Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 10)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
“دروازے پر کیوں کھڑے ہو اندر آجاؤ”
رملہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑے شیردل کو دیکھتی ہوئی بولی ساتھ ہی اس نے اپنا موبائل بھی سائیڈ پر رکھ دیا وہ کافی دیر سے مشی کو کال ملا رہی تھی مگر اُس کا نمبر دو دن سے ہی مسلسل بند جارہا تھا
“کیا ہوا تھا میرے پیچھے ہانیہ کا موڈ اِس قدر خراب کیو ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ اُس کے خراب موڈ کے پیچھے کوئی وجہ نہ ہو”
شیردل رملہ کے کمرے میں آتا رملہ سے پوچھنے لگا تو وہ تعجب کرتی شیردل سے بولی
“ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا شام میں اُسے شاپنگ مال جانا تھا عزیر اور صائمہ کے لئے گفٹ وغیرہ لینے کے لیے تو اتفاق سے میری گاڑی خراب تھی تو نزیر اُس کے لیے ٹیکسی لے آیا مگر تب تک تو اس کا موڈ بالکل ٹھیک تھا”
رملہ شیردل کو دیکھتی ہوئی اسے ہانیہ کے بارے میں بتانے لگی مگر شیردل اسے کافی زیادہ پریشان لگ رہا تھا
“یہ میرے اِن ہاتھوں کو دیکھیں ان میں موجود لرزرش دیکھ رہی ہیں آپ کو اندازہ نہیں بالکل ایسے ہی اِس وقت میرے دل کی کیفیت ہے وہ یہ بچہ نہیں چاہتی اور میرے سمجھانے پر وہ مجھے چھوڑنے کی بات کررہی ہے آپ مجھے بتائیں میرے لئے یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ میں اس کو چھوڑ دوں شیردل جینا تو چھوڑ سکتا ہے مگر اُسے نہیں چھوڑ سکتا یہ بات آخر وہ کیوں نہیں سمجھ پاتی وہ آپ کی بیٹی ہے ناں مگر آپ میری بھی کیفیت اچھی طرح سمجھتی ہوگیں پلیز اُسے بتائیے کہ میں اپنے بچے کو یا اُسے چھوڑنے کا تصور نہیں کرسکتا”
اِس وقت رملہ سے بات کرتے ہوئے شیردل کی بےبسی عروج پر تھی ہانیہ کی بات پر وہ کافی زیادہ ڈسٹرب ہوچکا تھا جس کا اندازہ رملہ خود شیردل کی بےچین کیفیت سے لگا چکی تھی
“شیر ریلکس کیا ہوگیا ہے تمہیں وہ تمہیں نہیں چھوڑ رہی ہے ایسا کچھ نہیں ہورہا سنبھالو خود کو یہاں بیٹھو تمہیں میں ایک بات بتاتی ہوں دیکھو بیٹا جیسے ان دنوں اُس کی طبیعت چل رہی ہے اِس میں لڑکی کے موڈ ایسے ہی سئینگ ہوتے ہیں کبھی چڑچڑاپن کبھی اداسی کبھی غصّہ ایسی کنڈیشن میں ایسے ہی پریڈ سے گزرتی ہے تمام لڑکیاں تم بلاوجہ ٹینشن لے رہے ہو غصے میں اُس نے ایسے ہی بول دیا ہوگا تم سیریس مت لو اُس کی بات کو”
رملہ شیردل کو نارمل حالت میں لانے کے لئے بولنے لگی ورنہ اُس کے چہرے پر انجانہ خوف دیکھ کر وہ خود بھی پریشان ہوچکی تھی
“آپ اتنی آسانی سے بول رہی ہیں کہ میں اُس کی بات کو نہ سوچوں میری تو پوری زندگی داؤ پر لگ گئی ہے اُس کی بات سن کر آپ ہانیہ سے بولیں اُسے سمجھائیں کہ شیردل اُس کی کسی بات سے انکار نہیں کرے گا کوئی بات نہیں ٹالے گا لیکن وہ مجھ سے ایسی باتیں ہرگز نہ کرے جس کے بعد مجھے اپنے جینے کا مقصد بےکار لگنے لگے آپ کہہ رہی ہیں کہ اُس کی باتوں کو سیریس نہ لو ایک اُسی کو تو اپنی زندگی میں سیریس لےلیا ہے آپ سمجھ رہی ہیں میری بات آپ مجھے شیر کہتی ہیں دنیا کے لیے میں شیر ہی ہو بالکل شیر جیسی طبیعت اور طاقت رکھتا ہوں مگر ہانیہ کے لئے میرا دل شیر کے جیسا مضبوط نہیں ہے”
وہ نہ جانے اور بھی کیا کچھ بول رہا تھا رملہ کمرے کے دروازے پر خاموش کھڑی ہانیہ کو دیکھنے لگی جو خاموش کھڑی شیردل کی باتیں سن رہی تھی اچھا ہی تھا وہ شیردل کی باتیں خود سن چکی تھی رملہ کے دروازے پر دیکھنے کی وجہ سے شیردل خود بھی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا وہ ہانیہ کو وہاں موجود پاکر چلتا ہوا اُس کے پاس آیا ہانیہ ضبط سے اُس کی سرخ آنکھیں اور اترا ہوا چہرہ دیکھنے لگی
“کمرے میں چلو بات کرنی ہے تم سے”
ہانیہ آہستگی سے بولتی ہوئی ایک نظر رملہ پر ڈال کر واپس کمرے میں چلی گئی شیردل خود بھی ہانیہ کے پیچھے اپنے کمرے میں جانے لگا
***
شیردل بیڈ پر بیٹھا ہوا خاموشی سے ہانیہ کو دیکھ رہا تھا جیسے وہ خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی اُس کی یہی حالت دیکھ کر وہ کمزور پڑ جاتی تھی اپنے دل کو لاکھ ملامت کرلے اس کے باوجود اُس کا دل اِس شخص کی طرف مائل ہونے لگتا
“کیا کچھ بولے جارہے تھے تم ماما کے آگے ایک مرد ہوکر اِس طرح بےبسی کا اظہار کرو گے حیرت ہورہی ہے مجھے تو تم پر”
ہانیہ سچ میں اُس جوان مرد پر حیرت کرتی ہوئی بولی تو شیردل اپنے دونوں ہاتھوں میں ہانیہ کا چہرہ تھام لیا
“ایک خدا کی ذات کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت مجھے نہ تو اپنے سامنے جھکانے پر مجبور کرسکتی ہے نہ میں کسی دوسرے کے سامنے بےبس ہوسکتا ہو لیکن تمہارا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے ہانیہ پلیز آئندہ کبھی بھی مجھے چھوڑنے کی بات مت کرنا میرا بچہ اور تمہاری ذات میرے لئے سب سے زیادہ اہم ہے تم دونوں کے بغیر میں کچھ بھی نہیں اگر دوبارہ کبھی تمہارے دل میں مجھے چھوڑنے کا خیال آئے تو سیدھا سیدھا میری جان لے لینا اپنے ہاتھوں سے”
شیردل کی بات پر ہانیہ نے اُس کا چہرہ بھی اپنے ہاتھوں میں تھام لیا
“بالکل صحیح کہہ رہے ہو تم اگلی بار میں تمہیں چھوڑنے کی بات کرنے کی بجائے اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لےلو گی اور مجھے یقین ہے تم آگے سے سوال تک نہیں کرو گے ہے ناں”
ہانیہ بولتی ہوئی ایسے ہنسی جیسے اُس نے اپنی بات کو مذاق کا رنگ دیا ہو ہانیہ کے نارمل ہونے پر شیردل نے اطمنانیت کا اظہار کرتے ہوۓ اپنے ہونٹوں سے ہانیہ کے ماتھے کو چھوا
“سوال تو دور کی بات آئندہ کبھی ایسا موقع آیا جب تمہیں شیردل کی جان چاہیے ہو تو شیردل اُف تک نہیں کرے گا تمہارے آگے”
شیردل کی بات پر ہانیہ نے اُس کے چہرے سے اپنے ہاتھوں ہٹاۓ
“میں نے ایسا مذاق میں بولا تھا میں کیوں لینے لگی تمہاری جان”
ہانیہ کے سیریس ہوکر بولنے پر شیردل مسکرایا اس نے اپنے دونوں بازو کھولے اس کے بازوؤں میں ہانیہ سما گئی شیردل ہانیہ کے نازک وجود کو باہوں میں بھر کر بیڈ پر دراز ہوگیا اِس سے پہلے وہ ہانیہ کے چہرے پر جھکتا ہانیہ بول پڑی
“تھوڑی دیر پہلے تم نے بولا تھا تم میرے لیے کار اور ڈرائیور کا ارینج کرو گے کل صبح مجھے اپنے لیے نیو کار اور ساتھ میں ڈرائیور بھی چاہیے”
کچھ سوچ کر ہانیہ شیردل کو دیکھتی ہوئی بولی
“کل صبح تمہارے جاگنے سے پہلے تمہیں تمہاری گاڑی بمعہ ڈرائیور کے گھر کے پورج میں ملے گی اور کوئی حکم کرو”
شیردل محبت لٹاتی ہوئی نظروں سے ہانیہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگ اس کا بس نہیں چلتا کہ دنیا کے سارے خزانے تمام خوشیوں کا ڈھیر اپنی جان سے پیاری بیوی کے قدموں میں لگا دیتا
“دوسرا حکم یہ ہے کہ تم جاکر ماما کے ساتھ ڈنر کرلوں میں نے شام میں اسنکس لے لیے تھے اب ڈنر نہیں کرسکتی بس ریسٹ کروگی”
ہانیہ شیردل کی نظروں کو پہچان کر اسے اُس کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے بولی وہ اِس وقت شیردل کی قربت نہیں بلکہ تنہائی چاہتی تھی
“تھوڑی دیر پہلے تم اپنے غصے سے میرا خون خشک کرچکی ہو، اب مجھے تھوڑا سا میرے لئے وقت دو اس کے بعد سو جانا پھر میں ڈسٹرب نہیں کروں گا تمہیں”
شیردل ہانیہ کے چہرے پر نظریں ٹکاۓ اُس سے بولا وہ اس کا جواب سنے بغیر ہانیہ کی گردن پر جھک گیا جبکہ ہانیہ کا دھیان اپنے اوپر جھکے شیردل کی بجاۓ اپنے موبائل کی اسکرین پر تھا جس پر حسام کے نمبر سے میسج آیا تھا اس نے کل ملاقات کی جگہ میسج میں بتائی تھی
“شیردل اب بس کرو آرام کرنے دو مجھے میں تھک چکی ہوں”
حسام کا میسج پڑھنے کے بعد ہانیہ اپنے لہجے میں بے زاریت ظاہر کرتی بولی شیردل ایسے ہی اُس کی ذات میں مدہوش ہوکر غافل ہوجاتا تھا جس پر کبھی کبھی ہانیہ اُکتا جاتی ہانیہ کے بولنے پر شیردل اُس کا احساس کرکے پیچھے ہٹ گیا وہ خود بیڈ پر لیٹ کر ہمیشہ کی طرح ہانیہ کا سر اپنے سینے پر رکھتا ہوا اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگا کیوکہ وہ جانتا تھا یہ عمل ہانیہ کو پرسکون کرتا ہے
“کل کہیں جانا ہے تمہیں”
شیردل کی چلتی ہوئی اپنی بالوں میں انگلیوں کو محسوس کرکے وہ پرسکون ہوتی اُس کے سینے پر لیٹی تھی تبھی شیردل کی آواز پر چونکی
“ہاں ایک دوست ہے اس سے ملنا ہے تم کیوں پوچھ رہے ہو”
ہانیہ اُس کے سینے سے سر اٹھائے بغیر شیردل سے پوچھنے لگی شاید اُس کے اتنے ارجنٹ گاڑی منگوانے پر وہ پوچھ رہا تھا
“ویسے ہی پوچھ رہا تھا بس دھیان سے جانا اپنے ساتھ شیرو کا خیال رکھنا”
شیردل کے بولنے پر ہانیہ کنفیوز ہوکر اس کے سینے سے سر اٹھاتی شیردل کو دیکھنے لگی جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو یہ شیرو کون سی مخلوق ہے شیردل کے آنکھوں کے اشارے پر وہ اپنے پیٹ کی طرف دیکھ کر شیردل کو گھورتی ہوئی بولی
“توبہ ہے شیردل اس سے زیادہ کوئی عجیب نام تمہارے دماغ میں نہیں آیا”
ہانیہ شیردل سے بولتی ہوئی دوبارہ اُس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ چکی تھی شیردل اس کی بات پر ہنستا ہوا دوبارہ اُس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا
“شیردل تمہیں میرے اوپر سب سے زیادہ کونسا کلر اچھا لگتا ہے مطلب میں تمہیں کون سے رنگ میں سب سے زیادہ اٹریکٹ کرتی ہوں”
ہانیہ کے سوال پر شیردل کے ہاتھ رکے پھر وہ سوچتا ہوا بولا
“بلیک کلر کے ڈریس میں تمہیں دیکھ کر دل چاہتا ہے دنیا کے سارے منظر نظروں کے سامنے سے غائب ہوجائے اور میں بس تمہیں دیکھتا رہوں اور جب تم ریڈ کلر میں ہو تب میرے دل میں خیال آتا ہے شاید ہی اِس دنیا میں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت کوئی دوسری لڑکی ہوسکتی ہے مگر بات ساری ان دونوں رنگوں پر ختم نہیں ہوتی، ہر رنگ میں تم منفرد لگتی ہو بتاؤ تمہیں کل یلو کلر میں تمہیں دیکھ کر میرے دل میں کیا خیال آرہا تھا”
شیردل اپنی ہی رو میں بولتا ہوا ہانیہ سے پوچھنے لگا جس پر ہانیہ جلدی سے بولی
“نہیں پلیز ابھی بالکل نہیں بتاؤ باقی کہ رنگوں کا میں بعد میں سن لو گی ابھی میں سونا چاہتی ہوں”
ہانیہ کی نیند سے بھری آواز سن کر شیردل خاموش ہوگیا تاکہ وہ سکون سے سو جائے جبکہ نیند میں جانے سے پہلے ہانیہ سوچ چکی تھی کل اسے ریڈ اور بلیک کلر کے کمبینیشن کے ڈریس میں حسام سے ملنے کے لیے جانا تھا
***
“کھانا ملے گا یا آج بھی کل کی طرح سارا دن بستر پر پڑے رہنے کا ارادہ ہے”
کل کی بانسبت آج اُس کے چہرے پر سوجھن کم تھی بخار کی شدت میں بھی کمی آئی تھی البتہ سارا جسم ابھی تک پرسوں والی مار سے دکھ رہا تھا دلاور کی آواز پر مشی نے بستر پر لیٹے لیٹے اُس کی طرف دیکھا مگر وہ مشی کے چہرے پر نظر ڈالے بغیر دوسرے کمرے میں چلا گیا
پرسوں رات کو ہی وہ اسے اپنے ساتھ شہر لے آیا تھا کیونکہ دلاور کا باپ مشی جیسی بدکردار لڑکی کو اپنے گھر پر رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا جبکہ دلاور مکمل طور پر الجھ چکا تھا مشی نے جو حرکت کی تھی وہ اُس کی نظر میں معاف کرنے کے قابل نہ تھی اگر شیردل مشی کا نیا کارنامہ سن لیتا تو اُس کی جان لے لیتا جان لینے کی کوشش تو پرسوں رات اُس نے بھی کی تھی مگر زرش کے یاد دلانے پر کہ وہ اُس کی محبت ہے دلاور مشی کو زندگی بخش چکا تھا مگر خود مشی کی حرکت پر اُس کو بخشنے کے لیے تیار نہ تھا یہ شیردل کا ہی دیا ہوا فلیٹ تھا جہاں دلاور مشی کو اپنے ساتھ لایا تھا کل سے اُسے بخار تھا سارا دن مشی کو اپنا ہوش نہیں تھا خود دلاور بھی اُسے یہاں لاکر اُس سے بالکل لاتعلق ہوگیا تھا کل مشی سارا دن بستر پر لیٹی رہی دلاور اُس کے کمرے میں دودھ بسکٹ اور میڈیسن رکھ کر چلا گیا تھا جو مشی نے اٹھ کر کھڑے ہونے کے لیے زہر مار کر کھائے تھے مگر آج دلاور کچن کا سارا سامان اٹھا لایا تھا مشی ہمت کرتی کچن میں آئی جہاں شیلف پر ڈھیر ساری سبزیاں، دالیں، گوشت اور پھلوں کے علاوہ دیگر اشیاء موجود تھی مشی آہستہ آہستہ ساری چیزوں کو فریج اور کیبنٹ میں رکھنے لگی
“ہاتھ تیزی سے چلاؤ جیسے تمہاری زبان چلتی ہے پھر کھانا بھی بنانا ہے تم نے”
دلاور کی آواز پر مشی دہلیز پر کھڑے دلاور کو دیکھنے لگی اُس نے پرسوں دلاور کا جو روپ دیکھا تھا وہ اُس دلاور سے بالکل مختلف تھا جسے وہ ہمیشہ سے دیکھتی آرہی تھی اور اُس دلاور سے بھی جو اُس سے محبت کا دعوی کرتا تھا
“میں کھانا کیسے بناسکتی ہوں مجھے نہیں معلوم کھانا کیسے بنتا ہے”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی اُسے تو انڈا تک ابالنا نہیں آتا تھا پھر وہ کھانا کیسے بنالیتی مشی کی بات سن کر دلاور چلتا ہوا اُس کے پاس آیا اور اچانک ہی اُس نے مشی کے بالوں کو اپنی مٹھی میں بھرلیا جس پر مشی کے منہ سے کراہ نکلی
“غیر مردوں کے ساتھ دوستیاں کرنا آتی ہیں مگر شریف لڑکیوں کی طرف گھر داری کرتے ہوئے جان نکلتی ہے تمہاری”
دلاور اُس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچے بناء اُس کی تکلیف کا احساس کرتا بولا دلاور کا پھینکا ہوا نشتر مشی کو اندر تک زخمی کرگیا اُس نے دلاور کی کلائی پکڑی جس میں اُس کے بال موجود تھے
“بال چھوڑو میرے درد ہورہا ہے مجھے”
مشی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ دلاور سے بولی وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ دلاور اُس کے ساتھ ایسا سلوک کرے گا مشی کے بولنے پر دلاور اُس کے بالوں کو مزید سختی سے پکڑ کر اُس کا چہرہ اونچا کر کے اپنا چہرہ قریب لاتا ہوا بولا
“کھانا کون بنائے گا جواب دو پہلے”
دلاور بےدرد بنا ہوا اُس کے درد اور آنسوؤں کی پرواہ کیے بغیر ایک بار پھر مشی سے پوچھنے لگا
“میں۔۔ میں کوشش کرتی ہوں کھانا بنانے کی”
مشی نے سسکتے ہوئے بولا تو دلاور نے جھٹکے سے اُس کے بالوں کو چھوڑا
“کوشش نہیں کرنی ہے کھانا بالکل ٹھیک بننا چاہیے ورنہ تمہاری ہڈیوں کا سرمہ بنادو گا تم وہ لڑکی ہو ہی نہیں جسے کسی بھی کام میں رعایت دی جائے تم نے اپنے بھائی کی عزت نعلام کی میں نے اُس کے باوجود تم سے نکاح کیا تمہیں محبت اور عزت دینی چاہی مگر تم نے اپنی عادت نہیں چھوڑی میرے گھر پر میرے پیٹھ پیچھے نئے عاشق سے ملتی رہی نفرت ہورہی ہے مجھے خود سے جو میں نے تم جیسے گھٹیا لڑکی سے محبت کی میرا باپ بالکل صحیح کہہ رہا تھا تم جیسی لڑکی کو زندہ دفن کردینا چاہی اُس دن تمہارا بھائی بھی بالکل صحیح کرنے والا تھا تمہارے ساتھ اپنی پرسوں والی حرکت سے تم میرے دل میں اپنے لیے محبت اور عزت دونوں چیزیں کھوچکی ہو اگر آئندہ تم نے ایسی حرکت کی تو میں اب سچ میں جان لےلوں گا تمہاری”
دلاور مشی سے بولتا ہوا کچن سے باہر چلا گیا مشی آنکھ سے آنسو صاف کرتی سوچنے لگی کہ وہ کھانے میں کیا بناۓ
***
کھانے میں جیسے تیسے اس نے آلو مٹر کی سبزی بنالی تھی جو دلاور نے خاموشی سے کھائی جبکہ مشی کی جان خشک ہورہی تھی کیوکہ آلو صحیح سے نہیں گلے تھے اُس میں نمک تیز ہوگیا تھا شاید اُس کی طبیعت خرابی کی وجہ سے دلاور خاموشی سے کھانا کھاتا رہا مگر اُس نے ایک بار بھی مشی سے نہیں پوچھا کہ اُس نے کھانا کھایا ہے یا نہیں کھانے کے بعد اُس نے مشی سے چائے بنانے کو کہا تو وہ دلاور کے لیے چائے بناکر اُس کے کمرے میں لائی دلاور آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا
“چائے” مشی کی آواز پر وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا
“چائے کا گھونٹ بھر کر بتاؤ کہ یہ صحیح بنی ہے”
دلاور اُسے حکم دیتا ہوا بولا تو مشی نے چائے کا سپ لیا چائے اچھی خاصی شہد ہورہی تھی
“میٹھی ہوگئی ہے میں دوبارہ بناکر لاتی ہو”
مشی اُس کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر سہمی ہوئی بولی
“چائے کا کپ میز پر رکھ دو اور کل سے کوشش کرنا کہ صحیح طریقے سے ہر چیز بناؤ”
مشی کو محسوس ہوا جیسے وہ اس پر ترس کھا کر اُس کی جان بخش رہا تھا مشی دلاور کی بات سن کر اُس کے کمرے سے نکلنے لگی
“کہاں جارہی ہو یہاں آکر پاؤں دباؤ میرے”
دلاور کی بات پر مشی خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی
“وہاں کھڑی رہ کر شکل مت دیکھو میری جو کہا ہے وہ کرو”
دلاور کی آواز پر مشی دلاور کے قدموں کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی اتنی دیر سے کھڑے رہ کر اُس کے اپنے پاؤں دکھ گئے تھے وہ دلاور کے پاؤں دیکھنے لگی جو دلاور اُس کے بیٹھنے پر مشی کی گود میں رکھ چکا تھا ڈبڈبائی انکھوں کے ساتھ وہ دلاور کے پاؤں دبانے لگی ایک وقت وہ تھا جب وہ اسے حقیر فقیر اور بھائی کا ملازم سمجھ کر اپنے کام کرواتی تھی اور آج اُس پر کیا وقت آچکا تھا لبالب اُس کی انکھوں میں آنسو بھرنے لگے
دلاور آنکھیں بند کر کے بیڈ پر لیٹا تھا وہ جانتا تھا کہ مشی اِس وقت اپنی قسمت پر آنسو بہارہی تھی مگر وہ پرسوں والے واقعہ کے بعد بھی اگر اُس سے اب بھی نرمی برتتا تو خود کو نامرد محسوس کرتا اتنا کچھ وہ لڑکی اپنے ساتھ کرچکی تھی تب بھی وہ ان باتوں سے سبق لینے کی بجائے نئی یاریاں لگانے سے باز نہیں آئی تھی پرسوں والے قصے کا سوچ کر دلاور کا خون مسلسل دو دن سے کھولے جارہا تھا اچانک اُس کا موبائل بجنے لگا
“جی میں بالکل ٹھیک ہوں گھر میں بھی سب ٹھیک ہیں جی مشی کا موبائل خراب ہوگیا ہے تبھی آپ سے رابطہ نہیں کرسکی ہوگی نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں دراصل اِس وقت وہ زرش کے ساتھ اُس کی سہیلی کے گھر گئی ہے واپس آجاۓ تو بات کرواتا ہوں آپ سے جی میں بھی سوچ رہا اُسے یہاں اپنے ساتھ لے آؤ بالکل آپ صحیح کہہ رہی ہیں”
دلاور کی باتوں سے صاف لگ رہا تھا اس کے پاس آنے والی کال رملہ کی تھی جس سے دلاور خود ہی بات کرکے موبائل سائیڈ پر رکھ چکا تھا اب وہ مشی کی گود سے پاؤں ہٹا کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور مشی کا بازو زور سے دبوچ کر اسے اپنے قریب کیا
“تھوڑی دیر بعد تم میرے سامنے اپنی ماں سے بات کرو گی اگر انہیں پتہ چلا یا شک گزرا کہ تم یہاں میرے ساتھ شہر میں موجود ہو تو کھال کھینچ ڈالوں گا تمہارے جسم سے تمہاری”
دلاور مشی کو بازو سے پکڑ کر اُسے دھمکاتا ہوا بولا مگر مشی دلاور کے لہجے اُس کے رویے کو نظر انداز کرتی روتی ہوئی دلاور کے سینے سے لگ گئی جس پر دلاور بالکل ساکت رہ گیا پتھر کی مانند
“میں اتنی بھی بری نہیں ہوں دلاور پلیز میرے ساتھ ایسا سلوک مت کرو ورنہ میں مر جاؤ گی تم ایسے کیسے کرسکتے ہو میرے ساتھ تم تو محبت کرتے ہو مجھ سے”
مشی اُس کے سینے سے لگ کر آنسو بہاتی ہوئی دلاور سے بولی تو دلاور نے مشی کو خود سے جدا کرتے ہوئے سختی سے مشی کے جبڑے پکڑتے ہوئے اُس کا منہ دبوچا
“میں نے تم سے کہا تھا ناں کہ میں تمہیں اپنی عزت بنا چکا ہو اور میری عزت پر کبھی حرف نہ آنے دینا کیوں کیا تم نے میرے ساتھ پھر اِس طرح جانتی ہو مجھ سے بےوفائی کر کے مجھے کتنی بڑی تکلیف پہنچائی ہے تم نے، یہاں میرے دل پر زخم دیا ہے تم نے۔۔۔ تمہیں مجھ سے محبت نہیں تھی زندگی پر نہ کرتی مگر ایک مخلص بیوی کی طرح مجھ سے باوفا رہتی”
مشی کو محسوس ہوا دلاور کے لہجے میں نمی گُھلی ہوئی تھی اِس سے پہلے اُس کی انکھیں بھی نم ہوتی ہیں دلاور اس کا منہ جھٹک کر بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا
***
دوسرے دن بھی جیسے تیسے اُس نے کھانا بنالیا مگر روٹی کا کیا کرتی کل تو دلاور روٹیاں باہر سے لے آیا تھا مگر آج اس کے سنجیدہ تیور دیکھ کر مشی کو اسے مخاطب کرنے سے ہی خوف آرہا تھا اس لیے سست طریقے سے آٹا گوندھنے کی کوشش کرنے لگی
دلاور تھوڑی دیر پہلے تھکا ہوا آفس سے گھر آیا تھا یہ تھکن جسمانی نہیں بلکہ زہنی تھی وہ چاہ کر بھی اپنے ذہن سے یہ بات نہیں نکال پارہا تھا کہ مشی نے اس کو دھوکا دیا تھا اگر وہ مشی پر شک نہ کرتا تو پیچھے کون بچتا تھا زرش یعنی اُس کی بہن اُس کی بہن تو کم عمر اور بہت معصوم لڑکی تھی اور زرش کا معصوم ذہن ان سب باتوں سے پاک صاف تھا جب مشی نے خود کو بچانے کے لیے زرش کا نام لیا تو اُس وقت مشی کی بات پر دلاور کا خون کھل اٹھا تھا وہ کیسے اُس لڑکے کے ساتھ زرش کا نام جوڑ سکتی جس سے فون پر بات چیت کرنے کا وہ خود اُسے بتا چکی تھی اِس لیے غصے میں اُس کا ہاتھ مشی پر اٹھا جتنی بار مشی نے زرش کا نام لیا دلاور اُس کا چہرہ تھپڑوں سے سرخ کرتا چلا گیا
تین دن پہلے مشی کے ساتھ کیے سلوک کو سوچ کر دلاور کو آج خود پر حیرت ہورہی تھی وہ اپنا ہاتھ دیکھتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ کیسے اُس نے اُس لڑکی کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جس لڑکی سے وہ محبت کا دعویدار تھا اُس لڑکی کو تو وہ خواب میں بھی تکلیف دینے کا نہیں سوچ سکتا تھا دلاور کو وہ وقت یاد آیا جب مشی کو چوڑی پہناتے ہوئے غلطی سے اُس نے مشی کی کلائی کو زخمی کر ڈالا تھا مشی کو دی ہوئی ایک چھوٹی سی تکلیف پر اُس کے دل نے اُسکو کتنا کوسا تھا لیکن تین دن پہلے اُس نے کتنے برے طریقے سے اُس لڑکی کو مارا تھا آج ایک مرتبہ پھر اُس کا دل اُس کی اِس حرکت پر اُسے ملامت کررہا تھا مگر جو تکلیف وہ لڑکی بےوفائی کی صورت اُسے دی چکی تھی اُس کے متعلق سوچ جاتی تو دلاور کا دل کرتا کہ وہ دنیا کو تہس نہس کر ڈالے سیگریٹ پیتا ہوا وہ یہی سب سوچ رہا تھا جب کچن سے مشی کے رونے کی آواز آنے لگی ماتھے پر بل لیے وہ کچن کا رخ کرنے لگا
“رونا بند کرو اپنا کیوں نحوست پھیلا رکھی ہے گھر میں”
دلاور چہرے پر سختی لیے چیخ کر مشی سے بولا تو وہ سہم کر کچن کی دیوار سے جالگی مشی کے اِس طرح ڈرنے پر وہ خود بھی چونکا
“مجھے آٹا نہیں گوندنا آرہا شاید زیادہ پانی ڈلنے کی وجہ سے یہ خراب ہوگیا ہے سمجھ نہیں آرہا اِس آٹے کی روٹی کیسے بنے گی”
مشی روتی ہوئی دلاور کے چہرے کے سخت نقوش کو دیکھ کر بولی جو لب بھینچے ہوئے باول میں آٹے کی خشکی کو پانی میں تیرتا ہوا دیکھ رہا تھا
“میں دوبارہ کوشش کرتی ہوں آٹا گوندھنے کی تم پلیز کچن سے جاؤ۔۔۔ میں کیسے بھی کوشش کر کے بنالوں گی روٹیاں”
ماتھے پر بل لیے دلاور اُس کے پاس آنے لگا تو مشی خوف کے مارے جلدی سے بولی اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں وہ واضح دیکھ سکتا تھا
“کھانا چیک کرواؤ اُس کی ریڑھ ماری ہے یا وہ ڈھنگ سے بنایا ہے”
دلاور کے پوچھنے پر وہ خوف سے کانپنے لگی شاید وہ اُس کی مار سے اندر تک سہم چکی تھی یہ بات بھی دلاور کو تکلیف پہنچانے لگی
“میں نے تو کم ڈالی تھی معلوم نہیں مرچیں خود سے کیسے تیز ہوگئی سالن میں”
مشی نے بتاتے ہوئے زاروقطار رونا شروع کردیا دلاور کے ہاتھ میں موجود جلتی ہوئی سیگریٹ پر اُس کی نظریں تھی جس کو دیکھ کر وہ روئے جارہی تھی جیسے اپنی سزا وہ خود سوچ چکی ہو
دلاور مشی کے قریب کھڑا اُس کو روتا ہوا دیکھنے لگا اُس چہرے پر مسکراہٹ دلاور کو سب سے حسین شے معلوم ہوتی تھی اور ڈرنا تو اِس لڑکی نے جیسے کسی کے سامنے سیکھا ہی نہ تھا اِس پل وہ سہمی ہوئی بری طرح رو رہی تھی ایک مرتبہ پھر دلاور کے دل نے دلاور کو کوسا
“جاؤ نمک اور مرچیں دونوں کے ڈبے لےکر آؤ “
دلاور نے مشی کی نظروں میں ڈر دیکھ کر سیگریٹ کو فرش پر پھینکنے کے ساتھ سنجیدہ لہجے میں کہا مشی رونا بند کرکے خاموشی سے دلاور کی بات پر عمل کرتی دونوں ڈبے اس کے پاس لے آئی
“دو بندوں کے کھانے میں اِس سے زیادہ نمک نہیں استعمال ہوتا اور یہ مرچی صرف اتنی اِس سے زیادہ نہیں سمجھ آرہا ہے”
دلاور چمچے میں ناپتا ہوا اُسے نمک اور مرچوں کی مقدار بتانے لگا جس پر مشی اثبات میں سر ہلانے لگی
“روٹی میں روز باہر سے لے آؤ گا مگر کھانا تم خود بناؤ گی اور ڈھنگ سے بناؤ گی”
وہ سنجیدہ لہجے میں اسے رعایت دیتا ہوا بولا جو کام اِس لڑکی نے شروع سے کیے ہی نہیں تھے وہ اُس بات پر اُسے کیا سزا دیتا اور دوبارہ اُس کے ساتھ وہی سلوک کرتا تو اُس کا دل اُسے معاف نہ کرتا دلاور کی بات سن کر مشی نے دل میں خدا کا شکر ادا کیا
“یہاں آؤ” دلاور کے پاس بلانے پر مشی کچن کے دروازے پر اُس کے پاس آئی مشی کے قریب آنے پر دلاور خاموش نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا
“ابھی بھی درد ہے”
مشی کی پیشانی پر چوٹ کا نشان دیکھ کر دلاور نے اُس سے پوچھا اُس کے جواب میں مشی نے اقرار میں سر ہلایا اور ایک دم دلاور کے سینے پر سر رکھ کر اُس نے رونا شروع کردیا جس طرح اُس کے سینے میں اپنا چہرہ چھاکر وہ روئے جارہی تھی اُس سے زیادہ دلاور کو اپنا دل دکھتا ہوا محسوس ہورہا مگر لاکھ دل کے سمجھانے کے باوجود نہ تو اس نے مشی کو اپنے حصار میں لیا تھا نہ چپ کروایا تھا بلکہ خود سے جدا کر کے کچن سے باہر نکل گیا
***
دلاور نے فلیٹ میں قدم رکھا تو تیز آواز ایل ای ڈی سے باہر آتی پورے لاونچ میں گونج رہی تھی اُسکی نظر صوفے پر سوئی ہوئی مشی پر پڑی اسکرین پر کوئی انگلش ہارر مووی چل رہی تھی جہاں تک دلاور کو معلوم تھا مشی اِس قسم کی فلموں سے اچھا خاصا ڈرتی تھی
“مشی… مشی انکھیں کھولو”
دلاور مشی کے قریب آکر اُس کا بازو ہلاتا ہوا بولا تو مشی دلاور کے چھونے سے ایک دم ہڑبڑاتی ہوئی زور سے چیخی
“وہ قتل میں نے نہیں اُس نے کیا ہے اصل قاتل وہ ہے وہ مجھے بھی مار ڈالے گا.. تم دور رہو مجھ سے”
وہ شاید اپنے حواسوں میں نہ تھی اسلیے دلاور کے ہاتھ کو جھٹکتی ہوئی شور مچانے لگی
“چیخ کیو رہی ہو یہ میں ہوں ہوش میں آؤ”
دلاور نے ناگواری سے اُس کو جھنجھوڑتے ہوئے بولا تو مشی ہوش میں آئی اور ایل ای ڈی کی اسکرین کو دیکھنے لگی
“یہ تم تھے میں سمجھی وہ..
دلاور کو دیکھ کر وہ ہوش کی دنیا میں آتی ہوئی بولی
“تم سمجھی کوئی سیریل کلر تمھارا خون کرنے یہاں آیا ہے”
دلاور مشی کا چہرا دیکھ کر بولا پھر نفی میں سر ہلاتا ہوا اپنے کمرے کا رخ کرنے لگا
“تمھارے ہوتے ہوئے مجھے کوئی نہیں مار سکتا نہ ہی مجھے کسی قسم کا نقصان پہنچا سکتا ہے”
مشی کی بات پر دلاور کے قدم تھمے وہ دوبارہ مشی کے پاس آیا
“کوئی دوسرا نہیں مگر یہ کام میں خود انجام دے سکتا ہوں”
دلاور اُس کی خوش فہمی دور کرتا ہوا بولا شاید کل کی نرمی کے سبب آج وہ اسطرح اُس کے سامنے کھڑی یہ سب بول رہی تھی
“تمہیں اگر مجھے مارنا ہوتا تو چار دن پہلے ہی مار دیتے مگر تم مجھے نہیں مار سکتے کیوکہ مجھے معلوم ہے تم اب بھی مجھ سے محبت۔۔
بات مکمل ہونے سے پہلے ہی دلاور نے جبڑوں سے مشی کا منہ دبوچ لیا
“فلمیں کچھ زیادہ ہی دیکھ رہی تم میرے آفس جانے کے بعد۔۔۔ میرے ساتھ اِس چھت کے نیچے رہنا ہے تو اپنی حد میں رہنا پڑے گا تمہیں میری پابند ہوکر جاؤ جاکر کھانا گرم کرو”
دلاور نے بولتے ہوئے جھٹکے سے اُس کا منہ چھوڑا اور اپنے کمرے میں چلا گیا
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ معمول کی طرح اپنے کمرے میں چلی آئی تھی یہاں لانے کے بعد سے دلاور اور وہ الگ روم میں سوتے تھے ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اچانک لائٹ چلی گئی دوپہر والی ہارر فلم کا منظر سوچ کر مشی کو خوف محسوس ہونے لگا وہ اندھیرے میں چیزیں ٹٹولتی دلاور کے کمرے میں جانے لگی جبھی رستے میں کسی وجود سے ٹکرائی خوف کے مارے مشی کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی مگر کسی نے اس کی چیخ کا گلا گھونٹ دیا تھا
“رات کے وقت کیوں پاگلوں کی طرح چیخ رہی ہو یہ میں ہوں انکھیں کھول کر دیکھو”
دلاور نے بولتے ہوئے مشی کے ہونٹوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا وہ جانتا تھا اندھیرا ہوتے ہی مشی ڈرے گی اسی لیے وہ اس کے کمرے کی طرف آرہا تھا
“انکھیں کھلی ہوئی ہیں لیکن اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا مجھے، اچھا ہوا تم آگئے دلاور ورنہ میں خوف سے مر جاتی”
مشی بولتی ہوئی اس کے سینے سے چپک کر گھڑی ہوگئی مشی کے یوں قریب آنے سے دلاور کے چہرے کے سخت تاثرات میں نرمی آنے لگی
“گھر پر پٹرول موجود نہیں ہے جنریٹر بناء پٹرول کے نہیں چل سکتا تم یہی ویٹ کرو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں باہر شاپ سے”
دلاور اس کی کیفیت سمجھتا ہوا لہجے میں نرمی لائے مشی سے بولا ساتھ ہی اُس نے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کردی
“تم کہیں نہیں جارہے مجھے چھوڑ کر ورنہ خوف سے سچ میں میرا دل بند ہوجائے گا کیا تم نہیں جانتے مجھے کس قدر ڈر لگتا ہے”
مشی کی حالت اِس وقت ایسی تھی جیسے وہ سچ میں دلاور کے دور جانے سے مر جائے گی دلاور بری طرح جھنجھنلا گیا
“پھر ٹھیک ہے یہ موبائل اپنے ساتھ لے جاؤ میں اپنے کمرے میں ہوں”
مشی کا یوں اتنے قریب کھڑے رہنا اسے امتحان میں ڈال رہا تھا دلاور مشی کو بازوں سے پکڑ کر فاصلہ بناتا ہوا بولا
“کیا میں اِس وقت تمھارے کمرے میں نہیں سو سکتی”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی بےبسی سے بولی
“نہیں تم میرے کمرے میں بالکل نہیں سو سکتی”
دلاور فوراً مشی کی بات پر انکار کرتا بولا اگر ساری رات وہ اُس کی آنکھوں کے سامنے رہتی تو بھلا وہ خود کیسے سو پاتا وہ چاہ کر بھی نہ تو اُس پر سختی کر پارہا تھا نہ سخت رویہ رکھ پارہا تھا دلاور کے انکار پر مشی کی شکل رونے والی ہوگئی
“اب ایسا بھی کیا ڈرنا کوئی کھا تو نہیں جائے گا ناں تمہیں یہاں آکر”
مشی کی رونے والی شکل دیکھ کر دلاور اُس کو سمجھاتا ہوا بولا
“یہی تو میں تم سے کہہ رہی ہوں اب ایسا بھی کیا ڈرنا دلاور میں تمہیں کھا تو نہیں جاؤ گی اگر تمہارے کمرے میں سو گئی تو”
مشی اپنے آنسو صاف کرتی بولی تو دلاور ٹارچ کی روشنی میں اُس کا روتا ہوا چہرا دیکھے گیا پھر غصے میں مشی کا بازو پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آیا
“اس بیڈ پر ہم دونوں سو سکتے ہیں”
وہ سنگل بیڈ کی طرف اشارہ کرکے غصے میں مشی سے پوچھنے لگا
“میرے والے کمرے میں ڈبل بیڈ ہے”
مشی نے جیسے اسے مشورہ دیا کہ وہ اُس کے کمرے میں سو جائے
“مجھے کہیں اور نہیں یہی سونا ہے”
دلاور اُس کے مشورے پر انکار کرتا ہوا بولا
“ٹھیک ہے پھر تم سو جاؤ بیڈ پر میں نیچے فرش پر سو جاؤگی”
مشی کی بات پر دلاور ایک مرتبہ پھر اُس کو خاموشی سے دیکھنے لگا یہ لڑکی کیا تھی اور اب اُس کو اپناکر کیا سے کیا ہوگئی تھی
“تمہیں ضرورت نہیں ہیں مجھے عادت ہے نیچے سونے کی تم بیڈ پر لیٹ جاؤ”
دلاور نے مشی سے بولتے ہوئے ٹیبل پر رکھا سیگریٹ کے پیکٹ سے سیگریٹ نکالا اور اسے لائٹر سے جلانے لگا
“تمہیں نہیں لگتا اب میری بھی عادتیں بدل چکی ہیں”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی اس سے بولی تو دلاور انکھیں دکھاتا ہوا مشی کو سخت لہجے میں بولا
“بحث کرنے کے لئے میرے کمرے میں آئی ہو تو واپس چلی جاؤ مشی فضول میں میرا دماغ مت خراب کرنا اس وقت”
دلاور اس کو جھڑکتا ہوا بولا تو مشی خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی وہ اب شاید ہی اس کو صفائی کا موقع فرہم کرتا لیکن اپنی صفائی کے لیے وہ زرش کا نام لیتی تو وہ ایک مرتبہ پھر جانور بن جاتا مشی افسوس سے سوچنے لگی سمجھ نہ آیا وہ کیسے اپنی بےگناہی ثابت کرے
دلاور کھڑکی کے پاس کھڑا اسموکنگ کرتا یہی سوچ رہا تھا وہ اِس لڑکی پر چاہے کتنا ہی غصہ کرلے لاتعلقی برت لے مگر وہ اُس لڑکی کے لیے بہت آرام سے نرم پڑ سکتا تھا چاہے یہ لڑکی اُس کے دل کے لاکھوں ٹکڑے کر کے اُن کو بکھیر ڈالے۔۔۔ اُس کا دل تب بھی اُس لڑکی سے نفرت نہیں کر سکتا مگر اعتبار
ہاں اعتبار شاید وہ اب اُس کا کبھی نہ کرے یہ لڑکی جو اُس کو دغا دینے کے باوجود اب بھی اُسے دل وجان سے عزیز تھی مگر اپنا اعتبار بالکل ہی ختم کرچکی تھی
“سنو دلاور تمہیں یاد ہے جس دن ہمارا ولیمہ ہوا تھا اُس رات جب تم میری جیولری اتار رہے تھے تو
مشی اپنی رو میں اُس سے بولی تو دلاور سختی سے اُس کی بات کاٹتا ہوا تلخی سے گویا ہوا
“مجھے کوئی بات یاد نہیں رکھنی مشی باتیں یاد رکھنے کی اب تمہیں ضرورت ہے بلاضرورت تم ٹیرس پر نہیں جاؤ گی تمھہارا موبائل اب تمھارے یوز میں نہیں رہے گا میری اجازت کے بغیر نہ تو یہاں کوئی آسکتا ہے نہ تم اس فلیٹ سے باہر جاسکتی ہو اور آخری سب سے اہم بات بلاضرورت تم مجھے مخاطب نہیں کرو گی”
دلاور کی باتیں سن کر مشی کا دل بری طرح دکھا وہ خاموش لیٹی آنسو بہانے لگی
***
“کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”
آج آفس سے لوٹنے کے بعد اُس نے روز کی طرح ڈریس چینج نہیں کیا تھا نہ ہی وہ اپنے کمرے میں موجود تھا بلکہ معمول سے ہٹ کر لاؤنج میں آکر ڈھیلے ڈھالے انداز میں صوفے پر آ بیٹھا تھا جبھی مشی نے اُسے مخاطب کیا
“ہاں کافی بنادو مجھے”
ایک نظر مشی پر ڈال کر وہ بولتا ہوا صوفے کی پشت سے سر ٹیک کر آنکھیں بند کرچکا تھا آفس میں مسلسل سر کھپانے کی وجہ سے شاید اِس وقت وہ خود کو تھکا ہوا محسوس کررہا تھا جبھی اس نے مشی سے کافی کا بولا تھا۔۔۔ شوہر بیوی کا قریبی رشتہ ہونے کہ باوجود وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اجنبی بنے دن گزار رہے تھے صرف ضرورت کے وقت ایک دوسرے کو مخاطب کرتے
“تھوڑا ویٹ کرو شاور لےکر آجاؤ پھر بنادیتی ہوں”
مشی جو کہ باتھ لینے جانے ہی والی تھی دلاور کو بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی تاکہ جلدی سے فری ہوکر اُس کے لیے کافی بنادے اپنے کپڑوں کو بیڈ پر رکھتی وہ فوراً واش روم چلی گئی
“مشی کچھ کہا ہے میں نے کافی بناؤ میرے لیے”
دلاور یونہی انکھیں بند کیے تھوڑے وقفے کے بعد صوفے پر بیٹھا دوبارہ مشی سے بولا یقیناً وہ مشی کا جملہ نہیں سن سکا تھا کہ وہ باتھ لینے گئی تھی۔۔۔ مزید چند سیکنڈ بعد جب مشی کا جواب نہ آیا تب اُس نے انکھیں کھول کر کمرے کا بند دروازہ دیکھا اور اٹھ کر مشی کے کمرے کا رُخ کرنے لگا
“میں نے تم سے کافی۔۔۔
دروازہ کھولنے کے ساتھ ہی دلاور کے منہ کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے شاید وہ ابھی شاور لےکر نکلی تھی اور یوں ایک دم دروازہ کھلنے پر بری طرح گھبرائی تھی۔۔۔ گھبراہٹ میں شولڈر سے نیچے باندھا ہوا ٹاول فرش پر گر پڑا جہاں دلاور اُس کو دیکھ کر مکمل پتھر کا بن چکا تھا وہی مشی دلاور کو دیکھ کر بری طرح شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔ نیچے جھک کر فرش پر گرا ہوا ٹاول اٹھاتی وہ شرم سے پانی پانی ہوچکی تھی
اِس وقت سامنے کا منظر دیکھ کر وہ پوری طرح سُن ہوچکا تھا صرف ایک ہی چیز اُس کی حرکت میں تھی وہ تھا دلاور کا دل جو اِس وقت نارمل اسپیڈ سے کہیں زیادہ تیز دھڑک رہا تھا۔۔۔ وہ تب تک مشی سے اپنی نظریں ہٹا نہیں سکا جب تک مشی دوبارہ ٹاول سے خود کو کور کرکے دوبارہ اُس کی نظروں سے اوجل ہوتی واش روم میں نہیں چلی گئی۔۔۔ جھنجھناتے ہوئے دماغ اور تیز دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دوبارہ آکر صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھا
کپڑے پہنتے ہوئے اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے دماغ مسلسل لاؤنج میں بیٹھے دلاور کے بارے میں سوچ رہا تھا دلاور کا یوں اچانک اُس کے کمرے میں آنا اور ڈر کے مارے ٹاول کا فرش پر گر جانا۔۔۔ جو کچھ تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا مشی کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کمرے سے نکل کر کچن میں جاکر کیسے اُس کے لیے کافی بنائے کیونکہ اِس وقت دلاور کی نظروں کا سامنا کرنا اُس کو مشکل لگ رہا تھا بالاخر وہ ہمت کرتی دوپٹے کو کندھے کے ایک سائیڈ پر ڈال کر کمرے سے باہر نکلی اور لاؤنج میں موجود دلاور کو مکمل نظر انداز کرتی کچن میں چلی آئی مگر اُسے صاف محسوس ہورہا تھا دلاور کی نگاہوں نے اُس کا کچن تک پیچھا کیا تھا کچن جو کہ لاؤنج میں موجود تھا اور اوپن تھا دونوں ہی ایک دوسرے کو باآسانی نہ صرف دیکھ سکتے تھے بلکہ بات بھی کرسکتے تھے
ایک مرتبہ پھر کچن میں موجود مشی پر نظر ڈال کر دلاور نے اپنا دھیان کہیں اور بٹانے کے لیے ایل ای ڈی آن کرلیا جبکہ مشی کریم میں چینی اور کوفی مکس کرکے اس کا پیسٹ بنانے لگی دلاور کی نگاہیں اسکرین پر تھی مگر دماغ مکمل طور پر کچن میں موجود مشی پر۔۔۔ دماغ کو بری طرح سرزش کرنے کے باوجود اپنے دل کی مانتے ہوئے دلاور کی نظریں ایک مرتبہ پھر مشی کی جانب اٹھی۔۔۔ وہ دلاور کو مکمل طور پر نظر انداز کیے اپنے کام میں مگن نظر آئی مگر دلاور خود چاہ کر بھی اپنے آپ کو سامنے ایل ای ڈی کی اسکرین یا کسی دوسری چیز میں مگن نہیں کر پارہا تھا سیگریٹ کے پیکٹ سے سیگریٹ نکال کر وہ اسموکنگ کا ارادہ بھی ترک کرچکا تھا کیونکہ آج اس کی طلب دوسری تھی۔۔۔ بےچین ہوتا وہ ریموٹ کنٹرول اٹھا کر چینل چینج کرنے لگا
Dil cheez hai kiya jaana…
Ye jaan b tumhari hai…
Teri baaho mai dam nikle…
Teri bahoon main dam nikle…
Hasrat yeh humari hai…
اسکرین پر چلتے گانے کے بول سن کر بےساختہ مشی کی نظر صوفے پر بیٹھے دلاور سے ٹکرائی وہ بھی مشی کی ہی جانب دیکھ رہا تھا مشی نے جلدی سے اپنی نظریں دلاور کے چہرے سے ہٹائی اور پیکٹ میں موجود دودھ کو پتیلی میں ڈالنے لگی ہاتھوں میں ایک دفعہ پھر لرزش شروع ہوچکی تھی بےشک وہ دیکھ نہیں رہی تھی مگر اُس کو معلوم تھا دلاور صوفے سے اٹھ کر کچن کی جانب آرہا تھا وہ اپنے دھڑکتے دل پر قابو پاتی کیبنٹ کھول کر اُس میں سے کافی کے لیے مگ نکالنے لگی
Rooti hoon tarapti hoon..
Kat ti he nahi zaalim…
Rooti hoon tarapti hoon…
Kat’ti he nahi zaalim…
Ek raat judaai ki…
Sou raat se bhaari hai…
دلاور کچن میں داخل ہوکر مشی کی پشت کے بالکل قریب کھڑا تھا۔۔۔ اپنی پشت پر دلاور کی موجودگی کا احساس کرکے ایک مرتبہ پھر مشی کے دل میں ہلچل شروع ہوگئی اس نے برنر آن کرنے کے لیے اپنا کانپتا ہاتھ اگے بڑھایا مگر دلاور کے ہاتھ نے اُس کے ہاتھ کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔۔۔ دلاور کی حرکت پر مشی کا دل بری طرح کانپ اٹھا وہ اُس کے نزدیک کھڑا مشی کے بالوں میں بسی کنڈیشنر کی مہک اپنی سانسوں کے اندر اتارنے لگا۔۔۔ مشی نے ذرا سا ہٹ کر فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی مگر دلاور نے اُس کے پیٹ پر اپنا ہاتھ رکھ کر مزید اُسے خود سے قریب کرلیا۔۔۔ دلاور اپنا ایک بازو مشی کے پیٹ پر حمائل کرتا جبکہ دوسرا ہاتھ سے مشی کے کندھے پر موجود دوپٹہ اتار چکا تھا مشی دلاور کی حرکت پر اپنی انکھیں بند کیے بالکل سن کھڑی تھی تب دلاور نے اُس کا رخ اپنی جانب موڑا
Gham ishq o mohabat k…
Chalo poch lo saaqib se…
Gham ishq o mohbat k…
Chalo poch lo saaqib se…
Ek baazi mohhbat ki….
Os shaks nay haari hai…
Dil cheez hai kiya jana…
Ye jaan b tumhari hai…
دلاور نے اپنے دونوں ہاتھوں میں مشی کا چہرہ تھام کر اُس کا چہرہ اونچا کیا مشی کی انکھیں ہنوز بند تھیں۔۔۔ تب مشی کو دلاور کے ہونٹوں کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس ہوا دلاور اُس کا بالائی لب اپنے دونوں ہونٹوں میں دباکر اُس کا ہونٹ چومنے لگا۔۔۔ اپنی سانسوں کو مشی کی سانسوں میں سمائے وہ اپنے سانسوں میں گھلی سیگریٹ کی اسمیل جس کا ذائقہ اب مشی اپنے منہ میں گھلتا محسوس کررہی تھی۔۔۔ مشی کا ذہن بالکل مفلوج ہوچکا تھا یاد تھا تو صرف اتنا کہ وہ دلاور کے حصار میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کررہی تھی کیونکہ دلاور نے اُس کی کمر کے گرد اپنا بازو لپیٹ کر گھیرا بالکل سخت کیا ہوا تھا دلاور کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اُس کے نم بالوں میں پھنسی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مشی اپنے ہونٹوں کو اُس کے ہونٹوں سے آزاد کروانے میں ناکام ہورہی تھی وہ دلاور کی شرٹ کو سختی سے پکڑی ہوئی مکمل طور پر اُس کے حصار میں موجود تھی
ایک مرتبہ پھر مشی نے اس کے سخت حصار سے نکلنے کی کوشش کی مگر دلاور کے بہکے جذبات کے آگے اُس کی کوشش ناکام ثابت ہوئی۔۔۔ وہ کتنا ہی اُس کی باہوں میں پھڑپھڑاتی مگر آزادی تب تک ممکن نہ تھی جب تک وہ نہیں چاہتا۔۔۔ جب مشی کا سانس لینا محال ہونے لگا تب ایک مرتبہ پھر وہ دلاور کے حصار سے نکلنے کے لیے بےقرار ہوئی۔۔۔ اب کی بار دلاور نے اُس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتے ہوئے مشی کو اونچا اٹھاکر کچن کے کاؤنٹر پہ لٹا دیا
“دلاور نہیں پلیز پیچھے ہٹو تم یہ کیا کررہے ہو میرے ساتھ”
چڑھتی ہوئی سانسوں کو قابو کرکے وہ بمشکل دلاور سے بولی
“خاموش رہو”
فقط دو لفظ بول کر اُس نے ساری بات ہی ختم کردی تھی۔۔۔ وہ مشی کو اُس کی تھائس سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچتا اُس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ مشی نے اب کی بار دلاور کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تو اُس نے مشی کی دونوں کلائیوں کو پکڑلیا۔۔۔ اپنے سینے پر دلاور کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے ایک مرتبہ پھر مشی نے اپنی آنکھوں کو بند کرلیا۔۔۔ اِس وقت دلاور ہر شے کو فراموش کیے، ہر بات کو بھول کر مشی کی قربت میں کھو چکا تھا تب موبائل کی رینگ ٹون نے اُس کے جذبات میں خلل ڈالا
“کال۔۔۔ دلاور تمہارا موبائل بج رہا ہے۔۔۔ پلیز ہوش میں آو”
مشی کی آواز اب کی بار اُس کو ہوش کی دنیا میں واپس لےکر آئی تو دلاور مشی کے اوپر سے اٹھتا ہوا اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر کال ریسیو کرچکا تھا
“ہاں زرش بولو خیریت ہے سب”
دلاور کا اپنا تنفس بری طرح پھول چکا تھا جسے قابو کرتا وہ اپنی بہن سے بات کرنے لگا۔۔۔ مشی نے اٹھنے کی کوشش کی تب اُس نے مشی کے پیٹ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ مشی بالکل خاموش لیٹی دلاور کا چہرہ دیکھنے لگی جو اُس کی ٹانگوں سے جڑ کر بالکل قریب کھڑا تھا وہ چاہ کر بھی اٹھ نہ سکتی
“بھائی اتنا سانس کیوں پھول رہا ہے کیا کررہے تھے”
زرش کی آواز اسپیکر سے ابھری جو مشی کے کانوں تک بھی پہنچی مشی دلاور کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ دلاور بھی موبائل پر بات کرتا مگر مشی کو دیکھ رہا تھا
“میں کیا کررہا تھا”
زرش کے پوچھے گئے سوال پر دلاور اب خود سے سوال کرنے لگا۔۔۔ آخر وہ یہ کیا کررہا تھا
“ارے یہ تو میں آپ سے پوچھ رہی ہوں”
کھنکتی ہوئی زرش کی آواز پر دلاور مشی کو دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا جو وہ کررہا تھا اسے کرنا چاہیے تھا۔۔۔ایک پل میں اُس نے اپنا ہاتھ مشی کے پیٹ سے ہٹایا۔۔۔ مشی ابھی بھی دلاور کو ہی دیکھ رہی تھی
“میں وہ۔۔۔۔ میں”
جواب دینا اُس کے لیے مشکل ہوگیا
“بس ایسے ہی کچھ خاص نہیں کررہا تھا”
مشی پر نظر ڈالتا وہ زرش سے بولا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ دلاور کی بات پر مشی طنزیہ مسکرائی اور کاؤنٹر سے اٹھ کر نیچے اترنے لگی فرش پر گرا ہوا دوپٹہ اٹھاکر اُس نے واپس اپنے کندھے پر رکھا
“کافی تیار نہیں کی تم نے ابھی تک کب سے کافی کافی چلا رہا ہوں سمجھ میں نہیں آرہا تمہیں کہ مجھے کافی چاہیے”
وہ اپنے کمرے سے نکلتا ہوا غصے میں مشی پر چیخا تو مشی حیرت سے دلاور کا چہرہ دیکھنے لگی جہاں اِس وقت کوئی دوسرا جذبہ نہیں بلکہ صرف اور صرف غُصہ موجود تھا
“میں کافی ہی تو بنارہی تھی مگر تم”
مشی حیرت کرتی دلاور کو دیکھ کر صرف اتنا ہی بول سکی وہ غصے میں کچن میں داخل ہوا اور ایک دم مشی کے قریب آیا
“کیا میں ہاں۔۔۔۔ بولو کیا میں”
وہ مشی کے بالکل قریب کھڑا غصہ کرتا مشی سے پوچھنے لگا اُس کا سینہ مشی کے چہرے پر ٹچ ہونے لگا مشی نے اپنے چہرہ کا رخ دوسری طرف کیا اور اپنا ہاتھ دلاور کے سینے پر رکھ کر اُسے پیچھے کرنا چاہا
“کچھ نہیں میں کافی بنارہی ہوں تم پیچھے ہٹو”
مشی دلاور کو بولتی ہوئی خود ہی سائیڈ سے نکلنے لگی مگر تب دلاور نے اُس کا بازو پکڑا
“نہیں پینی اب مجھے کوئی کافی۔۔۔ ایک کام بولا تھا تم سے وہ بھی نہیں کرسکی بیوی ہو تم ایسی ہوتی ہیں بیویاں”
وہ سختی سے اُس کا بازو پکڑ کر غُصے میں جھک کر مشی کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتا ہوا بولا
“کیا چاہیے تمہیں۔۔ کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ کیا چاہ رہے ہو تم۔۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا”
مشی کے بولنے پر وہ اُسے بناء کوئی جواب دیے اُس کو بازو سے پکڑ کر کھینچتا ہوا اپنے روم میں لے جانے لگا
“تم۔۔۔۔ کک۔۔۔ کیا کررہے ہو دلاور پلیز چھوڑو مجھے”
مشی کو اچانک اس کے رویے سے ڈر لگنے لگا وہ اس کے ساتھ چلنے پر مجبور، اپنا بازو مسلسل دلاور سے چھڑوا رہی تھی نہ جانے اپنے کمرے میں لے جا کر وہ اُس کے ساتھ کیا کرتا
“کپڑے پریس کرو میرے”
اپنے روم میں لاکر مشی کا بازو چھوڑتا ہوا وہ آئرن اسٹینڈ کی طرف اشارہ کرکے بولا جہاں پر اُس کا ڈریس موجود تھا
“یہ تو میں نے کل رات کو ہی پریس کر کے تہماری وارڈروب میں ہینگ کیا تھا”
مشی ڈریس پینٹ اور شرٹ کو دیکھ کر دلاور کو بتانے لگی مگر اب مشی کا یہ بولنا عذاب ہوگیا
“یہ پریس کیے تم نے میرے کپڑے۔۔۔ اِسے پریس کرنا کہتے ہیں۔۔۔ تمہیں معلوم ہے ڈریس پینٹ کو پریس کیسے کیا جاتا ہے”
وہ غصہ کرتا ایک دفعہ پھر مشی پر برسنے لگا۔۔۔ مشی کو اُس کے اِس غصے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی
“نہیں مجھے نہیں معلوم کپڑے کیسے پریس کیے جاتے ہیں کیوکہ یہ کام اپنے گھر میں میں نے پہلے کبھی نہیں کیا۔۔ میرے کپڑے ہمیشہ راشدہ یا زائدہ میں سے کوئی مجھے پریس کرکے دیتی تھی”
اب کی بار مشی بھی اُس کے سامنے بولی لیکن اُس نے دلاور کی طرح ری ایکٹ نہیں کیا بولتے ہوئے اُس نے اپنا لہجہ دھیما رکھا تھا
“یہاں پر راشدہ یا زاہدہ آکر کام کریں گیں یا پھر تم کرو گی بتاؤ مجھے۔۔۔ تم میری بیوی ہو تو میرے سارے کام تم ہی کرو گی کوئی دوسرا نہیں”
دلاور نے ایک مرتبہ پھر اُس کے دونوں بازوں کو سختی سے پکڑا تھا وہ غصے سے بھرے لہجے میں اُس کو باور کرواتا بولا
“تو میں نے کب انکار کیا میں کررہی ہوں تم مجھے چھوڑو تو۔۔۔ پلیز دلاور میرے ہاتھ چھوڑ دو پریس کرنے دو مجھے”
نہ جانے کیوں وہ اُس قدر غصے میں بھرا ہوا تھا مشی اپنا لہجہ نرم رکھتی اُس سے بولی جس پر دلاور نے اُس کے دونوں بازو چھوڑ دیئے۔۔۔ مشی اسی کے کمرے میں موجود آئرن اسٹینڈ پر دلاور کے کپڑے دوبارہ پریس کرنے لگی
ابھی چند سیکنڈ ہی سکون سے گزرے ایک مرتبہ پھر دلاور نے الماری میں کچھ ڈھونڈنا شروع کردیا وہ ایک ایک کرکے الماری کی ساری چیزیں باہر نکال کر پھینکتا جارہا تھا ٹیبل پر موجود رکھی ہوئی بکس بیڈ پر پڑی ہوئی تھی اور دراز میں موجود ساری چیزیں وہ نکال کر وہ باہر پھینکنے جارہا تھا
“اُففف اب کیا ہوا، دلاور تمہیں کیا چاہیے”
اب کی بار مشی غصے میں جھنجھلاتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی جس پر دلاور زوردار آواز میں چیخا
“سیگریٹ” مشی اُس کی دھاڑ سن کر فوراً کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آئی اور صوفے پہ رکھا ہوا سیگریٹ کا ڈبہ اور لائٹر لے جاکر دلاور کو تھمایا دلاور غصے میں اُس کو دیکھتا ہوا بولا
“میرا انتظار مت کرنا لیٹ آؤں گا میں”
وہ بولتا ہوا کمرے سے نکلا
“اندازہ ہے مجھے” مشی آہستہ آواز میں بڑبڑائی اور اُس کے کمرے کو سمیٹنے لگی۔۔۔
اپنے ہاتھ میں موجود چھپی ہوئی سیگریٹ اُس نے احتیاط سے محفوظ جگہ پر رکھی وہ دلاور کو سیگریٹ کا پیکٹ تھمانے سے پہلے اُس میں سے دو سیگریٹ پہلے ہی نکال چکی تھی
***
وہ اپنی ساری فرسٹریشن غُصے کی صورت مشی اور چیزوں پر نکال کر گھر سے نکل چکا تھا اِس وقت کار ڈرائیو کرنے کے ساتھ اسموکنگ بھی کررہا تھا۔۔۔ اِس وقت اسے اپنے آپ پر شدید غصہ تھا آخر کیوں وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا تھا کیا وہ اتنا کمزور مرد تھا کہ یوں اپنی بیوی کو دیکھ کر بہک جاتا۔۔۔
اسے دوبارہ وہ لمحات یاد آنے لگے جب وہ تھوڑی دیر پہلے کچن میں مشی کے قریب تھا۔۔۔ اپنے خیالات کو ذہن سے جھٹکنے کے ساتھ اُس نے سر کو بھی زور سے جھٹکا اور بجتے ہوئے موبائل پر شیردل کی آنے والی کال ریسیو کرنے لگا تب اچانک ہی اُس کی گاڑی کا بیلنس بگڑا
***
