Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 03)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

سمیر کے ہاتھ سے خون بہہ کر فرش پر گرتا جا رہا تھا مگر اسے کوئی پرواہ نہی تھی۔

نوید اور فیصل اچانک وہاں آ گئے۔

سمیر کے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔

یہ سب کیا ہوا سمیر؟

تمہارے ہاتھ سے خون کیوں نکل رہا ہے؟

دونوں پریشان ہوتے ہوئے بول رہے تھے۔

فیصل نے آگے بڑھ کر سمیر کا ہاتھ تھامنا چاہا۔

مگر سمیر نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

خون بہہ رہا ہے یار چل ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔

نوید نے اس کا بازو تھامنا چاہا مگر سمیر نے اپنا بازو واپس کھینچ لیا۔

یار ہوا کیا ہے کچھ بتا تو سہی!

وہ دونوں بہت پریشان ہو چکے تھے۔

سمیر نے مٹھی کھول کر ان کے سامنے پھیلا دی۔

ٹوٹی ہوئی کچھ چوڑیاں زمین پر بکھر گئیں۔جبکہ چند ٹوٹے ہوئے ٹکرے سمیر کی ہتھیلی میں دھنس چکے تھے۔

چوڑیاں خون سے لت پت ہو چکی تھیں۔

چوڑیاں۔۔۔؟

دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

یہ چوڑیاں کہاں سے آئیں؟

فیصل نے سمیر کے ہاتھ میں چھبی چوڑیاں نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

سمیر نے ہاتھ واپس کھینچ لیا اور سر نفی میں ہلا دیا۔

وہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔

فیصل اور نوید اس کے پیچھے بھاگے مگر وہ ان کی آوازیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتا چلا گیا۔

وہ دونوں بھی سمجھنے سے قاصر تھے کہ آخر ہوا کیا ہے سمیر کے ساتھ۔

چھٹی کا وقت تھا۔وہ چاروں آخری کلاس اٹینڈ کرتی ہوئیں یونیورسٹی سے باہر نکل گئیں۔

چاروں ہاسٹل کی طرف بڑھ رہی تھیں۔

زرتشہ تم نے ٹھیک نہی کیا سمیر کے ہاتھ میں اپنی چوڑیاں تھما کر۔

نازیہ نے بات شروع کی۔

بلکل ٹھیک کیا ہے میں نے بلکہ مجھے بہت پہلے ایسا کر دینا چاہیے تھا۔

اور تم کیوں اس کی اتنی طرف داری کر رہی ہو۔

تمہارا رشتہ دار ہے کیا؟

ایک بات میں اور نوٹ کر رہی ہوں تم آج صبح سے ہمارے پیچھے پیچھے ہو۔

کہی اس نے تو نہی تمہیں میرے پیچھے لگایا ہوا۔

نہی تو۔۔۔!

نازیہ گھبرائی۔

نیلم اور عافیہ کو بھی اس پر شک پڑا۔

سچ سچ بتاو کیا بات ہے؟

نیلم دونوں ہاتھ کمر پر ٹکاتے ہوئے آگے بڑھی۔

ننہی۔۔ایسا کچھ بھی نہی ہے۔

تم لوگ غلط سمجھ رہی ہو مجھے۔

نازیہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑا فون پیچھے کی طرف چھپایا۔

کیا ہے تمہارے فون میں؟

زرتشہ نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے فون کھینچا۔

سکرین سوائپ کی تو زرتشہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

سامنے کال لاگ شو ہو رہا تھا۔

سب سے اوپر سمیر کا نام جگمگا رہا تھا۔

اس پر لاسٹ کال سمیر کی تھی۔

کال کا دورانیہ تقریباً تیس منٹ تھا۔

زرتشہ کی حیرت کی انتہا نا رہی۔

اس نے حیرانگی سے نازیہ کی طرف دیکھا۔

نازیہ نظریں چرا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔

یہ سب کیا ہے؟

زرتشہ نے فون نازیہ کے سامنے لہرایا۔

نازیہ کا جھوٹ پکڑا جا چکا تھا۔

نیلم اور عافیہ بھی حیرت سے نازیہ کی طرف دیکھنے لگیں۔

کیا ہوا زرتشہ؟

وہ دونوں بھی زرتشہ کو پریشان دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔

زرتشہ نے فون ان کی طرف بڑھایا۔

وہ دونوں بھی حیران رہ گئیں نازیہ کی اس حرکت پر۔

وہ مجھے سمیر نے بولا تھا ایسا کرنے کو’نازیہ سر جھکاتے ہوئے بولی۔

اس کا مطلب!

