Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 6)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
“کتنی بار منع کیا ہے کال مت کیا کریں مجھے، نہیں بات کرنا چاہتی ہوں میں آپ سے، نہ ہی آپ کو اپنی ماں سمجھتی ہوں میرے لیے جو بھی کچھ تھے وہ میرے بابا تھے جو اب اِس دنیا میں نہیں رہے اگر آپ مجھ کو دوبارہ بھی پیدا کرلیں گیں میں تب بھی آپ کو اپنی ماں نہیں سمجھو گی سنا آپ نے”
ہانیہ کی غُصّے میں آتی آواز پر رملہ ریسیور کو سختی سے پکڑ کر رہ گئی جبکہ دوسری طرف ہانیہ رابطہ منقطع کرچکی تھی
“کیا ہوا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے”
شیردل جو آفس جانے کے لئے تیار ہوکر اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا رملہ کو ریسیور تھامے دیکھ کر اُس کے ہاتھ ریسیو لےکر اپنے کان سے لگانے کے بعد رملہ سے پوچھنے لگا
“جس کو چھوٹی عمر سے پالا اُس کو کل کس دل سے رخصت کیا اور جس کو پیدا کیا وہ میرا چہرہ دیکھنا تو دور کی بات میری بات تک سننا گوارہ نہیں کرتی”
رملہ دکھ بھرے لہجے میں شیردل سے بولی تو شیردل کو معلوم ہوا وہ اِس وقت اپنی سگی بیٹی سے بات کررہی تھی
“آئیے ناشتہ کرلیتے ہیں آج آفس کے لئے لیٹ ہوگیا ہوں میں”
شیردل رملہ کو بولتا ہوا خود ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھا وہ سچ میں لیٹ ہوچکا تھا اگر رملہ کی یہ کیفیت نہ دیکھتا تو بغیر ناشتہ کیے آفس کے لیے نکل جاتا لیکن رملہ کی وجہ سے ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھ گیا ورنہ رملہ سارا دن خود کو اکیلا محسوس کرکے کچھ نہیں کھاتی
“تو ہانیہ نام ہے ویسے رہتی کہاں ہیں آپ کی صاحبزادی”
شیردل نے رملہ سے سرسری سے لہجے میں پوچھا تو رملہ کے مردہ وجود میں جیسے توانائی سی دوڑ گئی
“شیر تم میری خاطر ہانیہ کے پاس جاؤ گے پلیز اُسے بتاؤ ناں جاکر میں اُس کے لیے کتنا تڑپتی ہوں اُس سے بولوں ناں کہ وہ یہاں میرے پاس آجاۓ”
رملہ بےساختہ شیردل کا ہاتھ پکڑتی ہوئی اُس سے منت بھرے لہجے میں بولی
“ابھی فوراً تو نہیں جاسکتا کیونکہ رحمان صاحب کے اچانک ریزائن کرنے سے آفس کا کام کافی برڈن میرے اوپر آچکا ہے بعد میں دیکھتے ہیں اِس مسئلہ کو اِس کا حل بھی تلاش کرتے ہیں ناشتہ کریں آپ فل الحال”
شیردل رملہ کو فل الوقت تسلی دیتا بولا وہ لڑکی جب اپنی سگی ماں کو خاطر میں نہیں لا رہی تھی تو اُسے کیا ضرورت تھی ایسی مغرور شہزادی سے جاکر خود ملنے کی اور اُس کی منتیں ترلے کرنے کی کہ وہ اپنی ماں سے آکر مل لے شیردل اور رملہ دونوں ناشتہ کررہے تھے تبھی دلاور ہال میں داخل ہوا جسے دیکھ کر وہ دونوں حیرت زدہ رہ گئے
“دلاور تم کو واپس اتنی جلدی آنے کی کیا ضرورت تھی مشی تمہارے گھر پر خود کو اکیلا محسوس کرے گی ویسے وہ ٹھیک تو ہے ناں بخار اتر گیا تھا اس کا اور رات میں اس کو کچھ کھلا دیا تھا ناں میں نے اس کے بیگ میں اس کی ضرورت کی ساری چیزیں رکھ دی تھیں لیکن اب وہ تمہاری ذمہ داری ہے اور تمہیں اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے تم جانتے ہو ناں وہ کس قدر حساس ہے”
دلاور کو سلام کا جواب دے کر رملہ مشی کے لیے فکر مند ہوتی بولی بےقراری اُس کے لہجے سے عیاں تھی جبکہ شیردل دلاور کو دیکھ کر ناشتہ کرنے میں مگن ہوچکا تھا
“جی بیگم صاحبہ وہ ٹھیک ہیں بخار بھی اتر چکا تھا رات کو تھوڑا بہت انہیں کھانا کھلا دیا تھا میں خود اِس لیے آگیا کیوکہ مالک کو ضروری میٹنگ میں جانا تھا اور شام میں بھی کام تھا”
دلاور دھیمے لہجے میں رملہ کے سوالات کے جواب دیتا ہوا اسے بولا
“بیٹھ جاؤ دلاور ناشتہ کرو”
شیردل نے اُس کے جواب پر کوئی تبصرہ کیے بغیر ہمیشہ کی طرح اُسے ناشتہ کرنے کا بولا
“شکریہ مالک ناشتہ کرکے ہی گھر سے نکلا تھا”
دلاور نے بھی ہمیشہ کی طرح عاجزی دیکھاتے ہوۓ اسے ٹالنا مناسب سمجھا کیوکہ وہ اب بھی اپنی حیثیت جانتا تھا
“یہ کیا تم نے مالک اور بیگم صاحبہ کی رٹ لگا رکھی ہے دلاور۔۔۔ تم شیر کو بھائی بول سکتے ہو اور مجھے آنٹی یا پھر مشی کی طرح ماما بول لو جو تمہاری مرضی اور یہاں بیٹھو ہمارے ساتھ ناشتہ کرو میں تمہارے لیے خود چاۓ نکالتی ہوں”
رملہ کے بولنے پر شیردل کا ناشتہ کرتا ہاتھ ایک پل کے لیے رکا وہ رملہ کی بات پر کوئی ری ایکٹ کیے بناء دوبارہ ناشتہ کرنے لگا
دلاور رملہ کی بات کو ٹال نہیں سکا وہ کرسی کھسکا کر ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گیا پہلی بار مالکوں کے ساتھ بیٹھ کر چاۓ پینا اسے بتارہا تھا واقعی اِس گھر میں اُس کی حیثیت بدل چکی تھی
“دلاور شیر نے شروع سے ہی تمہیں بہت خاص سمجھا ہے اور اپنا دوست مانا ہے تم اِس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ تمہاری پہلے بھی اِس گھر میں حیثیت ہماری نظر میں ہمیشہ اہم رہی ہے اور اب تو تم مشی کے شوہر ہو یعنی اس گھر کے داماد ہو اس لیے اب تمھارا اس گھر میں الگ مقام ہے اور مجھے خوشی ہوگی کہ تم خود بھی اپنا اصل مقام پہچانو”
رملہ کے بولنے پر دلاور نے بےساختہ شیردل کی جانب دیکھا تو شیردل نے دلاور کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرانے کے بعد چاۓ کا کپ اٹھالیا
***
“آؤ دلاور آج سے رحمان صاحب کی سیٹ کا چارچ تمہیں دیا جاتا ہے آج سے اس سیٹ کا کام تم سنبھالوں گے”
شیردل آفس آنے کے بعد اُسے رحمان صاحب کے کمرے میں لاتا ہوا بولا وہ کمرہ جو اس وقت خالی تھا دلاور حیرت میں ڈوبا شیردل کو دیکھنے لگا
“لیکن مالک اتنی اہم سیٹ آپ مجھے ایسے کیسے دے سکتے ہیں جبکہ مجھے تو اس کام کی سمجھ بوجھ ہے نہ کوئی تجربہ”
دلاور کو سمجھ نہیں آیا وہ شیردل کو کیسے انکار کرے مگر جانتا تھا مشی سے نکاح کے بعد اب اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے اور اس اچانک ملنے والی ترقی کا یہی راز تھا
“یہ اہم سیٹ ہے دلاور اِسی وجہ سے میں اُس کو کسی قابل اعتبار آدمی کے ہاتھوں سونپنا چاہتا ہوں تم تو رحمان صاحب کے ساتھ ہوئی ٹریجیڈی سے اچھی طرح واقف ہو فیملی ایشوز کو لےکر انہیں باہر ملک میں سیٹل ہونا پڑ رہا ہے یہ سیٹ اُن کی ایمانداری کو دیکھ کر اُن کو دی گئی تھی اب میں چاہتا ہوں اِس سیٹ کی تمام ذمہ داری تم سنبھالو جہاں تک رہی تجربے کی بات تو جب تک کسی کام میں ہاتھ نہ ڈالے جاۓ تب تک اس کام کا تجربہ نہیں ہوتا شبیر صاحب تمام کام سمجھا دیں گیں تمہیں۔۔۔ ہرفن مولا آدمی ہو یار تم دو ہفتے میں سب سیکھ جاؤ گے مجھے پورا یقین ہے ایسے ہی تھوڑی میں ہر جگہ تمہیں اپنے ساتھ رکھتا ہوں تمہارے ہوتے مجھے احساس رہتا ہے تم سب کام آسانی سے کرسکتے ہو میرے سامنے بھی اور میرے پیچھے بھی”
شیردل دلاور کا شانہ تھپتھپاتا ہوا اسے بولا اور میز کی دراز سے چابیاں نکالنے لگا دلاور خاموش کھڑا ابھی بھی اُس کو دیکھ رہا تھا ان مہربانیوں کی وجہ بھی سمجھ رہا تھا
“مجھے تمہاری ایمانداری پر کبھی شک نہیں رہا دلاور تمہاری ذہانت پر مجھے مکمل بھروسہ ہے یہ فلیٹ کی چابیاں ہیں اور یہ گاڑی کی جب رحمان صاحب اِس سیٹ ہر موجود تھے تب انہیں بھی آفس کی طرف سے یہ فیسیلیٹی مہیا کی گئی تھیں یہ مت سمجھنا کہ میں اپنی بہن کی وجہ سے تمہیں کوئی اسپیشل فیور دے رہا ہوں جب تک اِس سیٹ کی ذمہ داری تم پر عائد ہے تب تک یہ فلیٹ اور گاڑی تمہارے استعمال میں رہے گی میں جانتا ہوں تم بہت خود دار ہو مجھے تمہاری خودداری پسند ہے میں کبھی بھی تمہاری خوداری کو ٹھینس نہیں پہنچا سکتا اس لیے اپنے دل میں کبھی کوئی خیال مت لانا کہ میں اپنی بہن کی وجہ سے تم پر کوئی احسان کررہا اگر تم اِس سیٹ کا کام اچھے طریقے سے سنبھالو گے تو سمجھو کہ تم مجھے بہت بڑا فیور دوگے کیوکہ میرے اوپر پہلے ہی برڈن ہے اور میں مشین بن کر چوبیس گھنٹے آفس کو ٹائم نہیں دے سکتا”
شیردل اپنے طریقے سے ہر چیز اچھے سے اس کو بریف کرتا اُس کے دماغ میں آۓ سارے سوالات کے جوابات بھی دے کر دلاور سے بولا
“آپ نے مجھے قابل اعتمار اور اس لائق سمجھا ہے مالک میں اپنی پوری کوشش کروں گا اس سیٹ کی ذمہ داری اچھے سے سنبھال لوں اور آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہ دوں”
دلاور آفس کے الگ کمرے اور اُس میں موجود کرسی کو دیکھتا ہوا شیردل سے بولا تو شیردل اسمائل دیتا بولا
“تم بہت جلد ہر کام سیکھ لوگے اور آخری بات مجھے بھی خوشی ہوگی اگر تم مجھے مالک کی بجاۓ اب بھائی بولو تو”
شیردل دلاور سے کہتا ہوا آفس کے کمرے سے باہر نکل گیا
***
“آپ جاگ گئی بھابھی میں یہی دیکھنے آئی تھی آپ کے لئے ناشتہ بنادیتی ہوں بھائی نے بتایا تھا رات میں آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی ابھی بخار تو نہیں ہے ناں آپ کو”
مشی بیدار ہوکر بیڈ پر بیٹھی خالی کمرے کو دیکھ رہی تھی تب کمرے میں ایک سولہ سالا لڑکی اُس سے ایسے بات کرنے لگی جیسے اُسے پہلے سے جانتی ہو
“بخار تو کم ہوگیا ہے مگر ابھی بھی سر دکھ رہا ہے میرا”
مشی اپنی کنپٹی پر انگلیوں سے دباؤ ڈالتی ہوئی بولی اس کی زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی آچکی تھی بھلا اس کی نازک مزاج طبیعت اتنی جلدی اس تبدیلی کو ہضم کرلیتی مگر اچھی نیند لےکر وہ تھوڑا بہت پہلے کی بانسبت بہتر محسوس کررہی تھی
“اوہ اچھا آپ ایسا کریں فریش ہوکر آجائیں اور ناشتہ کرلیں پھر اپنی میڈیسن لے لیے گا اگر پھر بھی بہتر محسوس نہ کریں تو بابا سائیں ڈاکٹر کو یہی لے آئیں گے”
زرش مشی کے جواب دینے پر مزید خوش اخلاقی سے بولی
“تم بہن ہو ناں اُس کی”
مشی زرش کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی گندمی رنگت والی یہ لڑکی کافی زیادہ دلاور سے مشابہت رکھتی تھی
“جی میرا نام زرش ہے آپ کو معلوم ہے کل جب بھائی نے فون پر بتایا کہ وہ آپ کو میری بھابھی بناکر یہاں لارہے ہیں میں اتنا خوش ہوئی کہ کیا بتاؤں آپ کو آپ دونوں کے نکاح سے پہلے ہی بھائی سے آپ کا کافی دفعہ ذکر سن چکی ہوں اِس لیے مجھے آپ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا کل رات کافی دیر تک انتظار بھی کیا مگر آپ لوگ کافی دیر سے پہنچے”
زرش خوشی خوشی مشی کو بتانے لگی مگر مشی گرمی کے باعث کمرے میں چاروں طرف نظر ڈراتی اے سی تلاش کرنے لگی مگر پھر زرش کی بات پر چونکی
“کیا ذکر کرتا تھا تم سے تمہارا بھائی میرے بارے میں”
مشی تجسّس کے مارے زرش سے پوچھنے لگی تو زرش مسکرادی
“بھائی بتاتے تھے کہ آپ بےحد حسین ہیں حور پریوں جیسی کسی شاعر کی غزل کی طرح، کم ازکم اُن کی نظروں میں تو آپ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی ہیں جن پر غرور غُصّہ اور نخرہ سب ہی ججتا ہے اور یہ کہ آپ مسکراتی ہوئی بےحد حسین لگتی ہیں کہ بندہ بس آپ کو دیکھتا رہ جاۓ بھائی آپ کی آنکھوں کی بھی تعریف کرتے ہیں اور اِس کے علاوہ بھائی نے مجھ سے آپ کی اور بھی بہت سی تعریفیں کی ہیں وہ میں آپ کو فرصت سے بتاؤ گی ابھی میں آپ کے لیے ناشتہ تیار کردیتی ہوں”
زرش آخری بات ہستی ہوئی بولی جس پر مشی ایک دم جھینپ گئی
“وہ خود کہاں پر ہے”
اپنی جھینپ مٹانے کے غرض سے مشی دلاور کا پوچھنے لگی جو اس کو ابھی تک کمرے میں نظر نہیں آیا تھا
“بھائی تو سویرے ہی شہر کے لیے روانہ ہوگئے تھے”
زرش کے بتانے پر مشی پوری آنکھیں کھول کر صدمے سے اُسے دیکھنے لگی
“کیا مطلب شہر روانہ ہوگیا۔۔۔ مطلب کہ مجھے یہاں تنہا چھوڑ کر دل۔۔۔
وہ اُس کو یہاں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا مشی کو جیسے دلاور کی حرکت پر صدمہ پہنچا
“ارے آپ ایسے پریشان مت ہو بھابھی میں بھائی کو فون کرکے واپس آنے کا کہہ دیتی ہوں انہیں بتادیتی ہوں کہ میری پیاری سی بھابھی کا آپ کے بغیر دل نہیں لگ رہا وہ آپ کو یاد کررہی ہیں”
زرش مشی کو پریشان دیکھ کر تھوڑا شوخ ہوکر بولی
“نہیں فون کرکے اسے بلانے کی ضرورت نہیں ہے کام تھا اُس کو ضروری جبھی جانا پڑا اُس نے بتایا تھا مجھے رات میں”
مشی زرش کو منع کرتی بولی جب دلاور اُس کو خاطر میں لائے بغیر اُس کی پرواہ کئے بغیر یہاں سے چلا گیا تھا پھر اُسے کیا ضرورت تھی کہ وہ اُس کو یہاں واپس بلواتی
“ویسے آپ کے منہ سے بھائی کو پیار سے “دل” کہنا بہت اچھا لگا مجھے میں آپ کے لئے ناشتہ بناکر لاتی ہوں”
زرش مشی کو مسکرا کر بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی جبکہ زرش کی بات سن کر مشی حیرت سے منہ کھولے دروازے کو تکتی رہ گئی دل وہ بھی پیار سے دلاور کو۔۔۔ مشی کا سوچتے ہوئے مزید موڈ خراب ہوا کسل مندی سے اٹھتی واش روم چلی گئی
“وہ بھابھی بابا سائیں بیٹھک میں موجود ہیں آپ پہلے جاکر انہیں سلام کرلیں پھر میں آپ کا ناشتہ لگا دیتی ہوں برابر والے کمرے میں”
واش روم سے آنے کے بعد زرش اس کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی مشی سمجھ گئی زرش اپنے اور دلاور کے باپ کا ذکر کررہی ہے وہ اس گھر کے بڑے بزرگ اور اس کے سسر تھے یقیناً مشی کو خود جاکر انہیں سلام کرنا چاہیے تھا
“اوکے۔۔۔ ہاں چلو میں پہلے انکل سے مل لوں”
مشی زرش کی بات پر دوپٹہ اٹھا کر عادتاً اپنا دوپٹہ کندھے کے ایک سائیڈ پر رکھتی کمرے سے باہر نکلنے لگی
“ارے بھابھی آپ ایسے جائیں گیں بابا سائیں کے سامنے”
زرش اس کے حلیے پر اسے ٹوکتی ہوئی بولی تو مشی کنفیوز ہوکر زرش کو دیکھنے لگی
“سسر ہے نا بابا سائیں آپ کے تو ایسے اچھا نہیں لگے گا اس دوپٹہ کو سر پہ رکھ لیں یہ ایسے۔۔۔ انکل شنکل نہیں آپ بھی بھائی اور میری طرح بابا سائیں کو بابا سائیں ہی بولیے گا ایسے اپنائیت کا احساس رہتا ہے رشتوں میں”
زرش کے بولنے پر اس نے کوفت بھرے انداز میں اپنے دوپٹے کو سر پر دیکھا بےدلی سے زرش کی بات پر سر ہلا کر اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی
***
آج صائمہ ہانیہ کو رہائش سے قریب مارکیٹ میں لے آئی تھی کیوکہ صائمہ نے محسوس کیا تھا گھر میں سارا دن رہ کر ہانیہ کی طبعیت عجیب سُست سی ہوچکی تھی عزیر اور صائمہ جتنا ممکن ہو اس کا خیال رکھتے تھے صائمہ کی پوری کوشش تھی کہ اچھا لڑکا دیکھ کر ہانیہ کی دوباری شادی کردی جاۓ تاکہ اس کی زندگی میں چینج آجاۓ ہاشم کے رشتے کو وہ لوگ انکار کرچکے تھے
“میرا خیال ہے وہ سامنے شاپ پر چلتے ہیں شاید ٪20 آف بھی ہے وہاں پر”
صائمہ کپڑے کی بوتیک کی طرف ہانیہ کو متوجہ کرتی ہوئی بولی
“ارے مسسز عزیر آپ یہاں پر”
صائمہ کی کوئی دوست آکر اس سے ملنے لگی ہانیہ انہیں سلام کرکے خود اس شاپ کی طرف جانے لگی جبکہ صائمہ اپنی دوست کی طرف متوجہ ہوچکی تھی
“یہ کیا بدتمیزی ہے”
سامنے سے آتی لڑکی نے اچانک زور سے ہانیہ کا بازو پکڑا تو بےساختہ ہانیہ کے منہ سے نکلا مگر اگلے ہی پل ہانیہ اُس لڑکی کو پہچان چکی تھی
“تمہیں کیا لگتا ہے تم حسام کو مجھ سے چھین لوگی میری ایک بات کان کھول کر سن لو حسام صرف میرا ہے اُس نے تم سے تمہاری پراپرٹی ہتھیانے کے لیے پری پلان شادی کی تھی صرف وقتی گلٹ تھا اُسے جب اُس نے تمہیں اُس اجنبی آدمی کے آگے ڈالا وہ اب بھی مجھ سے پیار کرتا ہے میرا ہے حسام اور ہمیشہ میرا ہی رہے گا”
مہرین کو وہاں ہانیہ کا وجود برداشت نہیں ہوا جسے دیکھ کر وہ جو منہ میں آئے بولتی چلی گئی
“اگر وہ سچ میں تمہارا ہے تو یہ بات چیخ چیخ کر پوری دنیا کو بتاؤ مجھے نہیں کیونکہ میں تو اُسے تم سے چھین لوں گی سنا تم نے اور آئندہ میرے سامنے آکر کوئی بھی بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے دفعہ ہوجاؤ یہاں سے”
ہانیہ مہرین کو دیکھ کر جوابی کاروائی کرتی ہوئی غصّے میں بولی تو مہرین اس کو گھورتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
***
واپس گھر آنے کے بعد بھی ہانیہ کو مہرین بھر شدید غصّہ تھا اُس نے مہرین کو جو کچھ بھی بولا تھا وہ غصّے میں بولا تھا وہ ایسے شخص کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ برباد ہوئی تھی مگر اُس کے بولے گئے جملوں پر کہ وہ اس سے حسام کو چھین لےگی ہانیہ نے مہرین کی آنکھوں میں خوف دیکھا تھا تب اسے بہت لطف آیا تھا
“ابھی تک اُس لڑکی کی باتوں کو سوچ کر خود کو ہلکان کررہی ہو لعنت بھیجو اُس پر ہانیہ خدا کی مار پڑے گی ایسے بےضمیر لوگوں پر اِن سے تو آخرت میں اللہ حساب لے گا”
صائمہ ہانیہ کے پاس آتی ہوئی اُس سے بولی
“کبھی کبھی دل کرتا ہے آنٹی دنیا میں ہی ایسے بےضمیر لوگوں کا حشر عبرت بن کر سامنے آجائے آخرت تک انتظار کرنا مشکل لگتا ہے”
ہانیہ نے تلخی سے بولتے ہوئے سر جھٹکا ایک دم اُس کو متلی کا احساس ہوا وہ واش روم کی جانب بھاگی
“تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں صبح بھی تمہیں وامٹ فیل ہورہی تھی”
ہانیہ کے واشروم سے واپس آنے پر صائمہ فکر کرتی ہوئی ہانیہ سے پوچھنے لگی
“شاید رات میں کھانا سہی سے ڈائجسٹ نہیں ہوا بہتر ہوجائے گی طبیعت شام ہوگئی انکل ابھی تک گھر نہیں آئے”
ہانیہ لاپروائی سے بولتی ہوئی صائمہ سے عزیر کا پوچھنے لگی اِس بات پر بالکل بےخبر ہوکر کہ ابھی اُس کو ایک اور امتحان سے گزرنا ہے
***
آج شیردل ایک پارٹی میں مدعو تھا جہاں بہت سے نامور بزنس مین کے علاوہ نئے چہرے اور کچھ سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے وہی اُسے حسام نظر آیا تو وہ حسام کو اور حسام اُسے دیکھ کر پہچان چکا تھا جیسے حسام کو دیکھ کر شیردل کے چہرے کے تاثرات سخت اور پتھریلے ہوچکے تھے وہی حسام کے چہرے پر بھی شیردل کو دیکھ کر ناگواری سے در آئی تھی آج وہ بنا ڈرے بےخوف سا شیردل کو دیکھ رہا تھا جس کی شیردل کو رتی برابر پرواہ نہیں تھی حسام کے ساتھ موجود لڑکی “وہ” نہیں بلکہ کوئی اور تھی شاید اس کی گرل فرینڈ جو ہوٹل میں موجود تھی واپس گھر لوٹنے کے بعد بھی شیردل کی بےچینی ختم نہیں ہوئی تھی اس کا دل ایک مرتبہ پھر اُس کے لیے اداس ہونے لگا
کبھی تنہائی کبھی تڑپ کبھی بےبسی تو کبھی انتظار۔۔۔
یہ میرا مرض بھی کیا خوب ہے جسے عشق کہتے ہیں۔۔۔
اُس کا چہرہ یاد کرتے ایک بار پھر شیردل کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی سیگریٹ پھونکتا جب وہ تھک گیا تو اپنے کمرے سے باہر نکل آیا تب اسے رملہ کے کمرے کی لائٹ آن دکھی کچھ سوچتا ہوا وہ رملہ کے کمرے کے دروازے پر دستک دینے لگا
“اندر آجاؤ”
رملہ کی آواز پر شیردل اُس کے کمرے میں چلا آیا
“جاگ رہی ہیں آپ ابھی تک کیا ہوا آپ کو”
شیردل رملہ کے کمرے میں آتا اُس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر تشویش کے عالم میں پوچھنے لگا جو ہاتھ میں ٹیب لیے بیڈ پر بیٹھی تھی
“مشی کو واپس بلالو شیر میرا دل بہت اداس ہے اس کے بغیر”
شاید وہ مشی کو یاد کرتی رو رہی تھی جبھی شیردل کے آنے پر اُس سے بولی
“آپ بلاوجہ کی ضد کررہی ہیں اچھی طرح جانتی ہیں یہ ناممکن ہے نہ ہی میں اب اُس کا نام دوبارہ سننا پسند کروں گا اور نہ ہی وہ یہاں آۓ گی اور نہ ہی اب اُس کے پاس جانے کی ضد کریں گیں مجھ سے”
شیردل سنجیدہ تاثرات چہرے پر لیے رملہ کو سمجھاتا ہوا بولا تو رملہ بےبسی میں آنکھیں بند کر گئی
“بہت بدقسمت ہوں میں میری دونوں بیٹیاں مجھ سے دور ہیں”
رملہ گال پر آۓ آنسو صاف کرتی شیردل سے بولی تو اُس نے لمبا سانس کھینچا
“رات کافی ہوچکی ہے اب آپ کو سونا چاہیے”
شیردل نے رملہ کے ہاتھ سے اُس کا ٹیب لےکر ٹیبل پر رکھنا چاہا مگر ٹیب کی اسکرین پر نظر پڑتے ہی شیردل کو زوردار جھٹکا لگا وہ مشی کی تصویر تو نہیں تھی بلکہ وہ تو
“یہ۔۔۔ یہ کون ہے”
اُس کا دل بےقابو ہونے لگا وہ پوری آنکھیں کھولے شاکڈ کی کیفیت میں رملہ سے پوچھنے لگا
