Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Justajoo Thi Khas (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas (Episode 19)
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
“تم کہنا کیا چاہ رہے ہو دلاور مشی یہاں کیسے ہوسکتی ہے اُس کو تو ہم نے تمہیں نکاح میں دے کر تمہارے سپرد کیا تھا پھر بھلا وہ یہاں کیوں موجود ہوگی”
شیردل دلاور کی بات سن کر حیران ہوتا اس سے بولا جبکہ صوفے پر بیٹھی رملہ پہلو بدل کر رہ گئی مگر اُس کو شیردل کی طرح حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونہی انجان بنے رہنا تھا لیکن دلاور جن نظروں سے اُس کے سامنے صوفے پر بیٹھا اُس کو دیکھ رہا تھا وہ کافی نروس فیل کررہی تھی
“تین دن پہلے مشی میرے گھر سے مجھے بتائے بغیر رات کو نکلی تھی اور انٹی بہتر جانتی ہیں کہ وہ اِس وقت کہاں پر ہے کیونکہ اُس نے میرے موبائل سے انہی کے نمبر پر کال کی تھی، میں آپ سے نہیں بلکہ اپنی بیوی کے متعلق انٹی سے پوچھنے آیا ہوں کہ وہ اِس وقت کہاں پر ہے”
دلاور شیردل سے بولا تو شیردل حیرت سے رملہ کو دیکھنے لگا جو اپنی گھبراہٹ چھپائے دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی
“مگر مجھے تو مشی نے کوئی کانٹیکٹ نہیں کیا ضرور تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی میں نہیں جانتی مشی اِس وقت کہاں ہے”
رملہ اپنی گھبراہٹ چھپائے اعتماد سے بولی جس پر دلاور دوبارہ بولا
“لیکن میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ ہی مشی کے بارے میں جانتی ہیں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے خفا ہوکر مجھے چھوڑ کر گئی ہے میں اُس کے لیے پچھلے تین دن سے فکر مند اِس لیے نہیں تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا وہ اپنے گھر میں نہیں تو کہیں ایسی سیو جگہ موجود ہوگی جس کا آپ کو ہی علم ہوگا لیکن اب میں اُسے واپس اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آیا ہوں آپ پلیز مجھے مشی کے بارے میں بتادیں”
دلاور کی بات پر اِس سے پہلے رملہ دوبارہ انکار کرتی ایک دم شیردل غُصہ میں بھرا سخت لہجے میں بولا
“میرے ہی گھر میں میری ناک کے نیچے یہ چل کیا رہا ہے کہاں ہے مشی”
شیردل رملہ کو دیکھ کر سخت لہجے میں اُس سے پوچھنے لگا جس پر وہ اندر ہی اندر ڈر گئی مگر اپنی بات پر اڑی رہی
“مشی کو تو ہم نے اِس کے حوالے کیا تھا مشی اِس کے گھر سے غائب ہوئی ہے تو یہ سوال تمہیں اِسی سے کرنا چاہیے ابھی اِس نے خود بولا تھا کہ مشی اِس سے خفا ہوکر اس کے گھر سے نکلی ہے پوچھو اِس سے کہ آخر اِس نے ایسا کیا کردیا کہ وہ یوں اِس کا گھر چھوڑ کر چلی گئی” رملہ شیردل کے سخت لہجے میں پر بھی بےخوفی سے بولی
“ضرور پوچھوں گا اِس سے بھی اپنی بہن کے متعلق پوچھوں گا مگر پہلے آپ کو میرے سوال کا جواب دینا ہوگا مشی اِس وقت کہاں پر ہے”
اگر دلاور اتنے کانفیڈنس سے بول رہا تھا کہ مشی کے متعلق رملہ جانتی ہے تو شیردل کو پورا یقین تھا وہ صحیح بول رہا تھا شیردل اپنا غصہ دبائے رملہ سے بولا جس پر رملہ نے اُسے دیکھے بغیر کہا
“میں نے کہا مجھے علم نہیں”
وہ لاپرواہ انداز میں بولتی ہوئی نحوست سے چہرے کا رخ پھیر گئی جیسے ہال میں موجود اُن دونوں مردوں سے وہ خفا ہو دلاور اب بالکل خاموش صوفے پر بیٹھا ہوا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا شیردل اب مشی کے بارے میں رملہ سے پوچھ کر ہی دم لے گا
“آپ کو اِس بات کا علم ہے کہ آپ ماضی کی ایک فلاپ ایکٹریس کیوں رہی ہیں کیونکہ سچویشن کے حساب سے آپ کی ایکٹنگ بالکل اوور ہوجاتی ہے، جیسے کے اِس وقت”
شیردل کو رملہ پر مزید غصہ آیا تھا وہ پہلے ہی اپنے اور ہانیہ کے رشتے کو لے کر پریشان تھا اور رملہ نے اُس کے لیے ایک نئی پریشانی لا کھڑی کردی تھی
“مجھ سے تمیز سے بات کرو شیر میں تمہیں خود سے بدتمیزی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گی”
رملہ شیردل کی بدتمیزی پر اُسے انکھیں دکھاتی ہوئی سخت لہجے میں بولی شیردل رملہ کو نظر انداز کرتا ہوا راشدہ کو آواز دینے لگا
“جاؤ جاکر اپنے بھائی کو بلا کر لاؤ فوراً”
شیردل جان گیا تھا رملہ اب ضد میں آکر اُس کو کچھ نہیں بتانے والی تھی اس نے راشدہ سے قیوم کو جبھی بلوایا تھا کیونکہ پچھلے تین دن سے رملہ کے کام وہی کررہا تھا جبکہ قیوم کے ہال میں آنے پر رملہ نے ایک بار پھر بےچینی سے پہلو بدلا
“مالک آپ نے مجھے بلایا”
قیوم نے ایک نظر دلاور پر ڈالی پھر رملہ کو دیکھتا ہوا وہ شیردل سے بولا تو شیردل صوفے سے اٹھ کر اُس کے سامنے آکھڑا ہوا شیردل کے پتھریلے تاثرات دیکھ کر قیوم کی سٹی گم ہوئی تھی شیردل نے بناء کوئی بات بولے قیوم کے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کیا جس پر رملہ اچھلی اور بری طرح سے سہم گئی جبکہ دلاور ویسے ہی خاموش بیٹھا رہا کیوکہ وہ شیردل کے اِس انداز سے اچھی طرح واقف تھا
“کیا غلطی ہوگئی مجھ سے مالک”
اپنے دائیں گال پر ہاتھ رکھے شیردل کو مخاطب کرتے ہوئے اُس نے ترچھی نظر رملہ پر ڈالی جو کہ اُس کو بری طرح گھور رہی تھی
“میرا نمک کھا کر مجھی سے حرا می پن کرنے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہاں پر ہے مشی”
شیردل روعب دار لہجے میں قیوم کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر وہ گھبراہٹ طاری کیے رملہ کو دیکھنے لگا شیردل نے دوسرا طماچہ اس کے اُسی گال پر رسید کیا اور گریبان پکڑ کر قیوم کا رُخ اپنی طرف کیا
“وہاں نہیں یہاں مجھے دیکھ کر جواب دو میری بہن اِس وقت کہاں موجود ہے ورنہ میں تمہاری کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا”
شیردل کو جلال میں آتا دیکھ کر اور قیوم کی حالت پتلی دیکھ کر رملہ سمجھ چکی تھی اُس کا جھوٹ اب کھلنے والا ہے
“چھوٹی بی بی کو تو میں بڑی بیگم صاحبہ کے فلیٹ میں چھوڑ کر آیا تھا جی انہی کے کہنے پر”
قیوم زمین پر نظریں جھکا کر شیردل سے بولا تو رملہ جیسے اُسی پل شرمندگی کے مارے زمین میں گڑھ گئی دلاور ایک نظر رملہ پر ڈال کر شیردل کو دیکھنے لگا جو اب باآواز نذیر کو پکار رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر میں وہاں نذیر پہنچ گیا
“نذیر جاؤ جاکر چھوٹی بی بی کو یہاں لے کر آؤ اور اسے بتاؤ کہ یہاں اُسے میں نے بلایا ہے”
قیوم کو اپنی نظروں کے سامنے سے دفع کر کے وہ نذیر کو مشی کو لینے بھیج چکا تھا اور خود واپس صوفے پر آ بیٹھا۔۔۔ تلخ نگاہ اس نے رملہ پر ڈالی دوسری سنجیدہ نگاہ دلاور پر ڈالتا ہوا وہ دلاور سے پوچھنے لگا
“کیا وجہ تھی یوں مشی کے گھر چھوڑ کر جانے کی”
اب کی بار سوال دلاور سے ہوا تھا دلاور سمجھ گیا اب مرحلہ اُس کے امتحان دینے کا تھا دلاور گلا کھنگار کر کچھ بولتا اُس سے پہلے رملہ بول پڑی
“ہاتھ اٹھایا تھا اِس نے مشی پر اسے اپنے پاس قید میں رکھا ہوا تھا اِس نے”
رملہ کے بولنے پر شیردل حیرت کرتا دلاور کو دیکھنے لگا یہ پہلا موقع تھا جب دلاور شرمندہ ہوکر اُس سے نظر چرا گیا تھا
“یہ سارا عمل ایک غلط فہمی کے نتیجے میں ہوا تھا”
اس نے نظر ملائے بغیر آہستہ آواز میں شیردل کو بتانا چاہا کہ وہ بےقصور تھا دلاور کی بات سن کر رملہ ایک مرتبہ پھر بولی
“تم جانتے ہو دلاور میں نے مشی کو اپنی بیٹی سمجھ کر پالا ہے اور تم یہ بھی جانتے ہوگے میں نے اُس کا نکاح تم سے کس لیے پڑھوایا تھا کیونکہ میں نے تمہاری آنکھوں میں اُس کے لیے محبت ہی نہیں اُس کا احترام بھی دیکھا تھا جو تم شادی کے بعد قائم نہیں رکھ سکے اِس وجہ سے مجھے آج اپنے فیصلے پر سخت افسوس ہورہا ہے”
رملہ کی بات پر دلاور نے اپنی نظریں اٹھاکر رملہ کو دیکھا جبکہ محبت والے انکشاف پر شیردل بری طرح چونک کر رملہ کو دیکھنے لگا وہ اپنے حال میں اتنا بےخبر ہوسکتا تھا کہ جو انسان صبح شام اُس کی انکھوں کے سامنے رہتا تھا وہ اُس کے جذبات سے بےخبر تھا وہ جذبات جو وہ انسان اسی کی بہن کے لیے رکھتا تھا
“مشی میری بیوی ہے میرے دل میں اُس کے لیے محبت اور احترام اب بھی موجود ہے اُس کے ساتھ جو غلط فعال میں نے کیا میں اُس کے لیے سخت نادم ہوں اور اُس سے اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں”
دلاور نظریں ملائے بغیر آہستہ آواز میں بولا جس کے بعد ہال میں خاموشی چھا گئی اپنے بیڈ روم کے دروازے پر کھڑی ہانیہ جو کافی دیر سے سب سن رہی تھی واپس کمرے میں چلی گئی
***
دھڑکتے دل کے ساتھ آج وہ اپنے گھر میں قدم رکھ رہی تھی نذیر اُسے شیردل کے بلاوے پر یہاں لےکر آیا تھا مشی کو معلوم نہ تھا اُس کو دیکھ کر شیردل کا ری ایکشن کیا ہوگا وہ اُسے دلاور کے چھوڑنے کی سزا دینے والا تھا یا پھر اُس کو معاف کر کے اُس کے بھائی نے اسے یہاں بلایا تھا۔۔۔ اِس بات کا تو مشی کو اندازہ ہوچکا تھا کہ رملہ شیردل کو دلاور اور اُس کے متعلق بتاچکی ہوگی بس اب اُسے گھر کے اندر داخل ہوکر اپنے بھائی کا رد عمل دیکھنا تھا اندر ہال کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اُس کی نظر سامنے کھڑے شیردل پر پڑی شیردل نے مشی کو دیکھ کر اپنے دونوں بازو کھولے اور سر کے اشارے سے قریب آنے کو کہا یعنٰی اُس کا بھائی اب اُس سے خفا نہیں تھا مشی مسکرا کر بھاگتی ہوئی شیردل کے پاس آئی اور اس کے سینے سے لگ گئی بےاختیار مشی کی انکھوں سے آنسو نکل آئے
“چپ ہوجاؤ تم نے غلطی کی تھا اُس سے بڑی سزا پالی ہے اب تمہیں مزید سزا دینے کا حوصلہ میرے اندر موجود نہیں ہے”
شیردل اپنا ایک ہاتھ مشی کے شانے پر پھیلائے دوسرا ہاتھ اُس کے سر پر رکھتا ہوا بولا تو مشی کو اپنے اندر اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا اب کہیں جاکر اُس کی غلطی کو معاف کیا گیا تھا مگر اپنی اُس ایک غلطی کے پیچھے وہ کیا کچھ سہہ چکی تھی یہ اُس کا دل ہی جانتا تھا ہال میں قدم رکھتی ہانیہ کو دیکھ کر مشی مسکرائی تھی اور صوفے پر موجود رملہ کو مشی پہلے ہی دیکھ چکی تھی مگر اپنی پشت پر صوفے پر بیٹھے دلاور سے وہ ابھی تک بےخبر تھی
“مشی” دلاور کے پکارنے پر مشی کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوئی وہ یک دم پیچھے مڑی تو دلاور اُس کو دیکھ کر صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا مشی حیرت سے اسے دیکھنے لگی پھر ایک نظر اُس نے اپنے برابر میں کھڑے اپنے بھائی پر ڈالی جو اب بالکل سنجیدہ تاثرات چہرے پر لیے خاموش کھڑا تھا
“تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئی تھی ایک لمحے کے لیے تمہیں میرا خیال نہیں آیا میرے بارے میں یہ تک نہیں سوچا جب صبح تمہیں اپنے پاس موجود نہیں پاؤں گا تو میں کس قدر پریشان ہوجاؤ گا حقیقت کُھلنے پر ساری غلط فہمیاں دور ہونے کے باوجود تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی یہ قدم تم نے اِسی لیے اٹھایا کیونکہ تم میری کمزوری جانتی تھی تم یہ جانتی تھی کہ میں تم سے دوری برداشت نہیں کر پاؤں گا مجھے پریشان کرنے کے لیے تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا تم نے آنٹی کے سامنے اپنی ساتھ ہوئی زیادتیوں کا ذکر کردیا کہ میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا، تمہیں قید میں رکھا صحیح ہے میں نے غلط کیا بلکہ بہت زیادہ غلط کیا تمہارے ساتھ۔۔۔ کیا میں نے تم سے اپنے تمام غلط عمل کی معافی نہیں مانگی ان گزارے چند ماہ میں تمہیں ہر وقت صرف تکلیف ہی پہنچائی میں نے۔۔۔ کیا تمہیں کبھی خوش رکھنے کی کوشش نہیں کی، یہاں اپنی فیملی کے سامنے میری دوسری فیلنگز کا بھی تذکرہ کرو پھر کیا تم سے محبت نہیں کی میں نے تم ان لمحات کو کیسے فراموش کرسکتی ہو جس میں تمہیں خود میری محبت کا یقین ہوا تھا اب چپ کیو ہو بولو”
ہال میں موجود ہر فرد کو فراموش کیے وہ صرف مشی کو دیکھ کر اُس سے مخاطب تھا دلاور کی باتوں پر مشی کی انکھیں نم ہونے لگی دلاور قدم بڑھاتا ہوا چل کر مشی کے پاس آیا
“میں مانتا ہوں میری مری ہوئی بہن نے تمہارے اوپر جھوٹا الزام لگایا تمہارے کردار کو میری نظر میں اور میری باقی فیملی کی نظر میں مشکوک ٹھہرایا”
دلاور کی بات پر مشی اُس کو ٹوکتی ہوئی بولی
“یہاں ایسے لفظوں میں اُس کا ذکر مت کرو دلاور وہ اب اِس دنیا میں نہیں رہی، میں نے اُس کو معاف کیا ہے میرا اللہ بھی اُس کو معاف کرے گا”
مشی اپنی آنکھوں سے آنسو پوچھتی ہوئی بولی وہ نہیں چاہتی تھی زرش کے متعلق کوئی بھی بات اُس کی فیملی کو معلوم ہو کیوکہ زرش اب مر چکی تھی مشی نہ تو مزید اُس کو بد دعائیں دے سکتی تھی اور نہ ہی اُس کے عیب سے پردہ ہٹاسکتی تھی
“وہ مر چکی ہے تو تم نے اُس کو معاف کردیا یہ بتاؤ مجھے کب میری غلطیوں کی معافی ملے گی کیا میرے مرنے کے بعد”
دلاور نے بولتے ہوئے مشی کو دونوں بازووں سے پکڑا تو مشی تڑپ کر اُسے دیکھنے لگی جیسے دلاور کی بات پر اُسے تکلیف پہنچی ہو
“مانتا ہوں تم پر شک کر کے غلط کیا مگر اِس بات کو تم جھٹلا نہیں سکتی کہ تمہیں کسی دوسرے کے کہنے پر یا کسی مجبوری میں تو نہیں اپنایا تھا بلکہ پوری ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے محبت سے اپنایا تھا صرف اپنا نام ہی نہیں دیا تمہیں محبت بھی دی تھی، مجھے چھوڑ کے آتے ہوئے تمہیں یہ سب باتیں یاد نہیں رہی میری محبت کو کیسے بھول گئی تم جواب دو مجھے”
دلاور کے بولنے پر ہال میں موجود اپنی فیملی کو دیکھ کر وہ سٹپٹائی تھی اور وہ تھا کہ اِس وقت سب کو فراموش کیے کھلے عام اُس کے گھر والوں کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کررہا تھا
“دلاور چھوڑو” مشی کن اکھیوں سے اپنے برابر میں خاموش کھڑے شیردل کو دیکھ کر آہستہ آواز میں دلاور سے بولی اس وقت شیردل کے ساتھ ہانیہ اور رملہ بھی اُن دونوں کی طرف ہی متوجہ تھے
“پہلے مجھے جواب دو کیوں چھوڑ کر گئی تھی مجھے، آخر تمہیں کب احساس ہوگا میری محبت کا”
وہ ابھی بھی مشی کو بازوں سے پکڑا اس سے پوچھ رہا تھا جیسے ان دونوں باتوں کے لیے وہ اس سے شکوہ کرنے کا حق رکھتا ہو
“دلاور وہ کہہ رہی ہے تو چھوڑ دو اُسے”
مشی کے جھینپے ہوئے تاثرات دیکھ کر شیردل کو بیچ میں مداخلت کرنا پڑی تو دلاور نے شیردل کی طرف دیکھا
“میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں”
دلاور مشی کے بازو سے اپنا ہاتھ ہٹاکر شیردل کی انکھوں میں دیکھ کر اسے بولا کیونکہ شیردل کی بہن اُس کی بیوی تھی پھر بھلا وہ کیوں اُس کے یا کسی دوسرے کے سامنے کتراتا یا پھر جھجھکتا
“میری اجازت سے زیادہ مشی کی مرضی میٹر کرتی ہے اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتی ہے تو بےشک چلی جائے لیکن یاد رکھنا تمہاری بیوی شیردل کی بہن ہے تم اُس سے زور دبردستی یہاں سے نہیں لےکر جاسکتے”
شیردل کی بات سن کر دلاور مشی کو دیکھنے لگا
“مشی گھر چلو پلیز تمہیں مجھ سے مزید جو بھی شکوے شکایات ہیں وہ گھر جاکے کرلینا”
تمام غلط فہمیاں دور ہوچکی تھی سارے شکوے گلے ختم ہوچکے تھے دلاور امید بھرے لہجے میں مشی کو دیکھتا ہوا بولا
“میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی فلحال یہی رہنا چاہتی ہوں اپنے گھر پر”
مشی اُس سے نظریں چراتی ہوئی بولی مشی کی بات پر وہ بےیقین سا اسے دیکھنے لگا لفظ اپنا گھر یہ بات اُس کو بہت بری طرح چبھی تھی یعنٰی جہاں وہ اُس کے ساتھ رہتی تھی اُس جگہ کو اپنا گھر نہیں سمجھتی تھی
“نظریں کیوں چرا رہی ہو یہاں مجھے میری طرف دیکھ کر بات کرو اور بولو کہ تم میرے ساتھ نہیں جانا چاہتی”
دلاور نے مشی سے بولتے ہوئے اُس کا ہاتھ دوبارہ تھامنا چاہا مگر شیردل نے دلاور کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
“دلاور ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے کہا تم اِس سے زور زبردستی سے پیش نہیں آسکتے” شیردل ایک مرتبہ پھر دلاور کو یاد دلاتا ہوا بولا
“مجھے اکیلے میں اپنی بیوی سے بات کرنی ہے یہ ہمیشہ ہی میرے ساتھ ایسے کرتی ہے اور ابھی بھی مجھے صرف تنگ کررہی ہے”
دلاور شیردل کو دیکھتا ہوا بولا تو شیردل مشی کی طرف دیکھنے لگا
“مجھے اِس سے اکیلے میں کوئی بات نہیں کرنی”
مشی نے دوبارہ اُس سے نظریں ملائے بغیر بولا تو دلاور کو اس پر افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آنے لگا جسے وہ ضبط کرتا ہوا بولا
“تم میرے ساتھ اب اِس طرح نہیں کرسکتی مشی ہمارے درمیان اب سب کچھ سلجھ چکا ہے ساری باتیں صاف ہوکر سامنے آگئی ہیں اگر تم ابھی تک میرے رویے سے ہرٹ ہو تو میں اپنی ساری غلطیوں کے لیے تم سے دوبارہ معافی مانگ لوں گا مگر پلیز میرے ساتھ واپس چلو تم جانتی ہو نہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا پھر کیوں کررہی ہو اس طرح کا سلوک میرے ساتھ”
دلاور نے بولتے ہوئے مشی کے قریب آکر اسے بازو سے تھامنا چاہا مگر شیردل نے دلاور کی کلائی پکڑ لی
“دلاور وہ تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی تو تم اُس سے زبردستی نہیں کرسکتے میں تمہیں بار بار سمجھا رہا ہوں”
شیردل اب کی بار دلاور سے سخت لہجے میں بولا رملہ اور ہانیہ بالکل خاموش کھڑی تھی جبکہ مشی اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب موڑ کر کھڑی ہوگئی
“یہ ہمیشہ اِسی طرح کرتی ہے میرے ساتھ ابھی بھی جان بوجھ کر مجھے پریشان کررہی ہے یہ میری طرف اسی لیے نہیں دیکھ رہی ہے کیونکہ اچھی جانتی ہے اگر میں اپنی پہ آیا تو اِس کی جھوٹی انا ہار جائے گی”
دلاور اب کی بار ضبط کیے بغیر غصے سے تیز آواز میں بولا
“دلاور اِس طرح یہاں تماشہ لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اگر تمہاری جگہ یہاں پر کوئی دوسرا کھڑا ہوتا تو تم خود اچھی طرح جانتے ہو میں اُس کے ساتھ کیا سلوک کرتا بہتری اِسی میں ہے کہ تم اِس وقت یہاں سے چلے جاؤ”
شیردل سخت لہجے میں بولا تو دلاور مشی کی پشت پر شکوہ بھری نگاہ ڈال کر بناء کچھ بولے وہاں سے نکل گیا
***
