Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 08)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

یہ کیا بد تمیزی ہے سمیر؟

زرتشہ غصے سے سمیر کی طرف بڑھی۔

تم کون ہوتے ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟

بند کرو یہ سب ابھی۔۔۔۔

جانے دو ہم سب کو یہاں سے ورنہ اچھا نہی ہو گا تمہارے لیے۔

زرتشہ غصے سے سمیر کو دھمکانے والے انداز میں بولی۔

اوہ۔۔۔میں تو ڈر گیا۔۔۔

سمیر سینے پر ہاتھ رکھ کر ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔اور ساتھ ہی قہقہ لگایا۔

زرتشہ نے نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔

ّوہ مسکراتے ہوئے باسط کی طرف بڑھا۔

آو بھئی بیٹا سائن کرو نکاح نامے پر!

مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔

کیا بکواس ہے یہ سب سمیر؟

باسط غصے سے چلایا۔

مزاق سمجھ رکھا ہے کیا؟

نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہی ہے۔اور نہ ہی میں تمہارا غلام ہوں جو تمہاری ہر بات مان لوں گا۔

بند کرو یہ ڈرامہ!

چلو زرتشہ یہاں سے۔۔۔۔

باسط تیزی سے زرتشہ کی طرف بڑھا۔

سمیر سینے پر دونوں بازو فولڈ کیے مسکراتے ہوئے ان سب کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔

جیسے ہی وہ دونوں دروازے کے پاس پہنچے،سامنے کھڑے گارڈز نے بندوقوں کا رخ ان کی جانب موڑ دیا۔

جس کا مطلب تھا کہ یہاں سے نکلنا مشکل ہے اب۔

جانے دو ہمیں!

باسط غصے سے گارڈز پر چلایا۔

جب تک باس کا آرڈر نہی ملتا،آپ سب یہاں سے نہی جا سکتے۔

گارڈ کے جواب پر باسط غصے سے سمیر کی طرف پلٹا۔

ان سے کہو ہمیں یہاں سے جانے دیں۔

سمیر مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھا۔

شاید تم نے سنا نہی میں نے کیا کہا ہے۔

“تمہارا نکاح ہو گا وہ بھی ابھی زرتشہ خان سے!

سمیر نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہرائی۔

چلو اب سمیر باسط کو بازو سے کھینچتے ہوئے کرسی تک لے آیا۔

بیٹھو یہاں!

مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔

سمیر کے کہنے پر مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کر دیا۔

سمیر بند کرو یہ سب،میں یہ نکاح نہی کروں گا۔

باسط کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

کیوں؟

کیوں نہی کرو گے تم زرتشہ سے نکاح؟

شادی ہونے والی ہے نا تم دونوں کی،تو نکاح آج ہی سہی۔

“کل کرے سو آج،آج کرے سو اب!

یہ کہاوت تو سنی ہی ہو گی تم نے۔

کل بھی نکاح اسی سے کرنا ہے تو آج کیوں نہی؟

اب چپ کیوں ہو باسط خان؟

جواب دو!

سمیر سوال پر سوال کرتا چلا گیا۔

میں نہی کر سکتا یہ نکاح!

مجھے جانے دو یہاں سے،یہ تمہارا اور زرتشہ کا معاملہ ہے۔تم دونوں جانو۔

آج کے بعد میں اس معاملے میں نہی پڑوں گا۔

مجھے معاف کر دو!

پلیز مجھے جانے دو یہاں سے۔

باسط کا سارا غصہ اب ہوا بن چکا تھا۔

“اب آئے نہ اپنی اصلی اوقات پر!

بس یہی تھی تمہاری مردانگی؟

ویسے تو تم کہتے پھرتے ہو کہ زرتشہ میری ہونے والی بیوی ہے اور جب بات نکاح کی آئی تو نکل چلے پتلی گلی سے۔

واہ مسٹر باسط خان واہ!

سمیر نے تالی بجاتے ہوئے اسے داد دی۔

زرتشہ غصے سے باسط کی طرف بڑھی۔

باسط لالہ یہ سب کیا ہے؟

کچھ نہی ڈر گیا ہے بچہ!

“تم فکر مت کرو زرتشہ!

“آج ہی نکاح ہو گا تمہارا!

مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔

سمیر نے زرتشہ کا بازو تھامتے ہوئے اسے کرسی پر بٹھا دیا۔

سمیر ولد محمد منیب۔۔۔۔سکہ راج الوقت حق مہر پچاس ہزار،زرتشہ خان ولد محمد ظہیر ان سارے گواہوں کے ماتخت،کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟

سمیر کا نام سن کر زرتشہ کے پیروں تلے جیسے زمین سرک گئی۔

زرتشہ نے پلٹ کر سمیر کی طرف دیکھا۔

سمیر مسکرا دیا۔وہ دونوں ہاتھ زرتشہ کی کرسی پر جمائے کھڑا تھا۔

“قبول ہے!

سمیر چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔

مولوی صاحب کے یہ الفاظ مزید دو مرتبہ دہرانے پر بھی سمیر نے یہی جواب دیا۔اور آگے بڑھ کر نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔

زرتشہ خان ولد محمد ظہیر خان،سکہ راج الوقت حق مہر پچاس ہزار اور ان سارے گواہوں کے ماتخت،سمیر ولد محمد منیب سے،کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟

نہی۔۔۔۔زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔

سمیر زرتشہ کے کان کے پاس جھکا،

“اگر اپنی دوستوں کی جان پیاری ہے تو نکاح قبول کر لو،ورنہ جو ہو گا۔اس کی زمہ دار تم خود ہو گی،،

سمیر کی بات پر زرتشہ چونک کر کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

اس کی نظر دروازے کی طرف پڑی تو دھنگ رہ گئی۔

دونوں گارڈز ان کی طرف بندوقیں تانے ہوئے تھے۔

سمیر چھوڑ دو ان سب کو،یہ تم ٹھیک نہی کر رہے۔

چھوڑ دوں گا،پہلے تم یہ نکاح قبول کرو!

تم ایک گھٹیا انسان ہو سمیر!

زرتشہ غصے اور بے بسی سے بولی۔

جانتا ہوں،مگر جیسا بھی ہوں تمہیں قبول کرنا پڑے گا۔

بدلے میں سمیر چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔

زرتشہ نے ایک حقارت بھری نظر چپ چاپ کھڑے باسط پر ڈالی۔

باسط نظریں پھیر گیا۔جیسے کہنا چاہ رہا ہو مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔

زرتشہ تم یہ نکاح مت کرنا،ہماری فکر مت کرو۔

سمیر کچھ نہی بگاڑ سکتا ہمارا!

یہ بس ہمیں ڈرا رہا ہے اور کچھ نہی۔

ہماری یہی کمزوری ہے کہ ہم ڈر جاتی ہیں اس سے اور یہ ہر بار ہماری اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

نیلم چلا کر بول رہی تھی۔

زرتشہ نے ایک بار پھر سے بے بسی سے سمیر کی طرف دیکھا۔

سمیر مسکراتے ہوئے ان تینوں کی طرف پلٹا۔

اپنی جیب سے پسٹل نکالی اور نیلم کے پاوں کے بلکل قریب گولی چلا دی۔

“نشانہ تمہارے پیر پر بھی لگ سکتا تھا!

اب اگر تم تینوں میں سے کسی نے بھی زبان کھولی تو انجام کی زمہ دار خود ہو گی،،

“میرا نشانہ کبھی غلط نہی ہوتا،مائینڈ اٹ!

سمیر پسٹل جیب میں رکھتے ہوئے زرتشہ کی طرف پلٹا۔

ان تینوں پر تو جیسے خوف طاری ہو گیا۔

زرتشہ اپنی ڈری سہمی دوستوں کو دیکھ کر خود کو بہت بے بس محسوس کرنے لگی۔

سمیر نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور کرسی پر بیٹھنے کو اشارہ کیا۔

زرتشہ کے پاس اب اس نکاح کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہی تھا۔

اس نکاح کا انجام بہت برا ہونے والا ہے۔زرتشہ کو مستقبل دکھائی دینے لگا۔

ابھی سمیر اس کے بھائیوں کو جانتا نہی۔۔جب ان کو اس نکاح کی خبر ملے گی تو پتہ نہی کیا قیامت گزرے گی۔

زرتشہ بے بسی سے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی۔

مولوی صاحب نے پھر سے اپنے الفاظ دہرائے۔

زرتشہ نے ظبط سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔

قبول ہے۔۔۔۔

تین بار قبول کرنے کے بعد زرتشہ نے گال پر بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔

نکاح ہوتے ہی ہر طرف سے مبارک باد وصول ہونے لگیں۔

باسط خاموش تماشائی بنے کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔

فیصل اور نوید مولوی صاحب کو واپس چھوڑنے چلے گئے۔

سمیر کے کہنے پر جِم کے دروازے کھول دئیے گئے۔

وہ تینوں بے بسی سے آنسو بہاتی زرتشہ کے پاس آ رکیں۔

وہ تینوں بھی رو رہی تھیں اور زرتشہ کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

“اپنی بیوی کے آنسو پونچھنے کے لیے میں زندہ ہوں ابھی،تم تینوں رفو چکر ہو جاو یہاں سے ابھی کے ابھی!

