Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 09)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 09)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
وہ تینوں کھانا کھانے کے بعد اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں۔زرتشہ کو بھی زبردستی کھانا کھلا دیا انہوں نے ورنہ زرتشہ کو تو رونے سے ہی فرصت نہی تھی۔
اگلی صبح وہ تینوں یونیورسٹی کے لیے تیار ہو کر اپنے اپنے کمروں سے باہر نکلیں تو زرتشہ ابھی تک سو رہی تھی۔
عافیہ نے آگے بڑھ کر دروازہ ناک کیا مگر کوئی جواب نہی ملا۔
نیلم نے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو ہینڈل گھوم گیا اور دروازہ کھولتا چلا گیا۔
تینوں نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کمرے میں داخل ہو گئیں۔
نا تو زرتشہ کمرے میں تھی اور نا ہی اس کا سامان۔
دروازے کی بیک سائیڈ پر ایک پیپر چپکا ہوا تھا۔
وہ تینوں تیزی سے اس پیپر کی طرف بڑھیں۔
“گھر جا رہی ہوں، میرا نمبر کچھ دنوں تک بند رہے گا ۔
سوری فرینڈز!
میں کچھ دن اکیلی رہنا چاہتی ہوں۔
کیا پتہ کب گھر والوں تک اس نکاح کی خبر پہنچ جائے اور وہ مجھ سے تعلق توڑ دیں۔
اس سے پہلے میں اپنوں کے ساتھ رہ کر ان کی محبتیں بٹورنا چاہتی ہوں۔
پلیز مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش مت کرنا تم لوگ اور میرے گھر آنے کا تو سوچنا بھی مت۔میں نہی چاہتی کہ گھر والوں کو میرے اچانک واپس آنے پر شک ہو۔
تو جیسا چل رہا ہے ویسا چلنے دو اور اپنا خیال رکھنا تم سب۔
مجھے خود کو سنبھالنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔
اگر سمیر میرے بارے میں پوچھے تو سنبھال لینا تم لوگ،اسے میرا نمبر بلکل مت دینا اور بہت جلد میں خود تم سب سے رابطہ کروں گی۔
تب تک کے لیے خدا حافظ۔
زرتشہ خان۔
آخر میں اس نے اپنا نام لکھا ہوا تھا۔
تینوں نے افسوس سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
اس سمیر کو تو میں چھوڑوں گی نہی۔۔۔نیلم غصے سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
نازیہ اور عافیہ بھی اس کے پیچھے چل دیں۔
چھوڑو یار۔۔۔۔زرتشہ کو سنبھلنے میں وقت لگے گا۔
ہمیں سمیر سے پنگا نہی لینا چاہیے۔
نازیہ کی بات پر عافیہ اور نیلم نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔
تم سمیر کی سائیڈ لے رہی ہو؟
نیلم غصے سے چلائی۔
نہی۔۔نہی۔۔میں سمیر کی سائیڈ نہی لے رہی یار۔
میں تو یہ کہہ رہی ہوں کہ کوئی فائدہ نہی ہے اس سے بات کرنے کا۔بلکہ اس کا نقصان ہی ہو گا ہمیں۔
جب ہم اسے زرتشہ کے گھر جانے کا پتہ چلے گا تو وہ ہم سے اس کا نمبر مانگے گا۔
نمبر بند ہو گا تو وہ زرتشہ کے گھر کا پتہ مانگے گا۔
اگر اسے ایڈریس مل گیا تو وہ زرتشہ کے گھر پہنچ جائے گا۔
مطلب زرتشہ کے لیے نئی مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔
اب تم دونوں ہی بتاو کیا میں غلط بول رہی ہوں؟
ابھی تو زرتشہ کے پرانے زخم نہی بھرے اور نئے زخموں کا سامان ہم تیار کرنے والی ہیں۔
ہاں کہہ تو تم سہی رہی ہو،مگر ایسا کب تک چلے گا آخر؟
زرتشہ کو واپس تو لانا ہو گا ناں۔
عافیہ اور نیلم اس کی بات سے متفق ہو چکی تھیں۔
اسے کچھ وقت چاہیے،وہ دکھی ہے ابھی۔
مجھے یقین ہے جلدی واپس آ جائے گی وہ۔
ٹھیک ہے۔۔۔نہی کرتی میں بات سمیر سے چلو اب جلدی دیر ہو رہی ہے ہمیں۔
وہ تینوں یونیورسٹی کی طرف بڑھ گئیں۔
ان کو پورا دن سمیر یونیورسٹی میں نظر نہی آیا۔تینوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔
ایک ہفتہ اسی طرح گزر گیا مگر سمیر یونیورسٹی نہی آیا۔
اب وہ تینوں حیران بھی تھیں اور پریشان بھی۔
زرتشہ سے بھی رابطہ نہی ہو پایا تھا ان کا اور سمیر کا بھی کوئی پتہ نہی چل رہا تھا۔فیصل اور نوید بھی غائب تھے۔
کہی ایسا تو نہی کہ سمیر زرتشہ سے نکاح کر کے اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا ہو۔
یا پھر اس نے کڈنیپ تو نہی کر لیا زرتشہ کو۔
وہ تینوں اپنے ہی اندازے لگائے بیٹھی تھیں مگر حقیقت سے سب انجان تھیں۔
زرتشہ کمرے کی لائٹ بند کرتی ہوئی کھڑکی کے پردے سرکاتی ہوئی نیچے صحن میں دیکھ رہی تھی۔
ابھی ابھی وہ عشا کی نماز ادا کر کے آئی تھی۔
صحن میں لگے بلب سے ہر طرف سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
تب ہی اچانک زرتشہ کی نظر گیٹ سے اندر آتے شخص پر پڑی۔
زرتشہ کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔
نہی۔۔۔ایسا نہی ہو سکتا۔
سمیر تم یہاں نہی آ سکتے۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے سمیر کو دیکھ رہی تھی۔
اسی پل سمیر نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔وہ اس وقت کالی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا۔
چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ زرتشہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔جیسے کہنا چاہ رہی ہو۔آگے مت بڑھو سمیر۔
واپس چلے جاو!
مگر سمیر اسے نظر انداز کرتے ہوئے صحن میں آ رکا۔
زرتشہ۔۔۔نیچے آو ابھی!
سمیر کی آواز پر زرتشہ کو اپنے پاوں تلے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
اس میں تو جیسے ہلنے تک کی ہمت نا رہی۔
زرتشہ۔۔۔سنا نہی تم نے؟
“میں نے کہا نیچے آو!
سمیر کے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی۔
نہی۔۔۔۔زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔
سمیر غصے سے آگے بڑھا مگر بشر لالہ سے ٹکرا گیا۔
زرتشہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی۔
ننہی۔۔۔یہ اچھا نہی ہوا۔وہ زیرِ لب بولی۔
کون ہو تم؟
تمہاری ہمت کیسی ہوئی میری بہن کا نام اپنی زبان پر لانے کی،بشر لالہ غصے سے چلائے۔
اتنی دیر میں خضر لالہ بھی وہاں آ پہنچے۔
کون ہے یہ؟
وہ بھی غصے سے چلائے۔
پتہ نہی کون ہے یہ لالہ۔۔۔۔اب کچھ بول کیوں نہی رہے تم؟
بشر لالہ غصے سے سمیر کی طرف بڑھے۔
دونوں بھابیاں بھی وہاں آ گئیں۔
یہ ٹھیک نہی ہو رہا۔۔۔۔زرتشہ گال پر بہتے آنسو پونچھتے ہوئے نیچے کی طرف بھاگی۔
اس سے پہلے کہ بشر سمیر کے گریبان تک پہنچتا سمیر نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور اسے دور دھکیلا۔وہ لڑکھڑاتے ہوئے فرش پر جا گرا۔
خضر جلدی سے اندر کی طرف بڑھا اور بندوق اٹھائے باہر آ گیا۔
ان کے ہاتھ میں بندوق دیکھ کر ان کی بیوی جلدی سے آگے بڑھی۔
رک جائے خان صاحب۔۔۔پہلے پوچھ تو لیں اس سے،آخر یہ یہاں آیا کیوں ہے۔
“میں یہاں اپنی بیوی زرتشہ کو لینے آیا ہوں!
بیوی۔۔۔۔؟
زرتشہ تمہاری بیوی کب بنی؟
کیا بکواس ہے یہ؟
بھابی بھی غصے سے چلائی۔
بیوی کا نام سن کر زرتشہ کے قدم آخری سیڑھی پر ہی تھم گئے۔
نہی۔۔۔زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔
سب نے پلٹ کر زرتشہ کی طرف دیکھا۔
کیا کہہ رہا ہے یہ لڑکا؟
زرتشہ کیا تم جانتی ہو اسے؟
بشر غصیلی نگاہیں سمیر پر گاڑے بولا۔
“یہ سسسسچ ہے لالہ”
زرتشہ کے جواب پر سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ گئیں۔
کیا کہا تم نے؟
چھوٹی بھابی غصے سے زرتشہ کی طرف بڑھی۔
اس لیے بھیجا تھا تجھے ہاسٹل؟
یہ رنگ رلیاں مناتی پھر رہی تھی توں یونیورسٹی۔
اسی لیے جانا چاہتی تھی توں پڑھنے ہاں؟
منہ کالا کروا آئی ہے اپنا،اور اپنے عاشق کو گھر تک بھی بلا لیا۔
کمبخت ماری۔۔۔۔۔عزت مٹی میں ملا دی تو نے ہماری۔
وہ غصے سے زرتشہ پر ٹوٹ پڑیں۔اس سے پہلے کہ وہ زرتشہ پر ہاتھ اٹھاتیں۔
سمیر بجلی کی سی رفتار سے زرتشہ کے سامنے آ رکا۔
اس میں زرتشہ کی کوئی غلطی نہی ہے،میں نے زبردستی یہ نکاح کروایا اس سے۔اور “خبردار جو میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کا سوچا بھی کسی نے’وہ ہاتھ کاٹ دوں گا میں جو میری بیوی کی طرف بڑھیں گے،،
“میں اپنی بیوی کو لینے آیا تھا،اگر آپ لوگوں کا ڈرامہ ختم ہو گیا ہو تو میں جاوں؟
سمیر کے سوال پر خضر نے بندوق کا رخ سمیر کی طرف کر دیا۔
تم نے ہماری عزت کا جنازہ نکال دیا اور یہاں سے جانے کی بات کر رہا ہے۔
بھول جا کہ اب توں یہاں سے زندہ واپس جا سکے گا!
تمہارے ساتھ تمہاری بیوی کی بھی لاش یہی دفن کروں گا میں۔
خضر نے گولی چلا دی۔۔
مگر گولی نا تو سمیر کو لگی اور نا ہی زرتشہ کو۔
سمیر نیچے جھک گیا اور اپنے ساتھ زرتشہ کو بھی کھینچ لیا۔
وہ دونوں فرش پر گر گئے۔
اس سے پہلے کہ دوسری گولی چلتی۔۔۔سمیر نے گولی چلا دی جو سیدھی خضر کے سینے میں لگی اور وہی زمین بوس ہو گیا۔
لالہ۔۔۔زرتشہ تیزی سے بھائی کی طرف بڑھی مگر بھابی نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔
بھائی کو سنبھالنے کی بجائے بشر نے بندوق سنبھالی اور سمیر پر گولی چلا دی۔
سمیر کے بازو پر گولی لگی اور وہ بھی وہی گر گیا
سمیر کو نیچے گرتے دیکھ زرتشہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
سمیر۔۔۔۔یہ سب کیا ہو گیا؟
بشر کا نشانہ اب زرتشہ پر تھا جو سمیر کا سر گود میں رکھے آنسو بہا رہی تھی۔
سمیر کی نظر اس پر پڑ چکی تھی۔سمیر نے بہت ہمت کرتے ہوئے جیب سے پسٹل نکالی اور گولی چلا دی۔
گولی بشر کے ہاتھ پر جا لگی اور اس کے ہاتھوں سے بندوق دور جا گری۔
بشر کے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر اس کی بیوی اس کی طرف بڑھی۔
خضر کی حالت خراب ہوتی دیکھ بھابی زور سے چلا رہی تھی اور زرتشہ کو برا بھلا بول رہی تھی۔
سمیر زرتشہ کا ہاتھ تھامے مسکرا دیا اور زرتشہ کا ہاتھ سمیر کے خون سے بھر چکا تھا۔
وہ رو رہی تھی۔۔۔نہی سمیر تم مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے۔
سمیر درد میں بھی مسکرا رہا تھا۔
محلے والے جمع ہو چکے تھے اور زرتشہ کو سمیر کے ساتھ دیکھ کر ذہر بھری باتیں کر رہے تھے۔
زرتشہ نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔۔ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔
ایک طرف زرتشہ کے جان سے پیارے بھائی خون سے لتھڑے پڑے تھے اور دوسری طرف اس کا شوہر اس کی نظروں کے سامنے تڑپ رہا تھا۔
وہ شوہر جس سے وہ شدید نفرت کرتی تھی مگر اسے آج اس حال میں دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے سمیر کا سانس اکھڑنے لگا اور اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
زرتشہ چلانے لگی۔
نہی۔۔۔سمیر تم مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے۔
سمیر اٹھو۔۔۔وہ زور زور سے چلا رہی تھی مگر یہاں اس کی آواز سننے والا کوئی نہی تھا۔
(جاری ہے)
