Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 17)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
صبح جب وہ کمرے سے باہر نکلی تو لاؤنج میں سوتے ہوئے دلاور کی ایک دم آنکھ کھلی مشی کو بیڈ روم سے باہر آتا دیکھ کر وہ صوفے سے اُٹھ کر تیزی سے اُس کے پاس آیا
“مشی” دلاور اُس کو نام سے پکارتا ہوا فوراً ہی اپنی باہوں میں بھر چکا تھا اُس کا حصار اتنا مضبوط تھا مشی کو بولنا پڑا
“ریلکس دلاور میں بالکل ٹھیک ہوں”
مشی اُس کے سینے سے لگی ہوئی تھی اس نے خود سے ہی پیچھے ہٹنا چاہا مگر دلاور نے اُس کو اپنے حصار سے آزاد نہیں کیا
“کل رات کتنا تنگ کیا تم نے مجھے تم کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہی تھی کتنی ٹینشن ہورہی تھی مجھے پوری رات سوتے جاگتے گزاری ہے میں نے ہر تھوڑی دیر بعد رات میں چیک کرتا کہ تم اب دروازہ کھولو آئندہ ایسا مت کرنا میرے ساتھ”
دلاور اُسے خود میں بھینچے ہوئے نرمی سے بولا اس کا لہجہ جتنا نرم تھا اتنا ہی سخت اُس نے مشی کے گرد اپنا حصار بنایا ہوا تھا
“ابھی تو چھوڑو یار مجھے میں ٹھیک ہوں اب پیچھے بھی ہٹو”
مشی کے ایک دم بےزار لہجے پر دلاور نے اپنے بازو اُس کے گرد سے ہٹائے اور مشی کی جانب دیکھنے لگا
“سوری۔۔۔ بس وہ تم اس مجھے اس طرح سے۔۔۔ گھٹن سی ہورہی تھی، آئی نو تمہیں میری فکر ہو رہی تھی مگر میں ٹھیک ہوں”
مشی دلاور کے دیکھنے پر اسے وضاحت دیتی ہوئی بولی دلاور کی قربت میں آج اسے پہلی بار اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا
“تم میرے لیے قیمتی ہو تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں میں”
وہ ڈرپوک بالکل بھی نہیں تھا مگر کل رات مشی کے ایکٹ پر وہ ڈر گیا تھا۔۔۔ مشی دلاور کی بات سن کر ہنسنے لگی
“تمہیں کیا لگا تھا روم لاک کرکے میں سوسائڈ کرنے والی ہوں۔۔۔ جب بھائی اور ماما کی کسی بات پر اُن سے ہرٹ ہوتی تھی تب بھی ایسے ہی ری ایکٹ کرتی تھی پرانی عادت ہے میری، بہت بزدل ہوں میں سوسائڈ نہیں کرسکتی”
مشی دلاور کو دیکھ کر عام سے لہجے میں بولی دلاور مشی کی باتوں سے سمجھ گیا تھا وہ کل رات اُس سے بہت زیادہ ہرٹ ہوئی تھی شاید نوشین سے شادی والی بات کو لےکر جبھی دلاور نے مشی کے قریب آکر مشی کا چہرہ تھاما
“مشی ویسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو میں نوشین سے کیوں کرو گا شادی جو خوشی مجھے تمہاری ذات دے سکتی ہے وہ دوسرا اور کوئی نہیں دے سکتا میرا یقین کرو”
دلاور مشی کا چہرا تھام کر ایک مرتبہ پھر اُس کو وضاحت دیتا ہوا بولا
“کرلیا یقین” معلوم نہیں اُس نے یقین کیا تھا یا نہیں مگر یہ دو لفظ بول کر بات ختم کردی تھی ساتھ ہی اس نے دلاور کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹادیے
“مشی میں سب ٹھیک کردو گا یہ جو بھی کچھ چل رہا ہے ہمارے بیچ یہ سب ٹھیک ہوجائے گا”
دلاور مشی کو دیکھتا ہوا اُس سے دوبارہ بولا
“کب” اب کی بار مشی نے ایک لفظ بولا اور اِس ایک لفظ میں کوئی امید بھی نہ تھی صرف اُس نے دلاور سے سوال پوچھا تھا
“بہت جلد۔۔۔ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا میرا اعتبار کرو”
دلاور نے فوراً اس کے ایک لفظ پر مشی کو یقین دلانے کی دوبارہ کوشش کی
“اوکے” مشی نے دوبارہ ایک لفظ بول کر بات ختم کردی
“آج پیپر تو نہیں ہے ناں تمہارا بریک فاسٹ ریڈی کرتی ہوں تمھارے لیے لیٹ ہوگئے ہو تم آج افس کے لیے”
مشی عام سے انداز میں دلاور سے بولتی ہوئی وہاں سے کچن میں چلی گئی
***
رات کے وقت وہ ٹیرس پر کھڑی اسموکنگ کرتی ہوئی کل گزرے ہوئے دن کے بارے میں سوچنے لگی جب دلاور آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہوکر گاؤں کے لیے روانہ ہونے والا تھا
“آج کل تمہارے چکر کچھ زیادہ ہی نہیں لگ رہے ہیں”
تب وہ کمرے میں آتی ہوئی دلاور سے بولی تھی جس پر دلاور کے شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے ہاتھ رکے
“کیوں ایسا کیا ہوگیا وہاں گھر ہے میرا”
وہ پلٹ کر مشی سے بولا
“صبح تمہارا پیپر بھی تو ہے پھر آج جانے کی کیا ضرورت ہے”
دلاور کی طرف بڑھتی ہوئی وہ لہجے میں خفگی لیے اس سے بولی۔۔۔ تب دلاور اُس کے قریب آکر مشی کو نرمی سے باہوں میں لیتا ہوا بولا
“میری جان میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جسے تم پیپر کا بتارہی ہو اور شاید تم نے سنا نہیں تھا میں تمہیں کل ہی بتاچکا تھا کہ آج روبینہ پھپھو کے بیٹے کی بارات ہے اُس کے لیے جارہا ہوں بابا سائیں کی ضد ہے کہ وہاں آکر بارات اٹینڈ کرو اُن کی بات کیسے ٹال سکتا ہوں”
دلاور مشی کو پیار سے سمجھاتا ہوا بولا جس پر مشی چونکی اور اسے دیکھنے لگی تبھی آج اُس کی تیاری عام دنوں کی بانسبت مختلف تھی
“اچھا پھر تو نوشین سے ملاقات بھی ہوجائے گی وہاں جبھی تو اتنا تیار ہورہے ہو”
اس نے سلگتے ہوئے لہجے میں کہہ کر دلاور کو بھی سلگایا تھا دلاور نے اُس کے گرد حمائل اپنے بازو پیچھے ہٹائے
“مشی یار پلیز کوئی فضول بات نہیں کرنا آگے سے۔۔۔ اب تم مجھے یوں نوشین کے نام کے طعنے دوگی جبکہ میں سب کلیئر کرچکا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں”
دلاور بناء غصہ کیے سنجیدہ لہجے میں بولا عجلت ایسی تھی جیسے وہ نکلنے کے لیے لیٹ ہورہا تھا
“ٹھہر جاؤ تھوڑی دیر مجھے بھی تیار ہونے دو مجھے بھی چلنا ہے تمہارے ساتھ”
مشی کے اچانک بولنے پر وہ خاموش ہوگیا تھا۔۔۔ وقفے کے بعد دوبارہ بولا
“نہیں تم رہنے دو بلاوجہ پریشان ہوگی لمبے سفر سے، میں جانے کے لیے لیٹ ہورہا ہوں نکلتا ہوں تم پلیز کھانا کھالینا ٹینشن کی بات نہیں ہے زیادہ دیر نہیں رکو گا وہاں”
دلاور اُسے اپنے ساتھ لے جانے سے انکار کرچکا تھا۔۔۔ مشی کی پیشانی چومتا ہوا وہ گاڑی کی چابیاں ہاتھ میں لیے۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح باہر سے فلیٹ لاک کر کے اسے بند فلیٹ میں چھوڑ کر جا چکا تھا
اسے قید میں رہ کر ایسی زندگی نہیں گزارنی تھی وہ ان سب سے دور جانا چاہتی تھی یہی سب سوچتی ہوئی اِس وقت ٹیرس پر کھڑی نم آنکھوں کے ساتھ اپنے پیروں کو دیکھنے لگی جس پر بڑے بڑے چھالے پڑچکے تھے آج دلاور کا آخری پیپر تھا۔۔۔ صبح جب وہ پیپر دینے نکلا تبھی مشی کے دونوں پیروں پر کھولتا ہوا گرم تیل گرگیا تھا جس سے اُس کی چیخیں پوری فلیٹ میں گونجی تھی مگر اُس کی چیخیں سننے والا یا اُس کی تکلیف دیکھنے والا وہاں کوئی دوسرا موجود نہ تھا وہ یہاں پر سسک سسک کر مرنا نہیں چاہتی تھی صبح والی تکلیف کا سوچ کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی تھوڑی دیر پہلے ہی دلاور گھر آیا تھا وہ صبح پیپر دینے کے بعد وہی سے آفس چلا گیا تھا اس لیے واپس آتے ہوئے اُس کو رات ہوچکی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی مشی اُس کو کھانا دیکھ کر ٹیرس پر آچکی تھی
“کیا کررہی ہوں یہاں اکیلے کھڑی ہوئی اتنی دیر سے”
اپنی پشت سے دلاور کی آواز سن کر مشی نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا سیگریٹ کا ٹکڑا نیچے پھینکا
“فرار ہونے کا راستہ تلاش کررہی تھی افسوس یہ ففتھ فلور ہے کود نہیں سکتی یہاں سے۔۔۔ کاش یہاں کوئی ایسا چور دروازہ موجود ہوتا تو کب کی فرار ہوچکی ہوتی”
مشی نے دلاور کی طرف رخ کرنے کی بجائے سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں بولا دلاور جانتا تھا وہ کل سے ہی اس سے خفا تھی کیوکہ وہ کل اسے اپنے ساتھ اپنے کزن کی بارات میں نہیں لےکر گیا تھا
“مشی وہاں بابا سائیں موجود تھے میں نہیں چاہتا تھا تمہارا اور اُن کا سامنا ہو پھر کسی بات کو لے کر کوئی مسئلہ بنے اور پورا خاندان پھر تماشہ دیکھے۔۔۔ ایسے وقت میں میرے لیے اُن کو سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے مگر تم تو سمجھا کرو یار۔۔۔ مت اتنا پریشان رہا کرو کیوں خود کو ہر وقت ہلکان کرنے لگی ہو”
دلاور اس سے چند قدم کے فاصلے پر گرل سے کمر ٹکاتا مشی کی سرخ آنکھوں کو دیکھتا ہوا اسے بولا۔۔۔ دلاور کی بات پر مشی نے اپنا رخ دلاور کی جانب کیا
“تمہیں کیا لگتا ہے ایک شادی اٹینڈ نہ کرنے پر میں افسردہ ہوں۔۔۔ دلاور یہاں میری طرف دیکھو بلکہ رہنے دو تم تو مجھے دیکھ کر بھی میری حالت پر انجان بنے رہو گے یہ اِس فلیٹ کی دیواریں اب ہنسنے لگی ہیں مجھ پر جب تم مجھے یہاں بند کرکے چلے جاتے ہو تو یہ دیواریں قہقہے لگاتی ہیں مجھ پر مزاق اڑاتی ہیں میرا۔۔۔ آج میری ایک بات یاد رکھنا دلاور مجھے یہاں سے جب بھی فرار ہونے کا موقع ملے گا ناں میں ایک پل ضائع کیے بغیر یہاں سے بھاگ جاؤں گی اور جس دن میں یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئی تو سمجھ لینا اُسی دن تمہاری زندگی سے مشی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی”
مشی کا انداز ایسا تھا کہ دلاور کے دل کو ایک پل کے لیے کچھ ہوا وہ گرل سے ٹیک چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوا اور مشی کو دیکھنے لگا
“میں وہ دن کبھی بھی نہیں آنے دو گا۔۔۔ جس دن تم نے میری زندگی سے نکلنے کی کوشش کی تم اس دنیا میں بھی نہیں رہ پاؤ گی اِس لیے آئندہ ایسا خیال کبھی اپنے دل میں مت لانا کہ تم دلاور کی زندگی سے دور جاسکتی ہو”
دلاور نے اپنی طرف سے سخت لہجے میں اسے دھمکی دے کر ڈرانے کی پوری کوشش کی تھی اور اسے نتائج سے بھی آگاہ کیا تھا اچھا ہی تھا وہ ابھی تک باہر سے فلیٹ لاک کرکے آفس جاتا تھا مشی دلاور کی بات سن کر اُس سے کچھ بھی بولے بغیر واپس اپنے کمرے میں چلی آئی دلاور بھی گہرا سانس لیتا خود کو نارمل کرتا اندر کمرے میں آیا اور ٹیرس کا دروازہ بند کردیا
“یہ اپنے پیروں کا کیا حشر کرلیا ہے تم نے، دکھاؤ مجھے یہاں”
جب مشی اسے کھانا دے رہی تھی وہ تبھی اُس کے پاؤں دیکھ چکا تھا اور یہی پوچھنے کے لیے اِس وقت ٹیرس پر مشی کے پیچھے آیا تھا
“دور رہو مجھ سے کوئی بھی بہانے بناکر میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے”
مشی دلاور کو اپنے پاس آتا دیکھ کر غراتی ہوئی بولی دلاور کی دھمکی اور خود کی بےبسی پر اسے غصہ آنے لگا
“تمہارے پاس آنے کے لیے مجھے کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہے میں جب چاہے آسکتا ہوں شوہر ہوں تمہارا”
دلاور نے بولنے کے ساتھ ہی ایک جست میں مشی کو بازو سے کھینچ کر اپنے قریب کیا اور اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اس سے پہلے مشی اُس کو اپنے سے دور کرتی وہ خود ہی مشی کو چھوڑ کر حیرت سے دیکھنے لگا
“میرے منع کرنے کے باوجود تم نے دوبارہ سیگریٹ کو ہاتھ لگایا بلکہ ابھی تم ٹیرس پر اسموکنگ کررہی تھی جواب دو مجھے”
مشی کی سانسوں سے اٹھتی سیگریٹ کی اسمیل محسوس کرکے دلاور کو اُس پر سچ میں غصہ آیا تھا۔۔۔ دلاور کے غصے کی مشی کو رتی برابر پرواہ نہیں تھی
“تم میرے باپ نہیں ہو جو میں تمہیں جواب دو۔۔۔ اور شوہر کہلانے کی تمہاری اوقات نہیں ہے”
مشی سرخ آنکھوں سے دلاور کو دیکھ بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی وہ صرف اس سے محبت کرنا جانتا تھا اُس کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ اُس کو معلوم نہ تھا
دلاور کو مشی کے لب و لہجے سے آج محسوس ہوا جیسے اُس کا اور مشی کا رشتہ کافی الجھ چکا تھا تلخ تو وہ پہلے بھی تھی مگر آج وہ اس کو چھوڑنے کی، فرار ہونے کی بات کررہی تھی اگر اب بھی وہ حالات کو سنبھال نہیں پایا تو اپنا اور اُس کا رشتہ کھو دیتا جو دلاور ہرگز نہیں چاہتا تھا وہی کھڑا اپنے اور مشی کے متعلق سوچنے کے بعد وہ مشی کے پیچھے لاؤنج میں آگیا جہاں وہ صوفے پر بیٹھی اپنے آپ سے بھی خفا لگ رہی تھی دلاور قدم اٹھاتا صوفے کے پاس آیا اور مشی کے برابر میں بیٹھنے کی بجائے دو زانوں بیٹھ گیا بےساختہ مشی نے دلاور کو دیکھا جو اس کے پاؤں سے سلیپرز اتار رہا تھا ہاتھ میں موجود آئینٹمینٹ وہ مشی کے پیروں پر باری باری لگانے لگا
“بہت برا حال کیا ہے تم نے اپنے پیروں کے ساتھ”
دلاور اُس کے پیر کو نرمی سے چھوتا ہوا پیروں کے موجود چھالوں کو دیکھ کر افسوس کرتا مشی سے بولا
“بہت برا حال کیا ہے تم نے میرے دل کے ساتھ”
مشی کے بولے گئے جملے پر وہ تڑپ کر مشی کو دیکھنے لگا نیچے سے اٹھ کر مشی کے برابر میں بیٹھتے ہوئے دلاور نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے
“مشی میں نے جب جب چاہا کہ ہم دونوں کے درمیان سب کچھ نارمل ہوجائے، میں ہمارے اِس الجھے ہوئے رشتے کی ڈوروں کو سلجھالوں مگر تب اچانک ہی حالات بالکل مختلف ہوجاتے ہیں سب کچھ سلجھنے کی بجائے مذید الجھنے لگتا ہے۔۔۔ میں خود سے ایسا نہیں چاہتا یار کہ تمہیں تکلیف پہنچے مگر پھر اچانک کچھ ایسا ہوجاتا ہے۔۔۔
وہ مشی سے بول ہی رہا تھا کہ اچانک مشی نے اُس کی بات کاٹی
“دلاور تم مجھے چھوڑ دو پلیز”
مشی کو اُس کی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی اِس لیے اُس نے دلاور کے بات مکمل کرنے سے پہلے اپنی بات بول دی اور ساتھ ہی اُس نے دلاور کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھوں کو نکال لیا دلاور اس کے جملے پر بےیقینی کی کیفیت میں مشی کو دیکھنے لگا
“تمہیں کیسے چھوڑ سکتا، تم بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ محبت بھی ہو میری۔۔۔ مرد کا اگر اپنی بیوی سے دل برا ہوجائے تو وہ اپنی بیوی کو چھوڑ سکتا ہے لیکن جس سے محبت ہو، محبت کو کوئی خود سے کیسے ختم کرسکتا ہے۔۔۔ مجھے بتاؤ میں اپنے دل سے تمہاری محبت کیسے ختم کرو۔۔۔ نہیں کرسکتا ناں تو پھر چھوڑنے کی بات کیوں کررہی ہو آج میری ایک بات سن لو میں تمہیں کسی بھی کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی تمہیں یہ حق ہے کہ تم مجھ سے دور جاؤ”
وہ مشی کو دیکھتا ہوا بولا مشی خاموشی سے اُس کے تاثرات دیکھ رہی تھی جو اُس وقت بےحد سنجیدہ تھے دلاور نے بات مکمل کر کے مشی کے دونوں ہاتھ دوبارہ سے پکڑے
“میں جانتا ہوں ہم دونوں کے رشتے کی ڈورے الجھ چکی ہیں کافی گراہیں پڑچکی ہیں ہمارے رشتے میں۔۔۔ جن کی وجہ سے ہم دونوں ایک نہیں ہو پاتے لیکن میرا یقین کرو مشی میں اب سب ٹھیک کردو قسم کھاکر کہہ رہا ہوں اب ہمارے درمیان کبھی کوئی غلط فہمی نہیں آئے گی نہ ہی ہمارے رشتے کے بیچ کوئی دوسرا آئے گا۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا”
دلاور نے بولنے کے ساتھ ہی مشی کے دونوں ہاتھوں کو باری باری اپنے ہونٹوں سے لگایا پھر اُس کے نازک سے وجود کو اپنی باہوں میں لےلیا۔۔۔ مشی ابھی بھی کنفیوز ہوکر اس کے سینے پر سر ٹیکے دلاور کی باتوں کو سوچ رہی تھی تب دوبارہ دلاور کی آواز اسے سنائی دی
“تمہیں یاد ہے ناں آج میرا لاسٹ پیپر تھا اور پیپرز کے بعد ہم دونوں کے بیچ کیا ڈیسائیڈ ہوا تھا”
دلاور کی بات پر مشی اپنی سوچوں سے نکل کر چونکتی ہوئی دلاور کے سینے سے اپنا سر اٹھا کر دلاور کو دیکھنے لگی۔۔۔ مشی کے یوں دیکھنے پر دلاور نے اسمائل دے کر اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے نرمی سے اُس کے گال کو چھوا۔۔ دلاور اُس کا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر مشی کے ہونٹوں پر جھکنے والا تھا تب مشی نے اپنے دونوں ہاتھ دلاور کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے کیا
“بچہ آجانے سے سب کچھ سلجھ جائے گا دلاور یہ سلوشن ہے تمہارے پاس ہمارا رشتہ بچانے کے لیے”
مشی الجھی ہوئی دلاور کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی پھر اُس سے تھوڑا فاصلہ کر کے بیٹھی
“تم ابھی بھی کنفیوز ہو کہ منور سے تعلق تمہاری بہن کا ہے یا پھر میرا۔۔۔ تمہیں تو ابھی تک میرا اعتبار ہی نہیں ہے اپنا اعتبار دلانے کے لیے میں تمہیں پہلے بچہ پیدا کرکے دو، پھر تم میری ذات کا اعتبار کرو گے پھر ہمارے رشتے کی الجھی گراہیں کھلیں گیں”
مشی کی بات سن کر دلاور اُس کا چہرہ دیکھنے لگا
“بچے کا ہمارے مسئلوں کو کیا لینا دینا ہے اور ایسا کیوں سمجھ رہی ہو میں تمہارا اعتبار کرتا ہوں”
دلاور مشی کو دیکھتا ہوا بولا
“میرا اعتبار کرتے ہو یعنٰی تم اب یہ بات پوری طرح مانتے ہو کہ اصل قصور وار زرش ہے”
دلاور کے جواب کے بدلے مشی فوراً بولی جس پر دلاور خاموش رہا اُس کو یوں خاموش دیکھ کر مشی طنزیہ مسکرائی
“تم ایسا نہیں بول سکتے کہ تمہاری بہن ہی قصور وار ہے۔۔۔ اُس دن میرے ساتھ فزیکل ہوکر تمہیں تمہارے مائنڈ نے صرف یہ کلیئر کیا ہے کہ تمہاری بیوی ورجن ہے وہ کسی غیر مرد سے فزیکل ریلیشن نہیں رکھتی ہے بس اتنا ہے تمہیں مجھ پر اعتبار۔۔۔ اور رہی بچے کی بات تو میں تمہیں فلالحال کوئی بچہ پیدا کرکے نہیں دینے والی”
مشی اپنی انگلی دلاور کے سینے پر رکھتی اسے بولی
“مشی پلیز” دلاور نے اس کو بولتے ہوئے دوبارہ اپنی باہوں میں لینے ہوئے سمجھانا چاہا مگر تب ہی مشی نے اس کے ہاتھوں کو جھٹک دیا
“دلاور پلیز” مشی کے سختی سے کہنے پر دلاور نے دوبارہ کوئی ایسی کوشش نہیں کی خاموش بیٹھا اسے دیکھنے لگا
“مجھے ابھی ہمارا بچہ نہیں چاہیے دلاور اور تم مجھے اِس کے لیے فورس نہیں کرو گے بس”
مشی صوفے سے اٹھنے لگی تبھی دلاور نے اس کا ہاتھ کلائی سے پکڑ کر مشی کو واپس بٹھادیا
“میں آج تمہیں قائل کیے بنا یہاں سے اٹھنے نہیں دو گا مشی مجھے تم سے اب اپنی اولاد چاہیے اور تم اُس کے لیے مجھے انکار نہیں کرو گی جب ہماری اولاد ہوگی تو۔۔۔”
دلاور مشی سے بات کررہا تھا تبھی اس کی پاکٹ میں رکھا اُس کا موبائل بجنے لگا
“تمہارا موبائل بج رہا ہے دلاور کسی کی کال آرہی ہے”
مشی نے اپنا ہاتھ دلاور کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے اُس کی توجہ اُس کے موبائل پر دلائی۔۔۔ دلاور نے موبائل نکال کر اسکرین پر دیکھا یہ کال اس کے گھر سے آرہی تھی وہ مشی کے تاثرات دیکھنے لگا اس کی نظریں موبائل کی اسکرین پر تھی دلاور نے کال کاٹ دی
“میں بعد میں بات کرلوں گا ابھی میرے لیے صرف تم اور ہمارا رشتہ اہم ہے اِن سب دوسری چیزوں سے”
دلاور نے اپنا موبائل ایک سائیڈ پہ رکھا تھا ایک مرتبہ پھر موبائل بجنے لگا دوبارہ لینڈ لائن سے اس کے موبائل پر کال آرہی تھی
“دلاور پہلے فون پر بات کرلو”
مشی بےتاثر لہجے میں بولی دلاور ایک نظر اُس کے چہرے پر ڈالتا اپنا موبائل اٹھاکر کال ریسیو کرچکا تھا آخر کیا وجہ تھی جو بار بار کال آرہی تھی اُس کے کال ریسیو کرتے ہی مشی نے تلخی سے سر جھٹکا اُس کے اور دلاور کے رشتے کے درمیان سب سے بڑی دیوار ہی دلاور کے گھر کے افراد تھے جو اُن دونوں کا رشتہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہونے دیتے وہ دلاور سے یہ نہیں بول سکتی تھی کہ وہ اپنی فیملی کو چھوڑ دے اُس لیے خود اس کی زندگی سے نکل جانا چاہتی تھی اور دوسری طرف وہ تھا جو اُس سے اب بچہ چاہتا تھا۔۔۔ مشی کو معلوم تھا وہ تھوڑی دیر میں اُس کو اپنی خواہش کے لیے آمادہ کرلے گا وہ بےدلی سے سوچتی ہوئی وہاں سے اٹھنے لگی مگر دلاور کے تاثرات دیکھ کر ایک دم ٹہر گئی اس کے چہرے پر زلزلے کے تاثرات نمایاں تھے
“دلاور کیا ہوا ہے زرش کیا بول رہی ہے”
مشی پوچھے بنا نہ رہ سکی مگر دلاور نے مشی کو کوئی جواب نہ دیا وہ خالی نظروں سے مشی کو دیکھنے لگا جبکہ دلاور کا موبائل اُس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گرچکا تھا مشی نے موبائل اٹھاکر کان سے لگایا مگر تب تک لائن کٹ چکی تھی
“دلاور میں تم سے پوچھ رہی ہوں زرش کیا بول رہی تھی مجھے بتاؤ”
اب کی بار اُس نے دلاور کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تو جیسے وہ مشی کے چھونے سے ہوش میں آیا
“زرش۔۔۔ نہیں تھی آپا تھیں”
وہ غائب دماغی میں مشی کو دیکھتا ہوا بولا
“ہاں تو آپا کیا بول رہی تھیں بولو ناں”
مشی اُس کے تاثرات دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ بات کوئی سیریس ہے
“زرش نے تھوڑی دیر پہلے خودکشی کرلی”
بولنے کے ساتھ ہی دلاور کی آنکھ سے آنسو گرا تو مشی حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر دلاور کو دیکھنے لگی
***
پورے گھر میں ماتم کا سماں تھا آج بھی دلاور کے گھر میں اُس کا پورا خاندان اکھٹا تھا جیسے اُس کے ولیمے والے روز سب اکھٹا تھے اُس وقت ہنسی قہقوں کی آوازوں ہر طرح گونج رہی تھی جبکہ آج رونے دھونے اور بین کرتی آوازیں سنائی دے رہی تھی تمام کمرے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔۔۔ مشی کمرے کے کونے میں بالکل چپ بیٹھی خاموشی سے زرش کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ رہی تھی جو تھوڑی دیر پہلے غسل کے بعد لائی گئی تھی مشی کو نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ ابھی اٹھے گی اور معصومیت سے مسکراتی ہوئی اُس کی طرف دیکھے گی بالکل ویسی مسکراہٹ چہرے پر لیے جو دکھنے میں دوسروں کو معصوم لگتی تھی مگر اُس کے اندر کی مکاری صرف مشی کو نظر آتی تھی لیکن آج ایسا نہیں ہوا تھا اس کا چہرا کفن میں موجود بالکل ساکن تھا۔۔۔ چہرے پر ورم اور ہونٹ بالکل نیلے نظر آرہے تھے
دلاور اور وہ تقریباً کل رات کے تین بجے کے قریب وہاں پہنچ گئے تھے اُس نے زندگی میں پہلی بار دلاور کو آنسو کے ساتھ بےتحاشہ روتے ہوئے دیکھا تھا وہ اپنے روتے ہوئے بابا سائیں کو خود بھی روتا ہوا خاموش کروا رہا تھا جو غم سے نڈھال اور پہلے سے زیادہ بوڑھے اور بیمار نظر آرہے تھے۔۔۔ پھر دلاور اپنی بڑی بہن سے مل کر بہت رویا تھا یقیناً کل کی گزری ہوئی رات اُس کے گھر والوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی موت کی اصل وجہ خاندان والوں سے اور محلے والوں سے چھپالی گئی تھی وہاں پہنچتے ہی دلاور نے سب سنبھال لیا تھا کیوکہ بات خاندان سے باہر نکلتی تو جگ ہنسائی کا باعث بنتی
صبح ہوتے ہی گھر میں رشتے داروں کی آمد شروع ہوچکی تھی تب مشی نے کسی دوسرے کے سامنے دلاور کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکتا ہوا نہیں دیکھا تھا اپنے ہر رشتے دار سے ملتے وقت اُس کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور خاموشی طاری تھی
“میں کیسے معافی مانگو تُجھ سے، کیسے بولو تُو مجھے معاف کردے، تجھے کیا سمجھتا رہا اور میری اپنی اولاد کیا نکلی۔۔۔ دیکھ تیری آہ لگ گئی اُسے، چھوڑ گئی وہ ہمہیں کیسا داغ دے گئی جاتے جاتے تیرا تو دل اتنا بڑا نہ ہوگا جو تُو اُس بدنصیب کو معاف کردے یا مجھ بوڑھے آدمی کو معاف کردے”
یہ دلاور کے بابا سائیں تھے جو مشی کے سر پر ہاتھ رکھ کر زار و قطار روتے ہوئے اُس سے بولے جارہے تھے مشی بلکل خاموش تھی انہیں کیا بولتی۔۔۔ معلوم نہیں زرش کو واقعی اُس کی آہ لگی تھی یا اُس کی ایسے ہی موت لکھی تھی مگر یہ سچ تھا بہت مرتبہ اُس نے دکھی دل سے زرش کو بد دعا دی تھی اُس کے مرنے کی بد دعا۔۔۔ اور آج وہ حقیقتاً مر چکی تھی لیکن دلاور، ہما اور بابا سائیں کو روتا ہوا دیکھ کر نہ جانے کیوں اُس کا اپنا دل دکھ رہا تھا گال پر آئی نمی کو صاف کرتی اُسے خود اپنے آنسو دیکھ کر حیرت ہوئی تھی
“مشی دیکھو زرش ہمہیں چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔ یہ کیا کرلیا اُس نے اپنے ساتھ، اتنا بڑا گناہ۔۔۔ یا اللہ میری بہن کو معاف کردے، اُسے اُس کے برے عمل کے لیے بخش دے۔۔۔ مشی تم زرش کو معاف کردینا جو بہتان اُس نے تم پر لگایا تھا، تمہاری کردار کشی کی، تمہارا دل دکھایا، سب کے سامنے تمہیں رسوا کیا خدارا تم میری بہن کو معاف کردینا ورنہ اُس کو اللہ کی ذات بھی معاف نہیں کرے گی”
یہ اُس کی بڑی نند ہما تھی جو غم سے چور مشی کے گلے لگ کر روتی ہوئی اُس سے بول رہی تھی مشی نے ایک مرتبہ پھر زرش کے مردہ وجود پر نظر ڈالی اور گہری سانس کھینچ کر ہما کے آنسو صاف کرتی اُس کو خاموش کروانے لگی
زرش کی موت زہر کھانے سے ہوئی تھی اپنے موت سے پہلے اُس نے ایک پرچہ لکھ چھوڑا تھا جس میں اُس نے اِس بات کا اعتراف کیا تھا کہ منور سے مشی کا نہیں اُس کا تعلق تھا وہ مشی سے نہیں اُس سے ملنے آتا تھا دو دن پہلے ہونے والے منور کے قتل کے بعد ہی اُس کو یہ علم ہوا کہ وہ خود ماں بننے والی تھی اس لیے زہر کھانے کے علاوہ اِس کو کوئی دوسرا راستہ نہ دکھا اس پرچے پر اُس نے اپنے باپ سے دلاور سے اور مشی سے معافی بھی مانگی تھی۔۔۔ آج مشی کے ماتھے پر لگا بدکرداری کا داغ مکمل طور پر مٹ چکا تھا۔۔۔ اُس کے سسرال والوں کے ساتھ ساتھ شاید دلاور کو بھی اب اُس کا مکمل یقین آچکا تھا لیکن مشی کے اندر ابھی بھی اُسی طرح کی خاموشی چھائی ہوئی تھی جیسے وہ باہر سے خاموش تھی آہ و بکا کے ساتھ جب جنازہ گھر سے لے جایا گیا تب اُسے مردوں میں شیردل بھی نظر آیا مگر وہ آگے بڑھ کر اپنے بھائی کے پاس نہیں گئی آج اس کا دل نہیں کیا تھا اپنے بھائی سے ملنے کا
“ارے کچن کا حال بھی دیکھ لے کوئی ہما تو صدمے سے ایک طرف پڑی ہے”
کسی ضعیف خاتون کی صدا پر مشی وہاں سے کچن میں چلی آئی
“اری پاگل ہوئی ہے کیا موت کا گھر سوگ والا ہوتا ہے تین دن تک چولہا نہیں جلتا یہ چائے تُو کس کے لیے بنارہی ہے”
فریدہ اپنی بیٹی (نوشین) کو ڈانٹتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تبھی مشی کی نظر کے فریدہ (دلاور کی دوسری چچی) اور ساتھ کھڑی نوشین پر پڑی جو چولہا جلاتی ہوئی چائے کے لیے پانی رکھ رہی تھی
“امی مرنے والی تو مر گئی اب کیا باقی زندہ لوگ بھی بھوکے پیاسے مر جائیں۔۔۔ صبح سے ہی دلاور یہاں سے وہاں گھوم رہا ہے مردوں میں کھانا لگا تو ایک نوالا بھی اُس کے منہ میں نہیں گیا اسے تو خود کی فکر نہیں ہے اب اُس کی فکر کون کرے گا اِسی کے لیے چائے بنارہی ہوں”
یہ نوشین تھی جو سرے سے ہی مشی کو نظر انداز کیے اپنی ماں کو جواب دیتی ہوئی بولی فریدہ ایک خاموش نظر مشی پر ڈال کر کچن سے باہر نکل گئی جبکہ کچن کے اندر آتی دلاور کی دوسری چچی نوشین کو مخاطب کرتی ہوئی اُسے بولی
“تجھے کیوں دلاور کی اتنی فکر ہورہی ہے اُس کی فکر کرنے کے لیے اُس کی گھر والی موجود ہے وہ اُسے بھوکا نہیں رہنے دے گی تو زیادہ دلاور کی ہمدرد نہ بن، جا یہ چائے لے جاکر بھائی صاحب کو دے آ۔۔۔ طبیعت ٹھیک نہیں ہے اُن کی صبح سے کھانس رہے ہیں مشی خود دلاور کے لیے چائے بنادے گی”
دلاور کی چچی کی بات سن کر نوشین کاٹ کھانے والی نگاہ سے اُن کو دیکھ کر اور خار بھری نظر مشی پر ڈالتی ہوئی چائے کا کپ لےکر کچن سے نکل گئی
“یہ اپنے پیروں کو کیا کرلیا ہے تُو نے پگلی اپنا دھیان رکھا کر”
دلاور کی چچی مشی کے پاؤں دیکھتی ہوئی بولی تو مشی نے بھی اپنے دونوں پاؤں پر نظر ڈالی زرش کی موت کی وجہ سے وہ پاؤں کے چھالے بھول گئی تھی جو سلیپرز پہننے کی وجہ سے اور خراب ہوگئے تھے
“سن مشی دلاور سے بات ہوئی تیری یا نہیں”
دلاور کی چچی مشی کو دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی جس پر مشی نے نفی میں سر ہلایا کیونکہ وہ صبح سے ہی گھر سے باہر لگے ٹینٹ میں مردوں میں موجود تھا دو سے تین مرتبہ سرسری سی نگاہ ہی اُس کی دلاور پر پڑی تھی جب وہ کسی کام سے گھر کے اندر آیا تھا
“بچے اِس وقت تیرے شوہر کو تیری ضرورت ہے اُس سے جاکر بات کر، تسلی دے اُسے کھانے کا پوچھ جوان بہن چلی گئی ہے اس بےچارے کی۔۔ ایسے وقت میں اپنوں کی تسلی سے دل کو بڑی ڈھارس ملتی ہے”
دلاور کی چچی مشی کو سمجھاتی ہوئی بولی جس پر مشی اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہوگئی
مشی دلاور کے لیے چائے بنا کر کچن سے باہر نکلی تب اُس کے قدم وہی رک گئے تخت پر اُس کی جانب پشت کیے دلاور ہی بیٹھا تھا نوشین اُس کے قریب کھڑی تھی دلاور کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا جبکہ نوشین اُس سے کھانے کا بار بار اصرار کررہی تھی جس پر وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا مشی گہرا سانس لےکر اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چائے سنک میں ڈال کر وہاں سے کمرے میں چلی گئی
صبح سے دوپہر اور اب دوپہر سے رات ہوچکی تھی اور وہ پچھلے پانچ گھنٹے سے مسلسل کچن میں موجود تھی آدھے سے زیادہ رشتے دار اِس وقت جاچکے تھے جو بچے تھے سردی کے باعث کمروں میں موجود تھے صحن بالکل ویران پڑا تھا تب اُس کی نظر گھر کے کھلے دروازے پر پڑی مسلسل مہمان داری اور محلے والوں کی آمد کی وجہ سے دروازے کا ایک پٹ صبح سے ہی کھلا تھا۔۔۔۔ کیا اُسے فرار حاصل کرلینی چاہیے بےشک آج اُس کے اوپر لگائے گئے الزامات مٹ چکے تھے مگر اُن الزامات نے اندر سے اُس کی روح کو زخمی کردیا تھا۔۔۔ کیا اُسے دلاور کے ساتھ اپنی باقی کی زندگی گزارنی چاہیے تھی؟ مشی نے اپنے آپ سے ہی سوال کیا تو دل نے فوراً کہا۔۔۔ نہیں۔۔۔ شاید اب وہ فرار چاہتی تھی اور یہی موقع تھا اُس کے پاس آج اگر وہ اس گھر سے نکل جاتی تو دلاور کی زندگی سے بھی نکل جاتی کیونکہ شہر جانے کے بعد فلیٹ سے نکلنا مشکل تھا مشی نے کچن سے نکلتے ہوئے اپنے قدم کھلے دروازے کی جانب بڑھائے۔۔۔ ایک مرتبہ اسے دلاور کا خیال آیا مگر اُس کو سنبھالنے کے لیے نوشین موجود تھی وہ سنبھل ہی جاتا۔۔۔ رشتے داروں کی سرگوشی میں ہوتی باتوں سے ویسے بھی اسے اندازہ ہوچکا تھا خاندان میں دلاور اور نوشین کی شادی کی باتیں چل رہی تھی، مشی دروازے کے پاس پہنچی تھی تبھی اسے اپنی پشت سے آواز آئی
“یہاں کھڑی کیا کررہی ہو مشی”
مشی کرنٹ کھا کر ایک دم پلٹی سامنے اس کی بڑی نند ہما کھڑی تھی
“آپا وہ یہ دروازہ” مشی گھبراہٹ کے مارے آگے کچھ بول ہی نہ پائی ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرنے لگی
“ہاں بلاوجہ میں کافی ٹائم سے کھلا ہے اب رات ہوچکی ہے کوئی نہیں آئے گا”
ہما نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا تو مشی خاموشی سے دروازے کی جانب دیکھنے لگی جس پر ہما تالا لگاکر چابیوں کا گچھا وہی گملوں کے اوپر چھچھجے پر رکھ رہی تھی
“سردی بڑھ رہی ہے تم بھی اندر چلو کہیں بیمار نہ ہوجاؤ”
ہما کی بات پر مشی نے صرف سر ہلایا کچھ بولے بغیر اندر جانے لگی
“مشی دلاور نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ بالکل خاموش ہوگیا ہے وہ، ابھی میں نے اُسے کمرے میں آرام کرنے کا کہہ کر بھیجا ہے اُس کے پاس جاؤ اُس کا خیال رکھو اُسے اِس وقت تمہاری ضرورت ہے”
جب منور کے ساتھ اُس کا نام منسوب کرکے اُس کی کردار کشی کی گئی تھی تب اُسے بھی کسی سہارے کی ضرورت تھی مگر تب اسے دلاور کا کاندھا مئیسر نہیں تھا۔۔۔ ایک تلخ سوچ اس کے دماغ میں آئی
“آپا نوشین ہے تو اُس کا خیال رکھنے کے لیے”
اپنی سوچوں میں گم نہ جانے کیسے غائب دماغی میں اُس کے منہ سے یہ جملہ نکلا جس پر ہما ایک دم آنکھیں کھول کر حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی
“کیا اول فول بول رہی ہو مشی دلاور کا تم سے مضبوط رشتہ ہے بیوی تم ہو اس کی، نوشین نہیں اِدھر اُدھر کی باتوں پر کان مت دھرو جاؤ دلاور کے پاس”
اب کی بار ہما کا لہجہ سختی اپنائے ہوئے تھا جیسے اُسے مشی سے ایسی بےوقوفی والی بات کی توقع نہ ہو مشی خاموشی سے وہاں سے کمرے میں جانے لگی
“سنو دلاور کے لیے کھانا لیتی جاؤ”
ہما کی آواز پر مشی نے ایک مرتبہ پھر کچن کا رخ کیا ایک پلیٹ میں چاول نکالنے لگی ساتھ ہی تھرمس میں سے ایک کپ چائے نکالی یہ نوشین کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے نہیں تھی تھوڑی دیر پہلے اُس نے بنائی تھی معلوم نہیں وہ یہ چائے پیتا بھی یا نہیں مشی بےدلی سے سوچتی ہوئی دلاور کے کمرے کا رخ کرنے لگی
***
مشی کمرے میں آئی تو دلاور انکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر لیٹا تھا پہلے اُسے گمان ہوا جیسے وہ سو رہا ہو مگر وہ جاگ رہا تھا مشی کھانے کے ٹرے میز پر رکھتی دلاور کے پاس چلی آئی
“دلاور” اپنا ہاتھ دلاور کے ہاتھ پہ رکھتی اُس نے دلاور کو پکارا تو دلاور نے اپنی آنکھوں سے ساتھ ہٹایا اِس وقت دلاور کی آنکھیں بےتحاشہ سرخ ہورہی تھی پلکوں پر موجود ہلکی سی نمی اِس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ وہ اُس کے بیڈ روم میں آنے سے پہلے رو رہا تھا شاید اُسے اپنی بہن کی موت کا غم تھا یا پھر زرش کے کیے ہوئے عمل پہ وہ دکھی تھا یا پھر جو الزامات زرش نے اُس کی بیوی کے کردار پر لگائے تھے اُس بات کا اُس کو رنج تھا
“اُٹھ کے بیٹھو آپا بول رہی تھی تم نے صبح سے کچھ کھایا نہیں”
مشی بیڈ کے قریب دلاور کے پاس کھڑی اُس سے بولی
“بھوک کا احساس ختم ہوچکا ہے دل نہیں کررہا کچھ کھانے کا بس آرام کرنا چاہتا ہوں”
دلاور کا جملہ سن کر مشی کو وہ وقت یاد آیا جب نکاح کے بعد دلاور اُسے اپنی ہمراہ گاؤں لے جارہا تھا تب اس کے احساسات بھی ایسے تھے بھوک کا احساس ہی ختم ہوچکا تھا
“بھوک کے لیے نہیں کبھی کبھی انسان کو زندہ رہنے کے لیے کھانا پڑتا ہے بس تھوڑا سا کھالو پھر آرام کرلینا”
مشی جانتی تھی وہ اِس وقت کافی تھک چکا ہوگا اُس کے چہرے پر تھکن واضح نظر آرہی تھی کل یہاں آتے ہوئے غائب دماغی میں اُس نے کس قدر ریش ڈرائیونگ کی تھی مشی کو دو مرتبہ گمان ہوا تھا کہ اب اُن کا بری طرح ایکسیڈنٹ ہوجائے گا مشی اس کو زبردستی بٹھا کر کھانے کی ٹرے میں سے پلیٹ اٹھا کر لے آئی وہ بالکل چپ، غائب دماغ بیٹھا تھا تب مشی چاولوں کو چمچے میں بھر کر اُس کے منہ کے قریب لائی
“دلاور منہ کھولو” مشی کی آواز پر وہ چونک کر مشی کو دیکھنے لگا جو چمچہ اُس کے منہ کی طرف بڑھائے اُس کے منہ کھولنے کی منتظر بیٹھی تھی، حلق سے چاول اُس نے بمشکل اتارے چوتھے نوالے پر اُس نے مشی کا ہاتھ پکڑلیا اُس کی آنکھیں ایک مرتبہ دوبارہ نم ہونے لگی مشی جانتی تھی اب وہ مزید نہیں کھا سکے گا جب مشی پلیٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے لیے تھوڑا اُس کے نزدیک ہوئی تب دلاور نے اچانک اپنا سر مشی کے کندھے پر رکھ دیا دلاور کا ایک ہاتھ اُس کی کمر کے گرد حمائل تھا جبکہ دوسرا ہاتھ مشی کے دوسرے کندھے پر رکھا تھا مشی نے اُس کو نہیں تھاما تھا نہ ہی اُسے کوئی دلاسہ دیا وہ یونہی خاموش بیٹھی رہی، مشی اپنے کندھے پر نمی سے محسوس کرسکتی تھی کہ اِس وقت دلاور بےآواز رو رہا تھا چند سیکنڈ گزرنے کے بعد اُسے دلاور کی آواز سنائی دی
“مشی وہ میری چھوٹی بہن تھی گھر میں سب کی لاڈلی، میری چہیتی، اُس نے یہ سب کیوں کیا بابا سائیں کے میرے اور آپا کے پیار میں کہاں کمی رہ گئی تھی، کیوں اُس نے کسی کے بارے میں نہیں سوچا، اپنی خود کی عزت کے بارے میں نہیں سوچا، گناہ کے بارے میں نہیں سوچا، مرنے کے بعد وہ اپنے اللہ کو کیا منہ دکھائے گی یہ تک نہیں سوچا، آخر تم لڑکیاں کیوں اتنی جذباتی ہوجاتی کہ محبت کے نام پر اپنے گھر والوں تک کا خیال نہیں کرتی کچھ غلط بھی کرنا ہوتا ہے تو بناء خوف کیے کر گزرتی ہو یہ تک نہیں سوچتی اِس عمل کا نتیجہ کیا نکلے گا ڈاکٹر نے جب اُس کی رپورٹ میرے ہاتھوں میں تھمائی، وو۔۔۔ مشی وہ ماں بننے والی تھی۔۔۔ اتنا بڑا گناہ، بغیر شادی کے وہ یہ سب۔۔۔ وہ یہ سب کیسے کرسکتی تھی، میں مرد ہوکر نکاح سے پہلے اپنی محبت کے لیے غلط خیال دل میں نہیں لایا کیوکہ تب تم میرے لیے نامحرم تھی، اُس نے کیسے کسی نامحرم کے ہاتھوں خود کو پامال ہونے کی اجازت دے دی، میرے پوچھنے پر اُس نے دو مرتبہ امی کی قسم کھائی، جھوٹی قسم۔۔۔ اُس ماں کی جھوٹی قسم جس نے اُسے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا وہ ماں جو اُسے اِس دنیا میں لائی یہاں آکر میں کمزور پڑجاتا تھا۔۔۔ وہ کیسے جھوٹی قسم کھا کر خود کو ہر الزام سے بری ذمہ ٹہرا سکتی تھی میں تو مر کر بھی اپنی امی کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا۔۔۔ اُس نے تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا۔۔۔
اپنا ذکر آتے ہی مشی دلاور کی بات کاٹ کر ایک دم سے بولی
“تم تھوڑی دیر آرام کرلو”
مشی کے بولنے پر دلاور اُس کے کندھے سے سر ہٹاکر اپنا آنسوں سے تر چہرہ ہاتھوں سے صاف کرتا مشی کو دیکھنے لگا مشی نے اُس کی جانب نہیں دیکھا بلکہ اٹھ کر میز پر رکھا چائے کا کپ لے آئی
“تم کل سے کافی تھک چکے ہو یہ پی لو اور تھوڑا آرام کرلو”
مشی دلاور کو چائے کا کپ تھماتی ہوئی بولی جو دلاور نے اس کے ہاتھ سے لے کر ہونٹوں سے لگالیا۔۔۔ وہ خاموشی سے واپس دلاور کے قریب بیٹھ کر اب اُس کو دیکھنے لگی، خالی کپ دلاور نے سائیڈ پہ رکھا تو مشی ایک مرتبہ پھر اٹھی دلاور نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا
“تم کہاں جارہی ہو پلیز یہی رہو میرے پاس، تم جانتی ہو ناں اِس وقت مجھے تمہاری ضرورت ہے”
دلاور کی بات پر مشی نے اُس کی انکھوں میں دیکھا مشی کو باری باری وہ لمحات یاد آنے لگے جب وہ اسے بدکردار سمجھتا تھا تب اُس کو بھی اپنے شوہر کی ضرورت ہوتی تھی
“اطمینان رکھو میں یہی ہوں تمہارے پاس کمرے کی لائٹ بند کررہی ہوں”
مشی نے اُس سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر کمرے کی لائٹ بند کردی خود بھی دلاور کے برابر میں بیڈ پر لیٹ گئی
کل رات سے لےکر اب تک کی بےسکونی۔۔۔ اتنی دیر کھڑے رہ کر اُس کی اپنی ٹانگیں شل ہوچکی تھی نیند اُس کے حواسوں پر سوار ہونے لگی مگر اُس نے سونا نہیں تھا بلکہ دلاور کے سونے کا انتظار کرنا تھا۔۔۔ گھر کا بند دروازہ، چھجے پر موجود چابیوں کا گچھا، دلاور کی طرف سائیڈ ٹیبل پر رکھا موبائل اور والٹ، والٹ میں موجود پیسے۔۔۔ دماغ مسلسل آگے کی پلاننک کیے جارہا تھا
تھوڑی دیر گزرنے کے بعد مشی کو احساس ہوگیا کہ دلاور سو چکا تھا ویسے بھی وہ کل سے اکیلا ہی بھاگ دوڑ کررہا تھا یہاں پہنچ کر اُسی نے سب سنبھالا تھا وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بری طرح تھک چکا تھا لیکن پھر بھی مشی نے احتیاط برتتے ہوئے بیڈ سے نیچے اُتر کر اُس کے سائیڈ ٹیبل پر جاکر موبائل نہیں اٹھایا تھا بلکہ دلاور کے قریب ہوکر اُس نے اپنا ہاتھ دلاور کے اوپر سے گزارتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھا موبائل اور والٹ اٹھالیا۔۔ وہ موبائل اور والٹ لےکر جیسے ہی اپنی جگہ پہ سرک کر لیٹنے لگی تبھی دلاور کچی نیند سے بیدار ہونے لگا دلاور کے انکھیں کھولنے سے پہلے ہی مشی والٹ اور موبائل پھرتی سے اپنی کمر کے نیچے دبا چکی تھی
“کیا ہوا” دلاور کی آنکھیں مکمل طور پر نیند سے بوجھل ہورہی تھی شاید مشی کے کھسکنے پر اُس کی نیند ٹوٹی تھی جبھی وہ مشی کی طرف رخ کرکے آنکھیں کھولتا ہوا اُس سے پوچھ رہا تھا
“کچھ نہیں۔۔۔ بس نیند نہیں آرہی مجھے”
مشی نے اپنے چہرے پر گھبراہٹ طاری نہیں ہونے دی بالکل عام سے لب و لہجے میں دلاور کو دیکھ کر بولی
جس دن تم نے میری زندگی سے نکلنے کی کوشش کی تم اس دنیا میں بھی نہیں رہ پاؤ گی اس لیے آئندہ خیال بھی مت لانا کہ تم دلاور کی زندگی سے دور جاسکتی ہو۔۔۔
کل رات میں دلاور کا بولا ہوا جملہ یاد کر کے مشی کو ایک پل کے لیے خوف آیا جیسے وہ اُس کا ارادہ بھانپ گیا ہو۔۔۔ مگر اِس وقت دلاور مشی کی بات سن کے اُس کے قریب آیا جس پر مشی کا دل خوف کے مارے زور سے دھڑکا مگر اُس وقت مشی کو حیرت ہوئی جب دلاور اس کے سینے پر سر رکھ کے لیٹ گیا
“اِس وقت تمہاری نیند کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔ میں خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کررہا ہوں مجھے سکون چاہیے مشی پلیز مجھے سلا دو”
دلاور نیند سے بوجھل اپنی انکھیں بند کیے مشی کے سینے پر سر رکھے اُسے بولا تھوڑی دیر پہلے دلاور نے اپنے دل کا غبار بھی مشی کے کندھے پر سر رکھ کے نکالا تھا اور سلانے کی فرمائش بھی وہ اُس کے سینے پر سر رکھ کے کررہا تھا
“ہہمم” مشی دلاور کے وجود کے نیچے دبا ہوا اپنا ہاتھ نکال کر اُس کے شانے پر دراز کرتی اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اُس کے بالوں میں پھیرنے لگی تاکہ یہ عمل دلاور کو پرسکون کرے اور وہ جلد سے جلد سو جائے
“دلاور” مشی نے تھوڑی دیر بعد سرگوشی میں دلاور کا نام پکارا مگر اپنے نام کی پکار پر وہ نہیں جاگا۔۔۔ مشی کو اپنے سینے پر محسوس ہوتی دلاور کی گرم سانسیں بتادے رہی تھی کہ وہ مکمل طور پر گہری نیند میں جاچکا ہے مشی نے اب کی بار اس کے بالوں سے اپنا ہاتھ ہٹاکر ہلکے سے گال کو چھوا شاید وہ اس کے لمس سے بےدار ہوجائے مگر اس وقت دلاور میں کوئی جنبش نہ ہوئی یعنٰی وہ تھکن کے باعث اب گہری نیند میں جاچکا تھا مشی نے اپنی دائیں جانب اس کا ہاتھ دیکھا جو بیڈ پر اس طرح رکھا تھا جس سے مشی مکمل طور پر اس کی دسترس میں ہوں ویسے ہی اس کی ایک ٹانگ مشی کی دونوں ٹانگوں پر موجود تھی۔۔۔ مشی نے اُس کے توانا وجود کو بمشکل خود پر سے ہٹایا دلاور پر کمفرٹر ڈالتی ہوئی وہ اپنے کھلے بالوں کو جوڑھا باندھ کر بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔ سوئے ہوئے دلاور پر ایک نظر ڈال کر اُس کے والٹ سے تیزی سے ہزار ہزار کے نوٹ نکالنے کے بعد والٹ کو واپس رکھتی اپنی چادر سے خود کو ڈھانپ کر وہ دلاور کا موبائل لے کر کمرے سے باہر نکلنے لگی۔۔۔ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے وہ واش روم کی لائٹ جلانا نہیں بھولی
***
رملہ اس وقت گہری نیند میں سو رہی تھی جب مستقل ہونے والی موبائل کی گھنٹی نے اس کی نیند میں خلل ڈالا موبائل کی اسکرین پر دلاور کا نام دیکھ کر اور گھڑی میں ٹائم دیکھ کر وہ تشویش کے عالم میں اُس کی کال ریسیو کرچکی تھی
“کیسے ہو دلاور تمہاری بہن کے بارے میں سن کر بہت افسوس ہوا میری اپنی طبیعت مجھے اجازت نہیں دے رہی تھی کہ میں تعزیت کے لیے آسکتی پھر لمبے سفر کو دیکھتے ہوئے شیر نے بھی مجھے ساتھ لے جانے سے منع کردیا تم بتاؤ ٹھیک تو ہو ناں اور مشی وہ کیسی ہے”
رملہ نے دلاور کی آواز سنے بغیر ایک سانس میں اُس کی بہن کی تعزیت کرنے کے ساتھ اپنے نہ آنے کی وجہ اور خیریت کا بھی پوچھا
“میں مشی بات کررہی ہوں دلاور اس وقت سو رہا ہے ماما اب میری بات دھیان سے سنیں۔۔۔ میں دلاور کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی، وہ مجھے کبھی بھی خود سے الگ نہیں کرے گا نہ مجھے ایسا کرنے دے گا آپ پلیز کسی طرح میری ہیلپ کریں میں اُس کے ساتھ اب مذید گزارا نہیں کرسکتی”
اب کی بار مشی ایک سانس میں بولتی چلی گئی جس پر رملہ پریشان ہوتی اُس کی باتیں سن کر بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی
“مگر مشی تم نے تو بولا تھا کہ دلاور تمہارا بہت خیال رکھتا ہے وہ بہت کیئرنگ ہے پھر یہ چھوڑنے کی نوبت کیسے آگئی بیٹا اور اگر ایسا کوئی مسئلہ بھی ہے تو شیر تو آج وہاں پر آیا تھا تم اُسے اپنے حالات سے آگاہ تو کرتی وہ تمہیں کبھی بھی وہاں اکیلا چھوڑ کر نہ آتا”
مشی کی باتیں سن کر رملہ سخت پریشان ہوچکی تھی وہ اُس کی فکر کرتی بولی
“کیئرینگ مائی فٹ بکواس کی تھی میں نے سب۔۔۔ اور حقیقت میں آپ کو ابھی کال پر میں نہیں بتاسکتی اور پلیز میرے معاملے میں بھائی کو بالکل بھی انوالو کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کبھی بھی مجھ پر یقین نہیں کریں گے انہیں ہمیشہ ہر بات کے لیے دلاور ہی ٹھیک لگے گا اور نہ ہی آپ میری کال کا ذکر ہانیہ سے کریں گیں”
مشی اِس وقت صحن میں بنے کچن میں کھڑی دبی آواز میں رملہ سے بولی جس پر رملہ فوراً بولی
“ہاں ہاں تم بےفکر رہو میں شیر یا ہانی میں سے کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔ میں ایسا کرتی ہوں ابھی شیر کے سامنے جاکر کچھ بھی بہانہ بناکر یہاں سے نکلتی ہوں وہاں تمہارے پاس آتی ہوں اور پھر تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔۔۔ دیکھتی ہوں کیسے دلاور یا پھر اُس کے گھر والوں میں سے کوئی تمہیں میرے ساتھ جانے سے روکتا ہے”
رملہ کمرے کے چکر لگاتی ٹینشن میں مشی سے اپنے آنے کی پلاننگ کرنے لگی
“اوہو ماما آپ سمجھتی کیوں نہیں رہی اگر آپ یہاں آگئی تو دلاور آپ کے بارے میں بھائی کو سب کچھ بتادے گا آپ کو یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اب آپ میری بات غور سے سنیں اِس وقت ڈرائیور کو بولیں کہ وہ ہائی وے پر گاڑی لےکر پہنچ جائے میں یہاں سے نکلتی ہوں پھر آپ مجھے اپنی کسی فرینڈ یا ریلیٹو میں سے جو آپ کو بھروسہ مند لگے، چند دنوں کے لیے مجھے وہی بھجوا دیں”
مشی محتاط ہوکر رملہ سے بولی جو اُس کی بات سن کر کمرے کے چکر کاٹنا اب بند کرچکی تھی
“تم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو مشی یہ کیا بےوقوفی کرنے جارہی ہو اگر شیر کو یہ سب معلوم ہوگیا ہمارے بارے میں تو وہ ہم دونوں کو جان سے مار ڈالے گا کوئی ضرورت نہیں ہے یوں اپنے سسرال سے اِس وقت چوری چھپے نکلنے کی۔۔۔ میں سب کچھ ہینڈل کرلوں گی بس تم صبح کا ویٹ کرو”
مشی کی بات پر رملہ مزید ٹینشن میں آچکی تھی جبھی وہ اُس کو تنبیہ کرتی ہوئی بولی
“ماما بھائی مجھے بعد میں ماریں گے اِس سے پہلے میں دلاور کی قید میں رہ کر خود کو ختم کرلوں گی بالکل اُس کی بہن کی طرح کسی دن میں بھی مر جاؤں گی، وہ مجھے اپنی قید میں رکھتا ہے میرا دم گھٹنے لگا ہے اُن در و دیوار میں۔۔۔ آپ میری ہیلپ نہیں کرسکتی تو پھر ٹھیک ہے میں خود ہی کچھ نہ کچھ مینج کرلوں گی بائے”
مشی دلاور کی محبت، اپنا اور اُس کا رشتہ سب کچھ بھول کر اور صرف اس کی قید سے فرار ہونے کا سوچ رہی تھی وہ مزید ایسے ماحول میں قیدی بن کر زندگی نہیں گزار سکتی تھی شاید اسطرح وہ پاگل ہوجاتی
“مشی۔۔۔ مشی۔۔۔ میری بات سنو پلیز کال بالکل بھی مت کاٹنا بیٹا اتنا بڑا قدم اٹھارہی ہو تم اکیلے یہ سب مینج کیسے کر پاؤں گی۔۔ رکو میں نذیر کو وہاں بھیجواتی ہوں تم کسی بھی طرح اپنے سسرال سے نکلو پھر ہم اگے کا سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے ہمہیں اوکے۔۔۔ پلیز بیٹا اکیلے کوئی قدم نہیں اٹھانا تم کسی مشکل میں نہ پھنس جاؤ”
رملہ کو مشی کے آگے ہار ماننا پڑی کیونکہ اکیلے وہ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاسکتی تھی اور رملہ اُس کے معاملے میں رسک نہیں لے سکتی تھی کہ مشی اُس کو لاعلم رکھ اپنے سسرال سے نکلے
“ماما نذیر ایک نمبر کا ایڈیٹ ہے اُس کو میرے متعلق کوئی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے وہ بھائی سے پہلے یہ سب کچھ دلاور کے کان میں ڈال دے گا۔۔۔ آپ نذیر کے بھانجے یا پھر راشدہ کے بھائی پر بھروسہ کرلیں مگر یہاں میرے سسرال میں گاڑی بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے دلاور کو بالکل بھی علم نہیں ہونا چاہیے کہ میں یہاں سے نکل کر اپنے گھر گئی ہوں۔۔۔ یہاں سے میں کسی بھی طرح نکل جاؤں گی بس جیسے جیسے میں نے آپ کو بولا ہے آپ وہی کریں”
مشی نے ایک نظر دوبارہ بند کمروں کی جانب دیکھا جہاں سب لوگ سو رہے تھے اسے دلاور کا سیل فون یہی کچن میں رکھ کر اب باہر نکلنا تھا
“مشی پلیز بیٹا بہت دھیان سے نکلنا تم، بہت فکر ہورہی ہے تمہاری اپنا خیال رکھنا پلیز۔۔ میں ابھی راشدہ کے بھائی کو کہتی ہو وہی تمہیں ہائی وے سے پک کرے گا”
رملہ پریشانی کے عالم میں فون رکھ چکی تھی مگر اب اُس کو گھبراہٹ طاری ہوچکی تھی وہ پانی کا گلاس اپنے اندر انڈیلتی خود کو ریلیکس کرتی ہوئی راشدہ کے بھائی قیوم کو کال ملانے لگی کیونکہ وہ تگڑی رقم کی خاطر شک ہوجانے پر بھی شیردل کو کچھ نہیں بتانے والا تھا
***
