Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 13)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

آخر کب تک جھوٹ بولتے رہو گے تم؟

بہتر یہی ہے کہ تم سچ بول کر خود کو اس عذاب سے نجات دلا دو۔

جتنی دیر تم لگاو گے سزا اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔

یہ ایک بند کمرے کا منظر ہے جہاں چار نوجوان چہروں پر ماسک لگائے ایک کرسی کے اردگرد کھڑے ہیں۔

اس کرسی پر ایک نوجوان لڑکا بندھا ہے اور وہ چاروں اس کے گرد گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں مگر وہ لڑکا منہ کھولنے کو تیار ہی نہی ہے۔

تب ہی ایک لڑکی اندر داخل ہوتی ہے وہ بھی چہرے پر ماسک لگائے ہوئے ہے۔

ایک بری خبر ہے۔۔۔۔

وہ ان چاروں میں سے ایک کی طرف بڑھتی ہے اور اس کے قریب رکتے ہوئے بولتی۔

“بتانا میرا فرض تھا باقی جو تمہیں اچھا لگے”

جس پر دوسرا نوجوان عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھتا ہے اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے سب سے دور لے جاتا ہے۔

شاید تم بھول رہی ہو کہ ہم یہاں کس لیے ہیں۔

یہ فضول کی باتیں چھوڑو اور کام کرو ۔

میں جانتی ہوں ہم یہاں کس لیے ہیں مگر یہ بات بھی ضروری ہے۔

کیا اس کام سے بھی زیادہ ضروری؟

ہم سب یہاں دن رات اسی کام میں لگے ہیں مگر تمہارا دھیان کہی اور ہے۔

بہتر یہی ہو گا کہ وہ سب بھول جاو اور اپنے کام پر دھیان دو۔

ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔

وہ ہاتھ اوپر اٹھائے کمرے سے باہر نکل گئی۔

آج رات ہمیں کسی بھی حال میں اس کا منہ کھلوانا ہی ہو گا اور اس کے باقی ساتھیوں کو پکڑنا ہو گا۔

اگر آج رات بھی یہ کام نہ ہو سکا تو کل تک ہم لوگ کچھ بھی نہی کر سکیں گے۔

جو بھی کرنا ہے آج ہی کرو!

وہ اپنے ساتھیوں پر غصہ نکالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

وہ لڑکا جس سے اس لڑکی نے بات کی تھی وہ سوچ میں پڑ چکا تھا مگر اس وقت وہ اپنے کام سے دھیان نہی ہٹانا چاہتا تھا۔

پھر سے سوال و جواب شروع کر دئیے اس نے۔

بتاو کون ہے تمہارا باس؟

بتاو مجھے ورنہ اچھا نہی ہو گا۔

مجھے نہی پتہ وہ لوگ کون ہیں وہ لوگ کبھی سامنے آئے ہی نہی۔

ہمارا ان سے بس فون پر ہی رابطہ ہوتا تھا۔

وہی نمبر جو اب بند ہے۔۔۔۔بس کر دو اب!

وہ غصے سے چلایا۔

اس کا گریبان تھام کر غرایا۔

میرے پاس زیادہ وقت نہی ہے مجھے آج رات ہی یہ کام ختم کرنا ہے۔

سمجھے تم؟

چھوڑ دو اسے مارو گے کیا؟

دوسرے لڑکے نے اس کا گریبان آزاد کروایا۔

یہ بتا دے گا سب کچھ۔۔۔بس تھوڑا پیار سے بات کرتے ہیں ناں۔۔

اس نے دوسرے لڑکے کی طرف اشارہ کیا اور وہ بجلی کی تار لیے وہاں آیا۔

وہ تار اس نے لڑکے کے ہاتھ پر رکھی اسے کرنٹ کا شدید جھٹکا سا لگا۔

وہ سر تا پاوں کانپ کر رہ گیا۔

سچ بتانا چاہو گے یا مرنا پسند کرو گے؟

وہ پھر سے اس کی طرف بڑھا۔

میں نے بتا دیا میں جو کچھ جانتا تھا میرے فون میں وہ نمبر ہے آپ اس کا پتہ کیوں نہی ڈھونڈ لیتے۔

وہ تو ہم ڈھونڈ لیں گے مگر اس میں تو بہت وقت لگ جائے گا تم بتا دو تو کام جلدی ہو جائے گا،،

میں سچ کہہ رہا ہوں سر!

میں اسے نہی جانتا وہ کون ہیں۔۔۔بس فون پر ہی بات ہوئی تھی ہماری۔

تو ٹھیک ہے یاد کرنے کی کوشش کرو اس کی آواز۔۔۔کبھی کال ریکارڈ نہی کی تم نے؟

نہی ایسا کبھی نہی ہوا۔

آپ لوگ اسے کیوں نہی پکڑ لیتے۔۔۔وہ تو سب جانتا ہو گا۔

اسے تو ہم پکڑ ہی لیں گے اور تمہیں بھی لیکن ایک بات یاد رکھنا اگر مجھے پتہ چلا کہ تم یہ سب پہلے سے ہی جانتے تھے تو اچھا نہی ہو گا۔

وہ تینوں آپس میں باتیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔

“یہ سب کیا تھا تم کس کام میں مصروف ہو چکی ہو؟

اس میں غلط بھی کیا ہے میں کچھ غلط تو نہی کر رہی،اس کی زندگی خطرے میں ہے۔

اس کی زندگی کا کچھ سچ ہے جو آپ نہی جانتے!

میں نہی جانتا۔؟

جیسے اسے یقین نہ ہوا اس کی بات پر۔

ایسا کیوں نہی کرتی تم یہ کام چھوڑ دو اور اس کام پر لگ جاو۔

ہم یہاں اپنے کام سے ہیں کسی کی زندگی کی الحھنیں سلجھانے کے لیے نہی۔۔۔

آپ سے یہ امید نہی تھی مجھے۔۔وہ بے یقینی سے دیکھتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

****،**،*******،*،،*،*****************،،،*****

سمیر ابھی ابھی یونیورسٹی واپس آیا تھا۔

اسے زرتشہ اور اس کی کوئی بھی دوست نظر نہی آئی یونیورسٹی میں۔

آخر کار اس نے فون نکالا اور زرتشہ کا نمبر ملایا۔

فون کی آواز پر بشر نے چونک کر زرتشہ کی طرف دیکھا۔

سکرین پر سمیر کا نام جگمگاتا دیکھ زرتشہ کی آنکھوں میں روشنی سی چمک اٹھی۔

اس سے پہلے کہ وہ کال پک کرتی بشر تیزی سے پلٹا اور اس کے ہاتھ سے فون کھینچ کر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔

زرتشہ بس دیکھتی ہی رہ گئی۔

لالہ آپ غلط سمجھ رہے ہیں مجھے!

چپ۔۔۔اس سے پہلے کہ زرتشہ مزید بولتی بشر چلا اٹھا۔

خبردار جو ایک لفظ بھی بولی تم۔۔۔بہت کر لی تم نے اپنی من مانیاں۔

ہماری ہی غلطی تھی جو تم پر بھروسہ کر لیا اور تمہیں یہاں پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔

بس اس لیے کہ تمہاری پڑھنے کی خواہش ادھوری نا رہ جائے۔

تمہیں ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہو مگر تم نے ہماری اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔

ہمیں نہی پتہ تھا کہ تمہاری یہ خواہش ہماری عزت کا جنازہ نکال دے گی۔

وہ تو بھلا ہو باسط کا جس نے ہمیں تمہارے کالے کارناموں کا بتا دیا۔

وقت پر پہنچ گئے ہم ورنہ ہو سکتا تھا کہ ہم کسی کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔

جب باسط نے بتایا کہ تم ساری رات ہاسٹل سے غائب تھی تو دل چاہ رہا تھا کہ یہ سب سننے سے پہلے ہم مر جاتے۔

دل تو چاہتا ہے کہ ابھی ختم کر دوں تمہیں مگر نہی!

تم دونوں کی لاشیں ایک ساتھ ہی بچھائیں گے ہم۔

تم نے نکاح تو کر لیا ہے مگر اپنے سارے رشتے کھو دئیے ہیں۔

“تمہارا انجام اتنا بھیانک ہو گا کہ آئیندہ کوئی بھی لڑکی ماں باپ کی عزت پر داغ لگانے سے پہلے ہزار بار سوچے گی اور آئیندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک عبرت ہو گی،،

زرتشہ چپ چاپ آنسو بہانے لگی وہ جانتی تھی کہ اس کی کوئی بات نہی سنی جائے گی۔

بے قصور ہوتے ہوئے بھی وہ قصور وار بن چکی تھی۔۔بھابیوں کا رویہ تو پہلے ہی اس کے ساتھ ٹھیک نہی تھا اب تو پتہ نہی کیا کریں گی۔

زرتشہ کے لیے آنے والا ہر پل کسی پہاڑ سے کم نہی تھا۔

“سمیر نے نازیہ کا نمبر ڈائل کیا۔وہ کال پک کرتے ہی سمیر پر تپ گئی۔

کہاں مصروف تھے تم؟

صبح سے کتنی کالز کی ہیں ہم نے تمہیں’نمبر کیوں بند تھاتمہارا؟

تم۔جانتے بھی ہو کیا ہوا ہے؟

زرتشہ پر کیا قیامت گزری ہے؟

اب بس پہیلیاں ہی بجھاتی رہو گی یا کچھ بتاو گی بھی؟

سمیر نے اسے ٹوکا تو وہ خاموش ہوئی۔

زرتشہ کے بھائی آئے تھے صبح یونیورسٹی اور اسے لے گئے۔

تمہارا پوچھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ وہ تمہیں اور زرتشہ کو جان سے مار ڈالیں گے۔

پتہ نہی کیا کیا بول رہے تھے وہ دونوں بہت غصے میں تھے۔

نازیہ نے اسے صبح ہونے والے سارے واقع کا بتا دیا۔

پلیز سمیر کچھ کرو زرتشہ کی جان خطرے میں ہے۔

“لیکن یہ سب ہوا کیسے؟

میرا مطلب ان کو پتہ کیسے چلا؟،،

ظاہری سی بات ہے باسط نے بتایا ہو گا’جب زرتشہ کے بھائی اسے لے کر جا رہے تھے اس وقت وہ یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس کھڑا مسکرا رہا تھا۔

مجھے پورا یقین ہے اسی نے کیا ہے یہ سب۔۔

سمیر کے ہاتھوں کی رگیں غصے سے تن گِئیں وہ فون بند کرتے ہوئے ہاسٹل کی طرف بڑھا۔

اس کا رخ باسط کے کمرے کی طرف تھا۔

وہ پرسکون سا اپنے کمرے میں بیٹھا تھا کہ سمیر بنا ناک کیے اس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔

باسط ساکت سا اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھنے لگا۔

سمیر اسے گریبان سے کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے گیا اور آو دیکھا نا تاو اسے مارنا شروع کر دیا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ سب کرنے کی؟

آج تمہیں جان سے مار دوں گا میں۔۔۔سمیر غصے سے بے قابو ہو چکا تھا۔

فیصل اور نوید بھی وہاں آ گئے اور بہت مشکل سے سمیر کو باسط سے الگ کیا۔

سمیر کسی بھی صورت آج اسے بخشنے والا نہی تھا۔

آج میں اسے ختم کر دوں گا اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی میری بیوی کو چوٹ پہچانے کی۔

ہاں بتایا ہے میں نے زرتشہ کے بھائیوں کو کیا کر لو گے تم؟

باسط خود کو سنبھالتے ہوئے چلایا۔

بس بہت ہو گیا تم دونوں کا یہ ڈرامہ!

اب میں مزید برداشت نہی کر سکتا تھا،تم نے اس سے نکاح کر لیا میں نے برداشت کیا۔

تم اس کے گھر پہنچ گئے ساری رات اس کے کمرے میں گزاری۔۔۔۔پھر اس کو ساتھ لے کر پوری رات تم غائب رہے۔۔۔بس یہ مجھ سے برداشت نہی ہوا۔

بلا لیا اس کے بھائیوں کو فون کر کے۔

اب بس تم اپنی خیر مناو!

زرتشہ کا کام تو تمام ہو چکا ہو گا اب تک۔۔۔تمہاری خاطر اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔

سب کے سامنے مجھے تھپڑ مارا۔۔۔اب دیکھنا اس کا انجام۔

اور تم جو بڑے غیرت مند بنے پھرتے ہو اس کے ساتھ راتیں گزار لیں اب مزہ بھی تو چکھنا پڑے گا ناں۔۔۔

اب جو دو راتیں ساتھ گزاری ہیں انجام تو بگھتنا پڑے گا۔

کیا مطلب ہے تمہارا اس بات سے؟

سمیر پھر سے اس کی طرف بڑھا اور اس کے چہرے پر تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر دی۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئے میری بیوی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی’وہ کل بھی پاکیزہ تھی اور آج بھی پاکیزہ ہے۔،،

تم نے سوچ بھی کیسے لیا زرتشہ کے بارے میں ایسا؟

وہ تمہیں اپنا بھائی سمجھتی رہی اور تم؟

تمہیں آج نہی چھوڑوں گا میں،۔۔سمیر نے اس کا سر دیوار میں دے مارا۔

جس سے اس کے سر سے خون بہنے لگا اور وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔

سارے بوائز اپنے کمروں سے نکل کر یہ منظر دیکھ رہے تھے مگر کسی میں بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہی تھی۔

باسط بے ہوش ہوا تو فیصل اور نوید تیزی سے اس کی طرف بڑھے اسے سہارا دے کر گاڑی میں لٹا دیا اور گاڑی ہاسپٹل کی طرف بڑھا دی۔

سمیر نے ایک زور دار مکا دیوار میں دے مارا جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ پر زخم ہو گیا مگر اسے پرواہ نہی تھی۔

اس وقت اسے بس زرتشہ کی فکر تھی۔خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا وہ۔

نہی زرتشہ تمہیں کچھ نہی ہونے دوں گا میں!

آ رہا ہوں میں۔۔۔وہ تیزی سے اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔

تم بن جینا ہے مشکل

دل اب تیرے سہارے

رکنے لگی ہے دھڑکن

رک ہاتھ دل پر

تھم جائے یہ دھڑکن

نہی بس میں ہمارے

بس چاہے تیرا ساتھ

بس دل تجھ کو پکارے

ہو تم اس مرضِ عشق کی دوا

تم بن جینا مشکل

ہے دل اب تیرے سہارے

گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئی تو ہارن کی آواز سے دونوں بہنیں بھی وہاں آ پہنچیں۔

خضر کی بیوی نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر زرتشہ کا بازو دبوچ کر اسے گاڑی سے باہر نکالا۔

یہ کیا کر دیا تم نے؟

نکال آئی ہماری عزت کا جنازہ؟

وہ دونوں باری باری زرتشہ پر تھپڑوں کی برسات کرتی چلی گئیں۔

زرتشہ کے ہونٹ سے خون رسنے لگا مگر یہاں کسے پرواہ تھی۔

وہ دونوں بہنیں تھپڑوں کی برسات کرتی چلی گئیں اور ساتھ ہی ساتھ اس کے بے داغ کردار پر بد چلن کا دھبہ تھوپتی چلی گئیں۔

بد چلن،بے حیا،بے شرم نا جانے کن کن الفاظ سے نوازتی رہی۔

وہ برقعہ میں تیرا یار آیا تھا۔۔تو نے بلایا تھا اسے۔

اے کلموہی۔۔۔!

تجھے زرا شرم نہی آئی ساری رات تو نے اس کے ساتھ گزاری،پھر بھی تیرا جی نہی بھرا تو توں اس کے ساتھ فرار ہو گئی ایک رات کے لیے۔

بھائیوں کی عزت کا زرا خیال نہی آیا تمہیں؟

بول اب بولتی کیوں نہی؟

زبان پر تالا لگا رکھا ہے کیا؟

یہ دن دیکھنے کے لیے بھیجا تھا تجھے پڑھنے؟

اگر یہی کچھ دکھانا تھا تو ہمیں زہر کا پیالا دے کر مار ڈالتی۔

تیرا یہ کالا منہ دیکھنے سے پہلے ہم سب مر کیوں نہی گئے۔

جب وہ دونوں مار مار کر تھک گئیں تو زرتشہ کو بازو سے کھینچتی ہوئیں اس کے کمرے میں پھینک کر باہر سے تالا لگا دیا۔

زرتشہ نے ایک نظر خاموش تماشائی بنے اپنے بھائیوں کو دیکھا مگر وہ آگے نہی بڑھے اور نہ ہی زرتشہ کو اپنی بیویوں سے بچانے کی کوشش کی۔

وہ چند لمحے بند دروازے کو تکتی رہی بے بس سی بیٹھی خود کو ہاری ہوئی سمجھ رہی تھی۔

نا جانے آنسو کب سے گال بھگو رہے تھے،وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکی۔

بس بے بسی سے فرش کو تکتی رہی۔

سمیر تم آو گے مجھے تم پر بھروسہ ہے،،

“بس اتنی التجا ہے کہ میری سانسیں ٹوٹنے سے پہلے تم آ جاو،میری آخری سانس تک میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں،،

عشق کی راہ چلے تو بھٹک گئے

عشق میں جو بچھڑے تو بھٹک گئے

عشق آنکھوں سے اترا دل کے رستے

جو دل کے رستے چلے تو بھٹک گئے

***********،******************************

بتاو کون کون ہے اور تمہارے ساتھ؟

وہ پھر سے ایک دوسرے شخص کو رسیوں میں جکڑے چلا رہا تھا۔

اس کے سر پر پانی کی بالٹی الٹ کر اسے جگایا گیا تھا۔

وہ پھٹی پھٹی سی نگاہوں سے ماسک کے پیچھے چھپے چہروں کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔

کون ہو تم لوگ اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟

وہ شخص اپنے بندھے ہوئے ہاتھ پیر دیکھ کر غصے سے چلایا۔

تمہارا کھیل اب ختم ہو چکا ہے یہ بتاو سارا مال کدھر ہے اور کون کون شامل ہے تمہارے ساتھ اس کام میں؟

وہ ساری لڑکیاں راتوں رات کہاں غائب ہو گئیں،مجھے ان سب سوالوں کے جواب چاہیے۔

آپ بیٹھ جائیں میں بات کر کے دیکھتی ہوں۔۔۔وہ لڑکی آگے بڑھی اور اس کے سامنے فون لہرایا اور چند تصویریں سکرین پر روشن ہوئیں۔

بتاو اس گینگ میں اور کون کون شامل ہے تمہارے ساتھ؟

ہمیں آج رات ہی ان تک رسائی چاہیے ورنہ تمہارا انجام اچھا نہی ہو گا۔

یہ زرا ٹھنڈا پانی لا دے کوئی مجھے۔۔

اس کے کہنے پر ایک لڑکا پھرتی سے فریج کی طرف بڑھا اور ٹھنڈے پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھائی۔

دوسرے لڑکے نے آگے بڑھ اس شخص کے منہ اور ناک پر کپڑا رکھا اور اس لڑکی نے اس کے منہ پر پانی ڈالنا شروع کر دیا۔

وہ بری طرح ہاتھ پیر مارنے لگا اسے سانس لینے میں بہت تکلیف ہو رہی تھی۔

کافی ہے یا مزید سختی آزمانی پڑے گی ہمیں؟

وہ پروفیشنل انداز میں بولی۔

تم لوگ چاہے جو مرضی کر لو میں سچ نہی بتانے والا۔۔۔وہ بھی ہار ماننے والا نہی تھا۔

بری طرح سے ہانپ رہا تھا مگر سچ بتانے کو تیار نہی تھا۔

تمہارا تو باپ بھی مانے گا آج۔۔۔چوتھا لڑکا تیزی سے اس کی طرف بڑھا اس کے بال دبوچتے ہوئے اس کے منہ پر تھپڑوں کی برسات کر دی۔

مگر وہ منہ کھولنے کو تیار ہی نہی تھا۔

آخر کار پہلا شخص آگے بڑھا اور اسے مزید مارنے سے روک دیا۔

******************************************

دوپہر سے شام ہو چکی تھی مگر زرتشہ کے کمرے میں کوئی نہی آیا۔

اسے لاوارثوں کی طرح کمرے میں پھینک دیا گیا تھا۔کسی نے پانی کا ایک گھونٹ تک نہی دیا کسی نے۔

وہ صبح بنا ناشتہ کیے ہی یونیورسٹی جا رہی تھی اس غرض سے کہ وہاں جا کر ناشتہ کر لے گی مگر ایسا ممکن ہی نہی ہو سکا۔

وہ بہ مشکل اپنے بے جان وجود کو سنبھالتی ہوئی سائیڈ ٹیبل تک پہنچی۔

جگ سے بہ مشکل ایک گلاس پانی نکلا زرتشہ نے پانی پیا اور بیڈ پر گر سی گئی۔

اس کا پیٹ تو مار کھا کر ہی بھر چکا تھا۔

کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔

رات کے کسی پہر زرتشہ کو اپنے سر پر کسی لمس کا احساس سا ہوا۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔

ککون ہے؟

زرتشہ میں ہوں،گھبرانے کی ضرورت نہی ہے!

فون کی ٹارچ روشن ہوئی اور سمیر کا چہرہ زرتشہ کی آنکھوں میں جگمگانے لگا۔

سمیر تم آ گئے۔

وہ جلدی سے سمیر کی گلے لگ کر آنسو بہانے لگی۔

سمیر کو زرتشہ سے اس حرکت کی بلکل امید نہی تھی اس نے مسکراتے ہوئے زرتشہ کے گرد بانہیں پھیلا دی۔

اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

زرتشہ میں یہی ہوں تمہارے پاس۔۔۔اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیے بولا۔

سمیر مجھے چھوڑ کر مت جانا یہ لوگ مجھے مارنا چاہتے ہیں۔

لالہ نے آج پہلی دفعہ مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور دونوں بھابیوں نے مل کر مجھے بہت مارا۔

یہ دیکھو سمیر۔۔۔۔یہ نشان دیکھو۔۔وہ کسی بچے کی طرح گھبرائی ہوئی آواز میں آنسو بہاتی ہوئی بول رہی تھی۔

سمیر نے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔ششش چپ بلکل چپ۔

زرتشہ میں ہوں تمہارے ساتھ!

“تم پر اٹھے ایک ایک ہاتھ کو کاٹ ڈالوں گا میں،،

زرتشہ خود میں سکون اترتا محسوس کرنے لگی یونہی سمیر کے سینے پر سر ٹکائے بہت دیر آنسو بہاتی رہی۔

سمیر نے اسے رونے سے نہی روکا وہ زرتشہ کے آنسو اپنے دل پر گرتے محسوس کر رہا تھا۔

زرتشہ نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ رکھا تھا جیسے ڈر ہو کہ وہ پھر سے دور نہ چلا جائے۔

سمیر خود کو زرتشہ کا گنہگار محسوس کر رہا تھا۔

زرتشہ کی آنکھ کب لگ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا اب وہ مطمئن سی تھی۔

سمیر جو اس کے ساتھ تھا اسے یقین تھا کہ وہ اسے کچھ نہی ہونے دے گا۔

وہ سو گئی تو سمیر نے اسے تکیے پر لٹا دیا اور خود کھڑکی کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ زرتشہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

اس نے مسکرا کر زرتشہ کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دئیے۔ایک سکون سا محسوس ہوا اس کے دل کو وہ بھی وہی لیٹ گیا اور مسکرا دیا۔

زرتشہ کی آنکھ کھلی تو سمیر کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔

وہ سویا ہی نہی بس زرتشہ کو سوتے دیکھتا رہا۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔

زرتشہ سمیر کے پیچھے چھپ گئی۔

نہی سمیر تم چھپ جاو۔

سمیر نے اس کے اپنی شرٹ کو مٹھی میں جکڑے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنے ہونے کا یقین دلایا۔

اب وقت آ گیا ہے سامنے آنے کا سمیر مطمئن سا بولا۔

کمرے کا دروازہ کھلا تھا خضر کی بیوی نے دروازہ کھولا اور سامنے کا منظر دیکھ کر وہ چلا اٹھی۔

زرتشہ سمیر کے پیچھے کھڑی تھی اور سمیر بنا ڈرے خضر کی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔

چہرے پر غصے کے واضح آثار تھے۔تب ہی خضر اور بشر بھی وہاں آ پہنچے اور سامنے کا منظر دیکھ کر ان کا خون کھول اٹھا۔

سمیر اپنی جگہ سے نہی ہلا،ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھنے لگا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *