468.5K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Justajoo Thi Khas (Episode 20) 2nd Last Episode

Justajoo Thi Khas By Zeenia Sharjeel

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو”

وہ گہری نیند میں جاچکی تھی تب ایک دم کمرے کی لائٹ کُھلی جس سے اُس کی انکھیں چندائیں ساتھ ہی دلاور کی آواز اُس کے کانوں میں گونجی تیز روشنی کے سبب چھوٹی چھوٹی انکھیں کھول کر مشی دلاور کو دیکھنے لگی جو ہاتھ میں ایک چھوٹے سائز کا کیک لیے اُس کے کمرے میں موجود مشی کے پاس آتا ہوا اُس کو برتھ ڈے وش کررہا تھا مشی نے گھڑی میں ٹائم دیکھا گھڑی رات کے 12 بجارہی تھی اُس کی سالگرہ کا وقت شروع ہوچکا تھا مشی کا دل اور موڈ دونوں ایک دم خراب ہوئے

“مجھے یاد تھا آج تمہاری سالگرہ کا دن ہے یہ چاکلیٹ فج کیک پسند ہے ناں تمہیں”

دلاور کیک ہاتھ میں پکڑے اُس کے قریب آکر بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا چہرے پر اُس کے مسکراہٹ سجی ہوئی تھی جو مشی کو اِس وقت زہر لگی

“رات میں تمہیں چائے یا کافی دینا میرا آخری کام ہوتا ہے اُس کے بعد میری زندگی میں سکون آتا ہے اور تم نے مجھے بلاوجہ جگا کر میرا وہ سکون تباہ کردیا”

مشی نے غصے میں بولتے ہوئے اُس کے مسکرانے کی پرواہ نہیں کی تھی جس پر دلاور کی مسکراہٹ سمٹی

“مجھے لگا تمہیں اچھا لگے گا میرا وش کرنا”

دلاور نے بولتے ہوئے بے دلی سے کیک کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا

“مجھے اچھا لگے گا۔۔۔ ارے مجھے نفرت ہورہی ہے اِس دن سے کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتی۔۔۔ میرے ماں باپ نے مجھے تمہارے اور میرے بھائی کے ہاتھوں ذلیل کرنے کے لیے پیدا کیا تھا لعنت بھیجتی ہوں میں آج کے دن پر”

وہ غُصے میں بھری دلاور کو دیکھتی ہوئی بولی تو دلاور کو افسوس ہونے لگا کہ وہ کیوں رات میں باہر جاکر اُس کا من پسند کیک اسپیشل اُسی بیکرز سے لایا تھا جہاں کا وہ پسند کرتی تھی

“کسی کا پیار اور خلوص دیکھ کر انسان اُس کا دل رکھنے کے لیے خوش ہوجاتا ہے یا پھر خوش ہونے کی ایکٹنگ ہی کرلیتا ہے مگر تمہیں تو کسی کا دل رکھنا ہی نہیں آتا”

دلاور بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا اب وہ واپس اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا

“میں پیار اور محبت کے قابل نہیں ہوں صرف ذلیل ہونے کے لائق ہوں اور وہ تم مجھے کرتے آرہے ہو اس لیے میرے سامنے یہ پیار کے ڈرامے مت کیا کرو ہفتے بعد ہی تمہاری اُس نیک پارسا بہن کی بھی سالگرہ کا دن آئے گا اُس کی سالگرہ بناکر اپنے سارے ارمان نکال لینا اور ہاں یہ کیک یہاں سے لے جاؤ اور اِسے اٹھاکر باہر پھینک دو”

مشی غصے میں غراتی ہوئی بولی اتفاق سے زرش کی سالگرہ اس کی سالگرہ کے ایک ہفتے بعد آتی تھی اِس لیے مشی دلاور پر گہرا طنز کرتی ہوئی بولی

“تمہارے لیے کیک کے ساتھ ساتھ یہ گفٹ بھی لایا تھا یہ دونوں چیزیں خود ہی باہر پھینک دینا سوری تمہیں نیند سے ڈسٹرب کرنے کے لیے اور ہاں اگر تمہیں مجھے چائے یا کافی بناکر دینے میں تکلیف ہوتی ہے تو کل سے یہ زحمت مت کرنا میرے لیے”

دلاور ایک پتلے سے کیس میں موجود خوبصورت سی پازیب کیک کے پاس رکھ کر مشی کے کمرے سے باہر نکل گیا

ابھی وہ اپنے کمرے میں پہنچا بھی نہیں تھا تب مشی وہ کیک اور پازیب اٹھاکر ٹیرس میں چلی گئی دلاور کو معلوم تھا وہ ٹیرس سے باہر یہ دونوں چیزیں زمین بوس کرنے والی تھی اِس سے پہلے دلاور نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیا

پرانی تلخ یاد کو سوچتا ہوا وہ خود بھی تلخی سے مسکرایا ساتھ ہی سیگریٹ کا بچا ہوا ٹکڑا اُس نے ایش ٹرے میں راگ بجھانے کے لیے مسلا

مشی کے لیے دل میں بدگمانی کے باوجود اُس نے کئی مرتبہ پیار سے مشی کو ڈیل کرنا چاہا تھا مگر مشی نے اُس کے اس کے پیار کا جواب ہمیشہ دل دکھانے والے انداز میں دیا تھا اُس نے کبھی بھی گھر کے کاموں میں اُس پر سختی نہیں کی تھی نہ ہی اُس کے کھانے میں کیڑے نکالتا تھا نہ کبھی اُس کو دانیال یا منور کے نام کے طعنے دیے تھے اپنے باپ کے سامنے اُس کی اِس قدر بدزبانی اور بدتمیز رویہ برداشت کیا لیکن اِس کے باوجود وہ اُس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی کل وہ شیردل کے گھر گیا تھا مشی کو واپس لانے کے لیے مگر وہ اُس کے ساتھ واپس آنے پر امادہ نہ تھی بلکہ “اپنے گھر” میں رہنا چاہتی تھی لفظ اپنا گھر اُس کو بری طرح چھبا تھا اِس وقت وہ آفس میں موجود تھا ریزکنیشن لیٹر اور فلیٹ کی چابیاں ٹیبل پر رکھی ہوئی تھی جنہیں یہی چھوڑ کر وہ یہاں سے نکلنے والا تھا شیردل ابھی تک آفس نہیں پہنچا تھا۔۔۔ کل رات سے ہی اُس کو غصہ اتنا شدید تھا اچھا ہی تھا کہ آج اُس کا شیردل سے سامنا نہیں ہوا تھا دلاور شبیر صاحب کو اپنی جاب چھوڑنے کا انفارم کرتا ہوا شیردل کے آفس سے باہر نکل گیا

***

“اُف بھائی دیکھیں ناں یہ چھوٹا سا گول گپو کتنا کیوٹ ہے”

اِس وقت ہال میں مشی اپنے بھتیجے کو گود میں لےکر شیردل کے برابر میں بیٹھی تھی جبکہ رملہ سنگل صوفے پر موجود تھی تبھی مشی صحت مند شازل کے ننھے وجود کو پیار سے دیکھتی ہوئی شیردل سے بولنے لگی

“پورا کا پورا اپنے باپ پر چلا گیا ہے تبھی تو تمہیں کیوٹ لگ رہا ہے” شیردل اپنے بیٹے کو دیکھ کر شرارتاً مشی سے بولا جس پر مشی اپنی انکھیں بڑی کرکے شیردل کو دیکھتی ہوئی فوراً بولی

“بس اپنی تعریف ہونی چاہیے بلاوجہ ہی آپ پر چلا گیا ہے یہ تو پورا کا پورا میرے اوپر گیا ہے ہاں ناں ماما اِس کا سائئڈ پوز دیکھیں اور اِس کی آئیز تو سیم میرے جیسی ہیں”

مشی شیردل کو بولتی ہوئی رملہ سے بھی پوچھنے لگی مشی کی بات سن کر شیردل کے ساتھ رملہ بھی مسکرانے لگی

“ہائی یہ دیکھیں مجھے اسمائل دے رہا ہے۔۔۔ اس کی اسمائل کسقدر کیوٹ ہے سیم میری اسمائل جیسی”

مشی اپنے بھتیجے کو گود میں لےکر بیٹھی اِس وقت وہ بہت زیادہ ایکسائٹڈ تھی تبھی مشی کی بات پر شیردل اُس سے بولا

“اِس کی صرف اسمائل ہی نہیں رونے کا انداز بھی سیم تمہارے جیسا ہے پورا حلق پھاڑ کر چیخ چیخ کر روتا ہے۔۔۔ مجھے خود دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ننھی سی جان ہے پوری طاقت لگا دیتا ہے روتے وقت اپنی”

شیردل رملہ اور مشی کو دیکھ کر مسکراتا ہوا بتانے لگا وہ دونوں بھی شیردل کی بات پر مسکرا رہی تھیں۔۔۔ ہانیہ اپنے روم کے دروازے پر کھڑی دور سے ان تینوں کو مسکراتا ہوا دیکھنے لگی جبھی رملہ کی اُس پر نظر پڑی

“ہانی میری جان وہاں اکیلی کیوں کھڑی ہو تم بھی یہاں آکر فیملی کے ساتھ بیٹھو ناں”

رملہ کے بولنے پر شیردل اور مشی نھی ہانیہ کو دیکھنے لگے

“آئیے ناں بھابھی آپ بھی ہمارے ساتھ بیٹھیں”

مشی مسکراتی ہوئی ہانیہ سے بولی تو وہ خود بھی مسکرا کر آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی ان لوگوں کی جانب آئی شیردل اپنی توجہ اپنے موبائل کی جانب کر چکا تھا ہانیہ مشی کے برابر میں ہی بیٹھ گئی اور شازل کو بےتاتی سے دیکھنے لگی