اس کا مطلب سمیر ہماری کچھ دیر پہلے ہونے والی ساری گفتگو سن لی۔

نیلم زرتشہ کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔

اوہ مائی گاڈ!

اب تو ہم سب کو نہی چھوڑے گا وہ!

عافیہ گھبراتے ہوئے بولی۔

یہ سب بہت غلط کیا تم نے نازیہ!

تم ہمارے ساتھ بیٹھی گپیں لڑاتی رہی۔

زرتشہ کے منہ سے سمیر کے لیے باتیں اگلوائیں۔

ہم سوچ بھی نہی سکتی تھیں کہ سمیر ہماری ساری باتیں سن رہا ہے۔

نیلم بھی کہاں چپ رہنے والی تھی۔

“میرا کوئی قصور نہی تھا اس میں!

یہ سب زرتشہ کی وجہ سے ہوا ہے۔

نا یہ میرے ہاتھ سے پانی کی بوتل کھینچ کر سمیر کے سر پر ڈالتی۔نا میں اس جھنجال میں پھنستی۔

کیا ضرورت تھی میری بوتل کھینچنے کی۔

نازیہ غصے سے پھٹ پڑی۔

تم تینوں تو وہاں سے چلی گئیں۔لیکن کلاس میں داخل ہوتے ہی سمیر کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔

میرا لائبریری کارڈ،گاڑی کی چابی سب ظبط کر لیا اس نے۔

اگر میں اس کی کال کاٹ دیتی تو مجھے ان سب سے ہاتھ دھونا پڑتا۔

اب تم ہی بتاو زرتشہ میں کیا کرتی؟

“ہم لڑکیاں بہت کمزور پڑ جاتی ہیں اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں یہ مرد۔

زرتشہ دکھ بھرے لہجے میں بولی۔

جو ہوا اس میں تمہاری کوئی غلطی نہی تھی۔

مجھے کوئی شکایت نہی تم سے۔

زرتشہ نازیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

ہم ڈر جاتی ہیں اسی لیے یہ لوگ ڈراتے ہیں ہمیں۔

“ہمیں مظبوط بنانا ہو گا خود کو!

“آخر کب تک ہم ان کے ڈر کا سامنا کرتی رہیں گی۔

کیوں نا آج تم سب اپنے دل سے یہ سمیر نامی ڈر نکال کر پھینک دو۔

عہد کر لو سب اپنے آپ سے کہ آج کہ بعد چاہے سمیر ہو یا پھر کوئی اور ان غیر مردوں سے ڈرنا نہی۔

اپنی کمزوری ان کے سامنے ظاہر نہی کرنی’مظبوط بنانا ہو گا خود کو۔

ہم اکیلی نہی ہیں۔ہمارے ساتھ ہمارے باپ،بھائی۔۔اور سب سے بڑھ کر اللہ کا تخفظ ہے۔

ان سب کے ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔”

امید ہے میری بات تم سب سمجھ گئی ہو گی۔

ہمیں تمہاری بات سمجھ آ گئی ہے زرتشہ مگر جو تم کہہ رہی ہو وہ اتنا آسان نہی ہے۔

عافیہ مسکراتے ہوئے بولی۔

تو چلو آو سب مل کر عہد کریں زرتشہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

تینوں نے مسکراتے ہوئے زرتشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دئیے۔

ہم عہد کرتی ہیں کہ آج کے بعد سمیر نامی یا پھر اس جیسی کسی بھی بلا سے نہی ڈریں گی۔اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔اور ہم ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں گی ہمیشہ۔ایک دوسرے کی طاقت بن کر رہیں گی۔

ڈن۔۔۔!

چاروں نے ایک ساتھ قہقہ لگایا۔اور ہاسٹل کا گیٹ پار کر گئیں۔

سب اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں۔

زرتشہ بھی کمرے کا لاک کھولتے ہوئے اندر داخل ہو گئیں۔

بیگ ٹیبل پر رکھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹا کر باہر دیکھنے لگی۔

آنکھوں میں سمیر کا درد بھرا چہرہ لہرایا۔

اس کی حیرت سے کھلی آنکھیں،ظبط سے بھینچے ہونٹ۔

پتہ نہی کیوں پر زرتشہ کو اب اپنے کیے پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔

مجھے حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے اگر سمیر میری ساری باتیں پہلے ہی فون پر سن چکا تھا تو پھر باسط کے سامنے ایسے بی ہیو کیوں کر رہا تھا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

وہ میری ساری باتیں پہلے بھی سن چکا تھا تو پھر مجھ سے کچھ بولا کیوں نہی۔

مجھے کچھ کہنے کی بجائے وہ تو الٹا مسکرا رہا تھا۔

پھر میں نے اس کے سامنے بھی وہی سب کچھ اس کو بولا۔

اتنا ذلیل کیا۔۔!

پھر بھی کچھ نہی بولا وہ۔

آخر چاہتا کیا ہے یہ لڑکا؟

زرتشہ جھنجلاتے ہوئے خود سے ہی سوال کرنے لگی۔

چھوڑو مجھے کیا جو مرضی کرے!

جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے امید ہے آج کے بعد میرے راستے میں نہی آئے گا۔

میں لالہ کو فون کر لوں زرا۔۔۔کافی دن ہو گئے ان سے بات کیے ہوئے۔

زرتشہ کھڑکی کا پردہ درست کرتے ہوئے اپنے بیگ سے فون نکال کر اپنے بھائی سے بات کرنے لگی۔

اگلے دن پورا دن یونیورسٹی میں سمیر نظر نہی آیا زرتشہ کو۔

زرتشہ نے خدا کا شکر ادا کیا۔

دو دن مزید گزر گئے مگر سمیر یونیورسٹی نہی آیا۔

اب زرتشہ کی خوشی پریشانی میں تبدیل ہونے لگی۔

فیصل اور نوید بھی یونیورسٹی نہی آ رہے تھے۔

اسی وجہ سے زرتشہ کو زرتشہ کو زیادہ پریشانی ہو رہی تھی۔

وہ جہاں بھی جاتی اس کی نظریں سمیر کی تلاش میں ہی رہتیں۔

سمیر ہر وقت اس کے اردگرد منڈلاتا رہتا تھا۔

اسے دیکھنے کی عادت سی ہو گئی تھی زرتشہ کو۔

وہ چاہ کر بھی سمیر کو نظر انداز نہی کر سکی۔

اسے ڈر تھا کہ کہی سمیر میری وجہ سے یونیورسٹی چھوڑ کر تو نہی چلا گیا۔

یا پھر اس نے خود کو کوئی نقصان تو نہی پہنچا لیا۔

نہی۔۔نہی۔۔اس سے آگے زرتشہ سوچنا نہی چاہتی تھی۔

اس کی وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچے اس سے برداشت نہی ہوتا تھا۔

ایسا ہی کچھ زرتشہ کے ساتھ اب ہو رہا تھا۔

اس کی وجہ سے سمیر کو تکلیف پہنچی یہ بات زرتشہ کو بے چین کیے ہوئے تھی۔

زرتشہ کی بے چینی ان تینوں سے چھپی نہی تھی۔وہ تینوں اچھی طرح سمجھ رہی تھیں زرتشہ کے بدلتے رویوں کو دیکھ کر۔

مگر وہ زرتشہ سے اس بارے میں سوال کرنے کی ہمت نہی کر سکتی تھیں۔

زرتشہ کے بھائی کا فون آ رہا تھا۔لیکن اسے پتہ نہی چلا۔

ہاسٹل پہنچ کر کال کرنے لگی تو پتہ چلا کہ بیلنس ختم ہے۔

پریشانی سے نیلم کے کمرے کی طرف بڑھی۔

دروازہ ناک کیا تو دروازہ نازیہ نے کھولا۔

زرتشہ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہو گئی۔

عافیہ بھی یہاں بیٹھی تھی۔

نیلم اپنا فون دینا یار مجھے گھر کال کرنی ہے۔

مجھے فون ریچارج کرنا یاد نہی رہا۔

اوہ۔۔۔میرا بھی فون ریچارج نہی ہے۔

عافیہ تم دے دو فون زرتشہ کو۔

نیلم عافیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔جو اپنی ٹوٹی سینڈل ہاتھ میں اٹھائے پریشانی میں لگ رہی تھی۔

بیگ سے فون نکال کر زرتشہ کی طرف بڑھایا۔

زرتشہ نے فون دیکھا تو بند تھا۔

زرتشہ نے عافیہ کی طرف فون بڑھایا۔

اس کی تو بیٹری آف ہے یار۔

عافیہ کچھ نہی بولی۔

چپ چاپ فون لے کر بیگ میں رکھ لیا۔

کیا ہوا ہے تمہیں؟

زرتشہ نے عافیہ کو پریشان بیٹھے دیکھا تو بول پڑی۔

ہاں ناں صبح سے ایسے ہی چپ بیٹھی ہے۔

پوچھ پوچھ کر تھک چکی ہوں مجال ہے جو کچھ بتایا ہو۔

نیلم نے بھی عافیہ کا ساتھ دیا۔

بتاو نا عافیہ کیا ہوا ہم سب کو پریشانی ہو رہی ہے اب!

نازیہ عافیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

کیا بتاوں تم لوگوں کو!

میرے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہو رہی ہے۔

کیا نا انصافی ہو رہی ہے تمہارے ساتھ؟

بتاو ہمیں شاید ہم کچھ مدد کر سکیں تمہاری۔

زرتشہ عافیہ کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔

کل رات ماما کا فون آیا تھا۔

عافیہ تھکی تھکی سی بولی۔

تو کیا ہوا؟

اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے؟

گھر میں تو سب خیریت ہے ناں؟

تینوں نے ایک ساتھ سوال کر ڈالے۔

ہاں گھر میں سب خیریت ہے۔الحمدللہ

بس میں ہی ٹھیک نہی ہوں!

تمہیں کیا ہوا ہے اچھی بھلی تو ہو موٹی۔

نیلم اس کی کمر میں مکا رسید کرتے ہوئے بولی۔

زرتشہ نے نیلم کو گھورا۔

وہ دراصل بات یہ ہے کہ میرے لیے ایک پرپوزل آیا ہے۔

بھابی کے مائیکے سے۔ان کے بھائی کا!

ماما چاہتی ہیں میں گھر آ جاوں۔اس سنڈے وہ لوگ گھر آ رہے ہیں بات پکی کرنے۔

واووو۔۔۔۔نیلم اور نازیہ اس کا کو تنگ کرتے ہوئے بولیں۔

کیا واو۔۔۔؟

عافیہ اپنی ٹوٹی ہوئی سینڈل غصے سے پھینکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

کیوں کیا ہوا بھابی کا بھائی اچھا نہی ہے کیا؟

زرتشہ اس کے پاس جا کر بولی۔

نہی اچھا تو ہے بس اس کی حرکتیں پسند نہی ہیں مجھے۔

بہانے بہانے سے میرے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے۔جب بھی گھر جاتی ہوں گھر آ جاتا ہے۔

پتہ نہی اس کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آ گئی ہوں۔

اب یہ پرپوزل!

یہ سب ٹھیک نہی ہے۔۔۔عافیہ رو دینے کو تھی۔

پاگل ہو تم!

نازیہ نے اس کی عقل پر افسوس کیا۔

عافیہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔

اور نہی تو کیا۔۔۔یار وہ محبت کرتا ہے تم سے!

کتنی بے عقل ہو تم۔۔۔نیلم نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔

یہ کیسی محبت ہے ہم ایک دوسرے کو جانتے بھی نہی ٹھیک سے اور پرپوزل بھی بھیج دیا۔

عافیہ منہ سکوڑتے ہوئے بولی۔

اب تم خود ہی تو کہہ رہی تھی کہ بہانے بہانے سے تمہارے قریب آنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

اس کا مطلب وہ تم سے بات کرنا چاہتا تھا مگر تم نے اس کی بات نہی سنی۔

نازیہ نے اس کے کہے گئے الفاظ دہرائے۔

“اس نے تم سے دوسرے لڑکوں کی طرح محبت کا اظہار کرنے میں وقت ضائع نہی کیا۔

جب تم سے بات کرنی چاہی تم نے اسے اگنور کیا۔

اسی لیے اس نے تمہارے لیے شادی کا پرپوزل بھیجا تا کہ تم سمجھ جاو کہ اس کے دل میں تمہارے لیے محبت ہے۔

“جو مرد سچی محبت کرتا ہے وہ نکاح کرتا ہے”

اور جن کی نیت میں کھوٹ ہو وہ بس حسین خواب دیکھا کر ساتھ جینے مرنے کے وعدے کرتے ہیں بس اور جب اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں تو ساری قسمیں وعدے ہوا میں اڑا دیتے ہیں”

امید ہے میری بات تم سمحھ گئی ہو گی۔۔زرتشہ نے بہت آسانی سے عافیہ کا مسلہ حل کر دیا۔

ہاں زرتشہ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔

وہ ایک اچھا انسان ہے۔

مجھ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر میں ہی اسے اگنور کرتی آئی۔

مگر اب مجھے سمجھ آ چکی ہے۔وہ واقعی مجھ سے محبت کرتا ہے۔

عافیہ کی بات پر نیلم نے اسے کندھا مارا۔

بڑی جلدی سمجھ آ گئی اس کی محبت کی۔

عافیہ مسکرا دی۔

چلو پھر پکڑو تیاری آج فرائی ڈے ہے کل چلی جانا پھر گھر۔۔۔نازیہ بھی اس کو تنگ کرنے لگی۔

چلو تمہارا مسلہ تو حل ہوا منہ لٹکائے بیٹھی تھی۔

لیکن میرا کام تو نہی ہوا۔

زرتشہ مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔

تم میرا فون استعمال کر لو زرتشہ!

نازیہ اپنا فون لے کر زرتشہ کی طرف بڑھی۔

زرتشہ پلٹ کر مسکرائی۔

ہاں مجھے کیوں نہی یاد آیا کہ تم سے پوچھ لوں۔

خِیر تھینکس!

زرتشہ نے مسکراتے ہوئے نازیہ کا فون تھام لیا۔

نو نیڈ!

نازیہ نے مسکراتی ہوئی بولی۔

زرتشہ فون لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

لالہ کا نمبر ملا کر ان سے بات کرنے لگی۔

کال کاٹی تو اچانک زرتشہ کی نظر سمیر کے نمبر پر پڑی۔

ایک پل کے لیے زرتشہ کا دل چاہا سمیر کو کال کر کے پوچھ لے۔

مگر اگلے ہی پل اسے لگا وہ ایسا نہی کر سکے گی۔

اس نے کچھ سوچتے ہوئے سمیر کا نمبر اپنے فون میں سیو کر لیا اور نازیہ کا فون اس کو واپس کر دیا۔

اگلے دن بھی سمیر یونیورسٹی نہی آیا۔

عافیہ اپنے گھر چلی گئی۔

نیلم اور نازیہ بھی شاپنگ پر چلی گئیں۔

زرتشہ سے بہت کہا ان دونوں نے ساتھ چلنے کو مگر زرتشہ نہی گئی۔

شام ہو چکی تھی۔زرتشہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے بالکونی میں اداس سی کھڑی تھی۔

آخر کار اس نے ہمت کی اور سمیر کا نمبر ڈائل کر دیا۔

مگر سمیر کا نمبر بند تھا۔

اب تو زرتشہ کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔

سمجھ میں نہی آ رہا تھا آخر کرے تو کیا کرے۔

کس سے پوچھے سمیر کے بارے میں۔

نوید اور فیصل وہ بھی تو نہی آ رہے تھے۔

زرتشہ انہی سوچوں میں گم سو گئی۔

نیلم اور نازیہ دروازہ ناک کرتی رہی۔مگر یہ سوچ کر کہ زرتشہ سو گئی ہو گی۔وہ دونوں واپس پلٹ گئیں۔

زرتشہ صبح اٹھ کر اکیلی یونیورسٹی چل پڑی۔

نیلم اور نازیہ ابھی تک سو رہی تھیں۔اسی لیے زرتشہ ان کا انتظار کیے بغیر ہی چل پڑی وہ اپنی کلاس مِس نہی کرنا چاہتی تھی۔

زرتشہ جیسے ہی یونیورسٹی کے گیٹ میں داخل ہوئی۔

گیٹ سے ایک جیپ تیز رفتار میں اچانک داخل ہوئی۔

زرتشہ نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔اسے لگا جیسے ابھی وہ جیپ اس سے ٹکرا جائے گی۔

مگر ایسا نہی ہوا۔جیپ اس کے قریب لا کر بریک لگا دی گئی۔

زرتشہ نے جھٹ سے آنکھوں سے بازو ہٹایا۔

سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر زرتشہ کا سر چکرا گیا۔

چند لمحے لگے زرتشہ کو اسے پہچاننے میں۔

زرتشہ ٹکٹکی باندھے اس مغرور شخص کی طرف دیکھ رہی تھی۔

مگر اس کا دھیان زرتشہ کی طرف نہی بلکہ سٹیرنگ وہیل پر تھا۔

ہارن کی آواز پر زرتشہ راستے سے ہٹ گئی۔

وہ زرتشہ کو دیکھ کر بھی انجان بن کر گزر گیا۔

زرتشہ بس حیرت سے اس کو جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *