Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 2)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
مشی آرام میں بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی کتاب پڑھ رہی تھی تب اس کے کمرے کے بند دروازے پر دستک ہوئی
“اندر آجاؤ”
یونہی لیٹی ہوئی مشی نے آواز لگائی تو کمرے کا دروازہ کھلا کمرے کے اندر داخل ہوتا دلاور مشی کو بےتکلفی سے لیٹا دیکھکر وہی رک گیا
“کیا سیل ختم ہوگئے ہیں تمھارے جو کمرے کے اندر آتے آتے رک گئے اب شکل کیا دیکھ رہے ہو میری کمرے میں بھی آچکو”
مشی دلاور کو دیکھکر بےذار سے لہجے میں بولی تو دلاور کمرے میں چلا آیا
“بیگم صاحبہ بول رہی تھی آپ کو مجھ سے کام تھا”
دلاور مشی کو دوبارہ کتاب پڑھتے دیکھ کر گلا کھنگارتا ہوا بولا تو مشی نے سر اٹھاکر اُس کو دیکھا جو اُس کی بجائے سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا
“کیا نظر آرہا ہے تمہیں اِس خالی دیوار میں”
مشی کتاب بند کر کے اٹھ کر بیٹھتی ہوئی دلاور کے انداز پر چڑ کر اُس سے پوچھنے لگی
“خالی دیوار پر مجھے کیا نظر آنا ہے بھلا”
دلاور دھیمے لہجے میں مشی سے گویا ہوا اس کی نظریں اب دیوار کی بجائے باہر کھڑکی پر تھی
“تو پھر یہاں میری شکل کی طرف دیکھو ناں، ویسے تمہارے ساتھ کیا کوئی مسئلہ وسلہ ہے تم نارمل طریقے سے میری طرف دیکھ کر بات کیوں نہیں کرسکتے”
مشی اس کے انداز پر چڑتی ہوئی پوچھنے لگی
“میں ابھی آپ کی طرف اِس طرح کیسے دیکھ سکتا ہوں”
دلاور نے احتراماً اپنی نظریں جھکاکر مشی کو اُس کے حلیے کا احساس دلانا چاہا تو مشی کی نظریں اپنے گہرے گلے پر پڑی پھر اس کی نظروں نے صوفے پر پڑے دوپٹے کا طواف کیا
“تو تم انتظار کررہے ہو میرے بولنے کا مجھے دوپٹہ اٹھاکر دو اسٹوپڈ”
مشی دلاور کو جھڑکتی ہوئی بولی اپنی غلطی تو وہ کیا ہی مانتی اپنی جھنپ مٹانے کے لیے دلاور کو گھورنے لگی جیسے اس کا دوپٹہ دلاور نے صوفے پر رکھا ہو چار و ناچار وہ صوفے پر پڑا ہوا دوپٹہ اٹھاکر اُسے تھما چکا تھا جب مشی دوپٹہ اوڑھ رہی تھی تب دلاور کی ایک گستاخ نظر اُس کے حسین سراپے پر پڑی دلاور نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کرلیا جب بھی وہ اِس لڑکی کے دمکتے ہوۓ روپ کو دیکھتا تب اسے اپنے اندر کچھ گڑبڑ ہونے کا احساس ہوتا ہے وہ فوراً اپنی نظریں دوسری سمت کرلیتا
“یہ پینٹنگ دیکھ رہے ہو تمہیں یہ پینٹنگ اِسی خالی دیوار پر لگانی ہے مگر ابھی نہیں کل جب میں کالج جاؤ تب”
مشی ٹیبل پر رکھی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی تاکہ اُسے بلانے کا مقصد واضح ہوجاۓ
“ٹھیک ہے کل آپ کا یہ کام ہوجائے گا اور کچھ”
دلاور نے مشی کے کمرے سے جانے سے پہلے پوچھا
“ہاں ذرا اسمائل دینا پلیز”
مشی کا انداز سنجیدہ تھا دلاور ناسمجھنے والے انداز میں مشی کو دیکھنے لگا
“ارے سائیں کبھی کبھار مسکرا بھی دیا کرو اچھا ہوتا ہے صحت کے لیے مسکرانا، کیا ہر وقت بھائی کے پیچھے گھومتے اسلحے سے رومانس کرتے ہو”
مشی کے پیور سندھی ٹون میں مزاحیہ سے انداز پر سچ میں دلاور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آکر بکھر گئی اس لڑکی کے موڈ کا کچھ نہیں معلوم ہوتا تھا وہ اسمائل دیتا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا
“رکو ابھی میں نے تمہیں جانے کو تھوڑی بولا ہے”
مشی دلاور کو جاتا ہوا دیکھ کر ایک دم بولی تو دلاور اپنے قدم روک کر مشی کو دیکھنے لگا شاید اب وہ اپنے مزاج کے مطابق اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھی مشی بیڈ سے اٹھ کر چلتی ہوئی سامنے صوفے پر آکر بیٹھی
“یہاں آؤ اور یہ نیل پالش ذرا میرے پاؤں کے نیلز پر لگادو”
مشی اپنے پاؤں میز کی سطع پر ٹکاتی دلاور سے بولی تو دلاور انکھیں کھول کر مشی کو دیکھنے لگا
“بی بی یہ کام تو لڑکیوں کے کرنے والے ہیں آپ مجھے کوئی اور کام دے دیجئے ویسے بھی میں نے پہلے کبھی یہ کام نہیں کیا”
دلاور بےبسی سے مشی کے سامنے بولا یہ لڑکی آج پھر شاید اسے جان بوجھ کر تنگ کررہی تھی
“آج کے دور میں جب لڑکیاں لڑکوں کے کام کرسکتی ہیں تو لڑکے لڑکیوں کے کام کیوں نہیں کرسکتے اور تم اتنے کام چور تو نہیں ہو دلاور اب میرے سامنے کسی بھی بات کا انکار کر کے میرا موڈ مت خراب کرنا”
اب کی بار مشی سنجیدہ تاثرات چہرے پر لاکر بولی تو مجبوراً دلاور کو اس کے پاؤں کے پاس بیٹھنا پڑا دلاور کے چہرے پر بےزاری دیکھ کر مشی کو ہنسی آئی تھی جسے وہ فوراً چھپا گئی
“بہت احتیاط سے لگانا ہے خانہ خراب نہیں کرنا میرے ناخنوں کا”
مشی کے بولنے پر دلاور نے ایک مرتبہ پھر ضبط سے کام لیا تھا اگر وہ اس کے مالک کی چھوٹی بہن نہ ہوتی تو دو منٹ میں اس لڑکی کا دماغ درست کردیتا وہ بہت احتیاط سے بغیر اس کے پاؤں کی انگلیوں کو ٹچ کیے نیل پالش مشی کے ناخنوں پر لگانے لگا یہ کام دلاور کے لیے اسلحہ چلانے سے زیادہ مشکل ثابت ہوا تھا جب تمام ناخن رنگین ہوگئے تب دلاور نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا
“غصہ آرہا ہے مجھ پر بری تو میں تمہیں بہت لگتی ہوگی، ہے ناں بالکل سچ بتانا مجھے”
جب دلاور اٹھنے لگا تو مشی اپنے پاؤں نیچے کر کے دلاور کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاکر مسکراتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی اتنے قریب سے مشی کے چہرے کو دیکھ کر دلاور کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار تیز ہونے لگی یہ لڑکی اپنی حرکتوں سے اسے غصہ ضرور دلا جاتی مگر بری تو اس کے دل کو کبھی بھی نہیں لگی تھی دلاور نے دل ہی دل میں اس بات کا اعتراف کیا
“آپ دلاور کو بری لگ ہی نہیں سکتی”
دلاور مشی کا چہرہ دیکھ کر اس کی انکھوں میں جھانکتا بالکل سچی بات بولا دل نے کہیں اپنے اندر سر تال چھیڑنے شروع کردیے دلاور کی بات سن کر مشی اس کو اسمائل دیتی ہوئی پیچھے صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھی اور اس نے اپنے پیر دوبارہ میز کی سطح پر رکھ لیے
“میرے پاؤں سے یہ اینگلٹ اتار دو”
دوبارہ مشی کے انوکھے کام پر وہ ایک مرتبہ پھر بوکھلایا اور ہونق بنا اُس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“یہ بھی میں اتارو آپ کے پاؤں سے”
دلاور مشی کو دیکھ کر کنفرم کرتا اس سے پوچھنے لگا شیردل نے یہاں پر اسے کس جاب پر رکھا تھا اور اس کی بہن اس سے کیا کام کروا رہی تھی
“جی سائیں آپ سے یہ کام بولا ہے یہاں آپ کو اپنے علاوہ اور کوئی دوسرا بندہ نظر آرہا ہے”
مشی دلاور کے حیرت ذدہ انداز پر معصومیت سے طنز کرتی ہوئی دلاور سے پوچھنے لگی تو دلاور مشی کے قدموں کی طرف جھک کر اُس کے سفید کبوتر جیسے پاؤں سے پائل اتارنے لگا اب یہ پائل اتارتے ہوئے ایسا تو نہیں ہوسکتا تھا کہ اس کی انگلیاں مشی کے پاؤں پر ٹچ نہ ہو پھر بھی احتیاط کرتا وہ لاک کھولنے کی کوشش کرنے لگا
“شاید اِس کا لاک خراب ہے سراہ مل نہیں رہا مجھے”
دلاور اُس کے سفید پاؤں سے اپنی توجہ پائل کی طرف مرکوز کرتا ہوا مشی کو بتانے لگا
“تبھی تو تم سے بولا ہے بدھو ورنہ یہ کام میں خود نہ کرلیتی مگر تمہیں تو بس اسلحے کے بل بوتے پہ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا آتا ہے چلو اب بھاگو یہاں سے”
مشی بدمزاہ سی ہوکر اپنے پاؤں پیچھے کرتی دلاور سے بولی وہ نظریں اٹھاکر پل میں اس لڑکی کے بدلتے ہوئے موڈ کو دیکھنے لگا جو شاید اب اس سے خوش نہ تھی
“نہیں بی بی مجھے صرف اسلحہ کا استعمال نہیں آتا بلکے مالک مجھے ہر فن مولا کہتے آپ دکھائیے اپنا پاؤں کھل جائے گا یہ لاک”
جب وہ اسے تنگ کرنے پر تلی ہوئی تھی تو دلاور نے سوچا آج اس لڑکی کے سارے عجیب و غریب بولے ہوئے کام کر ہی ڈالے تبھی دلاور نے اس کا پاؤں پکڑنے کی جسارت کرتے ہوئے اس کا خوبصورت پاوں اپنے گھٹنے پر رکھا تو مشی صوفے سے نیچے بیٹھے دلاور کو دیکھنے لگی وہ کسی گھر کے ملازم کو یوں خود سے فری ہونے یا اپنے پاؤں کو چھونے کی اجازت نہ دیتی مگر اُس کے سامنے بیٹھا یہ مرد انتہا کا کوئی شریف تھا جو مشکل سے کبھی اس کی طرف نظریں اٹھالیتا
“ویسے تمہاری گرل فرینڈ کا نام کیا ہے دلاور”
مشی کچھ سوچتی ہوئی دلاور سے پوچھنے لگی دلاور نے چونک کر اپنی نظریں اٹھاتے ہوۓ مشی کو دیکھا جو اُسی کو دیکھ رہی تھی
“نہیں بی بی میں ایسے شوق نہیں رکھتا”
دلاور مشی سے بولتا ہوا دوبارہ پائل کی طرف متوجہ ہوا تو مشی جھٹ سے بولی
“لو جی، راشدہ کے تو ایک چھوڑو دو دو بواۓ فرینڈز ہیں ایک سے اپنے موبائل پر ایزی لوڈ کرواتی ہے اور پیکج کرنے کے بعد دوسرے سے ساری رات باتیں کرتی ہے، خود بتارہی تھی مجھے اور ایک تم ہو اتنے بڑے گھوڑے بلکہ اونٹ ہو جو ایک گرل فرینڈ بھی نہیں بناسکے”
مشی کی بات پر دلاور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی جسے وہ سنجیدگی میں ڈھالتا ہوا بولا
“اوپر والا راشدہ کے دونوں بواۓ فرینڈز کو عقل اور راشدہ کو ہدایت دے اور اِس سے زیادہ کیا کہا جاسکتا ہے اِس بارے میں”
دلاور کے بولنے پر مشی افسوس کرتی اس سے بولی
“تم تو ایسا ہی بولو گے تمہارے پاس خود جو گرل فرینڈ نہیں ہے خیر اِس میں تمہاری بھی کیا غلطی بھائی تمہاری جان ہی نہیں چھوڑتے ہر جگہ اپنے ساتھ چپکاۓ رکھتے ہیں معلوم نہیں شادی کے بعد تمہاری بیوی کا کیا ہوگا”
مشی کی بات پر وہ چاہ کر بھی مسکراہٹ نہیں چھپا سکا مگر اس کے جملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا
“یہ لیں بی بی لاک کُھل گیا میں اب جاؤ”
دلاور اُس کی بات پر اپنی راۓ دینے کی بجاۓ کمرے سے جانے کی اجازت مانگنے لگا
“مجھے بعد میں احساس ہوا اُس دن تم نے ان دونوں لڑکوں کو بالکل صحیح دھلائی کی تھی میں نے تم پر غُصّہ کرکے غلط کیا مجھے اُس دن تم پر غصّہ نہیں کرنا چاہیے تھا”
مشی کے بولنے پر دلاور کی نظریں مشی کے چہرے پر ٹہر گئیں وہ مشی کو دیکھکر بناء کچھ بولے خاموشی سے اس کے کمرے سے چلا گیا
***
“کیا ہوا بیچ رستے میں گاڑی کیوں روک دی”
رات کے پہر ہانیہ اپنی سہیلی کی شادی کے فنگشن سے واپس گھر آرہی تھی تو اچانک راستے میں گاڑی روکنے پر ڈرائیور سے پوچھنے لگی
“لگتا ہے میڈم انجن میں خرابی ہوگئی ہے آس پاس تو کچھ نظر نہیں آرہا آپ گاڑی کے دروازے اچھی طرح لاک کرلیں یہاں تھوڑی دور فاصلے پر شاپ ہے، میں بس جلدی سے کسی لڑکے کو لےکر واپس آتا ہوں”
ڈرائیور ہانیہ کو ہدایت دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا کیونکہ رات کافی ہوچکی تھی اور راستہ بھی خاصا ویران تھا ڈرائیور کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی ہانیہ کے موبائل پر فہیم کی کال آنے لگی
“جی بابا تھوڑی دیر میں پہنچ جاؤ گی، گاڑی اچانک خراب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تھوڑا ٹائم لگے گا ہیلو،، ہیلو میری آواز آرہی ہے آپ کو”
اُسے فہیم کی صحیح سے آواز نہیں آرہی تھی تبھی اُسے گاڑی سے باہر نکلنا پڑا کیونکہ فہیم ہانیہ کے اتنی دیر تک گھر نہ آنے کی وجہ سے فکرمند ہوچکا تھا فہیم سے بات کرکے وہ واپس گاڑی میں بیٹھ رہی تھی تبھی اچانک ایک بائیک اُس کے بےحد قریب آکر رکی
“اندر گاڑی میں کہاں جارہی ہو، پہلے اپنا موبائل اور یہ جیولری اتار کر ہمارے حوالے کرو”
بائیک پر موجود دونوں لڑکے بائیک سے اتر کر ہانیہ سے بولے ان میں سے ایک لڑکے نے ہانیہ کا راستہ روکا ہوا تھا دوسرے لڑکے نے اُس کے ہاتھ میں موجود موبائل چھین لیا اُن دونوں کے پاس کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا لیکن ہانیہ ڈر کے مارے اپنے کانوں میں موجود ڈائمنڈ کی ائیررنگ اتارنے لگی کیوکہ سڑک پر پوری طرح سناٹا تھا وہ دونوں لڑکے ہی عجیب نظروں سے ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے ہانیہ کے روپ کو دیکھنے لگے
“کہاں جارہی تھی اتنی رات کو جانِ من تھوڑا سا ٹائم ہم دونوں کو بھی دے دو بےشک پیمنٹ ہم دونوں سے الگ الگ لے لینا”
ہانیہ سے جیولری لینے کے بعد ان میں سے ایک لڑکا ہانیہ کا گال اپنے ہاتھ سے چھوتا ہوا بولا جسے ہانیہ نے خوف کے باوجود زور سے دور جھٹکا
“خبردار اپنا گندا ہاتھ مت لگاؤ مجھے جو تمہیں چاہیے تھا وہ مل چکا ہے جاؤ یہاں سے”
ڈر کے باوجود وہ اپنا لہجہ مضبوط کرتی ہوئی بولی تو وہ دونوں مکروہ ہنسی ہنسنے لگے
“اب صرف ہاتھ لگانے پر تھوڑی گزارہ کریں گے ہم صرف موبائل اور ان کانوں کے جھمکو سے کیا ہوتا ہے ابھی تو اور بھی کچھ تم سے لینا ہے پکڑ کر گاڑی میں ڈال اِسے”
ان میں سے ایک لڑکا کمینگی سے بولتا ہوا آخری جملہ اپنے ساتھی سے بولا وہ ہانیہ کے فرار ہونے سے پہلے ہانیہ کو پکڑ چکا تھا
“چھوڑو مجھے نہیں، پلیز چھوڑو مجھے”
ہانیہ اُس سے اپنا آپ چھڑاتی ہوئی چیخنے کے ساتھ رونے لگی کیونکہ وہ لڑکا اِس کو کھینچتا ہوا گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لے جارہا تھا جبکہ دوسرا لڑکا ہانیہ کے خوف سے چیخنے پر زور سے ہنس رہا تھا اتنے میں دور سے پراڈو آتی دکھائی دی جس پر ہانیہ کے ساتھ وہ دونوں لڑکے بھی چوکنا ہوئے
“جلدی سے ڈال اِسے گاڑی میں”
پہلا لڑکا گھبرا کر اپنے ساتھی سے بولا دوسرا لڑکا بھی سامنے سے آتی پراڈو کو دیکھ کر بوکھلا چکا تھا جس کی وجہ سے اُس کی ہانیہ پر اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی ہانیہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتی ہوئی اُس لڑکے کے چنگل سے نکل کر اُس گاڑی کی طرف بھاگی
گاڑی میں موجود شیردل ہانیہ کو اپنی سمت آتا دیکھ کر گاڑی کو بریک لگا چکا تھا وہ پہلی نظر میں دور سے ہی ہانیہ کو پہچان چکا تھا یہ وہی لڑکی تھی جس نے بھرے مجمعے کے سامنے اُس کے منہ پر طمانچہ مارا تھا لیکن اِس وقت وہ شدید گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی اور رو رہی تھی بغیر دوپٹے کے اُس کی گاڑی کے پاس کھڑی شیردل کی نظریں اُن دونوں لڑکوں پر پڑی جو ہانیہ کی طرف بڑھ رہے تھے شیردل بھی تیزی سے اپنی گاڑی سے باہر نکلا وہ پورا سین خود سمجھ چکا تھا
“اس لڑکی کو ہاتھ لگانے سے پہلے میں تم دونوں کو آگاہ کردیتا ہوں اگر تم دونوں میں سے کسی نے بھی اِس لڑکی کو چھونے کی کوشش کی تو میں تم دونوں کے ساتھ وہ کروں گا جس کو سوچ کر تم دونوں بہت دنوں تک پچھتاؤ گے”
ہانیہ کی مدد طلب نظروں کو اپنی طرف اٹھتا دیکھ کر شیردل نے ان دونوں لڑکوں کو وارننگ دی
“ہم دو ہیں اور تم ایک اُس لیے لڑکی کو دیکھ کر زیادہ ڈائیلاک مارنے کی ضرورت نہیں ہے یہ ہمارا شکار ہے تم چلتے بنو یہاں سے”
اُن میں سے ایک لڑکا دلیری سے بولتا ہوا شیردل کے قریب آیا اور جان بوجھ کر اُس نے شیردل کے سامنے ہانیہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر اُس سے پہلے شیردل نے اُس لڑکے کا ہاتھ اپنی گرفت میں لےکر اُس لڑکے کا رخُ اپنی جانب کرتے ہوۓ اس کے منہ پر زوردار مُکّا جڑ دیا
جسے دیکھ کر دوسرا لڑکا بھی شیردل کی جانب اُس کو مارنے کے لیے بڑھا ہانیہ گھبرا کر پیچھے ہوئی اُس کی نظریں دور سے آتے اپنے ڈرائیور پر پڑی وہ روتی ہوئی وہاں سے بھاگی
“پلیز جلدی سے گھر چلو مجھے بابا کے پاس جانا ہے”
ڈرائیور کو پریشان سا اپنی جانب آتا دیکھ کر وہ روتی ہوئی بولی ڈرائیور خود بھی صورتحال سمجھتا ہوا ہانیہ کو وہاں سے جلد لےکر نکل گیا
جب تک شیردل اُن دونوں لڑکوں کا کچومر نکال کر انہیں ادھ موا کرچکا تھا تب تک ہانیہ وہاں سے جاچکی تھی مگر اُس کا آسمانی رنگ کا دوپٹہ وہی سڑک پر پڑا رہ گیا جسے شیردل اٹھا کر ضبط سے دانت پیستا رہ گیا
“تمہیں جلد یا پھر دیر سے ہی سہی مگر ڈھونڈ نکالوں گا”
شیردل ہاتھ میں پکڑے دوپٹے کو دیکھتا ہوا بولا اُس دوپٹے کی مہک اپنے اندر اتارتا وہ ہانیہ کا دوپٹہ لےکر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا
***
جو واقعہ اُس کے ساتھ پیش آیا تھا واپس گھر آنے کے بعد اُس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا آج اگر وہ شخص یوں اچانک اپنی گاڑی روک کر اُس کی مدد نہ کرتا تو نہ جانے وہ دونوں لڑکے اُس کا کیا حشر کرتے یہ سوچ کر ہانیہ نے خوف سے جھرجھری لی وہ اِس وقت اتنی زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اُس شخص کا شکریہ کہے بنا وہاں سے فرار ہوگئی ڈرائیور کو بھی اُس نے سختی سے تاکید کی تھی کہ اِس واقعے کے بارے میں اُس کے بابا کو معلوم نہ ہونے دے
کیونکہ ہانیہ نہیں چاہتی تھی فہیم کسی بھی طرح کی ٹینشن لے ویسے بھی چند مہینوں سے وہ کافی زیادہ ویک ہوچکا تھا اُس ٹینشن اور خوف میں وہ اپنا دوپٹہ بھی اٹھانا بھول چکی تھی نہ جانے کب ڈرائیور نے اُس کا قیمتی سیل فون اٹھالیا تھا جو اب اُس کے پاس محفوظ تھا ہانیہ اپنے ذہن کو ریلیکس کرتی چینج کرنے چلی گئی جب وہ واپس بیڈ پر لیٹی تو اُسے وہی شخص یاد آنے لگا
پہلی ملاقات میں جسے اُس نے تھپڑ مار دیا اور آج اُسی کی وجہ سے اُس کی عزت بچی تھی، ہانیہ کو اپنے پہلے غصّے میں کیے گئے عمل پر افسوس ہونے لگا زندگی میں اگر دوبارہ کبھی ملاقات ہوگئی تو میں معافی مانگ لوں گی تم سے
ہانیہ نے دل میں شیردل سے کہا بھلے وہ پہلی ملاقات میں اپنا اچھا تاثُر قائم نہیں کرسکا تھا مگر دوسری ملاقات میں وہ ہانیہ کے اوپر اچھا آپریشن چھوڑ چکا تھا
***
“آپ اِس وقت یہاں میرے کمرے میں سب خیریت تو ہے”
رات کے پہر جب دلاور کو دروازے پر دستک سنائی دی تب اُس نے نیند میں گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کمرے کا دروازہ کھولا
سامنے مشی کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوکر مشی سے پوچھنے لگا جو بناء کچھ بولے اُس کے کمرے کے اندر داخل ہوئی تو دلاور حیرت سے منہ کھولے مشی کی حرکت پر حیران ہوکر اُس کو دیکھنے لگا کیونکہ رات کے اس پہر گھر کے سبھی افراد سو چکے تھے
“میری شکل مت دیکھو دروازہ بند کرو ضروری بات کرنی ہے تم سے”
مشی دلاور کا حیرت سے کُھلا ہوا منہ دیکھتی ہوئی اُس سے بولی
“آپ سیٹنگ روم میں چلیں میں وہی آجاتا ہوں”
دلاور کو مشی کا رات کو یوں اپنے کمرے میں آنا مناسب نہیں لگا تھا اس لئے وہ مشی سے بولا مشی اُس کو گھورتی ہوئی کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی مگر وہ کمرے سے باہر نکلنے کی بجائے اُس کے کمرے کا دروازہ بند کرچکی تھی جس کے بعد دلاور کا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے مشی چلتی ہوئی اُس کے پاس اگر ٹھہری اور ہاتھ باندھ کر گھورتی ہوئی دیکھنے لگی تو دلاور نے احتراماً اپنی نگاہیں جھکالیں
“تم میری ہر بات کی نفی کرنا اپنا فرض کیوں سمجھتے ہو”
مشی دلاور کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر پوچھنے لگی تو دلاور نے نظریں اٹھا کر مشی کو دیکھا لیکن وہ مشی کی سرخ آنکھیں دیکھ کر پریشان ہوا
“آپ ٹھیک ہیں طبعیت ٹھیک ہے آپ کی”
دلاور مشی کا چہرہ دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“ٹینشن میں ہوں تم بتاؤ ٹینشن میں انسان کو کیا کرنا چاہیے”
مشی عجیب مضطرب سی حالت میں دلاور سے پوچھنے لگی تو دلاور اُس کے سوال پر بوکھلا سا گیا
“میں آپ کو کیا مشورہ دے سکتا ہوں میں تو اچھا بھلا سو رہا تھا یوں رات میں آپ یہاں کمرے میں چلی آئیں صحیح پوچھے تو آپ کو اِس وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر اب میں ٹینشن میں آچکا ہوں”
دلاور سیدھے سادے انداز میں مشی کو حقیقت بتاتا ہوا بولا تو مشی خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی
“یعنی اِس وقت تم بھی ٹینشن میں ہو، کیا کرتے ہو دلاور جب تم ٹینشن میں ہوتے ہو”
مشی اُس سے پوچھنے لگی جیسے اِس سے زیادہ سنجیدہ ٹاپک اُس کے لئے کوئی دوسرا تھا ہی نہیں
“میں ٹینشن میں کیا کرتا ہوں یہ میں آپ کو نہیں بتاسکتا پلیز برا نہ مانیں تو آپ اپنے کمرے میں چلی جائیں”
دلاور دوبارہ اپنا سر جھکاتا ہوا مشی سے بولا تو مشی کو اُس پر غُصہ آگیا
“میں تم سے اِس وقت اتنے سیریس ٹاپک پر بات کررہی ہوں اور تم مجھے اپنے کمرے سے نکل جانے کے لئے کہہ رہے ہو کیا چاہتے ہو تم بھائی سے کہہ کر کل ہی تمہیں اِس جاب سے فارغ کروا دو”
مشی غصّے میں اُس کو جھڑکتی ہوئی بولی جو دکھنے میں اونٹ جیسا لمبا تھا مگر ہمیشہ اس کے سامنے اپنی نظریں یا سر جھکائے رکھتا
“وہ تو مالک اِس وقت آپ کو میرے کمرے میں دیکھ کر خود ہی مجھے نوکری سے نکال دیں گے”
دلاور ذرا سی نظریں اٹھا کر مشی کو دیکھتا ہوا بولا مگر جب اُس نے مشی کو اپنی جانب دیکھتا پایا تو جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل گیا
“جب تم ٹینشن میں ہوتے ہو تو تم ایسا کیا کام کرتے ہو دلاور جو تم مجھے بتانے سے گھبرا رہے ہو”
مشی دلاور کو شکی نظروں سے دیکھتی ہوئی ایک بار پھر اس سے پوچھنے لگی مشی کی بات سن کر دلاور مشی کے مشکوک انداز پر سٹپٹا سا گیا
“مجھے نہیں معلوم بی بی آپ کیا سمجھ رہی ہیں میں ٹینشن میں کوئی غلط کام یا نشہ نہیں کرتا جسے بتانے میں مجھے شرمندگی محسوس ہو میں ٹینشن میں گنگنا کر اپنے آپ کو ریلکس کرتا ہوں”
وہ مشی کو گھورتا ہوا واضع جواب دیتا بولا آج پہلی بار سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُس نے کوئی مکمل بات بولی تھی جو نہ جانے کیا سمجھ کر کیوں اُس کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی
“مطلب تم ٹینشن میں خود کو گنگنا کر ریلکس کرتے ہو ذرا گنگنا کر تو دکھاؤ مجھے”
مشی کی اگلی بات سن کر دلاور ہونق بنا اُس لڑکی کو دیکھنے لگا جو آدھی رات کو اُس کے کمرے میں آکر اُس سے گانا سننے کی فرمائش کررہی تھی
“آپ مالک کی چھوٹی بہن ہیں بھلا میں آپ کے سامنے کہاں سے گنگنا سکتا ہوں”
دلاور احترام نظر جھکا کر مشی سے بولا جس پر مشی فوراً بولی
“اپنے منہ سے۔۔ جہاں سے سب گنگناتے ہیں تم بھی وہی سے گنگناؤ”
مشی کی بات سن کر دلاور دل میں شرمندہ ہوا وہ گھبراہٹ میں کیا بول گیا اور دل ہی دل میں اُس وقت کو کوسنے لگا جب اُس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تھا اور یہ لڑکی اُس کے کمرے میں چلی آئی تھی وہ ابھی بھی بالکل خاموش سر جھکائے کھڑا تھا مشی اس کو چپ دیکھ کر دوبارہ بولی
“دلاور اگر تم نے میرا حکم نہیں مانا تو تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ میں غصّے میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتی ہوں اپنا سر مت جھکاؤ، یہاں میری طرف دیکھو اور گانا گاؤ یہ میرا حکم ہے”
مشی ڈانٹنے کے ساتھ اسے حکم دیتی بولی تو دلاور بےبسی سے مشی کا چہرہ دیکھنے لگا جو گانا مشی کو دیکھ کر اس کے ذہن میں آیا دلاور نے گانا شروع کردیا
کتنا حسین چہرہ، کتنی پیاری آنکھیں۔۔
اتنی پیاری آنکھیں ہیں آنکھوں سے چھلکتا پیار۔۔
قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار۔۔
جب دلاور نے اپنی آواز میں گانے کا بیڑا غرق کیا تو مشی نے بہت مشکل سے سنجیدہ شکل بناکر اُمڈ آنے والا قہقہہ روکا مگر دلاور اُس کی اتنی سنجیدہ شکل دیکھ کر ایک دم وضاحت دیتا بولا
“سوری بی بی اگر میرا گانا آپ کو برا لگا ہو تو آپ نے اچانک گانا گانے کا حکم دیا تو گھبراہٹ میں آپ کو دیکھ کر کوئی دوسرا گانا ذہن میں نہیں آیا یہی گانا دماغ میں آیا آپ پلیز برا مت مانیے گا”
دلاور کے بولنے پر مشی نے ضبط کیا ہوا قہقہہ لگایا تو دلاور غور سے اُس کے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا اتنا زیادہ ہنسنے سے اُس کا سفید رنگ سُرخ ہوچکا تھا اُس نے پہلی بار اِس لڑکی کے چہرے کو اتنے غور سے نظر بھر کر دیکھا تھا اور بس تھوڑی دیر کے لیے دیکھتا رہ گیا تھا
“اوہ گاڈ دلاور تمہیں دیکھ کر کوئی امیجن نہیں کرسکتا تم اتنے بےسُرے بھی ہوسکتے ہو اچھے خاصے گانے کا کیا ستیاناس مارا ہے تم نے”
مشی ابھی بھی ہستی ہوئی بول رہی تھی دلاور اُس کی بات کا برا مانے بغیر مشی کو یونہی تکے گیا
“قسم سے دلاور تم نے تو اپنی آواز میں گانا سناکر میری ٹینشن ہی دور کردی اب میں آرام سے سو سکوں گی”
مشی بولتی ہوئی اُس کے کمرے میں جانے لگی
“ویسے آپ کو ٹینشن کس بات کی تھی”
دلاور حیرت کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“کل کالج میں برائیڈل کونٹیسٹ ہے تو اِس لیے تھوڑی نروس تھی”
مشی کا موڈ اِس وقت اچھا تھا وہ نارمل انداز میں دلاور کو بتانے لگی
“آپ اتنی چھوٹی سی بات کے لئے اتنا پریشان تھیں کل آپ کونٹیس میں ہر حصہ لینے والی لڑکی سے زیادہ خوبصورت لگیں گیں یہ بات میں شرطیہ بول سکتا ہوں اور ایسا ہی ہوگا آپ دیکھ لئے گا”
دلاور بےساختہ ہی روانی میں بول گیا جس پر مشی ہستی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی
“تم بالکل ہی پاگل ہوں دلاور”
مشی دلاور کو بولتی ہوئی اس کے کمرے سے چلی گئی
***
صبح کے وقت وہ بستر پر لیٹا ہوا گہری نیند میں سو رہا تھا تب زور و شور سے اس کے کمرے کا دروازہ بجنے لگا دلاور کی نظر دیوار پر لگی گھڑی پر پڑی جو صبح کے اٹھ بجا رہی تھی باہر نہ جانے کون سا ملازم تھا جو اس وقت اس کے کمرے کا دروازہ بجا رہا تھا گہری نیند سے اٹھ کر وہ دروازہ بجانے والے کا دماغ درست کرنے کا سوچ رہا تھا
“آپ”
دلاور اپنے سامنے کھڑی مشی کو دیکھ کر صرف اتنا ہی بول سکا تو مشی نے اس کے کمرے کا پورا دروازہ کھول دیا
“کیا پورا اصطبل بیچ کر سو رہے ہو تم یعنی حد ہوتی ہے اتنی بےخبری والی نیند کی بھی”
مشی اس کے سامنے بھاری بھرکم سرخ لہنگے میں کھڑی چڑتی ہوئی بولی
“آپ کو اس وقت کیا کام پڑ گیا مجھ سے”
وہ بالوں کو ہاتھوں سے درست کرتا اس کا حلیہ دیکھتا ہوا بولا جو دلہن کے لباس میں اس کے سامنے کھڑی تھی البتہ اس کا چہرہ میک اپ سے پاک صاف تھا
“اس راشدہ کی بچی کو تو میں جتنی گالیاں دوں وہ کم ہیں جانے اس وقت وہ کہاں مری ہوئی ہے ابھی تک اپنے گھر سے یہاں نہیں پہنچی، نہ ہی میرا فون اٹھارہی ہے اب مجھے تیار کون کرے گا مما تو نیند کی گولیاں کھا کر سو رہی ہیں آج کالج میں برائیڈل کانٹیسٹ ہے دلاور میں کیا کروں اب”
ٹینشن اور پریشانی کے باعث شاید وہ رو دینے کو تھی
“اچھا آپ پریشان مت ہو میں نذیر سے کہہ دیتا ہوں وہ اپنی بیوی کو لے آئے گا صرف 20 منٹ لگیں گے مشکل سے”
دلاور مشی کا پریشان چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا تو اس کی بات سن کر مشی کی انکھیں پھیل کر بڑی ہوگئیں
“بیس منٹ دلاور، بیس منٹ کی اہمیت سمجھتے ہو تم 20 منٹ تک تو میں بالکل بھی ویٹ نہیں کرسکتی گھنٹے بعد ہی پروگرام شروع ہوجانا ہے اور ابھی مجھے تیار ہوکر کالج بھی پہنچنا ہے چلو تم میرے ساتھ میرے کمرے میں اور مجھے تیاری میں مدد کرواؤ”
مشی دلاور سے بولتی ہوئی اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر اس کو کلائی سے پکڑ کر اپنے ساتھ کمرے میں لے جانے لگی
“بی بی کیا کررہی ہیں میں بھلا کیسے مدد کرسکتا ہوں بخدا مجھے ان کاموں کا بالکل بھی تجربہ نہیں ہے آپ سمجھیں تو بات کو پلیز”
وہ مشی سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑا پایا تھا ناچار اس کے ساتھ چلتا بولا ایک ہاتھ سے مشی نے لہنگا سنبھالا ہوا تھا دوسرے ہاتھ اس کا دلاور کی مضبوط کلائی پر جما تھا مشی نے دلاور کی بات کا نوٹس لیے بغیر اس کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لاکر ہی دم لیا
اس وقت اس کا کمرہ مکمل طور پر بےترتیب تھا ڈریسنگ ٹیبل سارا میک اپ اور جیولری سے بھرا ہوا تھا جبکہ بیڈ پر بھاری بھرکم دوپٹہ پھیلا ہوا رکھا تھا
“لےلیا ساری چیزوں کا جائزہ چلو شاباش جلدی سے یہ چوڑیاں اٹھاؤ اور سیٹ بنا کردو مجھے، دو گرین دو ریڈ چوڑی کے بعد ایک گولڈن کڑا بیچ میں اوکے اب جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ”
مشی مصروف انداز میں دلاور کو ارڈر دیتی ہوئی اس کو اس کا کام بتاچکی تھی جبکہ خود آئینے کے سامنے کھڑی میک اپ کرنے میں مصروف ہوگئی دلاور چوریاں سیٹ کرنے کے ساتھ ایک مرتبہ چور نظر اٹھا کر مشی پر ڈالتا پھر چوڑیاں سیٹ کرنے لگ جاتا وہ بڑے انہماک سے بیس اپنے چہرے اور گردن پر لگارہی تھی
“یہ لیجیے آپ کے دونوں ہاتھوں کے سیٹ تیار گردئیے”
زندگی میں پہلی مرتبہ دلاور نے یہ خواتین والا انوکھا کام کیا تھا وہ مشی کو دیکھتا ہوا بولا جو اپنی آنکھوں پر آئی شیڈ لگارہی تھی دلاور کی بات پر مشی نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اپنی کلائی اس کے اگے کردی یعنی اب دلاور کو ہی اس کے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنانی تھیں جبکہ وہ خود ایک ہاتھ سے بڑی احتیاط سے آنکھوں میں کاجل لگارہی تھی
دلاور نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی کلائی پکڑنے کی جسارت کی اور تھوڑی تھوڑی کر کے چوڑیاں اس کے نازک سے ہاتھ میں ڈالنا شروع کردی اس نے مشی کا ہاتھ کیا پکڑا تھا اس کے جذبات نے شور ہی مچانا شروع کردیا اپنے جذبات کو ڈانٹ کر خاموش کرواتا دلاور اب اس کے دوسرے ہاتھ میں تھوڑی تھوڑی کر کے چوڑیاں ڈال رہا تھا اور مشی اپنا پہلا چوڑیوں سے بھرے ہاتھ سے لپ اسٹک لگانے میں مصروف تھی
“سی”ایک چوڑی ٹوٹ کر مشی کے ہاتھ میں چھبی تو بےاختیار اس کے منہ سے سسکی نکلی وہی دلاور کی جان پر بن آئی
“یہ کیا ہوگیا مجھے سے سوری مجھے معلوم نہیں یہ کیسے ٹوٹ گئی آپ کو زیادہ درد تو نہیں ہورہا”
سفید کلائی پر سرخ خون کی بوند دیکھ کر ڈھیروں ندامت لیے دلاور مشی سے بولا اور ساتھ ہی اس نے خود کو بھی دل ہی دل میں کوسا بھلا وہ کیسے اپنی بی بی کو تکلیف دے سکتا تھا
“اوہو دلاور میرا ہاتھ تو چھوڑو ابھی، یہ کوئی ایسا بھی زخم نہیں تم بلاوجہ پریشان ہورہے ہو ٹائم ضائع نہیں کرو جاؤ بیڈ سیکنڈ والی ڈراز سے میری گولڈن کلر کی اینگلٹس نکال کر مجھے پہنادو جلدی سے”
مشی نے مصروف انداز میں دلاور کو اس کا اگلا کام بتایا اور خود آئینے کے سامنے رکھے چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھ کر اپنے بالوں میں برش کرتی انہیں جوڑھے کی شکل دینے لگی جبکہ دلاور گولڈن کلر کی اینگلیٹس مشی کے پیروں میں ڈالتے ہوئے اس کے اجلے خوبصورت پاؤں کو دیکھنے لگا اس کے ہاتھ اور پاؤں اتنے خوبصورت اور نازک تھے کہ نزاکت کا لفظ اس لڑکی کی شخصیت کی بالکل واضع ترجمانی کرتا تھا
“شوز کہاں پر رکھے ہیں آپ کے”
دلاور خود ہی مشی سے پوچھنے لگا
“سینڈلز ہیں خود ہی پہن لوں گی تم ایسا کرو یہ کجرے اٹھاؤ اور میرے بالوں میں سیٹ کردو”
مشی نے باری باری اپنے دونوں کانوں میں ٹاپس ڈالتے ہوئے دلاور کو ایک نیا کام بولا
دلاور گجرے اٹھاکر لایا تو مشی کو اسٹول سے اٹھ کر کھڑا ہونا پڑا دلاور اس کی پشت کو دیکھ کر ایک دم ٹھٹک گیا کیوکہ تھوڑی دیر پہلے تک مشی کے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے جبھی اس کی نظر مشی کے اتنے کھلے اور گہرے گلے ہر نہیں پڑی تھی جس سے مشی کے کندھے اور آدھی کمر واضح ہورہی تھی اس نے مشی کی ہوش ربا سراپے کو دیکھ کر بےساختہ اپنی نظریں پھیر لی کیا وہاں موجود کوئی دوسرا مرد بھی اس طرح اس لڑکی کے مکمل اور خوبصورت حسن کو نظر انداز کرسکتا ہے دلاور کو سوچتے ہوئے کافی مایوسی ہوئی
“دلاور اس کو جلدی سے ایڈجسٹ کرو بالوں میں دیکھو اب تو شزا کی کال بھی آنا شروع ہوگئی ہے پلیز ذرا جلدی ہاتھ چلاؤ ناں”
مشی اب کی بار جھنجھنلائی ہوئی بولی تو دلاور خاموشی سے موتیے کی لڑیوں کو جوڑھے کے چاروں طرف سیٹ کرنے لگا جبکہ مشی شزا کی کال کاٹ کر جلدی سے باقی کی جولری پہننے لگی
“یہ آپ کا دوپٹہ بھی سیٹ کردو بی بی”
دلاور نے آئینے میں مشی کا حسین عکس دیکھا پھر خود ہی مشی سے پوچھا
“ہاں کردو مگر سیفٹی پن۔۔۔ شٹ یار سیفٹی پنز اس ڈراز سے نکال لو پلیز”
مشی دلاور کو بتاتی ہوئی ایک مرتبہ دوبارہ اپنے میک اپ کا جائزہ لینے لگی
“ہائے راشدہ تمہیں تو اللہ ہی سمجھے شام کو ذرا یہ آئے دیکھنا اس ذلیل کی میں کیسی خبر لیتی ہوں میں نے کل رات میں چار مرتبہ اس کو یاد دلایا تھا کہ تمہیں صبح سویرے یہاں آ مرنا ہے مگر نہیں”
جانے مشی کو اب اپنا کون سا کام یاد آیا تھا کہ وہ دوبارہ راشدہ کو یاد کرتی ہوئی کوسنے لگی
“کوئی مجبوری ہوگی بی بی اس کی ویسے تو وہ روز ہی وقت پر آجاتی ہے”
مشی کو پریشان دیکھ کر وہ سیفٹی پن دراز سے نکالتا ہوا ساتھ ہی یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے مشی کا دوپٹہ اس طرح سیٹ کردے جس سے اس کے کندھے اور واضح ہوتی عریاں کمر چھپ جائے
“ارے چھوڑو دلاور، تم اس کے لچھن نہیں جانتے میں اس کو اچھی طرح سمجھتی ہوں رات بھر اس نے نذیر کے بھانجے سے چسکے لےکر باتیں کی ہوگیں اور ابھی مزے سے بستر توڑ رہی ہوگی”
مشی موبائل پر کچھ ٹائپ کرتی ہوئی دلاور سے بولی جو اب اس کے دوپٹے کو سر پہ رکھ رہا تھا
“ارے نہیں یار کیا کررہے ہو اس طرح تو ہیئر اسٹائل ہی چھپ جائے گا اس طرح یہ دوپٹہ اچھا نہیں لگے گا صرف کندھے پر ایک سائیڈ پہ سیٹ کرنا ہے بس”
وہ موبائل سے اپنی توجہ ہٹاتی ہوئی بولی ساتھ ہی اس نے سر سے دوپٹہ بھی اتار دیا
“اچھا لگے گا بی بی آپ پلیز ایک مرتبہ مجھے دوپٹہ تو سیٹ کرنے دیں”
دلاور نے لجاہت بھرے انداز میں اس سے بولا تو مشی کو چپ ہونا پڑا اگر اس وقت اس اونٹ نے اس کی اتنی ہیلپ نہیں کی ہوتی تو وہ کبھی بھی اس کی بات نہ مانتی جبکہ دلاور نے دوبارہ اس کے سر پر دوپٹہ ٹکادیا سر پر دوپٹہ رکھتے ہوئے ایک مرتبہ دوبارہ اس کے دل کے جذبات میں شور اٹھا تھا جسے نظرانداز کرکے وہ مشی کا دوپٹہ سیٹ کرنے لگا مشی اس طرح سر پر دوپٹہ ٹکانے سے ذرا بھی مطمئن نہیں لگ رہی تھی مگر خاموش کھڑی رہی
“یہ آپ کی سینڈلز”
دلاور نے اسکے خوبصورت روپ سے نظریں ہٹاکر مشی کے پاؤں کے پاس سینڈلز رکھی تو مشی بہت احتیاط سے سینڈل میں اپنا پاؤں ڈالنے لگی یوں مکمل دلہن کے روپ میں نظریں جھکا کر احتیاط سے سینڈل پہنتی ہوئی وہ آج دلاور کے اندر تک اپنے احساسات جگاگئی تھی یہ سامنے کھڑی لڑکی صرف خوبصورت ہی نہیں تھی بلکہ محبت کرنے کے قابل تھی اس لمحے بےاختیار دلاور نے اپنے دل میں اس لڑکی کو پانے کی دعا کی
“ایک منٹ آپ مت جھکیں یہ اسٹیپ میں بند کردیتا ہوں”
دلاور کے بولنے پر مشی نے دونوں ہاتھوں میں لہنگہ پکڑ کے ذرا سا اوپر کیا تو دلاور نیچے جھک کر اس کی نازکی سی سینڈل کے اسٹیپس بند کرنے لگا ایک مرتبہ پھر سے مشی کا موبائل بجنے لگا جس پر مشی شزا کو اپنے گھر سے نکلنے کی اطلاع دے رہی تھی تو دلاور اٹھ کر کھڑا ہوگیا مہبوت سا مشی کے حسین روپ کو دیکھتا کہیں کھو سا گیا
Tou itni khobsoorat hai
Fida deedar pe tere
Mukamal ishq ho mera
Zara sa pyaar to dede
Falak qadmoo mai jhukay
Haseen lamaat wo dede
Tere sang bheeg jao mai
Kabhi barsat wo dede
Tere bina jeena pare
Woh paal mujhe na de
Tou itni khosoorat hai
Fida deedar pe tere
“کیسی لگ رہی ہوں دلاور کچھ کمی تو نہیں رہ گئی ناں”
مشی کال بند کرنے کے بعد دلاور کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی تو دلاود ایک دم اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا
“جی بس ایک منٹ”
دلاور مشی کو بولتا ہوا جلدی سے ٹیبل پر رکھا ہوا کاجل انگلی میں لےکر مشی تک آیا تو وہ کنفیوز ہوکر اس کو دیکھنے لگی تب دلاور نے وہ کاجل انگلی کی مدد سے اس کے کان کی لو کے پیچھے لگایا
“امی بولتی تھی اس طرح نظر نہیں لگتی”
دلاور مشی کو دیکھتا ہوا بولا اس وقت دلاور کی انکھیں کون سی زبان بول رہی تھی مشی اس کو سمجھنے سے بالکل قاصر تھی وہ دلاور کی بات پر بےساختہ مسکرائی اس کی مسکراہٹ اتنی خوبصورت تھی کہ دلاور ایک مرتبہ پھر اس کی مسکراہٹ میں کھو گیا
“ہاؤ سویٹ دلاور بس اب میرا ایک کام کردو نذیر کو بول دو کہ وہ جلدی سے گاڑی ریڈی رکھے اب میں وقت پر کالج پہنچ جاؤں گی”
مشی دلاور کو بولتی ہوئی کلچ میں اپنا موبائل رکھنے لگی