“کیا میں شازل کو تھوڑی دیر کے لیے لے لوں”

ہانیہ اپنے بیٹے کو حسرت سے دیکھتی ہوئی بولی کیونکہ شیردل اُس کو اپنے بیٹے گود میں اٹھانے نہیں دیتا تھا اِس معاملے میں وہ کافی سختی برت رہا تھا ابھی بھی ہانیہ کی بات پر اُس نے موبائل فون ایک طرف رکھ دیا اس کے چہرے کے تاثرات یک دم سنجیدہ ہوئے تھے جبکہ مشی ہانیہ کے سوال پر حیرت کرتی اُس سے بولی

“یہ میرا چھوٹا سا ہیرو آپ ہی کا بیٹا ہے آپ مجھ سے پرمیشن کیوں لے رہی ہیں یہ لیں پکڑیں اسے”

مشی شازل کے گال کو پیار سے چھوتی ہوئی اسے ہانیہ کو دینے لگی تبھی شیردل نے راشدہ کو آواز دے کر پکارا

“کہاں پر موجود ہے شازل کی گورنس جاؤ شازل کو دے کر آؤ اسے”

شیردل راشدہ کے وہاں آتے ہی حکم دیتا ہوا بولا جس میں ہال میں موجود ہانیہ کے ساتھ ساتھ رملہ اور مشی بھی افسوس کرتی ہوئی شیردل کا رویہ دیکھنے لگی مجبوراً راشدہ کو شاہزل کو گود میں لے کر وہاں سے لے جانا پڑا تو ہانیہ بھی شیردل پر خفا سی نظر ڈال کر صوفے سے اٹھ گئی اور واپس کمرے میں چلی گئی

“یہ کیا طریقہ ہے شیر ہانی ماں ہے شازل کی۔۔ وہ کیا اپنی اولاد کو پیار بھی نہیں کرسکتی”

رملہ شیردل کو اُس کی حرکت پر ٹوکتی ہوئی بولی

“اور میں باپ ہوں شازل کا یہ بالکل نہیں چاہوں گا کہ میرا بیٹا اپنی ماں سے اٹیچ ہوجائے۔۔۔ آپ تھوڑی سمجھ سکتی ہیں بچہ کسقدر محرمی محسوس کرتا جب بچپن میں اُس کو اُس کی ماں چھوڑ کر چلی جاتی ہے پلیز اِس معاملے میں دوبارہ کچھ بھی مت بھولیے گا”

شیردل رملہ کو دیکھتا ہوا بولا تو رملہ بالکل خاموش ہوگئی مشی نے کچھ بولنا چاہا شیردل دوبارہ بولا

“میں نے بولا ہے کوئی بھی کچھ نہیں بولے گا اِس معاملے میں”

شیردل کے سخت لہجے پر ماحول میں یکدم تلخی چھا چکی تھی اچانک ہی اُس کے موبائل پر افس سے کال آنے لگی جو شیردل نے ریسیو کرلی

“کیا دلاور نے جاب سے ڈیزائن کردیا”

شیردل کی بات پر رملہ اور مشی دونوں ہی چونکی اور شیردل کو دیکھنے لگی

“ٹھیک ہے میں خود دیکھ لوں گا”

شیردل بولتا ہوا موبائل ایک سائیڈ پر رکھ چکا تھا اب وہ مشی کو دیکھ رہا تھا جو اُس کے ساتھ بیٹھی اِس وقت خاموشی سے اُسی کو دیکھ رہی تھی

“مشی کیا سوچا ہے تم نے اپنے اگے کے لیے”

شیردل مشی کو دیکھ کر اُس سے مخاطب ہوا تھا لہجہ دوبارہ سے نرمی سمائے ہوئے تھا

“مجھے نہیں معلوم بھائی میں کیا چاہتی ہوں”

گہرا سانس لے کر مشی شیردل سے بولی اچانک ہی وہ پریشان سی لگنے لگی تھی

“دیکھو مشی میں دلاور کی فیور نہیں کررہا ہوں لیکن اگر وہ تمہارے ساتھ دوسرے معاملات میں فیئر رہا ہے تو اُس کو چانس دے کر دیکھ لو مجھے نہیں لگتا تمہارے اور اُس کے درمیان اب کوئی غلط فہمی موجود ہوگی اگر تم چاہو تو اُس کے برے رویے کے لیے اُسے معاف کرسکتی ہو یہ زندگی تمہاری ہے تم بہتر طریقے سے سوچ سکتی ہو تمہیں اپنی لائف میں آگے کیا کرنا ہے میں تمہارے کسی بھی فیصلے میں تم پر فورس نہیں کروں گا” شیردل مشی سے بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کر ہال سے باہر نکل گیا مشی نم انکھوں کے ساتھ رملہ کو دیکھنے لگی جیسے وہ خود کو کافی بےبس محسوس کررہی ہو

“بیٹا مجھے معاف کردو دلاور سے شادی کروانے کا یہ فیصلہ میرا تھا جو کہ بہت غلط ثابت ہوا مگر میری نیت پر کبھی بھی شک مت کرنا میں نے موقع اور حالات دیکھتے ہوئے تمہارے لیے یہ فیصلہ لیا تھا اور اب میں چاہوں گی کہ تم خوش رہو اگر تم اُس کے ساتھ خوش نہیں ہو تو اس سے رشتہ ختم کرکے اپنے دل اور دماغ سے اُس کی ہر اچھی بری یاد مٹادو ایک نئی لائف شروع کرو”

رملہ کی بات سن کر مشی تڑپ کر رملہ کو دیکھتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی

***

“راشدہ آج کوکنگ میں خود کروں گی اپنے ہاتھوں سے تم کچن سے چھٹی کرو”

ہانیہ کچن میں آتی راشدہ سے بولی تو وہ حیرت سے ہانیہ کو دیکھنے لگی اسپتال سے گھر آئے اُس کو دو ہفتے ہوچکے تھی

“آپ کا تو ابھی آپریشن ہوا ہے جی آپ کیسے کوکنگ کر پائیں گی اور مالک کو معلوم ہوگیا کہ اِس حالت میں کھانا آپ نے بنایا ہے تو میری بلاوجہ میں شامت آجائے گی”

راشدہ پریشان ہوتی ہانیہ سے بولی تمام ملازم ہی اپنے مالک کا اس کی بیگم دے لگاؤ سے اچھی طرح واقف تھے

“اوہو کچھ نہیں ہوگا جب تمہارے مالک اپنے پسندیدہ کھانے ٹیبل پر دیکھیں گے جو خود اُن کی بیوی نے اپنے ہاتھوں سے اُن کے لیے بنائے ہیں خود بخود اُن کا موڈ اچھا ہوجائے گا یہ لسٹ پکڑو اور مجھے یہ ساری چیزیں منگوا کر دو اور ڈسٹرب بالکل بھی مت کرنا مجھے کوکنگ کے دوران”

ہانیہ راشدہ کو کچھ لوازمات کی لسٹ پکڑوا کر خود ایپرن پہننے لگی، پندرہ دن گزر چکے تھے لیکن شیردل اُس سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کررہا تھا نہ اُس کی طرف دیکھ رہا تھا رات کو بھی وہ تب بیڈ روم میں آتا جب ہانیہ سو چکی ہوتی۔۔ اُس نے ہمیشہ شیردل کی نظر میں اپنی ویلیو اپنے لیے توجہ دیکھی تھی اس لئے شیردل کا یہ رویہ وہ کافی زیادہ محسوس کررہی تھی ہانیہ نے اُس کو منانے کا طریقہ یہی سوچا کہ وہ اس کے پسندیدہ کھانا خود اپنے ہاتھوں سے بناکر شیردل کی ناراضگی دور کرے

***

“مشی کہاں ہے بلاکر لاؤ اُس سے کہو کھانا لگ چکا ہے”

شیردل ٹیبل پر کھانا لگاتی ہوئی راشدہ سے بولا رملہ کا وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی دوست کے گھر گئی ہوئی ہے

“میں گئی تھی مشی کو بلانے کے لیے مگر اُس کو بھوک نہیں رہی ہے وہ کھانے سے انکار کرچکی ہے” راشدہ کی بجائے ہانیہ شیردل کو بتانے لگی جس پر شیردل نے اُس کو کوئی جواب نہیں دیا اور ڈش میں موجود کھانا دیکھنے لگا

“راشدہ میرے لیے دوپہر والا سالن گرم کر کے لے آؤ”

میز پر سجے کھانے کی خوشبو بتارہی تھی کہ آج کھانا راشدہ نے نہیں بلکہ کسی اور نے بنایا ہے جبھی شیردل راشدہ کو حکم دیتا ہوا بولا شیردل کی بات سن کر ہانیہ کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا

“کیوں اِس کھانے میں کیا برائی ہے جو تمہیں دوپہر والا سالن کھانا ہے”

آخر وہ شیردل کا رویہ کب تک برداشت کرتی اس لیے بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ شیردل کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“کھانے میں کوئی برائی نہیں ہے بس اب پسندیدہ چیزوں سے اجتناب برتنا چاہتا ہوں”

شیردل ہانیہ سے بولتا ہوا میز پر تمام کھانوں کو چھوڑ کر راشدہ کی لائی ہوئی پلیٹ سے کھانا کھانے لگا

“میرے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ کر کیا حاصل ہوگا تمہیں جان سکتی ہوں میں”

ہانیہ غصّہ پیتی ہوئی شیردل سے پوچھنے لگی آخر اور کتنے دن تک وہ اس کا یہ برداشت کرتی

“میرے کسی بھی عمل سے کم ازکم تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کیا میں کھانا کھالو سکون سے اگر تمہاری اجازت ہے تو”

شیردل کے آرام سے پوچھنے پر ہانیہ غصے میں کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی

“راشدہ یہ سارا کھانا باہر کسی مانگنے والے کو دے آؤ”

ہانیہ غصے میں راشدہ سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

***

“آؤٹ۔۔۔ آئی سیڈ آؤٹ نکلو فوراً یہاں سے”

ہانیہ شازل کے کمرے میں پہنچ کر غصّے میں اُس کی گورنس نرگس سے بولی وہ صرف شیردل کی غیر موجودگی میں شازل کے پاس جاسکتی تھی شیردل کے گھر آنے کے بعد اسے شازل کے پاس دیکھ کر کہیں شیردل کا موڈ خراب نہ ہو وہ اپنا دل مار لیتی لیکن اِس وقت اس کو پروا نہیں تھی شیردل کچھ بھی کہتا

ہانیہ شازل کے کمرے سے نرگس کو نکال کر شازل کو بےبی کاٹ سے نکلتی ہوئی اپنی گود میں اپنے بیٹے کے ننھے منھے وجود کو لےکر سکون سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ شازل کو اپنے ساتھ بیڈ پر لٹاۓ نہ جانے کب ہانیہ کی آنکھ لگ گئی ہانیہ کو خبر نہیں ہوئی۔۔۔ اپنے ہاتھ پر شیردل کے ہاتھ کا لمس محسوس کرکے ہانیہ کی آنکھ کھلی، شیردل شازل کے اوپر رکھے ہانیہ کے ہاتھوں ہٹاتا ہوا شازل کو پیار کرکے بےبی کارٹ میں لٹارہا تھا

“کیا ضرورت ہے اُس کا سکون برباد کرنے کی اُسے تو سکون سے سونے دو”

ہانیہ کو بیدار دیکھ کر شیردل آئستہ آواز میں بولا شازل کو کارٹ میں لٹاکر وہ خود کمرے سے چلا گیا

“بس میں ہی بےسکون رہو یہ باپ بیٹے سکون سے رہیں صرف”

ہانیہ برا سا منہ بنا کر بڑبڑاتی ہوئی خود بھی شیردل کے پیچھے اپنے کمرے میں چلی آئی جہاں وہ صوفے پر بیٹھا اسموکنگ کررہا تھا

کمرے میں آتی ہانیہ کی آمد پر شیردل نے صرف ایک بار ہی ہانیہ پر خاموش نظر ڈالی اور دوبارہ اسموکنگ کرنے لگا۔۔۔ ہانیہ شیردل کو دیکھ کر ڈریسنگ روم میں جاکر چینج کرنے لگی۔۔ مگر جو وہ لباس تبدیل کرکے واپس کمرے میں آئی تو شیردل کا اُس سے نظریں ہٹانا مشکل ہوگیا لیکن اُس نے بھی تہیہ کرلیا تھا کہ اب اُسے اِس لڑکی کے آگے ہار نہیں ماننی تھی نہ ہی جھکنا تھا

“سونا نہیں ہے کیا تم نے”

نیٹ کی ٹائٹی میں ملبوس کھلے ہوۓ بالوں کے ساتھ وہ شیردل کے پاس آکر اُس سے پوچھنے لگی جو لاپرواہ انداز میں اسموکنگ کرنے میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا دکھ رہا تھا

“مجھے نیند نہیں آرہی تم سو جاؤ”

شیردل اُس کے حسین سراپے کی جانب دیکھے بغیر صوفے کی پشت سے سر ٹیکے اسموکنگ کرتا ہوا ہانیہ سے بولا۔۔۔ خود کو نظرانداز کیے جانے پر ہانیہ کو بڑا برا لگا۔۔۔ اُس نے آگے بڑھ کر شیردل کے منہ میں دبا ہوا سیگریٹ نکال کر ٹیبل پر رکھی ایش ٹرے میں مسلا تو شیردل آنکھیں کھول کر سیدھا ہوتا ہانیہ کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا جو اپنے کھلے بالوں کو شولڈر سے آگے لاتی ہوئی شیردل سے بولی

“کیا چاہ رہی ہو تم اس وقت” شیردل اُس کو دیکھ کر غُصے میں پوچھنے لگا

“تمہیں اِس وقت مجھ پر غصّہ آرہا ہے تو غصّہ کرو، پیار آرہا ہے تو پیار کرلو اِن دونوں کاموں کے لیے تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے لیکن چند دنوں سے یہ جو تم نے عجیب سا ایٹیٹیوڈ اپنایا ہوا ہے ناں اس ایٹیٹیوڈ کو ختم کرلو یہ تمہارے اوپر بالکل سوٹ نہیں کررہا”

ہانیہ بولتی ہوئی شیردل کے اوپر جھک کر اپنا چہرہ شیردل کے چہرے کے قریب لاتی اُس سے بولی

“ابھی تم کیا چاہتی ہو ہانیہ مجھے صرف یہ بتاؤ”

ہانیہ کے اِس طرح دل لبھانے والے انداز پر شیردل سنجیدگی سے ہانیہ سے پوچھنے لگا

“اِس وقت تو تمہاری قربت، تمہاری توجہ اور بےپناہ محبت چاہیے مجھے۔۔۔ جسے ہمیشہ تم مجھے اپنی باہوں میں بھر کر محبت کی بارش برسا دیا کرتے ہو مجھ پر۔۔۔ میرا دل آج تمہاری دسترس میں آنے کا طلب گار ہے”

ہانیہ نائٹی کے اوپر گاؤن کو کاندھوں سے اتارتی ہوئی بےتکلفی سے شیردل کی تھائی پر بیٹھی تو اُس کے اِس انداز پر شیردل سے اپنا سنبھالنا مشکل ہوگیا۔۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ہانیہ کے خود سے اِس طرح قریب آنے پر شاید خوشی سے پاگل ہوجاتا آج وہ خود اُس کی محبت اور قربت کی خواہشمند تھی

“اتنے نزدیک آنے کے بعد جدائی کا عمل اور بھی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے کیوں عادی بنانا چاہتی ہو اپنے دل کو میری قربت کا، پھر تنہائی میں یہی لمحات یاد آۓ گیں تو تڑپ جاؤ گی”

شیردل ہانیہ کا چہرہ سنجیدگی سے دیکھتا ہوا اسے سمجھانے لگا۔۔۔ ہانیہ کو اُس کی بات سن کر دل ہی دل میں ہنسی آئی شاید وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ اب اس کو چھوڑ کر جاسکتی ہے۔۔۔ شیردل کی بات سن کر ہانیہ اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر شیردل کو چپ کراتی ہوئی بولی

“جبھی تو محبت کے درد سے آشناہی ملے گی”

ہانیہ بولتی ہوئی شیردل کے سینے سے لگ گئی شیردل کو اپنے حال پر ترس آنے لگا نہ جانے یہ لڑکی اُس سے کیا چاہ رہی تھی جب وہ اُس کے ساتھ رہتا ہی نہیں چاہتی تھی پھر آج یہ سب کیوں۔۔۔ شیردل ہانیہ کو بازو سے پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتا ہوا خود صوفے سے اٹھ کر وہاں سے جانے لگا تبھی ہانیہ نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا

“میری مرضی نہ ہونے کے باوجود اِس معاملے میں تم ہمیشہ اپنی مرضی چلاتے آۓ ہو، معاف نہیں کروں گی اگر آج تمہیں تم نے مجھے نظر انداز کیا تو”

ہانیہ ناراض لہجے میں اپنی ناراضگی شیردل پر ظاہر کرتی اُس سے بولی تو شیردل نے بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس کے آگے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے

وہ ہانیہ کے وجود کو اپنی باہوں میں لےکر بیڈ تک آیا ہانیہ کو بیڈ پر لٹانے کے بعد وہ ہانیہ کے اوپر جھکا

شیردل ہانیہ کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاکر ہانیہ کو دیکھنے لگا جبکہ ہانیہ خود بھی شیردل کے گال پر اپنا ہاتھ رکھے اُسی کو دیکھ رہی تھی

“تم کیسی محبت کرتے ہو۔۔۔۔”

آہستہ آواز میں ہانیہ کے پوچھے گئے سوال پر شیردل نے اپنے ہونٹ ہانیہ کے ہونٹوں پر رکھ کر بناء بولے اسے اس کی بات کا جواب دیا ہانیہ اپنے دونوں بازو شیردل کے گرد لپیٹ چکی تھی جس سے شیردل کے عمل میں مزید شدت آگئی وہ دیوانہ وار اُس کی سانسیں اپنی سانسوں میں شامل کرنے کے بعد جگہ جگہ اُس کی گردن پر اپنی محبت کی مہر چھوڑنے لگا

“دوری برداشت کرلو گے میری، بولو شیردل اگر میں تمہیں چھوڑ گئی تو رہ لو گے میرے بغیر”

اپنے وجود میں شیردل کو گم ہوتا دیکھ کر ہانیہ اُس سے پوچھنے لگی

“بےبس کرکے رکھ دیا ہے تمہاری محبت نے مجھے، نہیں رہ سکتا میں تمہارے بغیر بہت مشکل ہے ایک سیکنڈ کے لئے بھی، ایک لمحے کے لئے بھی، تم سے دوری نہیں برداشت کرنا”

جذبوں سے چور آتی شیردل کی آواز پر ہانیہ نے سکون سے آنکھیں بند کرلی

***

رات کے وقت وہ اپنے بیڈ روم میں سونے کے لیے لیٹی تھی نیند تھی کہ آنکھوں سے کوسوں دور تھی بےچینی سے کروٹ بدلتی وہ ایک دم اٹھ بیٹھی گھبراہٹ ایسی تھی کہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اس وقت سب ہی اپنے بیڈ روم میں سو چکے تھے تب سناٹے کو چیرتی بجنے والی ٹیلی فون کی گھنٹی نے ایک دم ہی خاموشی میں خلل پیدا کیا اِس سے پہلے دوسری بار گھنٹی بجتی مشی فوراً رسیور اٹھاکر کال ریسیو کرچکی تھی

“ہیلو” نہ جانے اِس وقت دوسری جانب فون پر کون موجود تھا وہ جلدی میں نمبر بھی چیک نہیں کر پائی تھی

“کیسی ہو” دلاور کی آواز پر جیسے وہ خود ہی نہیں اُس کی دھڑکنیں بھی تھم گئی تھیں چند لمحے تک اُس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا تھوڑی دیر بعد ہمت جمع کرتی وہ بولی

“خوش ہوں” اپنے دل کو قابو پاتی وہ لہجہ نارمل کرتی بولی جس پر وہ استزائیہ ہنسا

“اور اسی خوشی نے تمہیں ابھی تک جگائے رکھا ہے کم سے کم اب تو جھوٹ مت بولو کہ تم وہاں پر میرے بغیر خوش ہو”

دلاور کی بات پر مشی نچلا لب دبا گئی

“تم کیسے ہو” پورے ہفتے بعد وہ اُس کی آواز سن رہی تھی دلاور کی بات سرے سے اگنور کرتی اُس سے اُس کا حال پوچھنے لگی

“میں بالکل خوش نہیں ہوں تمہارے بغیر”

دلاور کی آواز میں بےبسی محسوس کر کے اُس کی انکھیں نم ہوئی مگر اپنی پلکیں جھپکتی وہ نمی کو اپنے اندر ہی اتار گئی

“تو پھر اپنے لیے خوشیاں ڈھونڈ لو اپنے ارد گرد نظر دوڑاؤ شاید تمہارے آس پاس ہی خوشیاں منتظر ہوں”

مشی نے بولتے ہوئے اس وقت کو یاد کیا جب نوشین اسے چائے کا کپ تھما رہی تھی اور دلاور کی فکر کررہی تھی۔۔۔ صرف ایک فرد کی خوشی سے کیا ہوتا ہے دلاور کے بابا سائیں تو نوشین کو ہی بہو کے روپ میں پسند کرتے تھے

“تم کن خوشیوں کی بات کررہی ہو کیا تمہیں معلوم نہیں ہے مشی میری ساری خوشیاں تمہاری ذات سے وابستہ ہیں سنو میری جان تم دلاور کے ساتھ ہو تو اُس کی زندگی میں خوشیاں خوشیاں ہی ہیں تمہارے بغیر تو مجھے میری زندگی زندگی ہی نہیں لگ رہی”

دلاور افسردگی سے بولا تو مشی نے بےبسی کے مارے اپنی آنکھیں بند کرلیں وہ دلاور کی بات پر کیا بولتی اسی لیے خاموش رہی دلاور اُس کو خاموش دیکھ کر دوبارہ بولا

“پلیز مشی واپس آجاؤ میرے پاس میں بالکل اکیلا ہوچکا ہوں یار تمہارے بغیر کسی دوسرے کام میں یا کسی دوسری چیز میں میرا دل نہیں لگتا ہر پل ہر گزرتے وقت تمہاری یاد آتی ہے تمہارا ہنسنا رونا مسکرانا مجھ سے بات کرنا مجھ پر غصہ کرنا مجھ سے ناراض ہونا تمہارا مجھ سے لڑنا ان سب چیزوں کو میں بہت مس کررہا ہوں پلیز واپس آجاؤ”

دلاور کا انداز التجا کرتا تھا مشی نے آہستہ سے نم انکھیں اپنی انگلی کے پور سے صاف کی اور ریسیور کو دوسرے کان پر لگایا

“دوبارہ واپس آگئی تو تم پھر سے قید کرلو گے مجھے”

مشی اُس کو اُس کی غلطی بتاتی ہوئی بولی جس پر دلاور فوراً بولا

“ہاں بالکل قید کرلوں گا آزادی کا نتیجہ تو دیکھ ہی چکا ہوں اگر تم میری قید میں ہوتی تو اِس وقت میری دسترس میں موجود ہوتی یوں تمہارے بغیر تنہا خوار تو نہیں ہورہا ہوتا”

دلاور کی بات سن کر اداس ہوتے ہوئے بھی اُس کے ہونٹ ہلکے سے مسکرائے جن میں اداسی رقم تھی

“جاب سے کیوں ریزائن کیا تم نے کیا ضرورت تھی جاب چھوڑنے کی”

مشی اپنا لہجہ ہموار کرتی دلاور سے پوچھنے لگی

“پہلے تم بتاؤ تمہیں کیا ضرورت تھی یوں مجھے چھوڑ آنے کی”

دلاور الٹا اُس سے سوال کرتا ہوا پوچھنے لگا جس کا کوئی بھی جواب دیے بغیر مشی دوبارہ بولی

“اور فلیٹ، کیا وہ بھی چھوڑ دیا ہے تم نے”

مشی کے لہجے میں فکر شامل ہوچکی تھی اُس کو معلوم تھا وہ فلیٹ شیردل کا دیا ہوا تھا اب جب دلاور اس کے پاس جاب چھوڑ چکا تھا تو یقیناً وہ فلیٹ میں بھی موجود نہیں ہوگا

“ظاہری سی بات ہے ایک ادمی کا گھر اُس کی فیملی سے آباد ہوتا ہے جب تم ہی وہاں پر موجود نہیں ہو تو میں اُس فلیٹ میں رہ کر کیا کروں گا”

دلاور کی بات سن کر مشی کو افسوس ہونے لگا

“تم سچ میں فلیٹ چھوڑ چکے ہو دلاور اگر تم فلیٹ میں موجود نہیں ہو تو پھر اِس وقت کہاں پر ہو مطلب اپنے گھر میں بابا سائیں کے پاس”

اُس کی فکر کرتی مشی اس سے پوچھنے لگی یعنٰی وہ اس وقت گاؤں میں موجود تھا یہاں شہر میں نہیں دل ہی دل میں مشی نے اندازہ لگایا تھا

“اپنے دل میں جھانک کر دیکھو میں وہی موجود ہوں دور بیٹھ کر اتنی فکر کررہی ہو تو پاس آجاؤ ناں میرے۔۔۔ بولو ابھی لینے آجاؤ تمہیں”

دلاور کی بات پر مشی کو غصہ آنے لگا جو اتنی دیر سے ایک ہی بات کی رٹ لگائے ہوئے تھا

“کیا کررہے ہو تم اپنے ساتھ؟ کیوں اپنے فیوچر سے کھیل رہے ہو ایسا کرکے کیا ملے گا تمہیں”

وہ شیردل کے پاس جاب کرکے اچھا خاصہ سیٹل ہوچکا تھا اس کے لائف اسٹائل میں خاصہ فرق واضح نظر آتا تھا مشی اُس کو عقل دلاتی بولی

“تمہاری محبت مل جائے اور کچھ نہیں چاہیے یہ بتاؤ مجھے تمہاری محبت کیسے ملے گی مجھے۔۔ اِس طرح تمہارے بغیر نہیں جیا جا رہا مجھ سے، میں بس تمہیں لینے کے لیے آرہا ہوں”

دلاور کی بات پر اُس کا دل زور سے دھڑکا یعنٰی وہ گاؤں میں نہیں یہی شہر میں موجود تھا جبھی آنے کا طرح بول رہا تھا

“تم کہاں پر رہ رہے ہو دلاور اِس وقت کہاں پر موجود ہو پلیز بتاؤ مجھے”

مشی دلاور کی باتوں کو نظر انداز کرتی اس سے پوچھنے لگی اگر وہ یہی شہر میں موجود تھا اور شیردل کے دیئے فلیٹ میں موجود نہ تھا تو پھر اِس وقت کہاں تھا

“میں کہاں رہ رہا ہوں کس حال میں ہوں تمہیں یہ تب معلوم ہوگا جب تم میرے پاس آؤ گی اگر تمہیں اِس بات کی فکر ہورہی ہے کہ میں تمہیں کہاں رکھوں گا تو اِس بات کی پرواہ مت کرنا میں تمہیں اپنی سر انکھوں پر بٹھاکر رکھوں گا بس ایک مرتبہ میری زندگی میں واپس آجاؤں”

دلاور کے لہجے میں اصرار دیکھ کر وہ چند پل کے لیے خاموش ہوئی

“میں کال رکھ رہی ہوں شاید کوئی جاگ گیا ہے”

مشی دلاور سے بولتی ہوئی کال رکھنے لگی تبھی دلاور فوراً بولا

“میں تمہارا کوئی بوائے فرینڈ یا منگیتر نہیں ہوں جو تم کسی کے ڈر سے میری کال کاٹ رہی ہو شوہر ہوں تمہارا کوئی ضرورت نہیں ہے کال رکھنے کی”

دلاور کے بولنے کے باوجود وہ اُس کی کال کاٹ چکی تھی آگر نہیں کاٹتی تو مشی کو یقین تھا وہ اسے تھوڑی دیر میں اپنی بات کے لیے قائل کرلیتا آخر وہ کیوں اتنی کنفیوز ہوچکی تھی وہ کیا چاہتی تھی اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا بوجھل دل کے ساتھ وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی مگر دلاور کی آواز سن کر تھوڑی دیر پہلے والی بےچینی ختم ہوچکی تھی اس لیے آنکھیں بند کر کے واپس بیڈ پر لیٹ گئی

***