Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel Readelle 50392 Last updated: 22 November 2025
Rate this Novel
Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel
آ“آ۔۔۔ سوری آپ کو شاید برا لگا میرا اس طرح آپ پر حق جتانا میں سمجھ سکتا ہوں آپ دلی طور پر اِس رشتے کے لئے تیار نہیں ہوگیں۔۔۔ میں نے آپ کے فادر کو سمجھانا چاہا تھا کہ میں حیثیت میں بہت کم تر ہوں آپ کی بیٹی کے قابل نہیں مگر انہوں نے۔۔۔۔
حسام ہانیہ کو روتا ہوا دیکھ کر معذرت طلب انداز میں بولا تو ہانیہ اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر آنسو صاف کرنے لگی
“ایسی بات نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں دراصل میں بابا کی بیماری کی وجہ سے پہلے ہی کافی ٹینس تھی اوپر سے بابا کے اصرار پر اتنی جلدی شادی۔۔۔۔ اچانک آئی اس تبدیلی کو فوری طور پر قبول نہیں کر پارہی ہوں، آپ اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں کے میں اسٹیٹس کونشیس ہو یا پھر آپ سے شادی کرکے خوش نہیں ایسا کچھ نہیں”
ہانیہ حسام کی غلط فہمی دور کرتی ہوئی اسے بتانے لگی تاکہ وہ اُس کے بارے میں پہلی ہی رات میں کوئی غلط رائے قائم نہ کرلے
“آپ اپنے فادر کی طرف سے پریشان مت ہوں اللہ نے چاہا تو فہیم صاحب جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔۔۔ آپ کی سوچ اور خیالات جان کر حیرت کے ساتھ خوشی ہورہی ہے مجھے، ورنہ اتنی خوبصورت لڑکی جو امیر و کبیر بھی ہو وہ ایسی سوچ رکھے یقین نہیں آرہا”
حسام اُس کا حسین روپ دیکھتا ہوا بولا اگر سوچا جائے تو آج سہی معنوں میں اس کے نصیب کھل گئے تھے خوبصورت امیر و کبیر بیوی اگر اُس کا جواری بھائی اور لالچی رشتے دار دیکھ لیتے تو جل کر خاک ہوجاتے
“آپ بار بار مالی حیثیت کے فرق کو بیچ میں مت لائیے۔۔۔ اب میرا تعلق آپ سے جڑ چکا ہے جو آپ کی حیثیت ہے اُسی حیثیت سے میں پہچانی جاؤنگی”
ہانیہ کو بار بار حسام کا خود کو کم تر بولنا عجیب سا لگا تبھی وہ اُس کو ٹوکتی ہوئی بولی لیکن اُس کے بولنے پر حسام اسے جن نظروں سے دیکھنے لگا ہانیہ نے گھبرا کر اپنی نظریں جھکالیں
“اتنی پیاری باتیں کرتی ہیں آپ، اتنی خوبصورت شکل وصورت کی مالک ہیں۔۔۔ اگر آپ برا نہ مانے تو میں آپ کو تھوڑا نزدیک سے دیکھ سکتا ہوں”
یہ سونے کی چڑیا جو قسمت سے اُس کے ہاتھ لگ گئی تھی. اُس کا حسن دیکھ کر حسام کا دل بےایمان ہونے لگا ہانیہ اُس کی بات سن کر خاموش ہوچکی تھی. حسام نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر ہانیہ کا ہاتھ تھامنا چاہا تبھی حسام کا سیل فون بجنے لگا
“ایکسکیوزمی”
موبائل کی اسکرین پر مہرین کا نمبر دیکھ کر حسام ہانیہ کو بولتا ہوا بیڈروم سے باہر نکل گیا
“اِس وقت کال کرنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں، میرا بنا بنایا سارا کھیل بگاڑ دو گی تم”
حسام کال ریسیو کرنے کے ساتھ ہی آہستہ آواز میں غُراتا ہوا مہریں سے بولا کیونکہ یہ فہیم کا گھر تھا اور نوکروں کی چہل پہل نے پہلے ہی اُسے محتاط کردیا تھا
“تمہیں یاد دلانے کے لیے کال کی ہے حسام اگر تم آج رات اپنی بیوی کے قریب گئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا میں تمہیں کسی دوسری عورت کے ساتھ شئیر نہیں کرسکتی جلد سے جلد اپنا مفاد پورا کرو اور لوٹ کر واپس آؤ میرے پاس”
مہرین کی غصّے سے بھری آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی تو حسام دل بھر کر بےذار ہوا
“ارے میری بیوقوف سی محبوبہ تم اچھی طرح جانتی ہو. میں صرف تم سے ہی محبت کرتا ہوں اور تم ہی سے شادی کرو گا۔۔ تمہاری اور اپنی لائف بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے. میں نے لیکن اگر تم ایسے ہی رات کو کالز کرتی رہی تو اُس لڑکی کو. اور اُس کے باپ کو شک ہوجائے گا، اور ہاتھ میں آنے والا مال یونہی چلا جائے گا۔۔۔ تمہارے سر کی قسم کھا کر بول رہا ہوں. میں نے تو اُس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی دیکھوں گا۔۔۔ اب غُصّہ کرنا بند کرو میں واپس کمرے میں جارہا ہوں”
وہ مہرین کو بہلاتا ہوا واپس کمرے میں آیا تو ہانیہ وارڈروب سے اپنے لئے کپڑے نکال رہی تھی
“سوری وہ میرے دوست کی کال آگئی تھی وہ شادی میں شرکت نہیں کرسکا تھا تو مبارکباد دینے کے لیے اُس نے کال ملالی تھی۔۔۔ آپ کپڑے کیوں تبدیل کرنے لگ گئی کیا آپ کو برا لگا میرا کمرے سے جانا”
حسام ہانیہ کا بغور جائزہ لیتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا
“نہیں برا ماننے والی کیا بات ہے ایسی تو کوئی بات نہیں دراصل میں کافی تھک گئی تھی تو میں نے سوچا چینج کرلو۔۔۔ اگر آپ بولتے ہیں تو میں یہی ڈریس پہنے رہتی ہوں”
ہانیہ حسام کو دیکھتی ہوئی بولی لیکن آج وہ ذہنی طور پر اتنی پریشان تھی. کہ اس وقت صرف آرام کرنا چاہتی تھی
“آپ کی تابعداری نے تو دل جیت لیا میرا آپ لباس تبدیل کرکے آجائیں. صرف آپ سے آپ کو تھوڑا سا وقت اپنے لئے لوں گا اگر آپ کی مرضی اور اجازت ہوئی تو”
اس وقت وہ مہرین کو بھولتا ہوا بہکی نگاہوں سے ہانیہ کو دیکھتا ہوا. بولا تو ہانیہ بناء کچھ بولے سر جھکاتی ہوئی کپڑے تبدیل کرنے واش روم چلی گئی
