Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 02)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 02)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
زرتشہ یہ تم نے کیا کر دیا؟
عافیہ اور نیلم وہاں سے جاتے ہی زرتشہ کی کلاس لینے لگیں۔
زرتشہ تم ابھی جانتی نہی ہو اس کو وہ ڈان ہے یونیورسٹی کا۔
جو تم نے سمیر کے ساتھ کیا ہے نا وہ تمہیں نہی چھوڑے گا۔
نیلم گھبراتے ہوئے بول رہی تھی۔
صرف اسے ہی نہی وہ ہمیں بھی نہی چھوڑے گا’ہم سب سے بدلہ لے گا۔
عافیہ نے نیلم کی بات درست کی۔
ابھی وہ دونوں بول ہی رہی تھیں کہ نازیہ بھی وہاں ٹپک پڑی۔
زرتشہ یہ کیا کر دیا تم نے؟
میری پانی والی بوتل سمیر کے سر پر الٹ دی۔
اب وہ مجھے بھی نہی چھوڑے گا۔
کم ازکم ایک ہفتے کے لیے تو مجھے اس کا غصہ جھیلنا ہی پڑے گا۔
نازیہ اپنی موٹے موٹے شیشوں والی عینک درست کرتے ہوئے بولی۔
“او بی بی بس کر دو تم میرا دماغ مت کھاو تم۔
پہلے ہی میرا دماغ خراب ہو چکا ہے۔،،
زرتشہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
تم جانتی نہی ہو “سمیر گُجر” کو وہ ڈان ہے اس یونیورسٹی کا۔
نازیہ بھی اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی۔
ڈان۔۔۔؟
بس کرو تم تینوں یہ “سمیر نام کا قصہ بند کر دو اب’
بس بہت ہو گیا۔
ڈان نہی غنڈا ہے وہ۔۔۔لوفر کہی کا!
اتنی لمبی لمبی مونچھیں،لڑکیوں کی طرح لمبے بال رکھے ہوئے ہیں۔
اوپر سے ہر وقت لفنگوں کی طرح اس کی شرٹ یا قمیض کے بٹنز جب دیکھوں کھلے ہوتے ہیں۔
ایسے ہوتے ہیں مرد؟
مجھے یہ مرد کم ہیجڑا زیادہ لگتا ہے۔
دل کرتا ہے اپنی چوڑیاں پہنا دوں اسے۔
سمیر گجر کی نسبت سمیرا گجر زیادہ اچھا لگے گا اس کا نام۔
ہاں یہی نام ہونا چاہیے تھا اس کا!
بڑا آیا پرپوز کرنے والا۔
اگر لالہ کو پتہ چل گیا نہ تو اس کے ہاتھ،پیر توڑ کے اس کی بھینسوں کے پاس چھوڑ آئیں گے اسے۔
وہ تینوں پتھر بنی زرتشہ کا سمیر کے نام خراجِ تحسین سن رہی تھیں۔
کچھ دن پہلے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا اس نے جو میں نے قبول نہی کیا۔
تو اب یہ نئے طریقے ڈھونڈ رہا ہے مجھ سے دوستی کرنے کے۔
جب زرتشہ چپ ہوئی تو وہ تینوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگیں۔
“دوستی کرنے کے لیے نہی۔۔۔گھر بسانا چاہتا ہے سمیر گُجر تمہارے ساتھ’
کیا کہہ رہا تھا وہ!
ہاں میرے ساتھ میرے گاوں چلوں گی زرتشہ’
میری بھینسوں کو نہلاو گی’
میری بھینسوں کی بھابی بنوں گی”
ہاہاہاہا۔۔۔تینوں سمیر کے بولے گئے ڈائیلاگز دہرا دہرا کر ہنس رہی تھیں۔
زرتشہ بس حیرت اور غصے کی ملی جلی کیفیت سے ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
بھاڑ میں جاو تم تینوں!
زرتشہ اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کینٹین سے باہر نکل گئی۔
وہ تینوں بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل گئیں۔
سامنے سے آتے باسط کو دیکھ کر سب رُک گئیں۔
لو زرتشہ آ گیا تمہارا ایک اور چاہنے والا’
نیلم زرتشہ کے کان کے پاس جا کر بولی آہستہ آواز میں۔
زرتشہ نے اسے گھورا۔
میرا مطلب تمہارا باڈی گارڈ نیلم ہنسی دباتے ہوئے بولی۔
زرتشہ مجھے میرے کلاس فیلو نے بتایا کہ سمیر نے تمہارے ساتھ بد تمیزی کی ہے؟
وہ سوالیہ انداز میں پوچھنے لگا۔
زرتشہ خاموش ہی رہی اسے سمجھ نہی آ رہا تھا کیا بولے اب اس کو۔
اس مصیبت کو کیسے ٹالوں؟
زرتشہ نے اپنے آپ سے ہی سوال کر ڈالا۔
اگر اس نے لالہ یا بھابی کو بتا دیا تو میرے لیے مسلہ ہو جائے گا۔
مجھے کسی بھی طرح اس کو ٹالنا پڑے گا۔
نہی باسط لالہ ایسا تو کچھ بھی نہی ہے’وہ تو بس نازیہ کے ساتھ مزاق کر رہا تھا۔
نازیہ اپنا نام سُن کر چونکی!
میرے ساتھ مزاق کر رہا تھا وہ؟
نازیہ نے زرتشہ کان میں کہا۔
زرتشہ نے اسے گھورا اور چپ رہنے کا اشارہ دیا۔
باسط دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا اور معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
زرتشہ اگر کوِئی مسلہ ہے تو مجھے بتا سکتی ہو!
ہاں تا کہ تم بھابیوں اور لالہ کو بتا سکوں!
زرتشہ آہستہ آواز میں بولی۔
کیا کچھ کہا تم نے؟
باسط کے سوال پر زرتشہ چونکی۔
نننہی تو باسط لالہ جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہی ہے۔
وہ تو بس ایک چھوٹا سا مزاق کر رہا تھا نازیہ کے ساتھ۔
لیکن آپ فکر مت کریں اچھا سبق سکھایا ہے میں نے اس کو۔
آئیندہ ایسی غلطی دوبارہ نہی کرے گا وہ!
آپ بے فکر ہو کر اپنی کلاس میں جائیں ہماری بھی کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔
زرتشہ وہاں سے جان چھڑاتے ہوئے چل پڑی۔
باسط کی سمجھ میں سارا معاملہ آ چکا تھا۔
“میں فکر نہی کروں گا تو کون کرے گا تمہاری فکر زرتشہ”
اس سمیر کو تو سبق سکھانا ہی پڑے گا۔
وہ بیگ کندھے سے لٹکاتے ہوئے غصے سے وہاں سے چل پڑا۔
سمیر کینٹین میں فون میں مصروف سا بیٹھا تھا۔
فیصل اور نوید اسے کہی نظر نہی آئے شاید باہر چلے گئے تھے وہ دونوں۔
اسی لیے سمیر اکیلا یہی آ بیٹھا۔
اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تو وہ پلٹا۔
سامنے باسط کھڑا تھا۔
مسکراتے ہوئے کرسی کھینچ کر سمیر کے پاس بیٹھ گیا۔
کوئی پرابلم ہے کیا؟
سمیر اسے گھورتے ہوئے بولا!
سمیر نے باسط کو پہلی بار دیکھا اپنے سامنے۔
باسط تو اس کو جانتا تھا مگر سمیر باسط کو نہی جانتا تھا۔
ہاں پرابلم ہے ایک چھوٹی سی،باسط مسکراتے ہوئے بولا۔
کیا؟
سمیر بے زار ہوتے ہوئے فون پر نظریں جمائے بولا۔
زرتشہ!
زرتشہ کے نام پر سمیر نے ناسمجھی سے باسط کی طرف دیکھا۔
مطلب۔۔۔؟
سمیر حیران ہوتے ہوئے بولا۔
مطلب یہ کہ دور رہو زرتشہ سے!
باسط غصے سے بولا۔
وجہ؟؟؟
سمیر اس کے جواب کو کسی خاطر میں نا لاتے ہوئے بولا۔
وجہ یہ کہ زرتشہ میری منگیتر ہے!
باسط کے لہجہ غصے سے بھرا تھا۔
سمیر ہنسنے لگا۔۔۔اچھا تو تم باسط لالہ ہو زرتشہ کے!
سمیر کی ہنسی زہر لگی باسط کو اور اس کے الفاظ کانٹے کی طرح چبے اسے۔
یہ تمہارا مسلہ نہی ہے۔وہ ابھی جانتی نہی اس رشتے کے متعلق اسی لیے لالہ کہتی ہے مجھے’
تم اپنے کام سے کام رکھو اور دور رہو زرتشہ سے!
آئیندہ مجھے زرتشہ کے آس پاس بھی دکھائی دئیے تو اچھا نہی ہو گا تمہارے لیے۔
باسط اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
اے رُک۔۔۔۔!
سمیر نے اسے رکنے کو بولا۔
باسط نا چاہتے ہوئے بھی رک گیا۔
سمیر نے اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔
“آج کے بعد اگر تم زرتشہ کے پاس نظر آئے مجھے تو اپنی ٹانگوں پر تو ہاسٹل واپس نہی جا سکوں گے۔
صاف صاف لفظوں میں پیار سے سمجھا رہا ہوں ابھی تمہیں۔
اگر مان گئے تو ٹھیک نہی تو۔۔۔!
سمیر نے گن نکال کر باسط کے سر پر رکھی۔
سمجھانا آتا ہے مجھے!
سارے سٹوڈنٹس ڈر کے مارے وہاں سے کھسکنے لگے۔
دیکھتے ہی دیکھتے ساری کینٹین خالی ہونے لگی۔
زرتشہ اپنی دوستوں کے ساتھ کینٹین میں داخل ہوِئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا سر چکرا گیا۔
وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی۔
“یہ کیا کر رہے ہو تم سمیر؟
زرتشہ کی آواز پر سمیر پلٹا۔
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
چھوڑو باسط لالہ کو۔۔۔۔زرتشہ کے لہجے میں التجا تھی۔
سمیر نے باسط کے سر سے گن ہٹا کر دونوں ہاتھ اوپر کر دئیے۔
“آپ کا حکم سر آنکھوں پر”
ایک ہاتھ سینے پر رکھے ہلکا سا سر خم کرتے ہوئے بولا۔
باسط لالہ آپ ٹھیک ہیں نا؟
زرتشہ جلدی سے باسط کی طرف بڑھی۔
سمیر کی ہنسی چھوٹ گئی’اس نے گن واپس جیب میں رکھ لی۔
باسط اس کی ہنسی کا مطلب سمجھ چکا تھا۔
وہ زرتشہ کی کسی بھی بات کا جواب دئیے بغیر غصے میں وہاں سے نکل گیا۔
“اوہو لگتا ہے ڈر گیا بیچارہ”
سمیر کی آواز پر زرتشہ اس کی طرف واپس پلٹی۔
“آخر چاہتے کیا ہو تم؟
زرتشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
سمیر کے چہرے کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی۔
وہ زرتشہ کی طرف بڑھا۔
“رو کیوں رہی ہو؟
رونے والی تو کوئی بات نہی تھی اس میں اور تم اچھی طرح جانتی ہو میں کیا چاہتا ہوں۔
“جو تم چاہتے ہو وہ کبھی نہی ہو سکتا’
کیوں تم میرے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہو؟
آخر بگاڑا کیا ہے میں نے تمہارا؟
زرتشہ غصے سے بولنے لگی۔
عافیہ،نیلم اور نازیہ دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھیں۔آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہی ہوئی ان میں۔
کیونکہ سمیر ان تینوں کو گھور چکا تھا۔جس کا مطلب تھا کہ یہاں سے آگے نہی بڑھنا۔
“نا ممکن کو ممکن بنا سکتا ہوں میں تم ہاں کر دو بس”
سمیر جزبات سے بھر پور لہجے میں بولا۔
وہ جانتا تھا وہ یہ سب جھوٹ کہہ رہا ہے مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ زرتشہ کو روتے ہوئے نہی دیکھ سکا۔
“کیا سمجھتے ہو تم خود کو؟
کیا لگتا ہے تمہیں کہ تمہارے ایسے ڈرانے پر تمہاری بات مان لوں گی میں؟
نہی “سمیر گُجر دا ڈان” میں تم سے ڈرنے والی نہی ہوں۔
بہت لڑکیاں مرتی ہو گی تم پر۔۔مگر میں ان لڑکیوں میں سے نہی ہوں۔
“تم ایک نہایت ہی گھٹیا انسان ہو۔
غنڈے ہو تم!
لوگوں کے دلوں میں اپنے نام کا خوف پیدا کر رکھا ہے تم نے”
بس بہت ہو گیا!
اب تمہاری یہ غنڈا گردی نہی چلے گی۔
ورنہ انجام کے زمہ دار تم خود ہو گے۔
بند کر دو یہ سب کچھ میرا فیصلہ نہی بدلنے والا۔
“انجام کی فکر نہی ہے مجھے”
اپنے فیصلوں سے پیچھے نہی ہٹتا میں اور رہی بات تمہارے فیصلے کی تو تمہارا فیصلہ میرے حق میں ہی ہو گا۔
آج نہی تو کل یہ معجزہ ضرور ہو گا!
“ایسا کبھی نہی ہونے والا مسٹر سمیر مائنڈ اٹ!
تم ایک غنڈے ہو!
اور ایک غنڈے کے ساتھ زندگی نہی گزارنا چاہتی میں۔
اگر میں کہوں کہ میرے لیے خود کو بدل لو’تو کیا کر سکو گے ایسا؟
“اپنےبال کٹوا دو!
“یہ مونچھیں بھی کٹوا دو۔
“یہ غنڈہ گردی چھوڑ دو۔
بولو کر سکتے ہو ایسا؟
زرتشہ سمیر کو چیلنج کرتے ہوئے بولی۔
سمیر بس ہکا بکا سا زرتشہ کو بولتے ہوئے سُن رہا تھا۔
نہی کر سکتے نا ایسا؟
بس نکل گئی ساری اکڑ!
“بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے لیکن ان پر عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے”
تم نا ایک کام کرو!
زرتشہ نے اپنی چوڑیاں اتارتے ہوئے سمیر کے ہاتھ پر رکھ دیں۔
“تم یہ چوڑیاں پہن لو!
کیونکہ تم اسی لائق ہو!
بندوق کی نوک پر مرد بنے پھرتے ہو۔
سمیر کے وہم و گمان میں بھی نہی تھا کہ زرتشہ ایسا بھی کر سکتی ہے۔
اس نے غصہ ظبط کرتے ہوئے چوڑیوں والی مٹھی بند کر دی۔
چوڑیاں ٹوٹ کر اس کا ہاتھ زخمی کر رہی تھیں مگر اسے پرواہ نہی تھی۔
زرتشہ جا چکی تھی۔
سمیر کے ہاتھ سے خون کے قطرے زمین پر گرنے لگے۔
________________________________________
