468.5K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Justajoo Thi Khas (Episode 18)

Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel

“یہ کوئی وقت ہے تمہارے کال کرنے کا تمہیں اندازہ بھی ہے صرف تمہاری کال ریسیو کرنے کے لیے مجھے اس وقت روم سے نکل کر باہر آنا پڑا”

ہانیہ حسام کی کال ریسیو کرتی ہوئی غصے میں اس کو بولی اس وقت وہ نائٹی کے اوپر سلک کا گاؤن پہنی ہال میں چلی آئی تھی کیوکہ بیڈروم میں شیردل سو رہا تھا اور حسام سے موبائل پر بات کرنے کا رسک وہ شیردل کے سامنے نہیں لے سکتی تھی

“آج کل تم میری دن کے وقت کال ریسیو نہیں کررہی ہو تو پھر مجھے بتاؤ کہ میں تم سے کس وقت کانٹیکٹ کروں اور تم مجھ سے کب مل سکتی ہو”

حسام سنجیدہ لہجہ اپناتا ہوا اس سے بولا تو ہانیہ بھی سریس ہوکر بولی

“دیکھو حسام اس وقت جو میری کنڈیشن ہے تم اس سے بےخبر نہیں ہو اپنے بچے کو لےکر آج کل شیردل بہت زیادہ حساس ہورہا ہے وہ میرے جاگنے سونے سے لے کر کھانے پینے یہاں تک کہ آنے جانے پر ہر چیز پر نظر رکھا ہوا ہے ایسی صورتحال میں نہ ہی میں تم سے کانٹیکٹ کرسکتی ہوں اور نہ ہی مل سکتی ہوں”

ہانیہ صاف طور پر انکار کرتی حسام سے بولی تو حسام غصے میں دانت پیس کر بولا

“کہیں اپنے شوہر کی کیئرنگ نیچر دیکھ کر تم نے اپنا مائنڈ تو نہیں بدل دیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ تم اب میرے پاس واپس نہیں آنا چاہتی”

حسام غصے میں پھنکارتا ہوا بولا تو اس کے لہجے کی کھولن محسوس کر کے ہانیہ کو ہنسی آگئی

“کہیں تم خود کو وہ تو نہیں محسوس کررہے جو نہ گھر کا رہتا ہے اور نہ گھاٹ کا”

ہانیہ مذاق اڑانے والے انداز میں بولی اور ساتھ ہی ہنسنے لگی تو حسام کو اس پر غصہ آنے لگا۔۔۔ اپنا سب کچھ ہانیہ کے نام کرنے اور مہرین کو طلاق دے کر کہیں وہ جذبات میں کوئی بےوقوفی تو نہیں کر بیٹھا تھا حسام دل ہی دل میں سوچنے لگا

“کیا ہوگیا حسام تم شاید میرے مذاق کا برا مان گئے ہو دیکھو اب تمہیں تھوڑا انتظار تو کرنا پڑے گا کیونکہ جب تک شیردل کو اس کا بچہ نہ مل جائے میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھا سکتی”

ہانیہ جانتی تھی پل پل کے انتظار کے بعد حسام کی بےچینی اذیت میں مبتلا ہوجائے گی وہ حسام کو پیسے، بیوی، گھر، پراپرٹی اور خود سے ہاتھ دھوتا دیکھنا چاہتی تھی جبھی اس کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑتی

“لیکن کل تم میرے گھر پر مجھ سے ملنے کے لیے آرہی ہو ہانیہ کیونکہ مجھے تم سے ضروری بات کرنا ہے”

حسام کسی خدشے کے تحت ہانیہ سے بولا

“نہیں حسام میں کل تم سے ملنے نہیں آسکتی کیونکہ میں اور شیردل کہیں پر انوائٹڈ ہیں”

اس نے حسام کے پروگرام کو فوراً انکار کردیا جو کہ حسام کو بہت برا لگا

“اگر تم کل میرے گھر نہیں آرہی ہو تو میں تمہارے گھر آرہا ہوں وہ بھی اُس وقت جب تمہارا شوہر گھر پر موجود ہوگا کہو پھر یہ ٹھیک ہے”

حسام کمینگی کرتا بلیک میلنگ پر اتر آیا جس پر ہانیہ ناگواری سے بولی

“او تو اب تم مجھے بلیک میل کررہے ہو”

ہانیہ کا لہجہ سنجیدہ تھا

“میں تمہیں بلیک میل کیوں کرو گا ہانیہ ڈیئر مجھے معلوم ہے تم کل مجھ سے ملنے میرے گھر پر آرہی ہو کیوکہ اگر میں کل شیردل کی موجودگی میں تم سے ملنے آگیا تو پھر زیادہ پرابلم مجھے نہیں بلکہ تمہیں ہوگی۔۔۔ اس لیے تم کل میرے گھر پر آرہی ہو”

اپنے اخری جملے پر حسام زور دیتا ہوا بولا

“میں کل شام کو آرہی ہوں لیکن اب تم مجھے دوبارہ کال نہیں کرو گے سنا تم نے”

ہانیہ بولتی ہوئی کال رکھ چکی تھی وہ صوفے سے اٹھ کر کمرے میں جانے لگی مگر وہاں کھڑی رملہ کو دیکھ کر بری طرح چونک گئی

“کس سے بات کررہی تھی اتنی رات کو”

رملہ جو کہ قیوم کو تھوڑی دیر پہلے مشی کی بتائی گئی جگہ پر روانہ کرچکی تھی اِس وقت تشویش کے عالم میں ہانیہ کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“کالج کی پرانی دوست تھی”

ہانیہ رملہ کو جواب دیتی ہوئی اپنے کمرے میں جانے لگی

“اتنی رات کو” رملہ کے اگلے سوال پر ہانیہ کے قدم رکے وہ پلٹی

“اُس کی طرف دن ہورہا ہے وہ کنیڈا میں ہوتی ہے”

ہانیہ رملہ کی انکھوں میں دیکھتی ہوئی کانفیڈنس سے بولی

“دوست لڑکی ہے یا لڑکا”

رملہ چلتی ہوئی ہانیہ کے پاس آکر تصدیق کرنے لگی کیونکہ وہ ہانیہ کی کال رکھنے سے پہلے اُس کا آخری جملہ سن چکی تھی یقیناً وہ کسی لڑکے سے موبائل پر بات کررہی تھی

“مطلب کیا ہے آپ کی اِس بات کا”

ہانیہ کے ماتھے پر بل واضح دیکھ کر رملہ دوبارہ بولی

“میں تمہاری ماں ہوں ہانی اِس لیے تم سے پوچھ رہی ہوں”

رملہ نے اُس کو سمجھانا چاہا تبھی ہانیہ نے ہاتھ اٹھاکر اُسے آگے بولنے سے روکا

“اپنا جملہ درست کریں آپ میری نہیں مشی کی ماں ہیں مجھے صرف پیدا کیا ہے آپ نے”

نہ چاہتے ہوئے وہ طنز کر بیٹھی جس پر رملہ کے چہرے کا رنگ ایک دم تبدیل ہوا۔۔۔ رملہ کا چہرا دیکھ کر ایک پل کے لیے اسے احساس ہوا کیوکہ نہ تو اُسے رملہ سے شکوہ تھا نہ ہی مشی سے کسی قسم کی جیلسی صرف ایک احساس محرومی تھا جس کی وہ بچپن سے عادی تھی

“میں صرف تم سے اتنا بولنا چاہتی ہوں شیر کو اگر کچھ تمہارے بارے میں ایسا معلوم ہوگیا جس کی وجہ سے وہ ہرٹ ہوا۔۔۔

رملہ کے بولنے پر اُس نے ایک مرتبہ دوبارہ رملہ کو ٹوکا

“آپ کا شیر مجھ پر آنکھ بند کرکے یقین کرتا ہے اگر ابھی جاکر میں اُس کو اتنا بول دو یہ رات نہیں دن ہے تو وہ میری بات پوری کرنے کے لیے یہاں دو منٹ کے اندر نوکروں کی فوج لگا کر پورے گھر میں اور گھر سے باہر روشناں اور اجالے بکھیر دے گا میرے لیے”

ہانیہ ابرو اچکا کر مغرور ہوتی بولی وہ مغررو کیوں نہ ہوتی شیردل اُس پر جان چھڑکتا تھا رملہ ہانیہ کی بات سن کر مسکرا دی اچھا ہی تھا اس کی بیٹی کو محبت لٹانے والا شوہر نصیب ہوا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہانیہ بچپن سے ہی کافی محرومیوں کا شکار رہی تھی

