468.5K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Justajoo Thi Khas (Episode 3)

Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel

“یہاں اکیلی بیٹھی کیا سوچ رہی ہو”

دانیال کلاس روم سے باہر بیٹھی مشی کے پاس آکر بینچ پر اُس کے برابر بیٹھتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا تو مشی حیرت سے دانیال کو دیکھنے لگی

“کیا آج وانیہ نہیں آئی کالج”

مشی دانیال کو یہ نہیں بول سکی وہ اُس کے علاوہ اور کیا سوچ سکتی تھی وانیہ کا دانیال سے اِس لیے پوچھنے لگی کیونکہ جب سے وانیہ کالج میں آئی تھی تب سے دانیال اور وانیہ ایک ساتھ ہی نظر آتے

“وانیہ تو کالج آئی ہے لیکن مجھے تم سے ضروری بات کرنا ہے اُس لئے تمہارے پاس آگیا”

دانیال مسکراتا ہوا مشی کو دیکھ کر بولا

وہ مشی کے دیکھنے کے انداز ہی جان چکا تھا مشی اس میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن زبان سے کچھ نہیں کہتی تھی مگر اُس کی آنکھیں ہر راز بیان کردیتی تھی

“کیسی سے ضروری بات۔۔۔ بولو”

مشی پوری طرح اُس کی طرف متوجہ ہوئی، دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ کاش دانیال جان سکتا کہ وہ اُس کی زندگی میں کیا مقام رکھتا ہے

“یار سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم سے بولوں یا رہنے دوں”

دانیال کچھ کنفیوز ہوتا مشی سے بولا

“ایسی کیا بات ہے جس کو بولتے ہوئے مسٹر دانیال اتنا سوچ رہے ہیں”

مشی مسکراتی ہوئی دانیال سے بولی کیونکہ وہ کلاس میں کافی کانفیڈینٹ اور شاطر مانا جاتا تھا مشی کی بات پر وہ خود بھی مسکرایا

“کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بولتے ہوئے اگلے کے ردعمل سے ڈر لگتا ہے میں بھی یہی سوچ کر کنفیوز ہورہا ہوں کہیں وہ بات بول کر تمہاری اور میری روستی ختم نہ ہوجائے”

دانیال کچھ سوچتا ہوا مشی سے بولا تو وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دانیال کو دیکھنے لگی

“کیا تم وانیہ کو پرپوز کرنے والے ہو”

دل میں آیا خیال نہ جانے کیسے لفظوں کی صورت اُس کے منہ سے ادا ہوا جبکہ دانیال حیرت زدہ ہوکر مشی کو دیکھنے لگا

“بات تو میری اور تمہاری ہورہی ہے یہ بیچ میں وانیہ کہاں سے آگئی ویسے اگر مجھے وانیہ کو پرپوز کرنا ہوتا تو اِس وقت میں یہاں تمہارے پاس نہیں بیٹھا ہوتا”

دانیال الجھتا ہوا مشی سے بولا

“نہیں دانیال میرے وہ کہنے کا مطلب نہیں تھا مطلب تمہاری اور وانیہ کی اچھی خاصی انڈر اسٹینڈنگ ہے تو

مشی کو سمجھ نہیں آیا وہ کس طرح دانیال کو اپنی بات سمجھائے

“پھر وانیہ ایک منٹ مشی پہلے مجھے وانیہ اور اپنی فرینڈ شپ کو کلیئر کرنے دو دیکھو وانیہ اور میں بہت اچھے دوست ہیں اور اچھے دوست ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ آگے جاکر اچھی لائف پارٹنر بھی ثابت ہو میں اپنی لائف پارٹنر میں جو خوبیاں دیکھتا ہوں وہ مجھے وانیہ میں نظر نہیں آتی”

دانیال مشی کو سمجھاتا ہوا بولا

“وانیہ میں نظر نہیں آتی تو پھر کس میں نظر آتی ہیں”

مشی دانیال کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“اُس میں نظر آتی ہیں جس کے سامنے میں اِس وقت بیٹھا اپنا سر کھپا رہا ہوں”

دانیال اب مشی کو گھورتا ہوا بولا اُس کی بات سن کر مشی دانیال کو دیکھتی رہ گئی ہوش تب آیا جب دانیال نے بینچ پر رکھے ہوۓ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا

“کیا شادی کرو گی مجھ سے”

وہ اسے پرپوز کررہا تھا شادی کا پوچھ رہا تھا یہ سب خواب میں نہیں حقیقت میں ہورہا تھا

“کب”

اپنے پوچھے گئے بےوقوفانہ سوال پر مشی خود ہی شرمندہ ہوگئی جبکہ دانیال ہنس دیا

“میرے پرپوز کرنے پر کچھ بولا نہیں تم نے”

دانیال اس کی خاموشی پر دوبارہ بولا تو مشی دانیال کے ہاتھ کے نیچے سے اپنا دبا ہوا ہاتھ نکالتی ہوئی کھڑی ہوگئی

“فون پر بولوں گی”

وہ اپنی خوش قسمتی پر یقین کرنا چاہتی تھی مگر دانیال کے سامنے بغیر کسی تاثر کے بولی

“ٹھیک ہے پھر میں آج رات کو تمہیں کال کروں گا”

دانیال مسکراتا ہوا مشی سے بولا تو وہ بھی مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تبھی بینچ پر دانیال کے پاس کنعان آکر بیٹھا

“پٹالیا تُو نے اُسے”

کنعان دانیال کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“مشکل کام نہیں تھا اس کو سیٹ کرنا سمجھ لے یہ اب میری مٹھی میں ہے”

دانیال کنعان کو دیکھتا ہوا اسے بولا

“اگر وانیہ نے اس کو ہمارے بارے میں کچھ بتادیا تو”

کنعان اپنا شک ظاہر کرتا ہوا دانیال سے بولا

“وانیہ اگر اس کے سامنے منہ کھولے گی تو خود ہی پھنسے گی وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گی”

دانیال کنعان سے بولتا ہوا اٹھا کیوکہ سامنے سے وانیہ آرہی تھی اور دانیال اسے اچھی طرح کچھ سمجھانا چاہتا تھا

**

“کیا ہوا کوئی بہت خاص بات ہے جو اتنی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہو کہ آس پاس کا تمہیں ہوش ہی نہیں ہے”

رات کے وقت دلاور گھر کے لان میں بیٹھا ہوا مشی کے بارے میں سوچ رہا تھا تب اچانک شیردل وہاں چلا آیا اور دلاور سے پوچھنے لگا دلاور اس کو دیکھ کر ہوش میں آتا ہوا جلدی سے کرسی سے اٹھنے لگا

“بیٹھے رہو”

شیردل دلاور کو بولتا ہوا خود بھی دوسری کرسی پر بیٹھ چکا تھا شیردل نے کبھی اس کے ساتھ ملازموں جیسا سلوک نہیں کیا تھا مگر دلاور نے اپنی حیثیت پہلے دن سے ہی اپنے ذہن میں رکھ کر اس کے پاس نوکری کی تھی شیردل کی بات پر وہ کرسی پر بیٹھا رہا اور شیردل سے بولا

“ذہن خالی ہو پھر تو سوچیں آتی جاتی رہتی ہیں مالک کچھ سوچے ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو سوچتے ہوئے اپنے آس پاس کا ہوش نہیں رہتا نہ ہی خود پر اختیار رہتا ہے دل کرتا ہے بس ان سوچوں میں کھوۓ رہو”

دلاور کی بات پر شیردل نے معنی خیز مسکراہٹ سے اُس کی طرف دیکھا

“یہ علامت تو خطرے کی گھنٹی دے رہی ہے دلاور کہیں تم عشق و عاشقی کے چکر میں تو نہیں پڑ گئے بہت برا روگ ہوتا ہے یہ دیمک کی طرح انسان کو اندر ہی اندر چاٹ جاتا ہے اگر اپنے محبوب تک رسائی ممکن نہ ہو تو پھر انسان کہیں کا نہیں رہتا سوچ سمجھ کر اس چکر میں پڑنا میرے دوست”

شیردل اسے مشورہ دیتا ہوا بولا اور لائٹر سے سیگریٹ جلانے لگا شیردل کی بات پر دلاور تلخی سے مسکرایا

“کون کافر چاہتا ہے کہ وہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہوجائے یا کوئی روگ اسے لاحق ہوجائے جس کے بعد وہ کسی کام کا نہ رہے یہ جذبہ ہی ایسا ہے کہ کب انسان کو اپنے رنگ میں رنگ لے بندے کو معلوم ہی نہیں ہوتا لیکن دلاور نے شروع میں ہی اپنے دل کو لگامیں ڈال دی ہیں مالک دلاور بےشک حیثیت میں معمولی انسان ہو مگر اندر سے بہت مضبوط اور سخت دل ہے اپنی سوچوں کو اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا اچھی طرح جانتا ہے”

دلاور شیردل کو بولتا ہوا اپنے ذہن سے مشی کی سوچوں کو جھٹکنے لگا ویسے بھی جہاں رسائی ناممکن ہو اس کو سوچنا کیوں دلاور اپنے دل کو سمجھانے لگا

“دلاور تم نے اپنی تعلیم کیوں آدھوری چھوڑ دی تھی، اگر آج تمہاری تعلیم مکمل ہوتی تو تمہیں میری یا کسی دوسرے کی غلامی نہیں کرنا پڑتی میرا مطلب

شیردل بات کا رخ بدلتا ہوا دلاور سے بولا

“آپ کا مطلب میں اچھی سمجھ گیا ہوں مالک مگر وقت اور حالات کبھی بھی انسان کے ایک جیسے نہیں رہتے بابا سائیں کو اپنی زمینوں سے بہت محبت تھی جو ہما (بڑی بہن) کی شادی اور امی کی بیماری کے باعث انہیں گروی رکھنا پڑی ان زمینوں کے ہی چکر میں میرے بڑے بھائی کا خون ہوگیا سگے چچا نے زمینوں کی لالچ میں میری بڑی بہن کو اپنے گھر کی بہو بنایا تھا اپنی زمین کا آدھے سے زیادہ حصّہ بابا سائیں کو ہما کے شوہر کے نام کرنا پڑا امی اور بڑے بھائی کے دنیا سے جانے کے بعد بابا سائیں نے بھی زندگی کی خوشیوں سے منہ موڑ لیا وہ صرف زرش اور میرے لیے ہی زندہ ہیں”

دلاور کی بات سن کر شیردل خاموش ہوگیا یہ سارے وہ حالات تھے جو شیردل پہلے سے جانتا تھا جیسے دلاور سے اس کا ماضی اور بچپن کچھ ڈھکا چھپا نہیں تھا شیردل نے شروع میں دلاور کی مدد بھی کرنی چاہی مگر دلاور کی خوداری نے اسے اجازت نہیں دی کہ وہ شیردل سے مدد لیتا

“میں نے کبھی بھی تمہیں کمتر یا اپنا ملازم نہیں سمجھا دلاور تم ان لوگوں میں سے ہو جن کو میں نے اپنی زندگی میں اہمیت دی ہے جو میری نظر میں خاص ہیں یہاں تک کہ میرے سگے والدین کو بھی یہ مقام حاصل نہیں ہے ان دونوں نے اپنی اپنی شادی شدہ زندگی کے بعد بھی اپنی پسنددیدہ زندگی کو ترجیح دی بانسبت اپنی اولاد کے تمام تر آسائشات کے باوجود میرا اور مشی کا بچپن کافی ادھورا گزرا بغیر ماں باپ کی محبت اور توجہ کے، سمجھ نہیں آتا ان محرومیوں کا بدلہ کس لو مرے ہوئے باپ سے یا پھر اُس سگی ماں سے جس کو آج بھی مجھ سے مشی کی ذات سے کوئی سروکار نہیں صرف ایک مشی ہے میری زندگی میں جو مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے”

شیردل تلخی سے بولتا ہوا سیگریٹ کا ٹکڑا ہوا میں اچھال کر نیچے پھینک چکا تھا جس کے بعد ان دونوں کے درمیان خاموشی حائل ہوگئی جس سے توڑتا ہوا شیردل دلاور سے بولا

“دلاور مجھے کیسے بھی وہ لڑکی چاہیے”

شیردل پُر سوچ انداز میں دلاور سے بولا تو دلاور نے چونک کر اسے دیکھا

“وہی لڑکی جس کی گاڑی کا پیچھا کرنے کے باوجود اُس کا معلوم نہیں ہوسکا”

دلاور شیردل سے پوچھنے لگا ایسا پہلی بار تھا جب اُس کا مالک کسی لڑکی کو ذہن میں رکھے بیٹھا تھا

“بالکل وہی لڑکی جب تک میں اپنے گال پر پڑنے والے تھپڑ کا اس سے بدلہ نہ لےلو تب تک اُس کا چہرہ میری سوچوں میں آکر مجھے غصّہ دلاتا رہے گا”

شیردل دلاور سے بولتا ہوا کرسی سے اٹھ گیا

“اگلے ہفتے کے بعد ہمیں بزنس ڈیل کے سلسلے میں ملیشیاہ جانا ہے اگر تمہیں گاؤں جانا ہے تو کل جاکر اپنے بابا سائیں اور بہن سے مل آؤ”

شیردل دلاور سے بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا جبکہ دلاور وہی بیٹھا مشی کمرے کی جلتی ہوئی لائٹ کو دیکھنے لگا

***

وہ دلہن کے لباس میں تیار بیڈ پر بیٹھی ہوئی حسام کی آمد کا انتظار کررہی تھی فہیم کی خوشی کی خاطر اس نے حسام سے نکاح کرکے اپنا آپ اُس کے نام کردیا تھا تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا تو حسام کمرے کے اندر داخل ہوا قدموں کی آہٹ پر ہانیہ سر اٹھا کر حسام کو دیکھنے لگی

“آج آپ کو دیکھ کر مجھے اپنی خوش قسمتی پر یقین آچکا ہے ورنہ کل تک مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی یونہی بےمقصد گزر جاۓ گی”

حسام بیڈ پر ہانیہ کے قریب بیٹھتا ہوا اُس سے بولا اور اُس کا مہندی لگا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اِس سے پہلے وہ ہانیہ کا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جاتا ہانیہ بےساختہ اُس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپائے رونے لگی

“آ۔۔۔ سوری آپ کو شاید برا لگا میرا اس طرح آپ پر حق جتانا میں سمجھ سکتا ہوں آپ دلی طور پر اِس رشتے کے لئے تیار نہیں ہوگئی میں نے آپ کے فادر کو سمجھانا چاہا تھا کہ میں حیثیت میں بہت کم تر ہوں آپ کی بیٹی کے قابل نہیں مگر انہوں نے

حسام ہانیہ کو روتا ہوا دیکھ کر معذرت طلب انداز میں بولا تو ہانیہ اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر آنسو صاف کرنے لگی

“ایسی بات نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں دراصل میں بابا کی بیماری کی وجہ سے پہلے ہی کافی ٹینس تھی اوپر سے بابا کے اصرار پر اتنی جلدی شادی بس اچانک آئی اس تبدیلی کو فوری طور پر قبول نہیں کر پارہی ہوں آپ اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں کے میں اسٹیٹس کونشیس ہو یا پھر آپ سے شادی کرکے خوش نہیں ایسا کچھ نہیں”

ہانیہ حسام کی غلط فہمی دور کرتی ہوئی اسے بتانے لگی تاکہ وہ اُس کے بارے میں پہلی ہی رات میں کوئی غلط رائے قائم نہ کرلے

“آپ اپنے فادر کی طرف سے پریشان مت ہوں اللہ نے چاہا تو فہیم صاحب جلد صحت یاب ہوجائیں گے آپ کی سوچ اور خیالات جان کر حیرت کے ساتھ خوشی ہورہی ہے مجھے ورنہ اتنی خوبصورت لڑکی جو امیر و کبیر بھی ہو وہ ایسی سوچ رکھے یقین نہیں آرہا”

حسام اُس کا حسین روپ دیکھتا ہوا بولا اگر سوچا جائے تو آج سہی معنوں میں اس کے نصیب کھل گئے تھے خوبصورت امیر و کبیر بیوی اگر اُس کا جواری بھائی اور لالچی رشتے دار دیکھ لیتے تو جل کر خاک ہوجاتے

“آپ بار بار مالی حیثیت کے فرق کو بیچ میں مت لائیے اب میرا تعلق آپ سے جڑ چکا ہے جو آپ کی حیثیت ہے اُسی حیثیت سے میں پہچانی جاؤنگی”

ہانیہ کو بار بار حسام کا خود کو کم تر بولنا عجیب سا لگا تبھی وہ اُس کو ٹوکتی ہوئی بولی لیکن اُس کے بولنے پر حسام اسے جن نظروں سے دیکھنے لگا ہانیہ نے گھبرا کر اپنی نظریں جھکالیں

“جتنی پیاری باتیں کرتی ہیں آپ اتنی ہی خوبصورت شکل وصورت کی مالک ہیں اگر آپ برا نہ مانے تو میں آپ کو تھوڑا نزدیک سے دیکھ سکتا ہوں”

یہ سونے کی چڑیا جو قسمت سے اُس کے ہاتھ لگ گئی تھی اُس کا حسن دیکھ کر حسام کا دل بےایمان ہونے لگا ہانیہ اُس کی بات سن کر خاموش ہوچکی تھی حسام نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر ہانیہ کا ہاتھ تھامنا چاہا تبھی حسام کا سیل فون بجنے لگا

“ایکسکیوزمی”

موبائل کی اسکرین پر مہرین کا نمبر دیکھ کر حسام ہانیہ کو بولتا ہوا بیڈروم سے باہر نکل گیا

“اِس وقت کال کرنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں میرا بنا بنایا سارا کھیل بگاڑ دو گی تم”

حسام کال ریسیو کرنے کے ساتھ ہی آہستہ آواز میں غُراتا ہوا مہرین سے بولا کیونکہ یہ فہیم کا گھر تھا اور نوکروں کی چہل پہل نے پہلے ہی اُسے محتاط کردیا تھا

“تمہیں یاد دلانے کے لیے کال کی ہے حسام اگر تم آج رات اپنی بیوی کے قریب گئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا میں تمہیں کسی دوسری عورت کے ساتھ شئیر نہیں کرسکتی جلد سے جلد اپنا مفاد پورا کرو اور لوٹ کر واپس آؤ میرے پاس”

مہرین کی غصّے سے بھری آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی تو حسام دل بھر کر بےذار ہوا

“ارے میری بیوقوف سی محبوبہ تم اچھی طرح جانتی ہو میں صرف تم سے ہی محبت کرتا ہوں اور تم ہی سے شادی کرو گا تمہاری اور اپنی لائف بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے میں نے لیکن اگر تم ایسے ہی رات کو کالز کرتی رہی تو اُس لڑکی کو اور اُس کے باپ کو شک ہوجائے گا اور ہاتھ میں آنے والا مال یونہی چلا جائے گا تمہارے سر کی قسم کھا کر بول رہا ہوں میں نے تو اُس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی دیکھوں گا اب غُصّہ کرنا بند کرو میں واپس کمرے میں جارہا ہوں”

وہ مہرین کو بہلاتا ہوا واپس کمرے میں آیا تو ہانیہ وارڈروب سے اپنے لئے کپڑے نکال رہی تھی

“سوری وہ میرے دوست کی کال آگئی تھی وہ شادی میں شرکت نہیں کرسکا تھا تو مبارکباد دینے کے لیے اُس نے کال ملالی تھی آپ کپڑے کیوں تبدیل کرنے لگ گئی کیا آپ کو برا لگا میرا کمرے سے جانا”

حسام ہانیہ کا بغور جائزہ لیتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا

“نہیں برا ماننے والی کیا بات ہے ایسی تو کوئی بات نہیں دراصل میں کافی تھک گئی تھی تو میں نے سوچا چینج کرلو اگر آپ بولتے ہیں تو میں یہی ڈریس پہنے رہتی ہوں”

ہانیہ حسام کو دیکھتی ہوئی بولی لیکن آج وہ ذہنی طور پر اتنی پریشان تھی کہ اس وقت صرف آرام کرنا چاہتی تھی

“آپ کی تابعداری نے تو دل جیت لیا میرا آپ لباس تبدیل کرکے آجائیں صرف آپ سے آپ کو تھوڑا سا وقت اپنے لئے لوں گا اگر آپ کی مرضی اور اجازت ہوئی تو”

اس وقت وہ مہرین کو بھولتا ہوا بہکی نگاہوں سے ہانیہ کو دیکھتا ہوا بولا تو ہانیہ بناء کچھ بولے سر جھکاتی ہوئی کپڑے تبدیل کرنے واش روم چلی گئی

“حسام سمجھ لیں بیٹا تیرا اچھا ٹائم شروع ہوچکا ہے سوری مہرین میری بیوقوف سی محبوبہ رکھو گا تو میں تمہیں ہی اپنے پاس لیکن وقتی طور پر اِس حسن کی دیوی کے قریب سے دیدار کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کون سا تمہیں کچھ معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا حسام اصل میں کتنا بڑا کمینہ ہے”

حسام بولتا ہوا نرم سے بستر پر جاکر لیٹ گیا تو ہانیہ کپڑے تبدیل کرکے واپس آئی سادہ سے قمیض شلوار میں وہ بناء میک اپ کے اور بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی

“ایک دفعہ میں تو دل بھی نہیں بھرے گا لگ رہا ہے تھوڑا عرصہ مزید ڈرامہ کرنے پڑے گا گھر داماد بننے کا”

حسام بہکی بہکی نگاہوں سے ہانیہ کے روپ کو دیکھتا ہوا دل ہی دل میں سوچنے لگا ہانیہ جو اس کی نگاہوں سے بےحد کنفیوز ہورہی تھی اُس کے دل کی عجیب سی کیفیت ہونے لگی نہ جانے کیوں آج اُس کا دل بری طرح گھبرا رہا تھا

“آپ رک کیوں گئیں یہاں آجائیے”

حسام بیڈ سے اٹھ کر ہانیہ کے پاس آتا ہوا اس سے بولا وہ اس کے قریب آیا تو اچانک کمرے کا دروازہ زور سے بجنے لگا ہانیہ جو پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی بےساختہ اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا

“فہیم صاحب کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے ابھی انہیں خون کی اتنی بڑی الٹی ہوئی ہے وہ کافی نڈھال سے لگ رہے ہیں”

ملازم گھبراتا ہوا ہانیہ سے بولا

“بابا”

ہانیہ بناء حسام کی طرف دیکھے فہیم کو پکارتی ہوئی کمرے سے بھاگی مجبوراً حسام کو بھی اُس کے پیچھے فہیم کے کمرے میں جانا پڑا

***

“کہا گیا ہے شیر بتائے بغیر کتنے غصّے میں تھا تمہیں بھی ساتھ لےکر نہیں گیا فون کرکے پوچھو دلاور کہاں ہے وہ میرا تو دل ہولے جارہا ہے”

ہال کے چکر کاٹتی رملہ دلاور سے بولی جو وہی کھڑا تھا رملہ کی بات پر وہ دوبارہ شیردل کو کال ملانے لگا گھنٹہ بھر پہلے وہ اچھا خاصا گھر میں موجود تھا مگر اچانک شیردل کے موبائل پر کسی کی کال آئی تھی جس کے بعد وہ غصّے میں بھرا ہوا بغیر کسی کو کچھ بتائیے یا دلاور کو اپنے ساتھ لیے گھر سے نکل گیا تھا

“مالک کال نہیں اٹھا رہے آپ پریشان مت ہو میں جاکر خود معلوم کر کے آتا ہوں”

دلاور رملہ کو پریشان دیکھ کر اُس سے بولا اُس کا ارادہ آفس جانے کا تھا مگر تبھی اُسے کاریڈور سے مشی کی روتی ہوئی آواز آئی جس پر دلاور چونکا رملہ بھی ایک دم مشی کی آواز پر متوجہ ہوئی

دلاور کو حیرت کا جھٹکا لگا شیردل غصّے میں مشی کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹا ہوا اپنے ساتھ ہال میں لارہا تھا اور مشی کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا

“شیر یہ سب کیا ہے”

رملہ حیرت میں ڈوبی شیردل سے بولی شیردل نے غصّے میں مشی کو رملہ کی طرف دھکیلا رملہ نے ایک دم مشی کو تھام لیا

“پوچیں اس سے کیا کرتی پھر رہی ہے یہ کالج میں”

وہ غصّے بھری آواز میں زور سے دھاڑا تو رملہ کے ساتھ دلاور بھی شیردل کے بعد مشی کو دیکھنے لگا جو بدستور روۓ جارہی تھی

“ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اِس نے پڑھائی کے نام پر آج کے بعد اِس کا کالج جانا بند کہیں باہر آنا جانا بند نہ ہی اِس سے کوئی گھر میں ملنے آئے گا اور نہ ہی یہ گھر سے باہر نکلے گی”

شیردل روتی ہوئی مشی کو دیکھ کر شدید غصّے میں زور سے چیختا ہوا بولا

“آخر ایسا ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ تو سہی”

رملہ شیردل کو غصّے میں دیکھ کر آئستہ آواز میں پوچھنے لگی جبکہ دلاور کی نظریں ابھی تک مشی کے روتے ہوئے چہرے پر جمی تھیں جو ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بےتحاشہ رو رہی تھی

“عاشقیاں چل رہی ہیں اِس کی کالج میں کسی بےغیرت لڑکے کے ساتھ یہ سب آپ کی ڈھیل کا نتیجہ ہے، ہوتی اگر اِس کی جگہ آپ کی سگی بیٹی تو اُس کی پرورش بھی ایسے ہی کرتیں آپ”

شیردل کے طعنے پر جہاں رملہ کا دل چھلنی ہوکر رہ گیا وہی عاشقی کی بات پر دلاور ضبط کرتا رہ گیا جبکہ مشی روتی ہوئی ایک دم اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹاکر بولی

“وہ بےغیرت نہیں ہے محبت کرتا ہے مجھ سے شادی کرے گا میرے ساتھ”

جیسے ہی مشی نڈر انداز میں بولی شیردل آگ بگولہ ہوتا مشی کی طرف بڑھا اِس سے پہلے اُس کے ہاتھ کا کرارا تھپڑ مشی کے گال پر پڑتا رملہ بیچ میں آگئی

“شیر پلیز”

وہ شیردل کا ہاتھ پکڑتی اُسے پیچھے ہٹاتی بولی جبکہ دلاور ضبط سے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بھینچ گیا

“اگر اب اِس نے گھر سے باہر اپنے قدم نکالے تو میں اِس کی دونوں ٹانگیں توڑ ڈالوں گا اور ساتھ ہی اُس لڑکے کے ٹکڑے کر ڈالوں گا قابو میں کرکے رکھیں اِسے”

شیردل رملہ کو وارن کرتا بولا اور تن فن کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا دلاور بھی خاموشی سے بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا

***

“بیٹا آپ کیوں اتنا پریشان ہورہی ہیں اب میں بالکل ٹھیک ہوں میری جان جائیے جاکر اپنے کمرے میں ریسٹ کریں”

تین دن اسپتال میں ایڈمٹ رہنے کے بعد آج فہیم گھر آگیا تھا تین دن سے ہانیہ اسپتال میں فہیم کے ساتھ ہی موجود تھی وہ فہیم کو ایک پل کے لئے بھی اکیلا چھوڑنے کو تیار نہیں تھی یہاں تک کہ تین دن سے وہ یہ تک بھولی ہوئی تھی کہ حسام سے اس کا کتنا حساس اور قریبی رشتہ جڑ چکا تھا

“میں پریشان نہیں ہوں بابا اور اپنے روم میں جاکر مجھے بالکل اطمینان نہیں آئے گا میں یہی ٹھیک ہو آپ کے پاس آپ کے روم میں”

اسے اندر سے انجانہ سا خدشہ گھیرے ہوۓ تھا کہ اُس کا باپ اسے اکیلا چھوڑ کر نہ چلا جائے اِس لیے وہ فہیم کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتی تھی ابھی بھی وہ فہیم کو انکار کرتی ہوئی بولی اور فہیم کے سرہانے بیڈ پر بیٹھ گئی

“بیٹا آپ بھول رہی ہیں اب آپ شادی شدہ ہی حسام کو بھی آپ کی توجہ کی ضرورت ہوگی آپ مسلسل تین دن سے صرف میرے پاس ہیں آپ کو حسام کا بھی خیال کرنا چاہیے”

فہیم ہانیہ کو پیار سے سمجھاتا ہوا بولا کمرے میں حسام کے قدم وہی رک گئے

“حسام بہت اچھے ہیں بابا وہ بات کو سمجھنے والے انسان ہیں مجھے امید ہے وہ اِس بات کا برا نہیں مانیں گے کہ ابھی میں آپ کو ٹائم دیتی ہوں وہ اس بات کو سمجھتے ہوگے کہ اِس وقت میری ضرورت کس کو زیادہ ہے”

ہانیہ فہیم کو اطمینان دلانے کی غرض سے بولی جبکہ کمرے سے باہر کھڑا حسام ہانیہ کی بات پر بری طرح جل گیا

“سر کیسی طبیعت ہے اب آپ کی معذرت میں آپ کو اسپتال سے واپس گھر لانے کے لیے نہیں آسکا دراصل آفس میں آج کام کا برڈن بہت زیادہ تھا انصاری صاحب بھی آفس نہیں آئے تھے تو سب کچھ مجھے ہی دیکھنا پڑا اور سنبھالنا پڑا”

حسام کمرے میں آنے کے ساتھ ہی فہیم کو اپنے اسپتال نہ آنے کی وجہ بتانے لگا تین دن سے آفس اسی نے سنبھالا ہوا تھا سنبھالا ہوا کیا تھا جتنا ہیر پھیر کر کے وہ اپنا اکاؤنٹ بھر سکتا تھا وہ بھر چکا تھا اب اسے چیدہ چیدہ چیزیں سمیٹ کر اپنے نام کروانی تو اور یہاں سے نکلنا تھا

“کوئی بات نہیں بیٹا میں ڈرائیور اور ہانیہ کے ساتھ آرام سے گھر پہنچ گیا تھا آفس تو اب مستقل تمہیں ہی دیکھنا ہے آفس کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور آفس کے ساتھ ساتھ تمہیں ہانی کا بھی خیال رکھنا ہے بلکہ یوں سمجھ لو آفس سے بڑی ذمہ داری تمہارے اوپر میری بیٹی کی ہے تم اِس کا بہت زیادہ دھیان رکھنا آگے بھی”

فہیم حسام سے بولنے لگا تو ہانیہ فہیم کی بات پر اداس ہونے لگی

“آپ فکر نہیں کریں سر میں کبھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا آپ اپنی بیماری کو لے کر پریشان مت ہو، آپ بہت جلد صحت یاب ہوجائیں گے ہانیہ کی طرف سے آپ بالکل مطمئن ہوجائیں یہ اب میری ذمہ داری ہیں میں ان کا آگے بہت اچھے طریقے سے خیال رکھوں گا بلکہ میں تو ہانیہ کے خیال سے، اپنے اور ہانیہ کے لیے ٹکٹ بھی بُک کروا لیے ہیں کل ہماری ملیشیا کے لیے فلائٹ ہے ہانیہ اور میرا جب ایک ساتھ وقت گزرے گا تب ہی ہم دونوں اچھے سے ایک دوسرے کو سمجھ سکیں گے جان جائیں گے اور ہانیہ کا دل بھی بہل جائے گا اِسی بہانے”

حسام فہیم کو بتانے لگا تو ہانیہ اُس کی بات سن کر حیرت زدہ سی حسام کو دیکھنے لگی اور بےساختہ ہی بولی

“حسام ہم ابھی ملیشیا کیسے جاسکتے ہیں بابا کی طبیعت بہتر نہیں ہے میں بابا کو چھوڑ کر کہیں بھی جانے کا سوچ ہی نہیں سکتی فل الحال”

ہانیہ کے ایک دم بولنے پر حسام بالکل خاموش ہوگیا فہیم فوراً بول پڑا

“آپ کو کس نے کہہ دیا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اب میں بالکل ٹھیک ہوگیا ہوں اور ڈاکٹر کی اجازت پر ہی اسپتال سے گھر آیا ہوں بیٹا کل آپ حسام کے ساتھ ملیشیا جارہی ہیں، میں آپ سے اِس بات کا بالکل انکار نہیں سنوں گا یہی دن ہوتے ہیں انجوائے کرنے کے ایک دوسرے کو سمجھنے کے اور ایک دوسرے کو جاننے کے حسام بیٹا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے ہانیہ کو لے کر گھومو پھرو بیٹا میں خوش ہی تو دیکھنا چاہتا ہوں آپ دونوں کو ایک ساتھ”

فہیم کی بات پر حسام خوشی سے مسکرا دیا جبکہ ہانیہ خاموشی سے سر جھکا گئی

***

“وہ مجھے پسند کرتا ہے شادی کرنا چاہتا ہے مجھ سے ماما میں اُس کے ساتھ خوش رہو گی اِس لیے نہیں کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے یا مجھے پسند کرتا ہے بلکہ اِس لئے کہ میں بھی اُس کو پسند کرتی ہوں پسند بہت چھوٹا سا لفظ ہے میں دانیال سے محبت کرتی ہوں”

مشی رملہ کی گود میں سر رکھے اُسے دانیال کے لئے اپنے احساسات بتانے لگی جبکہ کمرے کے دروازے پر کھڑا دلاور مشی کے جملے پر وہی تھم گیا دل تھا کہ بری طرح ٹوٹ کے چکنا چور ہوچکا تھا

“مشی تم شیر کو اچھی طرح جانتی ہو وہ پچھلے تین دن سے کس قدر غُصّے میں ہے اگر اُس نے تمہارے منہ سے اُس لڑکے کا نام دوبارہ سن لیا یہ تم بھی جانتی ہو گھر میں کتنا بڑا طوفان برپا ہوجائے گا پلیز بھول جاؤ اُس لڑکے کو”

رملہ پیار سے اُس کے بال سہلاتی ہوئی مشی کو سمجھانے لگی جس پر مشی نے اُس کی گود سے سر اٹھایا اور اٹھ کر بیٹھ گئی

“کیسے بھول جاؤں اُس کو جس سے محبت کی جاتی ہے اُن کو بھول جانا آسان ہوتا ہے آپ بھائی کے غصّے سے مجھے ڈرا کر اپنی محبت سے دستبردار ہونے کا کہہ رہی ہیں کیا اگر میری جگہ یہاں آپ کی سگی بیٹی ہانیہ ہوتی تو کیا آپ اُسے بھی ایسے ہی بولتی کہ اپنے دل کو مار لوں اپنی خوشیوں کو قربان کر ڈالو”

مشی روتی ہوئی رملہ سے بولی جبکہ رملہ افسوس سے مشی کو دیکھنے کے بعد دروازے پر کھڑے دلاور کو دیکھنے لگی جو نہ جانے کس کام سے اُس کے کمرے میں آیا تھا اور اب سرخ آنکھیں لیے خاموشی کی مشی کی باتیں ضبط کرتا سن رہا تھا رملہ کو دروازے کی جانب دیکھتا پاکر مشی بھی مڑ کر دروازے پر دیکھنے لگی دلاور کو کھڑا دیکھ کر اُسے غصہ آنے لگا وہ شدید غصّے میں بیڈ سے اتر کر چلتی ہوئی دلاور کے پاس آئی

“کیا سن رہے ہو یہاں کھڑے ہوکر، تمہی نے بتایا ہے ناں بھائی کو دانیال کے بارے میں اب بہت مزہ آرہا ہوگا تمہیں مجھے روتا ہوا اور بےبس دیکھ کر کہ تم پر حکم چلانے والی بی بی آج خود اپنی محبت کے لئے چیختی ہوئی اپنی محبت کی فریاد کررہی ہے خوش ہوجاؤ تم اور یہاں سے جاکر بھائی کو بتاؤ ساری باتیں لیکن ایک بات میری یاد رکھنا میں دانیال سے محبت کرتی ہوں اور شادی کرو گی تو صرف اسی سے کرو گی کیو چپ کھڑے ہو جاؤ یہاں سے چلے جاؤ”

مشی نے غصّے میں دلاور کے سر پر کھڑے ہوکر نہ صرف اُس کو باتیں سنائی بلکہ آخری جملے پر اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھوں سے پیچھے دھکیل کر دروازہ بھی بند کر ڈالا

“مشی کیا ہوگیا ہے تمہیں بیٹا خود کو سنبھالو اِس طرح خود کو کیوں تکلیف دے رہی ہو”

رملہ مشی کے سخت رویے کو دیکھ کر اٹھ کر اس کے پاس آکر مشی کو گلے لگاتی ہوئی بولی تو مشی رملہ کے گلے لگ کر رونے لگی

“آپ بھائی کو سمجھائے ماما اُن کو بولیں کہ وہ دانیال کے لیے مان جائے پلیز آپ ان سے بات کریں میری خاطر اگر آپ کو مجھ سے پیار ہے تو”

مشی روتی ہوئی رملہ سے بولی

“اچھا میں بات کروں گی اس سے اب خاموش ہوجاؤ”

رملہ مشی کو چپ کرواتی ہوئی بولی مگر وہ اچھی طرح جانتی تھی اگر وہ مشی کی خاطر شیردل سے بات بھی کرلیتی تب بھی شیردل کبھی اس بات کے لئے راضی نہیں ہوتا جس بات سے وہ ایک بار انکار کرچکا تھا

***

گال پر پڑنے والے زوردار طماچے سے وانیہ کا گال بری طرح جل اٹھا وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے دانیال کو دیکھنے لگی جو اب اس کے بالوں کو بےدردی سے اپنی مٹھی میں بھرچکا تھا

“کیوں بتایا تم نے مشی کے بھائی کو میرے اور مشی کے متعلق جواب دو”

دانیال غصّے میں وانیہ کے بال مٹھی میں پکڑے اس سے پوچھنے لگا

“شکر کرو کہ صرف تمہارے اور مشی کے متعلق ہی بتایا ہے یہ نہیں بتایا کہ تم اس کی بہن کے ساتھ کیا کرنے والے ہو میں تمہیں ایک اور لڑکی کی زندگی برباد کرنے نہیں دوگی آآ چھوڑو میرے بال”

وانیہ کرہاتی ہوئی دانیال سے بولی تو دانیال نے جھٹکے سے اُس کے بال چھوڑے وہ فرش پر جاگری

“اگر تم نے مشی اور میرے معاملے کے بیچ ٹانگ اڑائی یا کسی سے کوئی بکواس کی تو یاد رکھنا جو تمھاری تصویں میرے پاس موجود ہیں ان کے ساتھ میں وہ کروں گا جسے دیکھنے کے بعد تمہاری زندہ رہنے کی خواہش ہمیشہ کے لیے دم توڑ دے گی”

دانیال اس کو دھمکاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا

***

فلائٹ میں وہ سارا وقت خاموش رہی تھی حسام اس سے کچھ بات کرنے کی کوشش کرتا تب ہانیہ ہاں ہوں میں جواب دے دیتی حسام نے اسے ٹوکا بھی کہ وہ خود سے کچھ بات کرے مگر ہانیہ کے پاس فلالحال اپنے باپ کے علاوہ کوئی اور دوسرا ٹاپک نہیں تھا جس پر وہ حسام سے بات کرتی حسام کو محسوس ہوا وہ اچھی خاصی بور کردینے والی لڑکی تھی اُس کی باتوں سے حسام کافی مایوس ہوا تھا مگر اسے ہانیہ کو یہاں لاکر اپنا مقصد پورا کرنا تھا

“لگ رہا ہے تم کافی تھک گئی ہوگی”

کیپ ہوٹل کے پاس اگر رکی تو حسام ہانیہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا

“جی رات میں صحیح طریقے سے نیند نہیں لے سکی تھی اس لئے تھوڑی دیر ریسٹ کرو گی”

ہانیہ آئستہ آواز میں حسام سے بولی وہ اداس تھی فہیم کو یوں بیماری کی حالت میں چھوڑ کر آنے پر اُس کا لہجہ کافی تھکا تھکا سا تھا

“ہاں ہم اسی لئے تو یہاں اتنی دور آئے ہیں کہ تاکہ تم ریسٹ کرسکو”

حسام کا عجیب طنزیہ لہجہ ہانیہ کو اچھا خاصا محسوس ہوا ہانیہ حسام کا چہرہ دیکھنے لگی

“ارے لگتا ہے تم میری بات کو محسوس کرگئی میں نے مذاق میں بولا تھا چلو اب اندر چلتے ہیں روم میں نے پہلے ہی بک کروا لیا تھا”

حسام ہانیہ کو بہلاتا ہوا بولا یہ بھی اچھا تھا کہ وہ اسی فلائٹ میں مہرین بھی یہاں لے آیا تھا اِس لڑکی کے سونے کے بعد کم از کم وہ مہرین کے ساتھ ہی ہنی مون بنالیتا

***

“میٹنگ تو اچھے سے ہوگئی مالک آگے کیا حکم ہے مزید ٹہرنا ہے یا پھر واپسی کے لیے فلائیٹ بک کروالو”

دلاور ہوٹل کے لابی میں شیردل کی ہمراہ چلتا ہوا شیردل سے اُس کا ارادہ پوچھنے لگا وہ شیردل کے ساتھ ضروری میٹنگ کے سلسلے میں ملیشیا آیا تھا

“یہاں رہ کر کون سا ضروری کام کرنا ہے رات یہ شام کی جو فلائٹ آویلیبل ہو تو نکلتے ہیں پھر”

شیردل دلاور سے بول رہا تھا مگر سامنے سے آتی لڑکی کو دیکھتے ہی وہ وہی رک گیا، وہ لڑکی آج پھر اُس کو قسمت سے مل گئی تھی مگر اُس کے ساتھ موجود یہ لڑکا؟

“مالک کیا ہوا سب خیریت ہے”

شیردل کو ایک دم رکتا دیکھ کر دلاور اس سے پوچھنے لگا ساتھ ہی اس نے شیردل کی نظروں کے تعاقب میں سامنے آتے کپل کو دیکھا وہ دونوں لڑکا لڑکی بھی شیردل کے یوں دیکھنے پر اسی کو دیکھتے ہوئے ہوٹل کے اندر جاچکے تھے

“یہ لڑکی دلاور یہ وہی لڑکی ہے مجھے جس کی تلاش تھی سنو یہ لڑکی مجھے چاہیے کسی بھی قیمت پر”

شیردل دلاور کو دیکھتا ہوا بولا تو دلاور اُسے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگا

“لڑکی چاہیے مگر کس لئے مالک”

دلاور اِس بات سے واقف تھا مہینے دو مہینے بعد کسی ایسے ہی ٹرپ پر شیردل کی “ایسی” ڈیمانڈ ہوتی مگر شیردل نے ایسی ڈیمانڈ آج تک کسی شادی شدہ لڑکی کے لیے نہیں کی تھی نہ ہی کسی مجبور لڑکی کا فائدہ اٹھایا تھا اور یہ لڑکا لڑکی دکھنے سے ہی نیا شادی شدہ جوڑا لگ رہا تھا

“لڑکی کس لئے چاہیے ہوتی ہے دلاور کیا تمہیں بتانا پڑے گا”

دلاور کے پوچھے گئے عجیب سے سوال پر شیردل جتاتی ہوئی نظروں سے اُسے جواب دیتا پوچھنے لگا

“میرا مطلب تھا مالک وہ لڑکی ویسی نہیں لگ رہی شادی شدہ لگ رہی ہے”

دلاور ہانیہ کے ہاتھوں پر لگی مہندی اور اس کے ساتھ حسام کو دیکھتا ہوا اپنے اندازے سے شیردل سے بولا

“وہ لڑکی ویسی ہو یا نہ ہو شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ دلاور یہ لڑکی مجھے ایک رات کیلئے چاہیے جاؤ اس کے شوہر سے بات کرو اور ہم آج پاکستان واپس نہیں جارہے ہیں”

شیردل دلاور کو حکم دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ دلاور وہی کھڑا حیرت ذدہ سا شیردل کی بات کو سوچنے لگا

***

“کون تھا وہ آدمی کیسی عجیب سی نظروں سے گھور رہا تھا تمہیں کیا تم کو جانتا ہے وہ پہلے سے”

ہوٹل کے روم کے اندر آتے ہی حسام ہانیہ سے پوچھنے لگا

“مجھے نہیں معلوم حسام وہ کون تھا اور اِس طرح کیوں دیکھ رہا تھا مجھے میں اُس کو نہیں جانتی”

ہانیہ وہاں شیردل کو دیکھتے ہی پہچان چکی تھی لیکن وہ حسام کو اُس کے متعلق کیا بتاتی یہ بات تو اس نے فہیم کو بھی نہیں بتائی تھی اِسلیے شیردل کو پہچاننے سے انکار کرتی ہوئی بولی

“ہاں چھوڑو دفع کرو ہوگا کوئی ایسا کرو تم تھوڑی دیر ریسٹ کرلو، یہاں میرا ایک دوست بھی آیا ہوا ہے میں اُس سے مل کر آجاتا ہوں”

حسام نے ہانیہ سے اِس لئے دوسرا کوئی سوال نہیں کیا کہیں ہانیہ اُس کو شکی مزاج نہ سمجھے اور ویسے بھی مہرین اِسی ہوٹل کے دوسرے کمرے میں موجود تھی اگر حسام اُس کے پاس فوری طور پر نہیں جاتا تو مہرین کی کال حسام کے پاس آنے لگ جاتی اِس لیے وہ ہانیہ کو آرام کا بولتا ہوا مہرین کے پاس جانے کا ارادہ کرنے لگا

“حسام میرے ریسٹ کرنے پر آپ ناراض تو نہیں ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ وقت گزارو باتیں کرو تو ٹھیک ہے ریسٹ میں بعد میں کرلوں گی”

ہانیہ حسام کی ناراضگی کے خیال سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مروڑتی ہوئی اس سے بولی حسام اُس کی اِس معصوم سی ادا پر مسکرا دیا

“تمہیں معلوم ہے ہانیہ تم ظاہری طور پر خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت دل کی بھی مالک ہو ناراض نہیں ہوں میں تم سے تم ابھی ریسٹ کرلو رات میں ہم دونوں ایک ساتھ ڈھیر سارا وقت گزارے گے”

حسام کے بولنے پر ہانیہ نظریں جھکاگئی تب حسام کو کچھ یاد آیا وہ فوراً اُس سے بولا

“ارے ہاں یار ایک کام تو میں بھول ہی گیا”

حسام کچھ یاد کرتا ہوا بےتکلفی سے اُس سے بولا اور اپنے بیگ سے ایک فائل نکالنے لگا

“جاتے جاتے یہ فائل سر نے دی تھی تمہارے سائن چاہیے تھے اِن پیپرز پر تم ان پر جلدی سے سائن کردو تاکہ میں آج ہی ہی یہ ضروری ڈاکومینٹس واپس بھجوا دو”

حسام فائل اور پین ہانیہ کی طرف بڑھاتا ہوا بولا ہانیہ بہت سارے سوالات ذہن میں آنے کے باوجود خاموشی سے پیپرز پر سائن کرنے لگی وہ اپنے اور حسام کے رشتے میں اعتبار کا رشتہ تاعمر قائم رکھنا چاہتی تھی جبکے ہانیہ کو اتنے آرام سے پیپرز پر سائن کرتا دیکھ کر حسام کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی

“اب تم آرام سے آرام کرو میں تمہیں ابھی بالکل ڈسٹرب نہیں کرو گا”

حسام ہانیہ سے فائل لیتا ہوا بولا اس نے آگے بڑھ کر ہانیہ کے ماتھے پر بوسہ دینا چاہتا تبھی کمرے کا دروازہ ناک ہوا

“آپ کو روم نمبر 509 میں شیردل صاحب نے بلوایا ہے سر”

ویٹر حسام کے لئے پیغام لاتا ہوا اس سے بولا جسے سن کر حسام ہانیہ کو کچھ بولے بغیر وہاں سے چلاگیا

***

دلاور کے منہ سے ایسی بات سن کر حسام کو غصّہ آگیا جس کا اظہار کیے بغیر وہ شیردل کو عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے شیردل نے حسام کو دیکھا پھر وہ دلاور سے بولا

“دلاور قیمت دو اسے اِس کی بیوی کی ایک رات کی”

شیردل بات پر دلاور نے نوٹوں کی موٹی سی گڈی حسام کے سامنے رکھ دی جسے حسام چپ کرکے دیکھنے لگا شیردل اُس کے سامنے صوفے پر بیٹھا حسام کے چہرے کے تاثرات کو بغور دیکھ رہا تھا جبکہ دلاور وہاں خاموش کھڑا تھا

“وہ شریف لڑکی ہے کبھی بھی اس بات کے لئے تیار نہیں ہوگی”

حسام سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتا ہوا کمزور لہجے میں احتجاجاً بولا

“تو تم اپنی بیوی کو راضی کرو صرف ایک ہی رات کی بات ہے”

شیردل نے حسام سے بولتے ہوئے دلاور کو اشارہ کیا دلاور نے ایک اور نوٹوں کی موٹی گڈی حسام کے سامنے میز پر رکھی جس کے بعد حسام عجیب الجھن کا شکار ہوا اور ماتھے پر آیا ہوا پسینہ اپنی جیب سے رومال نکال کر صاف کرنے لگا بات صرف پیسوں کی نہیں تھی اچھی خاصی رقم اور فہیم کا سب کچھ جو ہانیہ کے نام تھا، وہ ہانیہ کے کاغذات پر سائن کروانے کے بعد اپنے نام کروا چکا تھا مگر سامنے بیٹھے شخص کے روعب کے زیرِ اثر حسام ذرا سا بھی احتجاج نہیں کر پایا تھا اور دلاور کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر حسام کی سٹی ویسے ہی گُم ہوچکی تھی وہ اندازہ لگا چکا تھا سامنے بیٹھا شخص ایک رات کے لیے اُس سے اُس کی بیوی چاہتا وہ عام انسان ہرگز نہیں تھا اور حسام فطرتاً کافی ڈرپوک آدمی تھا اُس نے فہیم کو چونا بھی اِسی وجہ سے لگایا تھا کیونکہ فہیم کے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اُس کی بیٹی کم عمر اور ایک کمزور سی لڑکی تھی

“کافی زیادہ سوچنے میں وقت ضائع کررہے ہو تم”

شیردل حسام کی خاموشی پر اُکتاۓ ہوۓ لہجے میں اسے جتاتا ہوا بولا

“بات وہ نہیں ہے دراصل میری اُس سے شادی کو زیادہ دن نہیں گزرے ہیں میں نے ابھی تک اُس کے ساتھ کوئی، میرا مطلب ہے وہ ابھی تک ان چھوئی ہے”

حسام بولتا ہوا خاموش ہوا تو شیردل کمینگی سے ہنسا

“مطلب پھر تو تمہیں دگنی قیمت ملنی چاہیے کیونکہ تم اپنی اَن چھوئی بیوی مجھے ایک رات کے لیے سونپ رہے ہو دلاور”

شیردل نے استزائیہ ہنستے ہوئے دلاور کو دوبارہ اشارہ کیا اُس نے حسام کے سامنے دو اور نوٹوں کی گڈی اچھال کر پھینکی جسے اُٹھاتے ہوئے حسام شرمندہ ہونے لگا

“یہاں ہوٹل کے ہی کمرے میں لے آنا اسے رات میں”

شیردل کی بات پر حسام اسے دیکھنے لگا اب شیردل کے چہرے پر پتھریلے اور سخت تاثرات تھے

“اگر آپ برا نہیں مانیں تو آپ آج رات میرے کمرے میں مطلب میری جگہ پر میرا مطلب ہے اُسے کسی طرح معلوم بھی نہ ہو اور آپ”

حسام کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ کس طرح شیردل سے یہ بات بولے مگر شیردل سیگریٹ پیتا ہوا حسام کی بات سن کر انجواۓ کرنے لگا جبکہ خاموش کھڑا دلاور حسام کو ناگوار نظروں سے اور شیردل پر افسوس بھری نظر ڈال کر سر جھٹک چکا تھا

***

زیب تن کی ہوئی نائٹی میں اپنا عکس سامنے آئینے میں دیکھ کر ہانیہ کو عجیب سا احساس ہونے لگا تھوڑی دیر پہلے ہی اُس نے حسام کے کہنے پر یہ نائیٹی پہنی تھی حسام خود اُس کا کمرے میں انتظار کررہا تھا اتنی جلدی شادی اور پھر یہ سب کچ ڈریسنگ روم میں کھڑی ہانیہ خود کو آنے والے وقت کے لئے اور نئی زندگی کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے لگی جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر وہ بیڈروم میں آئی تو کمرہ خالی تھا

“حسام”

اس نے حسام کو پکارا ہی تھا تبھی اس کی پشت پر کھڑے وجود نے ہانیہ کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی

“حسام یہ کیا کررہے ہیں آپ”

اُس نے حسام سے پوچھنا چاہا مگر وہ جواب دیئے بغیر ہانیہ کا رُخ اپنی جانب کرتا ہوا اُسے اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا ہانیہ اُس کے عمل پر بالکل خاموش ہوگئی۔۔۔ اپنے وجود کو نرم سے بستر پر محسوس کرنے کے بعد اُس نے اپنے وجود پر بھاری سا جھکاؤ محسوس کیا جس پر ہانیہ گہرا سانس لےکر رہ گئی

شیردل اپنی دسترس میں موجود اُس لڑکی کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا اپنے ہاتھوں کی انگلیاں اُس کے چہرے پر پھیرنے لگا،، جس پر ہانیہ بےچین ہونے لگی اُسی بےچینی کے باعث ہانیہ نے اپنا ہاتھ آنکھوں پر باندھی ہوئی پٹی کی طرف بڑھایا ہی تھا مگر اُس کا نازک سے نرم و ملائم ہاتھ شیردل اپنے سخت ہاتھ کی گرفت میں لےچکا تھا وہ ہانیہ کے ہاتھ پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتا ہوا ہانیہ کے ہونٹوں کو دیکھنے لگا

ہانیہ اپنے ہاتھ پر ہونٹوں کا لمس محسوس کرتی سمٹ کر رہ گئی یہ اُس کی زندگی میں پہلا ایسا لمحہ تھا جس پر وہ شرم سی محسوس کررہی تھا پہلی بار کسی مرد نے اُسے پورے استحقاق سے چھوا تھا۔۔۔ شیردل ہانیہ کے چہرے کے تاثرات دیکھتا ہوا عجیب سے انداز میں مسکرای وہ مزید ہانیہ کو نروس کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کی انگلیاں اُس کی گردن سے نیچے تک لے گیا

جس پر ہانیہ کے کان کی لہویں شرم سے سرخ ہونے لگی شیردل اُس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چومتا ہوا اپنے ہونٹ ہانیہ کے ہونٹوں کے قریب لے آیا وہ اس کی سانسیں اپنے قابو میں کرچکا تھا اُس کے عمل سے ہانیہ کا سانس رکنے کو تھا جس کے بعد ہانیہ کو اپنی تھائیس پر انگلیوں کا لمس محسوس ہوا وہ اس بےباکی پر اپنے ہی اندر سمٹنے لگی

“حسام پلیز”

ہانیہ نے اپنے اوپر جھکے وجود کو پیچھے ہٹانا چاہا شیردل اُس لڑکی کے منہ سے یہ نام سن کر بدمزا ہوا تھا شاید وہ اِس وقت کے لیے تیار نہیں تھی مگر شیردل کا موڈ کچھ اور ہی تھا وہ ہانیہ کے دونوں ہاتھوں کی کلائیوں کو اپنے ہاتھوں سے جکڑتا ہوا تکیہ پر رکھ چکا تھا

“کیا ایسا نہیں ہوسکتا حسام کہ آج کی بجاۓ

نہ جانے کیوں اُسے عجیب گھبراہٹ کا احساس ہورہا تھا ہانیہ نے اسے روکنا چاہا

“ششش”

ہانیہ کو اپنے کان کے بےحد قریب آواز سنائی دی تو وہ خاموش ہوگئی

اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا تمام تر بےباکی اور شدتیں برداشت کرنے کے علاوہ جو وہ خاموشی سے برداشت کرتی رہی وہ انتہاہ کو پہنچ کر بھی جیسے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا مگر ہانیہ کی ہمت جواب دینے لگی

“حسام پلیز”

بلآخر وہ بولتی ہوئی رو دینے کو تھی تب اُس کا نازک وجود کسی مضبوط گرفت سے آزاد ہوا چند منٹ گزارنے کے بعد جب ہانیہ نارمل حالت میں آئی تو اُس نے اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی اتار دی لیکن اِس کے باوجود اُس کی آنکھیں کچھ بھی دیکھنے سے محروم تھیں اُس کی آنکھوں کے آگے ابھی تک اندھیرا چھایا ہوا تھا

آہستہ آہستہ جب ہانیہ کی آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئی تب اُسے احساس ہوا کمرے کی لائٹ بند تھی، مکمل اندھیرا ہونے کی وجہ سے ہانیہ کو اپنے قریب بیڈ پر بیٹھے ہوئے وجود کی پرچھائی نظر آرہی تھی جو اپنے منہ کے قریب سیگریٹ لے جارہا تھا

“حسام آپ اسموکنگ کرتے ہیں”

ہانیہ نے بےساختہ سوال کیا تھا یوں اُس کے اچانک سوال کرنے پر ہانیہ جان نہیں پائی تھی کہ اُس کے چہرے کے کیا تاثرات تھے مگر منٹ بعد ہی اُس کا یہ ردعمل سامنے آیا کہ وہ ہاتھ میں موجود سیگریٹ ہوا میں اچھال کر ہانیہ پر سے کمفرٹر ہٹاتا ہوا دوبارہ ہانیہ کو اپنی جانب کھینچ چکا تھا

“کک۔۔۔ کیا ہوا”

ہانیہ اُس کے اچانک اِس عمل پر بوکھلائی تھی لیکن ایک مرتبہ پھر وہ ہانیہ کو جواب دیے بغیر یا اُس کی سنے بغیر دوبارہ اپنی من مانی پر اتر آیا تھا ہانیہ کو اپنے کچھ بھی بولنے پر پچھتاوا ہونے لگا

***

صبح جب ہانیہ کی آنکھ کھلی تو اُس کا پورا جسم بری طرح دکھ رہا تھا کل رات اس کو اپنے شوہر کسی روایتی شوہر کی طرح محسوس ہوا تھا جسے اُس کی تکلیف کا احساس نہیں تھا بس اسے اپنا مطلب پورا کرنا تھا جو وہ پورا کرتا رہا شدید کوفت کے سبب ہانیہ نے اپنے برابر میں لیٹے ہوئے وجود پر نگاہ ڈالنا بھی گوارا نہیں کی وہ بیڈ سے نیچے اتر کر کمرے میں موجود اپنے بیگ کی طرف بڑھی اور اپنے کپڑے نکالنے لگی

کپڑے لے کر وہ واش روم چلی گئی واش روم کا دروازہ بند کرنے کی آواز پر شیردل کی آنکھ کھلی بیڈ کی دوسری جانب بےترتیب خراب بیڈ شیٹ اور خالی جگہ کو دیکھ کر شیردل کے چہرے پر شیطانیت بھری مسکراہٹ رقصاں ہوئی

وہ اپنی شرٹ پہنتا ہوا بیڈ پر بیٹھا پیکٹ سے سیگریٹ نکال کر اسموکنگ کرتا ہوا ہانیہ کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا تبھی روم کا دروازہ ناک ہوا شیردل نے بیڈ سے اٹھ کر ہوٹل کے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے حسام کو کھڑا پایا

“شرماؤ نہیں اندر آجاؤ یہ تمہارا ہی کمرہ ہے”

شیردل اسمائل دے کر طنز کرتا ہوا حسام سے بولا تو حسام وہی کھڑا کمرے کا جائزہ لینے لگا جیسے کچھ تلاش کررہا ہو

“واش روم میں ہے”

شیردل اُس کی نظروں سے پہچان گیا وہ کیا تلاش کررہا تھا تبھی وہ حسام سے بولا

“وہ ٹھیک ہے میرا مطلب ہے کل رات”

شرمندگی کے مارے حسام کو سمجھ نہیں آیا وہ شیردل سے ہانیہ کے متعلق کیا پوچھے ابھی تک تو ہانیہ کو سب معلوم ہوچکا ہوگا کہ کل رات اس کے ساتھ کیا ہوا حسام کو یہ بات سوچ کر شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا

“کل رات تمہاری بیوی کو کچھ معلوم نہیں ہوا”

شیردل بیڈروم میں آتا ہوا حسام کو بتانے لگا

“مطلب کیسے”

حسام اُس کے پیچھے کمرے میں آکر بری طرح کنفیوز ہوتا شیردل سے پوچھنے لگا

“ایسے”

شیردل نے بیڈ پر پڑی ہوئی پٹی اٹھاکر حسام کی آنکھوں کے سامنے لہرائی وہی پٹی جو اُس نے ہانیہ کی آنکھوں پر باندھی تھی حسام وہ پٹی دیکھ کر شرمندگی کے مارے نظریں چرا گیا شیردل حسام کو دیکھ کر کمرے سے جانے لگا تو حسام شیردل کی طرف دیکھنے لگا

“میں نے تمہیں دی ہوئی قیمت ضائع نہیں ہونے دی اُس قیمت کو میں پوری طرح وصول کرتا رہا ہوں”

شیردل حسام کو آنکھ مارتا ہوا بولا اور اس کا دھواں دار چہرہ دیکھ کر ہنستا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا حسام کمرے کا دروازہ بند کرکے پلٹا تو ہانیہ شاور لینے کے بعد واشروم سے واپس کمرے میں آئی ہانیہ کو دیکھ کر حسام کو مزید شرمندگی ہونے لگی

ہانیہ خود بھی اس کی کل رات کی اتنی بےباکی بےتکلفی اور عجیب سے ضد میں آنے والے رویے پر اس سے خائف سی ہوچکی تھی اس لیے بنا کچھ بولے وہ ٹاول سے اپنے بال خشک کرنے لگی حسام نے شکنوں سے بھری بیڈ شیٹ کی جانب دیکھا تو بیڈ پر بیٹھنے کا ارادہ ترک کرتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا

“تم ٹھیک تو ہو ناں”

یہ سوال پوچھتے ہوئے حسام کو کافی شرمندگی نے گھیرلیا تھا کچھ بھی تھا وہ سارا پیسہ لےکر فراڈ کر کے وہاں سے چلا جاتا مگر اُس لڑکی کو اپنی عزت بناکر جو کل رات اُس نے کیا تھا وہ بہت غلط کام تھا

“شکر ہے صبح جاگنے کے بعد آپ کو احساس ہوگیا میرا رات کو تو شاید آپ نے مجھے کوئی ٹواۓ سمجھ لیا تھا”

حسام کے سوال پر ہانیہ اس سے شکوہ کرتی ہوئی بولی تو حسام مزید شرمندہ ہوا

“میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں کل رات کے لیے تم سے”

وہ سچ میں شرمندہ تھا مگر ہانیہ اصل وجہ نہیں سمجھ پائی کس وجہ سے نہ وہ بتانے کی ہمت کرسکا

“حسام میں اب ریسٹ کرنا چاہتی ہوں”

کل رات وہ سکون سے دو گھڑی ہی سو پائی تھی اسے سونے ہی کہا دیا تھا اور اِس وقت وہ اپنے وجود میں اترتی تھکن کے ساتھ ساتھ اپنے جسم میں بخار کی حدت بھی محسوس کررہی تھی

“ہاں تم ریسٹ کرلو پھر ہم دونوں لنچ ایک ساتھ کریں گے”

ضمیر کو ڈھیروں ملامت کرنے پر حسام ہانیہ کا اترا ہوا چہرا دیکھ کر بولا وہ مزید اس سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا اس لیے کمرے سے چلا گیا جبکہ ہانیہ فہیم کو کال کرنے کا ارادہ ترک کرتی بیڈ پر لیٹ گئی

***

“ہیلو مشی کیسی ہو تم کالج کیوں نہیں آرہی ہو اتنے دنوں سے یار اور تمہارا موبائل بھی بند ہے”

دانیال مشی کی کال ریسیو کرتا اُس سے بےقرار لہجے میں پوچھنے لگا

مشی آج ہمت کرکے شیردل کے کمرے میں گئی تھی اور اُس کی وارڈروب کی دراز سے اپنا موبائل نکال لائی تھی جس سے اُس نے دانیال کو کال ملائی تھی

“کسی نے میرے بھائی کو تمہارے متعلق بتادیا ہے انہوں نے مجھ پر بہت غصّہ کیا ہے اور ساتھ ہی وہ میرے اوپر ڈھیر ساری پابندیاں بھی لگا چکے ہیں نہ تو میں اب کالج جاسکتی ہوں نہ ہی موبائل یوز کرسکتی ہوں میں بہت پریشان ہوں دانیال بہت زیادہ”

مشی دانیال کو ساری صورتحال سے آگاہ کرتی ہوئی بولی

“اچھا اچھا تم پریشان مت ہو میں کچھ کرتا ہوں کوئی نہ کوئی حل نکالتا ہوں اِس مسلئے کا”

دانیال اُس کو تسلی دیتا ہوا بولا

“اس مسلئے کا یہی حل ہے دانیال تم اپنے پرینٹس سے ہمارے لیے بات کرو تاکہ وہ میرے گھر تمہارا پرپوزل لے کر آئیں تبھی ماما بھی بھائی کو تمہارے لیے کنوینس کرسکیں گیں”

مشی دانیال سے بولی تو وہ خاموش سا ہوگیا اُس سے پہلے مشی اس کے یوں خاموش ہونے کی وجہ پوچھتی دانیال ایک دم بولا

“میں بالکل ایسا ہی کرو گا تم پریشان نہ ہو بس میری اگلی کال کا ویٹ کرو”

دانیال کچھ سوچتا ہوا مشی سے بولا جس پر مشی فوراً بولی

“نہیں اب تم موبائل پر بالکل کال مت کرنا میرا موبائل میرے پاس نہیں بھائی کے پاس ہوگا تم لینڈ لائن پر رابطہ کرنا اچھا میں کال رکھ رہی ہوں شاید ماما آرہی ہیں”

قدموں کی آئٹ محسوس کرکے مشی دانیال سے آئستہ آواز میں بولی رملہ کے کمرے میں آنے سے پہلے ہی وہ اپنا موبائل چھپاچکی تھی

***

دوپہر میں حسام ہوٹل میں موجود ڈائینگ ایریا میں ہانیہ کو اپنے ساتھ لنچ کے لیے لے آیا تھا تاکہ ہانیہ کی طبعیت بہل جاۓ اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کی خاطر وہ ہانیہ سے کچھ نہ کچھ بات بھی کررہا تھا جس کا ہانیہ بغیر ناراضگی کے نارمل انداز میں جواب دے رہی تھی وہ کب تک کل رات والی بات پر اُس سے منہ بناۓ رکھتی اُسے تو میاں بیوی کے رشتے کی سمجھ بوجھ بھی زیادہ نہیں تھی ہانیہ سے بات کرتے حسام کی نظریں داخلی راستے سے اندر آنے والے شیردل پر پڑی

شیردل خود بھی حسام اور اُس کے ساتھ بیٹھی ہانیہ کو دیکھ چکا تھا وہ عین اُن دونوں کے سامنے والی ٹیبل پر بیٹھ گیا جس کے بعد اُس نے جس انداز میں خاموش نظروں سے بناء کسی خوف یا ڈر کے ہانیہ کا مکمل جائزہ لینا شروع کیا حسام شیردل کی بےباک نظروں کو دیکھ کر ضبط کرتا ہوا پہلو بدل کر رہ گیا

“چلو ہانیہ یہاں سے چلتے ہیں، لنچ ہم کہیں اور کرلیں گیں”

شیردل اسموکنگ کرتا جس انداز میں مسلسل ہانیہ کو گھور رہا تھا جب حسام کی برداشت سے باہر ہوا تو حسام ہانیہ سے بولا جوکہ ہانیہ جو اپنے سیل فون پر بزی تھی حسام کو دیکھنے لگی

“لیکن کیوں آرڈو تو آپ کرچکے ہیں لنچ آنے والا ہوگا ایسے بناء لنچ کیے کیوں چلیں جائیں”

ہانیہ حسام کی بات سن کر اپنا موبائل ٹیبل پر رکھتی حیرت سے حسام سے پوچھنے لگی وہ فہیم سے موبائل پر بات کرتی اتنا مگن تھی کہ اُسے اپنے آس پاس کچھ ہوش ہی نہیں تھا

“یہ دیکھیں لنچ آ بھی گیا”

حسام کے کچھ بولنے سے پہلے ہانیہ حسام کو ویٹر کی طرف متوجہ کرتی بولی جو اُن کا آرڈر لارہا تھا جسے دیکھ کر حسام خاموش ہوگیا مگر وہ جان کر کرسی سے اٹھ کر دوسری کرسی پر آکر بیٹھ گیا جس سے اب شیردل کو ہانیہ کے چہرے کی بجاۓ حسام کی پشت نظر آرہی تھ

حسام کی حرکت پر زیرِ لب شیردل نے حسام کو گالی دی اور گہری سوچ میں گم اسموکنگ کرنے لگا دو سیکنڈ بعد دلاور داخلی راستے سے ڈائیننگ میں اندر داخل ہوا وہ زرش کی آنے والی کال کی وجہ سے بات کرنے باہر ہی رک گیا تھا

“مالک”

دلاور کے پکارنے پر شیردل اُس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا وہ کہیں گم ہوا اسموکنگ کررہا تھا جبکہ دوسری ٹیبل پر حسام اور ہانیہ لنچ کی طرف متوجہ تھے

“مالک کیا ہوا سب خیریت تو ہے ناں”

دلاور شیردل کو یوں غائب دماغ دیکھتا ہوا دوبارہ اُس کو مخاطب کیے شیردل سے پوچھنے لگا شیردل کی انگلیوں میں دبی سیگریٹ جب اُس کی انگلی کو جلا گئی تب وہ ہوش میں آیا اور بےخیالی میں دلاور کو دیکھنے لگا

“کچھ کہا تم نے۔۔۔؟”

شیردل دلاور کو دیکھتا ہوا پوری طرح ہوش میں آکر اُس سے پوچھنے لگا

“سب خیریت تو ہے مالک”

دلاور تعجب کرتا شیردل سے دوبارہ پوچھنے لگا یوں پبلک پیلیس میں ایسی بےہوشی کا عالم دلاور کو واقعی مشکوک کر گیا تھا

“اب لگ رہا ہے دلاور کہ خیریت نہیں ہے”

گہرا سانس لےکر دلاور سے بولتا ہوا وہ کرسی کھسکا کر اس اینگل میں کرچکا تھا جہاں سے اسے دوبارہ ہانیہ کا چہرا نظر آنے لگے

“مالک میں سمجھا نہیں آپ کی بات کا مفہوم”

دلاور شیردل کی بات پر حیران ہوا پھر اس کی نظروں کا تعاقب کرتا خود بھی ہانیہ کو دیکھنے لگا ہانیہ کو دیکھ کر شیردل دوبارہ سیگریٹ کے پیکٹ سے دوسرا سیگریٹ نکال چکا تھا

“دلاور اِس لڑکی کے شوہر سے بات کرو یہ لڑکی مجھے آج رات کے لیے دوبارہ چاہیے”

شیردل کے منہ سے ایسی بات سن کر دلاور کو زودار جھٹکا لگا کیوکہ شیردل کی عادت تھی وہ کسی بھی لڑکی کو ایک رات استعمال کرنے کے بعد صبح اُس کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا تھا

“آآآ”

شیردل دلاور سے ابھی کچھ اور کہتا وہ ہانیہ کے کرہانے پر اپنی بات بھول کر پوری طرح اُس کی طرف متوجہ ہوا

“دکھاؤ زیادہ جلا تو نہیں”

نہ جانے کیسے سوپ کے باؤل سے گرم سوپ ہانیہ کے ہاتھ پر چھلک پڑا حسام اس کی کلائی پکڑتا دیکھنے کے غرض سے بولا حسام کا ہانیہ کی کلائی پکڑنا نہ جانے کیوں شیردل کو اتنا برا لگا کہ اُس کی آنکھوں میں خون اتر آیا وہ بناء سوچے سمجھے اپنی کرسی سے اٹھ کر تیزی سے ان دونوں کی ٹیبل کی طرف بڑھا

اُس نے حسام کا ہاتھ ہانیہ کے ہاتھ سے ہٹا کر دور جھٹک شیردل کی اِس حرکت پر حسام کے ساتھ بیٹھی ہانیہ ہی دنگ نہیں ہوئی تھی بلکہ چند قدم کے فاصلے پر موجود دلاور بھی حیرت میں مبتلا ہوچکا تھا شیردل کی آنکھوں میں حسام کے لیے واضح وارننگ تھی کہ وہ دوبارہ اس لڑکی کو چھونے کی کوشش نہ کرے

“یہ کیا بدتمیزی ہے مسلئہ کیا ہے تمہارے ساتھ”

ہانیہ کے سخت لہجے میں بولنے پر شیردل حسام سے نظریں ہٹاکر ہانیہ کو دیکھنے لگا خودبخود شیردل کے چہرے کے سخت تاثرات ہانیہ کو دیکھ کر نارمل ہوگئے

“اپنا مسلئہ جلد بتاؤ گا مگر تمہیں نہیں تمہارے شوہر کو”

وہ پُراسرار سی مسکراہٹ ہانیہ پر اچھال کر اُس سے رازداری سے بولا

“کیا بکواس کررہا ہے یہ آپ یوں خاموش اُس کی باتیں کیوں سن رہے ہیں”

ہانیہ شیردل کو نظر انداز کرکے حسام کی طرف دیکھتی ہوئی اُس سے بولی ایسا نہیں تھا وہ بےخبر تھی اپنے آپ کو دیکھتے وہ شیردل کی نظریں لنچ کے دوران محسوس کرچکی تھی لیکن شیردل کی حسام کا ہاتھ جھٹکنے والی حرکت پر آخر حسام کیوں خاموش تھا ہانیہ کو غصّہ آنے لگا جبھی وہ اس سے بولی

“یہ کچھ نہیں بولے گا یہ کچھ بولنے کے قابل ہے ہی نہیں”

شیردل ہانیہ سے بولتا حسام کو اسمائل دے کر وہاں سے چلا گیا جبکہ ہانیہ کو اِس عجیب واہیات سے شخص پر غصّہ آنے لگا

***