Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 10)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

نہی سمیر۔۔۔۔۔۔

زرتشہ چلاتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔یہ ایک خواب تھا۔

اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔حیرانگی سے کمرے میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی مگر یہاں کوئی نہی تھا۔

اوہ۔۔۔یہ ایک بھیانک خواب تھا۔شکر ہے یہ بس خواب ہی تھا حقیقت نہی۔۔۔۔

اس نے سائیڈ ٹیبل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو پانی کا جگ خالی تھا۔

وہ جگ اٹھائے کچن کی طرف بڑھ گئی۔فریج سے پانی کی بوتل نکال کر جگ میں پانی ڈالا اور واپس کمرے میں آ گئی۔

گلاس میں پانی ڈالا اور سارا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کر ڈالا۔

یہ بہت برا خواب تھا مجھے یونیورسٹی چلی جانا چاہیے اس سے پہلے کہ سمیر یہاں پہنچے۔۔۔

ہاں یہی ٹھیک رہے گا!

میں کل صبح ہی یونیورسٹی چلی جاوں گی۔اگر سمیر یہاں آیا تو بہت برا ہو گا اور اگر لالہ کو پتہ چل گیا اس نکاح کے بارے میں تو پتہ نہی کیا قیامت آئے گی اس گھر میں۔

سمیر یہ کیا کر دیا تم نے،میری زندگی میں پہلے مشکلات کم تھیں جو تم نے ایک نیا عذاب میرے گلے میں ڈال دیا۔

وہ آنسو بہاتی ہوئی سونے کے لیٹ گئی مگر نیند آنکھوں سے بہت دور تھی۔پچھلے ایک ہفتے سے اس کی ہر رات یونہی جاگ کر گزر رہی تھی۔

صبح ہوتے ہی بھابیوں کی فرمائیشیں شروع ہو جاتی،زرتشہ یہ کر دو وہ کر دو۔

بس اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔زرتشہ کے دل میں ہر وقت سمیر نام کا ایک ڈر سا منڈلاتا رہتا۔پتہ نہی کیا ہو گا جب سب کو اس نکاح کے بارے میں پتہ چلے گا۔بس اسی سوچ میں اس کے دن اور رات گزرتے۔

ابھی زرتشہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ اسے نیچے صحن سے کسی کی باتوں کی آواز سنائی دی۔

وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل کر نیچے کی طرف بڑھی۔سامنے کا منظر زرتشہ کے ہوش اڑا دینے کو کافی تھا۔

وہ نیلم اور نازیہ تھیں۔وہ دونوں زرتشہ کی بھابی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھیں۔

زرتشہ کے قدم وہی سیڑھیوں پر ہی تھم گئے۔

نیلم کی نظر سیڑھیوں پر کھڑی زرتشہ پر پڑی تو وہ دونوں اس کی طرف بڑھی۔مگر وہ دونوں نہی ان کے ساتھ ایک برقعہ پوش خاتون بھی تھی۔وہ بھی زرتشہ کی طرف بڑھی۔

زرتشہ ان دونوں سے گلے ملی جبکہ اس پردہ پوش سے بس ہاتھ ملانے پر ہی اکتفا کیا۔

بس یہی کھڑی رہو گی یا ان کو بٹھاو گی بھی،بھابی کی آواز پر زرتشہ چونک کر اوپر کی طرف بڑھی۔

کمرے میں پہنچ کر زرتشہ نے نازیہ اور نیلم دونوں کو سوالیہ نظروں سے گھورا۔جس کا مطلب تھا کہ یہ برقعہ والی عورت کون ہے۔

نیلم اور نازیہ نے پریشانی سے پہلے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اس پردہ پوش کی طرف۔

زرتشہ لگتا ہے میں اپنا فون گاڑی میں بھول گئی اور گاڑی بھی تو پارک کرنی ہے تو ہم دونوں تھوڑی دیر میں واپس آ جائیں گی۔

نازیہ بولتی ہوئی نیلم کو بازو سے کھینچتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

زرتشہ حیران و پریشان سی ان کو جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔

رکو میں بھی آتی ہوں۔۔۔۔

زرتشہ بھی ان کے پیچھے دوڑی مگر ایسا نہی ہو سکا اس پردہ پوش نے زرتشہ کا بازو تھام لیا اور دروازہ لاک کر دیا۔

نہی یہ نہی ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔

زرتشہ کی نظر نقاب سے جھانکتی آنکھوں پر پڑی ان آنکھوں کو بہت اچھی طرح پہچانتی تھی وہ۔

چہرے سے نقاب ہٹا اور زرتشہ کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔

سامنے سمیر کھڑا تھا جو بے زاری سے برقعہ اتارنے میں مصروف تھا۔

زرتشہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے سمیر کو دیکھ رہی تھی۔

آخر کار سمیر برقعہ اتارنے میں کامیاب ہوا اور صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ کر سانس بحال کرنے لگا۔

سمیر۔۔۔۔زرتشہ نے دھیمی آواز میں اسے پکارا۔

یہ سب کیا ہے ؟

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟

اگر کسی نے تمہیں دیکھ لیا تو؟

تمیں ہر بات مزاق لگتی ہے کیا؟

زرتشہ مدھم آواز میں مگر غصے سے بول رہی تھی۔

کیا تمہارے گھر میں مہمانوں کا استقبال ایسے کرتے ہیں؟

سمیر زرتشہ کے سامنے آ رکا۔

سوری مہمان نہی۔۔۔”شوہر ہوں میں تمہارا۔۔۔سمیر نے جیسے اسے یاد دلایا۔

اچھی بیویاں شوہر کو تم نہی آپ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔

کمال ہے میں اتنی لمبی مسافت طے کر تم سے ملنے آیا ہوں اور تمہارے مزاج ہی نہی مل رہے۔

خدا کا واسطہ ہے سمیر چپ ہو جاو اگر کسی نے تمہاری آواز سن لی تو مصیبت آ جائے گی۔

زرتشہ نے آگے بڑھ کر سمیر کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور اسے مزید بولنے سے روکا۔

یہ یونیورسٹی نہی ہے میرا گھر ہے،تم تو ڈرتے نہی ہو کسی سے مگر میں بہت ڈرتی ہوں اپنے رشتوں کو کھونے سے وہ سمیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی۔

سمیر نے زرتشہ کا ہاتھ ہٹایا۔

“اب اتنا بھی فائدہ مت اٹھاو،میرے قریب آنے کا اچھا بہانہ ہے۔

زرتشہ اسے گھورتی ہوئی پیچھے ہٹی جلد بازی میں اسے اندازہ ہی نہی ہوا وہ سمیر کے کتنے قریب کھڑی تھی۔

خیر اب اتنا بھی مت ڈرو،شوہر ہوں تمہارا پاس آ کر کوئی گناہ نہی کیا تم نے،سمیر واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

“یہ شوہر،شوہر کیا لگا رکھی ہے؟

چپ ہو جاو پلیز!

“زبردستی کے شوہر ہو تم،میں نے کوئی شوق سے رشتہ نہی جوڑا تم سے اسی لیے بہتر ہے کہ تم کسی قسم کی امید مت لگانا مجھ سے”

مجھے بھی کوئی شوق نہی ہے کہ تم سے کوئی امید لگاوں۔

تمہاری سہیلیاں ہی مری جا رہی تھیں تم سے ملنے کے لیے،ان کو لگتا تھا کہ بس میں ہی تمیں یونیورسٹی واپس لا سکتا ہوں کیونکہ تم میری وجہ سے یونیورسٹی چھوڑ کر آئی تھی۔

سمیر چہرے پر غصیلے تاثرات لیے بولا۔

چپ چاپ صبح یونیورسٹی چلو تا کہ میری جان چھوٹے۔۔۔

تم ان کے کہنے پر آئے ہو یہاں؟

زرتشہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔

“تو اور کیا؟

“تمہارے لیے تھوڑی ناں آیا ہوں،میری مجبوری تھی یہاں آنا”

اب پلیز ان دونوں کو ان کا کمرہ دکھاو اور کمرے کی لائٹ بند کر کے سو جاو مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔مزید بخث کرنے کا موڈ نہی ہے میرا۔

سمیر اے سی آن کرتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا اور زرتشہ کمرے کی لائٹ بند کرتی ہوئی باہر کی طرف بڑھی۔

نیلم اور نازیہ کمرے کے باہر ہی کھڑی تھیں۔

زرتشہ ان دونوں کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔

یہ تم دونوں نے ٹھیک نہی کیا سمیر کو یہاں زبردستی لا کر۔

زرتشہ اب تم ہی بتاو ہم کیا کرتیں،ہمیں تمہاری فکر ہو رہی تھی۔

ایک ہفتہ ہو چکا ہے تم بنا بتائے یہاں آ گئی۔مجبوراً ہمیں سمیر سے بات کرنی پڑی۔

تمہاری پڑھائی بھی تو خراب ہو رہی تھی۔

تم دونوں آرام کرو تھک گئی ہو گی۔کھانا لا دوں؟

اس بارے میں یونیورسٹی میں بات ہو گی۔

نہی کھانا ہم نے راستے میں کھا لیا تھا بس اب تم اپنے کمرے میں جاو۔کہی ایسا نا ہو کہ کوئی تمہارے کمرے میں چلا جائے۔

اس وقت اس لیے آئے ہم کیونکہ سب سو رہے ہو گے اگر صبح آتے تو سب سمیر کو پہچان لیتے۔

تم لوگ آرام کرو،میں چلتی ہوں۔

زرتشہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کیا اور سمیر کی طرف دیکھا جو بڑے مزے سے سو رہا تھا۔

ایسے سو رہا تھا جیسے اپنے کمرے میں ہو اور کوئی پریشانی ہی نا ہو اسے۔

زرتشہ کا دل چاہا اپنا سر دیوار میں دے مارے۔

“اب آ کر لیٹ بھی جاو کب تک مجھے گھورتی رہو گی،اب تمہارا ہی ہوں پوری زندگی پڑی ہے مجھے دیکھنے کے لیے مگر ابھی سو جاو”

سمیر کی نیند میں ڈوبی آواز زرتشہ کے کانوں میں پڑی تو وہ چونک کر سمیر کی طرف بڑھی۔

تم یہاں نہی سو سکتے،یہ میرا کمرہ ہے۔

نکلو میرے کمرے سے جاو کسی ہوٹل میں جا کر رات گزارو یا پھر کسی سڑک پر سو جاو مگر یہاں سے جاو۔

“یہ کمرہ تمہارا ہے اور تم میری،اب چپ چاپ سو جاو اور مجھے بھی سونے دو”

سمیر ہڑبڑاتے ہوئے پھر سے سو گیا۔

“زبردستی کے رشتے کبھی کامیاب نہی ہوتے سمیر،ابھی بھی وقت ہے مجھے اس رشتے سے آزاد کر دو اور مجھے میری زندگی جینے دو،ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت الگ ہیں۔ہمارے لیے مشکل ہے ایک ساتھ رہنا،تم مجھے اس زبردستی کے رشتے سے آزاد کر دو پلیز”

زرتشہ کی بات پر سمیر اٹھ کر بیٹھ گیا۔چند پل کے لیے سوچ میں پڑ گیا اور پھر زرتشہ کی طرف بڑھا۔

اسے بازو سے کھینچتے ہوئے بیڈ پر لے آیا۔چپ چاپ سو جاو یہاں!

میں کچھ نہی کہتا تمہیں،جیسا تم مجھے سمجھتی ہو میں ویسا بلکل نہی ہوں اور جہاں تک بات ہے اس رشتے کو ختم کرنے کی تو وہ تو اب میرے مرنے کے بعد ہی ختم ہو سکتا۔

“میرے مرنے کی دعا کیا کرو شاید قبول ہو جائے”

یہ تکیہ رکھ لو درمیان میں اس سے آگے نہی آوں گا میں۔۔۔تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہی ہے۔

سمیر اپنے اور زرتشہ کے درمیان تکیے رکھتے ہوئے دوسری طرف سونے کے لیے لیٹ گیا۔

سمیر سو گیا تو زرتشہ بھی سونے کے لیے لیٹ گئی مگر پوری رات سو نہی سکی۔

سمیر کی باتیں اسے مزید الجھا رہی تھیں۔کبھی میرے لیے فکر مندی اور کبھی لاپرواہی۔۔۔آخر تم مجھ سے چاہتے کیا ہو سمیر؟

زرتشہ خود سے سوال کرتی رہی،گالوں پر پھسلتے آنسو ساری رات تکیہ بھگوتے رہے اور اس کی سسکیاں کمرے میں گونجتی رہیں مگر سمیر نے آج ہمیشہ کی طرح ہاتھ بڑھا زرتشہ کے آنسو صاف نہی کیے۔

وہ دونوں ہی اپنے احساسات چھپا رہے تھے ایک دوسرے سے،سمیر بظاہر تو سو رہا تھا مگر وہ سویا نہی۔۔زرتشہ کی سسکیوں نے اسے سونے ہی نہی دیا۔وہ بس یہی سوچتا رہا کہ آخر وہ یہاں آیا ہی کیوں ہے۔

کیا میں سچ میں زرتشہ سے محبت تو نہی کر بیٹھا؟

اگر محبت تھی تو پھر بدلہ لینے کے لیے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا میں نے؟

مجھے زرتشہ کو سب کچھ بتا دینا چاہیے اسے سب بتا دیتا ہوں میں نے یہ نکاح کیوں کیا!

وہ زرتشہ کی طرف پلٹا ہی تھا کہ زرتشہ کے بہتے آنسو اور سسکیاں سن کر واپس پلٹ گیا۔

وہ اتنا کمزور نہی ہو سکتا کہ ایک لڑکی کہ آنسو دیکھ کر پگھل جائے۔

نہی آج نہی!

“تمہارے یہ آنسو ہر بار میرا پتھر دل پگھلا دیتے ہیں مگر آج نہی زرتشہ،میں اس لمحے کمزور نہی پڑنا چاہتا،مجھے سہی وقت کا انتظار کرنا ہو گا”

سہی وقت آنے پر ہی سچ بتاوں گا میں تمہں۔۔۔

دھڑکنوں میں بسے ہو تم

دل مسلسل انکار پر ہے

کیسے بتائیں تجھے کتنا ہیں چاہتے

دل مسلسل انکار پر ہے

تم جو رکھ دو ہاتھ اس دل پر

دھڑکنوں کو قرار مل جائے مگر

دل مسلسل انکار پر ہے

نادان ہے یہ دل

سمجھتا نہی تم میرے ہو

یہ نا سمجھے نا سمجھ ٹہرا

تم خود ہی سمجھ جاو کہ۔

دل مسلسل انکار پر ہے۔

دونوں اسی طرح سوچوں میں گم رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔

زرتشہ نماز ادا کرنے کے بعد اپنا بیگ پیک کرنے میں مصروف ہو گئی۔جب زرتشہ وضو کرنے کے بعد کمرے میں آئی تو سمیر کمرے میں نہی تھا۔نازیہ نے اسے بتایا کہ سمیر ہمیں راستے میں مل جائے گا۔وہ کسی ضروری کام سے باہر گیا ہے۔تم فکر مت کرو کسی نے نہی دیکھا اسے جاتے ہوئے۔یہاں سے جانے کے بعد مجھے سمیر کی کال آئی تھی۔

ناشتہ کرنے کے بعد زرتشہ بھائیوں سے مل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔دونوں بھائی دکان کے لیے چلے گئے۔

زرتشہ اپنا بیگ لے کر گاڑی کی طرف بڑھی۔

نیلم اور نازیہ گاڑی میں زرتشہ کا انتظار کر رہی تھیں۔

ارے تمہاری وہ برقعہ والی دوست کہاں ہے؟

بھابی گاڑی کے پاس آ رکی۔

وہ۔۔۔وہ بھابی۔۔زرتشہ کے ڈر کے مارے لاتھ پاوں پھولنے لگے۔

وہ صبح جلدی چلی گئی اپنے گھر،اس کا بھائی لے گیا اسے۔

جواب نازیہ کی طرف سے آیا۔وہ گاڑی کے دروازے پر کہنی ٹکائے اپنی عینک درست کرتی بڑی مطمئن سی بولی۔

کل رات بتایا تو تھا میں نے آپ کو بھابی۔۔۔جب سے اس کا رشتہ ہوا ہے وہ پردہ کرتی ہے اور کیونکہ اس کے سسرال والے نہی چاہتے وہ پڑھائی کرے اسی لیے وہ رات کے اندھیرے میں ہی یونیورسٹی سے آتی ہے۔

ہاں ہاں یاد آ گیا۔۔۔بھابی مطمئن سی واپس پلٹ گئی اور زرتشہ اپنی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔

نازیہ نے مسکراتے ہوئے گاڑی گیٹ سے باہر نکالی،نیلم نے گیٹ بند کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔

گاڑی جیسے ہی گاوں کی حدود سے باہر نکلی انہیں سمیر نظر آیا۔

نازیہ نے گاڑی روک دی۔

سمیر گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے زرتشہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔

نازیہ نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔

یہ کیا بدتمیزی ہے سمیر؟

تمہارا عبایا کہاں ہے؟

زرتشہ کے سوال پر سمیر نے بھنوئیں اچکاتے ہوئے اسے گھورا۔

کیا اب میں ہر وقت عبایا پہن کر پھرتا رہوں،پاگل لگتا ہوں میں تمہیں؟

پاگل ہی ہو تم!

اگر کسی نے تمہیں میرے ساتھ دیکھ لیا تو تم نہی جانتے کیا ہو سکتا ہے۔

ویسے بھی میں نے کل رات بہت برا خواب دیکھا تھا۔میں نہی چاہتی کہ وہ خواب سچ ہو۔

مجھے فرق نہی پڑتا۔۔۔۔سمیر مختصر سا جواب دیتے ہوئے اپنا سر مسلنے لگا۔

ایک تو تمہارے چکر میں پوری رات سو نہی سکا میں،مجال ہے جو مجھ سے ناشتے کا پوچھا ہو،مگر تمہیں تو اپنے فلسفے جھاڑنے سے ہی فرصت نہی ملتی۔

میری وجہ سے نہی سو پائے؟

زرتشہ کو ہنسی آ گئی سمیر کی بات پر۔

تو اور کیا پوری رات تمہاری سسکیوں نے سونے نہی دیا مجھے،پتہ نہی تم لڑکیاں کیسے ساری ساری رات رو کر گزار دیتی ہو۔

تو تم پوری رات جاگ کر میری سسکیاں سنتے رہے مگر یہ نہی پوچھا کہ کیوں رو رہی تھی میں اور تم پوچھو گے بھی کیوں؟

تم جانتے ہی ہو کہ تم ہی وجہ ہو میرے رونے کی۔

میں پچھتا رہی ہوں اس دن کو جس دن تم سے ٹکراو ہوا میرا،کاش میں اس دن یونیورسٹی ہی نہ گئی ہوتی،زرتشہ پھر سے رونے کو تیار تھی۔

Oh please…

اب پھر سے آنسو مت بہانے لگ جانا ورنہ ایک منٹ نہی لگے گا مجھے تمہیں گاڑی سے باہر پھینکنے میں،سمیر غصے سے تپ چکا تھا۔

زرتشہ نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔۔۔پانی کی بوتل اٹھائی اور تیزی سے سمیر پر الٹ دی۔

زرتشہ۔۔۔۔سمیر غصے سے چلایا۔

زرتشہ منہ موڑے گاڑی سے باہر دیکھنے لگی ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔

زرتشہ۔۔۔۔سمیر نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔

“یہ آخری بار ہے،آئیندہ ایسی بدتمیزی برداشت نہی کروں گا میں یاد رکھنا”

کیا کر لو گے تم؟

میں ایسی ہی ہوں،جب جب مجھے تم پر غصہ آئے گا میں ایسا ہی کروں گی۔

اتنا تو تم جانتے ہی تھے تو پھر کیوں رشتہ جوڑا مجھ سے،اب زندگی بھر کا رشتہ جوڑا ہے تو یہ سب تو برداشت کرنا ہی پڑے ڈئیر ہسبینڈ!

زرتشہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولی۔۔۔ڈئیر ہسبینڈ تو کچھ زیادہ ہی غصے سے بولی۔

زرتشہ اب تم مجھے غصہ دلا رہی ہو۔۔۔سمیر بہ مشکل ظبط کرتے ہوئے بولا۔

آج تک کسی کی ہمت نہی ہوئی مجھ سے الجھنے کی،ایک تم ہو جس کی بدتمیزیاں میں برداشت کرتا آ رہا ہوں،وہ زرتشہ کا بازو چھوڑتے ہوئے پیچھے ہٹا۔

سارے کپڑے گیلے کر دئیے۔۔۔

تو آج سے پہلے جن سے تمہارا پالا پڑا ہے ان میں کوئی زرتشہ خان نہی تھی مگر اب تمہارا پالا زرتشہ خان سے پڑا ہے۔

“نانی یاد نہ کروائی پھر تو پھر کہنا”

آخری بات زرتشہ نے آہستہ آواز میں بولی۔

کچھ کہا تم نے۔۔؟

سمیر غصے سے زرتشہ کی طرف مڑا۔

ناشتہ۔۔زرتشہ نے اپنے بیگ سے ٹفن نکال کر سمیر کی طرف بڑھایا۔

یہ لو ناشتہ کر لو۔

ایسے بولتے ہیں ہسبینڈ سے؟

سمیر مزید تپ گیا۔

مجھے نہی کھانا تمہارا سڑا ہوا ناشتہ،جیسی تم خود ہو ویسا ہی ناشتہ بنایا ہو گا سڑا ہوا۔

سمیر کی بات پر زرتشہ کا پارہ ہائی ہو گیا۔

میں سڑی ہوئی لگتی ہوں تمہیں؟

اور کیا۔۔۔جب دیکھو تم لڑنے کو تیار رہتی ہو،کبھی تمہیں مسکراتے ہوئے نہی دیکھا۔

ایسے انسان کو سڑا ہوا ہی کہتے ہو۔

تمہیں تو میں دیکھ لوں گی کریلا کہی کا،زرتشہ بھی اپنی پرانی حالت میں آ چکی تھی۔

ہاں ہاں دیکھ لینا،ساری زندگی پڑی ہے لیکن ابھی اپنا منہ دوسری طرف کر لو مجھے شرٹ کے بٹن کھولنے ہیں تا کہ میرے کپڑے خشک ہو جائیں،نازیہ پلیز یہ شیشہ نیچے کر دو۔

تم ایسا کچھ نہی کرو گے،شرم نہی آتی تمہیں تین لڑکیاں بیٹھی ہیں گاڑی میں اور تم شرٹ کے بٹن کھول رہے ہو۔

ان میں دو لڑکیوں کی نظر سامنے سڑک کی طرف ہے جبکہ تیسری لڑکی میری بیوی ہے جو اگر مجھے اس حالت میں دیکھ بھی لے تو کوئی گناہ نہی۔

خیر میں نے تو کہہ دیا اب تمہاری مرضی تم دیکھنا چاہتی تو۔۔۔سمیر نے شرٹ کے بٹن کھول دئیے اور زرتشہ چند پل اسے گھورنے کے بعد چہرہ دوسری طرف موڑ گئی۔

کمینہ انسان،شرم نام کی کوئی چیز ہی نہی ہے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی۔

زرتشہ یہ ناشتہ دو مجھے بہت بھوک لگی ہے،سمیر نے جان بوجھ کر اسے مخاطب کیا۔

کیوں؟

ابھی تو تم بول رہے تھے کہ سڑا ہوا ناشتہ ہے،تم نہی کھاو گے تو اب کیوں مانگ رہے ہو؟

“ہاں سوچ رہا ہوں جب سڑیل بیوی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو سڑا ہوا ناشتہ بھی برداشت کرنا پڑے گا،ابھی سے عادت ڈال لوں بہتر ہے”

تمہیں تو میں آج چھوڑوں گی نہی۔۔زرتشہ جنگلی بلی کی طرح سمیر کی طرف بڑھی اس کا رادہ اس کے بال نوچنے کا تھا مگر سمیر اس کا ارادہ بھانپ گیا اور زرتشہ کے دونوں ہاتھ تھام لیا۔

نہی اب اور نہی!

سمیر کی حالت اور اتنی قربت پر زرتشہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

میرے ہاتھ چھوڑو سمیر۔۔زرتشہ اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔

چھوڑ دوں گا مگر پہلے بولو’سمیر پلیز میرے ہاتھ چھوڑ دیں آئیندہ ایسی غلطی نہی ہو گی۔

میں ایسا کچھ نہی کرنے والی تم ہاتھ چھوڑ دو میرے ورنہ اچھا نہی ہو گا۔

اچھا کیا کر لو گی تم؟

دیکھو خود کو اس وقت تم میری قید میں ہو۔

“مرد یہی تو چاہتا ہےعورت کو بیوی نہی اپنی غلام بنانا چاہتا ہے،،

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم مجھے مرد ماننے لگی ہو،سمیر کا لہجہ تھوڑا طنزیہ تھا۔

سیلفی بہت اچھی آئے گی ہماری کیا خیال ہے؟

اس سے پہلے کہ زرتشہ کوئی جواب دیتی سمیر نے فون کا فرنٹ کیمرہ آن کیا اور سیلفی بنانے لگا۔

نہی۔۔نہی سمیر ایسا مت کرو پلیز میرے ہاتھ چھوڑ دو آئیندہ ایسا نہی ہو گا۔

ہمممم۔۔۔یہ ہوئی ناں بات۔۔۔بڑی جلدی مان گئی’سمیر نے اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے تو زرتشہ اسے گھورتے ہوئے پیچھے ہٹی۔

میری پکچرز ڈیلیٹ کرو ابھی!

ہاں کر رہا ہوں۔۔۔یہ دیکھو ہو گئیں،سمیر نے ساری پکچرز سلیکٹ کرتے ہوئے فون زرتشہ کے سامنے لہرایا اور اوکے پر کلک کر دیا۔

مجھے بھی کوئی شوق نہی ہے سڑی ہوئی تصویریں رکھنے کا۔

وہ دونوں اسی طرح لڑائی کرتے رہے،آخر کار زرتشہ سو گئی۔نازیہ گاڑی ڈرائیو کرتی رہی اور دونوں زرتشہ اور سمیر کی لڑائی سے بھی لطف اندوز ہوتی رہی مگر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت کسی نے نہی کی۔

وہ دونوں خوش تھیں زرتشہ کے لیے وہ پھر سے پرانی زرتشہ بن چکی تھی۔

زرتشہ کو سوتے دیکھ سمیر نے بھی سکھ کا سانس لیا اور آنکھیں بند کیے وہ بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *