468.5K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Justajoo Thi Khas (Episode 11)

Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel

وہ اس وقت ٹیرس پر کھڑی اسموکنگ کررہی تھی دلاور اسے کہہ کر گیا تھا کہ وہ اس کا انتظار نہ کرے اگر وہ نہ بھی کہہ کے جاتا مشی تب بھی اس کا انتظار نہ کرتی آج ایک بار اس سے غلطی ہوئی تھی جب دلاور کے کمرے میں آنے پر ڈر کے مارے اس سے ٹاول چھوٹ کر فرش پر گرا تھا اور ایک غلطی تھوڑی دیر پہلے کچن میں دلاور کر بیٹھا تھا جبھی وہ گلٹی محسوس کررہا تھا جس کے سبب وہ غصہ کرتا ہوا فلیٹ سے نکلا تھا مشی نے سوچتے ہوئے تلخی سے سر جھٹکا سیگریٹ کا ٹکڑا ٹیرس سے نیچے پھینک کر وہ واش روم میں آکر ٹوٹتھ برش کرنے لگی تبھی اسے باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی یہ دلاور کا معمول تھا کہ وہ باہر سے دروازہ لاک کر کے ہی کہیں جاتا تھا مشی اپنے روم سے لاؤنج میں داخل ہوئی تو دروازے پر دلاور کے علاوہ شیردل کو وہاں موجود پاکر ایک دم چونکی

“بھائی آپ یہاں”

شیردل کو وہ اس اپارٹمینٹ میں دیکھ کر حیرت سے بولی اور اس سے بھی زیادہ وہ حیرت سے دلاور کو دیکھ رہی تھی جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی چند گھنٹے پہلے گھر سے تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک نکلا تھا

“پرسوں ہی گاؤں سے اپنے ساتھ لایا تھا”

دلاور شیردل کو دیکھ کر مخاطب تھا یقیناً وہ شیردل کو مشی کے بارے میں بتارہا تھا

“تمہیں کیا ہوگیا یہ چوٹ کیسے لگی”

مشی حیرت زدہ سے دلاور کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر دلاور کی بجائے شیردل بولا

“کچھ خاص نہیں معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ٹیسٹ اور ایکسرے کروا لیے ہیں ساری رپورٹس کلیئر ہیں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے اِس کا خیال رکھنا”

شیردل سنجیدہ لہجے میں مشی کو بتاتا ہوا وہاں سے جانے لگا

“بھائی رکیں پلیز”

شیردل کو وہاں سے جاتا ہوا دیکھ کر مشی بےاختیار بولی اور چلتی ہوئی شیردل کے پاس آئی

“آپ کو ماما کو اپنے گھر کو بہت مس کرتی ہوں میں”

مشی شیردل سے بولتی ہوئی اُس کے گلے لگ گئی شیردل نے ایک نظر دلاور پر ڈالی جوکہ اِس وقت بالکل خاموش کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

“جھگڑا وگڑا تو نہیں کیا تھا تم نے اپنے شوہر سے جو اس کا یوں ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا”

وہ مشی کو خود سے الگ کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر مشی افسوس بھری نظروں سے شیردل کو دیکھ ہلکا سا مسکرائی

“ہر چیز ہر بات کے پیچھے مشی کی ہی تو غلطی ہوتی ہے ہمیشہ”

مشی شیردل کو دیکھ کر طنزیہ لہجے میں بولی دو ماہ بعد وہ اپنے سگے بھائی کو دیکھ رہی تھی جو اس سے اُس کا حال پوچھنے کی بجائے بلکہ الٹا اس پر طنز کررہا تھا

“زبان چلانے کی عادت گئی نہیں تمہاری ابھی تک۔۔۔ شادی شدہ ہوچکی ہو اپنے گھر کا اور شوہر کا خیال رکھا کرو اور اگر مجھے تمہاری کسی بھی قسم کی کوئی الٹی سیدھی حرکت کا پتہ چلا۔۔۔”

اس سے پہلے شیردل اپنا جملہ مکمل کرتا مشی اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی

“حیرت ہے دلاور نے آپ کو میری الٹی سیدھی حرکتوں کا ابھی تک بتایا نہیں خیر آپ یہاں آئے اچھا لگا، چائے مجھے بنانی آتی نہیں ورنہ آپ کو چائے کا ضرور پوچھتی”

مشی شیردل کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ غصے بھری نظر مشی پر ڈال کر وہاں سے چلاگیا

***

“ہوا کیسے تھا تمہارا ایکسیڈنٹ”

شیردل کے وہاں سے جانے کے بعد دلاور باہر کا دروازہ لاک کرتا اپنے کمرے میں آیا تو مشی اُس کے پیچھے اُس کے کمرے میں آتی ہوئی دلاور سے پوچھنے لگی

“ڈرائیونگ کرتے وقت تمہارے بھائی کی کال آگئی تھی ریسیو کرنے کے چکر میں کار ڈس بیلنس ہوگئی میرے منع کرنے کے باوجود وہ وہاں پہنچ گئے اور مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور پھر خود یہاں گھر چھوڑنے آگئے”

دلاور ہونے والے واقعے کی تفصیل اس کو بتانے لگا

“جب وہ مجھ پر الزام لگارے تھے جھگڑے کی بات کو لےکر تب تم نے انہیں نہیں بتایا کس کی وجہ سے تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا ہے”

مشی دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی جو بہت احتیاط سے اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اس نے بالکل سیدھا رکھا ہوا تھا جیسے اس کو بازو یا شولڈر پر بھی چوٹ آئی ہو

“تمہارے بھائی اور تمہاری باتوں کے بیچ میں مجھے مداخلت کرنے کی کیا ضرورت تھی”

دلاور چڑتا ہوا مشی سے بولا کیونکہ درد کی وجہ سے اس سے شرٹ کے بٹن نہیں کھولے جارہے تھے

“یہ بھی ٹھیک کہی تم نے بھلا تمہیں کیا ضرورت ہے کوئی مجھے تمہارے سامنے چاہے کچھ بھی کہتا رہے”

مشی اُس کو بولتی ہوئی سر جھٹک کر کمرے سے جانے لگی

“سنو الماری سے مجھے دوسری شرٹ نکال کر دینا”

مشی کے طنز کو پیتا ہوا وہ مشی سے اپنا کام بولا مشی کے کمرے سے باہر جاتے قدم رکے تھے وہ واپس کمرے میں آکر الماری سے اس کے لیے دوسری شرٹ نکالنے لگی کیونکہ وہ ابھی تک آفس والی ڈریسنگ میں موجود تھا

“میں ہیلپ کردو تمہاری”

اسے پریشان دیکھ کر مشی نے اس کی شرٹ اتارنے میں مدد کرنی چاہی جس پر شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے دلاور کا ہاتھ رکا

“نہیں اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے” دلاور اس کے ہاتھ سے اپنی شرٹ لیتا ہوا بولا

“پہنا دیتی ہوں بس خود کو تھوڑا اسٹرونگ رکھنا”

مشی بولنے کے بعد آگے بڑھ کر اُس کی شرٹ کے باقی کے بٹن کھولنے لگی تبھی دلاور نے اس کے جملے پر مشی کا ہاتھ پکڑا

“اسٹرونگ رکھنے سے تمہاری کیا مراد ہے”

وہ سخت لہجے میں مشی سے پوچھنے لگا کیا وہ سمجھ چکی تھی اس کے اندر بھرے غبار کی وجہ، جو وہ اس پر نکال کر گھر سے غصے میں نکلا تھا

“مجھے لگ رہا ہے تمہارے رائٹ ہینڈ میں پین ہے کہیں شرٹ پہناتے ہوئے تمہیں تکلیف نہ ہو تو اس لیے اسٹرونگ رہنے کا بولا”

مشی اس کو بریف کرتی دوبارہ اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی دلاور نے اس کی بات پر کوئی جواب نہ دیا مشی احتیاط سے اس کی شرٹ اتارنے لگی دلاور غور سے مشی کا چہرہ دیکھنے لگا

“یہ لیفٹ والی آئی برو کے پاس کیسا نشان ہے”

دلاور اتنے قریب سے اُس کا چہرہ دیکھ رہا تھا بےساختہ اس کے منہ سے نکلا اِس نشان کا نوٹس اس نے کچن میں بھی لیا تھا مگر وہ پوچھنے والا موقع نہ تھا اس لیے ابھی پوچھنے لگا

“کچھ خاص نہیں آئی برو نیڈ کرتے ہوئے کٹ لگ گیا تھا”

مشی اسے بولتی ہوئی کمرے سے چلی گئی۔۔۔ معلوم نہیں اکیلے میں کیا کیا کرتی رہتی ہے یہ لڑکی دلاور خود سے بولا وہ اس وقت بغیر شرٹ کے بیڈ پر بیٹھا تھا مشی دوبارہ کمرے میں واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں آئینٹمینٹ موجود تھا

“اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے معمولی سا پین ہے صبح تک خود ٹھیک ہوجائے گا”

دلاور اس کے ہاتھ میں آئینٹمینٹ دیکھ کر بولا

“بےشک درد معمولی ہو مگر ہوتا تو درد ہی ہے ساری رات تکلیف دے گا تو سو نہیں پاؤ گے” مشی کا لہجہ عجیب سا تھا دلاور کو محسوس ہوا مگر وہ کچھ بولا نہیں، مشی اس کے بازو اور شولڈر پر جیل لگانے لگی تاکہ اسے پین سے جلد ریلیف ملے۔۔۔ مشی کا نرم و ملائم ہاتھوں سے مساج کرنا اسے اندر تک اطمینان بخش رہا تھا وہ بنا کچھ بولے مشی کو دیکھنے لگا آج بھی یہ حسین چہرہ پوری دلکشی لیے اس کے دل کو پہلے کی طرح لبھاتا تھا مشی کے ہونٹ دیکھ کر بےساختہ اسے کچن والا منظر یاد آیا جب وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اپنی محبت اس پر نچھاور کررہا تھا دوبارہ وہی خواہش دل میں ابھرنے لگی مگر اب وہ دوبارہ یہ غلطی نہیں دہرا سکتا تھا اس لیے دلاور نے مشی کا ہاتھ پکڑلیا جو کہ اس کے شولڈر پر موجود تھا

“اتنا کافی ہے یہ شرٹ میں خود ہی پہن لوں گا”

دلاور کے بولنے پر مشی اس کے کمرے سے جانے لگی پھر ایک دم مڑی

“تم نے رات کو ڈنر نہیں کیا کچھ کھانے کو لادو”

یاد آنے پر مشی اس سے کھانے کا پوچھنے لگی

“نہیں، آج افس میں کافی لیٹ لنچ کیا تھا اس لیے بھوک نہیں ہے تم جاکر سو جاؤ”

دلاور خواہش ہونے کے باوجود کافی کا بولتے بولتے رک گیا کیونکہ “کافی” شام میں اس کا کام بہت زیادہ خراب کرچکی تھی مشی اس کی بات سن کر چند سیکنڈ کھڑی دلاور کو دیکھنے لگی پھر اچانک بولی

“کافی لادیتی ہوں وہ پی لو”

مشی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا مگر دلاور کا کوئی بھی جواب سنے بغیر ہی وہ کمرے سے چلی گئی

“ٹیسٹ چینج کیو ہے کافی کا”

دلاور نے کافی کا سپ لیتے ہوئے مشی کو دیکھ کر پوچھا ایک بار پھر اس کے کمرے سے باہر جاتے قدم رکے

“ہر چیز تو فوراً ہی پرفیکٹ نہیں بن سکتی ناں اسے پی لو بہت محنت سے بنائی ہے”

مشی دلاور کو دیکھ کر بولتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر چلی گئی یوں مشی کا احساس کرنا دلاور کو اچھا لگا تھا وہ کافی کا سپ لیتا ہوا سوچنے لگا

ایکسیڈینٹ میں لگنے والی چوٹ کے سبب سر میں اٹھتی شدید ٹیسوں کی وجہ سے بمشکل اس کی چند سیکنڈ پہلے انکھ لگی تھی مگر اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس اسے نیند سے بےدار کرگیا تھا دلاور انکھیں بند کیے لیٹا تھا جب مشی نے آہستگی سے ٹیبل پر رکھی فلیٹ کی چابیاں اٹھائیں

“تم اس وقت جاگ کیوں رہی ہو”

دلاور کی آواز پر مشی اس طرح ڈر کر اس کی جانب پلٹی جیسے وہ اس کا ارادہ بھانپ چکا ہو جبکہ دلاور کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس وقت مشی کے دماغ میں کیا چل رہا ہے وہ اپنے ہاتھوں میں چابیاں دبائے چہرے کی اڑتی ہوائیوں کے ساتھ دلاور کو دیکھنے لگی

“ہاتھ میں کیا ہے تمہارے”

دلاور مدھم روشنی میں بھی اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں دیکھ سکتا تھا اس لیے بیڈ سے اٹھا اور مشی سے پوچھنے لگا

مشی کو معلوم نہیں تھا وہ سمجھ چکا تھا یا پھر اس کے ہاتھ میں فلیٹ کی چابیاں دیکھ کر سمجھ جاتا وہ ایک دم تیزی سے کمرے سے باہر نکلی اور دلاور کے باہر نکلنے سے پہلے اس کے کمرے کا دروازہ بند کردیا

“مشی دروازہ کھولو۔۔۔ دروازہ کھولو ورنہ میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گا باہر نکل کر، میں بول رہا ہو دروازہ کھول دو”

دلاور غصے میں زور سے دروازے پر بار بار ہاتھ مارتا ہوا مشی پر چیخے جارہا تھا مگر مشی اس کی بات سننے کی بجائے باہر کا دروازے کا لاک کھولنے لگی

“مشی میں تمہیں سچ میں مار ڈالوں گا اگر تم نے فلیٹ سے باہر قدم نکالا”

دلاور طیش کے عالم میں اپنے کمرے کا لاک کھولنے کی کوشش کرتا ہوا زور دار آواز میں گرجا مگر تب تک مشی دروازے کا لاک کھول کر باہر نکل چکی تھی

“مشی رک جاؤ۔۔۔ میں بول رہا ہوں وہی رک جاؤ ورنہ بہت برے سے پیش آؤ گا تمہارے ساتھ”

تیزی سے سیڑھیاں اترتی وہ دلاور کی آواز باآسانی سن سکتی تھی وہ اپنے کمرے سے باہر نکل چکا تھا مشی کے قدموں میں اور تیزی آگئی مگر گراؤنڈ فلور پر پہنچ کر بند جنگلے کو دیکھ کر اسے زوردار دھچکا لگا شاید یہاں سیکیورٹی پرپز کی وجہ سے رات ہوتے ہی تمام بلاکسز کی گرل بند کردی جاتی تھی

“کھولو پلیز اسے کھولو۔۔۔ ورنہ یہ مجھے مار ڈالے گا”

مشی گرل پر زور زور سے ہاتھ مار کر زور چیختی ہوئی بولی کیونکہ وہ جانتی تھی دلاور اب آسانی سے اس تک پہنچ جائے گا

“کیا کررہی ہو مشی تمہارا دماغ صحیح ہے چلو واپس اوپر”

گرل لاکڈ ہونے کی وجہ سے وہ واقعی باآسانی مشی تک پہنچ چکا تھا، غصے میں مشی کو پکڑتا ہوا بولا

“نہیں دلاور مجھے نہیں جانا واپس، میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی پلیز مجھے جانے دو”

وہ دلاور سے اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی

“مشی تماشہ مت بناؤ شور مت کرو گارڈ آجائے گا یہاں چلو واپس”

وہ بےقابو ہوتی دلاور کے ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی تبھی دلاور نے اسے اٹھاکر اپنے کندھے پر ڈالا کندھے پر ہونے والی شدید تکلیف سے اس نے سختی سے اپنی انکھیں بند کی اور منہ سے نکلنے والی کراہ کو دبا گیا

“دلاور چھوڑ دو مجھے پلیز مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا مجھے جانے دو پلیز مجھے نیچے اتارو”

مشی کے رونے چیخنے چلانے پر بنا کوئی اثر لیے دلاور اُس کو واپس فلیٹ میں لاتا ہوا اسے اس کے بیڈ روم میں لا کر بیڈ پر دھکیل چکا تھا مشی بیڈ سے اٹھ کر انکھوں میں خوف لیے دلاور کو دیکھنے لگی جو غصے میں اُس کے پاس آیا اور اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا ہوا بولا

“کیا کرنے والی تھی تم میرے ساتھ ہاں، شرم نہیں آئی تمہیں میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر تم نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے اب بتاؤ کیا سلوک کرو میں تمہارے ساتھ کیا ملایا تھا تم نے کافی میں جواب دو مجھے”

دلاور غصے میں بولتا ہوا اسے واپس بیڈ پر دھکیل چکا تھا

“دلاور نہیں مجھے معاف کردو پلیز چھوڑ دو مجھے۔۔۔ میرے ساتھ اس طرح مت کرنا دلاور”

وہ مشی کے اوپر جھکتا اس کی کلائیوں کو سختی سے پکڑ چکا تھا اپنی سزا کا سوچتی مشی نے روتے ہوئے اس سے فریاد کرتی بولی

“آج نکال دو تمہارا سارا غرور جواب دو۔۔۔ میرے سامنے اچھی بیوی کا ڈرامہ کرکے مجھے بےہوش کرنے کے بعد یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی، گیم کھیلنے کی کوشش کررہی تھی میرے ساتھ بولو کاٹ ڈالوں آج تمہارے پر”

وہ غصے میں مشی کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگانے اس کی بات سن کر مشی نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا

“نہیں پلیز دلاور میں آئندہ ایسا کچھ نہیں کروں گی پرامس اب ایسا سوچوں گی بھی نہیں پلیز تم پیچھے ہٹ جاؤ”

اس کے مضبوط حصار میں مشی سسکتی ہوئی بولی وہ چند دنوں پہلے ہی دلاور کا وحشی روپ دیکھ چکی تھی ایک مرتبہ دوبارہ اپنے ساتھ جانوروں جیسا سلوک برداشت نہیں کرسکتی تھی

“اپنا اعتبار تم بالکل ختم کرچکی ہو اگر دوبارہ تم نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی یا اس فلیٹ سے باہر قدم نکالنے کا سوچا بھی تو تم میرا وہ روپ دیکھو گی جس کے بعد تمہیں اپنی زندگی سے نفرت ہوجائے گی معاف نہیں کروں گا مشی تمہیں اب کی بار یاد رکھنا میری بات”

وہ شدید غصے کے باوجود مشی کا روتا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے وارن کرتا مشی کے اوپر سے اٹھا اور اپنے کمرے میں جانے لگا

اس کے شولڈر میں دوبارہ پین شروع ہوچکا تھا اور سر میں درد کی وجہ سے مزید ٹیسے اٹھنے لگی باہر کا دروازہ اچھی طرح لاک کرنے کے بعد اب کی بار اس نے چابیوں کو میز پر نہیں رکھا بلکہ اپنے تکیے کے نیچے رکھ دی واپس بیڈ پر لیٹنے کی بجائے سیگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر سیگریٹ نکالتا ہوا وہ اسموکنگ کرنے لگا ٹیبل پر ہی کافی کا کپ رکھا تھا جو برے ذائقے کی وجہ سے اس سے پی نہیں گئی تھی شاید اس میں ملاوٹ کی وجہ سے اس کا ذائقہ چینج تھا

“بےوفا دھوکے باز لڑکی سچ میں یہ اعتبار کے لائق نہیں ہے دکھاوا کررہی تھی اچھی بیوی بننے کا مجھے چھوڑ کر جانا چاہتی تھی”

تلخی سے مشی کے بارے میں سوچتا ہوا اس نے غصے میں سر جھٹکا برابر والے کمرے سے مسلسل مشی کے رونے کی آواز آرہی تھی جسے نظر انداز کرتا وہ بیڈ پر لیٹ گیا

***

ایک ماہ پہلے اس نے دلاور کو جھانسا دے کر اِس قید سے نکلنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بری پھنسی تھی اُس کے بعد سے دلاور اور بھی زیادہ محتاط ہوچکا تھا رات کو سوتے وقت اور فلیٹ سے باہر نکلتے وقت وہ خاص طور پر دروازے کا لاک چیک کرتا مشی باہر کی دنیا سے کٹ کر فرسٹریڈ ہوچکی تھی اس لیے آج کل اس نے اسموکنگ شروع کردی تھی جب بھی جہاں بھی اسے موقع ملتا وہ دلاور سے چھپ کر سیگریٹ کے پیکٹ سے سیگریٹ نکال لیتی صبح کے وقت جب دلاور گہری نیند میں سو رہا تھا تب مشی نے دبے پاؤں اس کے بیڈ روم کی جانب رخ کیا، بغیر شرٹ کے وہ اوندھے منہ لیٹا اپنے بیڈ روم میں مشی کی موجودگی سے بےخبر پُر سکون نیند سو رہا تھا تب مشی آہستہ قدم اٹھاتی اس تک پہنچی دلاور کے سونے کا اچھی طرح یقین کرتی اس کی نظریں بیڈ کے بالکل نزدیک سائیڈ ٹیبل پر پڑے سیگریٹ کے پیکٹ پر پڑی کانپتے ہاتھوں سے اس نے وہ پیکٹ اٹھایا اور سہمی نظریں دلاور کے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی۔۔۔ وہ جلدی سے پیکٹ میں سے ایک سیگریٹ نکالتی واپس سیگریٹ کا ڈبہ اُسی جگہ پر رکھ چکی تھی اپنا رکا ہوا سانس بحال کرنے لگی تب اچانک دلاور کے کروٹ لے کر سیدھا ہونے پر اس کی سانس واپس رک گئی وہ سیگریٹ والے ہاتھ کو پھرتی سے پیچھے کمر کی طرف لے گئی

“کیا ہوا یہاں کھڑی کیا کررہی ہو”

نیند سے ہوتی گلابی انکھوں سے دلاور مشی کو اپنے بیڈ کے قریب کھڑا دیکھ کر اس سے سوال کرنے لگا

“تت۔۔۔ تمہاری شرٹ پریس کرنے تھی ناں جو آفس تم پہن کر جاؤ گے”

اگر اس کی چوری پکڑی جاتی تو دلاور اس کا حشر کردیتا مشی نے جلدی سے سیگریٹ کو نہ محسوس طریقے سے نیچے پھینک کر اپنی سلیپر اس کے اوپر رکھ دی، مشی کی بات سن کر دلاور الماری کی جانب دیکھنے لگا جو بیڈ سے دس قدم دور تھی مگر مشی الماری کی بجائے اس کے بیڈ کے پاس کھڑی تھی

“وہ تم سے پوچھنے کے لیے یہاں کھڑی ہوئی تھی کہ کون سی والی شرٹ پریس کرو”

مشی دلاور کی سوچ پڑتی ہوئی جلدی سے بولی تو دلاور اس کی اڑی ہوئی رنگت غور سے دیکھنے لگا

“تو پھر مجھے جگایا کیوں نہیں یا خود سے میرے جاگنے کے انتظار میں یہاں کھڑی تھی”

دلاور مشی سے بولتا ہوا بیڈ سے اپنی شرٹ اٹھا کر پہننے لگا مشی نے جلدی سے سلیپر کے نیچے دبی سیگریٹ کو پیر مار کر بیڈ کے نیچے کیا

“بس میں جگانے ہی والی تھی تمہیں”

مشی بولتی ہوئی سوچ رہی تھی کہ وہاں سے چلی جائے تبھی دلاور بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا تو مشی کو دو قدم پیچھے ہونا پڑا دلاور اس کے قریب آتا مشی کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہوا بولا

“تمہیں جاننے کا دعوی میرا غلط نہیں ہے میں اپنے پاس تمہاری موجودگی کا اندازہ نیند میں بھی تمہاری خوشبو سے لگا سکتا ہوں اس لیے میرے سامنے کبھی جھوٹ مت بولنا مشی اور اب تو میں تمہاری رگ رگ سے بھی اچھی طرح واقف ہوچکا ہوں وہ سیگریٹ مجھے واپس کرو جو تم نے ابھی اس پیکٹ سے نکالی ہے”

دلاور اس کی چوری پکڑتا ہوا بولا تو خوف سے مشی کی ریڑھ کی ہڈی سنسنانے لگی

“تم غلط سمجھ رہے ہو میں تو۔۔۔

ابھی مشی نے پورا جملہ بھی نہیں بولا تھا کہ دلاور نے سختی سے اس کا بازو پکڑ کر زور سے دبوچا

“میں نے بولا ناں جھوٹ مت بولنا مجھ سے”

وہ انکھوں میں سختی لیے مشی پر غرایا اور اسے بیڈ کی جانب دھکیلا مشی بیڈ پر اوندھے منہ گری تو دلاور نے جھک کر بیڈ کے نیچے سے سیگریٹ اٹھائی جسے دیکھ کر مشی کی روح فنا ہونے لگی وہ غضب ناک تیور لیے مشی کو دیکھنے لگا مشی نے شرمندگی سے اپنی نظریں جھکالیں

“کیوں اس قدر آوارگی بھری ہوئی ہے تمہارے انداز میں، مجھے بتاؤ تم نے اپنی حرکتوں سے خود باز آنا ہے یا پھر میں خود تمہیں سیدھا کروں”

دلاور بیڈ پر جھکتا ہوا مشی کا جبڑا اپنے ہاتھ سے سختی سے دبوچ کر انکھوں میں غضب لیے اس سے پوچھنے لگا تو مشی کمزور سا احتجاج کرتی اس کی مضبوط کلائی پکڑ کر اپنا منہ دلاور کے ہاتھ سے چھڑانے لگی