“ہانیہ میری سگی بیٹی پلیز شیر اِس سے جاکر بولو ناں ایک بار یہ میرے پاس آکر میرے سینے سے لگ جائے میں بہت تڑپتی ہوں اِس کے لئے”
رملہ روتی ہوئی شیردل سے بولی وہ اپنی ہی ٹینشن میں تھی اِس لیے شیردل کی کیفیت کو محسوس نہیں کرسکی جس کے ہاتھ ہانیہ کا نام سن کر کانپ اٹھے کہ وہ بالکل ساکت کھڑا بےیقینی کی کیفیت میں ٹیب کی اسکرین کو دیکھ رہا تھا اُس کے دماغ میں دھماکے سے ہوئے جارہے تھے
“ہانیہ یہ میری سگی بیٹی۔۔ ہانیہ، ہانیہ
بار بار شیردل کے کانوں میں رملہ کی آواز گونجنے لگی وہ صدمے کی کیفیت میں مبتلا ٹیب کو وہی چھوڑ کر واپس اپنے کمرے میں چلا آیا
***
“کیا ہم دونوں آپس میں پہلے بھی ملے ہیں دراصل میں نے پہچانا نہیں آپ کو”
عزیر جو تھوڑی دیر پہلے راؤنڈ پر اپنے پیشنٹس کو دیکھ کر واپس اپنے کمرے میں آکر بیٹھا تھا سامنے بیٹھے نوجوان کو دیکھتا ہوا بولا جو خاص طور پر اُس سے ملنے آیا تھا
“ہم دونوں آج پہلی مرتبہ ملے ہیں مگر میں نے فہیم صاحب سے آپ کا کافی ذکر سنا تھا فہیم صاحب میرے محسن تھے جب اُن کا انتقال ہوا تب میں ملک سے باہر تھا اُن کے بارے میں معلوم ہوا تو سوچا آپ سے مل لوں وہ آپ کے کافی قریب تھے انہوں نے مجھے بتایا تھا”
شیردل نے سوچتے ہوئے الفاظ ڈاکٹر عزیر سے بولتے ہوۓ اُس سے اپنا تعارف کروایا
***
“مشی رو کیوں رہی ہو مجھ سے بات کرو بیٹا بتاؤ مجھے تم ٹھیک تو ہو”
رملہ نے مشی کو کال ملائی تو وہ تب سے رملہ کی آواز سن کر روئے جارہی تھی رملہ پریشان ہوکر مشی سے پوچھنے لگی
“پورے چار دن گزر چکے ہیں اور آج آپ کو میری یاد آئی ویسے تو آپ بولتی ہیں کہ آپ مجھے ہانیہ جتنا ہی پیار کرتی ہیں یہ ہے آپ کی محبت ماما”
مشی اپنی حماقت نظرانداز کرتی روتی الٹا رملہ سے شکوہ کرنے لگی آج ہی اُس نے اپنا بیگ خالی کرکے سارے کپڑے الماری میں رکھے تھے تب اُسے معلوم ہوا کہ رملہ نے صرف بیگ میں اُس کے کپڑے ہی نہیں بلکہ قیمتی زیورات، نقدی پیسے اور اس کا موبائل بھی رکھا تھا اپنے موبائل کو آن کرتے ہی رملہ کی کال اُس کے موبائل پر آئی تھی
“پچھلے تین دن سے تمہارا نمبر ٹرائی کررہی ہو تم نے موبائل آن ہی نہیں کیا تھا اور دلاور تو اب یہاں نہیں رہتا ہمارے پاس، تو اُس سے تمہارے بارے میں کیسے معلوم کرتی بیٹا دلاور خود پہلے سے زیادہ مصروف ہوچکا ہے شیر نے اُس کے بارے میں بتایا تھا مجھے اور تم شیر کو اچھی طرح جانتی ہو اس کا غصہ اتنی جلدی ختم نہیں ہوتا میں تو خود بہت پریشان تھی میری جان تمہارے لئے”
رملہ مشی کو وضاحت دیتی بولی اُس نے مشی کو یہ نہیں بتایا کہ وہ خود دو دن سے لو بلڈ پریشر کی وجہ سے بیڈ سے اٹھ نہیں پائی تھی
“بھائی کا غصہ کب ختم ہوگا ماما مجھے آپ کی بہت یاد آرہی ہے اپنا گھر مِس کررہی ہوں میں مجھے واپس آنا ہے اپنے گھر”
وہ یہاں کے ماحول کی عادی نہیں تھی اوپر سے بالکل ہی اجنبی لوگ بےشک وہ دونوں اُس کا خیال رکھ رہے تھے مگر وہ بہت جلد گھبرا گئی تھی
“تم اتنا پریشان کیوں لگ رہی ہو مجھے سچ سچ بتاؤ دلاور کے گھر والوں کا رویہ تم سے کیسا ہے اور دلاور سے تو تمہاری بات ہوتی ہے ناں”
رملہ مشی کے رونے پر اس سے پریشان ہوتی پوچھنے لگی
“اس کے گھر والے ٹھیک ہیں ماما مگر آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ہیں میں یہاں کیسے رہ سکتی ہوں ان اجنبی لوگوں کے ساتھ سمجھ ہی نہیں آتا بندہ کس سے کیا بات کرے ہر دو گھنٹے بعد یہاں پر کوئی منہ اٹھاکر چلا آتا ہے کہ دلاور کی دلہن دیکھنی ہے جیسے کوئی دلہن نہ ہوئی بلکہ دلاور شہر سے کوئی عجوبہ اٹھا کر لے آیا ہو ہر وقت دوپٹہ سر پہ رکھ کر بت بنے بیٹھے رہو اور کتنی گرمی ہوتی ہے یہاں پر اوپر سے پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور اس ایڈیٹ دلاور کی بات مجھ سے مت کیا کریں پلیز”
مشی اپنی پریشانیاں بتانے کے بعد آخر میں دلاور پر بھی اپنا غصہ نکالتی رملہ سے بولی جو اس کو یہاں لاکر بالکل ہی بھول چکا تھا
وہ پورا دن گرمی گرمی کا راگ آپلاتی پریشان سی پورے گھر میں پھرتی اسی وجہ سے دوسرے دن ہی اُس کے سُسر نے اس کے لئے کمرے میں ایرکولر لگوا دیا تھا زرش اپنی خوبصورت سی بھابھی کو پاکر اُس کی ذرا ذرا سی باتوں کا خیال رکھتی ہے ہر کام مشی کے خود کرتی مگر مشی بھی کیا کرتی نہ وہ اِس ماحول کی عادی تھی نہ ان اجنبی چہروں سے مانوس
“بیٹا بری بات شوہر کو ایسے نہیں بولتے ہیں عزت کرتے ہیں۔۔۔ اچھا تم پریشان مت ہو میں کسی طرح دلاور سے بات کرتی ہوں کہ وہ تمہیں اپنے ساتھ شہر لے آۓ”
رملہ مشی کو بہلاتی ہوئی بولی وہ جانتی تھی مشی جن آسائشات میں پلی بڑھی تھی بھلا کیسے وہ اِس الگ ماحول میں رہ سکتی تھی
“ویسے مشی دلاور نے تمہارے ساتھ کسی قسم کا مس بی ہیو تو نہیں کیا ناں بیٹا”
رملہ روایتی ماوں کی طرح خدشے دل میں لیے مشی سے پوچھنے لگی
“وہ مجھے یہاں چھوڑ کر چلا گیا ماما یہ کیا کم ہے میں نے تو بس غصے میں یہ کہا تھا کہ کمرے سے نکل جائے وہ مجھے چھوڑ کر ہی چلاگیا۔۔۔ اوپر سے کل اس کی بڑی شادی شدہ بہن آئی تھی اپنے تین عدد بچوں کے ساتھ، کتنی باتونی ہے اس کی بڑی بہن دلاور بچپن میں ایسا تھا ویسا تھا یہ کرتا تھا وہ کرتا تھا ارے یار میں کیا کروگی جان کر وہ جو بھی کرتا تھا اور وہ بچے ماما سچ میں وہ بچے انسان کے بچے نہیں تھے”
مشی کو نہ جانے کون کون سے دکھ یاد آنے لگے جو وہ رملہ سے شئیر کرنے لگی رملہ نے مشی کی باتوں پر اپنا سر پکڑلیا
“مشی تھوڑا سا اپنے مزاج میں نرمی لاؤ بیٹا دیکھو تھوڑا سا تمہیں ان چیزوں کے ساتھ کمپرومائز کرنا پڑے گا خود کو وہاں ایڈجسٹ کرنے کے لیے۔۔۔ اور تم نے دلاور کو اسی کے کمرے سے نکال دیا بیٹا ایسے نہیں کرتے ہیں اپنے ہسبنڈ کے ساتھ۔۔۔ مشی دلاور کا اسٹیٹس بےشک ہمارے اسٹیٹس سے میچ نہیں کرتا مگر وہ اچھا انسان ہے صرف یہ سوچو اس نے تمہیں کس وقت کن حالات میں اپنایا ہے ایسا ہر مرد نہیں کرسکتا پلیز اب اگر وہ دوبارہ جب بھی آئے تو اس کو اٹلیسیٹ کمرے سے مت نکالنا یا اس کے ساتھ کوئی مس بی ہیو مت کرنا”
رملہ ماں کا کردار ادا کرتی مشی کو اور بھی دوسری باتیں سمجھانے لگی
***
“شیردل میں نے تو پہلے کبھی نہیں سنا یہ نام بابا سے لیکن وہ کہہ رہا ہے تو بابا کو جانتا ہوگا آپ کو معلوم تو ہے بابا کی ملنے والوں کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا ہر کسی کو تو میں بھی نہیں جانتی”
ہانیہ رات کے کھانے کے بعد عزیر سے بولی جو آج اُس سے شیردل کے بارے میں پوچھ رہا تھا
“یہ تو آپ صحیح کہہ رہی ہیں بیٹا فہیم کے جاننے والے کافی لوگ تھے مگر شیردل سے مل کر، بات کرکے کافی اچھا لگا مجھے اچھا انسان ہے وہ آپ ملنا چاہیں گیں اُس سے”
عزیر کی آخری بات سن کر ہانیہ ایک دم بوکھلا گئی
“میں، نہیں انکل میں کیا کرو گی اُس سے مل کر”
ہانیہ ایک دم انکار کرتی بولی اگر وہ اچھا انسان بھی تھا تو اُس سے ملنے کی بھلا کیا تُک بنتی تھی
“یہ تو عجیب اتفاق کی بات ہے جب میں نے شیردل سے یہی سوال پوچھا کہ آپ ہانیہ سے ملنا چاہیں گے تو اس کا بھی آپ کی طرح یہی ری ایکشن تھا وہ بھی اِسی طرح بولا کہ میں کیا کروں گا اُن سے مل کر”
عزیر تعجب کرتا ہوا ہانیہ کو شیردل کا بولا ہوا جملہ بتانے لگا تو ہانیہ حیرت کا اظہار کرتی عزیر کو دیکھنے لگی
“مگر کیوں انکل آپ کیوں ایسا چاہتے ہیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے ملیں”
ہانیہ کو پوچھتے ہوئے عجیب سا لگا مگر وہ عزیر کی اِس بات پر کنفیوز بھی تھی
“بیٹا نکاح سے پہلے اچھا ہوتا ہے آپ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیتے آمنے سامنے بات کرلیتے ایک بار دوسرے سے”
عزیر نے یہ جملہ بولا نہیں بلکہ ہانیہ کے سر پر بم پھوڑا تھا وہ پوری آنکھیں کھول کر عزیر کو حیرت زدہ سی دیکھنے لگی
“اس میں اتنی حیرانگی کی کیا بات ہے بیٹا یہ میری خواہش نہیں بلکہ شیردل ہی ایسا چاہتا ہے یہ اُسی کے الفاظ ہیں کہ میں فہیم صاحب کی صاحبزادی کو اپنی عزت بنانے کے لئے آپ کی اجازت چاہتا ہوں اس لئے مجھے لگا آپ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیتے روبرو بات کرلیتے اگر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو بات آگے بڑھ جاتی”
عزیر ہانیہ کے حیرت کرنے پر اس سے بولا تو وہ اپنی نظریں جھکا گئی
“آپ نے اُسے میرے ساتھ ہوئی ٹریجیڈی کے بارے میں بتایا”
تھوڑے وقفے کے بعد ہانیہ نظریں جھکاۓ عزیر سے پوچھنے لگی
“بیٹا میری نظر میں کسی کو اندھیرے میں رکھ کر اتنا برا قدم اٹھانا مناسب نہیں شیردل نے جب آپ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی تب ہی میں نے اُس کو آپ کے ساتھ ہوۓ حادثے کے بارے میں بتادیا تھا جسے سن کر اُس کے فیصلے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تو پھر آپ کیا کہتی ہیں کل یا پھر پرسوں بلا لوں شیردل کو گھر پر ڈنر کے لیے”
عزیر کی بات پر ہانیہ ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی
“مجھے اُس سے ملنے کی کوئی خاص خواہش نہیں ہے انکل آپ نے اُسے دیکھ لیا ہے میرے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے آگے جیسا آپ چاہتے وہ کریں”
ہانیہ سرجھکا کر عزیر سے بولی تو عزیر نے ہانیہ کی سعادت مندی پر خوش ہوکر اُس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا
ہانیہ خود بھی جانتی تھی عزیر اور صائمہ اُس کی وجہ سے واشنگٹن اپنی اکلوتی بیٹی کے پاس نہیں جا پارہے ہیں وہ دونوں پہلے ہی اُس کے لیے بہت کچھ کرچکے تھے ہانیہ انہیں اپنی وجہ سے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی
***
“بابا سائیں فوراً اتنی جلدی میں کیسے آسکتا ہوں آپ کے پاس ابھی تو میرے کندھوں پر پہلے سے بھی زیادہ بھاری ذمہ داری والا کام آچکا ہے بتایا تھا آپ کو اب میں آفس میں ہوتا ہوں میری بھی مجبوری آپ سمجھے ناں”
دوبارہ وہی بات دہرانے پر دلاور اپنے باپ کو سمجھاتا ہوا بولا وہ اِس وقت بھی آفس میں موجود تھا
“اگر اتنی مجبوری تھی تو اتنی جلد بازی میں نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی تجھے تھوڑا صبر سے کام لیتا بلاوجہ اُپنی گھر والی کو یہاں لاکر ڈال گیا تیرے بن تیری گھر والی کا دل نہیں لگتا یہاں پر، اپنی زبان سے کچھ نہیں بولتی مگر سارا دن گھر میں مرجھائی مرجھائی اداس پھرتی ہے اور تیری دونوں چچییاں بھی پوچھ رہی تھی تیرا کہ دلاور شہر سے خود ہی دلہن لے آیا اب ولیمہ بھی کھلائے گا کہ نہیں۔۔۔ ارے آئے دن ہر کوئی محلے سے اٹھ کر چلا آتا ہے دلاورے کی شہر سے آئی دلہن دیکھنی ہے میں کچھ نہیں جانتا تو کل یہاں آرہا ہے گھر میں ہی ولیمے کی تقریب رکھ دی ہے میں نے بس”
دلاور کا باپ دلاور کو اپنا حکم سناکر فون بند کرچکا تھا جبکہ دلاور لب بھینچ کر رہ گیا بھلا وہ کیسے اپنے باپ کو بتاتا اُس کی گھر والی اُس کی موجودگی میں اور زیادہ اداس ہوجاتی وہ تو شاید اُس کے وہاں سے جانے پر سکون محسوس کرتی ہوگی
لیکن ولیمہ بھی تو ایک اہم کام تھا جسے نبھٹانے کے لئے اُس کی گاؤں میں موجودگی ضروری تھی پورا ہفتہ بھی گزر چکا تھا اُس نے مشی کا چہرہ نہیں دیکھا تھا اُس کا چہرہ یاد کرکے دلاور کے ہونٹوں کو نرم سی مسکراہٹ نے چھوا
“کیا سوچ کر مسکرایا جارہا ہے خیریت تو ہے”
اچانک شیردل اُس کے کمرے میں آتا ہوا دلاور سے پوچھنے لگا تو دلاور بےخیالی سے ہوش میں آتا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
“بیٹھو یار کھڑے کیوں ہوگئے۔۔۔ ویسے پہلے کبھی تمہیں یوں مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا اچھے لگتے ہو مسکراتے ہوئے ایسے ہی ہنتسے مسکراتے رہا کرو”
شیردل خود بھی اچھے موڈ میں دلاور کے سامنے کرسی پر بیٹھتا ہوا اسے بولا۔۔۔ پھر اچانک اسے دلاور کے مسکرانےکی وجہ سمجھ میں آئی یعنٰی اس کی بہن یہی تو تبدیلی تھی جو دلاور کی زندگی میں آئی تھی۔۔۔ کیا وہ مشی کو دل سے قبول کرچکا تھا اگر ایسا تھا تو یہ اچھی بات تھی
“وہ بابا سائیں نے کل ولیمے کی تقریب رکھی ہے گھر پر ہی اِس لیے اب کل صبح ہی گاؤں کے لیے نکلنا پڑے گا”
دلاور شیردل کی بات سن کر اس کو آگاہ کرتا ہوا بولا
“ہاں تو ٹھیک ہے تم چکر لگاکر آجاؤ مگر منگل کے روز تمہیں یہاں لازمی ہونا ہے یاد ہے ناں منگل کا دن میرے لیے کتنا خاص ہے”
بولتے ہوئے شیردل کے چہرے پر رونق در آئی تھی جسے دیکھ کر دلاور بھی مسکرا دیا
“آپ نے آنٹی (رملہ) کو بتایا کہ منگل کے روز اُنہی کی بیٹی سے آپ کا نکاح ہے اور آپ اُن کی بیٹی کو ہمیشہ کے لئے اُن کے پاس لےکر آنے والے ہیں”
دلاور کے پوچھنے پر شیردل نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا
“جب تک ہانیہ میری زندگی میں نہیں آجاتی تب تک میں کسی بھی قسم کا رسک لینے کے لئے تیار نہیں ہوں تم نہیں جانتے دلاور کتنی دعائیں مانگنے کے بعد وہ قبولیت کا لمحہ میری زندگی میں آۓ گا جب ہانیہ ہمیشہ کے لئے میری ہوجائے گی”
شیردل سکون سے آنکھیں بند کرتا ہوا دلاور سے بولا
نام تیرا خود ہی میری زبان پر آجاتا ہے..
جب کوئی مجھ سے میری آخری خواہش پوچھتا ہے..