سمیر کی آواز پر وہ تینوں بے بسی سے باہر کی طرف بڑھ گئیں۔

زرتشہ بھی جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

سمیر نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور واپس کرسی پر بٹھا دیا۔

ساری جِم خالی ہو چکی تھی۔گولی چلنے کی وجہ سے سب خوفزدہ ہوتے ہوئے باہر نکل گئے۔

سمیر اور زرتشہ آمنے سامنے رکھی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔

اس کا کیا کرنا ہے سمیر؟

فیصل گم سم سے کھڑے باسط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

سمیر نے باسط کو آواز دی۔

ادھر آو۔۔۔

باسط بھاری قدموں کے ساتھ وہاں آ رکا۔

“مبارک باد نہی دو گے؟

سمیر کی بات پر باسط نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔پھر لاپرواہی سے سمیر کو مبارک باد دی۔

نہی مجھے نہی۔۔اپنی بہن کو دو مبارک باد!

سمیر کے ٹوکنے پر باسط زرتشہ کی طرف پلٹا،

“نکاح مبارک ہو زرتشہ!

بہ مشکل ہمت کرتے ہوئے بولا۔

زرتشہ تیزی سے اٹھی اور زور دار تھپڑ باسط کے چہرے پر لگایا۔

فیصل اور نوید ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔جبکہ سمیر لب بھینچے باسط کو دیکھ رہا تھا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے زرتشہ؟

باسط تقریباً چلایا۔

آواز نیچے۔۔۔سمیر چلانے کے انداز میں بولا۔

“آئیندہ میری بیوی کے ساتھ ایسے بات کرنے کی جرات مت کرنا۔

دفع ہو جاو یہاں سے،دوبارہ میرے سامنے آنے کی ہمت مت کرنا ورنہ بولنے کے لائق نہی چھوڑوں گا۔

باسط ایک نظر سمیر کے ساتھ کھڑی زرتشہ پر ڈالتے ہوئے جِم سے باہر نکل گیا۔

زرتشہ بھی آنسو پونچھتے ہوئی باہر کی طرف چل دی۔

سمیر اس کے راستے میں آ گیا۔

نہی۔۔نہی۔۔

“اپنی بیوی کو میں خود چھوڑنے جاوں گا،عزت کے ساتھ۔

سمیر چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔

“ضروری نہی کہ تمہاری ہر بات مانی جائے۔راستے سے ہٹو سمیر۔

زرتشہ خونخوار نظروں سے سمیر کو گھورتے ہوئی بولی۔

“میں تمہاری غلام نہی ہوں!

“غلام نہی ہو،بیوی ہو میری،،

میری ہر بات ماننا اب فرض ہے تم پر،پیار سے مانو گی تو ٹھیک ہے۔ورنہ میری عادتوں سے تو واقف ہو۔

ہے نا مسز؟

“زبردستی کے شوہر ہو تم۔۔۔

میں نے تمہیں دل سے قبول نہی کیا،بس مجبوری تھی میری۔

زیادہ شوہروں والا روب دکھانے کی ضرورت نہی ہے،کیونکہ دل سے قبول ہونے والے اور زبردستی شوہر بننے والے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے،،

ہے ناں مسٹر سمیر؟

زرتشہ کی باتوں پر سمیر غصہ ہونے کی بجائے مسکرا دیا۔

ہاں جانتا ہوں سب۔۔۔

“زبردستی کا ہی سہی مگر جیسا بھی ہوں اب تمہارا شوہر ہوں،،

میری عزت کیا کرو اب۔

سمیر حکمانہ انداز میں بولا۔

ہووووں۔۔۔عزت!

“عزت کی بات تم مت کیا کرو،تمہارے منہ سے یہ الفاظ اچھے نہی لگتے،،

“عزت کروانے کے لیے دلوں میں مقام بنانے پڑتے ہیں،زبردستی رشتے نہی،،

وہ غصے سے سمیر کو راستے سے ہٹاتی ہوئی جِم سے باہر نکل گئی۔

سمیر کے اشارہ کرنے پر فیصل اور نوید دونوں زرتشہ کے پیچھے چل دئیے۔

جب زرتشہ ہاسٹل کا گیٹ پار کر گئی۔تو وہ دونوں واپس جِم چلے گئے۔

سمیر کیا تھا یہ سب کچھ؟

فیصل غصے سے بولتے ہوئے آیا۔

یہ پلان تو نہی تھا!

تم نے تو کہا تھا اس پیپر پر باسط نام لکھا ہے۔جبکہ اس پر تمہارا نام تھا۔

تم اپنے نکاح کی تیاری میں تھے۔

ہمیں تو بس باسط کو ڈرانا تھا۔تا کہ آئیندہ وہ تمہارے اور زرتشہ کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے۔مگر تم نے نکاح ہی کر لیا!

واہ۔۔۔کیا پلاننگ تھی سمیر ڈان!

سمیر جو تم نے کیا۔بلکل غلط ہے یار۔

نوید بھی بول پڑا۔

ایک لڑکی کے لیے اس کی عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے۔مزاق مزاق میں تم سریس ہو گئے اور نکاح کر لیا۔

نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہی ہے یار۔

اب زرتشہ تمہاری بیوی بن چکی ہے۔

کیا کرو گے اب تم؟

“بدلہ پورا ہوا،،

اب سے میں کسی زرتشہ خان کو نہی جانتا اور نا ہی آج کے بعد تم دونوں میں سے کوئی اس بات کا ذکر کرے گا میرے سامنے۔

مائِینڈ اٹ!

سمیر غصے سے باہر کی طرف بڑھا۔

سمیر یہ کیسا بدلہ تھا یار؟

بدلے کی آگ میں نکاح کون کرتا ہے؟

زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو اس بارے میں۔۔۔نوید نے پھر سے اسے سمجھانا چاہا۔

آئی ڈونٹ کئیر!

سمیر پلٹ کر غصے سے بولا اور وہاں سے چلا گیا۔

فیصل اور نوید اسے جاتے ہوئے دیکھ کر وہاں سے چل دئیے۔

زرتشہ جیسے ہی اپنے کمرے میں پہنچی۔وہ تینوں اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔

زرتشہ کو آتے دیکھ تینوں اس کی طرف بڑھیں۔

زرتشہ وئی آر سوری!

ہماری وجہ سے تمہیں یہ سب کرنا پڑا۔

پلیز ہو سکے تو ہم سب کو معاف کر دینا۔

کیسی باتیں کر رہی ہو تم سب؟

جو بھی ہوا۔اس میں تم لوگوں کی کوئی غلطی نہی ہے۔شاید میری قسمت میں یہی شخص لکھا ہے۔جس سے میں سب سے زیادہ نفرت کرتی ہوں۔

مگر زرتشہ اب کیا ہو گا؟

اگر تمہارے بھائیوں کو پتہ چلا تو وہ تمہیں اور سمیر دونوں کو زندہ نہی چھوڑیں گے۔

اگر باسط نے ان کو سب کچھ بتا دیا تو؟

زرتشہ گہری سانس لیتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔

“میں نہی جانتی میری زندگی کا کیا فیصلہ ہونے والا ہے،میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میں اپنے سارے رشتے کھونے والی ہوں۔اس ایک زبردستی کے رشتے کی وجہ سے۔

بھائیوں کے لیے مر جاوں گی میں،یا پھر وہ مجھے خود ہی مار دیں۔

ہر حال میں مرنا ہی لکھا ہے میرے نصیب میں،تو اب ڈرنا کیسا۔

میں ہر طرح کے حالات سہنے کے لیے خود کو مظبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہوں،،

یار جاو تم لوگ کھانا یہی لے آو،میں زرتشہ کے پاس ہی ہوں۔

عافیہ کے کہنے پر نیلم اور نازیہ باہر کی طرف چل دیں۔

زرتشہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔اس میں تمہاری کوئی غلطی نہی ہے۔

ہم سب بتائیں گے تمہارے گھر والوں کو۔تم فکر مت کرو۔ہم اس جِم کی فوٹیج نکلوائیں گے پولیس کی مدد سے۔

عافیہ اسے دلاسے دے رہی تھی۔

زرتشہ پر اب کسی دلاسے کا اثر نہی پڑنے والا تھا۔وہ جانتی تھی۔سمیر کوئی ثبوت نہی چھوڑنے والا۔

________________________________________

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *