468.5K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Justajoo Thi Khas (Episode 12)

Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel

دلاور کار ڈرائیو کرتا ہوا شیردل کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا تھا صبح ہی اس نے آفس جانے سے پہلے اپنے کہے کے مطابق مشی کو پارلر چھوڑ دیا تھا آفس پہنچنے کے دو گھنٹے بعد اسے رملہ کی کال موصول ہوئی تھی جس میں اسے اطلاع دی گئی تھی کہ اس نے مشی کو ڈرائیور کے ساتھ پارلر سے اپنے پاس بلوالیا تھا یعنٰی مشی صبح سے ہی اپنے گھر پر موجود تھی کیونکہ شیردل آفس میں موجود تھا۔۔۔ مشی کے پہلے سے وہاں موجود ہونے پر دلاور کو رات میں اکیلے ہی شیردل کی طرف جانا پڑا تھا اب نہ جانے واپسی پر وہ مشی کو اپنے ساتھ لےکر آتا یا پھر یونہی اکیلا واپسی کا سفر طے کرتا۔۔ بہت ممکن تھا مشی راملہ کے پوچھنے پر اس کو اپنے اور دلاور کے درمیان تعلق کا بتادیتی کیوکہ مشی کو اسپتال میں دیکھ کر رملہ کے چہرے پر ابھرے ہوئے سوالات دلاور وہی دیکھ چکا تھا اور دلاور کو پورا یقین تھا مشی کی غلطی ہونے کے باوجود رملہ پورا پورا فیور مشی کو ہی دیتی، اِن امیر لوگوں کے درمیان رہ کر وہ اِن لوگوں کی ذہنیت سے اچھی طرح واقف ہوچکا تھا اب جو بھی ہونا تھا وہ تو اُسے وہاں جاکر ہی معلوم ہوتا دلاور گہری سانس لیتا کار پارک کر کے گاڑی سے باہر نکلا

وہاں پہنچ کر شیردل اور رملہ کے رویے سے ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ معاملات سارے ہاتھ میں ہیں شیردل اور رملہ دونوں ہی اس سے بہت اچھے طریقے سے ملے تھے جس پر اُس نے سکون کا سانس لیا تھا البتہ اسے مشی ابھی تک نظر نہیں آئی تھی سارا ارینجمنٹ گھر کے لان میں ہی کیا گیا تھا گیسٹ تقریباً سارے آچکے تھے وہ شیردل کے ہمراہ اس کے دوستوں کے بیچ کھڑا تھا تب اسے ہانیہ کے ساتھ مشی گھر سے باہر لان میں آتی دکھائی دی، ریڈ کلر کی ساڑھی پہنے بالوں کو کھلا چھوڑ کر نیچے سے ہلکے ہلکے کرل ہوئے بال اور نفاست سے کیا ہوا میک اپ وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ دلاور چاہ کر بھی مشی پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پایا، اِس میں کوئی شک نہیں تھا وہ بےحد خوبصورت تھی واقعی محبت کرنے کے قابل چاہے اور سراہے جانے کے قابل دلاور نے مشی کو دیکھ کر دل ہی دل میں اعتراف کیا

آج وہ ساری تلخ باتیں بھلاکر اپنے اور مشی کے درمیان سارے فاصلے دور کرکے اس سے اپنا تعلق مضبوط کرنے والا تھا یہ دلاور سوچ چکا تھا شیردل اپنے دوستوں سے ایکسکیوز کرتا ہانیہ کو دیکھ کر اس کی جانب بڑھا تو مشی کی نظریں بھی دور کھڑے دلاور پر پڑی دلاور کو اپنی جانب مسکراتا ہوا دیکھ کر وہ بھی ہلکا سا مسکرائی اِس سے پہلے دلاور اُس تک آتا رملہ مشی کے پاس آکر اسے اپنی فرینڈز کے پاس لے جانے لگی تب ہی دلاور نے اپنے قدم روک لیے… وہ ہجوم سے تھوڑا دور ایک طرف کھڑا ہوگیا اور رملہ کے ساتھ جاتی ہوئی مشی کو دیکھنے لگا

آج رملہ مشی کے آنے پر اتنی خوش تھی وہ مشی کو اپنے ساتھ لیے گیسٹ سے مل رہی تھی آج کے دن مشی کے لیے ڈریس بھی اسی نے منتخب کیا تھا اور تیار ہونے پارلر بھی بھیجوایا تھا، رملہ کے بہت مرتبہ پوچھنے پر مشی اسے اپنے اور دلاور کے متعلق کچھ نہیں بتاسکی تھی کیونکہ اب پچھلی باتوں کو دہرانے کا کوئی فائدہ نہ تھا اس کے اور دلاور کے درمیان سب کچھ نارمل ہوچکا تھا رملہ جہاں جہاں مشی کو اپنے ساتھ لےکر جارہی تھی دلاور کی نظریں وہی ہر تھوڑی دیر بعد مشی پہ آکر ٹہر جاتی مشی ہر تھوڑی دیر بعد دلاور کو دیکھتی تو دلاور اس سے نظریں ملنے پر مشی کو اسمائل دیتا دلاور نے نامحسوس طریقے سا اشاروں میں مشی کو بتایا کہ وہ آج کے دن بہت پیاری لگ رہی ہے اپنی تعریف پر مشی آئستہ سے پلکوں کو خم کرتی اپنی تعریف وصول کرنے لگی۔۔۔ پاس سے گزرتے ویٹر سے جوس کا گلاس لیتے دلاور نے اب کی بار اپنے دل کی جانب انگلی سے اشارہ کیا پھر مشی کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے آنکھوں سے اس کے کمرے کی کھڑکی دیکھا۔۔۔ جس پر مشی کنفیوز ہوکر اسے پھر اپنے کمرے کی کھڑکی کو دیکھنے لگی۔۔۔ بھلا وہ اُسے اُس کے کمرے کی کھڑکی میں کیا دکھانا چاہ تھا مشی سمجھ نہیں پائی دلاور اُس کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر سمجھ چکا تھا مشی اُس کی بات نہیں سمجھی اسلیئے جوس پکڑے گلاس کی انگلی وہ اپنے ہونٹوں کی جانب لے جاکر اس نے دوبارہ مشی کی طرف اشارہ کیا پھر مشی کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھا۔۔۔ مشی اب کی بار اس کا اشارہ سمجھ چکی تھی یعنیٰ وہ اسے اس کے کمرے میں بلا رہا تھا اور کیوں بلا رہا تھا وجہ سمجھ میں آنے پر مشی بلش کرگئی

مشی کے چہرے کا رنگ دلاور کو بتارہا تھا وہ اس کا اشارہ سمجھ چکی ہے دلاور مشی کی جانب دیکھتا ہوا اپنے ہونٹوں پر انگوٹھا لے جاکر اپنے خود کی انگلی اپنی گردن اور پھر اپنے چوڑے سینے کی طرف لے جاتا ہوا، اپنی آئی برو اچکاکر مشی سے اُس کا ارادہ پوچھنے لگا جس پر مشی نے ہلکا سا نفی میں سر ہلاکر اسے اپنی انکھیں دکھائی۔۔۔

جس پر دلاور نے اسے سیڈ سی اسمائل دی اور چلتا ہوا ایک ٹیبل پر آیا جہاں اُس کے آفس کے چند کولیگز بیٹھے تھے وہ ان کے درمیان بیٹھ گیا جبکہ مشی رملہ کی فرینڈز سے ملنے لگی

“یہ ریڈ کلر کی ساڑھی میں شیردل کی مدر کے ساتھ کون لڑکی ہے”

اپنے پیچھے والی ٹیبل پر آدمیوں میں سے کسی آدمی کی آواز پر دلاور کے کان کھڑے ہوئے

“لگ رہا ہے شیردل کی بہن ہے بیوی تو شیردل کے ساتھ ہی کھڑی ہے”

یہ شیردل کا دوست تھا جو اپنے ساتھ والے بندے کو بتارہا تھا

“ابے یہ وہی لڑکی ہے ناں جس کی ویڈیو رات و رات شیردل نے ویب پر جانے سے ہٹوائی تھی میرا چھوٹا بھائی اُسی کالج میں پڑھتا ہے جہاں یہ لڑکی پڑھتی تھی بہت اچھی دوستی تھی اِس کی میرے بھائی سے جبھی میں کہوں کہاں دیکھا ہے اس لڑکی کو”

اگلے کی بات پر دلاور کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہونے لگے مشی کے بارے میں بکواس کرنے والے کو وہ آواز سے پہچان چکا تھا یہ شیردل کا بہت اچھا دوست عرفان تھا

“یار تم دونوں ذرا آہستہ بات کرو وہ لڑکی شیردل کی بہن ہے اس کو اس طرح جہالت سے مت گھوروں تم لوگوں کو شیردل کی نیچر معلوم نہیں ہے دماغ گھومتے ہوئے اسے ذرا دیر نہیں لگتی”

یہ تیسرا آدمی تھا جو ان دونوں کو بول رہا تھا، اب مشی کی جانب دیکھتے ہوئے دلاور کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آئی تھی جبکہ مشی نے ابھی بھی اس کو مسکرا کر دیکھا تھا

“یار ویڈیو تو دیکھنے کو ملی نہیں کم سے کم ایسے ہی دیکھنے دے ویسے اگر اس لڑکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتی تو تہلکہ مچادیتی پردے میں ہی حسن ایسا غضب ڈھا رہا ہے بےپردہ دیکھ کر تو مزہ ہی آجاتا قسم سے”

عرفان کے منہ سے ایسی غلیظ بات سن کے اب کی مرتبہ دلاور کا ضبط جواب دے گیا کرسی پر سے اٹھنے سے پہلے اس نے ٹیبل پر رکھا ہوا شیشے کا واس اٹھایا تھا اور پوری شدت سے اس نے مشی کے بارے میں بکواس کرتے عرفان کے سر پر وہ واس مارا ساتھ ہی دلاور نے اس کو گریبان سے پکڑتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کیا

“وہ لڑکی بیوی ہے میری اگر اُس پر میلی نظر ڈالی یا کوئی گھٹیا الفاظ اس کے متعلق بولے میں تو لحاظ نہیں کروں گا کہ تم شیردل کے کتنے اچھے دوست ہو، سیدھا قبر میں اتار دو گا تمہیں”

دلاور نے طیش کے عالم میں بولتے ہوئے زوردار مُکا عرفان کی ناک پر مارا جس پر وہ نیچے فرش پر گر پڑا اس کے سر اور ناک سے خون نکلنا شروع ہوگیا

***

اچانک سے ہونے والے شور پر ہانیہ کے ساتھ کھڑا شیردل اس طرف متوجہ ہوا جہاں دلاور نے اس کے دوست کا گریبان پکڑا ہوا تھا، عرفان شیردل کا بہت اچھا دوست تھا یہ بات دلاور بھی بہت اچھی طرح سے جانتا تھا مگر اس کے باوجود وہ عرفان کے ساتھ اس طرح بدسلوکی کررہا تھا شیردل تیزی سے ان کی جانب بڑھا اس سے پہلے شیردل وہاں پہنچتا دلاور جس نے عرفان کا سر پھاڑ کر اسے پہلے ہی زخمی کیا ہوا تھا اب اس نے زوردار مُکا اس کے دوست کو رسید کیا تھا۔۔۔ شیردل کے پیچھے ہانیہ اور دور کھڑی رملہ اور مشی بھی اس طرف بڑھی جہاں دوسرے لوگ بھی اس ہنگامے کی طرف متوجہ ہوکر جارہے تھے

“دلاور یہ کیا حرکت ہے اس طرح سے مس بی ہیو کیا جاتا ہے گیسٹ کے ساتھ”

شیردل ماتھے پر بل لائے دلاور سے بولا تو دلاور نے اس سے بھی زیادہ غصے میں شیردل کی جانب دیکھا

“کوئی میری بیوی کے متعلق گھٹیا جملے بولے گا تو میں برداشت نہیں کروں گا بلکہ اس کی جان لے لوں گا”

ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا جب یوں دلاور نے غصے میں شیردل کو جواب دیا تھا وہ بھی یوں غصے میں چیخ کر چند سیکنڈ سے بھی کم وقت میں شیردل سارے معاملہ کی نوعیت سمجھ گیا وہ غصے میں عرفان کی جانب بڑھا جو دلاور کے مُار سے نیچے فرش پر گر ہوا تھا اس کے اٹھنے پر شیردل نے عرفان کا گریبان پکڑا

“کیا بکواس کی ہے تم نے میری بہن کے متعلق”

عرفان کی زخمی حالت کو نظر انداز کرکے شیردل نے اس کے منہ پہ زوردار طماچہ رسید کیا

“اپنی آوارہ بہن کے لیے تم نے مجھ پہ ہاتھ اٹھایا ہے شیردل”

اس سے پہلے شیردل مزید عرفان کا منہ طماچوں سے سرخ کرتا اس کے باقی کے دوست بیج میں پڑ کر معاملہ سنبھالنے کی کوشش کرنے لگے وہی دلاور کے پاس ایک عمر رسید آدمی کھڑا اسے تحمل سے رہنے تلقین کررہا تھا آہستہ آہستہ وہاں ساری لیڈیز جمع ہوکر تماشہ دیکھ رہی تھی دبی دبی سرگوشیوں سے ہانیہ رملہ اور مشی کو جھگڑے کی نوعیت کا اندازہ ہوچکا تھا مشی کو اپنا وجود زمین میں گڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا ہانیہ نے مشی کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسے تسلی دینی چاہی تھوڑی دیر میں وہاں شیردل کے کارڈز آگئے جو عرفان کو اپنے ساتھ وہاں سے لے گئے

“پلیز آپ لوگ اپنی اپنی سیٹس پر بیٹھ جائیے یہاں رش مت لگائے”

رملہ نے معاملہ سنبھالتے ہوئے باآواز وہاں کھڑے لوگوں کو کہا اور پاس سے گزرتے ہوئے ویٹر کو فوری طور پر ڈنر اسٹارٹ کرنے کا ارڈر دیا تاکہ ماحول میں پھیلی ہوئی افراتفری کا اثر زائل ہوسکے

“میں یہاں مذید نہیں رکنا چاہتا اب اجازت دیں میں مشی کو لےکر واپس جانا چاہتا ہوں”

دلاور شیردل کے پاس آکر بولا چاہنے کے باوجود وہ ابھی بھی اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا

“ہاں تمہیں اب مشی کو لےکر واپس جانا چاہیے نذیر تم دونوں کو چھوڑ آئے گا”

ڈنر اسٹارٹ ہونے کی وجہ سے رش وہاں سے چھٹ چکا تھا شیردل نے دلاور کو روکنے کی بجائے خود ہی وہاں سے جانے کو کہا

“نذیر کی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی ڈرائیو کرلوں گا”

دلاور نے شیردل سے بولتے ہوئے چار قدم کے فاصلے پر رملہ کے ساتھ کھڑی مشی کو دیکھا جو انکھوں میں نمی لیے اِس وقت اپنے بھائی شیردل کو دیکھ رہی تھی شیردل کی نظریں بھی مشی پر ٹکی ہوئی تھی مگر ان نظروں میں مشی کے لیے صرف اور صرف غصہ بھرا ہوا تھا جس کی پرواہ کیے بغیر مشی ایک دم شیردل کے پاس آئی اور روتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی

“آئی ایم سوری بھائی پلیز مجھے معاف کردیں”

آج پھر اس کی وجہ سے پوری فیملی کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا جن لوگوں کو کچھ معلوم نہ تھا آج اُن کو بھی مشی کے متعلق معلوم ہوگیا ہوگا۔۔ شرمندگی سے مارے مشی کو رونا آنے لگا وہ جانے سے پہلے شیردل سے معافی چاہتی تھی رملہ دلاور ہانیہ وہاں کھڑے خاموش ان دونوں بہن بھائی کو دیکھنے لگے مشی روتی ہوئی اس وقت شیردل کے سینے سے لگی اس سے معافی مانگ رہی تھی مگر شیردل کے چہرے کے تاثرات سخت پتھریلے تھے وہ تو ابھی پہلی والی انسلٹ نہیں بھولا تھا یہ نیا طوق اس کے ماتھے پر اور سج گیا تھا

“اب یہاں دوبارہ آکر مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔ دلاور لے جاؤ اسے یہاں سے پلیز”

شیردل کا جملہ مشی کا دل چیر گیا اس کے رونے میں مزید اضافہ ہوا وہ پیچھے ہٹنے کی بجائے یونہی شیردل کے سینے سے لگی روتی رہی ہانیہ شیردل کی سنگ دلی پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جس کے چہرے پر اِس وقت بالکل نرمی کے اثار نہیں تھے

“مشی گھر چلو” دلاور نے آگے بڑھ کر مشی کو کندھوں سے تھامتے ہوئے شیردل سے جدا کیا اور اسے وہاں سے اپنے ساتھ لےگیا اب شیردل اپنے سامنے کھڑی آنسو بہاتی ہوئی رملہ کو دیکھ رہا تھا

“آج یہ سب جو کچھ ہوا ہے صرف آپ کی وجہ سے ہوا ہے کیسا محسوس ہورہا ہے بھرے مجمعے میں اس بےعزتی کا ذائقہ چکھ کر، پڑ گئی اب آپ کے سینے میں ٹھنڈک آئندہ اگر آپ نے مشی کو یہاں بلایا یا اس سے دوبارہ کانٹیکٹ کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”

شیردل اپنا باقی کا غصہ رملہ پر اتارتا ہوا وہاں سے چلا گیا

“مرد اگر خود غلطی پر ہو تو وہ عورت سے توقع کرتا ہے کہ عورت اسے جلد سے جلد معاف کردے مگر خود اپنا ظرف اتنا بلند نہیں کر پاتا کہ عورت کی غلطی کو معاف کرسکے، آپ کا شیر بھی ایسی فطرت رکھتا ہے جائیے اپنی فرینڈز سے مل لیں وہ شاید جارہی ہیں”

ہانیہ رملہ سے بولتی ہوئی وہاں سے خود گھر کی طرف بڑھ گئی اتنی دیر تک کھڑے رہ کر وہ بری طرح تھک چکی تھی اب تھوڑی دیر اپنے روم میں جاکر ریسٹ کرنا چاہتی تھی

***

بیڈ روم میں آکر اس نے دکھتے ہوئے پیروں سے اپنی سینڈلز اتارنے چاہی تبھی شیردل بھی اس کے پیچھے بیڈ روم میں آگیا

“کیا ہوا روم میں کیوں آگئی طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”

شیردل ہانیہ کو دیکھ کر فکرمند لہجے میں اس سے پوچھنے لگا

“طبیعت تو ٹھیک ہے لیکن تھک گئی ہوں اب تھوڑا ریسٹ کروں گی”

ہانیہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی شیردل سے بولی اب شیردل کے تاثرات چند منٹ پہلے سے بالکل مختلف تھے اس نے ہانیہ کے قریب آکر اس کو شولڈر تھام کر خود ہی بیڈ پر لٹایا پھر اس کے پیروں کے قریب بیڈ پر بیٹھتا ہوا ہانیہ کے دونوں پاؤں اپنی گود میں رکھ کر اس کے سینڈلز اتارنے لگا جبکہ ہانیہ شیردل کا چہرہ دیکھنے لگی

“تمہارے دونوں پیروں پر ہلکی ہلکی سوائلنگ ہے”

وہ غور سے ہانیہ کے دونوں پیروں کو دیکھتا ہوا بولا جو ابھی تک اس کی گود میں موجود تھے

“نہیں تو ایسا تمہیں لگ رہا ہے”

ہانیہ نے اس کی بات کی نفی کی تو شیردل نے نظریں اٹھاکر ہانیہ کو دیکھا

“تم سے زیادہ غور سے دیکھتا ہوں میں تمہیں”

وہ ہانیہ کو جتانے کے انداز میں بولا اور نرمی سے اس کے پاؤں کو باری باری سہلانے لگا

“مگر آج تو غور نہیں کیا تم نے” ہانیہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی آج وہ اسے ذہنی طور پر تھوڑا اپ سیٹ لگا تھا جبھی آج اس نے ہانیہ کے سجے سنورے روپ کی تعریف نہیں کی ورنہ آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ہانیہ کی بات سن کر شیردل ہلکا سا مسکرایا اور اس کے قریب آکر بیٹھتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا

“بےبی پنک کلر کے ڈریس میں تم بالکل چھوٹی سی بےبی لگ رہی ہو”

شیردل کے بولنے پر ہانیہ نے آنے والی ہنسی کو روکا اور نفی میں سر ہلایا جیسے اس کے فلرٹ کرنے کے انداز کو اس نے انجوائے کیا ہو

“تم سے ایک سوال پوچھوں شیردل”

ہانیہ کے بولنے پر شیردل نے ہانیہ کا نازک ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اقرار میں سر ہلایا یعنٰی اس نے سوال پوچھنے کی اجازت دی تھی

“تمہیں اپنے ارد گرد سب سے زیادہ پیار کس عورت سے ہے” ہانیہ کے پوچھنے پر شیردل ایک مرتبہ پھر مسکرایا سارے دن میں یہ وقت تھا جب وہ ہانیہ کے قریب آکر کھلے دل کے ساتھ مسکرا رہا تھا

“تم عورت تو نہیں ہو غالباً تمہیں لڑکی کہا جاسکتا ہے”

شیردل نے ہانیہ کو جواب دیتے ہوئے اس کے ہاتھ میں موجود ڈائمنڈز کی رینگز اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تاکہ سوتے ہوئے یہ رینگز ہانیہ کو ڈسٹرب نہ کریں

“میں اپنی بات نہیں کررہی ہوں شیردل”

ہانیہ شیردل کی بات پر اس کو گھورتی ہوئی بولی

“اچھا مجھے تو محسوس ہوا جیسے تمہیں اپنی مزید تعریف سننے کا دل چاہ رہا ہے”

شیردل نے بولتے ہوئے اس کے کانوں سے ٹاپس بھی اتار دیے تھے تاکہ وہ لیٹے ہوئے ریلیکس رہ سکے

“تم بات کو ٹالو نہیں مجھے بتاؤ تمہیں سب سے زیادہ کس لڑکی سے محبت ہے”

اب کی بار ہانیہ نے عورت کی بجائے لڑکی کا لفظ استعمال کیا تو شیردل جو اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا سیدھا ہوکر ہانیہ کے پیٹ پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا

“تمہیں معلوم ہے یہ بیٹا ہے ہمارا”

شیردل نے اچانک سے ہانیہ کو بتایا ہانیہ کو سمجھ نہیں آیا اِس بات کا اُس کی بات سے کیا تعلق ہوسکتا تھا مگر شیردل کی بات پر اور یوں اچانک بولنے پر ہانیہ بولی

“ضروری نہیں یہ بیٹی بھی ہوسکتی ہے”

شیردل کے اتنے کانفیڈنس سے کہنے پر ہانیہ نے بیٹی کا کہا تھا مگر شیردل نے فوراً انکار کردیا

“نہیں تم شرط لگالو یہ کنفرم بیٹا ہے”

وہ اتنے وثوق سے ہانیہ کو بتا رہا تھا تو ہانیہ ایک دم بولی

“ہمارے کالج میں نرگس خاتون نامی آیا ہوا کرتی تھی ہر حاملہ خاتون حاملہ ٹیچرز کو دیکھ کر بالکل ایسے ہی اندازے لگا کر انہیں بتایا کرتی تھی اور تمہارا کانفیڈنس دیکھ کر آج مجھے نرگس خاتون یاد آگئی ہیں”

ہانیہ کی بات پر شیردل ہلکا سا قہقہہ لگاکر اٹھنے لگا تبھی ہانیہ بولی

“یعنی تم مجھے نہیں بتاؤ گے وہ کون سی لڑکی ہے جسے تم اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پیار کرتے ہو”

ہانیہ نے دوبارہ اپنا پچھلا سوال دہرایا تو شیردل گہرا سانس لےکر واپس اُس کے پاس بیٹھ گیا

“سچ سننا چاہتی ہو یا دوبارہ تمھاری تعریف کردو”

شیردل ہانیہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا جس پر ہانیہ نے فوراً اس کو جواب دیا

“میں بالکل سچ سننا چاہتی ہوں شیردل”

ہانیہ کے بولتے ہی شیردل ہلکا سا مسکرایا پھر ہانیہ کو دیکھتا ہوا بولا

“سوچ لو اگر تمہارا نام نہیں لیا تو تمہیں برا لگے گا”

شیردل ہانیہ کو دیکھتا ہوا سیریس ہوکر بولا مگر انکھوں میں اس کے شوخی سمائی ہوئی تھی

“تم میرے سوال کا جواب دینے کے موڈ میں ہو یا نہیں”

ہانیہ اب سیریس ہوکر شیردل سے پوچھنے لگی جس پر شیردل نے دوبارہ اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھا

“اگر یہاں بیٹے کی بجائے بیٹی ہوتی تو وہ مجھے سب سے زیادہ اپنے دل و جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتی سمجھ لو جب ہماری بیٹی ہوگی تو اس میں میری جان بسی ہوگی، تم جانتی ہو ہانیہ ہر آدمی کو اپنی بیٹیاں سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہیں”

بولتے ہوئے اچانک ہی شیردل کا لب و لہجہ بدلا اور چہرہ ایک دم ہی سرخ ہوگیا شیردل کے یوں اچانک بدلنے پر ہانیہ کو فہیم کی یاد آئی تھی لیکن شیردل کو دیکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی

“کیا ہوا تمہیں اچانک”

ہانیہ شیردل کے بدلتے تاثرات دیکھ کر اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکی

“چھوٹی بہنیں بھی تو بیٹیوں جیسی ہوتی ہیں ناں ڈیڈ نے تو ساری عمر اپنی اولاد پر توجہ ہی نہیں دی مگر میں نے مشی کو بہن نہیں بیٹی سمجھا تھا اس کی چھوٹی سے چھوٹی ضد پوری کرتا اور اس نے مجھے۔۔۔”

شیردل نے بولتے ہوئے ایک دم چہرے کا رخ دوسری جانب کیا یقیناً اس نے اپنے آنسو چھپائے تھے پہلی بار ہانیہ کے دل میں کچھ عجیب سا ہوا

“جب اتنا پیار کرتے ہو تو اسے معاف کیوں نہیں کردیتے کتنا رو رہی وہ خود شیردل تم سے مل کر”

ابھی تک شیردل نے چہرے کا رخ موڑے رکھا تھا ہانیہ کی بات پر اس نے اپنا چہرہ سیدھا کیا اور ہانیہ کی جانب دیکھا

“کھانا تو نہیں کھایا ہوگا تم نے ابھی تک”

وہ بات بدل گیا تھا شاید مزید اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے ہانیہ سے کھانے کے بارے میں پوچھنے لگا

“تھوڑی دیر پہلے فروٹس لیے تھے سونے سے پہلے دودھ پی لوں گی پلیز اب کھانے وغیرہ کی ضد نہیں کرنا وامٹ ہوجائے گی مجھے”

ہانیہ شیردل کی کو دیکھ کر بولی اچانک ہی بیڈ پر رکھے ہانیہ کے موبائل پر حسام کی کال آنے لگی بیک وقت ہانیہ اور شیردل دونوں کی نظریں موبائل کی اسکرین پر پڑی

“ایچ ایم یہ کیسا نام ہے”

شیردل اس کا موبائل اٹھاکر اسکرین پر جگمگاتے ہوئے حرف پڑھ کر بولا

“ہاجرہ مسعود کالج کی پرانی فرینڈ ہے”

ہانیہ نے بغیر گھبرائے بولتے ہوئے شیردل کے ہاتھ سے اپنا موبائل لےکر آف کردیا

“میں باہر گیسٹ کو دیکھتا ہوں راشدہ تمہارے لیے روم میں ہی کھانا لے آئے گی وامٹ نہیں ہوگی پلیز تھوڑا بہت کھا کر پھر سو جانا مجھے تھوڑی دیر لگے گی آنے میں”

وہ ہانیہ کی پیشانی پر ہونٹ رکھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا

“اس جاہل انسان کو ابھی کال کرنے کی کیا ضرورت تھی”

شیردل کے کمرے سے جانے کے بعد ہانیہ حسام کے بارے میں سوچتی ہوئی منہ ہی منہ میں بڑبڑائی

***

سارے راستے روتے ہوئے بہت دکھی دل کے ساتھ اس نے دلاور کی ہمراہ گھر تک کا سفر طے کیا تھا بالکل ویسے ہی جیسے تین ماہ پہلے وہ نکاح کے بعد دلاور کے ساتھ گاؤں گئی تھی

“اترو” پارکنگ ایریا میں گاڑی پارک کر کے دلاور مشی کی طرف کو دروازہ کھولتا ہوا بولا اس کا لب و لہجہ کسی بھی احساس سے عاری تھا اگر مشی اپنے غم میں ڈوبی نہ ہوتی تو اپنے بازو پر اس کے ہاتھ کی سخت گرفت بھی محسوس کرتی دلاور پتھریلے تاثرات لیے اس کا بازو پکڑ کر مشی کو فلیٹ تک لایا فلیٹ کے اندر داخل ہونے کے بعد مشی لاؤنج میں موجود کاؤچ پر بیٹھ گئی اور شیردل کے رویے کو یاد کرتی ایک مرتبہ پھر سے آنسو بہانے لگی۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو دلاور اس کو بہت پیار سے سنبھال لیتا اور اس کی دلجول کرتا مگر اس وقت وہ غصے کو قابو کیے ضبط سے لب بھینچے مشی کو آنسو بہاتا ہوا دیکھ کر بولا

“یہاں بیٹھ کر رونے سے اب کچھ حاصل نہیں ہوگا جاؤ اپنے کمرے میں جاکر یہ لباس تبدیل کرو صبح سے چلے ڈرامے کا اب رات کو اختتام ہوچکا ہے” دلاور نے بےرحمی سے بولتے ہوئے جھک کر اس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کو بھی صاف کیا مشی نے حیرت سے دلاور کی بات سنی وہ ناسمجھی کی کیفیت میں دلاور کو دیکھ رہی تھی یعنٰی اس کا مطلب تھا وہ کل سے اب تک اس کے ساتھ اچھا بننے کا ڈرامہ کررہا تھا وہ پیار بھرا انداز وہ سب باتیں جو کل اس نے مشی سے کہیں وہ سب دکھاوا تھی مگر کس لیے آخر ایسی کیا وجہ تھی دلاور کو یہ سب کرنے کی کہیں ایسا تو نہیں اس نے یہ ڈرامہ رملہ کی وجہ سے کیا ہو کہ کہیں وہ اپنے گھر جاکر اس کے رویے کے متعلق کچھ بول نہ دے مشی صدمے کی کیفیت میں

دلاور کو دیکھتی ہوئی صوفے سے اٹھی دلاور خاموش کھڑا ابھی تک اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا ہوا اسے تک رہا تھا وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی ایک دم فلیٹ کے دروازے کی طرف تیزی سے بڑھنے لگی ویسے ہی دلاور نے مضبوطی سے اُس کی کلائی پکڑی

“چھوڑو مجھے دلاور، پلیز مجھے چھوڑ دو مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے جانا چاہتی ہوں میں یہاں سے”

وہ پاگل ہونے کو تھی دلاور سے اپنے کلائی چھڑاتی ہوئی چیخ کر بولی

“کہاں جانا ہے تمہیں، ہے کوئی تمہارا دوسرا گھر۔۔۔ یاد کرو ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہارے بھائی نے تم پر دوسری مرتبہ اپنے گھر کے دروازے بند کیے ہیں۔۔۔ اب کوئی جاہ پناہ تمہارے لیے نہیں بچی نہ ہی تمہارے پاس کوئی دوسرا آپشن ہے کہ تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاسکو”

دلاور نے بولتے ہوئے اس کی کلائی کو جھٹکے سے چھوڑا اور پیچھے صوفے پر دھکیلا تو مشی لڑکھڑاتی ہوئی صوفے پر جاگری

“کیوں کل سے تم اتنے اچھے بنے ہوئے تھے دلاور، تم نے میرے سامنے اچھا شوہر بننے کی ایکٹنگ کیوں کی بتاؤ مجھے جو باتیں تم نے کل مجھ سے بولی وہ سب فریب تھا جھوٹ تھا کیو کیا تم نے میرے ساتھ ایسے بتاؤ مجھے”

مشی صوفے سے اٹھ کر دلاور کا گریبان پکڑتی ہوئی رونے کے ساتھ چیختی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تو دلاور نے اپنے گریبان سے اس کے دونوں ہاتھوں کو دور جھٹکا

“کچھ بھی جھوٹ نہیں بولا تھا نہ وہ سب فریب تھا، مگر تم جیسی لڑکیاں اس قابل نہیں ہے جن کو محبت دی جائے اور آج یہ بات تم نے دوبارہ اپنی گری ہوئی حرکت سے ثابت کی ہے کہ تم میرے محبت کے قابل نہیں ہو۔۔۔ میں نے صرف دانیال کا سچ برداشت کرکے محبت کی خاطر کڑوا گھونٹ نہیں پیا تھا بلکہ منور سے تمہارے تعلقات کا سچ بھی سامنے آنے کے بعد سوچ رہا تھا تمہیں پیار محبت سے صرف اپنا گرویدہ کرلوں گا مگر آج تم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تم ایک مرد پر انحصار کرنے والی لڑکی ہی نہیں ہو”

دلاور تلخی سے بولتا ہوا مسلسل اس کے کردار کے پرخچے اڑارتا جارہا تھا اپنے بارے میں فضول گوئی سن کر شرم اور غصے سے مشی کا چہرہ سرخ ہوگیا

“کیا کیا ہے اب میں نے اب کس کے ساتھ تم نے مجھے یاریاں اور دوستیاں گاڑھتے ہوئے دیکھ لیا جو میرے بارے میں یہ سب بکواس کررہے ہو تم”

مشی طنز کرتی ہوئی پوچھ نہیں رہی تھی بلکہ غصے کی شدت سے دلاور پر چیخ رہی تھی تب دلاور بھی غصے میں بولا مگر آواز اس کی نیچی لیکن انداز بالکل جارحانہ تھا

“آج صبح پارلر سے واپسی پر اپنے کس یار سے ملنے گئی تھی نذیر کے ساتھ مجھے بالکل سچ بتانا مشی نہیں تو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالوں گا”

دلاور نے غصے میں بولتے ہوئے مشی کی گردن زور سے دبوچی غصے کے باعث شدت اتنی زیادہ تھی کہ مشی سے کچھ بولا ہی نہیں گیا

“جواب دو مجھے تم پارلر سے سیدھا اپنے گھر گئی تھی یا پھر کہیں اور کسی لڑکے سے ملنے”

دلاور کے لہجے اور ہاتھوں دونوں میں مزید سختی در آئی تھی تب مشی نے دلاور کی کلائی پکڑ کر اس کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹانا چاہا جس پر دلاور مزید بولا

“نذیر صرف تمہارے بھائی کا ہی وفادار نہیں ہے اس نے تمہاری اس گری ہوئی حرکت کا مجھے بھی بتادیا ہے اس لیے انکار بالکل نہیں کرنا میرے سامنے کہ تم کسی لڑکے سے نہیں ملی آج”

دلاور نے اب کی بار غصّے میں چیخ کر کہا تب مشی سمجھ گئی تھوڑی دیر پہلے شیردل کے گھر سے واپسی پر گاڑی بیٹھنے سے پہلے نذیر دلاور کو ایک سائیڈ میں لے جاکر اس سے کیا بات کررہا تھا

“من۔۔ور۔۔۔۔ منور”

گھٹی آواز کے ساتھ وہ بمشکل بول پائی تو دلاور نے اس کی گردن چھوڑی

مشی دوھری ہوکر نیچے بیٹھتی ہوئی بری طرح کھانسے لگی تبھی دلاور نیچے جھک کر مشی کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا اس کا چہرہ اونچا کرکے اپنے چہرے کے قریب لایا

“اور کتنا ناجائز فائدہ اٹھاؤ گی میری محبت کا بولو شرم نہیں آرہی تمہیں اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود تم دوبارہ اُس خبیث انسان سے ملنے گئی نذیر سے یہ سب سننے کے بعد دل تو چاہ رہا تھا دوبارہ تمہیں اپنے ساتھ واپس لانے کی بجائے تمہیں تمہارے بھائی کے در پر پھینک آتا اور اُس کو بتاتا کہ کہ یہ ہے اُس کی بہن کی اصلیت، تم سے لاکھ محبت کرنے کے باوجود تمہارا بھائی تمہارا کارنامہ سن کر تمہیں جان سے مار ڈالتا لیکن تم نے اس دن میرے بارے میں بالکل ٹھیک کہا تھا دلاور چاہ کر بھی تمہاری جان نہیں لے سکتا تم بےشک اس کے دل کے ٹکڑے کردو یا پھر اس کی عزت کی دھجیاں بکھیر ڈالو مگر میری محبت پھر بھی مجھے اجازت نہیں دیتی کہ میں تمہارا اپنے اِن ہاتھوں سے قتل کر ڈالوں”

دلاور نے بولتے ہوئے اپنی مٹھی سے اس کے بالوں کو آزاد کیا اور حقارت بھری نظر اس پر ڈالتا ہوا مشی کو وہی چھوڑ کر اپنے کمرے میں جانے لگا

“اپنے اوپر لگے ہوئے جھوٹے الزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے منور سے ملنا چاہتی تھی میں”

مشی روتی ہوئی بولی تو دلاور کے کمرے میں جاتے قدم رکے وہ واپس چلتا ہوا مشی کے پاس آیا مشی جو ابھی تک نیچے فرش پر بیٹھی تھی دلاور بھی ایک گھٹنا فرش پر ٹکا کر نیچے کی طرف جھکا

“اگر اُس بےغیرت آدمی نے اُس وقت تم پر جھوٹا الزام لگایا تھا تو وہ اب سچ بول کر تمہارے کردار کی گواہی کیوں دے گا، کیوں”

دلاور غصے میں انکھیں دکھاتا ہوا مشی کے آگے غرایا کیوکہ اس کی نظر میں مشی سچ کھلنے پر اب بھی اس سے جھوٹ بول رہی تھی

“جھوٹا الزام اُس نے نہیں لگایا تھا دلاور مجھ پر جھوٹا الزام زرش نے لگایا تھا منور نے زرش کو بچانے کے لیے اُس کی باتوں کی تصدیق کی تھی، میں سچ بول رہی ہوں تم سے منور کی محبوبہ میں نہیں بلکہ تمہاری بہن زرش ہے وہی اُس کے ساتھ اکیلے میں۔۔۔”

مشی کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے دلاور نے زور کا تھپڑ مشی کے گال پر مارا تو وہ کنگ رہ گئی اپنے گال پر ہاتھ رکھے سکتے کی کیفیت میں دلاور کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی تپھڑ مار کر اُس کو غصے میں گھور رہا تھا

“کہا تھا ناں میری بہن کے متعلق کوئی گھٹیا لفظ نہیں بولنا اب بولو کچھ زرش کے لیے میں تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گا”

دلاور نے انگلی کا اشارہ اس کی طرف کرتے ہوئے مشی کو وارن کیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا

“کمینی اُلو کی پٹھی آوارہ بےحیا بدکردار ہے تمہاری بہن سنا تم نے، اُسی کے جھوٹے الزام سے میری زندگی جہنم بن گئی ہے اللہ اُسے جلد بےنقاب کرے گا تم دیکھ لینا اُس کا انجام بہت برا ہوگا میرا بھائی اور تم۔۔۔ تم دونوں ہی جہنم میں جاؤ نفرت کرتی ہوں میں تم دونوں سے بلکہ دنیا کے تمام مرد نفرت کے قابل ہیں دلاور تم میرا بھائی دانیال منور نذیر اور میرا باپ تم سب ایک جیسے ہو”

وہ نیچے فرش پر بیٹھی غُصّے میں اپنا آپا کھوتی رونے کے ساتھ زور زور سے چلاتی ہوئی بولی تو دلاور غصے میں لمبے ڈگ بھرتا ہوا کمرے سے باہر نکلا اور تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا مشی کے پاس آیا

“اُٹھو۔۔۔ مشی اُٹھو یہاں سے”

دلاور مشی کا بازو کھینچ کر اُسے اٹھاتا ہوا اُسے اُس کے کمرے میں لے جانے لگا مشی کی ساڑھی کا پلو پہلے ہی نیچے گرا تھا ساڑھی اب آدھی سے زیادہ کھل چکی تھی، رونے کی وجہ سے سارا میک اپ پھیل چکا تھا اور بال بھی بےترتیب ہوچکے تھے وہ دلاور کے ساتھ زبردستی چلتی ہوئی مسلسل اپنا بازو اُس سے چھڑوا کر رونے کے ساتھ چلا رہی تھی ساتھ ہی اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے دلاور کے بازو پر مارنا شروع کردیا تبھی دلاور نے اُسے کمرے میں لاکر بیڈ پر دھکیلا

“مشی اگر اِس وقت مجھے دورہ پڑ گیا ناں تو پھر تم مجھے اپنے سے بڑا پاگل بنتے دیکھو گی، میں اِس گھر کا اور پھر تمہارا حشر بگاڑ کر رکھ دوں گا”

مشی کے اِس قدر شور ولولا کرنے پر دلاور نے اُس کو دھمکی دی معلوم نہیں دلاور کی دھمکی کارآمد ثابت ہوئی تھی یا پھر وہ چیختی چلاتی اب نڈھال ہوچکی تھی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی اب وہ ہلکے ہلکے سسک رہی تھی اور آہستہ آواز میں نہ جانے کیا بڑبڑا رہی تھی آنکھیں مسلسل رونے کی وجہ سے سوجھ چکی تھی سارا کاجل اور مسکارا بہہ چکا تھا

دلاور چند لمحے وہی خاموشی سے کھڑا اُس کے سسکتے ہوئے وجود کو دیکھتا رہا پھر کچن میں جاکر اس کے لیے پانی لے آیا وہ اب مشی کو بیڈ سے اٹھاکر سہارا دیتے ہوئے پانی پلانے لگا۔۔۔ گردن ایک طرف ڈھلکنے کی وجہ سے پانی آدھا اُس کے منہ میں جارہا تھا آدھا گردن سے بلاؤز کے اندر جذب ہونے لگا مسلسل چیخ چیخ کر اس کے گلے میں شدید خراشیں پڑ چکی تھی تبھی وہ انکھیں کھول کر دلاور کو دیکھتی ہوئی مشکل سے بول پائی

“سنو دلاور” مشی نے کچھ بولنا چاہا دلاور نے پانی کا گلاس سائیڈ پہ رکھتے ہوئے اسے ٹوک دیا

“پلیز مشی چپ کر جاؤ مزید اب کچھ مت بولنا”

دلاور نہیں چاہتا تھا کہ مشی دوبارہ کوئی ایسی بات بولے جس کی وجہ سے اسے مزید غصہ آئے مشی کی حالت کے پیش نظر پہلے ہی اس نے اپنا غصہ بہت مشکلوں سے روکا ہوا تھا

“نہیں تمہیں میری بات سننی پڑے گی دلاور تم۔۔۔

مشی بولتے ہوئے دلاور کے سینے پر اپنی انگلی زور سے ماری

“تم ایک ڈرپوک مرد ہو، تم مکمل سچ جاننے سے کترا رہے تمہیں ڈر ہے کہ اگر تمہاری بہن قصور وار نکل آئی تو تمہاری عزت کے ساتھ ساتھ تمہارے باپ کی عزت کی بھی دھجیاں اڑیں گی اور میری ایک بات اور بھی سن میں آج کے دن میں اُس لمحے اُس پل پر لعنت بھیجتی ہوں جب میں نے تمہاری محبت پر یقین کیا تھا”

مشی نے مزید اور کچھ بولے بناء اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کرلیا وہ اب دلاور کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی دلاور کو مشی کی آخری بات پر بےتحاشہ دکھ پہنچا وہ اس کے بیڈ سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا

اپنے کمرے میں آنے کے بعد دلاور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر کرسی پر بیٹھ گیا ضبط کے باوجود غصے کی حالت میں آج دوسری مرتبہ اس کا ہاتھ مشی پر اٹھا تھا، آج اس نے اپنے اور مشی کے درمیان تعلق کے بارے میں کیا کچھ سوچ رکھا تھا وہ اُس کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے والا تھا مگر ویسے کچھ نہیں ہوا تھا جو اس نے سوچ رکھا تھا اب ساری رات اُس کو نیند نہیں آنی تھی

شیردل کے گھر سے نکلتے وقت نذیر نے اس کو مشی کے حوالے سے کافی ہچکچاتے ہوئے صبح والا قصّہ بتایا تھا اور بیوی کو پیار محبت سے سمجھانے اور عقل دلانے کی تلقین کی تھی نذیر یہ بات شیردل کو نہیں بتاسکتا تھا کیوکہ ایسی بات سن کر اُس کا صاحب تحمل سے نہیں رہتا اور نہ ہی نذیر کی بات کا یقین رملہ کرتی اِس لیے نذیر نے دلاور کو ساری بات بتائی کیوکہ شیردل کے گھر کے تمام ملازم دانیال والے اسکینڈل کے بارے میں علم رکھتے تھے اور جن حالات میں مشی کی دلاور سے شادی ہوئی تھی اُس کے بارے میں بھی سب جانتے تھے

رات سے اب تک دلاور مشی کے کمرے میں چار مرتبہ جھانک کر آچکا تھا دو مرتبہ وہ رات والے حلیے میں اپنے بیڈ پر سو رہی تھی تیسری بار وہ بیڈ پر موجود نہ تھی واشروم کی لائٹ کھلی دیکھ کر دلاور واپس اپنے کمرے میں آچکا تھا

ذہن مسلسل منور اور مشی کے متعلق سوچ رہا تھا کبھی کبھی دماغ مشی کی باتوں میں الجھ کر زرش کے متعلق سوچنا شروع کردیتا اس وقت صبح کے چھ بجے رہے تھے تب اُس نے شیردل کے ڈرائیور نذیر کو کال ملائی۔۔۔ اور اُس گھر کا پتہ پوچھا جہاں مشی گئی تھی وہ خود منور سے ملنا اور بات چیت کرنا چاہتا تھا مگر اُس سے پہلے وہ زرش سے بھی بات کرنا چاہتا تھا تبھی اُس نے نذیر کو اپنے گھر بھیج دیا تاکہ وہ دوپہر تک زرش کو یہاں لے آئے

ایڈرس کو ذہن میں دہراتے ہوئے وہ گاڑی کی کیچین پاکٹ میں رکھ کر پہلے مشی کے کمرے میں آیا۔۔۔ مشی دوبارہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ساڑھی کی جگہ اس نے سفید قمیز شلوار زیب تن کیا ہوا تھا دلاور آگے بڑھتا بیڈ کے قریب آیا آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی مشی کو دیکھنے لگا۔۔۔ اُس کے سفید گال پر اپنی انگلیوں کے سرخ نشان دیکھ کر اسے ڈھیروں ندامت نے آگھیرا اُس کی محبت اِس سلوک کی مستحق ہرگز نہ تھی کل رات اُسے اپنے ہاتھ اٹھانے پر ایک مرتبہ پھر پچھتاوا ہونے لگا اس نے مشی کے گال کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر چھونا چاہا مگر پھر ارادہ ترک کرکے وہ خاموشی سے باہر نکل گیا زرش کے یہاں آنے سے پہلے وہ منور سے بات کرنا چاہتا تھا

***

کمرے میں اِس وقت تین نفوس کی موجودگی میں بھی خاموشی کا راج تھا اس خاموشی کو سنگل صوفے پر بیٹھے دلاور کی آواز نے توڑا

“تم نے جو بھی بولا میں نے خاموشی سے سنا اب جب زرش بولے گی تم بیچ میں کچھ نہیں بولوں گی”

دلاور مشی کو دیکھ کر تنبہی کرتا بولا جو دلاور کو زرش کا سچ بتانے کے بعد سامنے بیٹھی زرش کو خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی

“میں نے آپ سے اُس دن بابا سائیں کی موجودگی میں جو بھی کہا تھا وہ سچ تھا بھابھی اُس لڑکے سے اکثر فون پر باتیں کرتی تھی اور کبھی کبھار وہ لڑکا ہماری چھت پر بھی آجاتا تھا ایک مرتبہ میں نے اِن کو اللہ کا واسطہ دے کر روکا بھی تھا مگر اِنہوں نے مجھے بری طرح ڈانٹ دیا اور خبردار کیا کہ میں اِس کے متعلق آپ کو کچھ نہ بتاؤں”

زرش کی بات پر مشی زہر خواندہ نظروں سے اپنے سامنے سر جھکا کر بیٹھی اِس لڑکی کو دیکھ رہی تھی جو یہ ساری بات کم از کم اُس سے نظریں ملا کر نہیں بول سکتی تھی وہ مسلسل کمرے کے ماربل کو دیکھے جارہی تھی اور دلاور کے پوچھے جانے سوال کے مطابق بول رہی تھی

“اور اپنی بھابھی سے ڈر کی وجہ سے تم نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا اب بتاؤ زرش میں تمہیں اتنی بڑی بات چھپانے کی کیا سزا دوں”

دلاور غُصّے میں زرش کا جھکا ہوا سر دیکھ کر بولا تو زرش نے رونا شروع کردیا

“بھائی میں جانتی تھی آپ بھابھی سے محبت کرتے ہیں یہ سب جان کر آپ کو بہت دکھ پہنچے گا میں آپ کا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی تھی”

دوپٹے کے پلو سے آنسو پوچھتی ہوئی اس لڑکی کی اداکاری پر مشی کا دل چاہا وہ آگے بڑھ کر اس کا منہ نوچ ڈالے جبکہ زرش کی بات پر دلاور نے ایک نظر مشی پر ڈالی جس میں بہت سارے شکوے تھے مگر مشی دلاور کو متاثر کرنے کے لیے زرش کی طرح نقلی آنسو نہیں بہا سکتی تھی اور اصلی آنسو وہ کل رات کافی زیادہ بہا چکی تھی

“تم اپنی بہن کے جھوٹے آنسوؤں پر تو یقین کرسکتے ہو دلاور مگر میری سچائی تمہیں نظر نہیں آئے گی لیکن اتنا تم بھی جانتے ہو میرا اسٹینڈرڈ اتنا گرا ہوا ہرگز نہیں ہے جو گاؤں کے ایک تھرڈ گلاس لڑکے سے عاشقیاں لگاتی پھروں اور جب تمہیں اپنی اِس مکار بہن کی باتوں پر یقین ہی کرنا تھا تو آج یہ عدالت لگانے کی ضرورت کیا تھی”

مشی دلاور کو بولتی ہوئی، زہر بھری نظروں سے زرش کو دیکھنے لگی جس کا نام سن کر کل بھی دلاور نے اُس پر ہاتھ اٹھایا تھا

“تمہارا اسٹینڈرڈ اُس لڑکے سے عاشقیاں لگانے کا نہیں تھا پھر جب اُس لڑکے نے تمہارے منہ پر یہ بات بولی کہ تمہاری اُس سے بات چیت ہوتی ہے تو تم نے اُسی وقت اُس کی بات کو جھوٹا ثابت کیوں نہیں کیا بلکہ خود اُس لڑکے کی بات کی تصدیق بھی کی۔۔۔ تب تمہارا اسٹینڈرڈ کہاں جا سویا تھا”

دلاور سنجیدہ لہجے میں بولتا ہوا مشی کو وہ وقت یاد دلانے لگا جب مشی اور زرش دونوں ہی منور کے ساتھ اُسے شہر میں ملی تھیں دلاور کا لہجہ مشی کو غصہ دلا گیا

“میں تمہیں ابھی بتاچکی اُس وقت میں نے تمہاری بہن کو بچایا تھا تاکہ تم اِس کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو میرا بھائی میرے ساتھ کرنے والا تھا مگر مجھے یہ ذرا بھی اندازہ نہیں تھا میری نیک نیتی میرے ہی گلے پڑے گی اور تمہاری یہ بہن میرے کردار پر کیچڑ اچھالے گی”

مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی اِس سے پہلے دلاور کچھ بولتا زرش صوفے سے اٹھی

“بھابھی آپ کیوں مجھے میرے بھائی کے سامنے بدنام کررہی ہیں۔۔۔ میں نے ہمیشہ آپ کی عزت کی، آپ کا کہا مانا، یاد کریں آپ کے سارے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرکے دیتی تھی آپ کو۔۔۔ اس رات جب آپ نے اُس لڑکے کو چھت کی بجائے میرے کمرے میں بلایا اور مجھے کمرے سے باہر جانے کے لیے بولا۔۔۔

زرش کی بات مکمل ہونے سے پہلے مشی غصے میں اس کی جانب بڑھی

“خبردار جو میرے متعلق مذید کوئی بکواس کی منہ توڑ ڈالوں گی میں تمہارا”

اِس سے پہلے مشی اُس کے منہ پر تھپڑ لگاتی دلاور نے آگے بڑھ کر مشی کی کلائی پکڑی

“مشی جاؤ یہاں سے اپنے کمرے میں”

زرش کے منہ سے نکلا وہ غلط جملہ سننے کی سکت دلاور میں خود بھی نہ تھی مگر مشی کا ری ایکشن دیکھ کر وہ مشی کی کلائی پکڑتا ہوا اسے کمرے میں جانے کے لیے بولنے لگا مشی غصے میں دلاور کا ہاتھ دور جھٹک کر کمرے سے باہر نکلی لیکن دلاور کی آواز پر اس کے قدم تھمے وہ دیوار کی آڑ میں کھڑی ہوگئی اور کمرے کے اندر موجود دونوں بہن بھائی کی باتیں سننے لگی

“زرش یہاں میری طرف دیکھو اگر مشی کی بات سچ ہے۔۔۔ میرا مطلب ہے اگر تم اور منور ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو تو مجھے بتادو میں تمہاری خود منور سے شادی کرواؤں گا بابا سائیں اور چاچا سائیں سے خود بات کروں گا تمہارے رشتے کے لیے، تم ڈرو نہیں دیکھو برادری سے باہر شادی میں نے بھی کی ہے بابا سائیں مان جائیں گے تم مجھے صرف اتنا بتادو کیا منور سے تمہاری بات چیت ہوتی رہی ہے”

کل رات وہ جس طرح مشی کو بلک بلک کر روتا دیکھ چکا تھا بری طرح الجھ چکا تھا یہی وجہ تھی دلاور نے آج زرش کو یہاں سے بلوایا تھا وہ ایک مرتبہ دوبارہ اسی موضوع پر اپنی بہن سے اپنی بیوی کی متعلق وہ باتیں کررہا تھا جس پر سوچتے ہوئے بھی اس کا خون کھول اٹھتا تھا

“بھائی میں آپ کو کتنی بار بولوں اس لڑکے کو میں نہیں جانتی بھابھی ہی اس سے اپنے موبائل پر باتیں کرتی تھی میرے پاس تو کوئی موبائل بھی نہیں ہے آپ ان کے موبائل میں دیکھ لیں شاید اس لڑکے کا نمبر موجود ہو اور اُس دن بھابھی کے مجبور کرنے پر ہی میں نے بابا سائیں سے شہر جانے کی اجازت لی تھی وہ اس لڑکے سے تھوڑی دیر کسی ہوٹل میں بیٹھ کر باتیں کرنا چاہتی تھی میں ہماری امی کی قسم کھا کے بول رہی ہوں کہ میں بالکل سچ بتارہی ہوں آپ کو”

زرش نے اپنے آخری جملے کے بعد رونا شروع کردیا جبکہ باہر کھڑی مشی کا صبر برداشت دے گیا

“جھوٹی مکار لڑکی تمہارے پاس موبائل نہیں ہے دلاور میں نے خود اِس کے پاس موبائل دیکھا ہے اگر وہ موبائل تم نے نہیں دلایا تو ضرور اُس لڑکے نے لےکر دیا ہوگا اور میں نے اس دن شہر جانے کا نہیں بولا تھا اسے بلکہ یہ مجھے لےکر گئی تھی اپنے ساتھ۔۔۔ اور میرے موبائل میں اُس لڑکے کا نمبر کیسے موجود ہوسکتا ہے جھوٹ بول رہی ہے یہ ساری باتیں”

مشی غصے میں کمرے میں واپس آتی دلاور بولتی ہوئی ایک بار پھر زرش کی جانب بڑھی اگر دلاور زرش کے سامنے آکر مشی کو نہ پکڑتا تو اب کی بار زرش کے منہ پر تھپڑ ضرور لگ جاتا کیوکہ زرش اُس دن کے بدلے آج نئے الزامات اُس کی ذات پر لگارہی تھی جو بالکل جھوٹے تھے

“مشی اپنی حد میں رہو میں تمہیں بول رہا ہوں اپنے کمرے میں جاؤ نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”

دلاور مشی کو دونوں بازوں سے پکڑ کر قابو کرتا ہوا ایک دم غصے میں زور سے چیخا جس پر زرش سہم گئی جبکہ مشی غصے میں دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی

“تم سے برا اب کوئی دوسرا ہو بھی نہیں سکتا دلاور تمہیں اپنی اِس جھوٹی بہن کا یقین ہے مگر جس سے محبت کا دعوی کرتے ہو اس پر تمہیں اعتبار نہیں ہے”

مشی دلاور کو دیکھ کر شکوہ کرتی ہوئی بولی

“تم پر اعتبار کرنا چاہیے مجھے یہ سوال اکیلے میں آج خود سے کرنا اس وقت یہاں سے چلی جاؤ”

دلاور کو اب مشی پر غصہ آنے لگا تھا زرش کبھی بھی مری ہوئی ماں کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتی تھی اور منور کا نمبر منور کے نام سے سیو اس نے خود مشی کے موبائل میں دیکھا تھا مشی ملامت بھری نظر ان دونوں بہن بھائی پر ڈالتی اپنے کمرے میں جاچکی تھی

“بھائی پلیز مجھے واپس گاؤں بھجوا دیں”

زرش اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی دلاور سے بولی یہ آنسو ندامت بھرے تھے اپنے آپ کو بچانے کے لیے آج اُس نے مری ہوئی ماں کی جھوٹی قسم کھالی تھی وہ دلاور کے پوچھنے پر بھی اس کو اپنے اور منور کی حقیقت نہیں بناسکتی تھی کیوکہ چار دن پہلے ہی منور ایک جھگڑے کے دوران پاس والے گاؤں کے کسی لڑکے کو قتل کرچکا تھا اور خود گاؤں سے ان دنوں فرار تھا ایسے میں مشی دلاور کو کیا بتاتی ویسے بھی وہ مشی کے گال پر دلاور کی انگلیوں کے نشان دیکھ چکی تھی جس کے بعد اس نے فیصلہ کیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ دلاور کو سچائی نہیں بتائے گی جب اُس کا بھائی جو اپنی بیوی سے محبت کرنے کے بعد اُس کا یہ حشر کرسکتا ہے تو حقیقت کھولنے پر وہ تو بےموت ماری جاتی۔۔ اپنے انجام کا سوچ کر جھرجھری لیتی ہوئی زرش وہاں سے جانے کا انتظار کرنے لگی کیونکہ اب اُسے مشی کا غصہ دیکھ کر اُس سے بھی ڈر لگ رہا تھا

***

وہ زرش کو واپس گاؤں بھجوانے کے بعد اپنے کمرے میں موجود مسلسل اسموکنگ کیے جارہا تھا صبح جب وہ نذیر کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچا تو معلوم ہوا وہ ایک بڑا سا بنگلہ بطور بوائز ہوسٹل استعمال میں لایا جارہا تھا جن میں منور نامی کوئی لڑکا موجود نہ تھا معلوم نہیں مشی وہاں منور سے ملی تھی یا کس سے اس کے متعلق سوچنا اِسکے مزید تکلیف دے رہا تھا سوچیں تھی کہ دماغ کو پاگل کیے دے رہی تھی آخر کیوں اس کی بیوی اس کی محبت کے بدلے اس کے ساتھ ایسا سلوک کررہی تھی وہ اپنے کمرے سے اٹھ کر مشی کے کمرے میں چلا آیا جہاں وہ بیڈ پر بالکل خاموش بیٹھی تھی ایک خاموش نظر اُس نے اپنے کمرے میں آتے دلاور پر ڈالی مگر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ ویسے ہی خاموش بیٹھی رہی دلاور کمرے میں آکر بیڈ پر مشی کے قریب بیٹھ گیا

“کیا تمہیں کبھی اِس بات کا احساس ہوگا کہ تم اپنے ساتھ ساتھ میرے ساتھ بھی کتنا غلط کررہی ہو دیکھو مشی میں کس قدر بےغیرت ہوچکا ہوں دنیا کے دوسرے مرد مجھے دیکھ کر مجھ پر ہنسے گے میرا مذاق اڑائیں گے کیوکہ دنیا کا کوئی بھی مرد چاہے وہ کتنا ہی نیک کیو نہ ہو اُس عورت کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرسکتا جو دوسرے مردوں سے ملتی ہو یا باتیں کرتی ہو، بولو وہ تم ہی تھی جس نے دانیال کی محبت پر اندھا یقین کرکے اپنے بھائی کے سامنے اُس کی محبت کا اعتراف کیا تھا وہ تم ہی تھی جس نے خود اس بات کو مانا تھا کہ منور سے تمہاری بات چیت ہے اور مجھے دیکھو یہ سب باتیں میں کس طرح سہہ گیا دانیال نے جو کچھ محبت کا جھانسا دے کر تمہارے ساتھ کیا پھر بھی میں نے اپنی محبت کی خاطر تمہیں اپنایا اور اب بھی تمہارے سامنے بےبس بیٹھا ہوں سچ میں مجھ سے زیادہ بےغیرت مرد شاید ہی دنیا میں کوئی ہو جس کی دنیا صرف ایک لڑکی سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے مگر وہ لڑکی کسی ایک مرد پر انحصار نہیں کرسکتی”

بےبسی تھی کہ دلاور کے لہجے میں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی بات کرتے ہوئے اس کی آنکھ سے آنسو گرا جس پر مشی ابھی بھی بےتاثر نظروں سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی تب دلاور نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا

“چھوڑ دو یہ بری عادت جیسے میری دنیا تم سے شروع ہوکر تم پر ختم ہوجاتی ہے ویسے ہی میرے دل کی بھی یہ خواہش ہے کہ تم صرف میری ذات کے بارے میں سوچو پلیز مشی منور کو چھوڑ دو میں ابھی بھی ہمارے بارے میں سوچ رہا ہوں ہم دونوں کے رشتے کے بارے میں۔۔۔ میں تمہیں بہت زیادہ خوش رکھوں گا تمہیں بےانتہا پیار دوں گا بس میری وفادار ہوجاؤ پلیز یہ سب کچھ چھوڑ دو یہ سب مجھے بہت تکلیف دیتا ہے اذیت پہچاتا ہے”

دلاور مشی کا ہاتھ تھامے بےبسی کی انتہا پر پہنچا ہوا اس سے بول رہا تھا تب مشی نے اُس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“نہیں چھوڑ سکتی ناں دلاور۔۔۔ نہ میں منور کو چھوڑ سکتی ہوں اور نہ ہی یہ سب عادتیں چھوڑ سکتی ہوں اگر منور میری زندگی سے چلا بھی گیا تو پھر کوئی دوسرا مرد منور کی جگہ لے لے گا اور اس دوسرے مرد کے جانے کے بعد پھر کوئی تیسرا مرد۔۔۔ تمہیں معلوم نہیں ہے دلاور میری ماں کیسی عورت تھی میں اُسی عورت کی بیٹی بالکل اُسی کے جیسی ہوں ایک مرد کی محبت پر تو مجھ سے انحصار ہوتا ہی نہیں ہے، میری ماں نے بھی اپنے عاشق کی خاطر اپنے بچوں سمیت اپنے شوہر پر لات مار دی تھی تمہیں تو معلوم ہے ناں یہ سب باتیں۔۔۔۔ اور پھر میری سگی ماں کے جانے کے بعد جس عورت نے میری پرورش کی، کیا تم اُس عورت کے ماضی سے واقف نہیں ہو اُس نے بھی ایک غیر مرد یعنٰی میرے باپ کے پیچھے اپنی آٹھ سالہ بیٹی اور ایک عدد شوہر کو چھوڑا تھا۔۔۔ مجھے جواب تو دلاور پھر میں کیسے تم سے باوفا رہ سکتی ہوں جب مجھے پیدا کرنے والی اور مجھے پالنے والی عورتیں ایسی ہو۔۔۔ ارے ہاں اور وہ میرا عیاش بھائی بھی تو ہے کیا تم اس کی عیاش طبیعت سے واقف نہیں ہو اب جاکر اس نے ایک لڑکی پر انحصار کیا ہے مگر اس سے پہلے وہ ہر جگہ منہ مارتا تھا بلکہ تم خود ہی تو اس کے لیے لڑکیاں ارینج کرتے تھے ناں ہاہاہا۔۔ ہم امیر کبیر مالدار لوگ ہیں مگر شرافت ہم میں دو پیسے کی نہیں بہت گھٹیا خاندان ہے ہمارا اور تم ٹھہرے ایک عزت دار آدمی، عزت دار ہاہاہا۔۔۔ تم تو بہت برا پھنس گئے دلاور تم نے ایک غلط لڑکی سے محبت کر ڈالی ایک غلط لڑکی پر اپنے جذبے ضائع کررہے ہو مجھے چھوڑنے کی تمہارا دل اجازت نہیں دیتا ناں تمہیں، تم ایسا کرو اپنا ریوالور لاؤ اور شوٹ کردو مجھے، ایک شریف غیرت مند عزت دار اور محبت کرنے والا بےبس شوہر اپنی عیاش آوارہ اور بدچلن بیوی کے ساتھ ایسے ہی تو کرتا ہے تم بھی جان سے مار ڈالو مجھے۔۔۔ کیا ہوا دلاور ایسے کیو دیکھ رہے ہو مجھے کیا میری جان بھی نہیں لے سکتے تم، اوہو افسوس ہوا تمہاری محبت تو تمہیں یہ بھی اجازت نہیں دیتی کہ تم اپنی اِس آوارہ بےحیا بیوی کی جان لےلو”

مشی ساری باتیں بولنے کے بعد اس سامنے کمرے میں ہی چکر کاٹنے لگی جیسے وہ دلاور کے لیے پریشان ہو کہ اسے اب اپنی بیوی کے ساتھ اب کیا کرنا چاہیے جبکہ دلاور یونہی بیڈ پر بیٹھا ہوا اس کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا مشی ایک دم دلاور کے پاس رک کر اُس سے بولی

“تم مجھے مار نہیں سکتے مجھے چھوڑ نہیں سکتے پھر تم ایسا کرو دلاور مجھ پر میری یہ زندگی میری یہ سانسیں حرام کردو اِسی طرح جیسے ابھی کررہے ہوں ناں بالکل ایسے ہی مجھے ذہنی اذیت دو مینٹلی ٹارچر کرو مجھے، ہاں دلاور تم یہ کام بخوبی انجام دے سکتے ہو، روز روز مجھے یہ بات یاد دلاؤ کہ میں ایک آوارہ بدچلن بےحیا اور بےغیرت لڑکی ہوں جو شرافت سے ایک مرد کے ساتھ اپنی ساری زندگی نہیں گزار سکتی مجھے میری ماں کے حوالے سے طعنے دو میری پیدائش پر تھوکو، گالیاں دو بددعائیں دو مجھے، میری کی گئی پرورش کو کوسو۔۔۔ مجھے جان سے نہیں مار سکتے لیکن تھپڑوں سے میرا چہرہ لال کرسکتے ہو جیسے کل رات تم نے مجھے مارا تھا بس اب تمہیں یہی سب کرنا ہے میرے ساتھ”

مشی نے دلاور سے بولتے ہوئے اس کا گریبان پکڑ کے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا

“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہو مجھے اب یہ مت بولنا کہ یہ سب تم نہیں کرسکتے مجھے معلوم ہے یہ سب کام تم میرے ساتھ بہت اچھے طریقے سے کرسکتے ہو”

وہ دلاور کا گریبان پکڑ کر اس سے بولنے لگی شاید کل رات کی طرح ایک مرتبہ پھر وہ اپنا آپ کھونے کے لیے تیار بیٹھی تھی

“مشی پلیز خاموش ہو جاؤ”

دلاور نے اُس کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے پکڑ کر اپنا گریبان اس سے چھڑانا چاہا

“کیوں کیا ہوا میرا یہ آئیڈیا بھی پسند نہیں آیا پھر تو تم کسی کام کے مرد نہیں ہو، جاؤ دلاور۔۔۔ جاؤ یہاں سے”

مشی اُس کا گریبان پکڑ کر دروازے کی جانب دھکیلتی ہوئی بولی مگر وہ اپنی جگہ پر جما کھڑا مشی کو دیکھتا رہا اس نے اپنا ہاتھ مشی کی جانب بڑھانا چاہا جسے مشی نے غصّے میں زور سے جھٹکا

“باہر چلے جاؤ کمرے سے۔۔۔ آؤٹ۔۔۔ آؤٹ۔۔۔آؤٹ”

غصّے کی شدت سے سرخ ہوتی وہ پوری قوت سے چلاتی دلاور کو دیکھ کر بول رہی تھی دلاور خاموشی سے اس کے کمرے سے باہر نکل گیا تو مشی دلاور کے جانے کے بعد فرش پر بیٹھتی چلی گئی

ایک مرتبہ پھر مشی کو وہ منظر یاد آیا جب وہ پارلر سے نذیر کی ہمراہ رملہ کے پاس اس کے بلانے پر گھر جارہی تھی تب اسے اپنی گاڑی کے آگے بائیک پر ایک لڑکا دکھا وہ منور کو دیکھتے ہی پہچان گئی تھی اِس لیے اُس نے نذیر سے منور کا پیچھا کروایا جس بینگلو کے آگے بائیک رکی نذیر نے مشی کے کہنے کے مطابق گاڑی اُس سے چند فاصلے تھوڑی دور روکی مشی کے کہنے پر ہی نذیر مشی کا گاڑی میں انتظار کرنے لگا جب مشی اُس بینگلو کے دروازے کے قریب پہنچی مگر اندر سے آتی مختلف آوازیں شاید وہاں اندر ایک سے زائد مرد موجود تھے مشی نے اندر جانا مناسب نہیں سمجھا عجیب کشمکش میں مبتلہ چند منٹ گزرنے پر بلآخر اس نے ہمت کی اور دروازے سے کے اندر قدم رکھا چند قدم کے فاصلے پر ہی اسے گارڈ دکھائی دیا جس سے معلوم ہوا وہ بوائز ہاسٹل ہے منور کو وہاں بلانے کے اصرار پر ایک شخص باہر آیا جس نے اُسے کوئی بھی انفرمیشن دینے سے منع کردیا اور مشی کو وہاں سے جانے کے لیے کہنے لگا اتنے میں ہی وہاں نذیر اسے بلانے پہنچ گیا شدید مایوسی کے عالم میں وہ نذیر کی ہمراہ رملہ کے پاس جانے لگی۔۔۔ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی وہ یہی سوچ رہی تھی اگر منور کی گواہی پر اس کے کردار پر لگا داغ دھل جاتا تو دلاور کی یہ غلط فہمی دور ہوجاتی کہ اس کی بیوی اس سے وفادار نہیں

***