“آپ آئے گیں کل میرے ولیمے میں”
دلاور کا سوال سن کر شیردل بالکل خاموش ہوگیا دلاور اب بھی اسی کو دیکھ رہا تھا جیسے اس کے جواب کا منتظر ہو
“تم جانتے ہو کہ شبیر صاحب لیف پر ہیں کل تم بھی نہیں ہوگے تو میری آفس میں موجودگی ضروری ہے”
کچھ دیر بعد شیردل وجہ بتاتا ہوا دلاور سے بولا اس کہ انکار پر دلاور خاموش رہا
“تم اب عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہو اور یقین رکھو دلاور میں تمہارے لیے دل سے خوش ہوں”
شیردل کی بات پر دلاور کے چہرے پر ہلکی سی مسکاہٹ آکر غائب ہوگئی
***
“ہائے قسمے دلاورے دلہن تو توُ شہر سے بڑی چن کر لایا ہے اپنے لیے”
مشی اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی تب اسے دلاور کی بڑی چچی کی آواز سنائی دی وہ دلاور سے ہی مخاطب تھیں یعنی دلاور یہاں پہنچ گیا تھا مشی دلاور کی آمد کا سوچ کر بیڈ سے اٹھ بیٹھی، صبح جاگنے کے بعد زرش نے اُسے بتایا تھا کہ آج اُس کے ولیمے کی تقریب ہے اِس وجہ سے پورا گھر صبح سے ہی رشتے داروں سے بھرنا شروع ہوگیا تھا اتنے سارے اجنبی چہرے ایک ساتھ دیکھ کر وہ کافی نروس تھی اور اتنے سارے لوگوں میں کوئی اس کو اپنا نہ تھا جس وجہ سے وہ خود کو تنہا محسوس کررہی تھی اتنی ساری خواتین اور درجنوں بھر بچے تھوڑی دیر پہلے تک اس کے کمرے میں موجود تھے
بلائیں لیتی، دعائیں دیتی اور اس کو خود سے چپٹا چمٹا کر پیار کرتی بزرگ خواتین۔۔۔ دلاور کے حوالے سے عجیب عجیب سی باتیں کرتی فضول سی فقروں پر تالیاں مار کر زوردار قہقہہ لگاتی دلاور کی مامیاں اور چچییاں اور ساتھ ہی گلا پھار کر شور مچاتے کھیلتے کودتے بچوں کو پچھلے دو گھنٹوں سے برداشت کرتی وہ رو دینے کو تھی تبھی زرش کو اس پر ترس آگیا اور اس نے سب کو دلاور کے کمرے سے باہر نکال دیا تھا اپنے مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھ کر وہ دوپٹہ لینے کا سوچ ہی رہی تھی تبھی کمرے کا دروازہ کھلا دلاور کو کمرے میں آتا دیکھ کر مشی بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی دونوں کی ہی نظریں بیک وقت ایک دوسرے سے ٹکرائی جہاں دلاور کی نظروں میں اپنائیت اتنے دنوں کے بعد ملنے کی خوشی اور محبت چھلک رہی تھی وہی مشی کی نظروں میں غصہ، ناراضگی اور ڈھیر سارا شکوہ موجود تھا دلاور کمرے کا دروازہ بند کرتا مشی کے پاس آیا
“کیسی ہیں”
دلاور مشی کو دیکھتا ہوا اُس کا حال پوچھنے لگا پورے ایک ہفتے بعد اس کو دیکھ رہا تھا اس لیے مسکراہٹ خود بخود دلاور کے لبوں پر بکھر گئی
“نظر نہیں رہا تمہیں”
مشی اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر تڑخ سے جواب دیتی بولی تو دلاور اُس کے اتنے روکھے انداز پر بس اس کو دیکھتا ہی رہ گیا
“میں آپ سے آپ کا حال پوچھ رہا ہوں”
وہ افسوس کرتا مشی کو جتانے لگا بھلا ایسی بھی کیا بےمروتی تھی کہ اتنے دنوں بعد دیکھنے پر بھی انسان سیدھے منہ جواب ہی نہ دے
“تم جس حال میں مجھے یہاں چھوڑ کرگئے تھے افسوس اُس سے بہتر ہے اب میری طبیعت، زندہ ہو میں اِس لیے میری زیادہ فکر کرنے کی یا مجھ سے ہمدردی جتانے کی ضرورت نہیں ہے”
بےشک اس دن صبح وہ اس پر غصہ تھی چڑچڑے پن میں کہہ دیا کہ وہ اپنی شکل گم کرلے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ وہ سچ میں شکل گم کرکہ یہاں اس کو اکیلا چھوڑ جاتا۔۔۔ اب پورے سات دن بعد وہ یہاں آیا تھا اور فکر ایسے کررہا تھا جیسے بہت زیادہ پرواہ کرتا ہو اُس کی، مشی طنزیہ لہجے میں بولی
“غالباً جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے آپ خود چاہتی تھی کہ میں یہاں سے چلا جاؤ میں نے تو آپ کا کہا پورا کیا پھر شکوہ کس بات کا اور رہا میرا آپکی فکر کرنا تو آپ کی فکر کیسے نہ کروں آپ ذمہ داری ہیں میری، آپ کا خیال رکھنا فرض ہے میرا، آپ کی پروا کرنا ڈیوٹی ہے میری جانتی ہیں کیوں؟ کیوکہ رشتہ جوڑ لیا ہے آپ سے نکاح کرکے”
دلاور نے اسے یاد دلانا چاہا اب ان دونوں کے درمیان شوہر اور بیوی والا رشتہ موجود ہے دلاور کی بات پر مشی نے شکوہ بھری نظروں سے اس کو دیکھا
“اچھا تو میں تمہارے نکاح میں ہوں، میں تو اتنے دنوں سے یہی سمجھ رہی تھی کہ زرش سے میرا نکاح ہوا ہے ہفتے بھر سے وہی میرا خیال رکھ رہی ہے، اسی کو میری فکر رہتی ہے اور وہی میری پروا کررہی ہے مجھے تو لگ رہا ہے میں اُس کی ذمہ داری ہوں”
مشی بھرپور طنز کے ساتھ دلاور کو دوبدو جواب دیتی بولی تو دلاور کے ہونٹوں پر مشی کی بات سن کر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔ یہ تھوڑا بہت رملہ کے سمجھانے کا اثر تھا اور دوسرا اتنے سارے اجنبی لوگوں میں وہ ایک شناسا چہرہ دیکھ رہی تھی
“یہ ڈیوٹی زرش کی اُس کا بھائی ہی لگاکر گیا تھا تاکہ میرے پیچھے آپ کو کوئی پریشانی نہ ہو لیکن اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں اپنی ذمہ داریاں خود سنبھالوں تو میں آگیا ہوں اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے آپ کے پاس”
دلاور نے بولتے ہوئے اچانک اُس کا مہندی لگا ہاتھ پکڑا جس پر مشی ایک دم اُس کی جرات دیکھ کر بری طرح بوکھلائی تھی
“یہ کیا بدتمیزی ہے دلاور اپنی حد میں رہو”
مشی اُس کے بےتکلفانہ انداز پر بےساختہ اسے جھڑکتی ہوئی بولی جس پر ایک دم دلاور کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا وہ خاموشی سے اُس کا ہاتھ چھوڑ کر کمرے سے باہر جانے لگا تبھی مشی کو اپنے بولے گئے جملے کا احساس ہوا
“دلاور سنو میرا وہ مطلب نہیں تھا ایم سوری دیکھو اتنے دنوں بعد آئے ہو پلیز ناراض مت ہوجانا اب”
مشی کے سوری بولنے پر دلاور پلٹ کر مشی کا چہرہ دیکھنے لگا شاید وہ اجنبی چہروں میں خود کو تنہا محسوس کررہی تھی اس لیے دلاور کے ناراض ہونے پر پریشان ہوکر بولی
“آپ چاہتی ہیں میں شوہر بن کر آپ کی ذمہ داری تو نبھاؤ مگر اپنی حد میں رہ کر مگر آپ بھول رہی ہیں یہاں جانے سے پہلے میں نے آپ کو کہا تھا ہمارے بیچ مقرر حد کا تعین آپ نہیں کریں گیں بلکہ میں کروں گا”
دلاور کے بولنے پر مشی کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کون سی حدوں کی بات کررہا ہے کس نہج پر پہنچ کر اپنا اور اس کا رشتہ نبھانا چاہتا تھا دلاور خاموش کھڑی مشی کو دیکھ کر بیڈ پر سے دوپٹہ اٹھا کر اس پر ڈالتا ہوا بولا
“اب ایسا بھی کیا شکوہ کہ شوہر اتنے دنوں بعد آئے اور بیوی اس سے دو کھڑی سیدھے منہ بات ہی نہ کرے ایسا سلوک بھی مت کیجئے میرے ساتھ”
وہ مشی کو دیکھتا ہوا نرم لہجے میں بولا تو بےساختہ مشی اپنی نظریں جھکا گئی جب اس نے گھنی پلکیں اٹھاکر دلاور کو دوبارہ دیکھ کر اسمائل دی تو سارے شکوے گلے ناراضگی جیسے اس کی اس مسکراہٹ سے ختم ہوگئے
“بس تمہیں مجھے اس طرح یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا”
مشی نے جیسے ایک مرتبہ دوبارہ دلاور کو اس کی غلطی کا احساس دلایا تھا مگر وہ بھی کہاں اپنی غلطی تسلیم کرتا فوراً مشی کے شکوہ کرنے پر بولا
“اب یہ مت بولیے گا کہ آپ نے میرے جانے کے بعد مجھے اتنے دنوں تک مس کیا”
دلاور اس کو دیکھتا ہوا بولا اور مشی کا ہاتھ دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیتا اس کا مہندی کا ڈیزائن دیکھنے لگا وہ مہندی جو اس کے نام کی اس لڑکی کے ہاتھوں پر سجی تھی ایک سرشاری کی کیفیت اس کے رگ و جاں میں خون بن کے دوڑ گئی
“میں ایسا بولنے کا ارادہ رکھتی بھی نہیں ہوں”
مشی اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی ہوئی بولی تو دلاور ٹھنڈی آہ بھر کر بولا
“اگر آپ ایسا ارادہ رکھتی تو دلاور خود کو خوش نصیب تصور کرتا”
وہ مشی کی انکھوں میں دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا تو اب کی مرتبہ مشی گھور کر اس کو دیکھتی ہوئی بولی
“تم پہلے تو ایسی باتیں نہیں کرتے تھے یہ اب کیا ہوگیا ہے تمہیں” مشی اس کے بےتکلفی سے بات کرنے پر جتاتی ہوئی بولی
“پہلے ہم دونوں کے درمیان کوئی تعلق کہا تھا اب تو بہت گہرا تعلق جڑ چکا ہے”
دلاور نے تھوڑا قریب آکر ایک مرتبہ پھر مشی کو اپنا اور اس کا رشتہ یاد کروایا تھا
“تم سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا”
مشی ہار مانتی ہوئی بولی تھی جس پر دلاور نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ مجھ سے بہت سی چیزوں میں نہیں جیت سکتی”
دلاور نے بولتے ہوئے بہت گہری نظر اس پر ڈالی جو مشی کو اپنے اندر تک اترتی محسوس ہوئی اس کی زبان خود بخود سل گئی اب اگے سے وہ دلاور کو کیا جواب دیتی اس لیے خاموش کھڑی رہی
“کیا ہوا آپ نے تو ابھی سے ہار مان لی شاید”
دلاور اس کے خاموش ہونے پر تھوڑا سا جھک کر اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتا ہوا بولا تو مشی نے نظریں اٹھاکر دلاور کو دیکھا وہ اس کے بےحد قریب کھڑا تھا اتنا قریب کہ اس کی سانسوں سے اٹھتی سیگریٹ کی اسمیل مشی کو اپنے ناک کے نتھنوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی وہ دونوں یونہی ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے کہ اچانک دروازہ ناک ہونے کے ساتھ ہی کھلا اور دلاور کی چچی کمرے میں چلی آئی
“ابھی تنگ تو نہیں کیا کمرے میں آکر میں نے تم دونوں کو، ہائے میں بھی کیا پوچھ رہی ہوں ابھی کون سی رات ہورہی ہے”
چچی خود بول کر اپنی بات پر ہنستی ہوئی کھانے کی ٹرے پکڑے بیڈ پر رکھتی ہوئی بولی
“وہاں کھڑا منہ کیا دیکھ رہا ہے دلاورے سفر سے تھکا ہوا آیا ہے کھانا کھالے، زرش نے تازہ تازہ روٹیاں ڈالی ہیں، جن پر میں نے خوب سارا گھی لگایا ہے خود بھی مزے سے کھا اور اپنی اِس چھوئی موئی سی دلہن کو بھی کھلا”
چچی مسکراتی ہوئی مشی کو دیکھ کر بولی تو مشی خوف سے دیسی گھی سے لتھڑی ہوئی روٹیاں دیکھنے لگی
“نو دلاور میں یہ بالکل نہیں کھاسکتی ہوں انہیں بتاؤ پلیز اِس کھانے کو دیکھ کر تو میری بھوک مرچکی ہے”
مشی دلاور کو انکار کرتی ہوئی بولی ورنہ بھوک تو اس کو زورں کی لگی ہوئی تھی
“آئے ہائے لڑکی صحت دیکھ اپنی، ابھی تیری ناک پکڑنے کی دیر ہے دم نکل جانا ہے تیرا، شوہر دیکھ ذرا اپنا کیسا گبرو جوان ہٹا کٹا منڈا ہے، کچھ تو جان بنا اُس کے مقابلے پر تو آ”
چچی مشی کو نصیحت کرتی بولی تو مشی مدد طلب نگاہوں سے دلاور کو دیکھنے لگی
“چچی اِن کو عادت نہیں ہے دیسی کھانوں کی، زرش نے اِن کے لیے اسپیگٹیز بنائی ہے شاید آپ وہ لے آئیں اِن کے لئے پلیز”
دلاور مشی کے رونے والی شکل دیکھ کر اپنی چچی سے بولا تو اُن کا منہ بن گیا
“لو بھلا وہ بھی کوئی کھانا ہوتا ہے نمکین سووائیوں میں سبزیاں ڈال دی اللہ ہی بھلا کرے اِن ماڈرن لڑکیوں کا”
چچی بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے چلی گئی
“شکر ہے تم نے مجھے بچالیا اپنی چچی سے مقابلے کا تو ایسے بول رہی تھیں جیسے آج رات ہم دونوں کے بیچ کوئی کُشتی کا زبردست کمپٹیشن ہونے والا ہے”
مشی اپنا رکا ہوا سانس بحال کرتی دلاور سے بولی تو دلاور کھانے کی ٹرے اپنی جانب کھسکا کر مشی کی بات پر مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا
“ایسے کیا مسکرا کر دیکھ رہے ہو کیا کچھ غلط بولا میں نے”
مشی دلاور کے یوں مسکرا کر دیکھنے پر بیڈ کے دوسرے کونے پر بیٹھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“ویسے بالفرض اگر ہم دونوں کے بیچ کسی بھی طرح کا کوئی کمپٹیشن ہوا تو چچی ٹھیک ہی کہہ رہی تھی مجھ جیسے گبرو جوان ہٹے کٹے منڈے کے آگے آپ جیسی چھوئی موئی کا کیا ہوگا”
وہ ذومعنٰی بات کو مذاق کا رنگ دیتا ہوا کھانا کھانے لگا
“اوہو تو تم مجھے یعنیٰ مشی کو چیلنج کررہے ہو ٹھیک ہے پھر آج مقابلہ کرکے دیکھ ہی لیتے ہیں کون کس پر حاوی رہتا ہے معلوم ہوجاۓ گا”
مشی خشک مہندی لگے ہاتھ جھاڑتی ہوئی ایسے بولی جیسے وہ دلاور کو مزہ چکھانے کا ارادہ رکھتی ہو جبکہ دلاور “آج رات مقابلہ” والی بات سن کر حلق سے بمشکل نوالہ اتارتا ہوا مشی سے بولا
“کیسا مقابلہ چاہتی ہیں آپ ہم دونوں کے بیچ “
دلاور پوری آنکھیں کھول کر مشی کو دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا
“پنجھا لڑا کر دیکھ لیتے ہیں کس میں کتنا دم ہے ویسے بھی تمہاری یہ غلط فہمی بھی دور کرنی ہے کہ میں تم سے کسی بھی چیز میں جیت نہیں سکتی پنجھا لڑانے سے معلوم ہوجائے گا کہ کون زیادہ اسٹرونگ ہے بھائی کو تو میں یوں چٹکیوں میں ہرا دیا کرتی تھی”
مشی ذرا قریب آکر دلاور کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتی ہوئی فخریہ انداز میں بولی
“اب مجھے کیا معلوم آپ کے بھائی صرف نام کے ہی شیر ہیں مجھ سے مقابلہ سوچ سمجھ کر کیجئے گا کیوکہ ہارنے والے کو جیتنے والے کی بات ماننا پڑے گی پھر”
دلاور مشی کو دیکھ کر پہلے ہی طے کرتا بولا
“ڈن ہے سائیں آج رات معلوم ہوجائے گا کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے یہ بھی معلوم ہوجائے گا”
مشی اتراتی ہوئی بولی جس پر دلاور مسکرا کر اپنا کھانا کھانے لگا
***
دلہن کے روپ میں مشی اِس قدر حسین لگ رہی تھی کہ دلاور کا دل ہی نہیں کررہا تھا اُس کے چہرے سے نظریں ہٹانے کا جب اُس کے تمام کزنز نے ہوٹنگ کرکے گانا گا کر چھیڑ چھاڑ شروع کردی تو وہ خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تقریب کے اختتام پر سب بڑے ہال میں بیٹھے تھے مشی کو بھی چچی نے وہی بیٹھالیا جب دلاور اپنے دوستوں سے مل کر وہاں آیا تو چچی نے اپنی جگہ خالی کرکے دلاور کو مشی کے برابر میں بٹھا دیا پھر سلامی اور دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا
“دلاور مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے میں تھوڑی دیر اور یہاں بیٹھی رہی تو بےہوش ہوجاؤ گی، کتنا لوگوں کا رش لگا ہے عجیب گھبراہٹ ہورہی ہے مجھے پلیز تم کچھ کرو مجھے واپس کمرے میں جانا ہے”
مشی وہاں موجود لوگوں کا احساس کرکے بہت آہستہ آواز میں سرگوشی کرتی ہوئی بولی تو دلاور کو اُس کی حالت پر ترس آنے لگا
“زرش یہاں آؤ مشی کو ذرا جلدی سے کمرے میں چھوڑ کر آجاؤ”
دلاور اپنی بہن کو مخاطب کرتا بولا وہی چچی نے زور دار دھموکڑا دلاور کی کمر پر جڑدیا
“بڑا ہی بےچین ہورہا ہے جلدی کمرے میں چھوڑ آؤ صبر نہیں ہورہا، شرم نہیں آرہی تجھے سب کے سامنے ایسی بات بولنے پر”
بےباک سی چچی نے دلاور کو سب کے سامنے شرمندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی وہاں موجود تمام رشتےدار دانت نکالتے دلاور کو دیکھنے لگے
“چچی انہیں آرام کرنا ہے وہ بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہیں میں نے اِس لئے زرش سے کہا کہ کمرے میں چھوڑ آو”
دلاور شرمندگی کے باوجود وضاحت دیتا ہوا بولا کہ اُس نے ایسی بات بالکل صاف نیت سے بولی تھی
“اور تُو نے تو جیسے بڑا آرام کرنے دینا ہے کمرے میں پہنچ کر اپنی دلہن کو بچپن سے جانتی ہوں میں تجھے کتنا گھنّا ہے تُو اندر سے۔۔۔ چل لائن سے بیٹھی ساری بہنوں کو نیک دے سب نے مل تیری دلہن کو تیار کیا تھا پھر اسکے بعد خود کمرے میں لے جانا اپنی دلہن کو”
چچی کی بات سن کر جو لڑکیاں کھڑی تھی وہ بھی لائن میں بیٹھ گئی تب دلاور کو مشی کا چہرہ دیکھتے ہوئے سب لائن سے بیٹھی لڑکیوں کو نیک دینا پڑا
***
“او نو مجھے تو پورا کارٹون بنادیا زرش کے ساتھ مل کر تمہاری ساری کزنز نے”
مشی کمرے میں آنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر روتی شکل بناتی دلاور سے بولی جبکہ دلاور کمرے کا دروازہ بند کرتا اُس کے پاس چلا آیا
“کس بےوقوف نے کہہ دیا آپ سے کہ آپ اِس وقت کارٹون لگ رہی ہیں”
دلاور مشی کے حسین چہرے کو کمرے میں آنے کے بعد اب قریب سے دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا
“اس آئینے نے دلاور، یہ آئینہ مجھے صاف بتارہا ہے کہ میں اِس وقت کارٹون لگ رہی ہوں”
مشی تپ کر آئینے کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کرتی دلاور سے بولی کوئی اور وقت ہوتا تو وہ کبھی بھی کسی کو اپنے چہرے پر یوں فنکاریاں کرنے نہ دیتی مگر حالات کے مطابق اور رملہ کے موبائل پر سمجھانے پر وہ خاموشی سے سب سہتی چلی گئی تھی
“آپ کو کون کہہ رہا ہے کہ آپ یہ آئینہ دیکھیں آپ میری نظروں سے خود کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں اِس وقت”
دلاور بولتا ہوا اُس کے حسن میں کہیں گُم سا ہونے لگا تو مشی بےساختگی سے بول پڑی
“میں کارٹون بن کر بھی تم کو تو اچھی لگو گی ناں یار محبت جو کرتے ہو تم مجھ سے”
مشی بےپرواہ انداز میں دلاور سے بولی اور ایک مرتبہ پھر آئینے میں اپنا جائزہ لینے لگی
“تھوڑی سی محبت مجھ سے آپ بھی کرکے دیکھ لیں، اب تو شوہر بن چکا ہوں آپ کا”
دلاور نے سنجیدگی سے بولتے ہوئے مشی کو دیکھا تو دلاور کی بات پر ایک پل کے لئے مشی وہی جم کر رہ گئی مگر دوسرے ہی پل وہ دلاور کی بات کا اثر زائل کرنے کے لیے اس سے بولی
“اب یہاں کیوں کھڑے ہوگئے ہو پیچھے ہٹو میک اپ صاف کرنے دو مجھے”
مشی دلاور سے بولتی ہوئی ٹشو باکس سے ٹشو پیپر نکالتی چہرے کے قریب لائی تو ایک دم دلاور نے اُس کی چوڑیوں سے بھری کلائی پکڑی
“کیا تھوڑی دیر ایسے ہی میرے سامنے نہیں رہ سکتیں صرف چند منٹ تک میری خاطر”
دلاور کی فرمائش سن کر وہ خاموش ہوگئی اُس کی جذبے لٹاتی نظروں کو دیکھ کر مشی کو عجیب سا احساس ہونے لگا
“میں نے اتنی ہیوی جیولری پہلے کبھی نہیں پہنی دلاور وہ بھی اتنی دیر تک میں کافی پریشان ہورہی ہوں ایسے حلیہ میں”
مشی نے فرار کے لیے جو راہ چنی وہ شاید غلط تھی اِس کا اندازہ اُسے دلاور کی اگلی بات پر ہوا
“آپ پریشان مت ہو میں اتار دیتا ہوں آپ کی یہ ساری جیولری”
دلاور مشی کا چہرہ دیکھتا ہوا نرم لہجے میں اُس سے بولا جس پر مشی ایک دم بولی
“تم کیسے اتارو گے میرا مطلب ہے میں خود ہی۔۔۔”
مشی نے بولنا چاہا تو دلاور نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کے اسے خاموش کروا دیا
“یاد ہے آپ کو وہ دن جب میں نے آپ کو دلہن کی طرح سجایا تھا اسی دن تو اوپر والے سے میں نے اسی پل کی دعا کی تھی”
دلاور کی بات سن کر وہ خاموشی سے سانس روکے دلاور کو دیکھنے لگی۔۔۔ تو کیا یہ دلاور کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو آج وہ یہاں اس کی بیوی حیثیت سے کھڑی تھی
مشی نے دلاور کو دیکھا دلاور اس کے بےحد نزدیک کھڑا جس بدلے انداز میں اس کو دیکھ رہا تھا مشی کی ہتھیلیاں پسینے سے نم ہونے لگی۔۔۔ دلاور نے مشی کو خود سے مذید قریب کرکے بہت نرمی سے اس کو اپنی باہوں کے حصار میں لےلیا ایسے کے مشی پوری کی پوری اس کے سینے میں چھپ گئی دلاور کے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرکے مشی کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی دلاور کے ہونٹ اپنی کان کی لو پر محسوس کرکے مشی کا دل بےاختیار زور سے دھڑکا سرگوشی کے انداز میں گنگناہٹ اپنی کان میں اترتے گانے کے بولوں سے وہ بےچین ہونے لگی
Kabhi kabhi mere dil mai khayal aata hai…
K jaise tujh ko banaya gaya hai mere liye…
Tou ab se pehlay sitaro mai bas rahi thi kahi…
Tujhe zameen pe utaara gaya hai mere liye…
دلاور نے نرمی سے اپنے ہاتھ مشی کی کمر سے ہٹائے تو مشی نے دلاور کے سینے سے اپنا سر ہٹایا وہ مشی کا چہرہ اونچا کر کے دونوں ہاتھوں میں تھامے اسے قریب سے دیکھنے لگا
“دلاور” مشی کے پکارنے پر بھی جیسے وہ ہوش میں نہ آیا
“دلاور کی جان آپ پر قربان، آپ بہت اچھی لگتی ہیں مشی۔۔۔ دلاور بہت پیار کرتا ہے آپ سے۔۔۔ اس دل میں اب کوئی دوسرا نہیں آسکتا”
مشی کو اتنے قریب دلہن کے روپ میں دیکھ کر وہ بہکنے لگا تھا اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامے مشی کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تبھی مشی بےاختیار بولی
“دلاور پلیز۔۔۔ تمہیں بس یہ جیولری اتارنی تھی میری اور۔۔۔ اور کچھ نہیں”
مشی دلاور کے اِس انداز پر بہت زیادہ گھبرائی تھی اُس کی بہکی ہوئی نگاہوں کو دیکھ کر مشی نے دلاور کو جیسے اس کا کام یاد دلایا
“اتار دیتا ہوں لائیے اپنا ہاتھ دیں مجھے”
وہ ابھی بھی مشی کا چہرہ تھامے اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتا بہکے انداز بولا تو مشی نے کانپتے ہاتھوں سے دلاور کی کلائی پکڑ کر اپنے چہرے سے اس کے دونوں ہاتھ نیچے کئے اور اپنی چوڑیوں سے بھری کلائی دلاور کے سامنے کی
ّوہ نرمی سے مشی کا ہاتھ تھام کر آئستگی سے ایک ایک کر کے چوڑیاں اتارنے لگا اب اس کا انداز اتنا محتاط تھا کہ کوئی بھی چوڑی مشی کی کلائی زخمی نہ کر ڈالے مشی کو اپنا ہاتھ دلاور کے ہاتھ میں دیکھ کر عجیب سا احساس ہونے لگا گزرا ہوا منظر آنکھوں کے پردوں کے سامنے لہرانے لگا
بھاری کام والا دوپٹہ سر سے اتارتے ہوئے دلاور کے اندر امڈتے جذبات مذید شور برپا کرنے لگے بےساختہ اسے وہ منظر یاد آیا جب وہ مشی کے سر پر بھاری کام والا دوپٹہ سیٹ کررہا تھا۔۔۔ دلاور نے مشی کے سراپے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اسے شانوں سے تھام کر مشی کا رخ بدل کر ایسے کھڑا کیا کہ اس وقت مشی کی پشت دلاور کے سامنے تھی دلاور اس وقت اس کے بالوں میں باندھے گئی موتیے کی لڑیوں کو چھو کر ان کی مہک اپنے اندر اتارتا اس کی گردن پر موجود بھاری ہار کی ڈوری کھولنے لگا مشی نے ضبط کرتے ہوئے اپنا غرارہ مٹھی میں دبوچ لیا دلاور مزید مشی کے قریب آیا تو مشی کی پشت دلاور کے سینے سے لگ گئی اس پل ان دونوں کے دل ایک ساتھ بےاختیار زور سے دھڑکے۔۔۔ دلاور آہستگی سے مشی کے گلے میں موجود ہار اتارنے لگا دلاور کی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے اور اس کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر مشی کے اپنے دل کی حالت غیر ہونے لگی
مشی ایسے ہی دلاور کی طرف اپنی پشت کیے اس کے سینے سے چپکی کھڑی تھی اور دلاور اس کی کان کی لو کو چھوتا باری باری اس کے کان سے بھاری جھمکے اتار رہا تھا دلاور کی سانسوں کی گرمائش مشی اپنے گال پر محسوس کرتی دونوں انکھیں بند کرکے اپنا سر پیچھے لے جاکر دلاور کے مضبوط شانے پر ٹکا چکی تھی دلاور مشی کا چہرہ دیکھتا اس کے ماتھے پر سجی بندیا اتارنے لگا سارا زیور اتر گیا تو دلاور کی انگلیاں مشی کی گردن کو نرمی سے چھونے لگی دلاور کی سانسوں کی گرمائش اور اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کرتی مشی اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی
یہ سب کچھ ایسے، اتنی جلدی، بناء اس کی مرضی۔۔۔۔ وہ ایسا فلالحال نہیں چاہتی تھی مگر دلاور کے منہ زور جذبات کے سامنے اپنی ہار پر بےبسی کے مارے بےاختیار اس کی انکھوں سے آنسو جاری ہوئے جن سے دلاور بےخبر اس کو دونوں شانوں سے تھاما ہوا اس کی گردن پر اپنے ہونٹ مس کیے دے رہا تھا مشی کے شانے سے اپنا ایک ہاتھ ہٹاکر وہ مشی کے پیٹ پر رکھتا اسے اپنے حصار میں لینے لگا بےساختہ مشی کے لب سے سسکی نکلی تو دلاور ہوش میں آیا
مشی کی انکھوں کو آنسو بہاتا دیکھ کر اب وہ مکمل طور پر اپنے حواس میں لوٹا اپنے جذبات پر قابو پاتا وہ جلدی سے پیچھے ہوا
“ایم سوری۔۔ وہ مجھے پتہ نہیں چلا کیسے میں۔۔۔ میں بس یہ آپ کی، یہ جیولری۔۔۔ جیولری اتار رہا تھا بس اور کچھ نہیں۔۔۔ مشی پلیز ریلیکس ہوجائیے اب ساری جیولری اتر چکی ہے آپ کافی تھک گئیں ہیں چلیں ایسا کریں، میک اپ صاف کرکے لباس تبدیل کرلیں اور سو جائیں”
دلاور کے بولنے پر مشی روتی آنکھوں سے اُس کو دیکھنے لگی دلاور خود پر کنٹرول کرتا اُس کو ہلکی سی اسمائل دیتا جس میں شرمندگی کا عنصر واضع تھا فوراً مڑا اور الماری سے اپنے لیے چادر نکال کر فرش پر بچھانے لگا
***
