Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Last updated: 31 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

Novel Code : NovelR50496

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اگر کسی نے تمہیں دیکھ لیا تو؟ تمیں ہر بات مزاق لگتی ہے کیا؟ زرتشہ مدھم آواز میں مگر غصے سے بول رہی تھی۔ کیا تمہارے گھر میں مہمانوں کا استقبال ایسے کرتے ہیں؟ سمیر زرتشہ کے سامنے آ رکا۔ سوری مہمان نہی۔۔۔"شوہر ہوں میں تمہارا۔۔۔سمیر نے جیسے اسے یاد دلایا۔ اچھی بیویاں شوہر کو تم نہی آپ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔ کمال ہے میں اتنی لمبی مسافت طے کر تم سے ملنے آیا ہوں اور تمہارے مزاج ہی نہی مل رہے۔ خدا کا واسطہ ہے سمیر چپ ہو جاو اگر کسی نے تمہاری آواز سن لی تو مصیبت آ جائے گی۔ زرتشہ نے آگے بڑھ کر سمیر کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور اسے مزید بولنے سے روکا۔ یہ یونیورسٹی نہی ہے میرا گھر ہے،تم تو ڈرتے نہی ہو کسی سے مگر میں بہت ڈرتی ہوں اپنے رشتوں کو کھونے سے وہ سمیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی۔ سمیر نے زرتشہ کا ہاتھ ہٹایا۔ "اب اتنا بھی فائدہ مت اٹھاو،میرے قریب آنے کا اچھا بہانہ ہے۔ زرتشہ اسے گھورتی ہوئی پیچھے ہٹی جلد بازی میں اسے اندازہ ہی نہی ہوا وہ سمیر کے کتنے قریب کھڑی تھی۔ خیر اب اتنا بھی مت ڈرو،شوہر ہوں تمہارا پاس آ کر کوئی گناہ نہی کیا تم نے،سمیر واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ "یہ شوہر،شوہر کیا لگا رکھی ہے؟ چپ ہو جاو پلیز! "زبردستی کے شوہر ہو تم،میں نے کوئی شوق سے رشتہ نہی جوڑا تم سے اسی لیے بہتر ہے کہ تم کسی قسم کی امید مت لگانا مجھ سے" مجھے بھی کوئی شوق نہی ہے کہ تم سے کوئی امید لگاوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *