کو باہر نکال کر کف کے بٹن کھولے تھے مشی نے ایک مرتبہ دوبارہ غصے سے دلاور کو سرخ انکھوں سے دیکھا دلاور کی بات پر اُس کی انکھیں انگارہ اگلنے لگی تھی وہ اُس کی بات کا جواب دیتی ہوئی بولی
“میں نے بھی بہت سے دل جلانے والے مردوں کو دیکھا ہے جن کے پیر قبر میں لٹک رہے ہوتے ہیں مگر وہ اپنے مشغلے سے باز نہیں آتے بلکہ بات بات پر اگلے کو تیلی دیتے رہتے ہیں”
وہ صوفے پر نڈھال پڑی تب بھی دلاور سے مقابلے سے باز نہ آئی تھی اُس کی بات پر دلاور استزائیہ ہنسا
“کون کس کا دل جلاتا ہے یہ تو روز محشر والے دن سب کو معلوم ہوجائے گا”
وہ بولتا ہوا کچن میں جانے لگا تبھی مشی کی آواز پر اُس کے قدم رکے
“میں روز محشر کا انتظار نہیں کرتی بلکہ روز دعا کرتی ہوں کہ برا کرنے والوں کے چہرے دنیا میں ہی بےنقاب ہو”
دلاور اُس کی بات پر کوئی جواب دیے بنا تلخ نگاہ اُس پر ڈال کر کچن میں چلا آیا تاکہ اپنے اور مشی کے لیے چائے بناسکے وہ تھوڑا بہت کچھ کھالیتی پھر اُس کے بعد دلاور اُس کو میڈیسن دے دیتا تاکہ اُس کو تھوڑا ریلیف مل جاتا اب رات کو اسے باہر سے کھانا بھی لانا تھا تھوڑی دیر بعد جب دلاور ٹرے سمیت لاونج میں آیا تو مشی کو ویسے ہی انکھیں بند کیے دیکھا اُس کے ڈھیٹ پن پر دلاور کو کبھی کبھی چڑسی ہوجاتی تھی ٹیبل پر ٹرے رکھ کر وہ مشی کے کمرے سے گرم چادر لے آیا تاکہ اس پر ڈال سکے کیوکہ اس کے کہنے کے باوجود موٹے کپڑے یا پھر سویٹر تو اُس کو پہننا ہی نہیں تھا
“وہ جنّتی عورتیں ہوتی ہیں جو اپنے شوہر کی معمولی بات کو حکم کا درجہ دے کر فوراً اُس پر عمل کرتی ہیں”
دلاور طنزیہ بولتا ہوا اس پر موٹی سی چادر ڈال چکا تھا جو سکڑی سمٹی صوفے پر لیٹی ہوئی تھی
“جن کی زندگی جہنم سے کم نہ ہو وہ عورتیں جنّت کی خواہش کر کے کیا کریں گیں”
مشی دوبارہ اُس کے طنز پر دلاور کا مقابلہ کرتی بولی تو دلاور کو غصہ آنے لگا وہ جانتا تھا طبعیت خرابی کے باعث وہ اب ایسے ہی زبان چلاتی رہے گی
“ہمیشہ کی طرح میرا دل جلانے کی بجائے یہ کھالو کیونکہ اب میں تمہارے نخرے اٹھاتے ہوئے تمہارے منہ میں نوالے نہیں ڈالو گا”
دلاور ٹرے میں رکھے کیک کی طرف اشارہ کرتا بولا
“اور تمہیں لگ رہا ہے کہ میں تمہارے ہاتھ سے کچھ کھانے کی منتظر بیٹھی ہوں تمہارے ہاتھ سے یہ کیک نہیں میں زہر کھانا پسند کروں گی”
مشی دلاور کی بات کا نوٹس لیے بغیر اپنی چڑچڑی طبیعت کے باعث دوبارہ بولی تو دلاور طنزیہ ہنستا ہوا اس کے پاس آیا
“اور اُس بات کا اعتراف تو میری جان سے پیاری بیوی خود کرچکی ہے کہ اُس کا شوہر اُس کو کبھی بھی جان سے نہیں مار سکتا”
دلاور نے ہنستے ہوئے طنزیہ الفاظ میں فقرہ کہنے کے ساتھ اس کے گال کو چھوا تبھی مشی نے غصے میں اُس کا ہاتھ دور جھٹکا اور اٹھ کر بیٹھ گئی
“شوہر جان سے نہیں مار سکتا مگر زندگی کو جہنم بناسکتا ہے اپنی جان سے پیاری بیوی کی”
مشی کے بولنے پر دلاور کے ماتھے کی تیوری دوبارہ چڑھی
“اب تم حد سے بڑھنے کی کوشش مت کرنا مشی اپنی زبان کو لگام دو اور خاموشی سے یہ کیک کھاؤ اور اس کے بعد ٹرے میں رکھی یہ میڈیسن بھی کھالینا تاکہ تہماری طبیعت اور دماغ دونوں ہی درست ہوسکیں”
دلاور غصے میں اُس کو کہتا ہوا چائے سے بھرا اپنا کپ لےکر اپنے کمرے میں چلا گیا
“ایڈیٹ” مشی غصے میں بڑبڑائی ہاتھ اگے بڑھا کر اس نے پلیٹ اٹھالی جس میں چیز کیک موجود تھا صبح ناشتے میں اس نے خالی چائے پی تھی اِس وقت اُس کو کافی بھوک لگ رہی تھی
***
کتابیں کھولے اسے مشکل سے آدھا گھنٹہ گزرا تھا تب اُسے مشی کے کمرے سے اُس کی رونے کی آواز آئی باہر سے کھانا لاکر وہ مشی کو کھانا کھانے کا بول چکا تھا خود اپنے کمرے میں کھانا کھاکر وہ تھوڑی دیر پہلے ہی پڑھنے بیٹھا تھا مگر مشی کے رونے کا سوچ کر مذید اس سے پڑھا نہ گیا کتابیں بند کرکے وہ اپنے کمرے سے نکلا
“ہائے اللہ پلیز ماما کو کیسے بھی بھیج دیجیئے”
اب کی بار روتے ہوئے تیسری مرتبہ اُس نے یہ جملہ بولا تھا بخار کی حدت سے اُس کا چہرا جل رہا تھا اور آنکھیں سوجھ چکی تھی اپنا گلا اور سینہ جکڑا ہوا محسوس ہورہا تھا جبکہ کنپٹی سے ٹیسے اٹھ رہی تھی
“مشی اٹھو شاباش یہ سوپ پی لو تھوڑا بہتر محسوس کرو گی”
دلاور کمرے میں سوپ کا باؤل لاتا ہوا مشی سے بولا فرش پر پڑے گندے ٹشو پیپرز کو اس نے بالکل اگنور کردیا تھا
“کیو آئے ہو میرے کمرے ابھی تو میں زندہ ہوں جب صبح تک یہاں میری لاش پڑی ملتی تب آنا تھا تمہیں”
مشی اس کو دیکھ کر غصّے میں بولی نہ جانے کیو آج اسے دلاور پر شدید غصہ آرہا تھا شاید گھر میں کوئی اور دوسرا فرد موجود نہ تھا جس پر وہ غصہ نکالتی
“کچھ نہیں ہورہا تمہیں، یہ پیو گی اور میڈیسن لوگی تو صبح تک ٹھیک ہوجاو گی چلو اٹھ کر بیٹھو شاباش”
دلاور ہاتھ میں باؤل لیے اُس کے بیڈ کے پاس کھڑا مشی سے بولا
“زیادہ مجھ سے ہمدری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے یوں ایکٹ کرتے ہوئے تم زہر لگ رہے ہو چلے جاؤ یہاں سے”
وہ ایک مرتبہ پھر دلاور پر بگڑتی ہوئی بولی دلاور نے بھی جیسے قسم کھا کر آیا تھا اس کی بدتمیزی پر کوئی ری ایکٹ نہیں کرے گا وہ باؤل ایک سائیڈ پر رکھ کر جھکتا ہوا اُسے آہستگی سے اٹھانے لگا
“چھوا مت کیا کرو تم مجھے بدتمیز آدمی پیچھے ہٹو ٹچ کیوں کررہے ہو مجھے”
وہ مشی کے چلانے پر بھی اُس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا زبردستی اُس کو بیڈ پر بٹھا چکا تھا تین دن پہلے ہی مشی اُسے نیند سے جگانے اُس کے کمرے میں آئی تھی تب اُس نے نیند میں مشی کو بیڈ پر اپنے پاس کھینچ کر اُسے کس کرلی تھی یہ سب ایک بےاختیاری عمل تھا جو وہ نیند کی خماری میں کر بیٹھا مگر تب مشی اُس پر کافی بگڑی تھی تبھی اِس وقت وہ اُس کو چھونے کو منع کررہی تھی
“کس نہیں کررہا تھا تمہیں بٹھا رہا تھا، بس تھوڑا سا سوپ پی لو اس کے بعد چلا جائے گا یہ بدتمیز آدمی تمہارے کمرے سے”
وہ نرمی سے بولتا ہوا اس کے برابر میں بیٹھ کر مشی کو خود سے سوپ پلانے لگا کیونکہ مشی کے ہاتھوں میں ہوتی لرزرش سے وہ جان چکا تھا کہ مشی خود سے سوپ نہیں پی سکے گی اب کی بار مشی نے مزاحمت نہ کی تھی وہ خاموشی سے دلاور کے ہاتھ سے سوپ پینے لگی کیوکہ اسکے اپنے ہاتھ کمزوری کی وجہ سے کانپ رہے تھے آدھا باؤل ہوگیا تب اس نے دلاور کی کلائی پکڑی
“کیا میرے مرنے پر بھی بھائی یہاں نہیں آئے گے آخری دفعہ میرا چہرا دیکھنے کے لیے، اتنی نفرت ہوگئی ہے اُن کو اچانک سے مجھ سے”
مشی کی بات پر دلاور کا دل بری طرح دکھا تھا وہ باؤل سائیڈ میں رکھتا ہوا اپنا بازو دراز کرکے مشی کو اپنے حصار میں لے چکا تھا
“کچھ نہیں ہورہا تمہیں صبح تک طبیعت ٹھیک ہوجائے گی تمہاری”
مشی کے پاس کوئی ایسا کندھا نہیں تھا جس پر وہ سر رکھ کر آنسو بہا سکتی اسلیے دلاور کے سینے میں چہرہ چھپاتی بری طرح رونے لگی
“کیا ہوگیا مشی میری زندگی کچھ نہیں ہونے دے گا دلاور تمہیں ایسے مت رووں پلیز”
وہ سچ میں مشی کے اُس طرح رونے پر بےچین ہوا تھا اس کی کمر سہلاتا ہوا نرمی سے اُسے چپ کروانے لگا
“ماما۔۔۔ دلاور ماما چاہیے مجھے اُن کو بلاؤ یہاں پر اُن سے کہو مشی کے پاس کوئی نہیں ہے وو۔۔۔ وہ بالکل اکیلی ہوچکی ہے”
وہ دلاور کے سینے سے لگی بالکل بچوں کی طرح بلک کر روتی ہوئی بولی دلاور نے اسے مزید اپنے اندر بھینچ کر مشی کے بالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا
“میں ہوں تو میری جان تمہارے پاس اسطرح کیوں سوچ رہی ہو چپ ہوجاؤ بس اب بالکل مت رونا”
مشی کی حالت دیکھکر اس نے رملہ کو یہاں بلانے کا ارادہ کیا مگر شیردل کی خفگی کا سوچ کر اُس ارادے پر عمل نہ کرسکا دلاور بہت پیار سے مشی کا چہرا اوپر کیے اُس کے آنسو صاف کرنے لگا
“تم۔۔۔ مگر تم تو پیار نہیں کرتے مجھ سے۔۔۔ نہ بھائی پیار کرتے ہیں پلیز ماما کو بلالو یہاں”
مشی دلاور کا چہرا دیکھتی ہوئی بولی شدت سے رونے کے باعث اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھی
“تہمارا بھائی تم سے بہت پیار کرتا ہے مشی مگر اُن کے پیار کرنے کا انداز ہر ایک فرد سے مختلف ہے اور رہی میری بات تو کس نے کہا میں تمہیں پیار نہیں کرتا میرے دل میں جھانک کر دیکھو دلاور اب بھی دیوانہ ہے اپنی بی بی کا دلاور سب کچھ چھوڑ سکتا ہے مگر اپنی بی بی سے پیار کرنا کبھی نہیں چھوڑ سکتا”
دلاور نے بولتے ہوئے ایک مرتبہ دوبارہ مشی کو اپنے بازووں میں بھرا اور اپنی محبت کی یقین دہانی کرواتے ہوئے بولا اپنی طبیعت خرابی میں خود پر توجہ چاہ رہی تھی جبھی رملہ کو روتی ہوئی یاد کررہی تھی دلاور کی اتنی توجہ سے وہ تھوڑی ریلکس ہوئی تب دلاور نے اس کو میڈیسن کھلائی اور شانوں سے تھام کر بیڈ پر لٹادیا
مشی خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جب وہ دراز سے ٹیوب نکال کر واپس بیڈ پر آیا ٹیوب میں موجود آئینٹمینٹ نکال کر وہ مشی کی پیشانی پر لگا کر نرم انگلیوں سے مساج کرنے لگا مشی آنکھیں بند کرتی تھوڑا سکون محسوس کرنے لگی دلاور کے ہاتھ جیسے ہی مشی کی پیشانی سے ہٹے تو اُس نے دوبارہ آنکھیں کھول دی دلاور ہاتھ میں دوبارہ آئینٹمینٹ نکالنے لگا جب اُس نے مشی کی شرٹ اٹھانی چاہی تب مشی نے اس کی کلائی پکڑلی اور اپنا سر نفی میں ہلایا
“اس سے ریلیف ملے گا تم صبح تک بہتر فیل کروگی”
دلاور نے نرمی سے بولتے ہوئے اپنے دوسرے ہاتھ سے مشی کا ہاتھ اپنی کلائی سے ہٹایا مشی کی جھجھک کو دیکھتے ہوئے دلاور اُس کی شرٹ کو پورا اوپر کیے بغیر اس کی پسلیوں پر ہلکے ہاتھ سے مساج کرنے لگا مشی دلاور کا ہاتھ اپنی پسلیوں پر محسوس کرتی انکھیں بند کرکے چہرے کا رخ دائیں جانب تکیہ کی طرف کرگئی وہ مشی کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا اب ایک مرتبہ اس نے انگلی کے پور پر ایک ٹپ لےکر اس کی ناک پر لگایا مشی دلاور کو دیکھنے لگی وہ مشی کے چہرے پر زرا سا جھکتا اس کی ناک پر انگلی کی پور سے ٹیوب لگاتا مشی کے دیکھنے پر اس کو اسمائل دینے لگا مگر مشی نے اس کو اسمائل نہیں دی وہ خاموش لیٹی رہی
“اب تم ریسٹ کرو صبح تک طبعیت ٹھیک ہوجائے گی، میں اپنے روم میں نہیں جارہا یہی لاؤنج میں ہوں کسی چیز کی ضرورت ہو تو آواز دے دینا”
دلاور اپنائیت بھرے لہجے میں مشی سے بولا تو مشی نے اپنی آنکھیں بند کرلیں وہ مشی کو گرم چادر اوڑھتا ہوا شام کی طرح دوبارہ سارے ٹشو پیپرز فرش سے اٹھاکر انہیں ڈسٹ بن میں پھینک کر اپنے کمرے سے سیگریٹ لے آیا جسے شعلہ دینے کے بعد وہ ٹیرس پر کھڑا اسموکنگ کرتا اپنے اور مشی کے تعلق کو سوچنے لگا وہ چند ماہ سے ایسی زندگی گزار کر اب تھک چکا تھا اپنی محبت کے قریب ہوکر بھی دور رہنا بہت مشکل تکلیف دہ عمل تھا جس میں وہ کبھی کبھار اکتانے لگتا وہ اپنے اِن حالات کو مشی اور اپنے رشتے کو کچھ ٹھیک کرنا چاہتا تھا
***
“وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آکر بیڈروم نہیں دیکھوں گی”
حسام کے بولنے پر ہانیہ آئستہ قدم اٹھاتی اُس کے بیڈ روم میں چلی آئی کل حسام کے بےحد اصرار کرنے پر وہ اُس کی بات مان کر آج اس کے گھر آئی تھی سامنے دیوار پر بڑی حسام اور مہرین کی تصویر دیکھ کر ہانیہ کو غصّہ آنے لگا
“اِس وقت جتنا غصہ تمہیں اِس تصویر کو دیکھ کر آرہا ہے،، اب اُس سے زیادہ غصہ مجھے اِس تصویر کو دیکھ کر آتا ہے کاش اِس تصویر میں مہرین کی جگہ تم ہوتی تو آج میری زندگی خوشیوں سے بھری ہوتی”
سرد آہ بھر کر بولتا ہوا حسام ہانیہ کو دیکھنے لگا ہانیہ حسام کی بات پر اُس کو دیکھتی اُس کے بیڈ روم سے باہر نکل گئی اور چلتی ہوئی سیٹنگ ایریا میں آگئی
پانچ ماہ پہلے وہ حسام سے ملی تھی تب حسام نے اُس سے اپنے کیے کی معافی مانگی تھی اس کے بعد اس کا اور حسام کا موبائل کالز پر باتوں کا سلسلہ چل نکلا وہ حسام کے بےحد اصرار پر تین سے چار مرتبہ اور بھی حسام سے ملنے آئی تھی مگر آج اُس کے گھر حسام کے بلانے پر پہلی بار آئی تھی
“تمہارا گھر کافی بڑا ہے اور کافی خوبصورت بھی”
ہانیہ صوفے پر بیٹھ کر حسام سے بولی تو حسام ہانیہ کے پاس آکر صوفے کے نیچے اُس کے قدموں میں بیٹھ گیا
“مجھے اِس بڑے گھر سے اور مہرین سے کوئی غرض نہیں ہے ہانیہ میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال کر جو غلطی کرچکا ہو اُس پر اب بےحد پچھتا رہا ہوں”
حسام ہانیہ کے قدموں میں بیٹھا ہانیہ کو ایک بار پھر بتانے لگا کہ وہ اُس کے بغیر اپنی زندگی میں خوش نہیں تھا اِن پانچ ماہ میں وہ ہانیہ سے یہی باتیں کرتا آیا تھا کہ اِس دن اپنی عزت کو شیردل کے حوالے کرکے وہ سخت نادم تھا ہانیہ کو اس حالت میں (پریگننٹ) دیکھ کر وہ افسوس کرتا
“اپنی غلطی پر پچھتانے کی بجاۓ تم اپنی غلطی کو اب بھی سدھار سکتے ہو حسام”
ہانیہ کے یوں اچانک بولنے پر حسام کے اوپر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے گا آخر کو پانچ ماہ سے وہ اُس کے منہ سے یہ جملہ سننے کا منتظر تھا
“غلطی سدھارنے کا مطلب یہی ناں کہ میں مہرین کو چھوڑ دو اور تم شیردل کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے میرے پاس آجاؤ گی یہی بولنا چاہتی ہوں ناں تم ہانیہ تو میں بالکل تیار ہوں”
حسام ہانیہ کے بولنے پر جذباتی سا ہوگیا تھا اس نے جذباتی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہانیہ کے ہاتھوں کو تھامنا چاہا مگر ہانیہ کے آنکھیں دکھانے پر اُس نے جلد ہی اپنے غلطی کا احساس ہوا
“سوری میں کچھ زیادہ ہی خوش ہوگیا تھا تمہارے منہ سے اِس طرح کا جملہ سن کر”
حسام ہانیہ سے بولتا اپنے ہاتھ پیچھے کرکے تھوڑا خود بھی پیچھے ہوکر بیٹھا اِن پانچ ماہ میں ہانیہ نے اُسے خود کو چھونے نہیں دیا تھا کیوکہ وہ شیردل کے نکاح میں تھی اور ایسا کام کرکے وہ خود گناہ کا مرکز نہیں بننا چاہتی تھی جو حسام اُسے اپنے نکاح میں رکھ کر شیردل کے حوالے کرکے کرچکا تھا
“بہت جلدی بہت زیادہ آگے کا سوچ لیا تم نے حسام میرا شیردل سے علیحدگی اختیار کرنا تمہارا مہرین کو طلاق دینا یہ سب تو کافی بعد کے معاملات ہیں پہلے تو تمہیں مجھے یقین دلانا پڑے گا کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو کتنا یقین ہے تمہیں میرا اصل میں یہی تو ایک رشتہ کو نبھانے کی بنیادی چیزیں ہوتی ہیں”
ہانیہ حسام کو جتاتی ہوئی بولی تو حسام اُس سے ایک دم بول پڑا
“ہانیہ یقین کرو مجھ پر میں بہت زیادہ محبت کرتا ہو تم سے تمہیں دنیا کی ہر خوشی دو گا شیردل سے بھی زیادہ خوش رکھوں گا میں تمہیں”
حسام ہانیہ کو اپنا یقین دلاتا ہوا
“یعنی چاند اور تارے توڑ کر لے آؤ گے میرے قدموں میں رکھنے کے لیے”
ہانیہ حسام سے پوچھنے لگی حسام کے لئے بہت مشکل کام بول دیا ہو اُس نے حسام کی شکل یوں بن گئی
“ہاں ہاں بالکل کیوں نہیں”
حسام ہانیہ کو مسکراتا دیکھ کر جذباتی ہوکر بولا کیونکہ ہانیہ اِس بات کے بدلے اُس سے راضی ہونے والی تھی جو وہ چاہتا تھا ہانیہ اُس کی بات پر دوبارہ مسکرائی
“پھر تو تمہارے لیے یہ اور زیادہ آسان ہوگا اپنا یہ گھر میرے نام کرنا اور اپنی ساری پراپرٹی بھی”
ہانیہ کے بولنے پر حسام ایک دم بری طرح سٹپٹاگیا
“تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں اپنا سب کچھ تمہارے نام
حسام کو تھوڑا دھچکا بھی لگا اُسے سمجھ میں نہیں آیا وہ ہانیہ کو کیا بولے تبھی حسام کی شکل پر بارہ بجتے دیکھ کر ہانیہ ہنس دی اچانک ہانیہ کے موبائل پر شیردل کی کال آنے لگی جسے مسکراتے ہوۓ اُس نے رسیو کرلی
“تو مسٹر شیردل کا دل نہیں لگ رہا آج آفس میں میرے بغیر”
مسکرا کر دلفریب انداز میں بولا گیا جملہ ہانیہ کو پورا یقین تھا شیردل کو اندر تک خوشگواری کا احساس بخش گیا ہوگا
“آج سچ میں میرا دل آفس میں نہیں لگ رہا کیونکہ رات میں تم جلدی سوگئی تھی مجھ سے روز کی طرح باتیں کیے بغیر یار میں پورے دن میں ایک رات کو ہی تو تم سے تمہارا تھوڑا سا وقت مانگتا ہوں پلیز مجھے نظر انداز مت کیا کرو کیوکہ میرا اگلا دن پھر ذرا سا بھی اچھا نہیں گزرتا”
شیردل کی بات پر ہانیہ خوبصورت سے انداز میں مسکرائی اُس کی کھنکتی ہوئی ہنسی کو حسام بس دیکھتا رہ گیا
“مجھے احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو مجھے اندازہ ہے تو مجھ سے بہت محبت کرتے ہو اور میری کسی بھی بات کو رد نہیں کرسکتے اسی خوشی میں ایسا کرتے ہیں کہ آج لنچ باہر کرتے ہیں ایک ساتھ ارے نہیں آج تمہاری امپورٹنٹ میٹنگ ہے تم نے کل بتایا تھا”
ہانیہ اپنا بنایا ہوا پروگرام امپورٹنٹ میٹیگ کا بول کر افسوس کرتی ہوئی خود ہی کینسل کرچکی تھی تب حسام کو اسپیکر سے شیردل کی آواز سنائی دی
“جو لمحات میں تمہارے ساتھ گزارتا ہو وہ سب سے زیادہ اہم ہے میرے لیے اُس کے آگے میٹنگ کوئی معنی نہیں رکھتی آج کی میٹنگ کینسل اور ہم دونوں کی ڈیٹ کنفرم میں بکنگ کروا رہا ہوں تمہارے پسندیدہ ہوٹل میں”
شیردل خوش ہوتا موبائل پر ہانیہ سے بولا
“تم ایک معمولی سے لنچ کے پیچھے کڑوڑوں کی میٹنگ کینسل کررہے ہو وہ بھی اپنی بیوی کے لئے یہ عقلمندی نہیں ہے میرے خیال میں”
ہانیہ موبائل پر شیردل سے بولتی جتاتی نظروں سے حسام کو دیکھنے لگی
“میرے لیے میٹنگ زیادہ اہم نہیں تمہاری خوشی مجھے زیادہ عزیز ہے کیوکہ تم صرف میری بیوی ہی نہیں میری محبت بھی ہو”
شیردل کا لہجہ محبت میں گوندھا تھا جس پر ہانیہ مغرور سی ہوئی
“اور آپ کی اِسی انداز پر مسسز شیردل آپ سے امپریس ہوتی ہیں ویسے شیردل مسسز عائلہ کے پاس جو ڈائمنڈ کی رینگ تھی یاد ہے ناں میں نے تمہیں اُس کا ڈیزائن بھی دکھایا تھا پکچر میں”
ہانیہ اپنے ناخنوں کے شیپ کو دیکھتی ہوئی شیردل سے پوچھنے لگی حسام کو اب اُس نے مکمل طور پر نظر انداز کیا ہوا تھا جو حسام کو تھوڑا محسوس ہوا وہ ابھی تک ہانیہ کے قدموں میں بیٹھا تھا
“صرف رینگ نہیں میں تمہارے لئے پورا ڈائمنڈ کا سیٹ بنوا چکا ہو سیم اُسی ڈیزائن کا آرڈر پر میری جان اور بھی کوئی فرمائش ہے تو حکم کرو تمہارا یہ شوہر تمہاری ہر بڑی سے بڑی خواہش پوری کرنے کے لیے حاضر ہے”
موبائل سے باہر شیردل کی آتی ہوئی آواز پر ہانیہ حسام کا چہرہ دیکھنے لگی جو اِس وقت شیردل کی گفتگو سن کر پھیکا پڑچکا تھا
“وہ تو مجھے معلوم ہے اگر میں تمہیں چاند اور ستارے توڑ کر لانے کا کہو گی تم وہ بھی لاکر میرے قدموں میں رکھ دو گے اچھا اب میں کال بند کررہی ہو تھوڑی دیر بعد لنچ پر ملتے ہیں”
ہانیہ شیردل سے بولتی اِس کی کال کاٹ چکی تھی تبھی اس کے موبائل پر شیردل کے دو میسج آۓ
پہلے میسج میں شیردل پوچھ رہا تھا کہ وہ اپنی کون سی ایسی دوست کے سامنے بیٹھی ہے جسے یہ ساری باتیں سناکر اُس بےچاری کو جلا رہی ہے جبکہ دوسرا میسج وہ مسکراتی ہوئی وہ حسام کو دکھانے لگی
“بالکل ہی دیوانہ ہے شیردل تو دیکھو میرے لئے ٹیبل بک کروانے کی بجاۓ سے پورا ہوٹل بک کروا لیا خالی خولی محبت بھری باتوں میں نہیں ٹرخاتا یہ مجھے اوکے حسام میں چلتی ہو لنچ کے لئے ریڈی بھی ہونا ہے مجھے”
ہانیہ حسام سے بولتی اپنا بیگ اٹھاکر اُس کے گھر سے نکل گئی حسام وہی کا وہی بیٹھا رہ گیا
***
“دلاور اُٹھو۔۔۔ دلاور اُٹھ بھی جاؤ کچن کا نل فری ہوگیا ہے اس کو ٹھیک کرو کب سے پانی بہے جارہا ہے”
مشی اس کے روم میں آتی ہوئی بولی تو دلاور نے نیند بھری انکھیں کھول کر مشی کو دیکھا۔۔۔ کس والی حرکت کے بعد وہ نیند میں دلاور کے قریب نہیں کھڑی ہوتی تھی بلکہ اُس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہوکر اُسے جگاتی تھی
“ہفتے بعد ایک چھٹی کا دن آتا ہے تم اُس میں تو سکون لینے دیا کرو مجھے، کوئی کام نہیں کررہا میں اِس وقت”
وہ بےزاری میں بولتا ہوا کروٹ لے کے دوبارہ لیٹ گیا۔۔۔ کل ہی اس نے واش روم کا ٹپکتا ہوا مسلم شاور ٹھیک کیا تھا عموماً وہ مشی کے بولے ہوئے کام سے کبھی بھی انکار نہیں کرتا تھا لیکن کل رات اس نے دیر تک جاگ کر پڑھا تھا اور ابھی وہ تھوڑی دیر اور نیند لینے کے موڈ میں تھا
“گھر کے بگڑے ہوئے کام تم نہیں کرو گے تو کیا کوئی پڑوسی آکر کریں گے ہو اٹھو جلدی سے جاکر دیکھو پانی کب سے بہے جارہا ہے”
اپ کی بار بولتے ہوئے مشی نے اس کے اوپر سے کمفرٹر کھینچ لیا تو وہ بگڑے ہوئے زاویے کے ساتھ بیڈ چھوڑ کر اٹھا
“جتنے بھی خراب کام ہیں آج ہی بتاؤ مجھے، آج کے دن میں سارے بگڑے گھر کے کام کروں گا لیکن اگلے دو مہینے تک پھر تم مجھے تنگ نہیں کرو گی”
وہ نیند کی وجہ سے خراب ہوتے موڈ کے ساتھ کمرے سے نکلتا ہوا بولا تو مشی بھی اس کے پیچھے چلتی ہوئی تنک کر بولی
“گھر کی چیزوں کو میں جان بوجھ کر نہیں بگاڑتی جو تم مجھے باتیں سنا رہے ہو اور یہ کام کرکے تم کسی پر کوئی احسان نہیں کرتے ہو۔۔۔ ہر آدمی اپنے گھر کے بگڑے ہوئے کام ٹھیک کرتا ہے”
مشی اس کے پیچھے آتی بولی تو دلاور کے قدم رکے وہ پلٹ کر مشی کو دیکھتا ہوا بولا
“تم ذرا بات تمیز سے کرنا سیکھ لو اگر میں گھر کے کام کرکے احسان نہیں کرتا تو تم بھی کوئی احسان نہیں کرتی میری ذات پر، اس کے لب و لہجے میں اپنے بھائی سے بات کیا کرو شوہر سے نہیں”
دلاور انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دیتا ہوا دوبارہ آگے بڑھا
“ہونہہ شوہر، ذرا شوہر کو تو دیکھو شوہر سا شوہر نہ ملا اوپر سے باتیں سن لو بس”
ایک تو ویسے ہی اس کی نیند خراب ہوئی تھی اوپر سے مشی کی چلتی ہوئی زبان دلاور دوبارہ اس کی طرف مڑا
“ابھی دکھاؤں تمہیں صحیح کا شوہر بن کر “
لفظ “شوہر” پر دلاور کے جملے پر مشی خاموشی سے اسے دیکھنے لگی مشی کے دیکھنے پر وہ بھی اپنی بات پر چونکا بےزاریت اور غصہ ایک دم کہیں غائب ہوگیا
اُس وقت وہ اُس سے عام بیویوں کی طرح لڑ رہی تھی لفظ “بیوی” کا سوچ کر دلاور نے اچانک ہی اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے اپنی جانب کھینچا مشی جب تک اس کی حرکت سمجھ پاتی اُس سے پہلے دلاور مشی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا مشی اُس کا حصار توڑ کر ایک دم باہر نکلی
“تم۔۔۔ کیا تھا یہ۔۔۔ دماغ سٹیا گیا ہے کیا تمہارا صبح ہوتے ہی۔۔ میں نے تمہیں کچن کا نلکا ٹھیک کرنے کے لیے جگایا تھا اس لیے نہیں کہ تم جاگ کر چھچھورا پن شروع کردو میرے ساتھ”
مشی غصّے میں اُس کو دیکھتی ہوئی بولی تو دلاور ہوش میں آیا آج پھر نہ جانے اُسے کیا ہوا تھا کہ مشی کو دیکھ کر ایک دم اُس کے جذبات بہک گئے تھے
“اگر کچن کا نلکا ٹھیک کروانا ہے تو میرے پیچھے پیچھے کیوں آرہی ہو جاکر ٹول باکس لاکر دو مجھے”
مشی کی بات سن کر شرمندگی سے اپنی جھینپ مٹاتا ہوا وہ اپنے لہجے کو سنجیدہ کر کے بولا اور کچن میں چلا آیا ہوا۔۔۔چھچھور پن کب کیا میں نے اِس کے ساتھ۔۔۔ اپنی فیلنگز کے لیے ایسا لفظ سن کر دلاور کو افسوس ہوا تب مشی ٹولز باکس کچن میں لے آئی
“یہ لو اتنی سی بات تھی ہوگیا ٹھیک”
دلاور پانی کا نلکا ٹھیک کرنے کے بعد مشی کو دیکھتا ہوا بولا جس کی توجہ پوری کی پوری نلکے پر تھی وہ اسے کھول کر پھر دوبارہ بند کرکے دیکھ رہی تھی تبھی دلاور مشی کو دیکھتا ہوا بولا
“آج کہیں باہر چلیں”
دلاور کے یوں اچانک بولنے پر مشی ایک دم چونکی اس نے نلکے سے اپنی توجہ ہٹاکر دلاور کو دیکھا جو اسے کافی اچھے موڈ میں نظر آرہا تھا
“کس خوشی میں”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی سنجیدہ لب و لہجے میں اُس سے پوچھنے لگی
“کسی خوشی میں نہیں بلکہ خوشیوں کو ڈھونڈنے کے لیے، آج میرا دل چاہ رہا ہے چلو تیار ہوجاؤ”
دلاور غور سے مشی کا چہرہ دیکھتا ہوا اپنائیت بھرے لہجے میں اُس سے بولا
“مگر میرا دل نہیں چاہ رہا”
مشی اُس کو صاف انکار کرتی ہوئی بولی اور کچن سے باہر جانے لگی تبھی بے ساختگی سے دلاور نے اُس کی کلائی پکڑی
“تو آج اپنے دل کو سمجھاؤ ناں کہ وہ میرے دل کی مان لے”
دلاور مشی کو دیکھ کر اصرار کرتا ہوا بولا
“تمہیں اگر کہیں جانے کا موڈ ہے تو ہمیشہ کی طرح دروازے کو تالا لگاؤ اور خود چلے جاؤ میرے سامنے یہ فضول حرکتیں مت کرو”
مشی اپنا ہاتھ دلاور سے چھڑواتی ہوئی بولی اور کچن سے باہر نکل گئی تو دلاور کے چہرے پر روشن جوت مدھم گئی لیکن اُس نے کوشش پھر بھی نہیں چھوڑی بلکہ مشی کے پیچھے چلتا ہوا کچن سے باہر نکلا
“آج دلاور کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی بی بی کو ڈھیر ساری شاپنگ کروائے گا”
دلاور جانتا تھا شاپنگ کے لفظ سے مشی کا پہلے بھی موڈ ٹھیک ہوجایا کرتا تھا وہ مسکراتا ہوا مشی کے سامنے آکر اس کا راستہ روکتا ہوا بولا
“ڈھیر ساری شاپنگ تو چھوڑ ہی دو صرف میرے شاپنگ کرنے پر ہی تمہارے چار سے چھ مہینے کی سیلری تین سے چار گھنٹے میں خرچ ہوجائے گی جانتے نہیں ہو تم اپنی بی بی کے شاپنگ کا طریقہ کار”
مشی کے طنزیہ لہجے پر وہ پھیکا سا مسکرایا حقیقتاً وہ جانتا تھا کہ مشی شاپنگ کرنے سے زیادہ پیسے ضائع کرتی تھی
“تمہیں پیسوں کی پرواہ کب سے ہونے لگی تمہارا کام ہے بس شاپنگ کرنا تم شاپنگ کرنا بلز میں پے کروں گا۔۔۔ اب چلیں”
دلاور اس کا ہاتھ تھام کر دوبارہ نرمی سے پوچھنے لگا
“جیسے اپنے بینک اکاؤنٹ میں وسعت پیدا کی ہے ایسے ہی اپنے ذہن اور سوچوں کو بھی وسیع کرو”
مشی دلاور کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر اس کو جتاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ دلاور لب بھینچ کر رہ گیا
***
“یہاں کون آیا تھا میرے پیچھے میں تم سے پوچھ رہی ہو حسام تم کس لڑکی کو لےکر آئے تھے میرے پیچھے گھر پر”
رات میں اپنے میکے سے آنے کے بعد مہرین سٹنگ ایریا میں پڑی اینگلٹ ہاتھ میں دبائے غصُے میں حسام سے پوچھنے لگی جو اِس وقت ہانیہ کی باتوں کو سوچ رہا تھا
“دماغ نہیں خراب کرو مہرین پلیز دوسرے کمرے میں چلی جاؤ اِس وقت میں تمہارے منہ لگنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں”
حسام مہرین کا چہرہ دیکھتا ہوا بےزاریت بھرے لہجے میں اُس سے بولا یہ لڑکی کہیں سے بھی اِس قابل نہیں تھی کہ اِس کو بیوی بنایا جائے نہ جانے کیوں وہ ہانیہ کو طلاق دے کر ایسی لڑاکا اور شکی طبعیت رکھنے والی لڑکی سے شادی کرکے یہ حماقت کر بیٹھا تھا
“میں دوسرے کمرے میں جاؤ گی ضرور مگر تم سے سچ اگلوانے کے بعد بتاؤ کس بازاری عورت کو میرے پیچھے یہاں گھر پر لےکر آئے تھے یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے بےخبر ہو سچ بتاؤ مجھے”
مہرین نے غصّے میں بولتے ہوئے حسام کا گریبان پکڑلیا جس پر حسام نے طیش میں آکر مہرین کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا
“بازاری عورت وہ نہیں تم ہو اُلو کی پٹھی تنگ آچکا ہو میں تم سے اس لیے میں تمہیں ابھی اور اِسی وقت طلاق دیتا ہوں سنا تم نے طلاق دیتا ہو اپنے مکمل ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہو اب دفع ہوجاؤ میرے گھر سے زندگی جہنم بناکر رکھ دی تم نے ان سات ماہ میں میری تم جیسی عورت کے پیچھے میں نے ہانیہ کو چھوڑا اب میں دوبارہ اُس سے شادی کرو گا سنا تم نے وہی آئی تھی اِس گھر میں اور اب ہمیشہ وہی رہے گی اس گھر میں بہت جلد وہ اپنے شوہر سے طلاق لےکر میرے پاس آنے والی ہے تمہاری اب اِس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے نکلو میرے گھر سے”
حسام غصّے کی شدت میں چیختا ہوا بولا اور مہرین کو سکتے کے عالم میں چھوڑ کر خود دوسرے کمرے میں چلا گیا
***
“میرا موبائل چارج پہ لگا ہے لاکر دینا پلیز”
وہ اِس وقت لاؤنج میں موجود تھا تب اُسے اپنے موبائل کی رنگ ٹون سنائی دی دلاور سامنے کھلی کتاب سے اپنی توجہ ہٹاکر مشی سے بولا جو اُسی کے کمرے سے آرہی تھی مشی دلاور کی شرٹس صوفے پر رکھتی ہوئی دوبارہ اُس کے کمرے میں موبائل لینے چلی آئی
“تو اب اپنی چھچوری بہن کو موبائل بھی خرید کردے دیا اور مجھ سے میری ساری آزادی چھین لی”
اسکرین پر زرش کے نام سے موبائل نمبر دیکھ کر مشی کا دل بری طرح خراب ہوا تھا
“کون ہے” دلاور ہاتھ میں پکڑی کتاب ٹیبل پر رکھتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا
“تمہاری بہن” مشی دلاور کا موبائل اُس کے ہاتھ میں تھماتی ہوئی جتاتی ہوئی نظر دلاور پر ڈال کر وہاں سے جانے لگی
“لینڈ لائن میں آئے دن کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا تھا اور بابا سائیں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پچھلے کچھ دنوں سے اِس لیے زرش کو موبائل لےکر دیا تھا میں نے دو ہفتے پہلے”
دلاور زرش کی کال کاٹ کر مشی کے تاثرات دیکھتا ہوا اسے وضاحت دیتا بولا تو مشی کے کمرے سے باہر جاتے قدم تھمے وہ پلٹی
“میں نے تم سے کچھ کہا”
جب اُس نے کوئی شکوہ ہی نہیں کیا تھا تو بھلا وہ اُسے وضاحت کیوں دے رہا تھا
“بےشک منہ سے نہ بولو مگر مجھے تو احساس ہے”
دلاور مشی کا چہرہ پڑھتا ہوا اس سے بولا بھلے مشی اس سے کوئی شکوہ نہیں کرتی تھی مگر اُس کو معلوم تھا وہ نہ جانے کتنی ہی باتوں پر اندر ہی اندر اپنا خون جلاتی رہتی تھی
“ہونہہ احساس۔۔۔ جانتے ہو اِس لفظ کا مطلب، تم صرف مجھ سے محبت کرنا جانتے ہو دلاور مگر میرا احساس کبھی نہیں کرسکتے”
مشی دلاور کو بولتی ہوئی اُس کے کمرے سے چلی گئی جبکہ دلاور لب بھینچ کر زرش کو دوبارہ کال ملانے لگا
***
“میں نہیں جاؤ گی تمہارے گھر”
دلاور کی بات پر کپڑے تہہ کرتی مشی کے ہاتھ ایک پل کے لیے ساکت ہوئے تھے اُس نے دلاور کی طرف دیکھے بغیر ہی اُس کی بات سن کر دلاور کو صاف انکار کردیا۔۔۔ دلاور کو پورا یقین تھا وہ ایسا ہی کرے گی لیکن اُس کے بابا سائیں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اِس لیے زرش نے دلاور کو کال کرکے بلایا تھا دلاور کا وہاں پہنچ کر مشکل ہی تھا کہ وہ فوری طور پر واپس شہر آتا اِس لیے دلاور نے مشی کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ مشی کا انکار سن کر دلاور پہلے تو خاموش کھڑا چند لمحے اُسے دیکھتا رہا پھر اُس کے قریب آیا
“اب نئی بحث شروع مت کردینا دیکھو مشی میرا باپ بیمار ہے جانا مجھے لازمی ہے اور تم میرے ساتھ ہی چلو گیا اور ہمیں کل صبح گاؤں کے لیے نکلنا ہے”
دلاور اب کی بار سنجیدہ لہجے میں اُس کو باور کرواتا ہوا بولا تو مشی نے تہہ شدہ قمیض غصّے میں بیڈ پر پھینکی
“اگر تمہارا باپ بیمار ہے تو میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوں جو تمہارے باپ کے پاس جاکر اُن کا علاج کروں گی”
مشی اُس کے بولنے پر اب کی بار کافی بدتمیزی سے بولی آخر وہ کیوں اُس جگہ پر واپس جاتی جہاں اُس کے کردار کی دھجیاں اڑائی گئی تھی جہاں اُس کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا تھا اور اُسے رسوا کرکے اُس گھر سے نکال دیا گیا تھا
“بدتمیزی اور بحث بالکل بھی نہیں خاموشی سے میرے اور اپنے دو سوٹ بیگ میں ابھی رکھ لو”
دلاور نے اب کی بار انکھیں دکھا کر اسے کافی سختی سے بولا تھا جس پر مشی اُس کی بات سن کر حیرت زدہ ہوکر دلاور کو دیکھنے لگی
“بیگ میں سوٹ رکھ لو۔۔۔ مطلب کیا ہے تمہارا جس گھر میں میں دو گھڑی رکنے کی روادار نہیں ہوں تم چاہ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ وہاں جاکر رہوں۔۔۔ امپاسبل”
مشی نفی میں سر ہلاکر قطعی انکار کرتی ہوئی دلاور کو بول کر وہاں سے جانے لگی تبھی دلاور نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے دوبارہ اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔مشی نے حیرت سے پہلے اپنے بازو پر دلاور کے ہاتھ کی سخت گرفت دیکھی پھر دلاور کے چہرے پر نظر ڈالی وہ چہرے پر پتھریلے تاثرات لیے مشی کو دیکھ رہا تھا یہ انداز اور لب و لہجہ اُس نے کافی دنوں بعد مشی کے سامنے اپنایا تھا
“یہ آخری بار انکار تھا جو تم نے کردیا اور میں نے سن لیا اب میں تمہارے منہ سے انکار نہیں سنوں گا۔۔۔ یہ تمہاری مرضی کے اوپر ہے کہ تم یا تو خاموشی سے میرے ساتھ چلو یا پھر رو پیٹ کر زبردستی مگر تم چلو گی یہ میں تمہیں ابھی رات میں ہی بتارہا ہوں”
دلاور کا لہجے ایسا دھمکی آمیز تھا جیسے اب کی بار اُس نے انکار کیا تو اُسی وقت کوئی نیا ہنگامہ شروع ہوجاتا مشی کی آنکھیں آئستہ سے نم ہونے لگی وہ خاموش کھڑی نم آنکھوں سے دلاور کو دیکھتی رہی پھر بولی
“مجھے اذیت پہنچانے کا یہ طریقہ بہت تکلیف دہ ہے دلاور جہاں تمہارے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جائے وہاں تم تو مر کر بھی جانا پسند نہیں کرو گے پھر میں کیوں۔۔۔
وہ دلاور سے اپنا بازو چھڑا کر نم آنکھیں ہتھیلیوں سے رگڑنے لگی اُس کی بات پر دلاور کے تاثرات نرم پڑے مگر وہ بےحس بنا سفری بیگ نکال کر اپنے ساتھ ساتھ اُس کے کپڑے بھی بیگ میں ڈالنے لگا مشی کو اس کی بےحسی پر مزید رونا آیا وہ ہوتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
دلاور نے اُسے کمرے سے باہر جاتے دیکھا پھر بیگ کی زپ بن کر کے اسے ایک سائیڈ پہ رکھ دیا۔۔۔ وہ دو دن کے لیے اسے اکیلا یہاں چھوڑ کر فلیٹ کو لاک کرکے نہیں جاسکتا تھا یہ رسک وہ کیسے لےلیتا ہے جبکہ ہفتے بھر پہلے سکیورٹی گارڈز کی موجودگی میں ہی برابر والے بلاک میں چوری ہوئی تھی، مشی کا روتا چہرہ فل الحال ذہن سے نکال کر اب وہ شیردل کو کال ملانے لگا تاکہ اپنے آفس نہ آنے کا اور گاؤں جانے کا اسے بتاسکے
***
آخری مرتبہ وہ باہر تب نکلی تھی جب وہ رملہ کے بلاوے پر اپنے گھر گئی تھی اس بات کو تین ماہ گزر چکے تھے آج تین ماہ بعد وہ باہر کی دنیا دیکھ رہی تھی نوے دن بعد اُس نے فلیٹ سے باہر قدم نکالا تھا اپنے چاروں جانب نظر دوڑاتی چلتے پھرتے لوگوں، بچوں اور گاڑیوں کو دیکھتی ہوئی وہ دلاور کے پیچھے آہستہ قدم اٹھاتی چل رہی تھی دلاور ہاتھ میں پکڑا سفری بیگ لیے اپنی ذاتی گاڑی کے پاس آیا
“یہ نیو کار لی تھی”
دلاور نے مشی کی توجہ اب سامنے کھڑی گاڑی پر دلائی تو مشی خاموش نظروں سے جگمگاتی ہوئی نئی نگوڑ گاڑی دیکھنے لگی۔۔۔ چار دن پہلے ہی دلاور نے جدید ماڈل کی ذاتی کار خریدی تھی وہ چاہتا تھا کہ مشی اُس کے ساتھ باہر آئے اُس کی کار دیکھے اور اُس کے ساتھ کہیں ڈرائیو پر چلے۔۔۔ وہ اپنی یہ چھوٹی سی خوشی مشی کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا مگر مشی نے اُس کی اِس آفر کو رد کردیا تھا اور بالکل ہی ایسا سرد رسپانس دیا تھا جیسے اِس وقت اِس گاڑی کو دیکھ کردے رہی تھی دلاور گہرا سانس لیتا مشی کے لیے کار کا دروازہ کھولنے لگا مشی کے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی
گاڑی میں بیٹھنے کے ساتھ ہی مشی نے انگلی کے پور سے اپنے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی اُس کی بےبسی دیکھ کر دلاور کا اپنا دل بھی افسردہ ہوا تھا وہ جانتا تھا کہ مشی اس کے ساتھ چلنے پر راضی نہ تھی اور وہ زبردستی اُس کو اپنے ساتھ لے جارہا تھا لیکن ایسا کرنے کے لیے وہ مجبور تھا کیونکہ وہ مشی کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا
“تم نے ناشتہ نہیں کیا تمہارے لیے کچھ پیک کروا لیتا ہوں”
دلاور دوستانہ لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا وہ لوگ صبح ہی گاؤں کے لیے نکلے تھے اِس لیے ناشتہ اُس نے خود بھی نہیں کیا تھا لیکن وہ گاؤں پہنچ کر اپنے گھر میں کچھ بھی کھالیتا مگر یہ بات اچھی طرح جانتا تھا مشی کا وہاں پہنچ کر کچھ بھی حلق سے نیچے اتارنا مشکل ہوجائے گا اچھا ہوتا اگر وہ تھوڑا بہت سفر میں ہی کچھ کھالیتی تبھی دلاور نے ایک بیکری کے قریب کار روک دی
“کچھ خاص کھانے کا دل کررہا ہے تو بتادو” مشی کو دیکھتا ہوا وہ ایک مرتبہ پھر اُس سے پوچھنے لگا مگر اب بھی مشی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو دلاور گاڑی سے باہر نکل آیا سینڈوچز ڈونٹس اور جوسز کے ساتھ مزید ایک دو آئٹم لیتا ہوا وہ گاڑی میں آبیٹھا مشی کی آنکھیں اِس وقت بےتحاشہ سرخ ہورہی تھی شاید اُس کے گاڑی سے اترنے کے بعد وہ روئی تھی
“مشی مت دو یار اپنے آپ کو اِس طرح تکلیف، تمہیں یوں دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا”
دلاور ڈرائیونگ کے دوران مشی کی گود میں رکھا ہوا اُس کا ہاتھ پکڑتا ہوا نرمی سے بولا۔۔۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہ اُس کا احساس ہی نہیں کرتا وہ اُس کا احساس نہیں کرتا تو پھر اور کس کا احساس کرتا تھا۔۔۔ اس نے دلاور کی بات کا اب بھی کوئی اثر نہیں لیا تھا دلاور اُس کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے گیا اِس سے پہلے اُس کے ہونٹ مشی کے ہاتھ کو چھوتے مشی نے فوراً ہی اپنا ہاتھ کھینچ لیا
“یہ تمہارا بیڈ روم نہیں ہے جہاں تم فلمی انداز میں ڈائیلاگ بول کے مجھ سے یوں رومینٹک ہورہے ہو”
مشی دلاور کی حرکت پر اُسے بری طرح جھڑکتی ہوئی بولی
“تم مجھے اپنے بیڈ روم میں بھی کہاں رومینٹک ہونے دیتی ہو کتنی بری طرح جھڑک دیا تھا اُس دن مجھے تب میں نیند میں تھا”
ڈرائیونگ کرتے ہوئے جیسے اُس نے ٹھنڈی آہ بھری تھی جس پر مشی غصے میں سرخ آنکھوں سے اُسے گھورنے لگی
“مت دیکھا کرو یوں ظالم نظروں سے مجھے۔۔۔ پھر جذبات میں آکر کچھ کر گیا تو تمہیں چھچھورا پن ہی لگے گا”
دلاور سنجیدہ لہجے میں لیکن آنکھوں میں شوخی سمائے مشی کو دیکھتا ہوا بولا
“میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں دلاور”
سڑک پر رش نہ ہونے کے برابر تھا اِس لیے وہ کافی تیز اسپیڈ میں کار ڈرائیو کررہا تھا مشی دلاور کی طرف اپنا رخ کر کے بےحد سنجیدگی سے بولی
“آج موڈ میرا بھی کچھ اور ہی ہے”
دلاور نے آہستہ سے بولتے ہوئے ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ گنگنانا شروع کیا
Ajj phir tum pe pyaar aaya hai…
Behad aur beshumaar aya hai…
اس کی معنٰی خیز گنگناہٹ پر مشی نے دوبارہ اُس کو دیکھا مشی کے دیکھنے پر دلاور نے بھی سامنے سے نظریں ہٹاکر مشی کو دیکھا بیک وقت دونوں کی نظریں ٹکرائی
“بی بی” دلاور مشی کو اسمائل دیتا ہوا بولا اور اپنے ہونٹوں سے اسے کس دینے والا اشارہ کیا مشی سنجیدگی سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی گاڑی سے باہر دیکھنے لگی
“تہمیں یاد ہے ناں میرے پیپرز کے بعد ہم دونوں میں کیا ڈیسائیڈ ہوا تھا”
تھوڑی دیر بعد دلاور کی آواز پر مشی نے کھڑکی سے اسے دیکھا وہ اب بالکل سیریس سامنے دیکھتا ہوا کار ڈرائیو کررہا تھا
“کیا” معلوم نہیں وہ کون سی بات کررہا تھا مشی نہ سمجھنے والے انداز میں دلاور کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی تب دلاور نے ڈرئیونگ کے دوران ایک نظر مشی کے چہرے پر ڈالی
“اتنی سیریس بات تم کیسے بھول سکتی ہو میرے پیپرز کے بعد ہمہیں اپنا بےبی پلان کرنا ہے”
دلاور ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ مشی کو یاد دلانے لگا جس سے مشی کے چہرے کے تاثرات بالکل سنجیدہ ہوگئے
“میرے نزدیک یہ ایک غیر سنجیدہ بات ہے اور میں اِس پر کوئی کمنٹ نہیں کرنا چاہتی”
مشی بےحد سنجیدہ انداز میں دلاور کو دیکھے بغیر بولی
“میرے نزدیک یہ ایک بہت سیریس ٹاپک ہے اور میں تم سے اسی لیے ڈسکس کررہا ہوں کیونکہ چند دنوں بعد میرے پیپر شروع ہونے والے ہیں”
دلاور نے بولتے ہوئے ایک جگہ پر گاڑی روک دی جہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل موجود تھا
“تم چاہو تو ابھی کچھ کھا سکتی ہو میں تھوڑی دیر باہر موجود ہوں”
گاؤں سے اب آدھا فاصلہ رہ گیا وہ مشی سے بولتا ہوا گاڑی سے اتر گیا
مشی نے دلاور کی بات پر سر جھٹک دیا تھا جیسے اُس کی بات کو سنجیدہ ہی نہ لیا ہو دلاور کو تھوڑا دور جاتا دیکھ کر مشی نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا وہ کرسی پر بیٹھا ہوا شاید اپنے لیے چائے کا ارڈر دے رہا تھا مشی کی نظریں شاپر میں موجود بیکری کے لازمات پر پڑی وہ شاپر اٹھاکر جوس کی بوتل اور سینڈوچ نکالنے لگی کیونکہ اچھی طرح جانتی تھی وہاں پہنچ کر اس کے حلق سے کچھ نہیں اترنے والا تھا
***