“نذیر کو رہنے دیں میں خود آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں”
دلاور مشی سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا اگر اس وقت شیردل جاگ رہا ہوتا تو یقیناً اپنی بہن کو اس روپ میں کالج بھیجنے کی ڈیوٹی اسی کی لگاتا دلاور گاڑی کی چابی لےکر پورج میں آیا تب تک مشی بھی وہاں پہنچ گئی
***
“آج یونیورسٹی میں کچھ الگ ہی گہما گہمی محسوس ہورہی ہے”
آڈیٹوریم ہال میں اسپیشل ارینجمنٹ دیکھ کر ہانیہ لائبہ سے کہنے لگی وہ دونوں تھوڑی دیر پہلے کلاسس سے لے کر چہل قدمی کرتی ہوئی یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف جارہی تھیں
“حفظہ بتارہی تھی ڈین کے کچھ اسپیشل گیسٹ آرہے ہیں شاید ان کی وجہ سے یہ انتظامات نظر آرہے ہیں”
لائبہ اپنے ساتھ چلتی ہوئی ہانیہ سے بولی مگر ہانیہ کی نظر سامنے سے آتی ہوئی پراڈو پر تھی جسے دیکھ کر اُس کے قدم خودبخود رک گئے ہانیہ کو رکتا ہوا دیکھ کر لائبہ بھی رکھ گئی اور اس پراڈو میں سے نکلنے والی شخص کو دیکھنے لگی جو اُن کی طرف متوجہ نہیں تھا بلکہ اپنے ساتھ موجود دوسرے آدمی سے باتوں میں مصروف آڈیٹوریم کی طرف جارہا تھا
“کیا تم اُس شخص کو جانتی ہوں”
ہانیہ کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ دیکھ کر لائبہ اُس سے پوچھنے لگی
“مہربان، ایک مہربانی کی تھی اس نے بلکہ مجھے تو اس کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے”
ہانیہ کی نظریں ابھی بھی شیردل کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی جو اُس کی نظروں سے اوجھل ہوکر دور ہوتا جارہا تھا
“مہربانی اور یہ انسان کسی پر کرے گا یہ مشہورِ زمانہ بدنام آدمی ہے دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے والا انسان کہلانے کے تو لائق ہی نہیں ہے یہ”
لائبہ حقارت سے شیردل کو دیکھتی ہوئی بولی تو ہانیہ اپنی نظریں شیردل سے ہٹاکر لائبہ کو دیکھنے لگی
“ایسا کیا کردیا اِس نے تمہارے ساتھ جو تم اِس بیچارے کو ایسے بول رہی ہوں”
ہانیہ ہلکا سا مسکرا کر لائبہ سے پوچھنے لگی کیونکہ اسکی دوست ایسے ہی کسی کو برا بھلا نہیں کہتی تھی نہ بلاوجہ کسی سے ناراض ہوتی تھی ہانیہ اس کی نیچر سے واقف تھی
“یہ بےچارا نہیں ہے ہانی، میری خالہ ذاد درا کو تم جانتی ہو ناں وہی جو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ہوتی ہے اِس بےغیرت شخص نے خالو سے ردا کا ایک رات کے لیے سودا کیا ہے جس کے بدلے یہ میرے خالو کا آدھا قرضہ معاف کرے گا ہانی میں نے تمہیں بتایا تھا اپنی خالہ کے بارے میں انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ اپنی اولاد کی خاطر کیسی دردناک زندگی گزاری، اب خالو ردا کو مجبور کررہے ہیں اس شخص کی آفر پر کہ وہ اِس آدمی کے ساتھ ایک رات گزارے”
لائبہ کی بات سن کا ہانیہ کے پورے جسم میں سنسنی کی سی لہر دوڑ اٹھی وہ بالکل خاموش ہوکر آڈیٹوریم کے خالی دروازے کو دیکھنے لگی جہاں اب شیردل موجود نہیں تھا
تین دن پہلے جو اچھا امیج وہ شخص ہانیہ کی نظر میں بناچکا تھا اب وہ امیںج دوبارہ خراب ہوچکا تھا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوچکا تھا
“میں چلتی ہوں ڈرائیور آگیا ہے میرا”
ہانیہ لائبہ سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
***
جب وہ دلاور کے ساتھ واپس گھر لوٹا تو گھر میں عجیب سا سے شور برپا راشدہ تیز آواز باتیں کرتی باہر جارہی تھی جبکہ رملہ مشی کے کمرے کا بند دروازہ بجائے جارہی تھی
“کیا ہورہا ہے یہ گھر میں اتنا شور کیوں مچا رکھا ہے سب نے”
شیردل دروازہ بجاتی ہوئے رملہ سے پوچھنے لگا تو شیردل کی پشت پر کھڑا دلاور مشی کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھنے لگا
“مشی جب سے کالج سے واپس آئی ہے اپنے آپ کو بند کرکے بیٹھ گئی ہے کمرے میں کتنی دیر سے دروازہ کھٹکھٹائے جارہی ہو معلوم نہیں کیا ہوا ہے دروازہ کھول ہی نہیں رہی ہے”
رملہ پریشان ہوتی ہوئی شیردل کو بتانے لگی
“مشی کمرے کا دروازہ کھولو مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ”
آپ کی بار شیردل کمرے کا دروازہ بجانے کے ساتھ روعب دار لہجے میں مشی سے پوچھنے لگا تو ایک دم سے کمرے کا بند دروازہ کُھلا
“آخر آپ لوگوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے سکون سے رہنے ہی نہیں دیتے ہیں اب اگر مجھے کسی نے بھی ڈسٹرب کیا تو میں بتارہی ہوں اِس پنکھے سے لٹک کر جان لےلو گی اپنی”
مشی نے دروازہ کھولتے ہی دھمکی دی اور اِس سے پہلے کوئی کچھ بولتا وہ دوبارہ دروازہ بند کرچکی تھی جس پر شیردل غصّے میں رملہ کا پریشان چہرہ دیکھتا ہوا بولا
“یہ سب آپ کے سر چڑھانے کا نتیجہ ہے جو یہ اتنی بدتمیز ہوچکی ہے اب اگر یہ کمرے سے باہر نہیں نکلی تو کوئی ضرورت نہیں ہے اِس کے کمرے میں جانے کی اور اس کے نخرے اٹھانے کی”
شیردل رملہ کو کہتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چل دیا رملہ پریشان ہوکر دلاور کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی مشی کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے اب مشی کے رونے کی آواز کمرے سے باہر آرہی تھی
“مشی کی دوست کو فون کرکے اس سے پوچھتی ہوں کہ کالج میں ایسی کیا بات ہوئی جس کی وجہ سے مشی اتنی پریشان ہے”
رملہ دلاور سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ دلاور وہی کھڑا مشی کے رویے کو سوچنے لگا
***
“کہیں جارہے ہو تم دلاور نے بتایا تھا کہ آج تم دونوں کو کہیں جانا ہے”
رات کے ڈنر کے وقت رملہ شیردل کے کمرے میں آتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی جو کہیں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا
“دلاور میرے ساتھ نہیں جارہا مجھے اکیلے جانا ہے ایک ضروری کام سے آپ بولیے آپ کو کیا کام ہے”
شیردل کف کے بٹن بند کرتا ہوا رملہ سے پوچھنے لگا جو عام دنوں میں بھی کسی کام کی وجہ سے ہی اُس کے کمرے میں آتی تھی جیسے وہ خود شروع سے ہی صرف کسی ضروری کام کے سلسلے میں رملہ سے بات کرتا تھا
“مسز شہوار کی کال آئی تھی بتارہی تھیں ایک بہت پیاری لڑکی ہے، فیملی بیک گراؤنڈ بھی کافی آسٹرونگ ہے پہلے میں نے سوچا تھا تمہارے لیے مذہبی لڑکی ٹھیک رہے گی مگر نمل تھوڑی سی ماڈرن
رملہ آگے کچھ بولتی شیردل کی سنجیدہ مگر سخت نگاہ پر وہ خاموش ہوگئی
“میرا ابھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے جب ہوگا تو آپ کو بتادوں گا”
شیردل بات ختم کرتا ہوا بولا
چند مہینوں سے رملہ کو اُس کی شادی کی فکر لاحق ہوچکی تھی کیوکہ جسطرح کی خبریں وہ شیردل کے متعلق اپنے سرکل میں سن رہی تھی اُسے شیردل کی شادی بیسٹ آپشن لگا تھا
“اگر میری جگہ یہاں راحیلہ ہوتی تو تم اںُس کے ساتھ بھی ایسا خشک رویہ رکھتے”
رملہ کی بات سن کر شیردل کے کمرے سے باہر جاتے قدم وہی تھمے وہ پلٹ کر رملہ کو دیکھنے لگا
“آپ کی جگہ اگر یہاں میری سگی ماں ہوتی تو آپ میرا اُن سے رویہ دیکھ کر اپنی خود کی خوش قسمتی پر ناز کرتیں میں نے اور مشی نے آپ کی سگی اولاد نہ ہونے کے باوجود بھی ہمیشہ آپ کو ویلیو ہے اور رسپیکٹ دی ہے یہ بات آپ کے لئے بھی قابل فخر ہونی چاہیے اور جو خبریں میرے متعلق گردش کررہی ہیں اُن پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو”
شیردل رملہ سے بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا
***
“شرم نہیں آتی تمہیں شادی شدہ ہوکر غیر مردوں کے ساتھ ایسی واہیات تصویریں بناتے ہوئے”
ضمیر نے غصّے میں اخبار اپنی بیوی راحیلہ کے منہ پر دے مارا جس میں راحیلہ اپنے ساتھ انور سیٹھ کی تصویر دیکھ کر ہنسی انور سیٹھ جس کا ڈائمنڈ کا کاروبار تھا، وہ آجکل راحیلہ پر کافی مہربان تھا
“تمہیں بڑی شرم آتی ہے اُس رملہ کے ساتھ شوٹنگ کے بہانے وقت گزارتے ہوئے کیا مجھے نہیں معلوم تم نے اُسے اپنی فلم میں کیوں کاسٹ کیا ہے کیا چل رہا ہے تم دونوں کے درمیان سب جانتی ہوں میں”
راحیلہ روبرو ہوکر ضمیر سے بولی
“شادی کرنے والا ہوں میں اُس سے اور اِس کام کی اجازت میں نے تم سے نہیں مانگی ہے صرف اپنا ارادہ بتارہا ہوں جلد سے جلد رملہ سے شادی کرکے اُسے اِس گھر میں لےکر آؤں گا”
ضمیر راحیلہ کو اپنے ارادے سے آگاہ کرتا بولا
“میں تمہارے رستے کی دیوار نہیں بنوگی تم شوق سے اُس دو کوڑی کی اداکارہ سے شادی کرو لیکن مجھے فارغ کرنے کے بعد اور اپنی دونوں اولادوں کو تم خود ہی پالنا میں شیردل اور مشی کی ذمہ داری نہیں اٹھاؤں گی یہ بات میں تم کو پہلے ہی بتارہی ہوں”
راحیلہ ضمیر کو واضح الفاظ میں سمجھاتی ہوئے بولی ضمیر اُس عورت کے کردار پر لعنت بھیجتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جس کی شادی کے بعد بھی بوائے فرینڈ رکھنے کے مشاغل میں کمی نہیں آئی تھی
***
“کہاں ہے ہانیہ”
فہیم نے گھر آنے کے ساتھ ملازمت سے ہانیہ کے بارے میں پوچھا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی اُس کے پاس ہانیہ کا فون آیا تھا وہ اس کی بیماری کے بارے میں جان چکی تھی
“ہانیہ میرا بچہ بیٹا کیا ہوگیا آپ کو”
فہیم ہانیہ کے کمرے میں آتا ہوا اُس سے بولا جو بیڈ پر بیٹھی ہوئی زاروقطار رو رہی تھی
“اتنی بڑی بات مجھ سے چھپائی آپ نے بابا اگر میں آپ کی رپورٹس نہیں دیکھتی تو مجھے کبھی بھی علم نہیں ہوتا کہ آپ کو کینسر
ہانیہ نے ادھوری بات چھوڑ کر فہیم کے گلے لگ کر رونا شروع کردیا
“آپ میری بہادر بیٹی ہیں ناں ایسے پریشان نہیں ہوتے بیٹا آنے والے وقت اور حالات کا مقابلہ کرنا سیکھیں آپ میں آپ کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا”
فہیم نے ہانیہ کو اپنی بیماری کو لےکر جھوٹی تسلی نہیں دی تھی بلکہ اسے آنے والے وقت کے لئے تیار کرنے لگا جس پر ہانیہ کے رونے میں مزید روانی آگئی
“بابا پلیز مجھے چھوڑ کر کہیں مت جائیے گا میرے پاس آپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے میں آپ کے بغیر نہیں جی پاؤگی”
ہانیہ روتی ہوئی فہیم سے بولی فہیم جانتا تھا اُس کی بیٹی ٹھیک بول رہی ہے واقعی اُن دونوں باپ بیٹی کا اِس دنیا میں ایک دوسرے کے علاوہ کوئی نہیں تھا تمام رشتہ دار مطلبی اور منہ دیکھے کی ہمدردی جتانے والے تھے
“بیٹا آپ اِس طرح رو کر اپنے بابا کو مزید پریشان کررہی ہیں میں اپنی بیٹی کو اکیلا چھوڑ کر ہرگز نہیں جاؤں گا آپ کے لئے ایک فیصلہ کیا ہے میں نے مجھے امید ہے میری بیٹی میرے اِس فیصلے کو رد نہیں کرے گی”
فہیم روتی ہوئی ہانیہ سے بولا اور اُس کے آنسو صاف کرنے لگا
***
وہ اپنے فلیٹ میں موجود کلائی پر بندھی رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا چہل قدمی کررہا تھا تب اُس کے فلیٹ کا دروازہ کھلا اور نقاب میں موجود لڑکی چلتی ہوئی فلیٹ کے اندر آئی
شیردل اُس کا چہرے دیکھے بغیر جان گیا تھا کہ یہ سیٹھ اکبر خان کی بیٹی ردا تھی شادیوں کی مکس گیدرنگ ہو یا پارٹیز اُس نے ہمیشہ اِس لڑکی کو یونہی نقاب میں دیکھا تھا لیکن واسطہ اِس لڑکی سے آج پہلی بار پڑنے والا تھا
“امید کرتا ہوں تمہیں یہاں تک پہنچنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی ہوگی کیا تمہارے باپ نے تمہیں یہاں بھیجنے کا مقصد تم پر واضح کیا ہے یا پھر میں تمہیں بتاؤں کہ تمہارے باپ نے تمھیں میرے پاس کس مقصد کے لیے بھیجا ہے”
شیردل ردا کی جانب قدم بڑھاتا ہوا اُس کی سرخ آنکھیں دیکھتا ردا سے پوچھنے لگا جن کی لالی نقاب سے واضح نظر آرہی تھی
“مجھے اپنے باپ کے کریکٹر اور عادتوں کا بھی علم ہے اور تمہارے کردار سے بھی میں اچھی طرح واقف ہوں”
ردا نے بولنا شروع کیا تو اُس کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی وہی حقارت جو اس وقت اُس کی آنکھوں سے واضح جھلک رہی تھی
“کیا جانتی ہو تم میرے کردار کے بارے میں تمہیں کیا لگتا ہے میں تم جیسی لڑکی کو اپنے منہ لگانے کے قابل سمجھتا ہوں”
ردا کی بات پر شیردل بھڑکتا ہوا اُس سے بولا
“وہ تم ہی ہو ناں جس نے میرے باپ سے میرا سودا کیا ہے ایک رات میرے ساتھ گزارنے کے لیے”
ردا غُصے میں چیختی ہوئی سامنے کھڑے اُس مرد سے بولی
اسے اپنی زندگی سے نفرت محسوس ہورہی تھی جس مرد کی عیاش طبعیت کو دیکھتے ہوئے اُس نے اِس کے رشتے کو رد کیا تھا مگر تقدیر نے اُس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا تھا وہ اُس کی بیوی نہیں بننا چاہتی تھی مگر اب اُس ناپسندیدہ مرد کے ساتھ رات گزارنے کے لیے اُسی کے سگے باپ نے اس کو یہاں بھیجا تھا
“ہاں میں نے تمہارے باپ سے سودا کیا ہے تمہارا کیوکہ مجھے تمہارے باپ کو اُس کی اوقات بتانی تھی اور تمہیں بھی تمہاری اوقات بتانی تھی تم نے شیردل کے رشتے کو ریجیکٹ کیا تھا تمہاری اتنی اوقات ہے؟ آج میں تمہیں بتاؤں گا ریجیکٹ کرنا کسے کہتے ہیں میں تمہیں چھونا تو دور کی بات اِس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ تمہارا چہرہ پر نظر بھئ ڈالو لیکن جب تم صبح کے اُجالے میں میرے اِس فلیٹ سے واپس جاؤں گی تو تم پر ٹیک لگ چکا ہوگا بدنامی کا گھر سے باہر رات گزار کر جو لڑکی گھر پہنچے، تم اچھی طرح جانتی ہوگی معاشرہ اُسے کیسا سمجھتا ہے”
شیردل ردا سے بولتا ہوا فتح یاب انداز میں مسکراتا ہوا اپنے فیلٹ سے جانے لگا
“آج میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اُس پاک ذات نے مجھے تم جیسے گدھ سے بچالیا تم نے آج مجھے ریجیکٹ نہیں کیا بلکہ میرے اللہ نے تم جیسے شیطان سے میری حفاظت کی ہے تم نے ایک باپردہ لڑکی کو بدنام کرنے کے لیے اُسے مجبور کرکے یہاں بلایا ہے ناں میری بددعا ہے تمہیں اپنی زندگی میں ایسی لڑکی سے محبت ہو جو بات بات پر تمہیں تمہاری اوقات یاد دلاۓ”
ردا کی بات پر شیردل مذاق اڑانے والے انداز میں اُس پر ہنسا
“دیکھتے ہیں”
وہ بولتا ہوا اپنے فلیٹ سے باہر نکل گیا
“نذیر صبح یہاں واپس آکر بی بی جی کو اُن کے گھر واپس چھوڑ آنا”
شیردل گاڑی میں بیٹھتا ہوا اپنے ڈرائیور سے بولا
***
دلاور اپنے کمرے میں ٹہلتا ہوا مسلسل مشی کے رویے کے بارے میں سوچے جارہا تھا جس نے سارا دن اپنے کمرے کا دروازہ بند رکھا ہوا تھا وہ رات میں کھانے کے وقت بھی باہر نہیں نکلی تھی نہ جانے کیا بات تھی جو اس نے اسطرح کا رویہ اختیار کیا ہوا تھا
اپنے کمرے میں آنے کے بعد دلاور مشی کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا تب اس کے کمرے کا دروازہ بجا دلاور نے پھرتی سے کمرے کا دروازہ کھولا تو عین توقع کے مطابق سامنے مشی کو کھڑا پایا آج جیسے ہی وہ دلاور کے کمرے میں آئی دلاور نے اُس کے بولنے سے پہلے اپنے کمرے کا دروازہ بند کردیا
“کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ ٹھیک ہیں ناں بڑی بیگم صاحبہ اور مالک آپ کے رویے کو لےکر کافی پریشان تھے”
دلاور ٹہرے ہوئے انداز میں مشی سے بولا مگر وہ یہ نہیں بول سکا وہ خود بھی اُس کے رویے سے کتنا ڈسٹرپ ہوچکا تھا
“دلاور ایک بات بتاؤں میں تمہیں دکھنے میں کیسی لگتی ہوں”
مشی اُس کے سوال کو نظر انداز کرتی اچانک دلاور سے ایسا سوال پوچھ بیٹھی جسے سن کر وہ حق دہق رہ گیا
“یہ کیسا سوال ہے”
وہ مشی کے حسن سے نظریں چراتا ہوا اُس سے بولا
“اتنا آسان سا سوال تمہیں سمجھ نہیں آیا کیا میں دکھنے میں خوبصورت ہوں؟”
مشی اُس کی بےوقوفی پر اپنا غصّہ ضبط کرتی ہوئی اس سے بولی دلاور نے ایک نظر اس کے چاندی جیسے روپ پر ڈالی اس سے پہلے اس کی نظریں اس من موہنی سی لڑکی کی نظر میں آتی اور گستاخ ٹہرائی جاتی وہ فوراً مشی کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹاتا ہوا بولا
“آپ یہ سوال آئینے سے کیوں نہیں پوچھ لیتی وہ ایک دم کھرا جواب دے گا”
دلاور مشی کا چہرہ دیکھنے کی بجائے دائیں جانب دیکھتا ہوا بولا تو مشی دائیں جانب آکر کھڑی ہوگئی
“تمہیں معلوم ہے میں اس وقت یہاں تمہارے کمرے میں کیو موجود ہو کیوکہ مجھے لگتا ہے کہ تم آئینے کی طرح کھرے ہو جو بولو گے بالکل سچ بولو گے”
مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی وہ غور سے مشی کا چہرہ دیکھنے لگا
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں۔۔۔ حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں۔۔۔ آفرین آفرین۔۔۔ آفرین آفرین۔۔۔
وہ مشی کا چہرہ دیکھتا ہوا خیالوں میں کسی اور جہاں میں پہنچ چکا تھا
“خاموش کیوں ہوگئے دلاور بتاؤ ناں کیا میں دکھنے میں خوبصورت نہیں لگتی تم تو سوچ میں ہی پڑگئے”
مشی اس کو خاموش دیکھ کر دوبارہ پوچھنے لگی
“آپ کو کس نے کہہ دیا آپ خوبصورت نہیں”
دلاور نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجاۓ الٹا مشی سے سوال پوچھ لیا
“دانیال کی آنکھوں نے وہ مجھے بتاتی ہیں کہ مجھ سے زیادہ وانیہ خوبصورت ہے اس کی نظروں میں”
مشی افسردگی سے بولی
“دانیال”
دلاور کو اپنے اندر کچھ کرچی کرچی ہوتا محسوس ہوا مگر وہ اگلے ہی پل تلخی سے ہنسا بھلا وہ کیوں چاند کو پانے کی خواہش کر بیٹھا تھا ایسا بھلا ممکن ہوسکتا تھا
“بی بی ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ ہی کے الفاظ تھے کہ میں جو بھی بولوں گا سچ بولوں گا تو مان لیں میری بات آپ سے زیادہ خوبصورت وانیہ تو کیا دنیا میں کوئی دوسری لڑکی نہیں ہوسکتی”
دلاور مشی کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا پھر احتراماً اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی نگاہیں جھکالیں مگر مشی کو جیسے مطمئین نہیں کرسکا وہ بیڈ کے پاس رکھی چھوئی سی ٹیبل سے سیگریٹ کا پیکٹ اٹھانے لگی
“یہ کیا کررہی ہیں آپ”
دلاور مشی کو سیگریٹ کے پیکٹ میں سے سیگریٹ نکالتا دیکھ کر حیرت سے پوچھنے لگا
“تمہاری طرح گنگنا کر میں خود کو ریلکس نہیں کرسکتی دلاور لائٹر دو”
“یہ بہت غلط طریقہ ہے بی بی آپ پلیز اِس طرح سے۔۔۔
دلاور مشی کی جانب بڑھتا ہوا بولا مگر اس کا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا
“شٹ اپ دلاور حد میں رہو اپنی تم مجھے بتاؤ گے مجھے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں۔۔۔ تمہیں جو بولا ہے وہی کرو لائٹر دو”
مشی نے جیسے اُس کو اس کی اوقات یاد دلائی تو دلاور ایک شکوہ بھری نظر اس سنگدل لڑکی پر ڈالتا ہوا اپنی پاکٹ سے لائٹر نکلنے لگا
دلاور لائٹر نکال کر اسے تھما چکا تھا اور بےبسی سے مشی کو دیکھتا رہا جو اُس کی ذات کو اگنور کیے اُس کے سامنے بیٹھی کسی دوسرے کو سوچے اُس کے لیے اسموکنگ کررہی تھی
***
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے تم کچھ کہنا چاہتے ہو مجھ سے”
شیردل اپنے برابر میں خاموش بیٹھے ڈرائیونگ کرتے دلاور سے بولا
“سیٹھ اکبر خان بےشک اچھے کردار کا مالک نہ ہو مگر اس کی بیٹی باپردہ اور پاکیزہ تھی مالک”
دلآور ڈرائیونگ کرتا ہوا بناء شیردل کی طرف دیکھئے اس سے بولا تو شیردل دلاور کو دیکھنے لگا
“وہ پاکیزہ تھی نہیں ابھی بھی پاکیزہ ہے کل رات میرے فلیٹ پر گزارنے کے باوجود وہ وہاں سے واپس اپنے گھر ویسے ہی گئی ہے جیسے وہ آئی تھ شیردل زبردستی کا قائل نہیں ہے دلاور لیکن میں اپنے دشمن کو اور اپنی ذاتی تذلیل کرنے والوں کو آسانی سے بخش دوں ایسا ممکن نہیں”
شیردل کی بات سن کر دلاور نے ایک نظر اپنے برابر میں بیٹھے شیردل کو دیکھا مگر شیردل سامنے دیکھ رہا تھا پھر ایک دم چیخا
“دلاور اُس کار کا پیچھا کرو اس میں وہی لڑکی ہے جو مجھے چاہیے”
شیردل کی ایک دم ڈھار پر دلاور اس گاڑی کا پیچھا کرنے لگا
“دلاور فاسٹ وہ لڑکی ہاتھ سے نکلنی نہیں چاہیے مجھے وہ لڑکی ہر قیمت پر چاہیے”
شیردل کے دوبارہ چیخ کر بولنے پر دلاور کار کی اسپیڈ مذید تیز کرتا ہوا ہانیہ کی کار کا پیچھا کرنے لگا جس کی وجہ سے اس کو سگنل توڑنا مگر ہانیہ کی خوش قسمتی یہ تھی شیردل کی گاڑی کو دوسرے سگنل پر روک لیا گیا جس پر شیردل غصّے میں پیج و تاب کھا کر رہ گیا
***
“مگر سر مجھے سمجھ نہیں آرہا آپ کی اِس بات پر میں آپ سے کیا بولوں میں بہت عام سا انسان ہوں آپ کے آفس کا ایک معمولی سا ایمپلاۓ اور کہا آپ کی بیٹی”
حسام سامنے کرسی پر بیٹھے اپنے باس کی بات پر اچھا خاصا کنفیوز ہوچکا تھا
“کوئی بھی انسان عام یا معمولی نہیں ہوتا حسام اور مجھے تمہاری قابلیت سے زیادہ تمھاری ایمانداری نے متاثر کیا ہے میں تمہیں اپنی بیماری اور رشتہ داروں سے لے کر ساری صورت حال بتاچکا ہوں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اور میں اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی ایماندار اور قابل اعتبار انسان کے ہاتھ میں دینا چاہتا ہوں”
فہیم حسام کو دیکھتا ہوا بولا پچھلے تین سال سے وہ حسام کو اپنے آفس میں کام کرتا دیکھ رہا تھا حسام کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرچکا تھا فیملی کے نام پر اس کی صرف ایک ماں تھی جس کا دو ماہ پہلے انتقال ہوچکا تھا حسام نہ تو کسی بری عادتوں میں ملوث تھا اور آفس میں بھی اس کی ریپوٹیشن کافی اچھی تھی خوش شکل، تعلیم یافتہ سب سے بڑھ کر ایماندار اور شریف لڑکا تھا جو اسی کے گھر میں ہانیہ کے ساتھ آرام سے ایڈجسٹ ہوجاتا
فہیم ہانیہ کو بھی حسام کے متعلق سے سب کچھ بتاچکا تھا، ہانیہ فہیم کی خاطر حسام سے شادی کرنے پر آمادہ ہوچکی تھی لیکن اُس نے یہی شرط رکھی تھی کہ وہ فہیم سے دور کہیں نہیں جائے گی اور فہیم کے لیے بھی مشکل نہیں تھا کہ وہ حسام کو اپنے ساتھ رکھ لیتا
***
