Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 06)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 06)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
“یہ کیا بدتمیزی ہے سمیر؟
تم میرے کمرے تک بھی پہنچ گئے۔اور میرے کمرے کا لاک بھی توڑ ڈالا۔
یہ سب کیا ہے؟
اب اور کیا چاہتے ہو مجھ سے؟
یہاں بھی آ گئے تم مجھے بدنام کرنے۔
“خدا کا واسطہ ہے سمیر!
زرتشہ نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دئیے۔
“میرا پیچھا چھوڑ دو۔
اپنی غلطیوں کے لیے میں ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگتی ہوں میں!
“میں ہار مانتی ہوں۔
پلیز تم جاو یہاں سے!
میرا مزید تماشہ نا بناو،،،
زرتشہ آنسو بہاتے ہوئے بول رہی تھی۔
اپنی عزت کی خاطر وہ اپنی انا کو قربان کر رہی تھی۔
اپنی عزت اسے اپنی انا سے بڑھ کر عزیز تھی۔
وہ نہی چاہتی تھی کہ اس کی عزت پر کوئی آنچ آئے۔
اگر اس کے بھائیوں تک ان باتوں کی خبر پہنچ گئی تو بھابیاں تو زرتشہ کو ہی برا بھلا کہیں گی۔
وہ تو پہلے ہی زرتشہ کے پڑھنے اور ہاسٹل میں رہنے کے خلاف تھیں۔
جب ان کی چالاکیاں وہاں نہی چلی تو انہوں نے اپنے بھائی کا باسط کا ایڈمشن بھی اسی یونیورسٹی میں کروا دیا۔
تا کہ وہ زرتشہ پر نظر رکھ سکے۔
“تم یہ رونا بند کرو پلیز!
مجھ سے یہ رونا دھونا،آنسو بہانا نہی دیکھا جاتا۔
سمیر آگے بڑھ کر زرتشہ کے اس کے سامنے جڑے ہاتھ ایک ہاتھ سے نیچے کرتے ہوئے بولا۔
“زرتشہ ایک بات میری کان کھول کر سن لو آج تم!
جیسا تم مجھے سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہی تھا۔
“میں ہوس کا شکاری نہی ہوں!
میں آوارہ ہوں،غنڈہ ہوں!
بدتمیز بھی ہوں میں۔۔۔مگر!
“مگر میں بد چلن نہی ہوں
تم اپنے دل میں میرے لیے ایسا کوئی گمان پیدا مت کرنا۔
ورنہ۔۔!
“ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا،،
وہ زرتشہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دباتے ہوئے بولا۔
سمیر کی گرفت بہت سخت تھی۔زرتشہ نے سمیر کے ہاتھ ہٹانا چاہے۔مگر نہی ہٹا پائی۔
“نفرت کرتا ہوں میں تم سے!
بہت نفرت۔۔۔ اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
زرتشہ بیڈ پر بیٹھ کر آنسو بہانے لگی۔
سمیر کے جاتے ہی نیلم اور نازیہ زرتشہ کے پاس آ بیٹھیں اور اسے چپ کروانے لگیں۔
زرتشہ اب بس بھی کرو یہ رونا،بتاو تو سہی آخر ہوا کیا ہے۔
سمیر یہاں کیوں آیا تھا؟
ہم تو سمجھی تھی یہ سدھر چکا ہے۔مگر یہ تو بلکل ویسا ہی ہے۔
بس دکھاوے کے لیے حلیہ بدلہ ہے اس نے اپنا۔
کرتوت ابھی بھی وہی ہیں اس کے۔
غنڈہ کہی کا!
نیلم اور نازیہ دونوں اپنے دل کا غبار نکال رہی تھیں۔
نازیہ کو تو ویسے بھی اپنے فون ٹوٹنے کا غم ستائے جا رہا تھا۔
زرتشہ نے لائیبریری میں ہوئے واقعہ دونوں کو سنا دیا۔اور اٹھ کر اپنی الماری کی طرف بڑھ گئی۔
سوٹ کیس اٹھا کر بیڈ پر رکھا اور اپنے کپڑے پیک کرنے لگی۔
زرتشہ یہ کیا کر رہی ہو تم؟
نیلم تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
“میں اب یہاں ایک اور منٹ بھی نہی رہ سکتی!
“جو کمرے تک پہنچ سکتا ہے،وہ کچھ بھی کر سکتا ہے!
“اس سے پہلے کہ میری عزت پر کوئی آنچ آئے۔میں اس سارے معاملے کو یہی ختم کر دینا چاہتی ہو۔
بس یہی ایک حل ہے اس مسئلے کا!
یہ مسئلے کا حل نہی ہے زرتشہ!
اس طرح تو وہ سمجھے گا کہ تم اس سے ڈر کر بھاگ گئی ہو۔
اس کی دہشت مزید بڑھے گی،یہ تو کوئی حل نا ہوا ناں۔
نازیہ غصے سے زرتشہ کی طرف بڑھی۔
“فی الحال میرے پاس یہی حل ہے!
بعد میں کیا کرنا ہے بعد میں سوچوں گی۔ابھی مجھے گھر جانا ہے۔
میں واپس نہی آنا چاہتی۔۔تم سب سے رابطے میں رہوں گی۔
جب دل چاہے تم تینوں مجھ سے ملنے آ سکتی ہو۔
“نازیہ کیا تم مجھے بس اسٹینڈ تک چھوڑ دو گی؟
یا پھر میں ٹیکسی منگوا لوں؟
کیسی باتیں کر رہی ہو زرتشہ؟
تم پاگل ہو گئی ہو!
کچھ سوچوں کیا کرنے جا رہی ہو تم۔
تمہاری بھابیاں تو پہلے ہی یہی چاہتی ہیں کہ تم پڑھائی چھوڑ کر واپس آ جاو۔
ان کے بچے سنبھالنے!
“اس غلامی میں کم ازکم عزت تو محفوظ رہے گی”
زرتشہ اپنا بیگ اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور سوٹ کیس گھسیٹتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
نیلم اور نازیہ تیزی سے اس کے پیچھے دوڑی۔
زرتشہ رک جاو پلیز ایسا مت کرو۔
وہ دونوں آوازیں دیتی رہ گئیں۔
مگر زرتشہ نے ان کی ایک نہی سنی۔وہ آنسو بہاتے ہوئے آگے بڑھتی چلی گئی۔
اچھا ٹھیک ہے رکو تو سہی میں گاڑی لے کر آتی ہوں۔
نازیہ زبردستی اس کا ہاتھ تھامے راستہ روک کر کھڑی ہو گئی۔
زرتشہ رک گئی۔
نازیہ گاڑی لے آئی اور تینوں گاڑی میں بیٹھ کر بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہو گئیں۔
زرتشہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔
اس نے کبھی سوچا نہی تھا کہ ایک ایسے بے حس انسان سے پالا پڑے گا اس کا۔
پڑھائی چھوڑ کر یوں جانا پڑے گا اس کو۔
کتنی مشکلوں سے اجازت ملی تھی اسے پڑھنے کی۔
بھابھیوں کی ہزاروں منتیں کرنی پڑیں۔
اگر آج ماں،باپ زندہ ہوتے تو بھابیوں کی غلامی نہ کرنی پڑتی مجھے۔
زرتشہ کو اپنے بابا یاد آنے لگے۔
بچپن سے اپنے بابا کی لاڈلی رہی تھی وہ۔بھائیوں سے زیادہ پیار کرتےتھے بابا اس سے۔
دو سال پہلے ان کی اچانک موت نے زرتشہ کو توڑ کر رکھ دیا۔
ماں کا سایہ تو بچپن میں ہی زرتشہ کے سر سے اٹھ گیا۔
اس وقت وہ چار سال کی تھی جب اس کی اماں سو کر اٹھی ہی نہیں۔
ان کا ہارٹ فیل ہو چکا تھا۔
اس کے بعد بھائیوں اور بابا نے ہی مل کر پالا اس کو۔
شادیوں کے بعد بس اپنی بیویوں کے ہی ہو کر رہ گئے۔
جب تک بابا زندہ رہے زرتشہ کی زندگی اچھی گزرتی رہی۔
مگر جیسے ہی اس کے بابا اس دنیا سے رخصت ہوئے۔چند ماہ بعد ہی بھابیوں کی سچائی سامنے آنے لگی۔
اپنا اصلی روپ دکھانے لگی وہ دونوں بہنیں۔
زرتشہ کو بات بات پر مفت خوری کا تانا دیا جاتا۔
ان کی غلامی کرتی وہ الگ،مگر زرتشہ نے کبھی ان کو پلٹ کر جواب نہی دیا۔
وہ دونوں لاکھ نفرت کر لیں زرتشہ سے مگر زرتشہ نے ہمیشہ ان دونوں کو اپنی بڑی بھابیوں سے بڑھ کر اپنی ماں کا درجہ دیا۔
وہ بڑے لوگ کہتے تھے ناں”بڑی بھابی ماں جیسی ہوتی ہے”
بس زرتشہ اسی بات کو مانتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔
سب کچھ اچھا چل رہا تھا،پھر زرتشہ کے سر پر پڑھائی کا جنون سوار ہو گیا۔
نیلم نے یہاں ایڈمشن لیا تو اس نے زرتشہ کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی آفر کی۔
پھر زرتشہ نے بھی بھابیوں کی منتیں شروع کر دیں۔
آخر کار وہ دونوں مان ہی گئیں۔مگر ساتھ ہی انہوں نے باسط کے ساتھ جانے کی شرط بھی رکھ دی۔
زرتشہ کو اس بات سے کوئی فرق نہی پڑا۔
وہ باسط کو بھی اپنا بڑا بھائی ہی سمجھتی تھی۔مگر اس بات سے انجان تھی وہ کہ باسط اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
نازیہ نے بس اسٹینڈ کے قریب گاڑی روک دی۔
زرتشہ پلیز ایک بار اچھی طرح سوچ لو،یہ تم ٹھیک نہی کر رہی۔
نیلم نے ایک آخری کوشش کی اس کو سمجھانے کی مگر زرتشہ اس کی بات سنے بغیر ہی گاڑی سے باہر نکل کر ٹکٹ کاونٹر کی طرف بڑھی۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر زرتشہ کے پیروں تلے جیسے زمین سرک گئی۔
زرتشہ پہلے گھبرا گئی۔پھر ڈھٹائی سے ٹکٹ کاونٹر کی طرف بڑھی۔
سمیر کاونٹر کے ساتھ والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے غصیلی نگاہوں سے لب بھینچے کھڑا زرتشہ کو گھور رہا تھا۔
زرتشہ جیسے ہی ٹکٹ اٹھانے لگی سمیر نے آگے بڑھ کر ٹکٹ پر ہاتھ رکھ کر سر نفی میں ہلا دیا۔
زرتشہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گیا۔
زرتشہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کے لیے جدوجہد کرنے لگی۔مگر سمیر نے اس کا ہاتھ نہی چھوڑا۔
جب نیلم اور نازیہ کی نظر سامنے سے آتے سمیر اور زرتشہ پر پڑی تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیں۔
لیں جی ہو گیا کام!
دونوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
نازیہ نے اپنا سم کارڈ نکال کر نیلم کے فون میں ڈالا اور سارا غصہ سائیڈ پر رکھتے ہوئے سمیر کو زرتشہ کے جانے کی خبر میسیج کر دی۔
اور حسبِ توقع سمیر ان سے پہلے ہی وہاں پہنچ گیا۔
ان دونوں کے پاس بس ایک یہی طریقہ تھا زرتشہ کو روکنے کا۔
نیلم نے یہ میسیج لکھا سمیر کو کہ زرتشہ تمہاری وجہ سے یونیورسٹی چھوڑ کر جا رہی ہے۔
پلیز سمیر اس کو روک لو کسی طرح۔۔۔میں بس اسٹینڈ کر ایڈریس سینڈ کر رہی ہوں۔
پلیز جلدی یہاں پہنچ جاو،اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
سمیر کے میسیج کا کوئی جواب نہی آیا۔
جیسے ہی سمیر نے میسیج پڑھا وہ سر تھام کر رہ گیا۔وہ تیزی سے جیب سٹارٹ کرتے ہوئے ہاسٹل سے باہر نکل پڑا بس اسٹینڈ کے لیے۔
میسیج کا جواب دینے کے لیے وقت نہی تھا اس کے پاس۔
چلیں پھر ہم دونوں ہاسٹل؟
نازیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
ہاں ہاں ضرور!
نیلم بھی مسکراتے ہوئے بولی۔
نازیہ نے گاڑی سٹارٹ کی اور واپس ہاسٹل کی طرف موڑ دی۔
“سمیر یہ کیا بدتمیزی ہے؟
،ہاتھ چھوڑو میرا!
زرتشہ کا ہاتھ ابھی تک سمیر کی گرفت میں تھا۔
بیٹھو جیپ میں۔۔۔وہ زرتشہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا۔
میں کیوں بیٹھوں تمہاری جیپ میں؟
مجھے جانے دو مجھے اپنے گھر واپس جانا ہے۔
زرتشہ اپنا ہاتھ دباتے ہوئے بولی جو سمیر کے مظبوطی سے تھامنے پر اب درد ہو رہا تھا۔
“زرتشہ تنگ مت کرو مجھے!
چپ چاپ جیپ میں بیٹھ جاو،اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔
سمیر زرتشہ کے تھوڑا قریب ہوتے ہوئے بولا۔
زرتشہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی۔آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے۔
سمیر کو اپنی غلطی پر پچھتاوا ہوا۔
اچھا ٹھیک ہے یار میں نہی آتا تمہارے پاس!
میں دور ہو جاتا ہوں۔۔۔تم رونا تو بند کر دو یار۔
ایک تو تم لڑکیوں کو رونے کے سوا اور کوئی کام نہی آتا۔
جب دیکھو چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو بہانے لگتی ہو۔
تم بیٹھو جیپ میں۔
تمہیں ہاسٹل ڈراپ کر دوں۔
نہی۔۔مجھے ہاسٹل واپس نہی جانا،مجھے اپنے گھر جانا ہے۔
نازیہ اور نیلم میرا انتظار کر رہی ہیں مجھے جانے دو۔
زرتشہ نے جیپ کی دوسری سائیڈ سے نکلنا چاہا مگر سمیر اس کے سامنے آ رکا۔
وہ دونوں ہاسٹل میں ہی مل جائیں گی تمہیں۔
ابھی تم چلو میرے ساتھ۔۔۔اچھا نہی لگتا سب دیکھ رہے ہیں۔اور یہ آنسو بہانا بھی بند کر دو اب۔
خود ہی صاف کر کر لو اپنے آنسو یا پھر میں صاف کر دوں۔
سمیر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
زرتشہ ڈر کر پیچھے ہٹی،میں خود کر لوں گی۔
ویری گڈ!
سمیر ہنسی دباتے ہوئے بولا۔
زرتشہ چپ چاپ جیپ میں بیٹھ گئی۔
سمیر بھی مسکراتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔اور جیپ سٹارٹ کر دی۔
زرتشہ منہ دوسری طرف موڑے بیٹھی رہی۔
زرتشہ۔۔۔!
آئی ایم سوری!
زرتشہ نے چونک کر سمیر کی طرف دیکھا۔
کس بات کے لیے سوری “دی ڈان سمیر گجر؟
زرتشہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولی۔
سمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
بہت اچھا لگتا ہے تمہارے ہونٹوں پر میرا نام،زرتشہ خان۔
کتنا اچھا لگا گا ناں!
جب زرتشہ خان سے تم مسز “دی ڈان سمیر گجر” بن جاو گی۔
زرتشہ نے چونک کر سمیر کی طرف دیکھا!
“سب کچھ مزاق لگتا ہے ناں تمہیں؟
لڑکیوں کے جزبات سے کھیلنا،تم اس طرح سے اپنی مردانگی ظاہر کرتے ہو؟
سمیر نے جیپ سڑک کے کنارے روک دی۔
نہی زرتشہ۔۔۔!
تم غلط ہو،میں لڑکیوں کے جزبات سے نہی کھیلتا۔
ان کی برداشت سے زیادہ مزاق نہی کرتا میں ان سے۔
مگر تم ان لڑکیوں میں سے نہی ہو!
تم الگ ہو،تمہارے جزبات کو سمجھنا چاہتا ہوں میں۔
تمہارے ساتھ گھر بسانا چاہتا ہوں میں۔
مردانگی یہ ہے کہ میں تمہارا ہاتھ زندگی بھر کے لیے تھام لوں۔
رہنے دو یہ بڑی بڑی باتیں!
“مجھے تمہارے ساتھ کی کوئی ضرورت نہی ہے۔
میں یہاں پڑھائی کرنے آئی ہوں گھر بسانے نہی!
سمیر نے مسکراتے ہوئے جیپ سٹارٹ کر دی۔
گھر تو ایک نا ایک دن تو بسانا ہی پڑتا ہے سب کو۔
تمہیں بھی بسانا ہے!
“تو پھر میرے ساتھ کیوں نہی؟
“جیسا تم نے کہا میں نے ویسا کر ڈالا۔
“زرتشہ تمہاری خاطر اتنا بدل ڈالا خود کو،مگر تمہاری بات ابھی بھی وہی کی وہیں ہے۔
میں نے تو بس ایک بات کی تھی کہ خود کو بدل لو،اچھے انسان بنو۔
لڑکیوں کی طرح لمبے بال،اور مردوں کی طرح لمبی مونچھیں رکھے۔آدھے مرد اور آدھی عورت بن کر زندگی گزار رہے تھے تم!
سمیر کو جھٹکا سا لگا زرتشہ کی بات پر۔
چہرے پر پھر سے غصے کے آثار چھانے لگے۔
اس نے غصے سے ہاسٹل کے گیٹ کے پاس جیپ کو بریک لگائی۔
آج کے بعد یہاں سے جانے کی کوشش مت کرنا،ورنہ میں تمہارے گھر سے واپس لے آوں گا تمہیں!
اب نکلو میری جیپ سے!
سمیر ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔
زرتشہ کو شدت سے اپنی توہین کا احساس ہوا۔
جا رہی ہوں۔۔۔میں بھی کوئی مر نہی رہی تھی تمہاری اس گھٹیا جیپ میں بیٹھنے کے لیے۔
تم نے خود ہی زبردستی بٹھایا مجھے!
سمیر نے غصے سے زرتشہ کی طرف دیکھا۔
“میری جیپ کے بارے میں کچھ مت کہنا ورنہ؟
سمیر غصے سے زرتشہ کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولا۔
زرتشہ کی نظر اپنے پیروں کے پاس گری پانی کی بوتل پر پڑی۔
زرتشہ کو بوتل اٹھاتے دیکھ سمیر نے سر نفی میں ہلایا۔
نو۔۔۔!
مگر اس کے بولنے سے پہلے ہی زرتشہ سارا پانی سمیر کے سر پر الٹ چکی تھی۔
تم اسی لائق ہو بھگتو اب!
زرتشہ غصے سے بولتی ہوئی جیپ سے نیچے اتر گئی۔
زرتشہ۔۔۔سمیر بس اسے غصے سے پکارتا ہی رہ گیا۔
زرتشہ نہی رکی۔
سمیر نے اپنے چہرے پر بکھرے بال چہرے سے پیچھے ہٹائے اور نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دیا۔
کیسی پاگل لڑکی ہے!
سمیر نے مسکراتے ہوئے جیپ سٹارٹ کر دی۔
زرتشہ غصے سے آگ بگولہ ہوتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
نیلم اور نازیہ اس کا بیگ کھولے سارا سامان الماری میں واپس رکھنے میں مصروف تھیں۔
زرتشہ کو دیکھ کر دونوں نے ایسے چونکنے کی ایکٹنگ کی جیسے کچھ جانتی ہی نہ ہو۔
زرتشہ تم یہاں کیسے؟
نیلم جلدی سے آگے بڑھی۔
ہمیں لگا تم اپنا سوٹ کیس یہی بھول کر جا چکی ہو۔
اسی لیے ہم لوگ واپس آ گئیں۔
زرتشہ پلیز رک جاو!
مت کرو ایسا،ہمیں اس طرح چھوڑ کر مت جاو۔
نازیہ،زرتشہ کے گلے لگ کر جھوٹے آنسو بہانے لگی۔
نہی جا رہی میں!
پلیز تم چپ ہو جاو نازیہ۔۔۔!
کیا تم سچ کہہ رہی ہو،نازیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
زرتشہ نے سر ہاں میں ہلا دیا۔
“اس ہٹلر دی ڈان سمیر گجر کے ہوتے ہوئے میں یہاں سے کیسے جا سکتی ہوں۔
جینا دشوار کر رکھا ہے اس نے میرا۔
نہ جینے دیتا ہے نہ مرنے دیتا ہے!
مجھے تو یہ بات نہی سمجھ آ رہی کہ اس کو پتہ کیسے چلا کہ میں جا رہی ہوں۔
ہم سے پہلے ہی بس اسٹینڈ پر پہنچ کیسے گیا یہ؟
نیلم اور نازیہ نے ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
کیا کہا سمیر وہاں پہنچ گیا تھا؟
نازیہ چونک کر بولی۔
ہم سمجھ رہی تھیں کہ تم اپنا سوٹ کیس بھول کر جا چکی ہو،مگر تم سمیر کے ساتھ تھی۔
کیا کہا اس نے تم سے؟
نازیہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
کہہ رہا تھا کہ اگر میں یہاں سے گئی تو میرے گھر سے واپس لے آئے گا مجھے۔
بہت تنگ کر رکھا ہے اس نے مجھے!
کس نے تنگ کر رکھا ہے؟
عافیہ کی آواز پر وہ تینوں پلٹیں۔
عافیہ جلدی سے ان کی طرف بڑھی اور باری باری ان سے ملنے لگی۔
ارے واہ کیا سرپرائز دیا ہے تم نے،ایسے اچانک بنا بتائے چلی آئی۔
ہمیں انفارم تو کر دیتی۔تمہارا اچھا سا ویلکم کرتی ہم۔
نیلم مسکراتے ہوئے بولی۔
عافیہ مسکرا دی۔اور اپنا انگوٹھی والا ہاتھ ان تینوں کے سامنے لہرایا۔
واوو۔۔۔مبارک ہو۔
تینوں مبارکباد دینے لگی عافیہ کو۔
اس کے علاوہ ایک اور بات۔۔!
صرف منگنی ہی نہی ہوئی نکاح بھی ہو گیا میرا۔۔عافیہ بلش ہوتے ہوئے بولی۔
واوووو۔۔۔۔سب ایک سات ہم آواز ہو کر بولیں۔
اب تو ڈبل ٹریٹ بنتی ہے بھئی۔نیلم نے پرجوش ہو کر بولی۔
ہاں ناں ضرور۔۔۔عافیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
تو پھر ڈن!
آج ڈنر میری طرف سے!
عافیہ نے بات ختم کی۔
ہاں وہ سب تو ٹھیک ہے۔پہلے ہمیں پکچرز تو دکھاو نکاح والیں۔
عافیہ ان سب کو پکچرز دکھانے میں مصروف ہو گئی۔
