Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 21) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 21) Last Episode
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
ہال سے آتی کسی اجنبی خاتون کی آواز پر مشی جان چکی تھی یہ رملہ کی دوست تھی جس کو آج رملہ سے ملنے گھر پر آنا تھا مشی ہال میں آکر صوفے پر بیٹھی ان خاتون کو سلام کرنے لگی
“ارے یہ ہانیہ ہے نا تمہاری بیٹی”
افروز شائستگی سے مشی کو سلام کا جواب دیتی ہوئی رملہ سے پوچھنے لگی جس پر رملہ مشی کو دیکھ کر مسکرائی
“یہ میری دوسری والی بیٹی ہے مشی”
رملہ مشی کو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتی اپنی سہیلی کو بتانے لگی مشی مسکرا کر رملہ کے پاس ہی بیٹھ گئی
“ارے ہاں مشی اسی کے ساتھ ہوئی ٹریجیڈی کا بتایا تھا نہ تم نے پھر کیا ہوا ڈائیورس کروا دی تم لوگوں نے اِس کی اِس کے ہسبینڈ سے”
افروز کی بات پر جہاں رملہ ایک دم سٹپٹائی تھی وہی مشی کو بری طرح شاکڈ ہوئی تھی وہ صدمے اور حیرت سے رملہ کی جانب دیکھنے لگی جو اپنی جھینپ مٹاکر مشی کی جانب دیکھے بغیر افروز سے بولی
“نہیں ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں لیا صرف سوچا ہے ڈائیورس کے متعلق”
رملہ کی بات پر مشی سناٹے میں آچکی تھی
“ارے ابھی تک صرف سوچا ہے پہلی فرصت میں ایسے انسان کو اپنی بیٹی کی زندگی سے نکالو جس نے تمہاری بیٹی کو اِس قدر ٹارچر کیا ہو رملہ ماشاللہ سے تمہاری بیٹی جوان ہے اتنی خوبصورت ہے تم لوگوں کو تو دس اچھے رشتے مل سکتے ہیں مشی کے لیے بلکہ میری بہن بھی آج کل اپنے بیٹے کے لیے لڑکی دیکھ رہی ہے بھئی آج کل کے بچوں کی پسند کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے میرے بھانجے نے اپنی پسند سے شادی کی اور سال بھر میں ہی دونوں کو احساس ہوگیا کہ اُن دونوں کے مائنڈ ایک دوسرے سے نہیں ملتے وہ علیدگی بھی ہوگئی دونوں میں، زیادہ ایج نہیں ہے میرے بھانجے کی میں تمہیں اپنی بہن سے بھی ملواؤں گی مجھے پورا یقین ہے میری بہن کو مشی ضرور پسند آئے گی اپنے بیٹے روفی کے لیے”
افروز سانس لینے کے لیے رکی تو مشی کی برداشت جواب دے گئی وہ صوفے سے اٹھ کر ہال سے باہر نکل گئی
“ارےہ مشی سنو” اپنے پاس سے گزرتی ہوئی مشی کو ہانیہ نے پکارا مگر وہ تیزی سے لان کی طرف جانے لگی
“یہ رو کیوں رہی تھی” ہانیہ دل میں سوچتی ہوئی مشی کے پیچھے لان میں چلی آئی
“مشی کیا ہوا رو کیوں رہی ہو اس طرح سے”
مشی کے پاس آتی ہانیہ اس سے پوچھنے لگی
“وہ ماما کی فرینڈ۔۔۔ ماما نے کیوں شیئر کیا اُن سے میرے اور دلاور کے متعلق بھابھی میں کیسے چھوڑ سکتی ہوں دلاور کو اس کی جگہ کوئی اور مرد امپاسیبل میں ایسا نہیں سوچ سکتی بھابھی دلاور کی جگہ کوئی دوسرا لے لے افروز انٹی کیوں اپنے بھانجے کے رشتے کے متعلق بتارہی تھیں میں اُن کے بھانجے سے یا کسی بھی دوسرے سے شادی نہیں کرسکتی”
مشی اپنی انکھوں سے آنسو صاف کرتی ہوئی ہانیہ کسے بولی جبکہ وہ خود دلاور کے سامنے بہت دفعہ اسے چھوڑنے کی بات کہہ چکی تھی مگر رملہ کی دوست نے جب یہ بات بولی تو آج اُس کو بہت دکھ ہورہا تھا مشی کی بات پر ہانیہ افسوس سے سر ہلانے لگی
“تمہیں اب پچھتاوا ہورہا ہوگا تم نے ماما سے اپنی اور دلاور بھائی کی باتیں کیوں شیئر کی جو انہوں نے آگے اپنی فرینڈ سے شیئر کردی مشی جب تک ہم خود اپنے راز راز نہیں رکھ سکتے تو پھر ہمہیں کسی دوسرے سے بھی توقع نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے رازوں کو پردے میں رکھے لیکن تم ماما کے لیے اپنا دل برا مت کرنا جو کچھ انہوں نے اپنے فرینڈ سے شیئر کیا ہے اُن کی نیت غلط نہیں ہوگی تمہاری طرف سے وہ پریشان رہتی ہے تبھی انہوں نے اپنی فرینڈ کے آگے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا ہوگا۔۔۔ ویسے اگر تم دلاور بھائی کے علاوہ کسی دوسرے کے متعلق نہیں سوچ سکتی تو اُن کو معاف کیوں نہیں کردیتی ان کی مری ہوئی بہن کو بھی تو معاف کیا ہے تم نے شوہر کا رشتہ تو پھر نند سے زیادہ نزدیک کا رشتہ ہوتا ہے۔۔۔ ساری زندگی اکیلے تو نہیں گزاروں گی تم کچھ نہ کچھ تو تمہیں اپنے لیے سوچنا پڑے گا اس طرح رو کر اپنے آپ کو ہلکان کررہی ہو یقیناً اپنے ہسبینڈ کو بھی مشکل میں ڈالا ہوگا تم نے اِن دنوں، دیکھا نہیں تھا جب وہ یہاں تمہارے لیے آئے تھے تو کس قدر پریشان لگ رہے تھے”
ہانیہ کی باتیں وہ خاموشی سے سنتی رہی جب شیردل اُن دونوں کو لان کی طرف آتا دکھائی دیا تو ہانیہ خاموش ہوگئی
“سب ٹھیک ہے” شیردل مشی کی سرخ روتی ہوئی آنکھیں کو دیکھتا ہوا ہانیہ سے پوچھنے لگا
“جی بھائی سب ٹھیک ہے”
ہانیہ کی بجائے مشی شیردل سے بولتی ہوئی مسکرا کر وہاں سے چلی گئی کیونکہ وہ دونوں شازل کی ویکسین کے لیے جارہے تھے
“کیا بات ہوئی ہے مشی رو کیوں رہی تھی”
شیردل اپنی گود میں موجود شازل ہانیہ کو تھماتا ہوا ہانیہ سے پوچھنے لگا اُس کے لہجے میں مشی کے لیے فکر صاف جھلک رہی تھی
“تمہیں ایک مرتبہ دلاور بھائی سے بات کرنا چاہیے بلکہ خود بات مت کرو اُن کو یہاں بلالو اچھا ہے مشی اور وہ اکیلے میں بات کرکے اپنے معاملے کو خود سلجھالیں”
ہانیہ شازل کو گود میں لیے شیردل کو مشورہ دیتی ہوئی بولی
“مشی خود چاہتی کیا ہے آخر”
شیردل گاڑی کی طرف قدم بڑھاتا ہوا ہانیہ سے پوچھنے لگا جو اُس کی ہمراہ اسی کے ساتھ چل رہی تھی
“وہ تب تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گی اور کنفیوز رہے گی جب تک دلاور بھائی سے فیس ٹو فیس اُس کی بات نہیں ہوگی اور آج اُس کے اِس طرح رونے سے تو ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ کسی دوسرے مرد کو دلاور بھائی کی جگہ نہیں دے سکتی۔۔۔ ہم لڑکیاں ایسے ہی ہوتی ہیں بہت جلد سب کچھ بھول کر معاف کردیتی ہیں اور محبت بھی کر بیٹھتی ہیں”
ہانیہ نہیں بات کے اختتام پر ہلکا سا ہنسی شیردل گاڑی کا دروازہ کھولتا ہوا ایک دم ہانیہ کو دیکھنے لگا جو اب اُس کو دیکھے بناء شازل کو گود میں لیے گاڑی میں بیٹھ رہی تھی
“اور تم نے ہمارے رشتے کے متعلق کیا سوچا ہے”
شیردل ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہوا سنجیدگی سے ہانیہ سے پوچھنے لگا جس پر ہانیہ چونکتی ہوئی اسے دیکھنے لگی شاید وہ ابھی تک یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اُس کی لائف سے جانے والی تھی
“جو کچھ سوچ لیا ہے اپنا فیصلہ تمہیں کل تک بتادوں گی”
ہانیہ شیردل کو غور سے دیکھتی ہوئی اُس سے بولی ہانیہ نے محسوس کیا اُس کی بات پر شیردل چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی تھی وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا
شیردل نے اُسے اپنی زندگی میں دھوکے شامل کیا تھا وہ بےشک اسے حسام کے لیے نہیں چھوڑنے والی تھی مگر وہ اُس کے ساتھ بھی نہیں رہنا چاہتی تھی اتنا شیردل کو اندازہ ہوچکا تھا وہ چاہتا تو فورس کر کے ہانیہ کو مجبور کر کے اپنے ساتھ رکھ سکتا تھا اسے جانے سے روک سکتا تھا مگر اس کے دل کی خواہش یہی تھی کہ ہانیہ اُس کو اور شازل کو چھوڑ کر نہ جائے مگر یہ بات وہ خود سے ہانیہ سے نہیں بول سکتا تھا
***
آفس سے واپسی پر سب سے پہلا ٹکراؤ اُس کا رملہ سے ہوا جس سے شیردل کو معلوم ہوا آج ڈنر پر دلاور کو آنا ہے وہ مشی کے لیے خوش تھا کیونکہ پرسنلی دلاور کو قریب سے جانتا تھا دلاور ایک اچھا انسان تھا۔۔۔ بےشک دلاور کے اور اُس کی بہن کے درمیان جو بھی مسئلے رہے ہو وہ سب اب حل ہوچکے تھے شیردل یہی چاہتا تھا کہ مشی اگر دلاور کے پاس جائے تو اپنی مرضی سے جائے اور کل ہانیہ سے بات کرتے ہوئے مشی نے ثابت کردیا تھا کہ وہ دلاور کے لیے اپنے دل میں اب بھی جگہ رکھتی ہے۔۔۔ اپنی بہن کے لیے وہ دلی طور پر خوش تھا مگر خود اپنے اور ہانیہ کے لیے اُس کا دل اندار سے بے پناہ اداس تھا نہ جانے آج ہانیہ کا فیصلہ اُس کے حق میں ہوتا ہے یا نہیں ساری سوچیں ذہن میں رکھتا ہوا اپنے کمرے میں چلا آیا جہاں سامنے ہی وہ دشمن جاں بیڈ پر بیٹھی ہوئی اُس کے لختِ جگر کو فیڈ کروانے میں مصروف تھی
“تم شازل کو اپنا فیڈ دے رہی ہو میں نے منع کیا تھا تمہیں، اور یہ نرگس کہاں ہے”
شیردل کمرے میں آتا ہوا ہانیہ سے پوچھنے لگا
“ٹاپ فیڈ شاذل کو سوٹ نہیں کررہا ہے اور مدر فیڈ اِس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔۔۔ میں نے نرگس کی چھٹی کردی ہے جاب سے، اُس کا کوئی فائدہ بھی نہیں تھا کیونکہ شاذل نرگس سے زیادہ میرے پاس کمفرٹیبل رہتا تھا”
ہانیہ شیردل کو جواب دیتی ہوئی سوئے ہوئے شازل کو احتیاط سے بیڈ پر لٹانے لگی تو شیردل ہانیہ کی بات سن کر چلتا ہوا ہانیہ کے پاس آیا
“کیوں ڈال رہی ہو اِس کو اپنی عادت، پھر یہ بھی باپ کی طرح ساری زندگی بھر خوار رہے گا”
شیردل ہانیہ کا تروتازہ چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا ہانیہ شیردل کی بات پر مزید اُس کی طرف قدم بڑھاتی ہوئی بولی
“یہ تم بات بات پر میرے جانے کا ذکر کیوں کیے جارہے ہو وجہ بتاؤ گے مجھے”
وہ اپنے دونوں ہاتھ باندھتی ہوئی شیردل سے پوچھنے لگی
“تم بھول رہی ہو کل تم ہی نے کہا تھا کہ تم مجھے اپنا فیصلہ سناؤں گی ورنہ کون کمبخت اپنی زندگی کو یوں اپنے ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھ سکتا ہے سمجھ لو اپنے ذہن کو آمادہ کررہا ہوں اور ساتھ ہی دل کو بھی مضبوط کر رہا ہوں آگے کے حالات کے لیے”
شیردل ہانیہ کو دیکھتا ہوا بولا کاش کہ وہ اِس وقت خود ہی سے بول دیتی کہ وہ اُس کو اور شازل کو چھوڑ کر کہیں نہیں جارہی ہے شیردل ہی دل میں دعا مانگنے لگا
“تمہیں ایسا لگ رہا ہے اب میں تم سے دور تمہیں چھوڑ کر کہیں جاسکتی ہوں”
ہانیہ شیردل کے نزیک آکر سارا فاصلہ سمیٹتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ شیردل ہانیہ کی بات پر چونکا دو سیکنڈ پہلے مانگی ہوئی دعا قبولیت کا درجہ پاچکی تھی، شیردل سے حیرت زدہ ہوکر کچھ بولا ہی نہ گیا وہ خاموشی سے ہانیہ کو دیکھنے لگا تب ہانیہ دوبارہ بولی
“میں نے اپنا بچپن ماں کے بغیر گزارا ہے میں یہ ہرگز نہیں چاہو گی میرا بیٹا بھی اِس محرومی کا شکار رہے۔۔۔ ویسے بھی اولاد کے لیے ماں اور باپ دونوں کی توجہ ضروری ہوتی ہے”
ہانیہ شیردل کو دیکھتی ہوئی اسے بتانے لگی
“یعنٰی تم شازل کی وجہ سے میرے ساتھ سمجھوتے کی بنیاد پر اپنی ساری زندگی گزارنے کے لئے تیار ہو”
شیردل ہانیہ سے پوچھنے لگا اسے یہ خوش فہمی ہرگز نہیں کہ ہانیہ بھی اُس سے اُس کی طرح محبت کرتی مگر اُس کے لئے یہی کافی تھا وہ اب اُس کے پاس سے کہیں نہیں جائے گی
“تم کیا چاہتے ہو اپنی باقی زندگی تمہارے ساتھ محبت کی بنیاد پر گزار دو”
ہانیہ شیردل کے گلے میں دونوں بازو ڈالتی ہوئی بےتکلفی سے شیردل سے پوچھنے لگی جس پر شیردل نے ہلکے سے مسکرا کر اُس کو کمر سے تھاما
“تمہاری محبت کی چاہ نہیں ہے میرے لئے یہی کافی ہے کہ تم اپنی ساری زندگی میرے ساتھ گزارنے پر آمادہ ہو، بےشک وجہ شازل ہی سہی اور محبت ہو نہ ہو مگر میں تمہیں برا نہیں لگتا پہلے کی طرح تم مجھ سے نفرت نہیں کرتی میرے لیے اتنا کافی ہے میں ساری زندگی اِسی خوشی میں گزار سکتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کو برا نہیں لگتا”
شیردل مسکرتا ہوا ہانیہ سے بولا اُس کی آنکھوں میں ایک مرتبہ پھر ہانیہ کو دیکھ کر محبت کی دیب جگمگاۓ تھے جنہیں دیکھ کر ہانیہ مسکرا دی
“تمہیں چھوڑ کر نہ جانے کی وجہ شازل بھی ہے اور یہ بھی کہ تم سے محبت نہ ہونے کے باوجود تمہارے ساتھ رہنے کی عادت پڑگئی ہے مجھے۔۔ تمہارا ساتھ تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے مجھے جو ایک عورت کے لیے ضروری ہے”
ہانیہ سچ بیان کرتی ہوئی شیردل کے سینے پر اپنا سر رکھ چکی تھی شیردل بھی ہانیہ کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اُس کے وجود کو اپنے حصار میں لے چکا تھا
“تو پھر آج رات یہ بتانے کی اجازت ہے کہ میں کتنی محبت کرتا ہوں”
شیردل ہانیہ کے وجود کو بازوؤں میں بھرے شرارت بھرے لہجے میں ہانیہ سے پوچھنے لگا
“جیسے اب تک تو بڑا میری اجازت سے مجھے بتاتے ہو کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو”
ہانیہ شیردل کے حصار میں اُس کو گھورتی ہوئی بولی تو شیردل نے مسکرا کر اپنے ہونٹ ہانیہ کے ہونٹوں پر رکھ دیئے
شیردل کو یقین ہوگیا تھا کہ اگر ابھی ہانیہ کو اُس سے محبت نہیں تھی تو چند سالوں تک وہ اپنی محبت سے اُس کا دل جیت لے گا اپنی عادتیں تو وہ ہانیہ کو ڈال ہی چکا تھا تو اسے اپنی محبت سے گرویدہ کرلینا بھی مشکل کام نہیں تھا
***
تھوڑی دیر پہلے رملہ مشی سے اپنے دوست کے رویے کی ایکسکیوز کر کے گئی تھی وہ کل اپنی دوست کے اِس طرح بولنے پر خود بھی سخت شرمندہ تھی مشی نے ظرف دکھاتے ہوئے بات درگزر کردی اور رملہ سے تو وہ بددل ہو ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ رملہ اُس کی ماں تھی، آج صبح ہی قیوم کا بھی اُس سے سامنا ہوچکا تھا جب سے وہ یہاں آئی تھی قیوم کوشش کرتا کہ مشی سے اُس کا سامنا نہ ہو مگر آج صبح وہ ہمت کر کے مشی سے اُس دن کے رویے کی معافی مانگ چکا تھا جب اُس نے رملہ کے فلیٹ میں اُس سے بدتمیزی کی تھی جس پر مشی نے بڑا دل کرتے ہوئے اُس کو بھی معاف کردیا تھا۔ درگزر کردینا، مشکلات پر صبر کرلینا، دوسروں کو معاف کردینا۔۔۔ یہ صفات جانے کیسے اُس میں پیدا ہوچکی تھی لیکن اِس کے باوجود اُس کا دل اندر سے بےچین تھا اس کا دلی سکون نہ جانے کہاں چلا گیا تھا وہ اندر سے بالکل بھی خوش نہ تھی اب بھی بےدلی سے اپنی کیفیت کو سوچتی ہوئی وہ وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگی تاکہ شاور لے سکے کپڑوں کو بیڈ پر رکھ کر وہ واش روم میں چلی گئی چند منٹ بعد شاور لےکر جب اُس نے دروازہ کھولا سامنے بیڈ پر بیٹھے اُس کی نظر دلاور پر پڑی بےاختیار مشی نے مضبوطی سے اپنے ٹاول کو پکڑا اور فوراً ہی واش روم کا دروازہ بند کردیا
“یہ یہاں کیسے۔۔۔ میرے کمرے میں کیا کررہا ہے” دھڑکتے دل کے ساتھ مشی نے سوچا اور شکر بھی ادا کیا کہ اِس مرتبہ گھبراہٹ میں اُس کا ٹاول اُس کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا چند سیکنڈ گزرنے کے بعد مشی نے دوبارہ واش روم کا ہلکا سا دروازہ کھولا اُس کا خیال تھا کہ دلاور اُس کو یوں گھبراتا ہوا دیکھ کر اب تک وہاں سے جاچکا ہوگا مگر مشی کا یہ خیال غلط ثابت ہوا وہ وہاں سے نہیں گیا تھا بلکہ بیڈ پر مزے سے لیٹ چکا تھا اُس کا رخ بھی واش روم کے دروازے کی طرف تھا
“دلاور تم یہاں کیا کررہے ہو”
مشی واش روم کے دروازے کے پیچھے سے دبی ہوئی آواز میں پوچھنے لگی
“تمہارے باہر آنے کا انتظار کررہا ہوں جلدی سے باہر آجاؤ شاباش تاکہ تمہیں دیکھ کر میری انکھوں کو ٹھنڈک ملے”
دلاور مکمل ڈھٹائی کے ساتھ اُس سے بولا تھا وہ جس حالت میں اِس وقت موجود تھی دلاور کی انکھوں کو تو کیا ہی ٹھنڈک ملتی ایسی حالت میں اُس کے سامنے آکر مشی کی اپنی حالت غیر ہوجانی تھی
“فضول بات مت کرو میں کیسے باہر آسکتی ہوں میرے کپڑے بیڈ پر موجود ہیں تم پلیز تھوڑی دیر کے لیے روم سے باہر جاؤ”
مشی جھجھکتی ہوئی دلاور سے بولی واش روم کا دروازہ اُس نے اتنا ہی کھول رکھا تھا کہ دلاور کو اُس کا صرف چہرہ نظر آئے
“تم باہر آکر اپنے کپڑے پہن لو میں تو روم سے باہر نہیں جارہا”
اب بھی اُس کی ڈھٹائی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا بلکہ آنکھوں میں شوخی سمائے وہ اب بھی مشی کو دیکھ رہا تھا
“میں باہر آکر تمہارے سامنے کپڑے پہنوں گی دماغ درست ہے تمہارا میں ایسا کچھ نہیں کررہی ہوں تم پلیز جاؤ تھوڑی دیر کے لیے روم سے”
مشی اب کے بار اُس کو ڈانٹتی ہوئی بولی جو ابھی بھی بالکل ریلیکس موڈ میں اُس کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا
“اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں تمہیں کپڑے پہنتے ہوئے دیکھوں گا تو۔۔۔ اتنا بول کر وہ خاموش ہوا کچھ سوچ کر مسکرانے لگا شرارت اُس کی انکھوں میں ہلکورے لے رہی تھی
“ایسا نہیں ہے یہ دیکھو میں نے یہ ڈائری کھول لی ہے اور اپنا چہرہ بھی چھپالیا ہے تم بالکل ایزی ہوکر باہر آسکتی ہو”
دلاور نے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی ڈائری اٹھاتے ہوئے اپنے چہرے کے آگے کرلی جس پر مشی کو غصہ آنے لگا
“زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے دلاور تم صرف مجھے یہ بتاؤ کہ تم روم سے باہر جارہے ہو یا پھر نہیں”
مشی اُس کو دھمکی دیتی ہوئی پوچھنے لگی
“تم واش روم سے باہر آرہی ہو یا نہیں”
دلاور ڈائری نیچے کرتا ہوا مشی کو دیکھ کر بالکل اُسی کے انداز میں سیریس ہوکر پوچھنے لگا جس پر مشی اپنی انکھیں پھیلا کر بڑی کرتی ہوئی زور سے بولی “نہیں”
“تو میں بھی روم سے جانے والا نہیں ہوں شوق سے ٹاول میں لپٹی واش روم میں ہی کھڑی رہو میں تو تمہارے ہاتھ کی لکھی ہوئی یہ ڈائری پڑھ رہا ہوں”
دلاور بولتا ہوا ڈائری واپس اپنے چہرے کے اگے کرچکا تھا
“تم زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش مت کرو یہ حرکت تم پر بالکل بھی سوٹ نہیں کررہی ہے” مشی اب کی بار اُس کی ڈھٹائی پر دانت پیستی ہوئی دلاور کو بولی مگر اُس کو کوئی فرق نہیں پڑا وہ چہرے کے آگے ڈائری کیے پڑھنے والے انداز میں بولا
“میرا شوہر بہت اسمارٹ اور ہینڈسم ہے میں اُس سے دل ہی دل میں بہت محبت کرتی ہوں مگر اوپر سے غصہ دکھاتی ہوں اِن دنوں وہ مجھ سے دور ہے اِس لیے میں نے اُس کی یاد میں ڈائری لکھنا شروع کردی ہے دلاور میری جان یہ بات میں تم سے روبرو شاید نہیں کہہ پاؤں گی آئی لو یو سو مچ میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں تم کو خود سے دور کرکے میں خود بھی اندر سے بےچین ہوں تم اب میرے پاس آکر میری اِس بےچینی کو ختم کر ڈالو اور مجھے آج اپنے ساتھ لے جاؤ تمہارے بغیر اب میرا یہاں دل نہیں لگ رہا میں نے تمہیں ان دو ہفتوں میں شدت سے یاد کیا ہے مشی صرف اور صرف تمہاری ہے”
مشی بالکل سیریس ہوکر واش روم کے دروازے سے اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی اِس ڈائری میں اُس نے صرف چند اشعار لکھے تھے یہ سب باتیں دلاور صرف اپنی طرف سے کررہا تھا مشی کو اپنی جانب دیکھ کر دلاور اُس کو اسمائل دینے لگا
“مشی میری جان تم اتنی فیلنگز رکھتی ہو اپنے دل میں اپنے شوہر کے لیے تو اُس کو بتا کیوں نہیں دیتی”
دلاور مسکراتا ہوا مشی کا چہرہ دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا
“میں تمہیں باہر آکر ابھی اچھی طریقے سے بتانے والی ہوں دلاور” مشی کا انداز بالکل سیریس اور دھمکی دینے والا تھا
“صرف دور دور سے دھمکیاں ہی دو گی اگر بہادر ہو تو اپنے شوہر کے سامنے آکر اُس سے مقابلہ کرو لیکن تمہیں ڈر یہ بھی ہوگا پہلے کی طرح اگر
پردہ جو ہٹ گیا تو بھید کھل جائے گا۔۔۔
دلاور بیڈ پر لیٹا ہوا آخری جملہ گنگناتا ہوا بولا وہ اُس وقت بالکل بھی سیریس موڈ میں نہ تھا اور اُس کا شرارتی تنگ کرنے والے انداز کو دیکھ کر مشی کو سخت غصہ چڑھا ہوا تھا جس کو ضبط کرتی ہوئی وہ بولی
“دلاور پلیز مجھے میرے کپڑے دے دو”
مشی کا انداز اب عاجزی سے بھرا تھا وہ واش روم میں ٹاول میں کھڑی کھڑی شاید تھک چکی تھی دلاور اس کے کپڑے لےکر واش روم کے قریب آیا تو مشی نے ایک ہاتھ سے اپنے ٹاول پر اور دوسرے ہاتھ سے ہینڈل پر گرفت سخت کی کیونکہ وہ شرافت کا مظاہرہ کرتا ایسا اُس کا موڈ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ دلاور نے اُس کو شرٹ اور ٹراؤزر چھوڑ کر جو تیسری اہم چیز لہرانے والے انداز میں مشی کو پکڑائی تھی مشی خونخوار نظروں سے اُس کی جانب دیکھنے لگی
“پہن لو” دلاور آنکھ مار کے اُس کو بولا
“میری ایک بات زندگی بھر یاد رکھنا تم انتہا کے بےہودہ آدمی ہو” مشی اہم چیز اُس کے ہاتھ سے جھپٹتی ہوئی اس سے بولی اور واش روم کا دروازہ بند کردیا چند سیکنڈ بعد واش روم کے دروازے پر ناک ہوا تو مشی نے ذرا سا دروازہ کھولا
اب کی بار اُس کے کپڑے دلاور کے ہاتھ میں تھے جن کو لیتی ہوئی وہ ایک مرتبہ پھر دروازہ بند کرچکی تھی کپڑے پہننے کے بعد ٹاول کو بالوں پر رگڑتی ہوئی واش روم سے باہر آئی۔۔ جیسے ہی اُس نے کمرے میں پہلا قدم رکھا دلاور نے مشی کو کلائی سے کھینچ کر اپنی باہوں کے حصار میں جکڑ لیا گھبراہٹ کے مارے مشی کے ہاتھوں سے ٹاول نیچے گرا دلاور اس کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا جیسے بےتاب ہوچکا تھا مشی اُس کی گرفت میں موجود پھڑپھڑا کر رہ گئی
“تم ایک انتہا کے فضول انسان ہو”
دلاور نے اُس کے ہونٹوں کو آزاد کیا تھا مگر اُسے نہیں، مشی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ دلاور سے بولی
“اور اِس فضول انسان نے تمہیں دو ہفتے تک شدت سے یاد کیا ہے”
دلاور نے بولنے کے ساتھ ہی مشی کو اپنے بازوؤں میں اٹھالیا اور اسے بیڈ پر لٹایا اِس سے پہلے مشی اٹھ پاتی وہ مشی کے اوپر جھک چکا تھا
ایک مرتبہ پھر اُس کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا وہ خود کو سیراب کرنے لگا نہ جانے کتنے دنوں کی پیاس تھی جو فوراً نہیں بجھ پائی تھی دلاور کے انداز میں شدت دیکھ کر مشی نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ دیے تو دلاور نے مشی کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنے مضبوط ہاتھوں کی انگلیاں پھنساکر جکڑلیا جس قدر مضبوطی سے اُس نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے مشی کے ہاتھوں کی انگلیوں کو جکڑا ہوا تھا اس سے زیادہ گرفت سے مشی کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں سمائے ہوئے تھا جب مشی کو فرار کا راستہ نہ ملا تو دلاور کے شدت بھرے انداز پر مشی کی آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تب جاکر دلاور نے اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جدا کیا وہ پھولی ہوئی بےترتیب سانسوں کے ساتھ دلاور کو دیکھنے لگی جبکہ وہ مشی کے اوپر جھکا ہوا ابھی تک مکمل طور پر اُس کے جسم پر قابض تھا
“اب بولو جب میں تمہیں یہاں لینے آیا تھا تو میرے ساتھ واپس کیوں نہیں گئی، کیوں مجھ کو اِس قدر تنگ کرتی ہو، جانتی ہو تمہیں پل پل کتنا یاد کیا ہے میں نے اِن دنوں۔۔۔ آخر کب آئے گی تمہیں میرے پیار کی قدر۔۔۔ مشی تم نے کیوں اتنی بڑی بےوقوفی کی گھر سے اکیلے نکلنے کی وہ بھی آدھی رات کو”
اس وقت وہ مشی کے حصار میں لیے بالکل سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
“تم نہیں جانتے میں وہاں سے کیوں نکلی تھی تم سچ میں نہیں جانتے دلاور”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی الٹا اُسی سے سوال کرتی پوچھنے لگی
“یہ مت بولنا کہ تم اِس لیے میرے گھر سے نکلی تھی کیونکہ نوشین نے مجھے چائے کا کپ تھما دیا تھا پینے کے لیے، اگر تم نے یہ ریزن پیش کیا تو مجھے پھر بہت غصہ آئے گا تم پر”
ہما کی بات سے وہ سمجھ چکا تھا کہیں نہ کہیں مشی کے اندر کے غصّے کی وجہ نوشین تھی مشی اُس کی بات سن کر فوراً بولی
“تم نے جھوٹ بولا تھا کہ تمہاری اور نوشین کی شادی نہیں ہورہی ہے وہاں موجود خواتین آپس میں یہی باتیں کررہی تھیں تمہارے اور ناشین کے متعلق میں نے خود سنا تھا”
مشی دوبارہ سے اُس سے بدگمان ہوتی بولی تو دلاور غصہ ضبط کیے اُس کو دیکھنے لگا
“مشی کیا کرو یار میں تمہارا یہ بتاؤ مجھے۔۔۔ کوئی اپنی ہی بیوی کے پیچھے اتنا خوار نہیں ہوتا جتنا تم مجھے اپنے پیچھے کرچکی ہو اور پھر بھی تمہیں ابھی تک مجھ پر یقین نہیں۔۔۔ بابا سائیں چچا سائیں سے شادی کی بات کر آئے تھے لیکن میں نے چچا سائیں کے گھر جاکر اُن کو صاف رشتے سے منع کردیا تھا مگر وہی خواتین کی جو پرانی عادت ہوتی ہے پیٹ میں تو کوئی بات رہنی نہیں ہے پورے خاندان میں یہ جھوٹی خبر پھیل گئی کہ میری اور نوشین کی شادی ہورہی ہے”
دلاور مشی کو ساری بات کلیئر کرتا ہوا بولا اور مشی کے اوپر سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا مشی خود بھی بیڈ سے اٹھ گئی پھر ناراض لہجے میں دوبارہ بولی
“تم بار بار بچے کے لیے بھی تو فورس کیے جارہے تھے مجھے”
مشی اُس کو یاد دلانے لگی تو دلاور دو قدم آگے بڑھ کر اُس کے نزدیک آیا
“اگر یہ مسئلہ تھا تو کوئی دنیا کی بےوقوف بیوی ہی ہوگی جو اِس لیے گھر سے بھاگی ہو کہ اُسے بچہ نہ پیدا کرنا پڑے”
دلاور کے افسوس سے بولنے پر مشی اُس کو گھور کر دیکھتی ہوئی بولی
“تم مجھے بےوقوف نہیں بول سکتے”
وہ ایک دم ناراض لہجے میں بولی تو دلاور نے اُس کو کمر سے پکڑ کر خود سے قریب کیا
“ہاں تم بےوقوفی والے کام کرو لیکن میں تمہیں بے وقوف نہیں بول سکتا، میں صرف اپنی عقلمند بیوی کے سامنے اُس کی تعریفیں کرسکتا ہوں جو اُس کے کانوں کو اچھی لگے”
دلاور نے مشی کو بولتے ہوئے نرمی سے اُس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے تو مشی کو جیسے کچھ اور بھی یاد آیا
“تم نے آپا سے بھی یہ بولا تھا کہ تمہیں میرے ہاتھ کی کافی پسند نہیں”
وہ دلاور کو گھورتی ہوئی بولی اور صاف دکھ رہا تھا اس بات پر دلاور اپنی ہنسی مشکل سے روک سکا تھا
“میں نے یہ نہیں بولا تھا کہ پسند نہیں ہے بلکہ یہ بولا تھا کہ زہر لگتی ہے، ویسے مجھے اپنی آپا کا معلوم نہیں تھا کہ وہ میری باتیں میری بیوی سے یوں شیئر کردیتیں ہیں”
دلاور اُس کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر ڈھٹائی سے سچ بولتا ہوا مسکرانے لگا
“انہوں نے تمہاری بات مجھ سے شیئر نہیں کی تھی بلکہ اُن کی نظر میں تو اُن کے بھائی سے زیادہ اچھا کوئی دوسرا مرد ہو ہی نہیں سکتا وہ تو خود یہ بات میرے کان میں پڑ گئی تھی جب پہلے آپا ہم دونوں سے ملنے آئی تھیں اور تم میری بات پر مجھے یوں مسکرا کر مت دیکھو جانتے نہیں ہو تم اِس وقت کیسے لگ رہے ہو”
مشی کے بولنے پر وہ اُس کو باہوں میں لیے مسلسل مسکرا رہا تھا تبھی مشی اُس کے مسکرانے پر چڑتی ہوئی بولی جس پر دلاور فوراً بولا
“ہاں جانتا ہوں کیسا لگ رہا ہوں بالکل تمہارے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی کی طرح زہر”
دلاور کے مسکرا کر بولنے پر مشی اپنی ہنسی کنٹرول کرتی ہوئی اُس کے سینے پر مُکا مارتی ہوئی بولی
“بہت بدتمیز انسان ہو تم، مجھے اُس دن ڈنر پر اتنا غصہ آیا تھا جب تم بابا سائیں کا بولا ہوا لفظ یاد کرکے میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے”
مشی نہ جانے کون کون سے شکوے یاد کرتی ہوئی اُس سے بولی جس پہ دلاور پہلے سوچنے لگا پھر یاد کرتا ہوا بولا
“وہ پھلجڑی والی بات۔۔ یار اُس کو تو تمہیں ماننا پڑے گا وہ تو تم سچ میں ہو”
دلاور ایک مرتبہ پھر اُس کو چھیڑتا ہوا ہنسا مشی خود بھی ہنستی ہوئی مصنوعی غصہ کر کے اپنے ہاتھ کو مُکا بناکر اُس کے سینے پر مارنے لگی
“بی بی” یوں غصہ کرنے کے ساتھ مسکراتی ہوئی وہ دلاور کو اتنی پیاری لگی کہ دلاور اُس کو باہوں میں لےکر اُس کے دونوں گالوں کو باری باری چومتا ہوا نرمی سے بولا
“ویسے بابا سائیں کے ذکر سے یاد آیا کہ تمہیں اُن کا میسج دے دوں پوچھ رہے تھے تمہارا انہیں اپنی بہو یاد آرہی ہے اِس لیے تم سے فون پر بات بھی کرنا چاہ رہے تھے”
دلاور اپنی بات پر مشی کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا یہ سچ تھا اُس کے بابا سائیں مشی کے ساتھ اپنے رویے پر سخت نادم تھے حقیقت کھلنے کے بعد وہ ہر دفعہ کال پر مشی سے بات کرنے کو کہتے جس پر دلاور اب تک اُن کو کچھ نہ کچھ بول کر ٹالتا آرہا تھا
“اِس ویک اینڈ پر چلیں گے ان سے ملنے اور میرے وہاں سے یوں جانے پر تم نے سب کو کیا بولا”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی وہ اپنے سسر سے کیوں نہ ملنے جاتی جب وہ سب کو ہی معاف کرچکی تھی پھر اپنے شوہر کے باپ کے لیے اپنا دل میں کیوں غصہ رکھتی مشی کی بات پر دلاور نے دل میں شکر ادا کیا۔۔۔ وہ خوش تھا کہ اُس کے بابا سائیں اور اُس کی بیوی کے بیچ تعلقات ٹھیک ہوچکے تھے
“بے فکر رہو سب کو یہی معلوم ہے کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور میں نے تمہیں تمہارے بھائی کے گھر بھیجا ہے ویسے اس ویک اینڈ پر ہم اُن کے پاس نہیں جارہے بلکہ بابا سائیں خود آپا کے ساتھ ہم دونوں کے پاس آرہے ہیں ہمارے نئے گھر میں ہم دونوں سے ملنے”
دلاور کی بات پر مشی نے چونک کر اُس کے سینے سے سر ہٹایا
“نیا گھر” وہ اپنا چہرہ اونچا کرکے حیرت کرتی دلاور سے پوچھنے لگی
“ہاں نیا اور اپنا ذاتی گھر جو میں نے تمہارے لیے لیا ہے تم نے اُس دن اپنے گھر والوں کے سامنے بولا تھا ناں میں اپنے گھر میں رہنا چاہتی ہوں تو آج میں اپنی پیاری سی بیوی کو اپنے ساتھ اُس کے گھر لے جانے کے لیے آیا ہوں۔۔۔ مشی میرے عمل کی وجہ سے تمہاری آنکھوں میں آنسو آئے تمہیں تکلیف اٹھانا پڑی اب میں تمہیں ہر خوشی دینا چاہتا ہوں وعدہ کرتا ہوں تمہیں بہت زیادہ خوش رکھوں گا”
دلاور اُس کو دیکھ کر یقین دلاتا ہوا بولا مشی نے ایک مرتبہ پھر اُس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔۔۔ چند دنوں پہلے چھائی ہوئی اُس کی طبیعت میں بےچینی ایک دم ختم ہونے لگی اور اطمینان سا دل میں اترنے لگا
“اور ہاں ایک کمپنی کی طرف سے مجھے جاب بھی آفر ہوئی ہے جو ہر لحاظ سے مناسب ہے پلیز آگے سے یہ مت بولنا کہ میں تمہارے بھائی کے پاس ہی جاب کروں، میں تمہیں دنیا کی ہر خوشی اپنے بل بوتے پر دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ۔۔۔
دلاور بولتا ہوا ہے ایک دم سے رکا مشی دلاور کے سینے سے سر ہٹاکر اس کو دیکھنے لگی وہ بالکل سنجیدہ اُسی کو دیکھ رہا تھا مشی دلاور کے بولنے کا ویٹ کرنے لگی تب دلاور سنجیدگی سے بولا
“شرط یہ ہے کہ اِس مرتبہ تم بابا سائیں کو بغیر شکر کی چائے دو گی”
دلاور کے بولنے پر مشی نے اُس کو بری طرح سے گھورا تھا اور ساتھ ہی اُس کے شانے پر دو سے تین ہاتھ مارے جس پر دلاور ہنسنے لگا
“میں نے اُس وقت بھی چائے میں شکر نہیں ڈالی تھی اور اگر اب تم نے آگے سے کوئی بھی فضول بات کی تو میں بہت زیادہ غصہ کروں گی تم پر”
مشی دلاور کو دھمکی دیتی ہوئی بولی وہ آج نہ جانے کون سے موڈ میں تھا اُس کو مسلسل بات بات پر چھیڑے جارہا تھا
“تم یہاں پر چاہے جتنا بھی غصہ کرلو لیکن میں تمہیں گھر لے جانے کے بعد ڈھیر سارا پیار کروں گا۔۔۔ مشی یہاں دیکھو میری طرف تم سچ میں مجھے ابھی بی بی نہیں دینا چاہتی”
دلاور مشی کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر سیریس ہوکر اُس سے پوچھنے لگا جس پر مشی جھینپتی ہوئی بولی
“وہ تو میں نے اُس وقت منع کیا تھا لیکن اب سوچ رہی ہوں کہ شازل کے ساتھ کھیلنے والا اُس کا کوئی دوست بھی ہونا چاہیے تو ہم دونوں شازل کے لیے اُس کے ایک نئے فرینڈ کا انتظام کردیتے ہیں”
مشی دلاور سے نظریں ملائے بغیر پلکیں جھکاتی ہوئی بولی جس پر دلاور نے مسکرا کر اُس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے لیکن یہ سچ بھی تھا یہاں آکر وہ شازل کو جتنی بار بھی دیکھتی دلاور کی یہ فرمائش اُسے بار بار یاد آتی… غلط فہمیاں دور ہوچکی تھی، ساری کدورتیں مٹ چکی تھی، ساری الجھنیں بھی سلجھ چکی تھیں اب وہ خود بھی اولاد چاہتی تھی
“آؤ باہر چلیں سب ہمارا ڈنر پر ویٹ کررہے ہوگے میں نے کہا تھا پانچ منٹ میں, میں اپنی بیوی کو مناکر لاتا ہوں مگر تم نے سیٹ ہونے میں پورا ایک گھنٹہ لگا دیا”
دلاور کی بات پر مشی اُس کو گھور کر دیکھنے لگی دلاور نے اپنے قدم آگے بڑھائے تو مشی نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا دلاور اُس کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا تب مشی اُس کی قریب آتی ہوئی دلاور سے بولی
“میں آج اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ میرا شوہر بہت اسمارٹ اور ہینڈسم ہے میں اُسے دل ہی دل میں محبت کرتی ہوں مگر اوپر سے صرف غصہ دکھاتی ہوں دلاور آئی لو یو سو مچ یہ بالکل سچ ہے کہ تمہیں خود سے دور کرکے میں خود بھی اندر سے بےچین رہی اور ان دو ہفتوں میں، میں نے تمہیں شدت سے یاد کیا مشی صرف اور صرف تمہاری ہے۔۔۔۔ یہ وہی لفظ ہیں جو تھوڑی دیر پہلے ڈائری میں دیکھ کر تم نے کہے تھے مگر یہ لفظ سچ کی ترجمانی کرتے ہیں تم نے ایک ایک بات سچ بولی تھی تم نے بہت مرتبہ اپنی طرف کا اقرار اور اظہار کرلیا آج میں بھی اپنی طرف کا اقرار اور اظہار کرچکی ہوں۔۔۔ مجھے یقین ہے تم ہمیشہ مجھے خوش رکھو گے ڈھیر سارا پیار دو گے اور میرا یہ یقین کبھی بھی نہیں ٹوٹنے دو گے”
مشی کے بولنے پر دلاور کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی اُس نے بےاختیار مشی کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور اسے اپنے حصار میں لیتا ہوا آہستہ آواز میں بولا
“بی بی دلاور دیوانہ ہے تمہارا”
***
ختم شد![]()