“ویسے ماما آپ جو نصیحتیں مجھے کررہی ہیں اگر میری جگہ مشی کو کی ہوتی تو وہ بیچاری اس حال میں نہ ہوتی”

ہانیہ کی اگلی بات پر رملہ کا رنگ ایک دم فق ہوا کیا وہ تھوڑی دیر پہلے ہوئی اس کی اور مشی کی باتیں سن چکی تھی یا پھر ویسے ہی بول رہی تھی رملہ کو گھبراہٹ ہونے لگی

“گھبرائے مت ماما شیردل محبت کرنے والا شوہر ہے پر میں اُسے اتنی اہمیت نہیں دیتی کہ آپ کی پلاننگ کا اُس کے سامنے ذکر کرو ریلیکس ہوجائیں”

ہانیہ نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ رملہ کو بولی جو ابھی تک شاکڈ کی کیفیت میں کھڑی ہانیہ کو دیکھ رہی تھی مگر شیردل کی آمد پر وہ دونوں چونکی اور پلٹ کر اُسے دیکھنے لگیں

“کیا کچھ خاص بات ہوئی ہے یہاں کیوں کھڑی ہیں آپ دونوں اِس وقت”

وہ یقیناً ہانیہ کو بیڈ پر موجود نہ پاکر اُس کی تلاش میں ہال میں چلا آیا تھا جبھی اس کی آنکھوں میں ابھی تک نیند کی خماری موجود تھی

“کچھ خاص نہیں میں تو پانی پینے آئی تھی البتہ ماما ابھی تک جاگ رہی ہیں شاید بہتر فیل نہیں کررہی ہوگیں کیوں ماما”

ہانیہ نے شیردل کو بتاتے ہوئے رملہ کو بھی مخاطب کیا

“ہاں میں تو صبح سے ہی اچھا فیل نہیں کررہی ہوں شیر کو معلوم ہے میری طبعیت کا جبھی یہ مجھے دلاور کی بہن کی فوتگی میں بھی نہیں لےکر گیا”

رملہ اب خود کو نارمل کرتی مسکرا کر بولی مگر شکر ہی تھا کہ شیردل مکمل طور پر ہانیہ کی طرف متوجہ تھا اس کی اڑی ہوئی رنگت شیردل کی نظروں میں نہیں آئی تھی

“پیاس لگی تھی تو مجھے جگادیتی خود اٹھ کر کچن تک آنے کی کیا ضرورت تھی”

وہ ہانیہ کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتا فکر مند لہجے میں بولا

“تم بھی تو آج سارا دن لمبے سفر میں رہے ہو اچھے خاصے تھکے ہوئے سو رہے تھے اِس لیے تمہیں جگانا اچھا نہیں لگا مجھے”

ہانیہ مسکرا کر اُس کی بات پر جواب دینے لگی جس پر وہ فدا ہونے والے انداز پر اُسے دیکھنے لگا اور ہانیہ کے ہاتھوں کو تھام لیا

“ہاتھ دیکھو اپنے کتنے ٹھنڈے ہوچکے ہیں میں نے تمہیں کہا بھی ہے کہ ان دنوں تمہیں اپنی تھوڑی کیئر کرنا پڑے گی اگر ٹھنڈ لگ گئی تو”

شیردل اُس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں چھپاتا ہوا ہانیہ کو کسی چھوٹے بچے کی طرح ٹریٹ کرنے لگا جس پر ہانیہ مسکراتی ہوئی رملہ کو دیکھنے لگی جیسے اُسے شیردل کا رویہ جتانا چاہ رہی ہو۔۔۔ ہانیہ کے رملہ کو دیکھنے پر شیردل اب رملہ کی طرف متوجہ ہوا

“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو یہاں کیا کررہی ہیں اپنے روم میں جاکر ریسٹ کریں آپ بھی”

وہ ہانیہ کے شانے پر اپنا بازو پھیلا کر رملہ سے مخاطب ہوا

“ہاں میں بھی جارہی ہوں تم ہانی کو لےکر جاؤ روم میں”

رملہ کے مسکرا کر بولنے پر شیردل ہانیہ کو اپنی ہمراہ بیڈ روم میں لے جانے لگا

“اگر چلا نہیں جارہا تو بولو تمہیں اپنی بےبی سمیت اٹھالوں”

شیردل شرارتی انداز میں جھک کر ہانیہ کے کان میں آفر کرتا بولا جس پر ہانیہ نے آنکھیں دکھا کر اس کے گال پر چپت رسید کردی وہ دونوں اپنے بیڈ روم میں جاچکے تھے

“یا میرے اللہ یہ دونوں لڑکیاں نہ جانے اپنے ساتھ کیا کررہی ہیں ان کو عقل دے”

رملہ ہانیہ اور مشی دونوں کے لیے فکر مند ہوتی اُن دونوں کے لیے دعا کرنے لگی

***

دوسری مرتبہ بھی آنکھ کھلنے پر جب اُس نے واش روم کی لائٹ جلی دیکھی اور مشی ابھی بھی بستر پر موجود نہ تھی تو دلاور نے دیوار پر موجود گھڑی میں ٹائم دیکھا اِس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے جب دو گھنٹے پہلے بھی اُس کی انکھ کھلی تھی واش روم کی لائٹ تب بھی آن تھی اور مشی بستر پر موجود نہیں تھی وہ بیڈ سے اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھا

“مشی” واش روم کا دروازہ کھولنے کے ساتھ ہی اس نے مشی کو پکارا مگر وہ واش روم میں نہیں تھی اِس سے پہلے وہ بیڈ روم سے باہر نکلتا بیڈ پر موجود اپنا والٹ دیکھ کر ایک دم رک گیا بےساختہ اس کی نظر اپنے موبائل پر گئی مگر اُس کا موبائل جگہ پر موجود نہیں تھا بیڈروم کا دروازہ کھول کر وہ تیزی سے باہر نکلا مگر اب کی بار اُس نے مشی کو پکارا نہیں تھا کیونکہ گھر میں تھوڑے بہت رشتے دار ابھی بھی موجود تھے جو اِس وقت اس کے گھر والوں سمیت سوئے ہوئے تھے باہر کا دروازہ کھلا ہے دیکھ کر دلاور کا شک یقین میں بدل چکا تھا مشی نے جو بولا تھا وہ کر دکھایا تھا یعنی وہ اُس کو چھوڑ کر جاچکی تھی

“دلاور اتنی صبح کیوں اٹھ گئے ہو اور یہ تمہارا موبائل کچن میں کیا کررہا ہے”

ہما اپنے چھوٹے بیٹے کا فیڈر ہاتھ میں پکڑے کمرے سے نکلی اور کچن میں جانے کی بجائے صحن میں دروازے کے پاس کھڑے دلاور کے پاس آکر پوچھنے لگی مگر دلاور نے کوئی جواب نہ دیا وہ ابھی بھی خاموش دروازے پر نظریں جمائے کھڑا تھا

“دلاور میں تم سے بول رہی ہوں کیا ہوا۔۔۔ کیا مشی بھی اُٹھ گئی ہے کہاں ہے وہ”

ہما اب دلاور کے بازو پر ہاتھ رکھتی اُس سے پوچھنے لگی

“چلی گئی آپا۔۔۔ وہ چلی گئی ہے”

اپنے بازو پر رکھا ہما کا ہاتھ دیکھ کر دلاور ہما کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا صدمہ کے مارے اُس کی آواز بامشکل ہی حلق سے نکل پائی تھی

“چلی گئی ہے مگر کہاں چلی گئی ہے اتنی صبح سویرے”

ہما دلاور کی بات سن کر حیرت سے دلاور کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی ہما کی حیرت زدہ چہرے پر دلاور کو اپنے بولے ہوئے جملے کا احساس ہوا تبھی وہ اب کی بار سنبھل کر بولا

“کل رات مجھے بول رہی تھی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو میں نے خود بول دیا تھا اپنے بھائی کے پاس چلی جاؤ ابھی تھوڑی دیر پہلے اُس کے گھر سے ڈرائیور آیا تھا وہ اُسی کے ساتھ چلی گئی”

دلاور کو ہما کے سامنے بات بنانا پڑی مگر مشی کا رویہ اُس کا دل بری طرح دکھا گیا تھا

“اچھا تو ایسے بولو ناں کہ اپنے میکے گئی ہے اتنا پریشان کیوں ہورہے ہو پھر۔۔۔ اور طبیعت تو اُس کی خراب ہونی تھی کل سارا دن کسی نہ کسی کام میں وہی لگی رہی تھی اوپر سے پیروں میں بھی اُس کے چھالے پڑے ہوئے تھے اچھا ہے اپنے میکے میں تھوڑا آرام مل جائے گا۔۔۔ چلو آؤ تینوں بچے اٹھ گئے ہیں ان کے ساتھ تمہیں بھی ناشتہ بنادیتی ہوں، شام میں قران خوانی بھی ہے”

ہما دلاور کو بولتی ہوئی کچن میں چلی آئی جبکہ دلاور آنکھوں میں نمی کو صاف کرتا باہر کا دروازہ بند کرنے لگا کل اس کی انکھوں میں آنسو اُس کی بہن کی جدائی کے تھے اور آج اُس کا دل اپنی بیوی کے لیے رو رہا تھا

“ماموں آپ کا موبائل۔۔۔ میں گیم کھیل لوں اِس میں”

دلاور کو اپنی بھانجی کی آواز سنائی دی جو اُس کا موبائل اس کی جانب بڑھاتی ہوئی دلاور سے پوچھ رہی تھی

“کھیل لو۔۔۔ نہیں ایک منٹ کے لیے مجھے دو”

دلاور نے کچھ سوچ کر اپنی بھانجی سے موبائل لیا اور اپنے موبائل سے ملائی جانے والی آخری کال دیکھنے لگا۔۔۔ جو مشی نے لازمی کسی کو ملائی ہوگی تبھی اُس کا موبائل کمرے میں نہیں کچن میں موجود تھا مگر وہ بات کرنے کے بات نمبر ڈیلیٹ کرچکی تھی یعنٰی اپنی طرف سے وہ سارے ثبوت مٹاکر یہاں سے نکلی تھی دلاور اس کی ہوشیاری پر ہلکا سا ہنسا پھر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا

“ہاں شبیب دلاور بات کررہا ہوں۔۔۔ نہیں بھولا ولا نہیں ہوں میں بس اپنے کاموں میں مصروف تھا، تم سے ایک چھوٹا سا کام پڑ گیا تھا میرے موبائل سے آخری کال کس نمبر پر کی گئی ہے یہ تم مجھے کتنی دیر میں بتارہے ہو۔۔۔ اوکے پھر میں پندرہ منٹ بعد دوبارہ کال کرتا ہوں تمہیں”

دلاور اُس کو بول کر کال رکھ چکا تھا اسے پورا یقین تھا کہ مشی نے اُس کے موبائل پر رملہ سے ہی کانٹیکٹ کیا ہوگا اِس کے باوجود وہ شبیب سے کنفرم ہونے کے بعد ہی شیردل کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا

“ماموں پلیز کھیلنے دیں ناں ایک گیم”

اپنی بھانجی کی آواز پر وہ سوچوں سے باہر نکلا

“کھیل لو” اپنی بھانجی کو اپنا موبائل تھماتا ہوا بولا وہ دلاور سے اُس کا موبائل لے کر صحن میں موجود تخت پر بیٹھ گئی

“اور تم بھی کھیل لو میرے ساتھ”

وہ اپنی سوچوں میں مشی کو مخاطب کرتا ہوا بولا پھر وہاں سے اپنے کمرے میں جانے لگا تبھی ہما کی پکار پر کچن میں چلا آیا

“جی آپا کوئی بات ہے” دلاور کچن میں آکر ہما سے پوچھنے لگا

“بات تو تم بتاؤ مجھے، مشی کی سچ میں طبیعت خراب تھی یا پھر وہ ناراض ہوکر گئی ہے تم سے”

ہما پراٹھے کے لیے پیڑے بناتی ہوئی دلاور سے پوچھنے لگی جس پر دلاور صرف ایک پل کے لیے چونکا مگر دوسرے ہی پل اُس نے اپنے چہرے کے تاثرات بدل لیے

“ایسا تو کچھ نہیں ہے کیوں آپ سے کچھ کہا اُس نے”

دلاور عام سے لہجے میں اور لاپرواہ انداز میں ہما سے پوچھتا ہوا چنگیر سے اپنا لیے پراٹھا نکال کر ایک کپ میں چائے نکالنے لگا

“ایسے ہی مجھے محسوس ہوا جیسے نوشین اور تمہارے متعلق جو افواہ خاندان میں پھیلی ہوئی ہیں اُن کے متعلق اُسے معلوم ہوگیا ہے”

ہما سالن کی پلیٹ دلاور کے سامنے رکھتی ہوئی اپنے اندازے سے بولی

“بےوقوف ہے” دلاور ہما کی بات سن کر اپنا سر جھٹکتا ہوا ہلکے سے بڑبڑایا ساتھ ہی ناشتہ کرنے لگا کل سارا دن بھوکا رہ کر اِس وقت اُسے کھانے کی طلب ہورہی تھی

“کون۔۔۔ کس کو بےوقوف بول رہے ہو”

ہما دوسرا پراٹھا توے سے اُتارتی ہوئی دلاور کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“اپنی بیوی کو اور کس کو”

دلاور ناراض لہجے میں بولتا ہوا چائے کے گھونٹ اپنے اندر اتارنے لگا وہ جانتا تھا مشی بچہ نہیں چاہتی تھی اور نوشین والی بات وہ ایک مرتبہ نہیں دس مرتبہ اُس کو بتاچکا تھا کہ وہ نوشین سے شادی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اِس کے باوجود اگر وہ کسی دوسرے کی بات سن کر اُسے چھوڑ کر گئی تھی تو وہ بےوقوف ہی تھی

“تو پھر کب لارہے ہیں اُسے واپس”

ناشتے کی ٹرے اپنی بیٹی کو تھماتی ہوئی ہما دلاور سے پوچھنے لگی۔۔ کچھ کچھ معاملہ اسے سمجھ آرہا تھا مگر اُس نے دلاور سے کریدا نہیں

“دو تین دن اپنے بھائی کے پاس رہ لے پھر واپس لے آؤ گا”

دلاور نے ہما کی طرف دیکھے بغیر ہی بےدلی سے بولا اور اپنے موبائل پر شبیب کا آیا ہوا میسج دیکھنے لگا۔۔۔موبائل تھوڑی دیر پہلے اُس کی بھانجی اُسے دے کر گئی تھی اور اُس کا شک بالکل ٹھیک تھا یہ نمبر رملہ کا تھا جس پر مشی نے اُس کے سونے کے بعد کال کی تھی

“دلاور تم جاگ گئے اچھا سنو اپنے کپڑے دے دو میں استری کردیتی ہوں کل سے انہی کپڑوں میں موجود ہو ویسے بھی شام میں قران خوانی ہے”

نوشین کچن میں آتی ہوئی دلاور سے بولی دلاور سے پہلے ہما ناگواری سے اُس کو دیکھتی ہوئی بولی

“تم کل رات واپس اپنے گھر نہیں گئی چچا سائیں کتنے بیمار تھے تمہیں دلاور سے پہلے اُن کی فکر پہلے ہونی چاہیے کزن کے مقابلے میں باپ زیادہ اہم ہوتا ہے اِس کی فکر کرنا چھوڑ دو اِس کی فکر کرنے والی اِس کی بیوی موجود ہے اپنے باپ کو پہلے دیکھو”

ہما کے سخت لہجے میں بولنے پر نوشین منہ بناتی ہوئی کچن سے چلی گئی دلاور خاموش بیٹھا ہے چائے پینے لگا

***

“مشی” وہ اپنی انکھیں بند کیے صوفے پر بیٹھی تھی تب اچانک اسے دلاور کی آواز سنائی دی بےاختیار مشی نے انکھیں کھولی

“دلاور” کمرے کے چاروں اطراف نظریں دوڑاتی اُس کی نگاہیں دلاور کو تلاش کرنے لگیں اِس وقت وہ رملہ کے فلیٹ میں اکیلی موجود تھی فلحال رملہ نے اُسے یہی رہنے کا مشورہ دیا تھا دلاور کے گھر سے نکلنے اور یہاں تک پہنچنے میں اس کو اپنی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے تھا نہ صرف وہ دلاور کی قید سے آزاد ہوچکی تھی بلکہ کسی مسئلے کے بغیر ایک محفوظ مقام پر پہنچ چکی تھی مگر یہاں آکر وہ اندر سے بالکل خوش نہیں تھی ایک عجیب سی بےچینی تھی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی

“تم کہاں جارہی ہو یہی میرے پاس رہو مجھے تمہاری ضرورت ہے”

دلاور کی آواز ایک مرتبہ پھر اُس کے کان میں گونجی ایک مرتبہ پھر مشی کا دل بےچین ہوا اپنے سر کو جھٹک کر اُس نے اپنے خیالات کو بھی جھٹکنا چاہا سامنے پلیٹ میں رکھا ہوا براؤنی اٹھاکر اُس نے براؤنی کا ایک بائٹ لیا

“یہ لو کھانا کھالو یہ زرش کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نہیں ہے بلکہ میں تمہارے لیے باہر سے لایا ہوں”

ایک مرتبہ پھر دلاور کی آواز اُس کے کان میں گونجی تو براؤنی کا ٹکڑا حلق میں پھنسنے لگا۔۔۔ بددل ہوکر براؤنی کا پیس پلیٹ میں واپس رکھتی ہوئی اُس کی نظریں اپنے خالی پاؤں پر پڑی ایک مرتبہ پھر دلاور کی آواز مشی کو سنائی دی

“تم نے بالکل ہی چھوڑ دیا پیروں میں پازیب ڈالنا۔۔۔ مگر یہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں تمہارے پیروں میں”

نہ چاہتے ہوئے بھی مشی کی انکھوں میں لبالب آنسو بھرنے لگے

“یہاں میری طرف تو دیکھو تم مجھے دیکھ کیوں نہیں رہی اتنی دیر سے”

شرارت اور شوخیوں سے بھرپور فقرہ یاد کرکے وہ صوفے سے اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔۔۔ دلاور کی باتیں یاد کرکے اُس کی بےچینی مزید بڑھنے لگی تھی اُس کو کل سے اب تک صرف وہی باتیں دلاور کی آواز کی صورت یاد آرہی تھی جن کو اچھی یادوں میں شمار کیا جاسکتا ہے ساری کڑوی کسیلی اور تلخ باتیں تو دل اور ذہن جیسے فراموش ہی کر بیٹھا تھا

“تمہارے پاس آنے کے لیے مجھے کسی بہانے کی ضرورت نہیں میں جب چاہے آسکتا ہوں شوہر ہوں تمہارا”

“ہاں ہمارے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔۔۔ دو گی ناں مجھے”

نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباتی آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں پھر بھی گال پر آگرا

“منع کیا ہے یہ گندے ٹشو یہاں نہیں پھینکو”

اپنے آنسو ٹشو سے صاف کرتی دلاور کی آواز پر اُس کا دل مزید رونے کو چاہا

“کس نے کہا پیار نہیں کرتا میرے دل میں جھانک کر دیکھو میرا دل ابھی بھی دیوانہ ہے اپنی بی بی کا”

لفظ “بی بی” اس کی زبان سے کس قدر میٹھا لگتا تھا

“بی بی”

اپنی پشت سے آتی مردانہ آواز پر مشی ایک دم چونک کر پلٹی تو قریب کھڑے قیوم (راشدہ کے بھائی) کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے ساتھ ہی وہ دو قدم دور بھی ہوئی قیوم کل وہی اُس کو یہاں رملہ کے فلیٹ میں چھوڑ کر گیا تھا ڈرائیونگ کے دوران مسلسل وہ اُس کو بیک ویو مرر سے ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ مشی کو مسلسل اُس کی نظروں سے اسے کوفت ہورہی تھی مگر وہ ضبط کیے بیٹھی رہی تھی

“اندر کیسے آئے تم”

چہرے پر ناگواری چھپائے بغیر مشی ڈپٹتی ہوئی قیوم سے پوچھنے لگی جو ابھی بھی ٹکٹکی باندھ کر اُس کو گھورے جارہا تھا۔۔۔ وہ دلاور نہیں تھا جو اپنی بی بی کو دیکھ کر نظر جھکالیتا مشی کو اُس کی نظروں سے الجھن ہونے لگی

“آپ بڑی نادان ہیں بی بی باہر دروازے کو لاک کرنا بھول گئی تھی ایسی نادانیاں اکثر بڑے نقصان کا سبب بنتی ہیں۔۔۔ یہاں اکیلی بھی رہ رہی ہیں، اوپر سے آپ خوبصورت ہیں، جوان بھی، آپ کو تو بہت زیادہ محتاط ہوکر رہنا پڑے گا۔۔۔ کوئی بھی آکر اگر آپ کی خوبصورتی کا اور اکیلے پن کا فائدہ اٹھالے تو اکیلی جان کیا کرسکیں گیں آپ۔۔۔ مالک کو تو علم بھی نہیں ہے آپ کے بارے میں نہ ہی دلاور بھائی کچھ جانتے ہیں سوچیں ذرا غور سے کوئی بےوقوف ہی یہ موقع ہاتھ سے جانے دے گا”

قیوم جس طرح اُس سے بات کررہا تھا مشی کا دل کیا وہ اُس کے قریب جاکر زور کا تپھڑ اُس کے منہ پر جڑ دے

“قیوم سب سے پہلی بات تو یہ کہ تم مجھے بی بی بولنا بند کرو کیوکہ یہ لفظ مجھے تمہاری زبان سے بہت زہر لگ رہا ہے اور دوسری بات یہ کہ مجھے سبق دینے کی ضرورت نہیں ہے میں اپنی حفاظت کرنا اچھے طریقے سے جانتی ہوں اور مجھ پر بری نظر ڈالنے والی کہ میں انکھیں بھی نوچ سکتی ہوں اور تیسری سب سے آخری بات اپنی اِن فضول سی نظروں کو قابو میں کرکے رکھو”

آخری بات مشی نے ذرا سختی سے اور آنکھیں دکھا کر قیوم کو بولی تو وہ بالکل سیدھا ہوگیا

“آپ تو برا مان گئی جی میں تو بس آپ ہی کے بھلے کے لیے بول رہا تھا۔۔۔ ماحول کافی خراب چل رہا ہے ناں جی اِس لیے”

اب کی بار بولتے ہوئے قیوم نے اپنی انکھوں کو اور زبان کو قابو میں رکھا تھا مشی ناگوار نظر اُس پر ڈال کر روم میں چلی آئی جہاں سوٹ کیس موجود تھا یہ اُس کا سامان تھا جو رملہ نے اُس کے لیے قیوم کے ہاتھ بھجوایا تھا

“ماما کہاں ہیں وہ خود کیوں نہیں آئیں” سنجیدہ لہجے میں اُس نے اپنے سامنے کھڑے قیوم سے سوال کیا اور اپنا دوپٹہ صحیح سے پھیلا کر اوڑھا کیونکہ سامنے کھڑا آدمی دلاور جیسی غیرت نہیں رکھتا تھا اُف دلاور۔۔ آخر یہ آدمی یاد آنا کب بند کرے گا

“وہ کہہ رہی تھی جی کہ آج مالک (شیردل) گھر پر ہی موجود ہیں رات میں آپ کے پاس چکر لگائیں گی”

قیوم محتاط لہجہ بناکر صوفے پر بیٹھی مشی کو رملہ کا پیغام دینے لگا قیوم کی بےتکلفی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ شیردل کی بہن اپنے بھائی اور شوہر سے یہاں چھپ کر رہ رہی تھی ورنہ اِس سے پہلے اُس نے کبھی مشی کے ساتھ ایسی گستاخی کرنے کی جرات نہیں کی تھی مشی اُس کی بات سن کر ابھی کچھ نہیں بولی تھی کہ قیوم دوبارہ بول پڑا

“وہ جی اگر آپ برا نہ مانے تو ایک بات بولوں چھوٹا منہ اور بڑی بات مجھے ناں آپ پر بڑا ترس آرہا ہے۔۔۔ مالک نے آپ کے ساتھ بڑی ہی ناانصافی کی جو آپ کو دلاور بھائی کے ساتھ زبردستی بیاہ دیا، دیکھیں جی انہوں نے بھی اتنی خوبصورت بیوی کی قدر نہ کی بڑے ہی کوئی ناقدرے نکلے دلاور بھائی تو۔۔۔ اُن کی جگہ اگر مجھ غریب کو ایسا موقع مل جاتا میں تو آپ کو رانی بناکر رکھتا آپ کو اپنی پلکوں پر بھٹاتا آپ کے پیر دھو دھو کر پیتا اگر آپ چاہیں تو دلاور بھائی سے”

قیوم اور بھی کچھ مزید بکواس کرنے کے موڈ میں تھا مشی صوفے سے اٹھ کر غُصے میں قیوم کی طرف بڑھی

“اوقات دیکھی ہے تم نے اپنی، تمہارا منہ توڑ کر ابھی تمہارے ہاتھ میں رکھ دوں گی اگر میرے سامنے زیادہ فضول بکواس کی تو نیچی کرو اپنی یہ نظریں”

مشی غُصّے میں چیختی ہوئی بولی جس پر قیوم اُس کا سرخ چہرہ دیکھ کر ڈھیٹ بنا ہنسنے لگا اپنی نظریں کیا ہی نیچے کرتا مشی کو دیکھ کر مزید بولا

“قیوم حاضر ہے جی آپ کے ہاتھوں اپنا منہ تڑوانے کے لیے آج آپ میرا منہ توڑ ہی ڈالے کسی بہانے سے ہی سہی آپ کے خوبصورت ہاتھ مجھ غریب کے منہ کو چھوئیں گے۔۔۔ اسی طرح سہی آپ کے ہاتھوں کا ذائقہ بھی معلوم ہوجائے گا”

قیوم بغیرتی پر اتر آیا تو مشی کا دل چاہا وہ سچ میں اگے بڑھ کر اِس کمینے آدمی کا منہ توڑ ڈالے۔۔۔ نہ جانے اُس کی ماں خود یہاں پر کیوں نہیں آئی تھی اور اِس جاہل آدمی کو کیوں اُس نے یہاں بھیج دیا تھا۔۔۔ مشی نے غصے میں قیوم کو دیکھتے ہوئے سائیڈ کارنر پر موجود بیل پر ہاتھ رکھ دیا جس پر قیوم ایک دم بری طرح سٹپٹا گیا

“او جی آپ تو برا مان گئی یہ گارڈ شارڈ نہ بلوائیں یہاں پر، میں تو بس جارہا ہوں یہ سامان دینے آیا تھا آپ کو”

قیوم جانتا تھا یہ سیکیورٹی الارم تھا گراؤنڈ فلور پر بنے گارڈ روم میں موجود گارڈ لفٹ کے ذریعے دو منٹ میں یہاں پہنچ جائے گیں پھر نہ صرف مشی کے کہنے پر اُس کی مرمت ہوسکتی تھی بلکہ پولیس کے حوالے بھی کیا جاسکتا تھا اس لیے ڈرتا ہوا رملہ کے فلیٹ سے جانے لگا

“آئندہ یہاں آکر مجھے اپنی شکل مت دکھانا کیونکہ مجھے تمہاری یہ غلیظ شکل زرا پسند نہیں”

مشی اُس کو ڈر کر جاتا ہوا دیکھ کر تیز آواز میں بولی ساتھ ہی آگے بڑھ کر اُس نے فلیٹ کا دروازہ بھی لاکڈ کردیا

“جاہل اُجڈ چیپ انسان اُس کی اتنی ہمت یہ بکواس کیسے کررہا تھا میرے سامنے۔۔۔ کاش کہ دلاور یہاں پر موجود ہوتا اِس کو سچ میں مار مار کر اُس کا منہ توڑ دیتا”

غصہ کرتی ہوئی مشی کو یاد آیا چند ماہ قبل شیردل کی پارٹی میں دلاور نے شیردل کے دوست کو مار مار کر کیسے اُس کا بھرکس نکالا تھا کیوکہ اس کے بھائی کے دوست نے دلاور کی بیوی کے لیے غلط بات بولی تھی

“آہ۔۔۔ دلاور” ایک مرتبہ پھر دلاور کی یاد آنے پر مشی بےبسی سے اُس کا نام پکارتی ہوئی اپنا سر تھام کر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی

***

“میری بیوی کے متعلق کوئی ایسی بات مت کرنا کہ میں تمہارے عورت ہونے کا لحاظ نہ کرو اور گارڈز سے کہہ کر تمہیں دھکے دے کر باہر پھینکوا دو”

شیردل مہرین کو پہلے ہی آگاہ کرچکا تھا کہ اگر وہ منہ کھولے تو بہت سوچ سمجھ کے کھولے

“آپ کا لب و لہجہ بتارہا ہے کہ آپ بہت زیادہ ٹرسٹ کرتے ہیں اپنی وائف پر جبکہ وہ حسام کے ساتھ مل کر آپ کو بےوقوف بنارہی ہے، میں اب حسام کی بیوی نہیں ہو وہ مجھے طلاق دے چکا ہے اور وجہ آپ کی وائف ہے مسٹر شیردل۔۔۔۔ چند ماہ سے وہ دونوں آپس میں مل رہے ہیں، جیسے حسام نے مجھے ہانیہ کے لئے چھوڑ دیا ایسے ہی بہت جلد ہانیہ آپ کو حسام کے لیے چھوڑ دے گی ایسا کچھ پلان کیا ہے اُن دونوں نے مل کر۔۔۔ یہ بات طلاق دیتے وقت حسام نے مجھے خود بتائی تھی اور یہ انگلنٹ لازمی آپ کے وائف کی ہوگی یہ مجھے حسام کے سیٹنگ ایریا میں سے ملی تھی”

مہرین سب کچھ شیردل کو بتانے کے بعد اپنے ہاتھ میں پکڑی پازیب ٹیبل پر رکھتی ہوئی وہاں سے خود جاچکی تھی۔۔۔

جبکہ شیردل مہرین کی باتوں کو سوچتا اور ٹیبل پر موجود پازیب کو دیکھ کر بالکل شاکڈ رہ گیا۔۔۔ یہ وائیٹ گولڈ کی اینگلٹ اُسی نے ہانیہ کو گفٹ کی تھی۔۔۔ شیردل جو گم سُم سا بیٹھا تھا اب غصّہ میں آفس کے کمرے سے باہر نکل گیا

***

“کہاں جارہی ہو ہانی بیٹا اب تمہاری ایسی حالت نہیں جو تم باہر گھومو پھرو، ایسے وقت میں تھوڑا سا احتیاط سے کام لو شیر بھی دو دن پہلے تمہیں یہی سمجھ آرہا تھا۔۔۔ دیکھو وہ تمہیں کسی بات پر کچھ نہیں کہتا مگر اِس معاملے میں بےاحتیاطی وہ بھی نظر انداز نہیں کرے گا”

رملہ ہانیہ کو تیار ہوکر باہر جاتا دیکھ کر ٹوکتی ہوئی بولی۔۔۔ اُس کا آخر کا مہینہ چل رہا تھا چند دنوں بعد کی ڈاکٹر نے ڈلیوری کی دیٹ دی تھی اور اِن دنوں شیردل ہانیہ کے لئے مزید اپنے بچے کی وجہ سے احساس ہورہا تھا وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہانیہ کو سمجھاتا مگر ہانیہ کبھی کبھار اُس کی باتوں پر اکثر چڑ جایا کرتی جیسے وہ اِس وقت رملہ کی بات سے چڑی گئی تھی

“میں کوئی انوکھا بچہ پیدا نہیں کررہی ہوں ماما جو آپ اور آپ کا شیر ہر وقت مجھ پر روک ٹوک لگاۓ رکھتے ہیں۔۔۔ تنگ آچکی ہوں میں آپ دونوں کی ہر وقت کی پابندیوں سے، ایک دفعہ یہ بچہ دنیا میں آجائے تو جان چھوٹے گی میری۔۔ کہیں سیر و تفریح کرنے نہیں جارہی ہو ایک دوست کو ایمرجنسی پڑگئی ہے اِسی کو دیکھنے جارہی ہوں۔۔۔ اور یہ آپ اپنے شیر کا اِس انداز میں نام لےکر مجھے ڈرایا مت کیا کریں پلیز۔۔۔ آپ کا شیر صرف دنیا والوں کے سامنے شیر ہے میرے سامنے سرکس کا شیر بن جاتا ہے وہ، آجاؤ گی ابھی آدھے ایک گھنٹے کے اندر”

ہانیہ خراب موڈ کی وجہ سے رملہ کو باتیں سنا کر باہر نکل گئی غصّے میں اس نے یہ بھی نوٹ نہیں کیا شیردل کی گاڑی گھر کے پورج میں موجود ہے یعنٰی وہ آفس میں نہیں بلکہ گھر میں موجود تھا اور اُس کی ساری باتیں سن چکا تھا

“ڈرائیور فون پر بعد میں بات کرنا۔۔۔ کار نکالو فوراً”

اپنے ڈرائیور کو موبائل پر بات کرتا دیکھ کر ہانیہ اسے حکم دیتی ہوئی بولی

“جی میں آپ کو وہاں پہنچ کر فوراً اطلاع کرتا ہوں”

ڈرائیور موبائل پر بولتا ہوا جلدی سے کال کاٹ کر ہانیہ کے حکم کی تعمیل کرنے لگا

***

“تو تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم شیردل کو چھوڑ کر مجھ سے شادی نہیں کرو گی”

حسام غصّے کی شدت سے اپنا جبڑے بھینچے ضبط کرتا ہوا سامنے موجود ہانیہ سے پوچھنے لگا

“نہیں میرے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ میں شیردل کو چھوڑو یا نہ چھوڑو اِس سے تمہارا لینا دینا نہیں ہے بالفرض اگر میں اُس کو چھوڑ بھی دیتی ہوں پھر بھی میں تم سے شادی نہیں کروں گی کیونکہ تم بھروسہ لائق انسان نہیں ہو حسام، کیا معلوم تم پھر مجھے پیسے کی خاطر پہلے کی طرح کسی دوسرے آدمی کی آگے ڈال دو۔۔۔ کیا معلوم تم مہرین سے بھی یہی سب کرواتے رہے ہوگے”

ہانیہ خود اعتمادی سے بولتی ہوئی صوفے سے اٹھی تو حسام اُس کی بات سن کر زور سے چیخا

“شٹ آپ ہانیہ، تم معصوم شکل رکھنے والی دھوکے باز لڑکی ہو مجھے میری ساری پراپرٹی واپس چاہیے ورنہ اپنا انجان سوچ لینا”

حسام ہانیہ کو دھمکاتا ہوا بولا مگر اب حسام کو اپنی جلد بازی اور بے وقوفی پر غصّہ آرہا تھا کہ کیسے وہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے ہاتھوں بیوقوف بن کر اپنی ساری پراپرٹی اُس کے نام کرچکا تھا۔۔۔ حسام کے دھمکانے پر ہانیہ ہنسی

“میرے بابا بھی دھوکے میں مارے گئے تھے تم تو شکل سے بھی معصوم نہیں ہو، نہ جانے کیوں انہوں نے تم پر اعتبار کرکے میری شادی تم سے کروا دی جس طرح دھوکے بازی سے تم نے مجھ سے ساری پراپرٹی اپنے نام کروائی تھی بالکل اُسی طرح وہ پراپرٹی میں اپنے نام کروا چکی ہوں اور انجام کی بات تم مت کرو حسام انجام تو تمہارا ایسا ہوگا جو دنیا سبق لے گی تمہیں دیکھ کر”

ہانیہ اُس سے بولتی ہوئی اس کے گھر سے جانے لگی مگر جلدی سے حسام نے ہانیہ کا بازو پکڑا وہ سونے کی چڑیا تھی اُسے پیار سے ڈیل کرنا ہی بہتر تھا

“ہانیہ مجھے پراپرٹی نہیں چاہیے اگر مجھے دولت کی لالچ ہوتی تو وہ میں ساری دولت تمہارے نام ہی کیوں کرتا۔۔۔ یہ ساری دولت تم اپنے پاس رکھو مگر پلیز مجھے اپنالو میں سچی محبت کرتا ہوں تم سے”

حسام کی بات پر ہانیہ نے ناگواری سے اُس کے ہاتھ کو دیکھا جس سے اُس نے ہانیہ کا بازو پکڑا ہوا تھا پھر ہانیہ نے غصٌے میں حسام کو دیکھتے ہوئے زور دار طمانچہ اُس کے منہ پر رسید کیا

“اپنے نجس اور پلید ہاتھوں سے مجھے آئندہ چھونے کی ضرورت نہیں ہے کیا بولا تم نے محبت کرتے ہو مجھ سے اگر دنیا میں میرے نزدیک کوئی انسان نفرت کے قابل ہے تو وہ تم ہو حسام صرف تم۔۔۔ شیردل نے تو دھوکے بازی سے میری عزت لوٹی تھی لیکن تم کو میرا رکھوالا بنایا گیا تھا تمہارے ضمیر نے کیسے گنوارہ کرلیا کہ تم اپنی عزت کا سودا کرتے ایک غیر مرد سے۔۔۔ تم جیسے مرد کی بیوی بننے سے بہتر ہے کہ میں اپنے آپ کو آگ لگا ڈالو آئندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی یا ملنے کی کوشش مت کرنا ورنہ تمہارے ساتھ تمہاری سوچ سے بھی زیادہ برا کروگی میں”

ہانیہ بےخوفی سے اسکو بولتی ہوئی ہال سے باہر نکلنے لگی مگر وہاں شیردل کو آتا دیکھ کر ہانیہ کے قدم وہی رک گئے۔۔۔ حسام شیردل کو دیکھ نہیں پایا تھا اُسے ہانیہ پر شدید غصٌہ تھا جس کے نتیجے میں اُس نے ہانیہ کو زور سے دھکا دیا

“ہانیہ” شیردل چیختا ہوا تیزی سے ہانیہ کی طرف بڑھا مگر اِس سے پہلے وہ فرش پر گر چکی تھی

“یو باسٹرڈ میری بیوی کو ہاتھ کیسے لگایا تُو نے۔۔۔ مار ڈالوں گا میں تجھے”

شیردل نے غصّے میں حسام کا گریبان پکڑ کر اسے بری طرح پیٹنا شروع کردیا شیردل کے ساتھ اُس کا گارڈ اور ڈرائیور بھی ہال میں آچکے تھے

“شیردل” ہانیہ درد کی شدت سے شیردل کو پکارنے لگی

“اِس کو پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے اِس کے دونوں ہاتھ پاؤں توڑ دینا۔۔۔ نذیر جاؤ جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کرو”

شیردل ہانیہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھاتا ہوا اپنے ڈرائیور سے بولا جبکہ اُس کے گارڈ نے حسام کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔ ہانیہ کی حالت اور اِس کی بلیڈنگ دیکھ کر شیردل کے اپنے ہاتھ پھول چکے تھے

“ہانیہ پلیز اپنی آنکھیں کھلی رکھنا سب ٹھیک ہوجائے گا میں تمہیں اور اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گا”

ہانیہ کو بےہوشی میں جاتا ہوا دیکھ کر شیردل چیخ کر اُس سے بولا تھا۔۔۔ شاید ہی وہ اپنی زندگی میں کسی وقت اتنا زیادہ ڈرا ہو جتنا زیادہ اِس وقت ڈرا ہوا تھا

***

معصوم سی روتی آواز نے اُسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا کل اُس کے ہاں بیٹا ہوا تھا مگر خود ہانیہ کی اپنی حالت بہت بری تھی آپریشن کی وجہ سے وہ کل سوئی جاگی اور درد کی کیفیت میں مبتلا رہی تھی لیکن اب وہ مکمل ہوش میں آچکی تھی

“ہانی اب کیسی ہو میری جان درد نہیں ہورہا اب تمہیں”

ہانیہ کو آنکھیں کھولتت دیکھ کر رملہ اُس کے پاس آتی ہوئی ہانیہ سے پوچھنے لگی جبکہ شیردل جو پہلے اُس کے بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ہانیہ کے آنکھیں کھولنے پر اٹھ کر وہ بےبی کاٹ کے پاس آگیا

“ماما وہ۔۔۔ رو کیوں رہا ہے”

ہانیہ اپنے درد کی فکر چھوڑ کر اُس ننھی سی روتی آواز پر دھیان دیتی رملہ سے پوچھنے لگی

“بیٹا بھوک لگ رہی ہے شازل کو، ابھی اُس کا انتظام کیا ہے شیر نے تم اُس کی فکر نہیں کرو”

رملہ ہانیہ کے پاس کھڑی اسے بتانے لگی۔۔۔ درد کی وجہ سے ابھی بھی اُس کے چہرے پر بھربھراہٹ اور سوئلینگ موجود تھی یہ شکر تھا کہ کل وقت پر اسپتال پہنچ کر ڈاکٹر نے ماں اور بچے دونوں کی زندگی کو بچالیا تھا

“فکر کیسے نہیں کرو اسے بھوک لگ رہی ہے، مجھے دیں شازل کو میں فیڈ کروا دیتی ہوں”

ہانیہ نے بولتے ہوئے ہمت کرکے بیٹھنا چاہا اسے معلوم تھا شازل یعنی اُس کے بیٹے کا نام شیردل نے خود رکھا ہوگا جس پر اسے یا کسی دوسرے کو اعتراض کرنے کی اجازت نہ تھی

“تمہیں شازل کو اپنا فیڈ دینے کی ضرورت نہیں ہے ڈاکٹر نے شازل کے لیے ٹاپ فیڈ ریکمنڈ کیا ہے۔۔ اور میں نے شازل کے لئے آیا کا بھی بندوبست کردیا ہے جو اب سے اُس کی پراپر دیکھ بھال کرے گی تمہیں میرے بیٹے کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے”

شیردل کی آواز میں اتنی اجنبیت تھی کہ ہانیہ اُس کو دیکھتی رہ گئی اور کچھ بولنے کے قابل نہیں رہی

“کیا مطلب ہے تمہارا کیوں لے گا میرا بیٹا ٹاپ فیڈ ابھی میں زندہ ہوں۔۔۔ ماما ابھی شازل کو لاکر مجھے دیں میں نے ابھی تک سہی سے دیکھا بھی نہیں اپنے بیٹے کو اور دیکھیں یہ میرے سامنے کیسی باتیں کرہا ہے”

ہانیہ کو شیردل کی بات بہت بری لگی تھی اس نے بےقرار لہجے میں رملہ سے شازل کو مانگا تھا۔۔۔ تب اسپتال کے کمرے میں ایک 27 سالہ عورت آئی جس کے ہاتھ میں دودھ کا ڈبہ اور فیڈر موجود تھا

“آپ اِسے یہاں سے لے جائیں اور احتیاط سے فیڈ کروائیں یاد رہے شازل کے کام میں کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی بالکل برداشت نہیں کی جاۓ گی”

شیردل کاٹ سے شازل کو اٹھا کر گورنس کے حوالے کرتا ہوا بولا تو ہانیہ تڑپ کر شیردل کو دیکھنے لگی

“تم مجھے میرا بیٹا دیکھنے تو دیتے، شیردل سنو تم میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرسکتے مجھ سے میرا بیٹا دور نہیں کرسکتے تم۔۔۔ ابھی تک تم اچھی طرح جان گئے ہوگے کہ میں حسام کے پاس کیوں گئی تھی، صرف اور صرف اُس سے بدلہ لینا میرا مقصد تھا اور کچھ نہیں۔۔۔ شیردل جاؤ پلیز اُس عورت سے میرا بچہ لاکر مجھے دو ابھی اور اِسی وقت”

ہانیہ اُس سے دو ٹوک لہجے میں بولی تو شیردل قدم اٹھاتا ہوا ہانیہ کے پاس آیا

“تمہارا یہی تک کام تھا بچہ پیدا کرنا اور اسے مجھے سونپنا، یاد ہیں ناں ایسے ہی کچھ بولا تھا تم نے مجھے۔۔۔ اب تمہارا کام مکمل ہوچکا ہے تو تم بالکل آزاد ہو۔۔۔ اِس میں حق مہر کی رقم ہے اور تمہارے تحفظ کے لئے گھر کے کاغذات بھی موجود ہے جو اب تمہاری ملکیت ہیں، تم اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہو ہانیہ جب چاہو مجھے چھوڑ کر جاسکتی ہو میری زندگی سے”

شیردل ہانیہ کے ہاتھ میں خاکی رنگ لفافہ تھماتا بولا ہانیہ اُس کے الفاظ پر اور انداز پر بےیقین رہ گئی تھی

شیردل نے یہ سب کس دل سے ہانیہ کو بولی تھی یہ اُس کا دل ہی جانتا تھا زخمی نگاہ وہ ہانیہ کے چہرے پر ڈال کر اسپتال کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ ہانیہ حیرت زدہ ہوکر خالی دروازے کو دیکھنے لگی جہاں سے چند سیکنڈ پہلے شیردل گیا تھا اور پھر وہ حیرت سے رملہ کو دیکھتی ہوئی بولی

“دیکھ رہی ہیں آپ، اُس کی بات کا کیا مطلب تھا وہ الگ ہونے کی بات کررہا ہے وہ بھی اتنے سکون سے۔۔۔ وہ یہ سب کیسے بول سکتا ہے، ماما وہ میرا بیٹا مجھ سے چھین رہا ہے اور آپ خاموش کھڑی ہیں”

ہانیہ دبے دبے غصّے میں رملہ سے بولی

“بیٹا ریلکس وہ ابھی غصّے میں ہے تمہیں صبر سے کام لینا چاہیے ورنہ بات بگڑ سکتی ہے اور ویسے بھی تم نے جو حماقت کی ہے اُس کو بھی تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ابھی تک کی اپنی تمام غلطیوں اور رویہ پر بھی نظر ڈالو تم نے بھی ابھی تک کون ساتھ اچھا سلوک کیا ہے شیر کے ساتھ۔۔۔ ابھی خاموشی اختیار کرو سب ٹھیک ہوجائے گا”

رملہ ہانیہ کو سمجھاتی ہوئی بولی

***

“ہانی، ہانی کیا ہوا اِس طرح رو کیوں رہی ہو میری جان”

ہاسپٹل میں رات کے پہر ہانیہ کے رونے کی آواز پر رملہ نیند میں ہڑبڑا کر اٹھی اور پریشان ہوکر ہانیہ سے اُس کے رونے کی وجہ پوچھنے لگی

“کال کرکے ابھی یہاں بلائے شیردل کو مجھے بات کرنا ہے اُس سے”

ہانیہ روتی ہوئی رملہ سے بولی دوپہر والا شیردل کا رویہ اور باتیں اسے ابھی تک ہضم نہیں ہوئی تھی

“مگر بیٹا اِس وقت ٹائم دیکھو وہ بھی آرام کررہا ہوگا مجھے بتاؤ اگر پین وغیرہ ہورہا ہے تو میں ڈاکٹر کو بولتی ہوں۔۔۔ شیر اتنی رات میں یہاں آکر کیا کرے گا”

رملہ ہانیہ کے رونے پر پریشان ہوتی ہانیہ کو سمجھاتی ہوئی بولی۔۔۔ ہانیہ کی کنڈیشن دیکھتی ہوئی وہ ابھی تک مشی کے پاس نہیں جاسکی تھی

“ڈاکٹر کو نہیں آپ شیردل کو یہاں بلاۓ اگر آپ نے اُس کو کال نہیں ملائی تو میں اسپتال میں نہیں رہوگی بھاگ جاؤ گی یہاں سے”

ہانیہ کی دھمکی پر رملہ پریشان ہوئی تھی ایک بیٹی شوہر کو چھوڑ کر بھاگ چکی تھی دوسری بھاگنے کی دھمکی دے رہی تھی۔۔۔ رملہ شیردل کو کال ملانے لگی کال ملتے ہی ہانیہ رملہ سے موبائل لے چکی تھی

“کیا کررہے ہو اِس وقت”

نیند میں ڈوبی ہوئی شیردل کی آواز سننے کے باوجود ہانیہ اُس سے پوچھنے لگی

“کیا تم نے یہ سوال پوچھنے کے لیے مجھے کال ملائی ہے سونے کے علاوہ اور کیا کروں گا میں اِس وقت”

شیردل گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا سنجیدہ لہجے میں اُس سے بولا مگر رات کے اِس پہر ہانیہ کی آواز سن کر وہ مکمل طور پر بیدار ہوچکا تھا

“شیردل تم یہاں آجاؤ ابھی اور اِسی وقت”

ہانیہ کی بات تو شیردل تو خاموش ہوگیا مگر ہانیہ کے پاس کھڑی رملہ بول اٹھی

“ہانی تم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو اُس کا سکون کیوں برباد کررہی ہو اگر تمہیں نیند نہیں آرہی ہے تو، اُس کو تو آرام کرنے دو۔۔ وہ کل سے ہی اسپتال میں موجود تھا تھکا ہوا ہوگا اُسے ریسٹ کرنے دو”

رملہ اب کی بار ہانیہ کو ڈانٹتی ہوئی بولی

“کیا کیا ہے اُس نے اسپتال میں ایسا جو وہ تھک گیا ہے بچہ تو میں نے پیدا کیا ہے درد میں نے سہا ہے تکلیف میں نے اٹھائی ہے، تھک وہ گیا ہے آپ مت بولیں بیچ میں پلیز۔۔۔ شیردل تم سن رہے ہو مجھے۔۔۔ بتاؤ تم ابھی یہاں آرہے ہو یا نہیں”

ہانیہ رملہ سے یہ ساری گفتگو موبائل پر کان لگائے کررہی تھی جو شیردل نے صاف سنی جبکہ رملہ ہانیہ کی بات پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی

“اوکے میں آرہا ہوں”

شیردل ہانیہ کو جواب دیتا ہوا کال کاٹ چکا تھا

“بہت زیادہ رعایت دیتا ہے شیر تمہیں ورنہ اتنا لحاظ تو اُس نے محبت کرنے کے باوجود اپنی سگی بہن کا نہیں کیا”

رملہ ہانیہ کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی

“رعایت دیتا ہے تو کوئی کمال نہیں کرتا، محبت کا دعویٰ بھی کرتا ہے مجھ سے تو اُس پر لازم ہے میری ہر بات کو مانے۔۔ اولاد پیدا کرکے دی ہے میں نے اُس کو اِسی کی خواہش پر تو فرض بنتا ہے اُس کا اٹھاۓ پھر میرے نخرے”

رملہ ہانیہ کی بات سن کر گہرا سانس لیتی خاموش ہوگئی کیوکہ اس وقت ہانیہ کو کوئی بھی نصیحت کرنا فضول تھا

***

“اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ”

رملہ کے انکار کرنے کے باوجود شیردل اُسے ڈرائیور کے ساتھ گھر بھجوا چکا تھا رملہ کے اسپتال سے جانے کے بعد وہ نیند سے ہوتی سرخ آنکھیں لیے ہانیہ سے پوچھنے لگا کہ اُس نے کیوں اتنی ایمرجنسی میں اُسے یہاں اسپتال بلایا تھا

“بیوی سے اُس کے مسئلے مسائل دور سے نہیں پوچھے جاتے یہاں قریب آؤ پھر بتاؤں گی اپنا مسئلہ”

ہانیہ شیردل کی سرخ آنکھوں کو دیکھتی ہوئی بولی جن میں تھکن اور نیند کی خماری واضح نظر آرہی تھی شیردل چلتا ہوا ہانیہ کے پاس آیا ذرا سا جھک کر اپنا چہرہ ہانیہ کے چہرے کے قریب لاتا ہوا اس سے بولا

“تمہارا مسئلہ ہمیشہ سے میری ذات اور تمہارے وجود میں پلنے والا میرا بچہ رہا ہے۔۔۔ شازل کی ذمہ داری سے تم بری الذمہ ہوچکی ہو جبکہ اپنے فیصلے میں اب تم مکمل آزاد ہو، جب چاہو مجھے چھوڑ کر جاسکتی ہو۔۔۔ اپنی سکیورٹی کے طور پر تم مزید رقم کا مطالبہ کرسکتی ہو، جو کچھ تمہیں چاہیے وہ میں تمہیں فراہم کردو گا، میرے خیال میں تو تمہارے مسئلہ ختم ہوجانے چاہیے”

اِس طرح سے بات کرتا ہوا وہ کتنا اجنبی لگ رہا تھا ہانیہ کا دل اُس کی باتیں سن کر خوش ہونے کی بجائے بےچین ہونے لگا

“میں اگر تمہیں چھوڑ کر چلی گئیں تو تم رہ لو کہ میرے بغیر”

ہانیہ شیردل کا چہرہ غور سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی ایسا کچھ تھا شیردل کی آنکھوں میں جو اُسے اپنے لیے نظر نہیں آیا جسے وہ بہت مس کررہی تھی

“میں تمہارے بغیر رہ سکوں گا یا نہیں، یا کیسے رہ سکوں گا یہ تمہاری سوچنے والی بات نہیں ہے نہ ہی تمہارا مسئلہ ہے”

شیردل کا جواب سن کر ہانیہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئی جیسا جواب دینے کے بعد شیردل خاموشی سے ہانیہ کو دیکھ رہا تھا ہانیہ بھی اُس کو خاموشی سے دیکھنے لگی وہ اُس سے خفا تھا حسام والی بات چھپانے پر ہانیہ جانتی تھی

“شازل کو پاکر خوش ہو تم”

ہانیہ آگے ہاتھ بڑھا کر شیردل کی شرٹ پر بنی لکیروں پر انگلیاں پھیرتی شیردل سے پوچھنے لگی

“اولاد ہے وہ میری، میرا خون۔۔۔ اُسے پاکر خوش کیوں نہیں ہوگا اب تو جینے کا مقصد اُس کی پرورش کرنا ہے۔۔۔ کیا تم نے مجھے انہی سب باتوں کے لئے یہاں بلایا ہے”

شیردل ہانیہ سے پوچھتا ہوا اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا چکا تھا وہی سنجیدہ لہجہ آنکھوں کی جوت بجھی ہوئی ہانیہ کے دل کی کیفیت عجیب ہونے لگی

“تمہیں معلوم ہے ناں جب مجھ پر بےچینی اور گھبراہٹ سوار ہوجاتی ہے تو پھر مجھے نیند نہیں آتی صرف تم مجھے سلا سکتے ہو، اِس لیے تمہیں یہاں بلایا ہے مجھے سکون کی تلاش ہے جو تم مجھے دے سکتے ہو پلیز مجھے سُلا دو”

ہانیہ دوبارہ شیردل کی شرٹ کو سینے سے مٹھی میں دبوچ کر اُسے مزید اپنے قریب کرتی ہوئی بولی۔۔۔ یعنی وہ شیردل کی نیند خراب کرکے الٹا اُس سے فرمائش کررہی تھی کہ وہ اُسے سلا دے

شیردل نے تکیہ سیدھا کرتے ہوئے ہانیہ کو بیڈ پر لٹایا خود اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔۔۔ شیردل کی انگلیوں کا لمس ہانیہ کو سکون دینے لگا اُس نے اپنا سر تکیے سے ہٹاکر شیردل کی گود میں رکھ لیا

شیردل ہانیہ کا کمفرٹر ٹھیک کرنے لگا اسے معلوم تھا ہانیہ اب تھوڑی دیر میں سوجائے گی

“تمہیں معلوم ہے شیردل میری زندگی میں بابا کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہیں تھا میں نے اپنے سارے جذبات اور احساسات شادی کے بعد اپنے شوہر کے لیے سنبھال رکھے تھے پھر انہوں نے میری شادی حسام سے کروا دی۔۔۔ حسام کے بھیانک روپ کو دیکھ کر مجھے اِس رشتے سے خوف محسوس ہونے لگا مگر عزیر انکل نے پھر مجھے سمجھایا کہ ایک غلط تجربے سے انسان کو اچھے کی امید نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔۔ کیوکہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے پھر میری شادی تم سے ہوگئی دوسری بار شوہر کے روپ میں جب میں نے تم کو دیکھا تو میں دوبارہ خوفزدہ ہوگئی۔۔۔ میں کیسے تم سے محبت کرسکتی تھی شیردل تم مجھے خود بتاؤ میں کیسے اپنی محبت بھرے احساسات ایسے انسان کے لیے وقف کرتی جس نے میرے ایک تپھڑ کا بدلہ لینے کے لیے میری ذات کی بری طرح سے تذلیل کر ڈالی، میں چاہ کر بھی تم سے محبت نہیں کر پائی شیردل۔۔۔ اپنے لیے تمہاری محبت کو دیکھتے ہوۓ بھی میں تم سے محبت نہیں کرسکتی میرا دل اِس کی اجازت نہیں دیتا مجھے بتاؤ میں کیا کروں”

شیردل ہانیہ کی باتیں سنتا ہوا اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا وہ اپنا دل کا بوجھ ہلکا کرکے شیردل کے دل پر بوجھ ڈالتی خود نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی

***