“چھوڑو پلیز مجھے جانے دو”

وہ بمشکل بول پائی تھی جبڑوں میں ہوتی دکھن سے اس کی انکھوں سے پانی نکلنے لگا جسے دیکھ کر دلاور پیچھے ہوا تو مشی بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“آئندہ اگر تم نے سیگریٹ کے پیکٹ کی طرف دیکھا بھی تو تمہارے یہ دونوں نازک ہاتھ تمہارے جسم سے جدا کردو گا مجھے وحشی بننے پر مجبور مت کرو مشی نہیں تو اپنے نقصان کی ذمہ دار تم خود ہوگی”

دلاور غصے سے میں اس کو وارن کرتا ہوا بولا تو مشی دھیمے لہجے میں احتجاجاً بولی

“تم چھوڑ دو مجھے اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں آوارہ اور غلط لڑکی ہوں تو ختم کرلو اپنا رشتہ مجھ سے”

مشی دبی آواز میں دلاور سے بولی تو دلاور دوبارہ اس کے قریب آیا مشی پیچھے ہونے سے پہلے دلاور نے مشی کو بازو سے پکڑا اس کی سخت انگلیاں مشی کو اپنے بازو میں دھستی محسوس ہوئی مشی نے دوسرے ہاتھ سے دلاور کی شرٹ پکڑی

“میں ان مردوں میں نہیں ہوں جو بدنامی اور رسوائی کے ڈر سے اپنی بگڑی ہوئی بیوی سے تعلق توڑ لیتے ہیں مجھے بگڑے ہوئے انسانوں کو سیدھا کرنے کا ہنر اچھے سے آتا ہے اور اسی وجہ سے تمہارا بھائی بھی تمہیں میرے نکاح میں دینے کے لیے راضی ہوا ہوگا کیونکہ اندر سے کہیں وہ خود اچھی طرح جانتا تھا کہ مجھ جیسا مرد ہی تمہیں سیدھا کرسکتا ہے”

دلاور نے بولتے ہوئے اس کا پکڑتا ہوا بازو جھٹکا رشتہ ختم کرنے کی بات پر تو جیسے اسے مشی نے آگ ہی لگا ڈالی تھی یعنی یہ لڑکی رشتہ تو ختم کرسکتی تھی مگر اپنی غلط عادتوں کو نہیں چھوڑ سکتی تھی

“اگر سیدھا ہی کرنا ہے تو مجھ سے پہلے اپنی اس آوارہ بہن کو سیدھا کرو”

دلاور سے ڈرنے کے باوجود نہ جانے اس میں اتنی ہمت کیسے پیدا ہوگئی کہ اپنے انجام کی پرواہ کیے بغیر وہ دلاور سے زبان چلاتی ہوئی بولی

مشی کی بات سن کر دلاور اس کے نام کی پکار کے ساتھ اتنی برے طریقے سے دھاڑا کے مشی کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے بےساختہ دلاور کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا تو ڈر کے مارے مشی نے اپنا ہاتھ گال پر رکھ کر چہرے کا رخ دوسری جانب کیا کہیں دلاور کا پڑنے والا زوردار تپھڑ اس کا گال ہی سرخ نہ کر ڈالے مگر چند پل گزرنے کے بعد مشی نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر دلاور کے ہاتھ کو دیکھا جو غصے میں ابھی تک فضا میں بلند تھا جبکہ وہ خونخوار نظروں سے مشی کو گھور رہا تھا مشی سے دلاور کی نظر ملی تو اسی پل دلاور نے فضا میں بلند ہاتھ سے اس کی گردن کو اپنے ہاتھ سے دبوچ لیا اور مشی کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لایا خوف کے مارے دبی ہوئی چیخ مشی کے گلے سے باہر نکلی

“آئندہ اگر میری بہن کے کردار کے متعلق ایک بھی لفظ تمہاری زبان سے نکلا تو جان سے مار ڈالوں گا تمہیں”

مشی سے بولتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ مشی کی گردن سے ہٹایا تو مشی کو اپنا رکا ہوا سانس بحال ہوتا محسوس ہوا وہ دل ہی دل میں زرش کو گالیوں سے نوازتی دلاور کے کمرے سے باہر جانے لگی

“پریس کرنے کے لیے میری شرٹ لے کر جاؤ اور جلدی سے ناشتہ بھی تیار کرو”

دلاور کی آواز پر مشی کمرے سے باہر جاتے قدم وہ الماری سے دلاور کی شرٹ نکالنے لگی جبکہ دلاور کرسی سے ٹاول اٹھاتا ہوا واش روم کی جانب بڑھ گیا

“اللہ کرے زرش تم مر جاؤ میری زندگی جہنم بنادی تمہارے جھوٹے الزام نے شاید اب تمہارا بھائی کبھی مجھ پر اعتبار نہیں کرے گا اور نہ ہی مجھے اس قید سے آزاد کرے گا”

مشی دلاور کی شرٹ پریس کرتی ہوئی دل ہی دل میں زرش کو بد دعائیں دینے لگی

***

آفس جانے کے لیے تیار ہوکر وہ ناشتہ کرنے ڈائننگ روم میں آیا تو مشی ستے ہوئے چہرے کے ساتھ کچن سے برامد ہوئی سست قدم اٹھاتی وہ ٹیبل تک دلاور کے لیے ناشتہ لائی تو دلاور مشی کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا جو اس وقت سرخ ہورہا تھا

“کیا ہوا تمہیں” دلاور کے انداز میں ایک دم ہمدردی کا عنصر عیاں ہوا لہجے میں ایک دم ہی نرمی گُھل آئی مشی نظریں اٹھا کر دلاور کو دیکھنے لگی کبھی اس شخص کا نرم پڑتا انداز تو کبھی ایک دم سرد پتھریلہ لہجہ، مشی کو اب چڑ سی ہونے لگی تھی

“کافی ڈھیٹ ہوں میں مجھے کچھ نہیں ہوتا”

وہ دلاور کو دیکھتی ہوئی بےحسی سے بولی اور واپس کچن میں جانے لگی تب ایک دم اس کو زور دار چکر آیا اس سے پہلے مشی گرتی دلاور نے آگے بڑھ کر فوراً اس کو اپنے بازوؤں میں تھام لیا

“تمہیں اس وقت ڈاکٹر کے پاس چلنا چاہیے چلو میرے ساتھ”

اپنے کمرے میں غصے کے عالم میں مشی کی گردن دبوچتے وقت وہ مشی کے اندر حرارت محسوس کرچکا تھا لیکن اِس وقت اُس کے بخار کی شدت سے سرخ پڑتا چہرہ اور کمزوری کے سبب آنے والے چکر کو دیکھ کر دلاور نے ارادہ کیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ مشی کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے

“جب اپنے دل میں میرے لیے محبت ختم کرچکے ہو تو میرا احساس کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے سسک سسک کر مر جانے دو مجھے اپنی قید میں”

مشی کے لبوں سے شکوہ پھسلا اپنے گرد دلاور کے دونوں حمائل بازووں کو جھٹکتی ہوئی وہ بےحسی سے بولی، دلاور اس کو کیا بتاتا وہ اس پر صرف اپنا غصہ نکال سکتا تھا مگر چاہ کر بھی محبت ختم نہیں کرسکتا تھا

“میں اس وقت کوئی بھی فضول قسم کی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں اور نہ ہی تمہارے نخرے اٹھا سکتا ہوں خاموشی سے ڈاکٹر کے پاس چلو”

اب کی بار دلاور کے لہجے میں نرمی کی بجائے ہلکی سی سختی سمائی ہوئی تھی مشی اس کے آگے ہار مانتی ہوئی خاموشی سے اس کے پیچھے فلیٹ سے باہر نکل گئی

***

“مشی میری جان میری بچی تم یہاں پر موجود ہو اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے”

دلاور اسے ہاسپٹل لایا تھا اتفاق سے وہی ہانیہ کے ساتھ رملہ بھی موجود تھی جو ایک دم پہلے تو مشی کو دلاور کے ساتھ شہر میں دیکھ کر حیرت زدہ ہوئی تھی مگر پھر اگلے ہی پل اس نے مشی کو سینے سے لگالیا، مشی خود بھی رملہ کے گلے لگتے ہی رونا شروع کرچکی تھی

اچانک ایسی صورتحال پڑنے پر دلاور سخت بےزار ہوا تھا وہی ہانیہ بھی رملہ اور مشی کو دیکھ کر حیران تھی دلاور سمجھ گیا تھا کہ رملہ یقیناً یہاں ہانیہ کے چیک اپ کی وجہ سے ہانیہ کے ساتھ موجود تھی اس نے سر کے اشارے سے ہانیہ کو سلام کیا باقی کی صورتحال اب اگے بڑھ کر اسی کو سنبھالنا تھی اس لیے آگے بڑھتا ہوا مشی کے پاس آیا اور اسے کندھوں سے تھام کر پیچھے ہٹاتا ہوا بولا

“مشی اس طرح کیوں رو رہی ہو آنٹی معلوم نہیں کیا سمجھ رہی ہوں گیں”

وہ اپنائیت بھرے لہجے میں مشی کو شولڈر سے تھام کر بولا تو مشی اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی دلاور کا اپنائیت بھرا لب و لہجہ دیکھنے لگی اب وہ رملہ کو دیکھتا ہوا مشی کو اپنے ساتھ شہر لانے اور اس کی طبیعت خرابی کا بتارہا تھا اس ساری صورتحال پر ہانیہ ابھی تک خاموش کھڑی سب کی باتیں سن رہی تھی

“مشی ہانیہ بھابی سے نہیں ملو گی”

دلاور نے مشی کی توجہ ہانیہ کی جانب دلائی تاکہ رملہ اور مشی کا جذباتی سین دوبارہ نہ شروع ہوجائے مشی نے جب ہانیہ کی جانب دیکھا تو ہانیہ چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ خود سے مشی کی طرف بڑھ کر اس سے ملنے لگی جبکہ رملہ ابھی بھی مشی کی طرف فکر مندانہ انداز میں مشی کو دیکھ رہی تھی

***

اسموکنگ کرتا ہوا وہ مسلسل ایک گھنٹے سے اپنے کمرے کے چکر کاٹے جارہا تھا سوچوں کا محور صرف اور صرف اپنی بیوی کی ذات تھی آج صبح مشی کی طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ مشی کو اسپتال لے گیا تھا لیکن اس بات سے بالکل بےخبر تھا کہ وہاں رملہ سے مشی کا ٹکراؤ ہوجائے گا، اسے رملہ کے گلے لگ کر مشی کا بلکنا یاد آنے لگا جیسے وہ کسی اپنے کے کندھے کی منتظر تھی جو آج اسے مئیسر آیا تھا رملہ کی انکھوں میں مشی کے لیے تشویش دیکھ کر دلاور وہی پریشان ہوگیا تھا رملہ نے کتنی کوشش کی تھی کہ وہ کسی طرح مشی کو اپنے ساتھ گھر لے جائے تبھی دلاور نے شیردل کا ذکر کرکے اس کی کوشش کو ناکام کیا تھا کیوکہ اندر سے وہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ مشی اور رملہ دوبارہ آپس میں ملیں کیونکہ ایسا ہونے پر مشی اپنے ساتھ اس کے تعلق بھی رملہ سے ضرور شیئر کرتی اور کیونکہ رملہ ہی ان دونوں کے نکاح کروانے کی اہم کڑی تھی وہ مشی کی غلطی ہونے کے باوجود دلاور سے اس کا آسانی سے رشتہ ختم کروا سکتی تھی

مشی اس کے ساتھ بند کر نہیں رہنا چاہتی تھی رشتہ ختم کرنے کی بات وہ آج صبح خود دلاور سے کررہی تھی۔۔۔ اور ماہ پہلے اس نے فرار ہونے کی بھی کوشش کی تھی یہ سوچ کر دلاور کو افسوس ہونے لگا کہ مشی اس کے اپنے رشتے پر ناخوش تھی۔۔۔ اگر مشی ناخوش تھی تو وہ اپنے اور مشی کے تعلق کو لےکر اتنا حساس کیوں ہورہا تھا وجہ شاید اس کی اپنی بیوی سے محبت تھی۔۔۔

اسے محبت نہیں بولو دلاور یہ تمہاری خود غرضی ہے۔۔۔ دلاور کو کمرے سے اپنی ہی آواز سنائی دی وہ چاروں طرف کمرے میں نظر دوڑا کر دیکھنے لگا مگر وہاں کوئی موجود نہیں تھا

مجھے اپنے اندر تلاش کرو دلاور میں اس کمرے میں دکھائی نہیں دوگا۔۔۔۔ ایک مرتبہ پھر آواز گونجی

کیا چاہتے ہو تم۔۔۔ اب کی بار دلاور اس سے پوچھنے لگا

آج تمہیں تمہاری ہی حقیقت سے اگاہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اپنی محبت کا یوں گردان کر کے جس طرح کا سلوک تم نے اپنی بیوی سے رواں رکھا ہے وہ کبھی بھی تمہاری نہیں ہوسکے گی یا تو تم اسے مکمل طور پر دل سے اپنالو یا پھر اس کو ہمیشہ کے لیے آزاد کردو

اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو میں یہ دونوں کام نہیں کرسکتا۔۔۔دلاور غصے بھرے لہجے میں اسے بولا

اس طرح تم اپنی محبت کو اپنے ہی ہاتھوں ختم کررہے ہو دیکھنا اسے جب بھی موقع ملے گا وہ تمہاری قید سے آزاد ہوکر ہمیشہ کے لیے تمہیں چھوڑ کر چلی جائے گی۔۔۔ اب کی بار اس آواز پر دلاور کو شدید غصہ آیا

بکواس بند کرو اپنی چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔ دلاور غصے میں اسے بولا

کیا اسے مشی کی ساری خطاِئے معاف کرکے اسے ایک موقع دینا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنے اور اسکے تعلق کو بہتر بناسکے کیوکہ یہ تو تہہ تھا کہ وہ اسے اپنی زندگی سے نکال نہیں سکتا تھا اور اب مشی کو موقع مل گیا تھا کہ جب وہ آرام سے اس کی زندگی سے نکل جاتی

اپنے اندر کی بےبسی کو دبا کر اُس نے اشتعال میں کرسی پر لات ماری جو دور جاگری بےدلی سے انگلیوں میں دبی ہوئی سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتا ہوا وہ اضطراب کی کیفیت میں اپنی انگلیاں بالوں میں پھنسا کر بیڈ پر بیٹھ گیا اسے مشی پر بھروسہ کرنا تھا آگے کے لئے اپنے اور اس کے رشتے کو بہتر بنانے کے لیے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی کنپٹی کو دباتا ہوا وہ سوچنے لگا

دلاور کو یاد آیا مشی ہسپتال سے اُس کے ساتھ واپس آنے پر کافی ناخوش تھی اور اپنی نڈھال طبیعت کی وجہ سے سوچکی تھی، وہ مشی کو واپس گھر لانے کے بعد آفس نکلنے کی بجائے شیردل کو اپنے آفس نہ آنے کا انفارم کرکے اپنے کمرے میں موجود مسلسل اپنے اور مشی کے بارے میں سوچ رہا تھا اچانک اس کے موبائل پر رملہ کی کال آئی تھی باتوں ہی باتوں میں دلاور نے رملہ کو یہ جتا دیا تھا کہ وہ مشی کو کل واپس گاؤں چھوڑنے جارہا ہے لیکن رملہ چاہتی تھی کہ کل ان کے گھر ہونے والی دعوت پر دلاور مشی کو اپنے ہمراہ ضرور لے کر آئے اس نے دلاور کو اطمینان دلایا تھا کہ وہ شیردل کو خود مشی کے وہاں آنے پر راضی کرلے گی دلاور چاہنے کے باوجود نہ تو کوئی بہانہ بنا سکا نہ ہی رملہ کو انکار کرسکا تھا سوچو کے سلسلے کو ترک کر کے وہ کلائی پر باندھی ہوئی رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا وہ بیڈ سے اٹھ کر مشی کے کمرے کی طرف رخ کرنے لگا

اپنے چہرے پر انگلیوں کے لمس سے اس کی نیند ٹوٹی تھی آنکھیں کھولنے پر مشی نے اپنے اوپر جھکا دلاور کا چہرہ نظر آیا اتنے دنوں اپنے بیڈ روم میں دلاور کو موجود دیکھ کر مشی کو حیرت نے گھیرے میں لےلیا، دلاور مشی کو بیدار ہوتا دیکھ کر اسے اسمائل دیتا ہوا پیچھے ہوکر بیٹھا تو مشی بھی بیڈ پر بیٹھ گئی

“بخار تو تمہارا میڈیسن لینے کے تھوڑی دیر بعد ہی اتر گیا تھا اب کیسا محسوس کررہی ہو”

مشی کے بیٹھنے پر دلاور اپنی جگہ سے سرکتا ہوا مشی کے بالکل قریب بیٹھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں اس سے بولا مشی اس کا بدلا ہوا لب و لہجہ دیکھکر دوبارہ حیرت ذدہ نظروں سے دلاور کو دیکھنے لگی، جو اب مشی کو اپنی جانب حیرت سے دیکھتا پاکر مشی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا دوسرا ہاتھ مشی کے کندھے پر پھیلا کر دراز کرتا مشی کو اپنے حصار میں لے چکا تھا مشی اُس کے اِس انداز پر کنفیوز ہونے لگی

“کیا ہوا اتنی حیرت کس بات پہ ہورہی ہے تمہارا شوہر ہوں میں”

اپنی لہجے میں محبت سمائے وہ مشی کے چہرے کو قریب سے دیکھتا ہوا نرم لہجے میں بولا

“تمہیں آج ہمارے رشتے کا پتہ چلا ہے آج تمہیں یاد آیا ہے کہ تم میرے شوہر ہو”

مشی اس کے انداز سے متاثر ہوئے بغیر بولی ساتھ ہی اس نے دلاور کے ہاتھ میں موجود اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جو دلاور نے مشی کے چاہنے کے باوجود نہیں چھوڑا

“یہ دوری جس وجہ سے ہم دونوں کے درمیان آگئی ہے اُن تلخ دنوں کو اپنے ذہن سے نکال کر میری محبت کو یاد کرو”

وہ مشی کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا اسے پچھلا وقت یاد کروانے لگا جب منور نامی کانٹا ان دونوں کے درمیان حائل نہ تھا جن دنوں وہ شہر میں ہوتا اور مشی گاؤں میں اور وہ دیر تک موبائل پر ایک دوسرے سے اپنی باتیں کیا کرتے

“دلاور۔۔۔ اپنی بی بی کا دیوانہ”

دلاور اپنے ہونٹ مشی کے گال پر مس کرتا اُسکے کان میں سرگوشی کرتا بولا

“میں اب وہ دن یاد نہیں کرنا چاہتی کیوکہ میں نہیں بھول سکتی تمہارا مجھ سے سلوک جو تم نے تین ماہ پہلے میرے ساتھ کیا میں بےقصور تھی دلاور کسی اور کی سزا تم نے مجھ کو دی تھی”

بولتے ہوئے مشی کی انکھیں بھیگنے لگی تبھی اُس کی بات کاٹتا دلاور فوراً بولا

“تمہیں سزا دے کر میں خود کون سا سکون سے رہا ہوں اب تک، اذیت تو میرے حصے میں بھی آئی ہے اور میری اذیت تم سے کہیں زیادہ اس لیے ہے کیونکہ تم نے حالات کے مطابق مجھے اپنا شوہر قبول کیا تھا مگر تم میری محبت تھی اور محبت کی طرف سے ملی ہوئی اذیت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اِس وقت تم رو کر اپنی تکلیف بیان کرسکتی ہو مگر بنا روئے جو کچھ میں نے سہا ہے اُس تکلیف کا تم اندازہ نہیں لگا سکتی مشی”

دلاور اس کے سامنے اپنی دلی کیفیت بیان کرتا مشی کا ہاتھ چھوڑ کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا دوسرا ہاتھ اس کا ابھی بھی مشی کے کندھے پر دراز تھا

“تو آخر آج ایسا کیا معجزہ ہوا ہے جو تمہیں میری ذات کے قریب لے آیا ہے”

ابھی تک مشی کو دلاور یہ کا رویہ ہضم نہیں ہوا تھا کیا وہ اتنی آسانی سے ساری باتوں کو فراموش کرسکتا تھا یا پھر آج اسے زرش کی حقیقت کا علم ہوگیا تھا جو بھی وجہ تھی مشی کو سمجھ میں نہیں آئی

“جاننا چاہتی ہو کیا ہوا ہے تو سنو آج مجھے ایک بات معلوم ہوگئی ہے مشی میں اپنی محبت کے آگے بہت زیادہ بےبس ہوں اور خود کو بےپناہ مجبور محسوس کررہا ہوں، میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ تم مجھ سے دور چلی جاؤ میں آج اِس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ تم میری اولین خواہش ہو میری زندگی تمہارے بغیر بےمقصد ہے”

دلاور نے ایک جذب کے عالم میں بولتے ہوئے اپنا دوسرا بازو بھی مشی کے گرد حمائل کردیا ایسا کرنے سے مشی پوری طرح اس کے سینے میں چھپ چکی تھی اس عمل سے اُسے اپنے اندر تک اطمینان اترتا محسوس ہوا، وہ اطمینان جس کا وہ کتنے دنوں سے متلاشی تھا مشی کو لگا جیسے اُس کی سختیاں ختم ہوچکی تھی خدا کو اُس پر ترس آگیا تھا مشی دلاور کے سینے سے لگی سوچنے لگی

“دلاور میں سچ بول رہی ہوں میں منور کو نہیں۔۔۔

مشی نے اپنی طرف سے دلاور کا دل صاف کرنا چاہا تبھی دلاور نے اُس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اسے ٹوکا

“مشی پلیز میں اِس وقت ایسی کوئی بات نہیں سننا چاہتا جس کو سوچ کر مجھے تکلیف پہنچے اِس ٹاپک کو اب دوبارہ مت چھیڑنا۔۔۔ میں ہم دونوں کے درمیان کسی تیسرے کو برداشت نہیں کرسکتا”

وہ ابھی بھی دلاور کے حصار میں موجود تھی دلاور کا انداز ٹوکنے والا تھا اور لہجہ ایک دم سنجیدہ اُس کے تاثرات کیسے تھے مشی اس سے بالکل بےخبر تھی چند پل یونہی دلاور کے سینے سے لگے رہنے کے بعد مشی اس کے حصار سے نکلی تو دلاور نے اپنی بند انکھیں کھول کر اسے اپنے بازوں کے گھیرے سے آزادی بخشی

“تمہارے روم کی ٹیبل پر پچھلے کچھ دنوں سے بکس رکھی ہیں”

مشی جو پچھلے کچھ دنوں سے اس کے ٹیبل پر کورس کی بکس دیکھ رہی تھی یاد آنے پر ان بکس کے متعلق دلاور سے پوچھنے لگی

“ہاں سوچ رہا ہوں اپنی ایجوکیشن دوبارہ کنٹینیو کرو ہمارے اچھے فیوچر کے لیے ایسا ضروری ہے ساری عمر تو اپنے سالے کے پاس جاب نہیں کروں گا میں”

دلاور نے اپنی تعلیمی سلسلہ دوبارہ جاری کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ اسی سال ماسٹرز کے پیپرز دینے کا سوچے بیٹھا تھا مشی کے پوچھنے پر وہ اپنا ارادہ مشی کو بتانے لگا

“ہمارا اچھا فیوچر”

مشی نے آہستہ سے دلاور کا جملہ دہرایا تو دلاور مشی کو دیکھنے لگا وہ اسی کو دیکھ رہی تھی دلاور نے ایک مرتبہ دوبارہ میں مشی کو حصار میں لیتے ہوئے خود سے قریب کیا

“ہاں ہمارا اچھا فیوچر، میں تمہیں ہر آسائش اپنے بلبوتے پر دینا چاہتا ہوں اس کے لیے محنت تو کرنا پڑے گی پھر ظاہری سی بات ہے آگے ہم صرف دو تو نہیں رہے گے مجھے اپنے بچوں کی بھی ذمہ داری اچھے طریقے سے اٹھانی ہے تو اسی وجہ سے میں نے پہلے اپنی ایجوکیشن کمپلیٹ کرنے کا سوچا ہے”

وہ مشی کو اپنے حصار میں لیے اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا سب سوچا ہوا مشی کو بتانے لگا

“ہم دونوں کے بچے”

مشی کی سوئی بچوں پر جا اٹکی وہ ایسا بھی سوچتا تھا مشی حیرت زدہ سے دلاور کو دیکھنے لگی مشی کی بات پر دلاور کے لب ہلکے سے مسکرائے

“ہاں ہم دونوں کے بچے مجھے تم سے اپنے لیے ایک بیٹا اور ایک بیٹی چاہیے تم دو گی ناں مجھے”

اس نے مشی کی کمر پر حصار تھوڑا سخت کیا تھا جس کی وجہ سے دلاور کی سانسیں اب مشی کو اپنے چہرے پر محسوس ہوئی

“کب چاہیے تمہیں اپنے بچے”

مشی کو اس کی بات پر سمجھ نہیں آیا کیا بولے وہ تھوڑا پریشان ہوکر دلاور سے پوچھنے لگی دلاور کو اس کا جملہ سن کر اور چہرے کے پریشان تاثرات دیکھ کر ہنسی آنے لگی مگر وہ سنجیدگی اختیار کرتا ہوا بولا

“اتنا پریشان کیوں ہورہی ہو یار ابھی فوراً نہیں چاہیے پہلے میں پیپرز دے دو پھر بچوں کا پلان کرتے ہیں”

دلاور نے مشی سے بولتے ہوئے اس کے بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے کیا

“اور اگر تمہارے پیپرز کے بعد فوراً بعد تمہیں بچے نہیں دے پائی تو؟”

جب جب اس نے اپنے لیے اچھا سوچا اس کے ساتھ کہا اچھا ہوا تھا پہلے دانیال نے اس کے خوابوں کو توڑا پھر دلاور سے شادی کے بعد اس نے اپنی کی محبت کا یقین دلاکر اس کو کہی کا نہیں چھوڑا تھا اس لیے وہ ابھی بچوں والی بات پر الجھ چکی تھی

“تو کوئی مسئلہ نہیں ہم کوئی ایک مرتبہ ٹرائی تھوڑی کریں گے، بار بار کوشش کریں گے۔۔۔ کبھی تو کامیابی ملے گی”

دلاور کا انداز اس کے جملے کی طرح بالکل بھی شرارت سے بھرپور نہیں تھا وہ بھی مشی کو اس کی باتوں کا جواب بالکل سنجیدہ ہوکر دے رہا تھا مگر اب کی مرتبہ دلاور کی بات سن کر مشی کے گال شرم سے گلابی ہونے لگے جن کی رنگت دیکھ کر دلاور اب کی بار مسکراتا ہوا دھیرے سے مشی کے ہونٹوں پر جھکا بہت نرمی سے اس نے مشی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوما جس پر مشی ایک دم سٹپٹا کر اس کا حصار توڑتی ہوئی پیچھے ہوئی دلاور مسکرا کر بیڈ سے نیچے اترا

“میں ماما سے ملنا چاہتی ہوں دلاور آج اتنے مہینوں بعد ان کو اپنے سامنے دیکھ کر دل ہی نہیں بھرا، کیا وہ یہاں نہیں آسکتی ہمارے پاس”

اب کی بار مشی نم انکھوں سے دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی وہ جانتی تھی شیردل کی موجودگی میں اپنے گھر نہیں جاسکتی تھی مگر رملہ تو یہاں آسکتی تھی مشی کو معلوم نہیں تھا اگے سے دلاور اس کی بات پر کیا کہتا مشی کے لہجے میں بےبسی در آئی تھی مشی کی بات سن کر دلاور کے ہونٹوں کی مسکراہٹ چہرے سے غائب ہوئی

“تھوڑی دیر پہلے ان کی کال آئی تھی میرے پاس معلوم نہیں ان کا یہاں آنے کا ارادہ تھا یا نہیں میں نے انہیں بتایا کہ تم ریسٹ کررہی ہو تو اگے سے انہوں نے آنے کے لیے کچھ کہا نہیں”

دلاور اپنا لہجہ ہموار کرتا مشی سے بولا دلاور کی بات سن کر مشی کے چہرے کی جوت بجھ گئی جس کو دیکھ کر دلاور نے جھک کر مشی کو تھامتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کیا

“کل تمہارے گھر میں ڈنر ہے جس میں پہلے تو صرف میں شرکت کرتا لیکن آنٹی نے کال پر کہا ہے کہ کل تمہیں بھی اپنے ساتھ لے آؤ، وہ تمہارے بھائی کو منالیں گیں کسی بھی طرح۔۔۔ اس لیے اب اداس مت ہو کل میرے ساتھ چلنا ہے اپنے گھر تو اب اپنی طبیعت بالکل ٹھیک کرلو”

جیسے جیسے دلاور اس کو بتارہا تھا دلاور نے نوٹ کیا ویسے ہی مشی کے چہرے پر رونق در آئی تھی اور اخر میں دلاور کا جملہ سن کر تو وہ کھل کر مسکرادی تھی

“طبیعت تو اب میری بالکل ٹھیک ہے دلاور تم جان نہیں سکتے میں کتنی خوش ہوں کل میں اپنے گھر جاسکوں گی سب سے مل سکوں گی کتنا مس کیا ہے میں نے یہ سب کچھ” مشی خوش ہوتی دلاور سے بولی دلاور غور سے مشی کا چہرہ دیکھنے لگا وہ مسکراتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگی تبھی دلاور نے اس کی کلائی پکڑی

“وہاں جاکر مجھے مت بھول جانا اور یہ بھی یاد رکھنا تمہیں واپس میرے ساتھ اسی گھر میں آنا ہے”

بولتے ہوئے دلاور کا انداز مشی کو یاد کروانے والا تھا مشی کچھ بولے بنا دلاور کو دیکھنے لگی

“آؤ ڈنر کرلیتے ہیں”

دلاور مشی سے بولتا ہوا اس کے روم سے نکل گیا

رات سونے سے پہلے مشی نے جانے کیوں آج دلاور کا اپنے روم میں ویٹ کیا تھا کیونکہ اب ان کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہوچکا تھا مشی توقع کررہی تھی کہ وہ یہاں روم میں آکر سوئے گا کافی دیر دلاور کا ویٹ کرنے کے بعد مشی خود اس کی روم میں چلی آئی جہاں وہ کرسی پر بیٹھا ہوا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ساتھ ہی اسموکنگ کررہا تھا مشی کی آمد پر وہ چونک کر مشی کو دیکھنے لگا

“تم سو گے نہیں”

مشی کو سمجھ نہیں آیا دلاور سے کیا بولے اس لیے جو سمجھ میں آیا وہ پوچھ بیٹھی

“تم کیوں جاگ رہی ہو ابھی تک ریسٹ کرو ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی ہو تم”

دلاور مشی کو دیکھتا ہوا بولا کیا وہ اس کی آمد کی منتظر تھی کیا وہ اس کے لیے یہاں آئی تھی دلاور نے دل میں خود سے سوال کیا

“دلاور وہ مجھے تم سے کہنا تھا کہ کل گھر پر ڈنر کی وجہ سے یقیناً کافی گیسٹ موجود ہوگے میں پارلر بھی نہیں تھی کافی دنوں سے اسکن کافی رف ہورہی ہے اس لیے سوچ رہی ہوں کہ اگر کل پارلر۔۔۔ مشی ٹہر ٹہر کر بول رہی تھی تب دلاور اس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“اچھا تو یہ بات کہنے کے لیے آئی تھی یہاں، میرا مطلب ہے ٹھیک ہے کل افس جانے سے پہلے تمہیں پارلر چھوڑ دوں گا جب تم فری ہوجاؤ تو مجھے انفارم کردینا میں پک کرلوں گا” دلاور ایش ٹرے میں موجود ساری سیگریٹ کے ٹکڑوں کو ٹریش کرنے لگا کیوکہ ایش ٹرے ٹکڑوں سے اوپر تک بھر چکا تھا آج نارمل دنوں کی بانسبت وہ کافی زیادہ اسموکنگ کرچکا تھا مشی کو جواب دینے کے بعد اس نے دوبارہ مشی کو دیکھا جو ابھی بھی وہی کھڑی اُسی کو دیکھ رہی تھی

“پارلر جانے کا تو مجھے ویسے ہی خیال آگیا تھا تو تم سے بول دیا میں تو تم سے پوچھنے آئی تھی کہ تم سو گے نہیں”

مشی نے دوبارہ پچھلی بات دہرائی تو دلاور چلتا ہوا اس کے پاس آیا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر مشی کے چہرے کے نقش کو چھوتا ہوا وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا پھیرنے لگا مشی بالکل خاموش کھڑی دلاور کا چہرا دیکھتی اب اُس کی انگلیوں کی حرکت اپنی گردن پر محسوس کررہی تھی جب اُس کا ہاتھ مشی کے سینے سے ٹچ ہوا تو بےساختہ مشی نے اپنی انکھیں زور سے بند کرلی، دلاور کے ہاتھ سے ہوتی شرارت پر مشی کا دل سینے سے اچھل کر باہر آنے کو تیار تھا۔۔۔ حیا سے مشی کا رنگ سرخ پڑنے لگا دلاور مشی کا چہرہ دیکھتا ہوا ایک طرف کندھے پر پڑا اسکا دوپٹہ مشی کے سینے پر پھیلاتا ہوا بولا

“میں تھوڑی دیر اِن بکس کو دیکھوں گا تم جاکر ریسٹ کرو”

دلاور کے بولنے پر مشی انکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی دلاور بھی خاموش کھڑا مشی کو دیکھ رہا تھا اس کی بات پر مشی نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی تو دلاور دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا

***

“اب آخر پریشانی کس بات کی ہے، آپ کی بات کو اوپر رکھتے ہوئے اپنے اصولوں سے ہٹ کر اسے یہاں آنے کی اجازت دے تو دی ہے میں نے پھر کیوں اتنی ڈسٹرب ہیں آپ”

تھوڑی دیر پہلے ہی ہانیہ نے آکر شیردل کو رملہ کی طبیعت خرابی کا بتایا تھا تبھی وہ ہانیہ کے ساتھ رملہ کے کمرے میں آیا اور رملہ سے پوچھنے لگا آج صبح ہونے والا واقعہ پہلے اس کو دلاور سے پھر ہانیہ سے اور آخر میں رملہ سے سننے کو ملا تھا ساتھ میں ہی رملہ نے اس کو یہ بھی بولا تھا کہ وہ دلاور سے بول چکی ہے کل وہ اپنے ساتھ ڈنر پر مشی کو لائے رملہ کی بات پر وہ ضبط کرتا خاموش ہوچکا تھا

“تم نے اپنے اصولوں سے ہٹ کر اجازت نہیں دی میں نے یہاں اپنی بیٹی کو بلایا ہے شیر، تم تو اپنی بہن کی غلطی پر بالکل ہی اس کی ذات کو فراموش کر بیٹھے ہو”

رملہ شیردل کی اصلاح کرتی ہوئی بولی ساتھ ہی اس نے شیردل کو مشی کا احساس بھی کروانا چاہا

“پہلی بات تو میں آپ پر یہ واضح کردو کہ میری اجازت کے بغیر مشی اس گھر میں قدم نہیں رکھ سکتی اگر ابھی میں دلاور کو کال کر کے اتنا بول دوں کہ کل وہ یہاں مشی کے بغیر آئے گا تو کیا آپ کو لگتا ہے وہ میری بات سے انکار کرے گا اور رہی آپ کی دوسری بات کا جواب تو ایک بات آپ میری یاد رکھیے گا شیردل جس کو چاہتا ہے شدت سے چاہتا ہے لیکن بدلے میں وہ شخص اگر شیردل کا دل دکھائے تو شیردل اس انسان کو کبھی بھی معاف نہیں کرتا”

شیردل کی بات پر ہانیہ نے بہت غور سے شیردل کا چہرہ دیکھا جبکہ رملہ نے ایک دم رونا شروع کردیا جس پر ہانیہ آگے بڑھ کر رملہ کو خاموش کروانے لگی جبکہ شیردل وہاں کھڑا بےزار سا ہوا

“پلیز اپنا یہ رونے کا پروگرام بند کریں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر آپ کی بات کو ویلیو دی ہے میں نے”

شیردل کا انداز اگتایا ہوا تھا جس پر رملہ شیردل کو دیکھ کر بولی

“شیر مجھے اپنے اندر کہیں بہت ڈر سا محسوس ہورہا ہے معلوم نہیں مشی کا فیصلہ مجھ سے جلد بازی میں غلط تو نہیں ہوگیا مجھے معلوم نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے مشی دلاور کے ساتھ خوش نہیں ہے ہانیہ تم بتاؤ نا شیر کو، آج وہ کتنی کمزور لگ رہی تھی اس کے چہرہ پر بالکل رونق نہیں تھی وہ ایسی تو بالکل نہیں ہوا کرتی تھی۔۔ شیر تم دلاور سے بات کرو اگر وہ مشی کو خوش نہیں رکھ سکتا یا پھر مشی کے ساتھ اس کا کوئی مسئلہ ہے تو میری بیٹی مجھ پر بالکل بوجھ نہیں میں مشی کی کہیں اور اچھی جگہ شادی کروا دوں گی”

رملہ کی بات سن کر شیردل کو مزید غصہ آیا

“آپ کے نزدیک شادی کیا ہے ذرا آپ مجھ پر واضح کریں گیں یعنٰی اگر عورت کو اپنا شوہر پسند نہ ہو یا پھر عورت اس کے ساتھ خوش نہ رہے تو آپکے نظریہ کے مطابق عورت کو چاہیے فوراً اس آدمی کو لات مار کر نیا آدمی تلاش کرلے اپنے لیے، اپنے ماضی میں یہی کچھ آپ نے بھی کیا اور میری سگی ماں نے بھی یہی کام کیا۔۔۔ کیسا دل ہوتا ہے آپ عورتوں کا اور بدنام ہم مرد ہوتے ہیں”

شیردل جب بولنے پہ آیا تو ہانیہ نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا مگر وہ نظر انداز کرتا رملہ سے بولتا چلا گیا رملہ صدمے سے شیردل کو دیکھنے لگی

“دلاور بالکل صحیح چوائس ہے مشی کے لیے مشی نے جو بھی کچھ غلط کیا اسے صرف سدھرنے کی ضرورت ہے آپ کو چاہیے کہ آپ مشی کو سمجھائے الٹا آپ اس کا رشتہ ختم کروانے کی بات کررہی ہیں اگر دوسرے شوہر کے ساتھ بھی وہ خوش نہیں رہی تو پھر کتنی شادیاں کروائیں گی آپ مشی کی”

شیردل غصے میں رملہ سے پوچھنے لگا جس پر رملہ اب رونے لگی

“شیردل پلیز اب خاموش ہوجاؤ ان کا صبح بھی بی پی ہائی تھا”

ہانیہ نے ایک مرتبہ دوبارہ شیردل کو ٹوکا وہ ایک مرتبہ دوبارہ ہانیہ کی بات کو نظر انداز کرتا پھر سے رملہ سے بولا

“آپ نے اپنی بات منوا کر کل یہاں مشی کو بلوایا ہے میں نے آپ کی بات پر کوئی ری ایکٹ نہیں کیا لیکن اگلی مرتبہ ایسا نہیں ہونا چاہیے مشی دوبارہ اس گھر میں تب آئے گی جب میں چاہوں گا اور اب آپ مشی کو بار بار کال کرکے اُس کے گلے شکوے یا اُس کے رونے نہیں سنیں گی، دلاور اور وہ جیسے بھی زندگی گزار رہے ہیں اُن کو اپنا رشتہ خود سے ایڈجسٹ کرنے دیں”

شیردل رملہ سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا

“آپ بلاوجہ ٹینشن لےکر اپنی طبیعت کو ہلکان کررہی ہیں مشی کی طبیعت خراب تھی اس وجہ سے دلاور بھائی اس کو ہسپتال لےکر آئے تھے اور یہی وجہ ہوگی جو وہ آپ کو بجھی بجھی اور کمزور لگ رہی ہوگی۔۔۔وہ کل یہاں آئے گی نا تو آپ اس سے پوچھ لیے گا ابھی سے کیوں خود سے نیگٹو سوچ رہی ہیں اب آپ کو ریسٹ کرنا چاہیے”

ہانیہ اور رملہ سے بولتی ہوئی اس کے کمرے سے چلی گئی۔۔ مشی کس قدر خوش نصیب تھی وہ بچپن سے اپنی سگی ماں کے پیار کے لیے ترستی رہی اور اس کی سگی ماں اپنے دوسرے شوہر کی اولاد کے لیے تڑپ رہی تھی وہ بدلی سے سوچتی ہوئی اپنے کمرے میں شیردل کے پیچھے چلی آئی

“تم مشی کے ساتھ کافی سختی نہیں برت رہے”

ہانیہ کمرے میں آکر شیردل سے بولی تو وہ گہری سانس لیتا ہوا اسے دیکھنے لگا

“چاہنے والا اگر خود دل سے اترنے کی حماقت کرے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے”

ہانیہ کو شیردل کی بات سے اندازہ ہوا وہ اپنی بہن سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا لیکن اس کے غلط قدم اٹھانے پر شیردل کا دل اپنی بہن سے ابھی تک خفا تھا

“اگر اگے زندگی میں کبھی میں ایسی غلطی کر بیٹھوں جو تمہارے لیے برداشت کرنا تمہارے ظرف سے باہر ہوجائے تو کیا تم مجھ کو بھی اسی طرح سزا دو گے”

نہ جانے کیوں ہانیہ نے شیردل سے یہ سوال کیا جس پر شیردل نے چونک کر اسے دیکھا

“جتنا میں تمہیں ہرٹ کرچکا ہوں وہ بہت زیادہ تھا مجھے معلوم ہے تم مجھے کبھی بھی اس حد تک ہرٹ نہیں کرسکتی”

شیردل بولتا ہوا ہانیہ کو اپنے ساتھ بیڈ پر لے آیا اور اس کو لٹانے کے بعد کمفرٹر اس پر ڈالنے لگا ہانیہ شیردل کی بات پر خاموش ہوکر حسام کے متعلق سوچنے لگی اگر شیردل کو یہ معلوم ہوجاتا کہ اس کی بیوی کا حسام سے کانٹیکٹ ہے تو کیا وہ اس کو اس بات کے لیے معاف کرسکتا تھا ہانیہ نے سوچتے ہوئے برابر میں لیٹے شیردل کو دیکھا پھر اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی شیردل عادت کے مطابق اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اس کو سلانے کی کوشش کرنے لگا

***