Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 11)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 11)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
آخر کار کئی گھنٹوں کی لمبی مسافت طے کرنے کے بعد وہ لوگ ہوسٹل پہنچ ہی گئے۔
زرتشہ اٹھو۔۔۔سمیر نے اسے پکارا جو بڑے سکون سے سمیر کندھے پر سر ٹکائے سو رہی تھی۔
زرتشہ ٹس سے مس نا ہوئی۔
سمیر نے اس کا سر ایک ہاتھ سے ہٹایا اور دوسرے ہاتھ سے پانی کی بوتل اٹھائی اور بوتل میں بچا پانی اس کے منہ پر الٹ دیا۔
زرتشہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے سمیر؟
بدتمیزی نہی ہے تمہیں جگا رہا تھا پچھلے چار گھنٹوں سے تم میرے کندھے کو تکیہ سمجھ کر سو رہی تھی۔
میں اور تمہارے کندھے پر سر رکھ کر سو رہی تھی۔یہ نہی ہو سکتا۔
زرتشہ غصے سے چلائی۔
یہ سچ ہے زرتشہ۔۔۔۔نیلم مسکراتے ہوئے بولی۔
ہاں میں نے بھی دیکھا تھا’نازیہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
زرتشہ نے پہلے ان دونوں کو اور پھر سمیر کو گھورا اور گاڑی سے باہر نکلنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سمیر نے اسے ٹوک دیا۔
کہاں چلی مسز؟
کیا مطلب کہاں چلی۔۔۔ہوسٹل جا رہی ہوں۔
مجھ سے اجازت لی؟
اچھا۔۔۔تو اب مجھے ہر کام کے لیے تم سے اجازت لینی پڑے گی؟
زرتشہ کو جیسے صدمہ لگا۔
جی۔۔۔سمیر نے نہایت ادب سے جواب دیا۔
بہت بھوک لگی ہے چلو کھانا کھائیں۔
نازیہ کی بات پر سمیر نے اسے گھورا۔۔۔تمہاری دوست اور اپنی بیوی کو کھانا میں خود کھلا دوں گا۔بس میری جیپ آ جائے پھر تم دونوں زرتشہ کا بیگ ہوسٹل لے جانا اور ہمارا انتظار مت کرنا کرنا ہم کل تک واپس آ جائیں گے۔
لیکن کہاں لے کر جا رہے ہو تم زرتشہ کو؟
نیلم بولے بنا نا رہ سکی۔
سسرال۔۔۔
سمیر نے مختصر جواب دیا۔
اوہ۔۔۔سہی ہے جاو خیریت سے تم دونوں،وہ دونوں مسکرا دیں۔
“میں تمہارے ساتھ کہی نہی جا رہی سمیر مجھے ہوسٹل جانے دو۔
اب بہت ہو گیا مزید میں تمہاری کوئی بات نہی ماننے والی۔
میری بات مانو یا نہ مانو مجھے منوانی آتی ہے۔
لو آ گئی میری جیپ۔۔۔چلو اپنا بیگ لو اور میرے ساتھ چلو۔
نہی میں نہی جاوں گی تمہارے ساتھ!
زرتشہ مسلسل ضد پر اٹکی ہوئی تھی۔
سمیر گاڑی سے باہر نکل کر زرتشہ کی طرف آیا دروازہ کھول کر اس کا بازو تھامتے ہوئے گاڑی سے باہر نکالا اور جیپ کی طرف بڑھ گیا۔
زرتشہ تمہارا بیگ۔۔۔جیسے ہی زرتشہ جیپ میں بیٹھی نیلم نے مسکراتے ہوئے اس کا بیگ اس کی طرف بڑھایا۔
زرتشہ نے اسے گھورا۔۔۔تم لوگ میری دوست نہی دشمن ہو۔
سمیر نے جیپ سٹارٹ کر دی۔
نازیہ اور نیلم نے اسے ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔
یہ بہت غلط بات ہے سمیر تم یہ سب ٹھیک نہی کر رہے اگر کسی نے مجھے یہاں سے تمہارے ساتھ جاتے ہوئے دیکھ لیا تو اچھا نہی ہو گا۔
کچھ نہی ہو گا تم کچھ زیادہ ہی ڈرتی ہو۔
اب تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے’تم میری بیوی ہو یہ بات یاد رکھو۔
کسی کی ہمت نہی کہ میری عزت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔
سمیر کا لہجہ بہت سنجیدہ تھا۔
ایک پل کے لیے زرتشہ اس کی بات کو محسوس کرنے لگی۔جیسے کوئی اپنا ہو۔
کوئی ہمت دے جینے کی۔۔۔لیکن بس چند پل کے لیے اگلے ہی لمحے اسے ماضی کی تلخیوں نے آن گھیرا۔
“اپنی عزت کو کوئی سرعام نیلام نہی کرتا،تم نے مجھے سب کے سامنے ٹارچر کیا میری کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور ایسے شخص سے میں کسی قسم کی توقع نہی رکھ سکتی،،
“مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تم مگر یہ بھول گئے کہ محبت کی پہلی شرط”عزت” ہوتی ہے۔جو تم نے مجھ سے چھین لی ہے،،
پوری یونیورسٹی میں میرا تماشہ بنا کر رکھ دیا اور کہتے ہو میں تمہاری عزت ہوں۔۔ہونہہ
رہنے دو سمیر ایسی عزت مجھے نہی چاہیے جو مجھے میرے اپنوں سے دور کر دے۔
بہتر یہی ہے کہ تم مجھے یونیورسٹی چھوڑ دو اور مجھے بھی چھوڑ دو۔
اس تعلق کو یہی ختم کر دو۔میں اپنے گھر واپس چلی جاوں گی۔
سمیر نے اس کی کسی بات کا جواب نہی دیا’زرتشہ کی باتوں پر اسے شدید حیرت ہوئی۔اس نے جیپ سڑک کے کنارے روک دی۔
چند پل بے یقینی سے زرتشہ کو دیکھتا رہا۔
“میری محبت ہو تم بس اتنا جانتا ہوں میں،تمہیں حاصل کرنے کا میرا طریقہ غلط تھا مگر میری نیت میں اور میری محبت میں کوئی کھوٹ نہی ہے،،
تم میرا یقین کرو یا نا کرو تمہاری مرضی!
مگر یہ تعلق میں ختم نہی کر سکتا۔۔۔بس آج آخری بار تم سے مل رہا ہوں۔
ایک بار میرے گھر والوں سے مل لو اور پھر تمہاری مرضی جو تم چاہو گی وہی ہو گا۔
یہ تعلق میرے مرنے کے بعد ہی ختم ہو گا بس یہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔!
زرتشہ سوچوں کے سمندر میں ڈوبی سمیر کو دیکھنے لگی مگر سمیر نے دوبارہ اس کی طرف نہی دیکھا۔
اس نے پھر سے جیپ سٹارٹ کر دی اور جیپ کی رفتار بڑھا دی۔
دو گھنٹے بعد جیپ ایک گاوں میں داخل ہو گئی۔ہر طرف لہلہاتے کھیت،خوبصورت باغ،ہلکا ہلکا سا اندھیرا چھانے لگا۔
سورج غروب ہونے والا تھا۔کسان اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے۔
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی،ایک پل کے لیے تو زرتشہ اس منظر میں کھو سی گئی۔
سمیر کے ہارن دینے پر گیٹ کھول دیا گیا۔جیپ گیٹ سے اندر داخل ہوئی اور گیٹ کیپر نے جلدی سے گیٹ بند کر دیا۔
گھر آ گیا چلیں اندر؟
سمیر کی آواز پر زرتشہ چونک کر جیپ سے نیچے اتر گئی۔
سمیر کا لہجہ اب بھی سنجیدہ تھا۔
وہ اپنا بیگ اٹھائے اور ڈوپٹہ اچھی طرح سر پر سیٹ کرتی ہوئی سمیر کے ساتھ چلتی گئی۔۔۔یہ گھر کا پچھلا گیٹ تھا۔
وہ دونوں چلتے ہوئے گھر کے اگلے حصے کی طرف بڑھے جہاں سب لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھی۔
سمیر بھائی۔۔۔ایک لڑکی بھاگتی ہوئی سمیر کی طرف بڑھی۔
یہ میری چھوٹی بہن ہے حنا ہے۔۔۔سمیر اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
اور حنا یہ۔۔۔
یہ میری زرتشہ بھابی ہیں ناں بھائی۔۔۔آپ کو بتانے کی ضرورت نہی ہے۔یہ تو بلکل ویسی ہی ہیں جیسا آپ نے بتایا تھا۔۔میرا مطلب بہت پیاری ہیں۔اس سے پہلے کہ سمیر زرتشہ کا تعارف کرواتا وہ خود ہی سب کچھ بولتی چلی گئی۔
وہ زرتشہ کے گلے لگ گئی۔۔۔بھابی کیسی ہیں آپ؟
ہم سب آپ دونوں کا ہی انتظار کر رہے تھے صبح سے۔
زرتشہ نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔
سمیر کے والدین بھی وہاں آ پہنچے۔۔سمیر ان کی طرف بڑھا۔۔۔سمیر سے مل کر وہ دونوں ایک ساتھ زرتشہ کی طرف بڑھے۔
زرتشہ بہت جھجک رہی تھی اسے یہ سب کچھ بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔
سمیر کے والد نے آگے بڑھ کر زرتشہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دئیے۔
اس کے بعد سمیر کی امی آگے بڑھیں اور اسے گلے سے لگا لیا۔
زرتشہ کے لیے یہ سب کچھ نیا سا تھا۔ماں کے پیار تو اس نے کبھی محسوس ہی نہی کیا تھا اور اسے نہی یاد کہ بابا کے گزرنے کے بعد کسی نے اس طرح اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ہو۔
انہوں نے زرتشہ کا ماتھا چوما اور اسے لیے اندر کی طرف بڑھی۔
آو بیٹا اندر چلو۔۔۔
زرتشہ ان کے ساتھ اندر کی طرف چل پڑی۔۔اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔
اس نے سمیر کی طرف دیکھا مگر وہ اپنی بہن کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔
حنا نے جب سے زرتشہ کو دیکھا بس اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی۔
سمیر مسکراتے ہوئے اس کی باتوں کے جواب دیتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔
حنا جاو بھابی کو اس کے کمرے میں لے جاو منہ ہاتھ دھو لے میں کھانا لگاتی ہوں۔
جی اماں۔۔
حنا خوشی خوشی زرتشہ کو ساتھ لیے سمیر کے کمرے کی طرف بڑھی۔
بھابی یہ رہا آپ کا کمرہ۔۔۔۔۔ِِ
لیکن یہ تو سمیر کا کمرہ ہے۔میں کیسے یہاں رہ سکتی ہوں؟
ارے بھابی اب بھائی کا کمرہ ہی آپ کا کمرہ ہے۔بھول گئی کیا آپ؟
آپ کا نکاح ہوا ہے میرے بھاِئی سے۔۔
ہوا نہی زبردستی کروایا ہے تمہارے بھائی نے۔۔زرتشہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔
ہاں مگر ابھی شادی تو نہی ہوئی ناں تم مجھے بھابی مت بولو حنا مجھے تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔
اس کی بات پر حنا نے قہقہ لگایا۔
نا بابا یہ مجھ سے نہی ہو گا۔آپ میری اکلوتی بھابی ہیں۔آپ کو بھابی نہی بولوں گی تو اور کس کو بولنا ہے اور جہاں تک کمرے کی بات ہے تو آج اس کمرے میں آپ رہیں گی اور بھائی کے لیے دوسرا کمرہ سیٹ کروا دیا ہے اماں نے۔
شکر ہے۔۔زرتشہ نے سکھ کا سانس لیا۔
تو ٹھیک ہے بھابی آپ ہاتھ منہ دھو کر نیچے آ جائیں تب تک میں اماں کی مدد کروا دوں کھانا لگانے میں۔
زرتشہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تو حنا کمرے سے باہر نکل گئی۔
زرتشہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔بعد میں کمرے میں ہی بیٹھ گئی۔
کسی کے انتظار میں تھی کہ کوئی آئے تو اس کے ساتھ نیچے جائے اسے خوامخواہ جھجک سی محسوس ہو رہی تھی۔
آخر کچھ دیر بعد سمیر کمرے میں داخل ہوا۔
زرتشہ سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔
سمیر کی آواز پر وہ صوفے سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی۔
پتہ نہی کیوں تم مجھے اپنے گھر والوں سے ملوانے لے آئے ہو ہمارا رشتہ کوئی اتنا خاص تو نہی ہے اور کیا تمہارے ماں باپ جانتے نہی تم نے کس طرح نکاح کیا ہے مجھ سے۔
کمال ہے بیٹے کو کچھ کہا ہی نہی انہوں نے۔۔کیسا زمانہ آ گیا ہے۔
“بیٹی پسند کی شادی کرے تو گناہ اور بیٹا کرے تو غلطی سمجھ کر معاف کر دیا جاتا ہے،،
زرتشہ چلتی ہوئی منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی جا رہی تھی۔
دونوں ڈائیننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔
آو بیٹا کھانا شروع کرو’ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔
سمیر کی امی زرتشہ کے لیے پلاو پلیٹ میں ڈالنے لگیں۔یہ لو بیٹا جتنا دل چاہے کھاو۔
سب کچھ ہے جو اچھا لگے کھاو۔
وہ مسکرا کر زرتشہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتی ہوئیں واپس اپنی کرسی پر چلی گئیں۔
سب نے کھانا شروع کر دیا۔
زرتشہ نے سمیر کی طرف دیکھا مگر وہ سر جھکائے کھانا کھانے میں مصروف تھا۔
زرتشہ اپنی اتنی آو بھگت پر شرمندہ سی ہو رہی تھی۔
بھابی کچھ چاہیے؟
زرتشہ کو سمیر کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو حنا بول پڑی۔
حنا کی بات پر سمیر نے سر اٹھا کر زرتشہ کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا کچھ چاہیے۔۔۔۔؟
سمیر نے سوال کر ڈالا۔
جی وہ دراصل مجھے مٹن سے الرجی ہے تو میں یہ پلاو نہی کھا سکتی اگر کچھ اور میرامطلب سبزی بنی ہے تو۔۔۔زرتشہ شرمندہ سی بول رہی تھی۔
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہی سب کچھ بنا ہے یہ رہی سبزی۔۔۔بنا جھجک بتاو بیٹا جو بھی کھانا ہے۔
یہ تمہارا اپنا گھر ہے شرمانے کی ضرورت نہی ہے۔
زرتشہ نے مسکراتے ہوئے سالن کا باول اپنی طرف کیا اور کھانے میں مصروف ہو گئی۔
کھانا کھانے کے بعد سمیر اپنے بابا کے ساتھ باہر لان میں چلا گیا جبکہ حنا برتن سمیٹنے میں مصروف ہو گئی۔
زرتشہ نے اس کا ہاتھ بٹانا چاہا مگر سمیر کی والدہ نے اسے منع کر دیا۔
زرتشہ چپ چاپ ٹی وی لاونج میں بیٹھ گئی۔
یہ سب کچھ اچھا بھی لگ رہا ہے اور عجیب بھی۔اگر کسی کو میرے ہوسٹل سے غائب ہونے کا پتہ چل گیا تو قیامت آ جائے گی۔
یہ سب ٹھیک نہی ہے مجھے جلد از جلد ہوسٹل پہنچنا ہو گا۔
سمیر سے بات کرنی پڑے گی مگر اس کے تو مزاج ہی نہی مل رہے۔
اتنا روکھا سا رویہ ہے آج اس کا میرے ساتھ۔
خیر جو بھی ہو مجھے سمیر سے بات کرنی ہی ہو گی۔
میں مانتی ہوں کہ یہ سب بہت اچھے ہیں مگر میں یہاں نہی رک سکتی۔
آئیں بھابی آپ کو کچھ دکھاوں۔۔حنا کی آواز پر وہ سوچوں کے سمندر سے باہر نکلی اور اس کے ساتھ چل دی۔
آئیں بھابی یہ میرا کمرہ ہے آپ بیٹھیں یہاں آپ کو کچھ دکھاتی ہوں۔
وہ زرتشہ کو بیڈ پر بٹھاتی ہوئی الماری کی طرف بڑھی۔
یہ دیکھیں بھابی ہماری بچپن کی یادیں۔۔وہ ایک موٹا سا فوٹو البم لے کر زرتشہ کی طرف بڑھی۔
یہ بھائی کی بچپن کی تصویریں ہیں۔۔یہ دیکھیں ہم مری گئے تھے۔
یہ ہم لوگ چاچو کی شادی پر گئے تھے۔
یہ دیکھیں یہاں بھائی سب کزنز کے ساتھ ہیں۔
اور یہ ہیں سکول سے لے کر یونیورسٹی تک کی تصویریں حنا نے ایک دوسرا البم اس کی طرف بڑھایا۔
مگر یونیورسٹی لائف تو ابھی چل رہی ہے ناں سمیر کی۔۔۔زرتشہ چونک کر بولی۔
جی بھابی آپ یہ دیکھیں میں آتی ہوں۔
اماں آواز دے رہی ہیں مجھے۔۔۔وہ عجلت میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
تب ہی سمیر کمرے میں داخل ہوا۔زرتشہ کے ہاتھ میں البم دیکھ کر اس کی طرف بڑھا اور اس کے ہاتھ سے البم لے لیا۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے یہ حنا کے سارے کام الٹے ہی کیوں ہوتے ہیں۔
وہ دونوں البم اٹھا کر الماری کی طرف بڑھا۔
ایسا بھی کیا تھا اس البم میں جو تم نے مجھے دیکھنے نہی دیا؟
زرتشہ غصے سے سمیر کے پاس آ رکی۔
زرتشہ کے اچانک سوال پر سمیر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
تم سے مطلب؟
ویسے بھی تمہیں مجھ میں کوئی انٹرسٹ نہی ہے تو میری تصویریں کیوں دیکھ رہی تھی۔
میں نہی دیکھ رہی تھی تمہاری بہن مجھے خود دکھا رہی تھی۔
تو تم نا دیکھتی۔۔۔آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی۔
میں کیوں کروں ایسا؟
سب جانتی ہوں میں تم نے مجھ سے وہ البم کیوں واپس لیا۔
کیا جانتی ہس تم؟
زرتشہ کی بات پر سمیر چونک کر بولا۔
یہی کہ بچپن میں تم بلکل بھی پیارے نہی تھے۔موٹے موٹے گال اور اتنا بڑا پیٹ ہاہاہاہا۔۔۔زرتشہ ہنس رہی تھی۔
تم میرا مزاق اڑا رہی ہو؟
سمیر کو جیسے افسوس ہوا زرتشہ کے ہنسنے پر۔
ہاں شاید۔۔۔۔زرتشہ بس اتنا ہی بول سکی اور پھر سے ہنسنے لگی۔
گولو مولو۔سو کیوٹ۔زرتشہ آگے بڑھ کر سمیر کے گال کھینچتے ہوئے بولی۔
سمیر کو حیرت کا جھٹکا لگا زرتشہ سے اس حرکت کی امید نہی تھی اسے۔
اس نے زرتشہ کے دونوں ہاتھ تھام لیے اور ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا۔
یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ زرتشہ کی ہنسی کو بریک لگی۔
سمیر یہ کیا بدتمیزی ہے۔
اب بولو کیا کہہ رہی تھی۔اب کھینچوں میرے گال۔
بہت کیوٹ لگتا ہوں ناں میں تمہیں۔۔۔وہ بچپن تھا تب میں پیارا نہی تھا مگر اب کیا خیال ہے میرے بارے میں؟
کیا ہوا چپ کیوں ہو گئی؟
میں تو بس مزاق کر رہی تھی سمیر۔۔۔پلیز چھوڑو مجھے۔
نہی۔۔۔تم پھر سے میرے گال کھینچوں اور بولو گولو مولو۔۔۔جیسے بول رہی تھی۔
سوری میں تو بس مزاق کر رہی تھی تم بچپن میں بہت پیارے تھے۔زرتشہ گھبراتے ہوئے بول رہی تھی۔اسے ڈر تھا کہ کہی حنا نا آ جائے اور سمیر کی اتنی قربت۔۔۔اسے اہنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔
اور اب کیوٹ نہی ہوں کیا؟
نننہہییی سمیر اب بھی بہت ہینڈسم ہو۔اب تو چھوڑ دو مجھے۔
حنا کی آواز پر سمیر نے اسے چھوڑ دیا وہ کچھ بڑبڑاتی ہوئی آ رہی تھی۔
زرتشہ تیزی سے اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی اور سمیر صوفے کی طرف بڑھ گیا۔
بھائی آپ یہاں بیٹھے ہیں اور اماں آپ کو باہر ڈھونڈ رہی ہیں۔
ہاں میں وہ میرا فون نہی مل رہا تھا تو سوچا یہاں دیکھ لوں۔
لیکن فون تو آپ کے ہاتھ میں ہے بھائی۔۔۔پتہ نہی کہاں گُم ہیں آپ۔
فون آپ کے پاس ہے اور آپ یہاں وہاں ڈھونڈ رہے ہیں۔
نہی میرا مطلب تھا چارجر۔۔۔سمیر خود کو ریلیکس ظاہر کرتے ہوئے بولا۔
ہاں چارجر آپ کا تو پتہ نہی لیکن میرا یہاں ہے وہ دے دیتی ہوں آپ کو۔
ہاں جلدی دے دو مجھے ایک ضروری کال آنے والی ہے۔
جی بھائی یہ لیں۔۔حنا نے چارجر اس کی طرف بڑھایا تو وہ ایک نظر زرتشہ پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔
پھر اچانک واپس پلٹا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو حنا جاو زرتشہ کو گھر دکھاو اچھی طرح۔۔یہاں بیٹھ کر فضول تصویریں دکھانے سے بہتر ہے۔
بھائی وہ آپ کی تصویریں تھیں۔۔خیر آپ کو فضول لگتی ہیں تو کیا کہہ سکتی ہوں میں۔
آئیں بھابی میں آپ کو گھر دکھاوں۔۔وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئیں اور سمیر بھی۔
بھابی یہ ساتھ والا گھر چاچو کا ہے ہم صبح ملنے جائیں گے۔
ویسے کوئی ہے جو آپ کو دیکھ کر بلکل خوش نہی ہونے والا۔
کون۔۔۔؟
زرتشہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
وہ دیکھیں آ رہی ہے آفت۔۔۔چاچو کی بیٹی ندا۔
لیکن وہ مجھے دیکھ کر خوش کیوں نہی ہو گی’زرتشہ کو حنا کی بات کچھ عجیب سی لگی۔
کیونکہ وہ بھائی کو پسند کرتی ہے اور بھائی نے آپ سے نکاح کر لیا۔
اسی بات پر جب سے اسے پتہ چلا ہے تب سے سے بات بات پر مجھ سے جھگڑنے لگتی ہے اور چچی کا بھی منہ بنا ہوا ہے۔
یہ لڑکی کون ہے؟
ندا ان کے پاس آ رکی۔
اوہ ندا تم۔۔۔ہاں یہ ہیں میری ۔۔مطلب ہماری بھابی زرتشہ۔
سمیر بھائی کی بیوی۔۔۔اور بھابی یہ ندا ہے میری کزن چاچو کی بیٹی۔
اسلام و علیکم۔۔۔زرتشہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
مگر ندا نے ہاتھ ملانا گوارا نہی کیا۔
سمیر کہاں ہے؟
وہ زرتشہ کو اگنور کرتی ہوئی غصے سے بولی۔
وہ تو اپنے کمرے میں ہیں۔۔حنا کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔
ندا ایک غصیلی نظر زرتشہ پر ڈالتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
زرتشہ نے شرمندگی سے ہاتھ واپس کھینچ لیا اسے ندا بلکل بھی اچھی نہی لگی۔
بہت بدتمیز ہے یہ چھوڑیں آپ اس کو بھابی آپ اپنے کمرے میں جا کر آرام کریں۔
زرتشہ سر ہلاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی سامنے کا منظر دیکھ کر چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
ندا آنسو بہاتے ہوئے سمیر کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی اور سمیر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے کچھ بول رہا تھا۔
زرتشہ کی برداشت بس یہی تک تھی وہ دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر داخل ہو گئی جو اب تک دروازے میں کھڑی چپ چاپ سب دیکھ رہی تھی۔
سمیر نے ندا کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
ندا تم جاو یہاں سے ہم اس بارے میں صبح بات کریں گے۔
نہی۔۔۔آپ لوگ بات کر لیں میں بعد میں آتی ہوں۔زرتشہ غصے سے باہر کی طرف بڑھی۔
سمیر تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔ندا نے سمیر کو زرتشہ کے پاس جاتے دیکھا تو غصے سے وہاں چل پڑی۔
زرتشہ تم جاو کمرے میں آرام کرو۔سمیر اس کا راستہ روکتے ہوئے بولا۔
نہی تم کر لو باتیں جی بھر کر اپنی پرانی محبوبہ سے۔۔زرتشہ پاس سے گزرتی ندا کو دیکھتے ہوئے۔
کیا مطلب پرانی محبوبہ؟
سمیر کو حیرت ہوئی زرتشہ کی بات پر۔
کچھ نہی میں جا رہی ہوں سونے اور پلیز صبح مجھے ہوسٹل چھوڑ دینا مزید یہاں رکنا نہی چاہتی میں۔
وہ غصے سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
سمیر بھی اس کے ساتھ کمرے میں پہنچ گیا بازو سے کھینچتے ہوئے زرتشہ کا رخ اپنی طرف کیا۔
یہ کیا بولا تم نے۔۔۔؟
وہی جو تم نے سنا۔۔ندا تمہاری محبوبہ۔۔تم دونوں شادی کرنا چاہتے تھے ناں؟
کیا بول رہی ہو تم زرتشہ میرا صبر کا امتحان مت لو۔جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہی ہے۔
میں ندا کو چھوٹی بہن کی طرح سمجھتا ہوں اور تم کیا سمجھ بیٹھی ہو۔
وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی میں نہی!
اور اگر مجھے اس سے شادی کرنی ہوتک تو تم سے نکاح نہ کرتا۔
پتہ نہی کیا کیا فضول باتیں سوچتی رہتی ہو تم۔
میں فضول باتیں سوچتی ہوں اور تم جو اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے وہ کیا تھا؟
زرتشہ بس کر دو۔۔میں تو بس اسے سمجھا رہا تھا۔
رہنے دو مجھے مت سمجھاو جاو یہاں سے۔۔۔مجھے سونا ہے۔
ٹھیک ہے جا رہا ہوں میں۔۔۔صبح چھوڑ دوں گا تمہیں یونیورسٹی۔۔جو سمجھنا ہے سمجھتی رہو۔
سمیر غصے سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
زرتشہ بھی کمرے کا دروازہ بند کرتی ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
نیند نہی آ رہی تھی اسے کافی دیر تک سونے کی کوشش کرتی رہی اور پھر کھڑکی کے پاس رک کر آنسو بہانے لگی۔
سامنے لگی سمیر کی تصویر پر نظر پڑی تو منہ دوسری طرف موڑ لیا ایسے جیسے سمیر سامنے ہو۔
تصویر پر کیوں غصہ نکال رہی ہو سامنے ہوں میں مجھ پر نکال لو غصہ۔
سمیر کی آواز پر زرتشہ نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور پھر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
اب رو کیوں رہی ہو؟
ایک تو ہر وقت تم رونے کو تیار رہتی ہو۔
تم جاو یہاں سے مجھے تم سے کوئی بات نہی کرنی۔
تو مت کرو بات مگر یہ رونا بھی بند کر دو۔
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم بھی مجھ سے محبت کرنے لگی ہو۔
ایسا کچھ بھی نہی ہے میں تم سےکبھی محبت نہی کر سکتی۔
تو پھر میرے لیے رو کیوں رہی ہو؟
میں تمہارے لیے نہی رو رہی اپنے آپ کے لیے رو رہی ہوں،اپنی قسمت پر رو رہی ہوں۔
کیا ہوا تمہاری قسمت کو۔۔۔؟
اتنا ہینڈسم ہمسفر لکھا گکا ہے تمہاری قسمت میں اتنا پیار کرنے والے ماں باپ اور ایک چھوٹی بہن مل گئی تمہیں اور کیا چاہیے۔
زرتشہ غصے سے سمیر کی طرف پلٹی۔
تمہیں ہر بات مزاق لگتی ہے ناں سمیر؟
نہی۔۔ہر بات مزاق نہی لگتی مجھے مگر میں غموں کو جھیلنے کا ہنر رکھتا ہوں۔
“میں ہوں تمہارے ساتھ تو تم فکر کیوں کرتی ہو،،
تم ساتھ ہو اسی بات کی تو فکر ہے تم نہی جانتے میرے بھائیوں کو۔۔۔۔وہ غیرت کے لیے سر کاٹ بھی سکتے ہیں اور کٹوا بھی سکتے ہیں۔
زرتشہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ادھر دیکھو میری طرف۔
سمیر نے اس کا بازو تھامتے ہوئے رخ اپنی طرف موڑا مگر زرتشہ نے پھر سے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔
مجھے کوئی بات نہی کرنی تم جاو یہاں سے۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔سمیر غصے سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
(جاری ہے)
