Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 4)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
“سر پلیز جو کچھ ایک بار ہوچکا ہے وہ سب اب دوبارہ نہیں وہ نہایت ہی شریف لڑکی ہے اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ کل رات اس کے ساتھ کیا کچھ ہوچکا ہے کہیں اب دوبارہ اُس کو معلوم نہ ہوجاۓ”
حسام شیردل کی بات سن کر اُسے انکار کرتا بولا جس پر شیردل نے حسام کا گریبان پکڑلیا
“اسے معلوم ہوجائے یا وہ دوبارہ بےخبری میں ماری جائے تمہیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے آج رات کی تمہیں کل رات سے دگنی قیمت مل رہی ہے پھر کیا تکلیف ہے تمہیں”
شیردل کو اُس کے انکار پر غصّہ آیا تھا جبھی وہ حسام کا گریبان پکڑ کر غراتا ہوا بولا
“وہ عزت ہے میری سر پلیز۔۔۔
حسام ڈرنے کے باوجود ہمت کرتا بولا جس پر شیردل کا دل کیا اُس کا منہ تپھڑ سے سُرخ کر ڈالے
“اگر تم واقعی اسے اپنی عزت سمجھتے تو کل رات ہی میرے منہ سے ایسی بات سن کر مجھے گولی مار دیتے کل تک تو تمہاری آنکھوں میں پیسے دیکھ کر لالچ کی پٹی بنی ہوئی تھی آج تمہاری غیرت کیسے جاگ اٹھی۔۔۔ مجھے انکار سنے کی عادت نہیں ہے ٹیبل پر پڑے ہوئی رقم اٹھاؤ اور یاد رکھو آج رات گیارہ بجے تمہارے کمرے میں تم نہیں بلکہ میں تمہاری بیوی کے ساتھ رہوگا صبح تک”
شیردل حسام کا پکڑا ہوا گریبان جھڑکتا ہوا بولا تو حسام ٹیبل پر رکھے پیسے اٹھانے لگا
“سر پلیز پھر آج رات بھی اسے پتہ نہیں لگنے دیئے گا کہ میری جگہ آپ نے اُس کے ساتھ وہ سب”
حسام شرمندگی سے اتنا ہی بول سکا تو شیردل کے تیور پر بل نمودار ہوا
“حسام پیسے لو اور جاؤ یہاں سے”
شیردل ماتھے پر شکن لاتا حسام سے بولا تو حسام اپنا نام شیردل کے منہ سے سن کر چونکا جہاں تک اُسے یاد پڑتا تھا تو اُس نے تو اِس شخص کو اپنا نام نہیں بتایا تھا
“آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا”
حسام حیرت سے شیردل سے سوال پوچھنے لگا تو شیردل کے چہرے پر کمینگی بھری اسمائل آئی
“حسام پلیز بس کریں۔۔۔ بس اب اور نہیں حسام۔۔۔ میں تھک چکی ہوں پلیز حسام۔۔۔پوری رات ہی تمہارا نام تمہاری بیوی کے منہ سے کئی بار سنا ہے”
لفظ تھا کہ زور دار طماچہ حسام اسے برداشت نہیں کر پایا وہ شرمندہ سا پیسے لئے ہوٹل کے کمرے سے باہر نکل گیا
*****
“یہ لائٹ کیوں بند کردی روم کی ابھی سے حسام کہاں ہیں آپ”
ہانیہ کپڑے تبدیل کرکے واپس کمرے میں آئی تو کمرے میں مکمل اندھیرا پایا۔۔۔ اِس سے پہلے وہ پیچھے مڑتی شیردل اُس کو پشت سے ہی اپنے حصار میں قید کرکے بےتکلفی سے اُس کے شانے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
“آہ۔۔۔ ڈرا دیا آپ نے تو مجھے ابھی سے کیوں لائٹ بند کردی ابھی تو صرف گیارہ بجے ہیں”
ہانیہ نے بولتے ہوئے اپنے پیٹ پر جکڑے ہوئے شیردل کے ہاتھ ہٹانے چاہے تو شیردل ہانیہ کے نازک وجود پر اپنا گھیرا مزید سخت کرتا اُس کے بالوں کی کنڈشنر کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
ہانیہ ایک دم سے اس کے بدلتے ہوئے موڈ کے بارے میں سوچتی رہ گئی شام میں جب وہ حسام کے ساتھ واپس ہوٹل کے روم میں آئی تھی تو حسام بالکل خاموش سا تھا ہانیہ نے اُس سے بات کرنی چاہی تب بھی اُسے حسام کچھ الجھا الجھا سا محسوس ہوا لیکن اِس وقت تو وہ ایک الگ ہی موڈ میں تھا
“حسام پلیز آج تو “
شیردل کے دونوں ہاتھ جو اُسکے پیٹ کو چھو رہے تھے آئستگی سے اوپر کی جانب بڑھنے لگے تو ہانیہ کی ہارٹ بیٹ اُس کے ہاتھوں کی حرکت سے مزید بڑھ گئی وہ اُس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتی ہوئی بولی جبکہ شیردل اُس کی سننے کے باوجود من مانی پر اترا ہانیہ کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ چھیڑ خانی کرتا ساتھ ہی اپنے ہونٹوں سے ہانیہ کا ملائم گال چھونے لگے
“حسام میں آپ سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی”
وہ بہت زیادہ بےباک طبعیت کا مالک تھا اِس بات کا اندازہ ہانیہ کو کل رات ہی ہوگیا تھا۔۔۔ وہ شیردل کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی ہوئی اسے حسام سمجھ کر بولی
“شش۔۔۔
شیردل ہانیہ کے بولنے پر اُس کو آزاد کیے بغیر اُسکے کان کے قریب ہونٹ لاتا اسے کچھ بھی بولنے سے منع کرچکا تھا شیردل نے ہانیہ کا رخ اپنی جانب کرتے ہوۓ جیسے ہی اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔ چند قدم کے فاصلے پر رکھا ہوا ہانیہ کا موبائل بجنے لگا
جس سے کمرے میں ہلکی روشنی پھیلی۔۔۔ ہانیہ تیزی سے شیردل کی گرفت سے خود کو آزاد کرواتی ہوئی اپنے موبائل کی جانب فہیم کی کال ریسیو کرنے کے لیے بڑھی
“بابا آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔۔ واقعی سچ بول رہے ہیں آواز سے تو نہیں لگ رہا”
یوں اندھیرے میں فہیم سے بات کرتے اسے الجھن ہورہی تھی جبکہ دوسری طرف شیردل اُس کے موبائل پر بات کرنے پر جی بھر کے بےزار ہوا تھا وہ اپنی شرٹ اتار کر چلتا ہوا ہانیہ کی جانب آیا، ہانیہ کی پشت شیردل کی طرف تھی وہ ایک بار پھر ہانیہ کے نازک وجود کو پشت سے اپنے بازو میں بھر کر اپنے دوسرے ہاتھ سے ہانیہ سے موبائل لےکر آف کرچکا تھا
“یہ کیا کیا آپ نے مجھے بابا سے بات کرنا تھی”
ہانیہ اندھیرے میں اپنا رُخ شیردل کی طرف کرتی اُس سے شکوہ کرنے لگی مگر شیردل اُس کی بات سن کر اثر نہ لیتے ہوۓ ہانیہ کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا اس کی سانیس اپنی سانسوں میں قید کرچکا تھا
“وہ میں آج ریلکس نہیں ہوں تو پلیز”
ہانیہ اُس کا موڈ دیکھتی ہوئی بولی دوپہر میں چڑھا ہوا بخار کب کا اتر چکا تھا لیکن اُس کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ وہ آج رات بھی کل کی طرح اس کی شدتیں سہہ پاتی مگر ہانیہ کا اُس کے سامنے بولنا بےکار رہا وہ بناء کوئی جواب دیئے ہانیہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھاکر بیڈ پر لٹاتا ہوا اُس کی گردن پر جھک چکا تھا۔۔۔ اُس کا ہاتھ ہانیہ کی کمر سے نیچے سِرکتا تھائیس تک آگیا
ہانیہ کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خاموشی سے اُس کی بےباکیاں برداشت کرتی شدید اندھیرے سے گھبرا کر ہانیہ نے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوۓ لیمپ جلانا چاہا تبھی شیردل اٌس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا ہوا ہانیہ کے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھنسا کر اس پر مکمل طور پر قابض ہوچکا تھا
***
صبح بیدار ہوتے ہی وہ کل کی طرح اپنے شوہر پر نظر ڈالے بناء بیڈ سے اٹھی اور وارڈروب میں رکھے بیگ سے اپنے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔ ہانیہ کے اٹھنے سے شیردل کی آنکھ بھی کھل گئی وہ بنا اٹھے یونہی بیڈ پر لیٹا ہوا ہانیہ کی پشت کو دیکھنے لگا جو وارڈروب کھولے اپنے کپڑے نکال رہی تھی
شیردل اُس کے اسمارٹ فگر کو دیکھتا ہوا کل رات کی کاروائی سوچ کر محظوظ ہونے لگا یہ پہلی ایسی لڑکی تھی جسے اُس نے دو راتیں استعمال کیا تھا اور دونوں ہی راتیں وہ کافی زیادہ لطف اندوز ہوا تھا ورنہ ایک رات وہ جس لڑکی کو استعمال کرلیتا صبح اُس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا ہانیہ کے واشروم میں جانے کے بعد شیردل اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا شرٹ پہننے کی اس نے زحمت نہیں کی تھی بغیر شرٹ کے وہ اسموکنگ کرتا ہوا ہانیہ کے باہر آنے کا ویٹ کرنے لگا
*****
روم کی بالکونی میں کھڑا دلاور اسموکنگ کررہا تھا، چار دن ملائیشیا میں گزار کر وہ اُکتا چکا تھا۔۔۔ وہ اپنے مالک جیسے شوق نہیں رکھتا تھا ورنہ خود بھی یہاں اپنی راتیں رنگین بنالیتا۔۔۔ شیردل نے پہلی بار کسی کال گرل کو نہیں بلکہ کال گرل کی بجائے ایک ایسی لڑکی کو دھوکے میں رکھ کر اسے لوٹا تھا جو شادی شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ شریف بھی تھی۔۔۔۔ پہلی بار دلاور کا دل اپنے مالک سے بری طرح خفا ہوا تھا مگر اُس کی حیثیت اتنی نہیں تھی کہ وہ اپنی خفگی کا اظہار کرتا اُسے اندر سے اُس لڑکی کے لیے بےحد افسوس ہورہا تھا جو پچھلی دو راتوں سے بےخبری میں لٹ رہی تھی اور اُس لڑکی کا شوہر۔۔۔۔ دلاور کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اُس کے شوہر کو خود اپنے ہاتھ سے گولی مار دیتا جو اپنی عزت کی حفاظت کرنا نہیں جانتا تھا دلاور اسموکنگ کرتا سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر انجانے نمبر سے کال آنے لگی
“میں پہچانا نہیں آپ کو آپ کون بول رہی ہیں۔۔۔ نام کیا ہے محترمہ آپ کا، اپنا نام بتائیے”
وہ کوئی لڑکی تھی اور بات کرتے ہوئے کافی زیادہ ڈر رہی تھی شاید اُس نے چھپ کر دلاور کو کال ملائی تھی دلاور نے اُس کا نام اس لئے پوچھا تاکہ وہ اس لڑکی کے نام سے اُس کی شناخت کرلے
“میں آپ کو اپنا نام نہیں بتاسکتی میں نے چند دنوں پہلے مشی کے بھائی کو بھی فون کرکے بتایا تھا کہ مشی کی جس لڑکے سے دوستی ہے وہ لڑکا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی وہ مشی سے مخلص ہے مگر مشی میری بات کبھی سچ نہیں مانے گی۔۔۔ بہت مشکل سے میں نے آپ کا نمبر تلاش کیا ہے۔۔۔ آپ پلیز مشی کو اُس لڑکے سے بچالیں ورنہ وہ لڑکا مشی کو برباد کر ڈالے گا”
وانیہ دلاور سے بول کر کال کاٹ چکی تھی جبکہ دلاور صحیح معنی میں وانیہ کی بات سن کر پریشان ہوچکا تھا عجیب بےبسی کی کیفیت میں وہ گھر کے نمبر پر کال ملانے لگا
“ہاں دلاور سب خیریت ہے بولو کب واپس آنا ہو رہا ہے تم دونوں کا”
رملہ اُس کا فون اٹھاتی ہوئی دلاور کی آواز سن کر اس سے پوچھنے لگی
“مالک کو اپنے پرسنل کام کے لیے مزید دو دن روکنا پڑا۔۔۔ جب تک انہیں نہیں لگتا کہ ان کا مقصد پورا ہوگا تب تک آنے کا کچھ معلوم نہیں۔۔۔ آپ سے کچھ پوچھنے کے لیے فون کیا تھا”
دلاور جھجھکتا ہوا رملہ سے بولا
“ہاں کیا پوچھنا چاہ رہے ہو دلاور بولو”
رملہ اُس کے لہجے میں چھپی بےچینی کو محسوس کرتی دلاور سے بولی
“آپ میری بات سن کر کوئی برا خیال دل میں مت لائیے گا مجھے بی بی کے بارے میں آپ سے کچھ پوچھنا تھا وہ کیسی ہیں؟ میرا مطلب ہے وہ ٹھیک ہے ناں”
دلاور ہزاروں خدشے دل میں لانے کے باوجود کہ اُس کی بات کو کس معنوں میں لیا جائے گا دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر رملہ سے مشی کے بارے میں پوچھنے لگا جس پر رملہ کا ماتھا ٹھنکا مگر وہ ظاہر کیے بغیر بولی
“مشی ٹھیک ہے دلاور شیر سے کہو اُس کی فکر مت کرے جب وہ خود پاکستان واپسی کرے گا تب میں شیر کی مرضی سے اُسے کالج جانے کی اجازت دو گی وہ کالج جانے کی کافی ضد کررہی تھی مگر میں نے اسے جانے نہیں دیا”
دلاور کی بات سن کر رملہ بےساختہ بول اٹھی
“بیگم صاحبہ خدارا انہیں کالج یا پھر کہیں بھی اکیلے جانے کی اجازت مت دیجیے گا مالک نے کچھ سوچ کر انہیں گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے آپ پلیز اُن کا خیال رکھیے گا”
بات کرتے ہوئے دلاور کی بےبسی آسمانوں کو چھونے لگی تھی وہ التجائی انداز میں رملہ سے بولا اُس کے لہجے اور انداز پر رملہ دوبارہ چونکی مگر کچھ بھی ظاہر کیے بغیر دوبارہ بولی
“بےفکر رہو دلاور مشی مجھے اپنی سگی بیٹی کی طرح عزیز ہے میں اس کا خیال رکھوں گی”
رملہ کے بولنے پر اسے تھوڑا اطمینان ہوا وہ مشی کو کسی دوسرے کے ساتھ خوشحال تو اپنا دل بڑا کر کے دیکھ سکتا تھا مگر اُس کو برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا جیسے وہ فون کال والی لڑکی اسے بول رہی تھی
***
“تم۔۔۔۔ تم یہاں روم میں کیسے آۓ، اور یہ کون سا انداز ہے کسی کے روم میں بیٹھنے کا”
ہانیہ شاور لینے کے بعد جیسے ہی روم میں واپس آئی سامنے بیڈ پر اُس نے اُسی اجنبی شخص کو بیٹھے دیکھا جو مسلسل اُسے اِس ہوٹل میں دو دن سے نظر آرہا تھا جس کا امیج اُس کی نظروں میں لائبہ کی بات پر بری طرح خراب ہوا تھا ہانیہ پہلے تو اُس شخص کو ہوٹل کے اِس روم میں دیکھ کر ڈر گئی تھی پھر اپنا دوپٹہ صوفے سے اٹھاکر اُس سے سخت لہجے میں پوچھنے لگی
“حیرت ہوئی تھی مجھے تمہیں یہاں ملیشیاء میں دیکھر کر مگر حیرت کے ساتھ اِس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ تم نے مجھے اپنے حافظے میں محفوظ رکھا ہے”
شیردل بیڈ سے اٹھ کر اپنے شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بےتکلفی سے ہانیہ کے پاس آتا بولا یوں روبرو اِس لڑکی سے بات کرکے اُسے کافی اچھا لگ رہا تھا
“تمہاری حیرت یا خوشی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تم یہاں اِس روم میں کر کیا رہے ہو”
ہانیہ ابھی بھی غصّے کے ساتھ حیرت میں ڈوبی اُس سے پوچھنے لگی جو اتنی بےتکلفی سے بناء کسی خوف کے ہوٹل کے ِاس روم میں موجود تھا جس روم میں پچھلے دو دن سے وہ رہ رہی تھی اور یہ حسام وہ اچانک کہاں چلاگیا تھا ہانیہ کو سمجھ نہیں آیا
“میری ذات تمہارے لیے معنی نہیں رکھتی ڈارلنگ لیکن اب جو میں تمہیں بتانے والا ہوں وہ بات تمہارے لیے معنیٰ بھی رکھے گی اور تمہیں خوف میں بھی مبتلا کردے گی کیا ہے ناں ہماری دوسری ملاقات میں جو خوف تمہارے چہرے پر موجود تھا اُس خوف کو دوبارہ تمہارے چہرے پر دیکھنے کی تمنا ہے مجھے یہ سن کر تمہیں برا تو لگے گا کہ پچھلی دو راتیں تمہارے ساتھ تمہارے شوہر نے نہیں بلکہ میں نے تمہارے ساتھ گزاری ہیں اور کافی مزا آیا مجھے تمہارے ساتھ رات میں اپنا وقت گزار کر ویسے آپس کی بات ہے تمہارا شوہر تو کافی ان رومینٹک ہے جو اس نے ابھی تک تمہیں یو نو”
شیردل کمینگی سے اسمائل دینے کے ساتھ آنکھ مارتا ہوا ہانیہ کا چہرا دیکھ کر بولا جو ایک پل کے لیے سچ میں اُس کی بات سن کر خوف سے سفید پڑگیا تھا مگر اگلے ہی پل ہانیہ نے ایسی گِری ہوئی بات اُس کے منہ سے سن کر اپنا ہاتھ فضا میں بلند کیا جو شیردل نے اپنے گال پر پڑنے سے پہلے اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں پکڑلیا
“دوبارہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی مت کرنا یہ تمہارے پہلے تپھڑ کا ہی بھکتان ہے جو تمہیں دو راتیں میرے ساتھ گزار کر بھرنا پڑا ہے تمہارے اندر جتنا دم خم تھا وہ میں پچھلی راتوں کو دیکھ چکا ہوں اسلیے دوبارہ ایسے کوئی غلطی مت دہرانا کہ تمہیں مزید دس راتیں اپنے لٹنے کا ماتم کرنا پڑے”
شیردل اُس کا ہاتھ سختی سے پکڑے اب کے بار سخت لہجے میں ہانیہ کو وارن کرتا بولا
“بکواس کررہے ہو تم مجھے ڈرانے کے لیے جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے حسام کہاں ہیں وہ ایسے نہیں ہیں”
ہانیہ شیردل کی بات سن سچ میں خوفزہ ہوچکی وہ چیختی ہوئی اُس سے حسام کا پوچھنے لگی
“ششس”
ہانیہ کے چیخنے پر شیردل اُس کے کان کے قریب اپنے ہونٹ لاتا اس کے وجود کو جکڑتا ہوا بولا جس پر خوف سے ہانیہ کی ریڑھ کی ہڈی سنسنانے لگی وہ صدمے سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے شیردل کو دیکھنے لگی یہ انداز کیا وہ سچ بول رہا تھا
“میں تمہاری جان لے لوں گی مار ڈالوں گی تمہیں”
ہانیہ غصّے کی شدت سے اُس کی قید میں پھڑپھڑاتی ہوئی چیخی تو شیردل نے اُس کے وجود کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے بیڈ پر دھکیلا
“اگر جان لینی ہے تو اپنے شوہر کو مار ڈالوں جو پچھلی دو راتیں تمہیں میرے حوالے کرکے مجھ سے تمہاری قیمت وصول کرکے خود برابر والے کمرے میں اپنی محبوبہ کے ساتھ راتیں گزار رہا ہے ایسے ہی حوالے نہیں کیا اُس نے تمہیں قیمت دی ہے میں نے تمہارے شوہر کو تمہارے اس جسم کی”
شیردل کی بات سن کر ہانیہ صدمے کی کیفیت میں اُس کو دیکھتی رہ گئی یہ سامنے کھڑا لمبا چوڑا مرد کہیں سے بھی مرد کہلانے کے لائق نہیں تھا وہ بیڈ سے اٹھ کر شیردل کے سامنے آئی
“میرے مارے ہوۓ تھپڑ کا بدلہ لینے کے لیۓ تم نے مجھے بےلباس کر ڈالا مجھے دو راتوں تک استعمال کرکے بدلے کے نام پر اپنی حوس مٹاتے رہے صحیح کہاں تم نے مجھ میں واقعی اتنا دم خم نہیں جو میں مضبوط اور طاقتور مرد کا مقابلہ کرسکوں لیکن میں آج دکھی دل سے تمہیں بد دعا دیتی ہوں کہ اوپر والا تمہیں بھی پوری دنیا کے سامنے ایسے ہی بےلباس کرے ذلت تمہارے مقدر میں لکھی جائے رسوا ہو کر رہ جاؤ تم خود اپنی ہی نظر میں”
ہانیہ روتی ہوئی شیردل کو دیکھ کر بولی جس پر شیردل مسکراتا ہوا اس کا روتا چہرہ یکھنے لگا پھر وہ رکی نہیں اپنا دوپٹہ فرش سے اٹھا کر اپنا موبائل لیتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
برابر والے کمرے سے ویٹر باہر نکل رہا تھا کچھ سوچ کر ہانیہ ویٹر کے دروازے بند کرنے سے پہلے کمرے میں داخل ہوئی اندر کا منظر دیکھ کر ہانیہ کا دماغ ایک بار پھر چکرا گیا کمرے میں موجود لڑکی اُس کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ چکی تھی حسام کی پشت پر ہانیہ کھڑی تھی حسام نہیں جانتا تھا کہ ہانیہ وہی کمرے میں موجود ہے نہ ہی مہرین نے حیرت کا اظہار کرکے حسام کو ہانیہ کی موجودگی کا احساس ہونے دیا بلکہ مہرین نے ہانیہ کے سامنے بغیر شرمائے اپنا کام جاری رکھا وہ حسام کی سانسوں میں اپنی سانسیں انڈیلے شاید جان بوجھ کر حسام کو خود سے جدا نہیں ہونے دے رہی تھی
“ڈارلنگ کل رات سے تمہاری اداسی کتنی مرتبہ ختم کرچکی ہوں اب تو نارمل ہوجاؤ اپنی بیوی سے پراپرٹی کے پیپرز پر تو تم نے سائن کروا کے اُس سے سب کچھ اُس کا چھین ہی لیا ہے تو اب اسے پلان کے مطابق طلاق دو اور دور کرو اپنی زندگی سے تاکہ ہم دونوں مزے سے اپنی زندگی گزار سکے”
مہرین شاطرانہ انداز میں مسکراتی ہوئی حسام سے بولی لیکن وہ باتیں ہانیہ کو سنا رہی تھی ایک مرتبہ پھر صدمے سے ہانیہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی
“طلاق تو میں اُس کو دوں گا لیکن ابھی فوراً نہیں”
حسام مہرین سے بولتا ہوا کسی احساس کے تحت پیچھے مڑا تو وہاں ہانیہ کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا ہانیہ چلتی کوئی حسام کے پاس آئی غصٌے کی شدت میں وہ جتنی زور کا طماچہ حسام کو مار سکتی تھی اس نے حسام کے گال پر مارا جس سے حسام اور مہرین دونوں ہی سناٹے میں آگئے
“نکاح کیا تھا تم نے مجھ سے نکاح وہ پاک رشتہ ہوتا ہے جس کے بعد ایک مرد اُس لڑکی کو اپنی عزت بنالیتا ہے اس کا نگران بن کر اس کو تحفظ فراہم کرتا ہے جانتے ہو بیوی کیا ہوتی ہے اُس مرد کے لئے اُس کی غیرت اُس کی عزت تمہیں ذرا شرم نہیں آئی یوں دوسرے مرد سے میرا سودا کرتے ہوئے مجھے کسی غیر مرد کے آگے ڈالتے ہوئے دو راتوں تک مجھے کوئی غیر مرد استعمال کرتا رہا میرے ساتھ اُس نے۔۔۔
بولتے ہوئے ہانیہ کی آواز بند ہونے لگی وہ اپنے ساتھ ہوۓ ظلم کو سوچتی ہوئی رونے لگی
“اُس غیر مرد نے مجھے چھوا بےلباس کیا عزت صرف میری پامال نہیں ہوئی تمہاری بھی پامال ہوئی کیونکہ میں تمہاری بیوی ہو تمہیں پیسے چاہیے تھے تم مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیتے مگر مجھے یوں کسی دوسرے مرد کے سامنے زلیل اور رسوا نہیں کرتے، جس آدمی نے مجھے استعمال کیا اُس سے زیادہ اِس وقت مجھے تم سے نفرت محسوس ہورہی ہے”
ہانیہ روتی ہوئی حسام کا گریبان پکڑ کر بولی حسام شرمندگی کے مارے بنا کچھ بولے اپنا سر جھکا گیا وہاں کھڑی مہرین نے ہانیہ سے حسام کا گریبان چھڑوایا
“یہ ایموشنل ڈرامے یہاں نہیں کرو حسام ابھی طلاق دوں اُس کو اور یہ قصّہ ختم کرو”
مہرین ہانیہ کو دیکھ کر جتاتی ہوئی نظروں سے حسام سے بولی حسام نظریں اٹھا کر ہانیہ کو دیکھنے لگا
“صحیح بول رہی ہے یہ تم جیسے بےغیرت آدمی سے ایک منٹ بھی رشتہ قائم رکھنا میرے لئے ذلت کا باعث ہے ابھی کے ابھی طلاق دو مجھے”
ہانیہ غصّے میں چیختی ہوئی حسام سے بولی ہانیہ کو طلاق دیتے ہوۓ اُسے مزید شرمندگی نے گھیرا حسام سے طلاق لینے کے بعد وہ ہوٹل کے کمرے سے باہر نکلی اور اپنے برباد ہونے کے غم میں دیوار سے جڑ کر نیچے بیٹھتی ہوئی زاروقطار رونے لگی
***
“میری بات سمجھنے کی کوشش کرو دانیال، بھائی جب سے واپس پاکستان آئے ہیں اُن کا رویہ بہت عجیب سا ہوگیا ہے وہ پچھلے دو ہفتوں سے ہر وقت غصّے میں رہتے ہیں میں تو کیا ماما خود بھی میرے لئے کالج جانے کی پرمیشین لینے سے ڈر رہی ہیں اور تم ہو کہ مجھ سے ملنے کی بات کررہے ہو جبکہ تمہیں تو یہاں اپنے پیرنٹس کو لے کر آنا چاہیے”
مشی چوری چھپے دلاور کہ موبائل سے دانیال کو کال ملاتی ہوئی اسے اپنی مجبوتی بتانی ہوئی بولی
“یار ایسا تو کہیں نہیں ہوتا اتنی دقیانوسی فیملی ہے تمہاری وہ بھی آج کل کے دور میں ایسی پابندیاں کون لگاتا ہے میرے پیرنٹس نے صاف بول دیا مجھ سے کہ تمہیں جو لڑکی پسند ہے پہلے تم اُس لڑکی کو ہم سے ملواؤ اس کے بعد ہی وہ دونوں میرا پرپوزل تمہارے لیے لاۓ گیں مشی تمہیں ایک بار ہماری محبت کی خاطر میں گھر آنا پڑے گا میری پیرنٹس سے ملنے کے لیے”
دانیال کی بات پر مشی انکار کرتی ہوئی بولی
“میرا گھر سے نکلنا مشکل ہے دانیال تم میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرو”
مشی بےبسی سے دانیال کو اپنی مجبوری سمجھاتی ہوئی بولی جس پر دانیال برہم ہوا
“مشی یار تم سے زیادہ مجبور اور بےبس لڑکی تو دنیا میں کوئی دوسری ہو ہی نہیں سکتی اگر تم سچ میں مجھ سے پیار کرتی ہو اور چاہتی ہو کہ ہم دونوں زندگی بھر ایک ساتھ رہے تو تمہیں ابھی اور اِسی وقت مجھ سے ملنے کے لیے اپنے گھر کے قریبی مال میں آنا ہوگا میں وہاں تمہارا انتظار کروں گا اگر تم آج نہیں آئی تو اس کے بعد میں تم سے کوئی رابطہ نہیں رکھوگا”
دانیال نے بولتے ہوئے موبائل پر رابطہ منقطع کردیا تو مشی کو بےبسی سے رونا آنے لگا وہ دلاور کے موبائل سے دانیال کا نمبر ڈیلیٹ کرتی ہوئی موبائل واپس رکھ کر جیسے ہی پلٹی تو دلاور کو کمرے میں کھڑا پایا
“آپ یہاں میرے کمرے میں خیریت تو ہے”
دلاور مشی کو اپنا موبائل رکھتا ہوا دیکھ چکا تھا مگر انجان بنا مشی سے پوچھنے لگا
“یہ پورا گھر میرے باپ کا ہے دلاور یہ کمرہ بھی جو تمہیں استعمال کے لیے دیا گیا ہے میں جب چاہے یہاں آسکتی ہوں کسی دوسرے کے باپ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ مجھ سے کوئی سوال کرے”
دلاور کو دیکھ کر مشی اکڑے ہوۓ لہجے میں بولی تو دلاور ضبط سے لب بھینچ کر رہ گیا
“معافی چاہتا ہوں بی بی بےشک یہ کمرہ میری ملکیت نہیں نہ ہی میرے باپ کا ہے آپ جب تک چاہیں اِس کمرے میں رہیں جب آپ یہاں سے چلی جائیں گیں تو میں اِس کمرے سے اپنا سامان اٹھاکر سرونٹ کوارٹر میں شفٹ ہوجاؤ گا”
دلاور مشی سے بولتا ہوا کمرے سے جانے لگا تو مشی کو اپنے رویے کا احساس ہوا وہ دوسرے ملازموں کی طرح سرونٹ کوارٹر میں نہیں رہتا تھا بلکہ یہ کمرہ شیردل کے حکم پر دلاور کو دیا گیا تھا اگر شیردل کو ذرا بھی علم ہوجاتا کہ اِس کی وجہ سے دلاور سرونٹ کوارٹر میں شفٹ ہوا ہے تو مشی کی خیر نہ تھی اور مشی ایسی صورتحال میں ذرا بھی فساد نہیں چاہتی تھی
“دلاور رکو سوری میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا میں یہاں تمہارے کمرے میں تمہارے لیے ہی تو آئی ہو تم سے کچھ کہنا ہے مجھے”
مشی جلدی سے دلاور کو روک کر بات بناتی ہوئی بولی تو دلاور پلٹ کر مشی کو دیکھنے لگا
“بولیے۔۔۔ میرے کمرے میں میرے لئے کس “خاص وجہ” سے آئی ہیں آپ”
دلاور “خاص وجہ” پر زور دیتا ہوا مشی سے پوچھنے لگا تو مشی ایک دم بوکھلا گئی مگر فوراً ہی اُس کے دماغ میں ایک خیال ابھرا جس کے تحت اُس نے بے ساختگی سے دلاور کا ہاتھ پکڑا
“دلاور پلیز تم تو جانتے ہو ناں بھائی مجھے گھر سے باہر جانے نہیں دیں گے مجھے یہاں گھر سے قریب مال سے اپنے لئے کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں کیا بھائی سے تم میرے لئے پرمیشن لے سکتے ہو اپنی ذمہ داری پر، وہ تمہیں کبھی بھی منع نہیں کریں گے پلیز دلاور انکار مت کرنا”
مشی دلاور کا ہاتھ پکڑے امید بھرے لہجے میں بولی وہ اِسی طرح چھپ کر دانیال کے بلانے پر دلاور کے ساتھ باہر جاسکتی تھی جبکہ دوسری جانب دلاور اپنے ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا جو اِس وقت مشی کے دودھیا ہاتھ میں موجود تھا یہ وہ خواب تھا جو دلاور کی انکھوں نے دیکھا تھا مگر اِس خوبصورت خواب کی تعبیر ناممکن تھی
“مالک کبھی بھی نہیں مانیں گے آپ کو خود بھی اندازہ ہے آج کل وہ کتنے غصّے میں ہیں آپ مجھ سے ایسی کوئی فرمائش نہیں کریں جو میں پوری نہ کرسکوں”
دلاور اس کو انکار کرتا ہوا بولا تو مشی نے اُس کا پکڑا ہوا ہاتھ بےدردی سے جھٹک دیا
“ایک کام کرو مجھے زہر لاکر دے دو یہ فرمائش تو پوری کرسکتے ہو ناں تم میری”
مشی غصے بھرے لہجے میں دلاور سے بولی تو دلاور بےبسی سے اس کو دیکھتا ہوا بولا
“ایسا تو دلاور مر کر بھی نہیں کرسکتا بی بی”
دلاور کے انکار سننے کے بعد مشی نے میز پر رکھا ہوا سیگریٹ کا پیکٹ اٹھالیا اور اس میں سے اپنے لئے سیگریٹ نکالنے لگی دلاور مشی کی حرکت پر اُس کو دیکھتا رہ گیا یہ لڑکی نہ جانے کیوں اُس کا امتحان لینے پر تلی ہوئی تھی
“یہ اچھی عادت نہیں ہے بی بی آپ اچھی لڑکی ہیں خدارا اِس سیگریٹ کو پھینک دیں”
دلاور اُس کے ہاتھ سے سیگریٹ چھین نہیں سکتا اس لئے مشی کے آگے درخواست کرتا ہوا بولا
“میں جانتی ہوں دلاور تمہاری بی بی اچھی لڑکی ہے مگر اچھی لڑکیوں کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے، اچھا ہے ناں میں سیگریٹ جلاؤ گی یہ سیگریٹ میرا دل جلائے گی کیوکہ تم اپنی بی بی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے”
مشی سیگریٹ جلاتی ہوئی بولی
“میں مالک سے بات کرتا ہوں اگر انہوں نے اجازت دی تو میں آپ کے ساتھ ہر اُس جگہ پر اُس شاپ پر جاؤں گا جہاں آپ کو شاپنگ کرنا ہوگی اور ہم کہیں دوسری جگہ نہیں جائیں گے آپ کو جو بھی چیزیں لینی ہوگی بس وہ لےکر ہم جلد گھر واپس آجائیں گے”
دلاور کے راضی ہونے پر مشی اپنی کامیابی پر مسکرا دی اور سیگریٹ پھینکتی ہوئی بولی
“میں جانتی تھی دلاور تم اپنی بی بی کا کہا کبھی نہیں ٹالو گے”
مشی نے شاباشی والے انداز میں دلاور کا شانہ تھپکایا اور کمرے سے جانے لگی
“میں باہر تمہارا گاڑی میں ویٹ کررہی ہو تم جلدی سے بھائی سے پرمیشن لےکر آجاؤ”
مشی دلاور کو بولتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی پھر کچھ سوچ کر کی اور پلٹ کر دلاور کو دیکھنے لگی دلاور ابھی تک خاموش اُسی کو دیکھ رہا تھا
“تم بہت اچھے ہو”
مشی اچھے موڈ میں بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تو دلاور نے اپنا سر جھٹکا وہ ذرا بھی خوش فہم نہیں ہونا چاہتا تھا کیونکہ اُس کا محبوب تھوڑی دیر میں دل توڑنے کا فن بھی جانتا تھا
Hum nay tum ko dil ye de dia yeh bhi na socha kon ho tum…
Hum nay tum ko dil ye de dia yeh bhi na socha kon ho tum…
Ye faisal jo dil nay kiya, ye faisla jo dil nay kiyaa,,
ye faisala jo dil nay kiya to ye bhi na socha kon ho tum…
***
ﺗﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ہو ﺧﺪﺍ ﮐﺮﮮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺠﮭ کو ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮﮮ
ﺗﯿﺮﮮ ہونٹ ہنسنا ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﭘﺮﻧﻢ رہا ﮐﺮﮮ
ﺗﻮ ﺍﺱ کی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ
ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﮮ
ﺍﺳﮯ دیکھ ﮐﮯ ﺗﻮ ﺭﮎ ﭘﮍﮮ
ﻭﻩ نظر جھکا ﮐﮯ ﭼﻼ ﮐﺮﮮ
ﺗﺠﮭﮯ ہجر کی ﺍﯾﺴﯽ جھڑی ﻟﮕﮯ
ﺗﻮ ﻣﻠﻦ ﮐﯽ ہر ﭘﻞ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﮮ
ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ بکھرے ﭨﻮﭦ ﮐﺮ
ﺗﻮ ﮐﺮﭼﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﭼﻨﺎ ﮐﺮﮮ
ﺗﻮ ﻧﮕﺮ ﻧﮕﺮ پھرا ﮐﺮﮮ
ﺗﻮ ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﺻﺪﺍ ﮐﺮے
تجھے ﻋﺸﻖ ہو پھر ﯾﻘﯿﻦ ہو
اسے تسبيحوں پہ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﮮ
ﻣﯿﮟ کہوں کہ ﻋﺸﻖ ﮈﻫﻮﻧﮓ ہے
ﺗﻮ نہیں نہیں کہا ﮐﺮﮮ
شیردل راکنگ چیئر پر بیٹھا اسموکنگ کرتا ہوا صرف اُس لڑکی کو سوچے جارہا تھا جس لڑکی نے اُس کی بھرے معجمے میں اِنسلٹ کی اپنی ہونے والی بےعزتی کا بدلہ شیردل نے جس انداز میں لیا اس سے وقتی طور پر تو اس کا دل شاد ہوا مگر اب وہ خود عجیب سی کیفیت کا شکار ہوچکا تھا۔۔۔ اُس لڑکی کی آنکھوں کے آنسو جس پر وہ خود اُس وقت ہنس رہا تھا اب یاد کر کے شیردل کا دل عجیب سی کیفیت میں گِھر چکا تھا شیردل ہانیہ کو ڈھونڈنا چاہتا تھا مگر وہ دوبارہ نہ جانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی تھی ایسا نہیں تھا کہ شیردل نے ہانیہ کو تلاش نہیں کیا ہر جگہ اُس نے ہانیہ کو ڈھونڈا مگر اُس دن کے بعد سے ہانیہ اسے دوبارہ نہیں دکھی
شیردل کو نہیں معلوم تھا کہ اگر وہ دوبارہ اُس کے سامنے آجاتی تو شیردل کیا کرتا وہ بالکل نہیں جانتا تھا وہ اپنے اندر پلنے والی اِس کیفیت سے یکسر انجان تھا، لیکن وہ چاہتا تھا کہ ہانیہ سے ایک بار مرتبہ دوبارہ اُس کا سامنا ہو پھر شاید وہ کبھی اُس کو اپنے سے دور نہیں جانے دے گا مگر کیا ایسا ممکن تھا؟ کیا ہانیہ اُس دن والی بےعزتی کے بعد اب اُس کی شکل دیکھنا چاہے گی؟ سیگریٹ کے ٹکڑے کو ایش ٹرے میں مسلتا ہوا وہ اضطرابی کی سی کیفیت میں اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساۓ بیٹھا تھا تبھی کمرے کا دروازہ بجنے لگا
“مالک میں ہوں”
شیردل کے پوچھنے پر دلاور کمرے کا دروازہ کھولتا ہوا بولا
“بتاؤ دلاور کیا خبر لائے ہو پتہ چلا اس لڑکی کے بارے میں”
شیردل کے لہجے میں عجیب سی بےچینی تھی وہ راکنگ چیئر سے اٹھ کر دلاور کی طرف قدم بڑھاتا ہوا پراُمید لہجے میں اس سے پوچھنے لگا
“مالک اس لڑکی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا اِس وقت وہ کہاں ہے کس حال میں ہیں کچھ معلوم نہیں”
دلاور اُس کی امیدوں پر پانی پھیرتا ہوا بولا تو شیردل نے دلاور کے دونوں شانوں پر اپنے ہاتھ جماۓ
“وہ اِسی دنیا کی باسی ہے مریخ سے نہیں آئی تو اسی دنیا میں موجود ہوگی دلاور معلوم کرو وہ لڑکی کہاں ہے پتہ لگاؤ اس کا مجھے وہ لڑکی ہر قیمت پر چاہیے تمہیں سمجھ میں آرہی ہے میری بات ہر قیمت پر تمہارے مالک کو وہ لڑکی چاہیے”
شیردل دلاور کے کندھوں پر دباؤ ڈالتا ہوا ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا
“برباد ہوچکی ہے وہ لڑکی مالک اپنے شوہر کے ہاتھوں اور آپ کے ہاتھوں اب اُس بےچاری کا پیچھا چھوڑ دیں اس کا خیال اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کریں”
دلاور شیردل کی کیفیت کو دیکھتا ہوا شیردل کو سمجھاتا ہوا بولا تو شیردل نے اس کے شانوں سے ہاتھ ہٹالیے
“وہ بےچاری ہے تمہیں اِس وقت میں بےچارا نہیں لگ رہا نہیں سوچو اُس کے بارے میں، اُس کے بارے میں نہیں سوچو تو پھر کیا سوچوں دلاور مجھے جواب دو کیا سوچوں میں،، میں اُس لڑکی کا پیچھا نہیں چھوڑ سکتا دلاور اُس کا پیچھا چھوڑ دیا، اس کو سوچنا چھوڑ دیا تو سمجھو پھر سب کچھ ختم شیردل کا سب کچھ ختم پھر شاید شیردل بھی ختم”
شیردل ہانیہ کو سوچ کر اتنا تھک چکا تھا کہ اُس کا اپنا آپ خود اپنے بس میں نہیں رہا تھا، دلاور کو اِس وقت اپنا مالک سچ میں بےچارہ لگا دلاور شیردل کی بےبسی محسوس کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“اگر وہ لڑکی دوباہ آپ کے سامنے آجاتی ہے تو کیا کریں گے آپ”
دلاور کے سوال پر شیردل کی آنکھوں میں ایسی چمک نمودار ہوئی جیسے شیردل کو کسی نے نئی زندگی کی نوید سنائی ہو
“قید کرلوں گا اسے دلاور ہمیشہ کے لئے اپنے پاس قید کرلوں گا تاکہ وہ دوبارہ میری دسترس سے دور جا ہی نہ جاسکے اُس کے لئے میری تڑپ تم نہیں سمجھ سکتے دلاور اُس کے ساتھ غلط کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مجھے اُس وقت احساس ہی نہیں ہوا کہ کتنی تکلیف دی ہے میں نے اس کو مگر اب اپنے گناہ کا سوچتا ہوں تو مر جانے کا دل کرتا ہے”
شیردل بےبسی سے بولا تو دلاور خاموشی سے اپنے مالک کو دیکھتا رہا کہاں چند دن پہلے سامنے کھڑا شخص اُسے عشق کی علامت کا بتاتا ہوا اُسے اس جھنجٹ سے بچنے کا مشورہ دے رہا تھا اور اِس وقت وہ خود سر سے پاؤں تک ایک ایسی لڑکی کے عشق میں ڈوبا ہوا تھا جسے وہ خود اپنے ہاتھوں برباد کرچکا تھا دلاور نے دراز سا میڈیسن باکس نکالا جس میں سے ٹرینگولائزر نکال کر وہ شیردل کی طرف بڑھا
“یہ لیجئے مالک اسے لے کر آپ کو وقتی طور پر سکون آجائے گا آپ کو ابھی سکون کی ضرورت ہے”
دلاور کے ہاتھ سے میڈیسن لیتا ہوا شیردل اُس کو پانی سے نگلنے لگا شاید دلاور صحیح بول رہا تھا اُس لڑکی کو سوچ اور اس کا دماغ بری طرح شل ہوچکا تھا اگر وہ وقتی سکون نہ لیتا تو اُس کی دماغ کی رگیں پھٹ جاتی
“آپ سے ایک اجازت بھی لینی تھی مالک، مشی بی بی کو پاس ہی مال میں کچھ کام ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو انہیں لے جاؤ یا پھر راشدہ کو بھی بول دو وہ بھی ساتھ جاکر بی بی کا سامان لے آۓ”
میڈیسن لےکر شیردل نے بیڈ پر لیٹنا چاہا تو دلاور جس کام کے لئے اُس کے پاس آیا تھا پوچھنے لگا
“میری بہن مجھے بہت زیادہ عزیز ہے دلاور اور دنیا میں اگر اِس وقت میں کسی پر بھروسہ کرتا ہوں تو فی الحال وہ تم ہو مشی کو اگر کہیں جانا ہے تو میں تمہیں اُس کی ذمہ داری سونپتا ہوں خیال رکھنا مشی کا”
شیردل کی بات سن کر دلاور اقرار میں سر ہلاتا ہوا کمرے سے نکل گیا
***
“ہانیہ بیٹا صائمہ بتارہی تھی آپ نے دوپہر میں کھانا نہیں کھایا۔۔۔ بیٹا ایسے تو آپ بیمار ہوجائیں گیں”
عزیر ہانیہ کے پاس آتا ہوا اس سے بولا جو فہیم کی تصویر اپنے ساتھ لئے بیٹھی تھی
“بیماری ہو جاؤں گی مر تو نہیں جاؤں گی آپ دعا کریں ناں میں بھی اپنے بابا کی طرح مر جاؤ اب اِس زندگی میں ان کے علاوہ کچھ نہیں بچا میرے پاس میں ہی تو اپنے بابا کی موت کی وجہ بنی ہوں اب زندہ رہ کر کیا کرو”
ہانیہ افسردہ لہجے میں عزیر کو دیکھتی ہوئی بولی تو عزیر اس بچی کی باتوں پر افسوس کرتا اسے سمجھانے لگا
“بیٹا آپ کی ایسی باتیں سن کر فہیم کی روح کو تکلیف پہنچے گی کوئی کسی کی موت یا جینے کی وجہ نہیں بنتا فہیم کا اتنا ہی وقت لکھا تھا اب میں آپ کے منہ سے ایسی ناامیدی کی باتیں نہ سنو”
جب وہ برباد اجڑی حالت میں پاکستان آئی تھی اور فہیم کو اُس کے ساتھ ہوئے حادثے کا پتہ چلا تو وہ اپنی بیماری کی بجائے بیٹی کی برباد حالت کا صدمہ لے کر دنیا سے جاچکا تھا آج اس کو مرے ہوئے پندرہ دن گزر چکے تھے عزیر ہانیہ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا تھا کیونکہ اُس کی ساری پراپرٹی اور گھر سب کچھ حسام اپنے نام کرچکا تھا
“ہانیہ بیٹا آپ سے مجھے آپ کی ماما کے سلسلے میں بات کرنا تھی آج اُن کی میرے پاس دوبارہ کال آئی تھی بیٹا آپ اپنی ماما سے ایک مرتبہ بات کرلیں”
عزیر ہانیہ کو ایک مرتبہ پھر سنجھاتا ہوا بولا تو ہانیہ فہیم کی تصویر رکھتی ہوئی عزیر کو دیکھنے لگی
“اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ پر بوجھ ہوں تو میں آج ہی آپ کے گھر سے چلی جاتی ہوں”
ہانیہ عزیر کی بات کا برا مانتی ہوئی اس سے بولی تو اس سے زیادہ برا عزیر نے اس کی بات کا مانا
“بیٹا فہیم میرا دوست نہیں میرے بھائی کی طرح تھا اور میں نے آپ کو ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا ہے آپ خود کو اکیلا محسوس کرتی ہیں تبھی میں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ اپنی ماما سے بات کرلیں لیکن آئندہ گھر سے جانے والی بات مت بولیے گا ورنہ میں آپ سے ناراض ہوجاؤں گا”
عزیر برا مناتا ہوا ہانیہ سے بولا تو ہانیہ بھی ایک دم بول پڑی
“پھر مجھے آپ بھی اُن سے ملنے کے لیے دوبارہ نہیں بولیے گا میری زندگی میں مجھے صرف اپنے بابا سے محبت تھی جو اب اِس دنیا میں نہیں رہے ہیں مجھے اب کسی دوسرے رشتے میں کوئی دلچسپی نہیں”
ہانیہ بےدلی سے بولتی ہوئی ان لوگوں کے بارے میں سوچنے لگی جس نے اُسے تباہی اور بربادی کے دہانے پر لا کھڑا تھا وہ حسام اور اس شخص کو کبھی معاف نہیں کرنے والی تھی جن دونوں نے اُس کو برباد کیا تھا نہ ہی اُسے رملہ سے ملنے کی کوئی خواہش تھی
***
“یہ تم میرے پیچھے پیچھے کہاں آرہے ہو دلاور”
مشی مال کے اندر داخل ہوکر اپنے ساتھ چلتے دلاور کو دیکھتی اُکتائے ہوئے لہجے میں بولی
“مالک نے اسی شرط پر آپ کو باہر نکلنے کی اجازت دی ہے کہ میں آپ کے ساتھ ساتھ رہو اور ہمارے درمیان بھی تو یہی بات طے ہوئی تھی بی بی”
دلاور مشی کو یاد دہانی کرواتا بولا وہ مشی کے چہرے سے اندازہ لگا سکتا تھا اُس کی بات پر مشی کا موڈ خراب ہوچکا ہے ورنہ ابھی تک گاڑی میں اس کا موڈ کافی خوشگوار تھا
“کیا اب مجھے اپنی ذاتی چیزوں کی شاپنگ تمہارے سامنے کرنا پڑے گی دلاور، کیا تم سمجھتے نہیں ہو لڑکیوں کے استعمال کی چیزوں سے میرا کیا مطلب ہے فول”
مشی غصہ دباتی ہوئی دلاور سے پوچھنے لگی وہ جس شاپ کے سامنے کھڑی تھی دلاور کی نگاہیں شاپ پر پڑی جہاں مخصوص زنانہ چیزوں کی بھرمار تھی جسے دیکھ کر وہ مشی سے نظریں چرا گیا
“میں باہر ہی آپ کا انتظار کرتا ہوں آپ کو جو لینا ہے وہ لےکر جلدی آجائیں پھر ہم گھر چلتے ہیں”
دلاور مشی سے نظر ملائے بغیر پورے مال کا جائزہ لیتا ہوا مشی سے بولا، تو مشی نے اِسی میں اپنی عافیت جانی وہ شاپ کے اندر چلی گئی جہاں اُس نے پہلے ہی دانیال کو جاتا دیکھ لیا تھا
“اس دم چھلے کو اپنے ساتھ کیوں چپکا کر لائی ہو”
دانیال تپے ہوۓ انداز میں مشی کو دیکھ کر بولا ساتھ ہی اُس نے شاپ کیپر کو اشارہ کیا وہ اُن دونوں کو شاپ کے اندر بنے ہوئے ایک روم کی طرف لے جانے لگا
“اکیلی نہیں آسکتی تھی اور تم نے مجھے آنے کا کہا تھا دیکھو میں نے تمہارا کہا مان لیا اتنا ہی کافی ہونا چاہیے تمہارے لیے”
شاپ کیپر کے وہاں سے جانے کے بعد مشی دانیال سے بولی خالی کمرہ دیکھتے ہی دانیال نے مشی کو اپنی جانب کھینچ کر باہوں میں لےلیا مشی دانیال کی اس حرکت پر بری طرح بوکھلائی
“یہ کیا کررہے ہو دانیال چھوڑو مجھے”
مشی دانیال سے بولتی ہوئی خود اپنا آپ دانیال سے چھڑانے لگی مگر دانیال اس کو چھوڑے بناء مشی سے بولا
“مجھے معلوم تھا تم میرے بلانے پر ضرور آؤ گی مشی کیوکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو اور آج یہ بات بھی جان گیا ہو تم میری خاطر کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہو کیو سچ بول رہا ہوں میں”
دانیال مشی کا خوبصورت چہرہ دیکھتا ہوا اسے پوچھنے لگا تو مشی دانیال کی بات سن کر اپنی پلکیں جھکا گئی
“سنو میری جان اگلے اتوار کے دن تمہیں اِسی طرح بہانہ بناکر میرے گھر آنا ہوگا جہاں میرے پیرنٹس اور میں تمہارا انتظار کریں گے ہوسکتا ہے میرے پیرنٹس کی موجودگی میں ہمارا نکاح بھی ہوجائے”
دانیال اُسے باہوں میں لئے اپنا ارادہ بتانے لگے تو مشی حیرت سے دانیال کو دیکھنے لگی
“یہ بہت بڑا قدم ہے دانیال میں اپنی فیملی کے بغیر ایسے کیسے کرسکتی ہوں”
مشی دانیال کی بات سن کر گھبراتی ہوئی بولی
“یار مسئلہ صرف تمہارے بھائی کا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے پیرنٹس کو انکار کرے اور اگر تمہارا بھائی اس رشتے سے انکار کردیتا ہے تو نکاح کرنے کے بعد ہمارا رشتہ اتنا مضبوط ہوگا کہ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری شادی کرنا پڑے گی کیوکہ ہمارا نکاح پہلے سے ہوا ہوگا”
دانیال کی بات سن کر مشی خاموش ہوگئی تو دانیال مسکرا دیا کیوکہ مشی کی خاموشی مطلب اس کی نیم رضامندی تھی وہ مشی کو باہوں میں لیے مشی کے چہرے پر جھکنے لگا مشی کے روکنے سے پہلے اچانک کمرے کا دروازہ کھلا
“دلاور”
دلاور کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر مشی ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹی تو دانیال نے بھی مشی کو چھوڑ دیا دلاور مشی کو نظر انداز کرتا دانیال پر لپکا اور اس کے چہرے اور پیٹ پر یک کے بعد دیگرے مُکّے برساتا چلاگیا
“اپنے غلیظ ہاتھوں سے کیسے چھوا تُو نے اِسے بول۔۔۔ نہیں چھوڑو گا آج تجھے، تیرے یہ دونوں ناپاک ہاتھ توڑ ڈالوں گا جس سے تُو نے اسے چھونے کی ہمت کی”
دلاور جنونی کیفیت میں دانیال پر مُکّے برساتا اس کے پیٹ میں لاتے مارتا بری طرح چیخا مشی خوف سے دلاور کو پہلی مرتبہ اِس قدر غصے میں دیکھ رہی تھی
“تیری کون لگتی ہے جو تجھے اتنا برا لگ رہا ہے پیچھے ہٹ سالے”
دانیال دلاور کو مار تو نہیں پایا پیچھے دھکیلتا ہوا بولا دلاور کی طاقت کے آگے دانیال مشکل سے ہی خود کو اُس کی مار سے بچا پارہا تھا
“یہ محبت ہے میری سنا تُو نے۔۔۔ دلاور کی محبت ہے یہ لڑکی اگر تُو نے یا کسی نے بھی اِس پر میلی نظر رکھی تو زندہ نہیں چھوڑے گا دلاور مار ڈالے گا اُسے۔۔۔ مار ڈالے گا۔۔۔ جان لے لے گا اُس کی”
دلاور نے طیش کے عالم میں بولتے ہوئے دانیال کو مزید پیٹنا شروع کردیا جبکہ مشی دلاور کے منہ سے ایسی بات سن کر سُن کھڑی اُسے دانیال کو مارتا دیکھتی رہ گئی
جب دلاور نے غصے کے عالم میں آدھ موئے پڑے دانیال کی کنپٹی پر ریوالور رکھی تو خوف سے مشی کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں دانیال کی مدد کی پکار پر کمرے کے اندر دو تین افراد آۓ اور دلاور سے دانیال کو بچاتے اُس کو وہاں سے لے گئے۔۔۔ اِس وقت اُس جگہ پر مشی اور دلاور دونوں ہی اکیلے موجود تھے دلاور نے ایک نظر مشی کے چہرے پر ڈال کر ریوالور فوراً اس کی انکھوں سے اوجھل کیا جو حیرت بھری نظروں سے اُس کی ریوالور کو دیکھ رہی تھی
دلاور اپنے چہرے پر آیا پسینہ ہاتھ سے صاف کرنے کے بعد بکھرے بال سنوارتا ساتھ ہی گریبان درست کرکے مشی کے پاس چلا آیا
“چلیے بی بی اب ہمہیں گھر چلنا چاہیے”
اِس وقت اُس کا چہرا شدید غُصّے اور ضبط سے سُرخ ہورہا تھا غصہ اسے مشی پر تھا جسے وہ ضبط کیے ہوئے تھا وہ گھر سے جھوٹ بول کر نکلی تھی اور کسی نامحرم کی بانہوں میں یوں۔۔۔ سوچ کر ہی دلاور کا خون کھول رہا تھا مگر وہ حق نہیں رکھتا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کو کچھ بول سکے
“پہلے یہ بتاؤ تھوڑی دیر پہلے کیا بکواس کی تھی تم نے دانیال کو مارتے ہوئے”
مشی اُس کے غصّے کی پرواہ کیے بغیر دلاور سے بولی تو دلاور نے سرخ آنکھوں سے مشی کو دیکھا اور ضبط سے اپنے لب بھینچ کر سر جھکالیا آج اُس کے منہ سے اِس لڑکی کے سامنے وہ راز فشاں ہوچکا تھا جس کو شاید اُس نے اپنے دل میں رکھنے کی ٹھانی تھی مگر اُس وقت دلاور کو اتنا شدید غصّہ تھا کہ وہ غصّے میں کیا کچھ بول گیا تھا اُسے خود اندازہ نہیں ہوا
“آپ کو عدالت لگانی ہے گھر چل کر لگالیے جس میں مجرم بن کر میں کٹہرے میں کھڑے ہونے کے لئے تیار ہوں مگر یہاں تماشہ مت لگائیے بی بی گھر چلیں خدارا”
دلاور مشی سے بولتا ہوا اُس کے چلنے کا انتظار کرنے لگا مگر مشی اُس کو دیکھتی ہوئی غصّے میں بولی
“اگر میرا بھائی تم پر بھروسہ کرتا ہے تو تم میرے بھائی کے اعتبار کو اِس طرح چکنا چور کرو گے کہ اُسی کی بہن بری نظر رکھو، اگر دو گھڑی میں نے تم سے ہنس کر بات کرلی تو اپنی اوقات بھول جاو گے تم۔۔۔ سنو دلاور تم میرے بھائی کے قریب ضرور ہو مگر اُس کے ملازم ہو تمہارا مجھ پر کوئی حق نہیں بنتا نہ ہی تمہیں اختیار ہے کہ تم یوں مجھے۔۔۔
مشی نے اپنا جملہ ابھی مکمل نہیں کیا کہ دلاور چہرے پر خطرناک تیور لئے ہاتھ میں ریوالور پکڑے اُس کی جانب قدم بڑھائے جس پر مشی کی بولتی بند ہوئی دلاور کے ہاتھ میں اسلحہ اور چہرے کے خطرناک تیور دیکھ کر وہ بےساختہ دو قدم پیچھے ہوکر دیوار سے جالگی دلاور اس کے اس قدر قریب آکر کھڑا ہوا کہ مشی بالکل خاموش اپنا سر اونچا کیے دلاور کا چہرہ دیکھنے لگی
“آپ کے بھائی کے پاس نوکری کرتے ہوئے کبھی میں اپنی اوقات نہیں بھولا نہ کبھی اُن کے بھروسے کو توڑا ہے، نہ کبھی آگے زندگی میں اُن کے اعتبار کو ٹھیس پہچا سکتا ہوں۔۔۔ رہی آپ کی بات تو بتائیے مجھے اگر میں نے کبھی آپ کے ساتھ کوئی گستاخی کی ہو یا آپ کے ساتھ کوئی گری ہوئی حرکت کی ہو یا آپ کو لگا کہ دلاور نے آپ پر بری نظر رکھی ہو جواب دیں بی بی اگر ایسا ہے تو ابھی یہی اسی وقت اس ریوالور سے دلاور خود کو ختم کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا لیکن آپ حق اور اختیارات کی بات مت کریں اگر آج دلاور کے پاس حق ہوتا یا اُسے اختیارات حاصل ہوتے تو دلاور آج آپ کی اِس حرکت پر آپ کے ساتھ وہ کرتا کہ آپ آئندہ دوبارہ جھوٹ بول کر گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کرتیں”
دلاور نے بناء آنکھیں جھکائے مشی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ بات بولی جس پر مشی کے چہرے پر غصّے کا ایک رنگ آیا اور دوسرا جانے لگا اُس نے آگے بڑھ کر دلاور کا گریبان پکڑا
“وہ حق اور اختیارات تم اپنی زندگی میں کبھی حاصل نہیں کرسکتے سنا تم نے زندگی میں کبھی ایسا وقت آیا کہ تم مشی پر اپنا حق جتاؤ تو اُس سے پہلے مشی موت کو گلے لگانا پسند کرے گی سمجھے تم”
مشی غُصّے میں سے بولتی ہوئی اُس کا گریبان چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی دلاور ضبط کرتا سرخ چہرہ لئے ریوالور کو واپس اپنے پاس رکھتا گاڑی تک آیا اور ہمیشہ کی طرح احتراماً مشی کے لیے گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا
گاڑی میں بیٹھنے کے ساتھ ہی مشی نے اپنا رُخ دوسری جانب پھیرلیا دلاور نے ایک نظر اُس سنگ دل پر ڈال کر گاڑی کا دروازہ بند کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کی
“سائیڈ پر گاڑی روکو جاؤ میرے لیے فریش جوس لےکر آؤ”
مشی جان بوجھ کر گاڑی رکواتی ہوئی دلاور کو حکم دیتی بولی تاکہ دلاور کو احساس دلاسکے کہ اُس کی نظر میں دلاور کی حیثیت ملازم سے زیادہ نہیں دلاور سائیڈ پر گاڑی روک کر مشی کے لیے جوس لےکر گاڑی تک آیا جتنی دیر مشی نے جوس پینے میں لگائی دلاور گاڑی سے باہر کھڑا سیگریٹ پھونکتا رہا جب وہ دوبارہ ڈرئیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تو مشی کو گاڑی میں خاموشی کھلنے لگی
“سی ڈی پلیئر ان کردو”
دلاور نے اُس کا حکم مانتے ہوۓ سسٹم ان کردیا
Hum tumhay chahtay hain ayse… Marnay wala koi zindagi chata ho jaise… Hum tumhay chahtay hain ayse…
Zinadgi bin tumhare adhori…. zindagi bin tumharay adhori….
Tum ko paa loo ager….
Tum ko paa loo ager…
har kami meri ho jaye pori…. zinadagi bin tumharay adhori….
گانے کے بول سن کر مشی غصے سے ضبط کرتی گاڑی سے باہر دیکھنے لگی جبکہ دلاور بیک ویو مرر سے زخمی نگاہ اُس کے چہرے پر ڈال کر سونگ چینج کرچکا تھا
Ager tum mil jaao zamana chor dain ge hum…
Tumhay paa k zamanay bhar se rishta tor de ge hum…
گانے کے بول سن کر بےساختہ دونوں کی نظروں کا بیک ویو مرر میں تصادم ہوا تو دلاور نے فوراً سی ڈی پلیئر بند کردیا
***
“حسام کیا ہوا ہے تمہیں آخر کیوں اتنے خاموش رہنے لگے ہو اب تو ہمارے پاس سب کچھ ہے کیا تمہیں تمہاری بیوی تو یاد نہیں آرہی”
ہانیہ کی تمام پراپراٹی ضبط کرنے کے بعد واپس پاکستان آکر حسام مہرین سے شادی کرچکا تھا شادی کے ہفتے بھر تو مہرین نے حسام کو اپنے ساتھ خوش دیکھا مگر اب وہ کچھ چپ چپ سا رہنے لگا تھا
“میرے چپ رہنے کی وجہ وہ نہیں جو تم سمجھ رہی ہو میں کچھ اور سوچ رہا ہوں ہانیہ کا چیپٹر اب کلوز ہوچکا ہے پلیز اب اس کے بارے میں ہمارے درمیان اب ڈسکشن نہیں ہونا چاہیے”
حسام مہرین کو ٹالتا بولا کیوکہ مہرین بات کی کھال نکالنے والی اور شکی فطرت لڑکی تھی وہ ہانیہ کے موضوع کو لےکر بلاوجہ مہرین سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے اُس کی بات کو غلط ثابت کرنے کے غرض سے بولا
لیکن اندر ہی اندر چند دنوں سے اُسے عجیب سے گلٹ کا احساس ہورہا تھا ہانیہ کا جب بھی خیال آتا اُسے اچھی خاصی شرمندگی ہوتی جو کچھ اُس نے اُس لڑکی کے ساتھ کیا صحیج نہیں تھا وہ اب بھی سوچوں میں گم ہانیہ کو سوچ رہا تھا جبکہ مہرین جلتی ہوئی حسام کو دوبارہ سوچوں میں گم دیکھ رہی تھی
***
“ہانیہ کے لیے میں بہت خوش ہوا عزیر کتنے بڑے گھر سے کتنا اچھا رشتہ آیا ہے اس بچی کا سب سے بڑی بات ہانیہ کے ساتھ ہوئی ٹریجیڈی کے بارے میں معلوم ہونے کے باوجود بیرسٹر صدیقی ہانیہ کی اپنے بیٹے ہاشم سے شادی کرنا چاہتے ہیں”
تھوڑی دیر پہلے چائے پر بیرسٹر صدیقی اپنی فیملی کے ساتھ ڈاکٹر عزیر کے گھر آئے تھے اور اپنی مدعا بیان کرکے جاچکے تھے جس کے بعد عزیر کی بیوی صائمہ خوشی خوشی اپنے شوہر سے بولی
“کیا ہوا عزیر آپ خوش نہیں ہیں ہانیہ کے لئے۔۔۔ کیا سوچنے بیٹھ گئے”
صائمہ کی بات پر عزیر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا تو صائمہ اُس سے پوچھنے لگی اب کی بار صائمہ کی بات پر عزیر اُس کو دیکھتا ہوا بولا
“میں نے بیرسٹر صدیقی کی باتوں سے اندازہ لگایا ہے صائمہ کے اُن کو ہانیہ کو اپنے گھر کی بہو بنانے سے زیادہ دلچسپی اُس کی پراپرٹی میں تھی، جو حسام نے ضبط کرلی ہے وہ رشتے کی بجائے بار بار حسام کے خلاف دھوکے بازی کا مقدمہ دائر کرنے کی بات کررہے تھے مجھے ایسا لگا جیسے انہیں ہاشم اور ہانیہ کے رشتے سے زیادہ انٹرسٹ پراپرٹی اور مقدمے میں ہے”
عزیر جو کچھ بیرسٹر صدیقی کے بارے میں سوچ رہا تھا اپنی بیوی سے اپنے خیالات شیئر کرتا بولا
“بھئی وہ بریسٹر ہے ان کا جو پروفیشن ہوگا وہ اُسی کے متعلق تو بات کریں گے اور کیا برا ہے اِس میں اگر ہانیہ کا اُس کو حق مل جائے گا تو”
صائمہ عزیر کو اپنی بات سمجھاتی ہوئی بولی
“نہیں صائمہ بات صرف یہ نہیں ہے جو کچھ ہانیہ سہہ چکی ہے میں نہیں چاہتا اب اُس معصوم بچی کو مزید کچھ برداشت کرنا پڑے جو کوئی بھی ہانیہ کو صرف دل سے اپنائے گا بناء کسی غرض یا فائدے کے میں ہانیہ کی شادی اُسی سے کرواؤں گا اور ویسے بھی پچھلے سال ہاشم پر کوئی کیس چلا تھا جس کے لیے بیرسٹر صدیقی کافی زیادہ پریشان تھے، میں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا نہ ہی اب کی بار ہانیہ کے لئے کوئی رسک لے سکتا ہوں”
عزیر صائمہ کو بتا رہا تھا تبھی اُس کی نظر ہانیہ پر پڑی جو دروازے پر کھڑی خاموشی سے اُس کی باتیں سن رہی تھی عزیر اپنے ہانیہ کو دیکھ کر اشارے سے اپنے پاس بلایا تو صائمہ بھی ہانیہ کی طرف متوجہ ہوئی ہانیہ عزیر کے پاس آکر بیٹھ گئی
“انکل میں جانتی ہوں آپ میرے لئے جو بھی سوچیں گے اچھا ہی سوچیں گے لیکن سچ بات تو یہ ہے میں اندر سے ڈر گئی ہوں دوبار شادی کے نام سے کیا ضروری ہے یہ شادی کرنا”
ہانیہ عزیر کو دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“بیٹا ایک تلخ تجربے کو دیکھ کر آپ اپنے دل میں یہ سوچ نہیں بٹھاۓ کہ دوسری بار بھی خدا ناخواسطہ آپ کے ساتھ برا ہوگا آپ اچھے کی اُمید رکھیں اور بھروسہ رکھیں میں آپ کا ہاتھ کسی ایسے انسان کے ہاتھ میں نہیں پکڑاؤ گا جو آپ کی قدر نہیں کرسکے اور بیٹا ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کا گھر بسا دیکھے اور اس کو خوش دیکھے آپ خود دیکھئے گا جب آپ اپنی شادی شدہ زندگی میں خوش ہوگیں تو حسام کی بےوفائی کو برا خواب سمجھ کر بھول جائیں گیں”
عزیر کے سمجھانے پر ہانیہ خاموش ہوگئی
***
مجھے نیند کی طلب نہیں، مگر راتوں کو جاگنا اچھا لگتا ہے۔۔۔
مجھے معلوم نہیں وہ میری قسمت ہے یا نہیں، مگر اسے بار بار خدا سے مانگنا اچھا لگتا ہے۔۔۔
کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ کر وہ اسموکنگ کررہا تھا تب اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس پر شیردل نے پلٹ کر دیکھا تو رملہ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی وہ عام دنوں کے مقابلے میں آج اُسے کچھ پریشان اور بجھی بجھی لگ رہی تھی
“کیا ہوا آپ کو؟ کیا کوئی مسئلہ درپیش آیا ہے”
شیردل اپنے اوپر چھائے اداسی کی کیفیت سے وقتی طور پر نکلتا ہوا رملہ سے اُس کے بارے میں پوچھنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا رملہ کا اُس کے کمرے میں آنا بےسبب نہیں تھا
“چہرا دیکھ کر دل کا حال جاننا صرف تم ہی اِس فن سے واقف نہیں ہو، میں بھی جاننا چاہتی ہوں تمہارے ساتھ کیا مسئلہ درپیش آیا ہے کیوکہ تم اِس قدر خاموش ہوچکے ہو اور الجھے الجھے دکھائی دیتے ہو جب سے ملیشیا سے واپس آئے ہو یہ بکھرا حلیہ، بےجا اسموکنگ، خود کو کمرے میں بند رکھنا، آفس سے جلدی واپس آجانا آخر کیا وجہ ہے اِن سب حرکات کے پیچھے”
رملہ کمرے میں موجود کرسی پر بیٹھتی ہوئی شیردل سے پوچھنے لگی
“ویری نائس یعنی آج آپ اپنا کوئی مسئلہ ڈسکس کرنے نہیں آئی بلکہ مجھ سے میرے حال کے بارے میں پوچھنے آئی ہیں”
شیردل ہاتھ میں پکڑی ہوئی سیگریٹ جوتے سے مسلتا ہوا بولا تو رملہ اُس کو دیکھنے لگی
“دل کی بات شیئر کرنے سے دل کا بوجھ ختم نہ سہی کم ضرور ہوجاتا ہے، شاید تمہارے مسئلے کا ہی کوئی حل مل جائے”
رملہ نرمی برتی ہوئی شیردل سے بولی کیونکہ پچھلے بیس دنوں سے اُس کی جو حالت ہوچکی تھی وہ قابل غور تھی
“دل کا بوجھ کم نہیں ہوگا اس کی باتیں دل کا بوجھ مزید بڑھا دیتی ہیں آپ کے پاس میرے مسئلے کا حل نہیں میرا مسئلہ اُس کی تلاش ہے جو آپ سے ڈسکس کرنے سے حل نہیں ہوسکتا”
شیردل رملہ کے سامنے کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا تو رملہ غور سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی
“کون ہے وہ”
رملہ کے پوچھنے پر شیردل کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات پتھریلے ہوۓ
“وہی جس کو داغدار کردیا میں نے جس کا دل دکھاتے ہوۓ یہ احساس مجھے چھو کر نہیں گزرا کہ بعد میں، میں خود اُس کے لیے کتنا تڑپو گا اور اوپر والے نے بالکل صحیح کیا میرے ساتھ اُس کی محبت میرے دل میں پیدا کرکے میری پہنچ سے دور کردیا اسے لیکن میں بہت تکلیف میں ہوں اندر ہی اندر کھُل رہا ہوں ختم ہورہا ہوں روز اوپر والے سے معافی مانگتا ہوں دعا کرتا ہوں وہ مجھے مل جاۓ لیکن اُسے مجھ پر ترس نہیں آتا”
وہ جوان پورا مرد نم آنکھوں سے رملہ کے سامنے اپنے گناہ اور محبت دونوں کا اعتراف کررہا تھا رملہ خاموشی سے اس کو دیکھنے لگی وہ شیردل کی بےبسی محسوس کرسکتی تھی مگر اُس کے لیے کچھ کر نہیں سکتی تھی وہ شیردل کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ جس لڑکی کو اُس نے داغدار کیا اگر وہ لڑکی اُس کو مل بھی جاتی تو اُس کو کبھی معاف نہیں کرتی رملہ خاموشی سے واپس جانے لگی
“نذیر بتارہا تھا آپ دو مرتبہ ڈاکٹر عزیر کی طرف گئی تھیں”
شیردل کی آواز پر رملہ کے قدم رکے گھر کے تمام ملازمین شیردل سے وفادار تھے اُسے ہر چھوٹی خبر سے باخبر رکھتے تھے
“ہانیہ سے ملنے گئی تھی فہیم کی ڈیتھ کے بعد بہت فکر رہنے لگی ہے مجھے اُس کی”
رملہ افسردگی سے شیردل کو بتانے لگی شیردل کو یہ معلوم تھا ہانیہ رملہ کے پہلے شوہر فہیم کی بیٹی کا نام ہے جسے نہ تو اُس نے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ اُسے دیکھنے کا تجسس ہوا فہیم کی موت کی خبر سن کر وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوا پھر رملہ کے اداس ہونے کی وجہ شیردل کے دماغ میں آئی
“اگر آپ اپنی بیٹی کے اکیلے ہوجانے پر پریشان ہیں تو بےشک اُسے یہاں اپنے پاس بلالیں”
شیردل کو رملہ کی پریشانی کا یہی حل سمجھ میں آیا تبھی وہ اس کو مشورہ دیتا ہوا بولا جس پر رملہ افسردگی سے مسکرائی
“تمہارا غم اور میرا غم ملتا جلتا ہی ہے شیر۔۔۔ جس کو تم نے برباد کیا اُس کی محبت تہمارے دل تمہارے وجود میں سرائیت کرگئی ہے، تم تڑپ رہے ہو مگر وہ تمہیں درکار نہیں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے میں نے بھی ہانیہ کو پیدا کیا وہ میرے وجود کا ہی حصہ تھی میں نے دنیا کی چکا چوند کے آگے اسے تب نظر انداز کیا جب اسے میری ضرورت تھی اب اُس کے لیے میرا دل تڑپتا ہے مگر وہ میری شکل دیکھنے کی روادار نہیں دنیا میں اکیلے رہنے کے باوجود وہ میرے پاس آنا تو دور کی بات مجھ سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں”
رملہ نم آنکھیں اور بھراۓ لہجے میں بولتی شیردل کے کمرے سے نکل گئی
***
