Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Last Episode)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Last Episode)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
اب پانی نہی پھینکو گی؟
سمیر یونہی اس کا ہاتھ تھامے بولا۔
اگر آپ کی دل چاہ رہا ہے تو میں آپ کی یہ شدید خواہش ابھی پوری کر سکتی ہوں۔
وہ سامنے پڑی پانی کی بوتل کی طرف اشارہ کرے ہوئے بولی۔
اب اتنی بھی شدید خواہش نہی ہے یہ میری سمیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
تو پھر کیا ہے آپ کی شدید خواہش؟
ہممم۔۔۔۔میری شدید خواہش!
“میری خواہش ہے کہ یونہی تمہارا ہاتھ تھامے لمبے سفر پر چلتا جاوں اور زندگی کے لمحے خوبصورت بنتے جائیں،بس تم ہو اور میں ہوں اور یہ تنہا راستے ہو،،
اتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے تو اب تک مجھے تنگ کیوں کر رہے تھے آپ؟
آپ۔۔۔۔۔؟
تم نے مجھے آپ کہا؟
سمیر بہت شاکڈ ہوا۔
جی۔۔۔اب مجھے شرمندہ تو نا کریں وہ منہ دوسری طرف موڑتے ہوئے بولی۔
ہممم۔۔۔لیکن تم مجھے آپ کی بجائے تم بھی کہہ سکتی ہو۔
لیکن آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ کہوں،اب کہہ رہے ہیں تم کہوں۔
ہاں تو اب بھی میں ہی کہہ رہا ہوں۔تمہیں جیسے اچھا لگے بولا کرو۔
میں تم پر کوِئی پابندی عائد نہی کرنا چاہتا۔
“محبت غلامی نہی بلکہ آزادی کا نام ہے،میں ان شوہروں میں سے نہی ہوں جو اپنی بیوی پر پابندیاں لگاتے ہیں،یہ نہی کرنا وہ نہی کرنا وغیرہ وغیرہ،،
میں چاہتا ہوں تم مجھے دل سے اپناو۔۔۔خود کو میری امانت سمجھ کر غیر نظروں سے خود کو بچاو اور بس مجھ سے محبت کرو،تم اور آپ کہنے سے مجھے فرق نہی پڑتا جیسے دل چاہے مجھے پکارو۔
لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھ پر پابندیاں لگائیں،
“شوہر کی عزت کرنا،اس کی ہر بات ماننا،خدمت کرنا اور اچھے برے ہر طرح کے حالات میں اپنے شوہر کا ساتھ دینا،اس کی خوشی میں خوش اور غم میں اس کا حوصلہ بننا یہ سب تو میرے فرائض ہیں،،
سمیر نے اچانک گاڑی کو بریک لگائی۔
زرتشہ مجھے یقین نہی ہو رہا کہ یہ سب تم بول رہی ہو،مطلب وہ زرتشہ جو ہر وقت لڑنے کو تیار رہتی تھی وہ اتنی بڑی بڑی باتیں کرنا کیسے سیکھ گئی؟
زرتشہ مسکرا دی۔
آپ گاڑی سٹارٹ کریں میں بتاتی ہوں۔
ہاں ضرور۔۔۔سمیر نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
جب میں سیکنڈ ائیر میں تھی تو میری ایک کلاس فیلو تھی۔
وہ عبایا پہن کر آتی تھی یہاں تک کہ ہاتھوں پر گلوز پہنتی تھی اود پاوں میں سوکس۔
ہم فرینڈز اکثر اسے تنگ کرتی تھیں جب وہ ہماری دوست نہی تھی۔
ہم اسے اکثر اس کے عبایا پہننے کی وجہ سے تنگ کرتی تھیں۔
ایک دن وہ لائیبریری میں اکیلی بیٹھی تھی کہ ہم ساری فرینڈز لائیبریری پہنچی۔
اس وقت اس نے چہرے سے نقاب ہٹا رکھا تھا اور ہمارا یہ گمان تھا کہ وہ ایک بدصورت لڑکی ہے اسی لیے خود کو چھپا کر رکھتی ہے۔
ہم تو بس اسے دیکھتی ہی رہ گئیں وہ بہت پیاری تھی۔اتنی پیاری کہ جتنا ہم کبھی سوچ بھی نہی سکتی تھیں۔
وہ ہمیں دیکھ کر مسکرا دی اور ہمیں اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہا۔
ہم سب حیران ہوئیں کہ ہم نے آج تک کبھی اس سے اچھا برتاو نہی کیا پھر بھی وہ مسکرا رہی تھی۔
اس نے کتاب بند کر دی اور ہماری طرف متوجہ ہو گئی۔
میں جانتی ہوں آپ سب کے ذہن میں کئی سوال ہیں میرے لیے اگر کچھ پوچھنا چاہیں تو پوچھ سکتی ہیں۔
آپ اتنی پیاری ہیں تو پھر آپ پردہ کیوں کرتی ہوں،میں نے وہی سوال کیا جو اس وقت میرے ذہن میں تھا۔
میرے سوال پر وہ مسکرا دی۔
“میں پردہ اس لیے کرتی ہوں کیونکہ میں پیاری ہوں،میں کسی کی امانت ہوں اور میں نہی چاہتی کہ کسی غیر مرد کی نظر مجھ پر پڑے اور امانت میں خیانت ہو جائے،،
ہماری سمجھ میں تو کچھ نہی آیا۔ہم نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔
کس کی امانت ہیں آپ؟
میرے سوال پر وہ پھر سے مسکرا دی۔
“میں اپنے شوہر کی امانت ہوں،ان کے سوا مجھے کوئی نا دیکھے یہی میرا فرض ہے اور یہ اللہ کا حکم ہے،
“شوہر کی خدمت کرنا،شوہر کی ہر بات ماننا اور ہر طرح کے اچھے برے حالات میں ان کا ساتھ دینا،ان کی خوشی میں خوش اور غم میں حوصلہ بننا یہ مجھ پر فرض ہے،ورنہ میں خسارے میں ہوں،
“اللہ نے میرے شوہر کو میرا حاکم بنایا ہے اور محافظ بھی۔اللہ کی رضا میں خوش ہوں میں،،
وہ ہم سب کو حیران چھوڑ کر نقاب ٹھیک کرتی ہوئی لائبریری سے باہر نکل گئی۔
اس دن تو مجھے اس کی بات کا مطلب سمجھ نہی آیا مگر آج سمجھ آ گیا شوہر کا کیا مقام ہے۔
اس کا مطلب اب تم مجھ پر پانی نہی پھینکو گی؟
سمیر کے سوال پر زرتشہ کو حیرت ہوئی کہ میں نے اتنی اچھی بات بتائی ہے اور اس کی سوئی ابھی تک پانی پر ہی اٹکی ہے۔
اف میرے خدا۔۔۔اس کا دل چاہا سامنے پڑی پانی کی بوتل خود پر ہی الٹ لے۔
ضرورت پڑنے پر میں یہ حربہ استعمال کر بھی سکتی ہوں،کسی خوش فہمی میں نہ رہنا تم۔۔۔
میرا مطلب آپ۔۔!
مطلب یہ کہ تم نہی بدلنے والی سمیر نے افسوس سے سر ہلایا۔
میں کوشش کروں گی خود کو بدلنے کی۔۔۔وہ سمیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
سمیر کو ایک خوشگوار سا احساس محسوس ہوا وہ اپنے پر موجود ذرتشہ کا ہاتھ دیکھ کر مسکرا دیا۔
لیکن اگر میں چاہوں کہ تم خود کو نہ بدلو۔۔۔؟
میرے لیے ویسی ہی رہو جیسی تم ہو۔
میں نے تمہاری انہی عادتوں کی وجہ سے تو پسند کیا ہے۔
“جو لڑکی کسی غیر مرد کے اپنی طرف بڑھتے قدم روک سکتی ہے وہ اپنے محرم رشتوں سے بہت محبت کرتی ہے،،
وہ دن جب ہم پہلی دفعہ ملے تھے کینٹین میں جب تم نے مجھ پر جوس گرایا تھا اور پھر اس کے بعد جب میں نے تمہاری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو تم نے صاف انکار کر دیا۔
میں اس دن سے تمہارے آس پاس رہنے لگا کہ شاید تمہارے دل میں میرے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہو مگر نہی۔۔تم نہی بدلی۔
پھر وہ چوڑیاں۔۔۔۔سمیر خاموش ہو گیا۔
زرتشہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔
I am sorry….
وہ شرمندہ سی بولی۔
نہی۔۔سوری نہی بولنا آئیندہ۔
اس دن میں بہت پریشان تھا کیس کا کوئی سرا ہاتھ لگ ہی نہی رہا تھا اور اوپر سے تم مجھ پر تپ چکی تھی۔
وہ لمبے بال مجھے اس مشن کے لیے بڑھانے پڑے تھے۔۔۔ایک طرف فرض تھا اور دوسری طرف محبت۔
خیر میں نے بال کٹوا دئیے کیونکہ تمہیں پسند نہی تھے۔
پھر کچھ دن میں یونیورسٹی نہی آ سکا مصروفیات کی وجہ سے۔
جب یونیورسٹی آیا تو تم گیٹ کے پاس ہی نظر آ گئی۔پہلے سوچا تم سے بات کروں۔
پھر سوچا نہی۔۔۔تھوڑا رعب تو دکھانا پڑے گا۔
مگر نہی جب تمہیں لائیبریری میں جاتے دیکھا تو پاگل دل کے ہاتھوں مجبور میں بھی پیچھے پیچھے چل دیا۔
تم نے پھر سے مجھے غلط سمجھا۔۔میں تو تم سے بات کرنا چاہتا تھا ہمارے نکاح کی مگر یہ ممکن نہک ہو سکا۔
یہ سفر بہت خوبصورت تھا میرے لیے،محبت کا احساس بلکل نیا تھا میرے لیے ورنہ میں بہت خود غرض سا انسان ہوا کرتا تھا۔
تمہاری محبت نے مجھے بدل ڈالا۔۔۔میں کسی بھی صورت تمہیں کھونا نہی چاہتا تھا اسی لیے اتنا بڑا قدم اٹھانا پڑا۔
“ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اور دیکھ لو اتنی مشکلات کے بعد آخر تم نے مجھے قبول کر ہی لیا،،
بس اسی طرح میرا اعتبار کرنا،حالات چاہے جیسے بھی ہو بس اتنا یاد رکھنا یہ بندہ بس تمہارا ہے بس زرتشہ خان کا۔
زرتشہ نے مسکراتے ہوئے سمیر کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
یونہی باتیں کرتے کرتے سفر کٹ گیا۔وہ دونوں گھر پہنچے تو ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔
ان دونوں کا استقبال بہت خوشدلی سے کیا گیا۔
زرتشہ کو ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی ریاست کی شہزادی ہو۔
آج سارا کھانا زرتشہ کی پسند کا بنا تھا۔
وہ دونوں فریش ہو کر آئے اور کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔
تب ہی اچانک ندا وہاں آ گئی اور سمیر کے ساتھ والی کرسی گھسیٹتے ہوئے بیٹھ گئی اور کھانے سے انصاف کرنے لگی۔
زرتشہ کو ندا کا یہاں آنا بلکل اچھا نہی لگا اور سمیر بھی تو اس کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔
زرتشہ کرتی بھی تو کیا!
بے دلی سے کھانا کھایا اور اپنے یعنی سمیر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
تھک چکی تھی اتنے لمبے سفر سے تکیہ درست کرتے ہوئے لیٹ گئی مگر سمیر کا ندا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے مسکراتا چہرہ آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگا۔
نہی مجھے ایسا نہی سوچنا چاہیے سمیر کے بارے میں وہ تو بس اسے اپنی چھوٹی بہن سمجھتا ہے۔اس نے دماغ میں آنے والے فضول خیالات کو جھٹکا اور آنکھیں بند کیے سو گئی۔
ندا چلی گئی تو سمیر کو زرتشہ کا خیال آیا وہ مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
زرتشہ کو سوتے دیکھ کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔
باہر آیا تو حنا اسی کے انتظار میں باہر کھڑی تھی۔
بھائی آپ یہ ٹھیک نہی کر رہے!
کیا۔۔۔؟
سمیر کو حیرت ہوئی بہن کے اس سوال پر۔
بھائی آپ ندا سے زیادہ بات مت کیا کریں اب۔۔۔آپ کا نکاح ہو چکا ہے۔
سمیر ہنس پڑا حنا کی بات پر۔۔۔تو اس میں بتانے والی کونسی بات ہے میں جانتا ہوں۔
مگر یہ ندا سے کیا مسئلہ ہے اب تمہیں؟
مسئلہ ہے بھائی۔۔۔!
ندا کا یہاں آنا مجھے ٹھیک نہی لگتا اور بھابی کو بھی۔۔
کیا۔۔۔۔؟
زرتشہ نے ایسا کہا کیا تم سے؟
نہی انہوں نے تو ایسا کچھ نہی بولا مگر میں آپ کو وارن کر رہی ہوں۔
کھانا کھاتے وقت بھابی کا سارا دھیان آپ پر اور ندا پر تھا وہ خود کو بہت کم تر محسوس کر رہی تھیں۔اسی لیے اپنے کمرے میں چلی گئیں مگر آپ کو تو ندا سے ہی فرصت نہی تھی۔
بس کر دو حنا!
جو منہ میں آتا ہے بول دیتی ہو،جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہی ہے۔
تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں نے آج تک تمہیں اور حنا کو ایک جیسا سمجھا ہے کبھی تم دونوں میں کوئی فرق نہی کیا۔
یہ سب تمہارے دماغ کے پیدا کیے وسوسے ہیں انہیں ختم کر دو۔
بھائی میں جانتی ہوں آپ ندا کو بہن سمجھتے ہیں مگر وہ آپ کو بھائی نہی سمجھتی۔
حنا جاو سو جاو چپ چاپ پتہ نہی کیا کیا سوچتی رہتی ہو وہ اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
حنا غصے سے پیر پٹختی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
صبح زرتشہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد نیچے آئی تو حنا اور سمیر کی امی ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔
وہ بھی ان کے ساتھ ہٹانا چاہتی تھی مگر انہوں نے اسے کام نہی کرنے دیا۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا آپ دونوں مجھے کسی کام کو ہاتھ ہی نہی لگانے دیتیں۔
وہ اس لیے کہ ابھی آپ کے عیاشی کے دن ہیں بھابی ایک بار آپ کی شادی ہو گئی تو سب آپ ہی کو سنبھالنا ہے۔۔۔۔حنا پراٹھا پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولی۔
حنا کی بات پر زرتشہ شرما کر نظریں جھکا گئی۔
بھابی آپ شرما رہی ہیں۔۔۔حنا کوئی موقع نہی چھوڑنے والی تھی۔
نننہی تو۔۔۔میں تو بس ایسے ہی وہ انکل جی کہاں ہیں؟
وہ تو کب کے چلے گئے باغات پر۔۔فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ناشتہ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اب شام کو آئیں گے واپس۔۔جواب سمیر کی امی کی طرف آیا۔
اب انکل،آنٹی نہی ہمیں اماں اور ابا کہنے کی عادت ڈال لو بیٹا۔
جی آنٹی۔۔۔ہممم میرا مطلب اماں جی۔
زرتشہ کے اماں جی کہنے پر وہ دونوں ماں بیٹی مسکرا دیں اور ان کو مسکراتے دیکھ زرتشہ بھی مسکرا دی۔
تینوں ناشتہ کرنے بیٹھ گئیں مگر زرتشہ کو سمیر نظر نہی آیا۔
کیا ہوا بھابی آپ پریشان لگ رہی ہیں مجھے؟
اوہ اچھا اچھا سمجھ گئی آپ کی نظریں جن کے انتظار میں ہیں وہ یہاں نہی ہیں۔
بھائی تو صبح ہی چلے گئے تھے ڈیوٹی پر۔
کیا۔۔۔؟
مجھے تو بتایا ہی نہی کہ صبح چلے جائیں گے وہ،زرتشہ کو حیرت ہوئی۔
اوہ یہ تو برا ہوا۔۔!
سمیر کو تمہیں بتا کر جانا چاہیے تھا۔کیوں سہی کہا ناں میں نے تائی جان؟
یہ ندا تھی جو صبح صبح یہاں آ ٹپکی۔
مجھے تو بتایا تھا اس نے کل رات مگر کمال ہے اپنی بیوی کو نہی بتایا۔
جلے پر نمک چھڑک رہی تھی وہ۔
تم فکر مت کرو بیٹا سمیر ایسا ہی ہے۔۔کب آ جائے کب چلا جائے کچھ پتہ نہی ہوتا۔
شاید جلدی میں بتانا بھول گیا ہو گا تم ناشتہ کرو آرام سے آ جائے گا جلدی۔۔وہ ندا کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولیں۔
زرتشہ بس پھیکا سا مسکرا دی اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔
ارے حنا امی سے نہی ملاو گی اپنی بھابی کو؟
اپنی۔۔۔۔حنا نے ندا کے الفاظ دہرائے۔
ہاں میرا مطلب ہماری۔۔۔ایک ہی بات ہے۔
حنا ناشتہ کرنے کے بعد لے جاو بھابی کو چچی سے ملوانے۔
حنا نے سر ہلا دیا۔
وہ تینوں ناشتہ کرنے کے بعد گھر کے درمیانی راستے سے گھر کی دوسری طرف بڑھ گئیں۔
سامنے ایک خاتون بیٹھی تھی صوفے پر۔
سلام چچی جی۔۔۔یہ زرتشہ ہے سمیر بھائی کی دلہن۔۔۔حنانے بہت اچھح انداز میں زرتشہ کا تعارف کرایا۔
اسلام و علیکم۔۔۔زرتشہ نے ان کو سلام کیا۔
وہ پہلے تو زرتشہ کو سر سے پاوں تک دیکھتی رہی پھر ہنس دیں یہ تو پٹھانی لگ رہی ہے مجھے۔
جی چچی یہ پٹھان ہی ہیں۔۔۔بہت پیاری ہیں میری بھابی۔
لیکن میں نے تو سنا ہے کہ پٹھان بہت غیرت مند ہوتے ہیں۔اس نے اپنے ماں باپ کا نام مٹی میں ملا دیا ہے اور کیسے بے شرمی سے پھر رہی ہے۔
چچی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟حنا نے ٹوکا مگر ان پر کوئی اثر نہی ہوا۔
ارے امی چھوڑیں آجکل سب چلتا ہے ندا نے بھی ماں کی ہاں میں ہاں ملائی۔
ان دونوں ماں بیٹی کی حقارت بھری نظریں زرتشہ پر ہی جمی تھیں مگر وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔
توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے سمیر کو اور کوئی لڑکی نہی ملی تھی جو پٹھانی بیاہ لایا ہے۔
ارے میں پوچھتی ہوں آخر کیا کمی تھی میری بیٹی میں؟
عقل اور تہزیب کی کمی تھی ورنہ سمیر بھائی اسی سے شادی کر لیتے شاید۔
حنا کے جواب پر دونوں کے چہرے کے تیور بدلے۔
تو چپ رہ بدتمیز۔۔۔وہ غصے سے حنا کی طرف بڑھیں۔
میں نے کچھ غلط تو نہی کہا۔۔اور ایک بات سمیر بھائی نے یہ نکاح اماں اور ابا کی رضا مندی سے کیا ہے تو آپ کو کوئی مسئلہ نہی ہونا چاہیے۔
میری بھابی لاکھوں میں ایک ہے۔ہیرا ہے ہیرا”
آپ اپنا کھوٹا سکہ سنبھال کر رکھیں اپنے پاس۔۔۔وہ زرتشہ کا ہاتھ تھامے اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی اور جا کر ماں کو ساری بات بتا دی۔
چھوڑو بیٹا ان ماں،بیٹی کی عادت ہی ایسی ہے۔بہت کوشش کی انہوں نے کہ سمیر کی ندا سے بات چلا سکیں مگر میرا بیٹا ان کی باتوں میں نہی آیا اور وہ ندا کو چھوٹی بہن سمجھتا ہے۔
زرتشہ نے بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔
سمیر ایک ہفتے بعد اچانک گھر آیا۔۔۔زرتشہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اسے دیکھ کر،سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
اس دن والی بات کا کسی نے کوئی ذکر نہی کیا گھر میں البتہ سمیر کے ابا نے ولیمے کے ایک فنکشن کا اعلان کر دیا تا کہ سب کو ان کی بہو سے ملوایا جا سکے اور دونوں ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار سکیں۔
حنا کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہی تھا اپنح بھائی کو دلہا بنا دیکھنے کی اس کی خواہش پوری ہونے جا رہی تھی۔
آج دونوں کی مہندی کا چھوٹا سا فنکشن گھر میں ہی ارینج کیا گیا تھا۔
ندا جلی بھنک سی بیٹھی تھی اپنی ماں کے ساتھ ان دونوں کو کوئی منہ نہی لگا رہا تھا کیونکہ ان کی زبان ہمیشہ کڑوے بول ہی اگلتی ہے۔
ندا نے بہت کوشش کی ان دونوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی مگر ناکام رہی۔
“اگر شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے پر بھروسہ قائم رہح تو کسی تیسرے کی کیا جرات ان کے درمیان رکاوٹ بن سکے،،
مہندی کا فنکشن گھر میں ہی تھا مگر سمیر اور زرتشہ کو اجازت نہی تھی ایک دوسرے کس دیکھنے کی۔
گاوں کے رواج کے مطابق عورتوں کا فنکشن الگ تھا اور مردوں کا الگ۔
سمیر اکتا چکا تھا ان رسموں سے۔۔۔اب یہ کیا بات ہوئی بھلا بندہ اپنی بیوی کو دیکھ بھی نہی سکتا وہ فیصل اور نوید کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
ان دونوں نے سمیر کی حالت دیکھتے ہوئح قہقہ لگایا۔
سمیر نے افسوس سے سر ہلایا۔۔ہنس لو بدتمیزوں جب تم لوگوں کا وقت آئے گا تب میں بھی ایسے ہی ہنسوں گا۔
یہ تینوں بچپن کے دوست ہیں ان کے گھر بھی اسی گاوں میں ہیں۔تینوں نے ایک ساتھ ہی آرمی جوائن کی۔
ول البم جو زرتشہ کو سمیر کے خفیہ کمرے سے ملا تھا اس میں ان کی بچپن سے لے کر آرمی جوائینگ اسر ٹریننگ وغیرہ کی پکس تھیں۔
اس کمرے میں زرتشہ اور سمیر کی بہت ساری تصویریں دیواروں ہر چسپاں تھیں۔جو جب جب ان دونوں کی ملاقات ہوتی نازیہ۔۔میرا مطلب میجر زویا نے اپنے کیمرے میں قید کی تھیں۔
کہ ساری تصویریں سمیر کی محبت کا منہ بسلتا ثبوت تھیں۔
زویا وہ تصویریں سمیر کو بھیجتی رہی اور وہ مذاق میں زرتشہ زے محبت کر بیٹھا۔
دوسری طرف عافیہ اور نیلم بھی زرتشہ کو تنگ کرنے میں مصروف تھیں۔
ہنسی خوشی خوشیوں کی یہ رات اپنے اختتام کو پہنچی مگر سمیر کی زرتشہ کو دیکھنے کی خواہش دل میں ہی رہ گئی۔
خیر اگلے دن سمیر دلہا بن بہت چج رہا تھا۔بلکک پینٹ کوٹ پہنے وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
اس کے اماں،ابا تو بلائیں لیے نہی تھک رہے تھے اور حنا کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہی تھا۔
بارات ہال پہنچی۔۔۔سمیر سٹیج پر براجمان ہو چکا تھا مگر اس کی نظریں بس زرتشہ کے انتظار میں تھیں۔
زرتشہ کو سٹیج کی طرف آتے دیکھ سمیر کے چہرے پر اداسی چھا گئی کیونکہ زرتشہ نے چہرہ گھونگٹ میں چھپا رکھا تھا۔
زرتشہ کو سٹیج کی طرف بڑھتے دیکھا تو اس نے آگے بڑھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
زرتشہ نے سمیر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اس کے ساتھ آ رکی۔
سمیر کی امی ان کے پاس آئیں اور دونوں کو بیٹھنے کو بولا۔
دونوں بیٹھ گئے اور گفٹس کا دور چلا اس کے بعد کھانے کا دور چلا اور پھر رخصتی کا وقت آ پہنچا۔
زرتشہ کو شدت سے اپنے بابا اور بھائیوں کی یاد آئی۔
مگر وقت بہت آگے بڑھ چکا تھا رشتے بہت پیچھے رہ گئے تھے۔
بس بے بسی باقی تھی۔
وہ بس دل ہی دل میں آنسو بہاتی رہی کیونکہ وہ نہی چاہتی تھک کہ اس کے رونے کی وجہ سے سمیر یا پھر گھر والے اداس ہو۔
یادوں کے سمندر سے باہر تب نکلی جب سمیر نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اس نے وہ ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔اب یہی سہارا تھا جس کے ساتھ زندگی گزارنی تھی اسے۔
زرتشہ کو حنا اس کے کمرے میں چھوڑ آئی۔
وہ بہت دیر تک سمیر کا انتظار کرتی رہی مگر وہ کمرے میں نہی آیا۔
اب وہ گھونگٹ بھی نہی ہٹا سکتی تھی اور سو بھی نہی سکتی تھی۔
آخر ایک گھنٹے بعد وہ کمرے میں داخل ہوا۔
الماری سے ٹراوزر اور ٹی شرٹ نکالتے ہوئے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
چینج کرنے کے بعد آرام سے بیڈ کی دوسری طرف تکیہ درست کرتے ہوئے لیٹ گیا۔
زرتشہ کو مکمل نظر انداز کیے ہوئے تھا وہ۔
زرتشہ جو پہلے سے ہی دکھی تھی،سمیر کا رویہ دیکھ کر وہ مزید دکھی ہو گئی۔
اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کہ آخر ہوا کیا ہے سمیر کو،کیوں کر رہا ہے وہ ایسا۔
آخر کار اس نے ہمت کی اور سمیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو سمیر نے تیزی سے ہٹا دیا۔
سمیر۔۔۔۔!
آخر ہوا کیا ہے؟
آپ کیوں ناراض ہیں مجھ سے؟
زرتشہ بس رونے کو تیار تھی۔
سمیر ٹس سے مس نہی ہوا۔تو پھر ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔۔۔
جا رہی ہوں میں چینج کرنے۔۔۔ایک تو آپ کے لیے اتنے ہیوی کپڑے پہنے،تیار ہوئی مگر آپ کو پرواہ ہی نہی ہے۔
وہ اپنا بھاری لہنگا سنبھالتی ہوئی الماری کی طرف بڑھی۔
تھوڑا سا گھونگٹ اٹھایا اور اپنا ایک جوڑا نکالا۔
جیسے ہی پلٹی سمیر اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
ایک دم پلٹنے پر زرتشہ کا پاوں لہنگے میں اٹکا اور وہ گرتے گرتے بچی۔
سمیر کو کندھوں سے تھام رکھا تھا اس نے اور آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔گھونگٹ پھر سے نیچے گر چکا تھا۔
سمیر نے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے اور گھونگٹ اٹھا دیا۔
زرتشہ نظریں جھکا گئی۔
سمیر کی نظریں اس کے چہرے پر جم سی گئیں وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھنے لگا۔
کیا ہے اب ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟
جانے دیں مجھے چینج کرنا ہے،وہ ناراضگی سے واش روم کی طرف بڑھی مگر سمیر اس کے راستے میں آ رکا۔
بہت تڑپایا ہے تم نے ،اب جی بھر کر دیکھ تو لینے دو مجھے۔
کل سے ترس گیا ہوں تمہارا چہرہ دیکھنے کو مگر اب سمجھ آ گئی ہے کیوں کہتے ہیں کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
Looking so pretty…
مدھم آواز میں زرتشہ کے کان میں بسلتا وہ اس کے دل کی دھڑکن میں ہلچل مچا گیا۔
زرتشہ شرما کر آگے بڑھی سمیر پھر سے اس کے راستے میں آ رکا۔
زرتشہ کا ہاتھ تھاما اور دراز سے رِنگ نکال کر اسے پہنا دی اور ہاتھ ہونٹوں تک لے گیا۔
زرتشہ نے اپنا ہاتھ تیزی سے واپس کھینچا اور پانی کا گلاس اٹھا کر سمیر پر الٹ دیا۔
وہ بس صدمے کی حالت میں کبھی زرتشہ کو اور کبھی اپنے کپڑوں کو دیکھتا۔
زرتشہ یہ کیا ہے یار۔۔۔کم ازکم آج کے دن تو چھوڑ دیتی۔۔سمیر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
سمیر کے مسکرانے پر زرتشہ بھی مسکرا دی۔۔آپ محھے تنگ کر رہے تھے اسی لیے کیا ایسا۔
اب اس میں تنگ کرنے والی کونسی بات تھی یار انگوٹھی ہی تو پہنا رہا تھا منل دکھائی کا تخفہ۔
وہ بولتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا زرتشہ کے قریب آ پہنچا۔
اسے بازو سے تھامتے ہوئے اپنے قریب لایا اور اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے۔
بے قرار دھڑکنیں ہیں
تم جو رکھ دو سینے پے سر
تو قرار ان کو مل جائے
زرتشہ نے پرسکون ہو کر اپنے ہسفر کے زینے پر سر رکھ دیا۔
ایک خوبصورت زندگی کا آغاز ہوا۔محبت کرنے والوں کی ان کی محبت مل ہی جاتی ہے اگر محبت میں خلوص ہو ورنہ محبت بس نام کی ہوتی ہے۔
صبح زرتشہ نماز ادا کرنے کے بعد نیچے آ گئی سمیر بھی نماز ادا کر کے واپس آ گیا۔
سب نے ایک ساتھ ناشتہ کیا۔۔۔سارے مہمان رات کو ہی جا چکے تھے۔
سب کے چہروں سے خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد سمیر اپنے کمرے میں چلا گیا اور زرتشہ کو بھی کمرے میں آنے کا اشارہ دیا۔
الماری سے ایک فون نکال کر زرتشہ کی طرف بڑھایا۔یہ فون کل رات دینا یاد نہی رہا مجھے۔
اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا۔مجھے ابھی جانا ہو گا جلدی واپس آوں گا۔
ڈیوٹی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔۔جا رہا ہوں ایک نئے مشن پر۔۔۔دعا کرنا کامیابی حاصل ہو۔
آمین۔۔۔میں آپ کے فرض کے راستے میں کبھی رکاوٹ نہی بنوں گی۔
مجھے فخر ہے کہ میں ایک آرمی آفیسر کی بیوی ہوں۔
وہ سمیر کے دونوں ہاتھ آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولی۔
سمیر نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر پیار کی مہر ثبت کی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
زرتشہ کو ایک مکمل گھرمل گیا۔۔حنا کی صورت میں چھوٹی بہن اور ماں باپ جیسے ساس سسر مل گئے اور ان سب سے زیادہ اسے چاہنے والا شوہر ملا۔
جو اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہی تھا۔
