Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 14)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

تیری اتنی ہمت ہمارے ہی گھر میں کھڑا ہو کر ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہا ہے۔۔۔خضر غصے سے سمیر کی طرف بڑھا۔

خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا آپ نے۔۔۔۔

سمیر کی جیب سے گن نکالنے کی دیر تھی کہ خضر کے بڑھتے قدم وہی رک گئے۔

اچھا تو اب توں ہمیں اس کھلونے سے ڈرائے گا۔

ایک تو ہماری عزت سے کھیلا توں،نکاح کر لیا اس سے۔۔۔ارے اسے تو اب بہن کہنے کو بھی دل نہی کر رہا۔

تم دونوں کو زندہ نہی چھوڑوں گا میں بشر بندوق کا رخ سمیر کی طرف موڑتے ہوئے بولا۔

لو کر لو اپنا شوق پورا!

سمیر گن واپس جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔

بشر نے گولی چلائی مگر بندوق میں گولیاں ہی نہی تھیں۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

کیسے چلاو گے؟

یہ گولیاں تو میرے پاس ہیں۔

تم بڑی پلاننگ سے یہاں آئے ہو بیٹا مگر ہم نے بھی چوڑیاں نہی پہن رکھی،آج تم یہاں سے زندہ واپس نہی جا سکو گے۔

خضر غصے سے سمیر کی طرف بڑھا اسے مارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سمیر نے اس کا ہاتھ تھام کر پیچھے دھکیلا۔

خضر لڑکھڑاتے ہوئے دیوار سے جا ٹکرایا۔

یہ مار پیٹ آپ کے بس کی بات نہی سالے صاحب!

بہتر ہے کہ ہم یہ معاملہ پیار سے نمٹا لیں۔

ہمارا نکاح تو ہو چکا ہے۔۔۔زرتشہ اب میری بیوی ہے۔

پچاس لاکھ دو اور اپنی بیوی کو یہاں سے لے جاو ہمیشہ کے لیے۔

بشر کی بات پر زرتشہ نے چونک کر اپنے بھائی کی طرف دیکھا۔

وہ بھائی جس سے اس کا خون کا رشتہ تھا۔

ہاں پورا پچاس لاکھ دو اور اسے ابھی یہاں سے لے جاو۔

ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہی ہے۔۔۔خضر بھی بول پڑا۔

لالہ۔۔۔آپ یہ سب کیا کہہ رہے ہیں؟

میں آپ کی بہن ہوں!

میرا سودا طے کر رہے ہیں آپ لوگ؟

یہ کیسا رشتہ ہے؟

کوئی رشتہ نہی ہے ہمارا تم سے سمجھی!

تم ہماری بہن نہی ہو۔۔۔۔بس ہمارے باپ کی بیٹی ہو۔

بابا نے ہماری ماں کے مرنے کے بعد تمہاری ماں سے شادی کر لی تھی۔

پھر جب تم اس دنیا میں آئی تو بابا ہم دونوں کو تو جیسے بھول ہی گئے۔

تم ان کی آنکھ کا تارا بن گئی اور ہم لاوارثوں کی طرح گھر کے کسی کونے میں پڑے رہتے۔

بہت نا انصافیاں ہوئیں ہمارے ساتھ۔۔۔پھر ہمیں تمہاری اماں کو مارنا پڑا۔

وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دئیے۔

خود نہی مری تھی وہ ہم نے مارا تھا اسے گلہ دبا کر اور تمہیں بھی مار دیتے اسی دن اگر بابا اچانک گھر نہ آ جاتے۔

اس دن کے بعد ہمیں کبھی موقع ہی نہی ملا ورنہ تمہیں کب کا مار دیا ہوتا۔

ہمیں تو کبھی باپ کا پیار نصیب نہی ہو سکا۔ہم نے سوچا تھا کہ تمہاری ماں مر گئی ہے تو بابا پھر سے شادی کر لیں گے تمہاری خاطر اور تم بھی گھر کے کسی کونے میں پڑی رہو گی۔

مگر ایسا نہی ہو سکا!

ابا نے تیسری شادی نہی کی۔۔۔۔انہوں نے ساری زندگی تمہارے نام وقف کر دی۔

بزنس میں بھی اچھا خاصہ نقصان پہنچا ان کو صرف اور صرف تمہاری وجہ سے اور بابا نے ہمیں سکول سے ہٹا کر دکانیں سنبھالنے کو بول دیا۔

ہمارا مستقبل بس ان چھوٹی سی دکانس کے سہارے رہ گیا۔

لیکن تمہاری پڑھائی میں انہوں نے کوئی خلل نہی آنے دیا۔

بس ان کی وجہ سے چپ تھے ہم دونوں ورنہ تمہیں کبھی بھی گھر سے قدم باہر نہ نکالنے دیتے۔

اور بابا نے ساری جائیداد بھی تمہارے نام کر دی،بشر نفرت بھرے انداز میں بولا۔

ہمیں وہ زمین و جائیداد اور پچاس لاکھ چاہیے۔۔۔اگر دے سکتے ہو تو بتاو ورنہ تم یہاں سے چلتے بنو۔

یہی رسم ہے جو ہمارے ہاں برسوں سے چلتی آ رہی ہے۔

“باپ کی وراثت میں بیٹی کا کوئی حق نہی ہوتا اور شادی سے پہلے شوہر اپنی ہونے والی بیوی کے لیے جہیز کی رقم خود ادا کرتا ہے،،

میں ان فضول رسموں کو نہی مانتا خضر صاحب!

یہ ساری رسمیں آپ کی اپنی پیداوار ہیں اسلام میں تو ایسا کچھ نہی ہے۔

سمیر جو اب تک چپ چاپ سب سن رہا تھا غصے سے بول پڑا۔

بات پیسوں کی نہی ہے!

“میں اپنی بیوی کی خاطر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بیچ سکتا ہوں،پیسے تو بہت چھوٹی بات ہے،،

مگر میں ختم کرنا چاہتا ہوں ان جعلی رسومات کو اور شروع تم سے ہو گا۔

میں تمہیں ایک پیسہ نہی دوں گا،شرعی اور قانونی طور پر زرتشہ میری بیوی ہے اور تم لوگ مجھے اسے ساتھ لے جانے سے نہی روک سکتے۔

لالہ آپ لوگ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟

میں آپ کی بہن ہوں،آپ دونوں میرے سگے بھائی ہیں وہ خضر کے پاس جا رکی۔

دونوں کی بیویاں بھی یہاں آ چکی تھیں۔

تم ہماری بہن نہی ہو سمجھی۔۔۔؟

خضر نے اسے دور دھکیلا زرتشہ گر جاتی مگر سمیر نے اسے تھام لیا۔

“اب میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہی کرو گا،،

بس بہت ہو گیا تم دونوں کا تماشہ۔۔۔

“یہ میری بیوی ہے کوئی سامان نہی جو تم دونوں اس کی قیمت لگا رہے ہو!

اچھا اگر ایسا کرو گے تو یہاں سے واپس نہی جا سکو گے کبھی بھی۔۔۔خضر پھر سے اس کی جانب بڑھا۔

“میں یہاں سے جا رہا ہوں ابھی اپنی بیوی کو لے کر،ہمت ہو تو روک لینا مجھے،،

وہ دونوں کو چیلنج کرتا ہوا زرتشہ کا ہاتھ تھامے باہر کی طرف بڑھا۔

وہ دونوں بھائی ان کے راستے میں آ رکے۔

خبردار جو یہاں سے جانے کی کوشش کی تو جان سے مار دوں گا تم دونوں کو۔

ایک بار کہہ دیا ناں کہ میری شرطیں پوری کرو اور شوق سے اپنی بیوی کو یہاں سے لے جاو۔

اب سمیر سے مزید ظبط کرنا مشکل ہو چکا تھا۔

اس نے اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کیے اور تیزی سے بشر کی جانب بڑھا۔

ایک زور دار مکا اس کے پیٹ میں مارا جس پر وہ اپنا پیٹ تھامے دیوار سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھ گیا۔

اس کی بیوی بھاگتی ہوئی اس کے پاس آ کر چیخ پکار کرنے لگی۔

خضر غصے سے سمیر کی طرف بڑھا اور سمیر بھی اتنے ہی غصے سے اس کی جانب بڑھا۔

اسے گریبان سے تھامتے اس کا سر دیوار میں دے مارا۔

سمیر نہی چھوڑ دو لالہ کو ان کو چوٹ لگ جائے گی زرتشہ چلا رہی تھی مگر سمیر پر اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہی پڑا۔

“ایک بار کہا ناں میری بیوی ہے کو سامان نہی!

ایک بار کی کہی بات سمجھ نہی آئی تمہیں؟

نہی سمیر چھوڑ دو!

زرتشہ چلا رہی تھی اور خضر کی بیوی بھی مگر سمیر اندھا دھند اسے مار رہا تھا۔

رک جاو سمیر!

سمیر کے کانوں میں جب یہ آواز پڑی تو وہ اسے چھوڑتے ہوئے واپس پلٹا۔

نازیہ تم یہاں کیسے؟

اور یہ کون ہیں تمہارے ساتھ؟

فیصل اور نوید تم دونوں بھی یہاں۔۔۔۔زرتشہ ان سب کو اچانک یہاں دیکھ کر حیران رہ گئی۔

“میجر زویا اذنان۔۔۔۔نازیہ نہی!

مطلب۔۔۔۔زرتشہ کو اس کے جواب پر حیرت ہوئی اس کی نظر اس کی آنکھوں پر پڑی وہ بنا عینک پہنے گن تانے کھڑی تھی۔

ہاں میجر زویا ہوں میں اور یہ ہیں میجر اذنان۔۔۔باقی سب کو تو جانتی ہی ہو تم۔

یہ سب کیا کہہ رہی ہو تم میں کچھ سمجھ نہی پا رہی۔۔۔زرتشہ کا سر چکرا رہا تھا۔

بہت جلدی سمجھ آ جائے گا تمہیں سب کچھ۔۔وہ بولتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔

سارا بیان ریکارڈ ہو چکا ہے ان سب کی گرفتاری کے آرڈرز آ چکے ہیں۔

بس کچھ دیر میں پولیس یہاں پہنچ جائے گی۔

جیسے آپ کو بہتر لگے میجر اذان۔۔۔۔سمیر اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے زرتشہ کی طرف بڑھا۔

تم ٹھیک ہو؟

ہاں۔۔۔زرتشہ نے سر ہاں میں ہلایا۔

چند لمحوں بعد ہی پولیس وہاں آپہنچی اور خضر اور بشر دونوں کو گرفتار کرنے لگی۔

ان کے ساتھ لیڈیز پولیس بھی تھی جو کہ زرتشہ کی دونوں بھابیوں کی گرفتاری کے لیے آئیں تھی۔

سمیر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

پولیس ان سب کو کہاں لے کر جا رہی ہے۔۔زرتشہ کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہی لے رہے تھے۔

یہ لوگ جیل جا رہے ہیں شاید عمر بھر قید کی سزا ملے انہیں۔

زرتشہ تم اپنے کمرے میں چلو آرام سے بیٹھو سب بتاتا ہوں۔

سمیر اسے ساتھ لیے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

زرتشہ کو صوفے پر بٹھا دیا اور پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔

لیکن کیوں سمیر؟

ان کا گناہ اتنا بڑا تو نہی تھا۔۔

ان کا گناہ بہت بڑا تھا زرتشہ۔۔۔ابھی تم سچ نہی جانتی۔وہ گلاس واپس میز پر رکھتے ہوئے بولا۔

خود بھی زرتشہ کے پاس بیٹھ گیا۔

تمہارے دونوں بھائی اور بھابیاں ایک بہت بڑا گینگ چلا رہے تھے۔

جس میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو نشے کی لت لگانا اور پھر ان سے بھی یہی کام کروانا اپنے مزید دوستوں کو اس کام پر آمادہ کرنا۔

قتل و غارت،لڑکیوں کی سمگلنگ اور کڈنیپنگ۔۔۔یہ سب بہت عرصے سے چل رہا تھا مگر تمہیں کبھی خبر ہی نہی ہوئی۔

ان سب میں ان کی مدد باسط کرتا تھا جو یونیورسٹیز اور کالجیز کے ٹین ایجرز کو اس بری عادت میں ڈالتا اور پھر ان سے بھی اسمگلنگ کرواتا۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے سمیر؟

مجھے لگتا ہے میں آج پاگل ہو جاوں گی۔

ایک طرف رشتوں کا اتنا بھیانک چہرہ اور دوسری طرف یہ سب۔۔۔کیسے سنبھالوں گی میں یہ سب۔

تمہیں سب سنبھالنا ہو گا زرتشہ!

“تم میجر سمیر کی بیوی ہو،تمہیں بہادر بننا ہو گا پہلے کی طرح۔۔۔

تمہاری بہادری نے ہی تو مجھے مجبور کیا تم سے محبت کرنے کے لیے۔۔۔سنبھالو خود کو میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔

زرتشہ نے آنسو سے بھیگی پلکیں اٹھا کر سمیر کی طرف دیکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے مسکرا دی۔

سمیر بھی مسکرا دیا۔

باسط کی سچائی تو دیکھ ہی لی ہو گی تم نے میرے کمرے میں اگر اس دن میں تم سے نکاح نہی کرتا تو باسط تمہیں کڈنیپ کروا کر تمہارا بھی سودا کروانے والا تھا۔

اور وہ لڑکیوں کو ایسے ہی نہی بیچتے ان کا نکاح کروا دیتے ہیں تا کہ اگر ان کے گھر والے ان تک پہنچ بھی جائیں تو وہ نکاح نامہ دکھا کر ان کو یہ کہہ سکیں کہ ان کی بیٹی اپنی مرضی سے ان کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی لڑکی پہلے سے شادی شدہ ہو تو ایسی لڑکی ان کے کسی کام کی نہی ہوتی۔اسے یا تو یہ لوگ مار کر اس کے عضا بیچ دیتے ہیں یا پھر اپنے ساتھ اسی کام میں ملوث کر لیتے ہیں۔

کیونکہ باسط کا فون میں نے ہینک کیا تھا تو اسے تمہارے بارے میں کسی سے بات کرتے سن لیا اور اسی دن تم سے نکاح کرنے کا سوچ لیا۔

مگر جیسا سوچا تھا ویسا نہی ہو سکا۔۔۔باسط خود وہاں آ گیا تمہارے ساتھ۔

تمہیں میرے بارے میں مزید بد گمان کر رہا تھا وہ۔

اس سے پہلے کہ میں تمہیں کھو دیتا مجھے اسی وقت نکاح کرنا پڑا۔

سمیر لیکن تم نے یہ کیوں کہا تھا کہ باسط کا نکاح مجھ سے ہو گا؟’اگر وہ مان جاتا تو؟

ایسا نہی ہو سکتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ کبھی یہ نکاح نہی کرے گا۔

اپنی بہنوں کی مرضی کے بغیر وہ کوئی کام نہی کرتا اور اس کی بہنیں اس شادی سے کبھی راضی نہی تھیں۔

ان کا مقصد تو بس تم سے جائیداد اپنے نام کروا کر تمہیں کسی سے نکاح کروا کر اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت کروانا تھا۔

جو میں کبھی نہی ہونے دے سکتا تھا۔

میں تمہیں سب سچ بتا کر اپنے گھر میں یہ نکاح کرنا چاہتا تھا مگر ایسا نہی ہو سکا۔

اس کے بعد مجھے ایمرجنسی جانا پڑ گیا۔میرے وہم وگمان میں بھی نہی تھا کہ تم اپنے گھر واپس چلی جاو گی۔

آخر ایک ہفتے بعد مجھے نازیہ۔۔۔میرا مطلب میجر زویا اذنان کی کال آئی اور انہوں نے مجھے بتایا تمہارے بارے میں۔

تو پھر کیا۔۔۔آنا پڑا مجھے جناب کو لینے۔

وہ گھنٹوں کے بل زرتشہ کے سامنے بیٹھ گیا۔

اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔

“تو کیا معاف کر دیا اپنے اس نادان دیوانے کو؟

نہی۔۔۔۔زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔

اچھا۔۔۔اگر معاف نہی کیا تو گاوں سے واپس آتے ہوئے سارے راستے آنسو کیوں بہا رہی تھی؟

تم نے کب دیکھا مجھے روتے ہوئے زرتشہ حیران ہوتے ہوئی بولی۔

سمیر مسکرا دیا۔

وہ اس لیے کہ ڈرائیور کو سب نظر آتا ہے اور بیک مرر میں مجھے تمہارا رونی صورت صاف نظر آ رہی تھی۔

تمہارے آنسو مجھے اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے۔

مگر اس وقت میں مجبور تھا۔یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ واقعی تم نے مجھے معاف کر دیا یا نہی۔

تمہارا بار بار میرا نمبر ڈائل کرنا اور آنسو بہانا مجھے اسی وقت یقین ہو چکا تھا کہ تم نے معاف کر دیا ہے مجھے۔

اس کے بعد مجھے واپس مشن پر جانا پڑا۔

اب ہمارے لیے باسط کی گرفتاری بہت ضروری ہو چکی تھی۔

اس وقت ہم سب یونٹ پر تھے اور باسط کے ایک ساتھی سے پوچھ گچھ میں مصروف تھے کہ میجر زویا وہاں آئی اور مجھے بتایا کہ میرے لیے ایک بری خبر ہے۔

میں کچھ دیر بعد فری ہوا تو ان کو کال کی تو پتہ چلا کہ تمہارے بھائی تمہیں گھر لے گئے ہیں۔

میں اسی وقت باسط کے پاس پہنچا۔کیونکہ میرا فون بند ہونے کی وجہ سے باسط کی وہ کال نہی سن سکا جس میں اس نے خضر کو کال کی اور ہمارے نکاح کے باررے میں بتایا تھا۔

مگر میجر زویا کو باسط پر شک تھا اور مجھے پورا یقین تھا کہ یہ کام باسط کا ہی ہے۔

باسط کو کسی طرح ہاسٹل سے یونٹ تک لانا تھا ہمیں اور مجھے بہت غصہ بھی تھا اس پر تو اسی وقت ہاسٹل پہنچا اور اس سے ہاتھا پائی کرتے ہوئے اسے بے ہوش کر دیا میں نے۔

فیصل اور نوید اسے ہاسپٹل لے جانے کے بہانے اسے یونٹ لے گئے۔

مار پیٹ اور چند گھنٹوں کی بھوک پیاس کے نتیجے میں باسط نے اپنا منہ کھول ہی دیا۔

خضر،بشر اور اپنی دونوں کی ساری پول اس نے خود کھول دی۔

ہمارا پلان تھا صبح آنے کا مگر میں صبح تک انتظار نہی کر سکتا تھا تو رات میں ہی آ گیا تمہارے پاس۔

باقی سب تو یاد ہے تمہیں۔۔۔

اب تم آرام سے بیٹھو گھر میں،ناشتہ کر لینا۔

میں کچھ دیر تک واپس آ جاوں گا۔

مشن کامیاب ہو چکا ہے اور میرا ابھی جانا بہت ضروری ہے۔

وہ زرتشہ کو حیران کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

زرتشہ بس حیران سی اسے جاتے دیکھتی رہ گئی۔

اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہی تھا کہ اس وقت سمیر گاڑی چلا رہا تھا۔

چٹکی بجنے کی آواز پر زرتشہ نے چونک کر اوپر دیکھا۔

سمیر پھر سے اس کے سامنے تھا۔

میں نے کہا تھا کہ تھا کہ ناشتہ کرو اور تم ابھی تک یہی بیٹھی ہو۔

میں بس جا ہی رہی تھی۔۔۔زرتشہ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی سمیر نے اسے بازو سے تھام کر رخ اپنی جانب کیا۔

“میں ہمیشہ ساتھ ہوں تمہارے،،

آج کے بعد یہ اداسی نظر نا آئے مجھے،وہی پہلے والی ہنستی مسکراتی زرتشہ واپس چاہیے مجھے وہ جو بات بات پر مجھ پر پانی الٹ دے۔

سمیر کی آخری بات پر زرتشہ مسکرائے بغیر نا رہ سکی۔

بس یہی والی مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں میں ہمیشہ وہ آگے بڑھا اور زرتشہ کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے واپس پلٹا۔

زرتشہ حیران رہ گئی سمیر کی اس حرکت پر۔۔۔سمیر مسکرا دیا۔

جلدی واپس آ رہا ہوں میں۔۔۔وہی دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے کمرے سے باہر نکل گیا۔

زرتشہ بھی مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

سارا گھر ویران سا ہو گیا۔زرتشہ اداسی میں اپنے لیے ناشتہ بنا کر کمرے میں واپس آ گئی۔

بہ مشکل آدھا پراٹھا ہی کھا سکی وہ۔۔۔آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہی لے رہے تھے۔

یہ سب جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا آسان نہی تھا۔

وہ بھائی جن کے ساتھ میرا بچپن گزرا وہ کیسے میرے دشمن بن سکتے ہیں۔

ہماری مائیں الگ تھیں مگر باپ تو ایک ہی تھا ناں۔۔ایک ہی باپ کی اولاد تھے ہم تو پھر کیوں لالہ۔۔؟

کیوں؟

کیوں کیا آپ سب نے میرے ساتھ ایسا؟

مجھ سے ماں کی محبت چھین لی اور بابا کے بعد آپ دونوں ہی میرے لیے ماں اور بابا تھے۔

یہ حق بھی چھین لیا مجھ سے۔۔۔میں آپ سب کو کبھی معاف نہی کروں گی۔

*****************************************

“میجر سمیر صاحب نہی آئے ہمارے ساتھ؟

گاڑی چلاتے ہوئے اذنان نے زویا سے سوال کیا۔

مگر زویا نے کوئی جواب نہی دیا الٹا منہ دوسری طرف موڑ لیا۔

زویا کچھ پوچھا ہے میں نے یار!

اب کی بار اذنان کا لہجہ تھوڑا اچھا تھا۔

آخ کو اس بات سے مطلب میجر اذنان؟

زویا روٹھے روٹھے سے لہجے میں بولی۔

مطلب تو ہے میری مسز کی اتنی محنت لگی ہے اس مشن میں۔۔۔میرا مطلب سمیر کو زرتشہ سے ملانے میں۔۔آخری بات پر اذنان اپنی ہنسی نا روک سکا۔

آپ مزاق بنا رہے ہیں میرا؟

ارے نہی نہی میں تو یہ کہہ رہا تھا بہت اچھا کام کیا ہے میری وائف نے،میں بہت خوش ہوں۔

Oh really?

زویا کو جیسے شاک لگا۔

جی میں بہت خوش ہوں اور مشن بھی مکمل ہوا۔

FinALLY۔…یہ مشن ختم ہو ہی گی

مگر میں زرتشہ کو لیے بہت دکھی ہوں۔

اس کے ساتھ جتنا بھی وقت گزرا بہت اچھا گزرا ہے میرا،وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔

اس کے بھائیوں کی اصلیت سامنے آنے پر وہ ٹوٹ چکی ہے۔

Don’t worry zoya!

سمیر ہے اس کے ساتھ۔۔۔وہ سنبھال لے گا۔

وہ خود بہت اچھا انسان ہے،بس تھوڑا اکڑو ہے مگر محبت انسان کو بدل دیتی ہے اور میں یہ بدلاو سمیر میں دیکھ بھی چکا ہوں۔

امید ہے ان کی آنے والی زندگی خوشیوں سے بھری ہو۔

آمین۔۔۔زویا نے دل سے آمین بولا۔

جو بھی ہو سمیر اپنا کام بہت لگن سے کرتا ہے ہر مشن پورے دل سے مکمل کرتا ہے۔

اتنی آسانی سے اپنا رہن سہن بدلتا ہے کہ کوئی دیکھنے والا سوچ بھی نہی سکتا کہ یہ ایک آرمی آفیسر ہے۔

بس اس کی یہی ادا مجھے بہت پسند ہے اسی لیے تو ہر بار اسی کے ساتھ مشن پر نکلتا ہوں۔

پہلے تو آپ بہت خلاف ہو رہے تھے میرے اب کیسے سمجھ لگی آپ کو؟

وہ اس لیے کہ میں نے جب ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا اور زرتشہ کے لیے سمیر کی فکرمندی دیکھی تو احساس ہوا کہ میری زویا نے دودلوں کو ملا کر بہت اچھا کام کیا ہے۔

اذنان نے اس کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔

زویا نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

میجر صاحب ڈرائیونگ پر دھیان دیں یہ رومانس کا وقت نہی ہے۔

زویا کی بات پر اذنان مسکرا دیا مگر زویا کا ہاتھ پھر سے تھام لیا۔

اب کی بار اس نے ہاتھ واپس نہی کھینچا۔۔دونوں خوشی خوشی اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے تھے۔

******************************************

ظہر کا وقت ہو چکا تھا اور سمیر ابھی تک واپس نہی آیا تھا۔

زرتشہ اکیلی بیٹھ بیٹھ کر اکتا چکی تھی۔

وضو کرنے کے بعد نماز ادا کی اور نیچے صحن میں آ کر بیٹھ گئی سمیر کے انتظار میں۔

کچھ دیر بعد ہی گیٹ پر دستک ہوئی۔

زرتشہ ڈرتی ہوئی گیٹ تک پہنچی۔

کککون۔۔۔۔؟

بہ مشکل اتنا ہی بول سکی۔

سمیر۔۔۔دوسری طرف سے سمیر کی آواز پر زرتشہ نے سکھ کا سانس لیا اور دروازہ کھول دیا۔

سمیر مسکراتے ہوئے اندر آیا اور زرتشہ نے گیٹ بند کر دیا۔

تیار ہو جاو زرتشہ ہمیں نکلنا ہے ابھی،وہ تھکا تھکا سا صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

کہاں جانا ہے ہمیں؟

زرتشہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔

ارے بھئی اپنے گھر جانا ہے اور کہاں!

اماں کو کال کر دی ہے وہ سب ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

جلدی کر لو بہت لمبا سفر ہے یار اور واپسی پر یونیورسٹی سے تمہارا سامان بھی لینا ہے۔

میرا سامان لیکن کیوں سمیر؟

گھر کیوں جانا ہے میں ہاسٹل میں رہ لوں گی۔بار بار اچھا نہی لگتا۔

impossible…!

کوئی ضرورت نہی ہاسٹل جانے کی۔۔۔کیوں اچھا نہی لگتا زرتشہ؟

وہ تمہارا گھر ہے اچھا برا لگنے والی تو کوئی بات ہی نہی۔

لیکن سمیر۔۔۔۔!

کیا سمیر؟

جتنا کلا ہے اتنا کرو،چپ چاپ جا کر تیار ہو جاو اور کچھ نہی سننا چاہتا میں،انداز حکمانہ تھا۔

لیکن میری پڑھائی کا کیا ہو گا؟

میں پڑھنا چاہتی ہوں سمیر۔

تو پڑھو ناں کس نے روکا ہے پڑھنے سے مگر اب تم ہاسٹل میں نہی رہو گی۔

گھر بیٹھ کر پڑھنا جو دل چاہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو جائے گا تمہارا’گھر بیٹھ کر اسائمنٹس بنا کر سینڈ کرو آن لائن لیکچرز دیکھو اور پھر بھی کوئی پرابلم ہو تو میں حاضر ہوں۔

حنا بھی وہی سے ایف اے کر رہی ہے۔اس کو جوو مدد چاہیے ہو میں کرتا ہوں،تمہاری بھی کر دیا کروں گا۔

اب تو کوئی مسلہ نہی ہے ناں؟

نہی۔۔۔زرتشہ غصے سے پیر پٹختی اوپر چلی گئی۔

سارے کپڑے تو ہاسٹل لے گئی ہوں میں اب یہ تو فنکشنز والے سوٹ ہیں یہ کیسے پہنوں میں۔۔اف۔۔کیا مصیبت ہے۔

زرتشہ الماری کھولے پریشان سی کھڑی تھی۔

آخر کار ایک ہلکے سے کام والا کالا سوٹ پہن کر نیچے چلی آئی۔

اسے آتے دیکھ سمیر مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔

Black color waooo…

میرا فیورٹ کلر میری مسز پر بہت اچھا لگا رہا ہے۔

وہ چند لمحوں کے لیے زرتشہ کے چہرے میں کھس سا گیا۔

اس کی جھکیں لمبی گھنی پلکیں۔۔آنکھیں بنا کاجل کے ہی بہت گہری تھیں اور بلش کرتے گال۔۔۔وہ بنا میک اپ کیے بہت پیاری لگ رہی تھی۔

سمیر پلکیں جھپکائے بنا دیکھتا رہ گیا۔

آج سے پہلے شاید کبھی اتنے غور سے دیکھا ہی نہی اس نے زرتشہ کو یا پھر زرتشہ کو کالا رنگ بہت سوٹ کرتا ہے وہ فیصلہ نہی کر پا رہا تھا۔

کیا ہوا؟

ابھی تو کہہ رہے تھے جلدی کرو اور اب ہلنے کا نام ہی نہی لے رہے۔

ہاں وہ میں کہہ رہا تھا کہ۔۔۔کہ۔۔۔کہ۔۔دروازے وغیرہ اچھی طرح بند کر دو۔

اب ہمیں دوبارہ یہاں نہی آنا۔

کیوں نہی آنا ہمیں دوبارہ یہاں۔۔؟

یہ میرا گھر ہے میرے بابا کا گھر ہے۔۔زرتشہ آنسو بہانے لگی۔

وہ اس لیے کہ اب یہاں کوئی ہے نہی ہمارا۔۔۔جب جب یہاں آئیں گے پرانے زخم پھر سے تازہ ہو گے۔

گاڑی میں بیٹھو میں آ رہا ہوں۔

سمیر کے کہنے پر بھی زرتشہ وہی کھڑی آنسو بہاتی رہی۔

زرتشہ میں نے کہا گاڑی میں بیٹھو جا کر۔۔اب کی بار اس کا لہجہ تھوڑا سخت تھا۔

وہ آنسو پونچھتی ہوئی ایک آخری نظر گھر پر ڈالتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئی۔

سمیر سارے دروازے اور کھڑکیاں بند کرتے ہوئے چابیاں اٹھائے باہر کی طرف بڑھا۔

زرتشہ گاڑی سے ٹیک لگائے آنسو بہا رہی تھی۔

اف یہ لڑکی پاگل ہے مجھ سے گاڑی کی چابیاں تو لے جاتی۔

اس نے گیٹ بند کر دیا اور زرتشہ کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔سمیر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔

کچھ دیر بعد گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے باہر روکی دونوں نے وہاں سے کھانا کھایا اور سفر پر روانہ ہو گئے۔

کافی دیر تک گاڑی میں خاموشی رہی آخر اس خاموشی کو سمیر کی آواز نے ختم کیا۔

I love you””’

زرتشہ نے چونک کر سمیر کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔

سمیر بھی مسکرا دیا اور زرتشہ کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر سینے سے لگا لیا۔

دونوں مسکرا دئیے۔

سہانا لگے ہر سفر

توں جو ساتھ ہے

نہی منزل کی فکر

توں جو ساتھ ہے

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *