Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 05)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 05)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
زرتشہ گھبرا کر تھوڑا پیچھے ہٹی۔
وہ بنا دیکھے پیچھے چلتی گئی۔۔پیچھے کھڑا بکس رینک نیچے جا گرا۔
ساری بکس بکھر گئیں۔
چھٹی کا وقت تھا۔ساری لائیبریری خالی تھی۔
لائیبریری انچارج بھی جا چکا تھا۔ سیکنڈ شفٹ شروع ہونے میں ابھی بہت ٹائم تھا۔
ورنہ اگر لائیبریری انچارج دیکھ لیتا تو زرتشہ کی خیر نہی تھی۔
زرتشہ گھبراتے ہوئے کتابیں اٹھا کر واپس رینک میں رکھنے لگی۔
سمیر مسکراتے ہوئے زرتشہ کی حرکتیں نوٹ کرنے لگا۔
وہ آگے بڑھا اور زرتشہ کے ساتھ کتابیں اٹھا کر رینک میں سیٹ کرنے لگا۔
زرتشہ تیزی تیزی میں ساری کتابیں رکھتے ہوئے آگے بڑھی۔
تب ہی اچانک سمیر زرتشہ کے سامنے آ گیا تیزی سے!
زرتشہ کا پاوں بکس رینک سے اٹکا اور وہ گرتے گرتے بچی!
سمیر نے اسے گرنے سے بچا لیا اس کا ہاتھ تھام کر۔
ورنہ زرتشہ کو چوٹ لگ جاتی۔
زرتشہ نے خدا کا شکر ادا کیا کہ گرنے سے بچ گئی۔
مگر جیسے ہی اس کی نظر سمیر کے ہاتھ میں قید اپنے ہاتھ پڑی اس کو چار سو چالیس والٹ کا کرنٹ لگا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟
زرتشہ اپنا ہاتھ سمیر کے ہاتھ سے آزاد کروانے کے بعد غصے سے بولی۔
سمیر کو حیرت ہوئی زرتشہ کے سوال پر۔
شکریہ ادا کرنے کی بجائے وہ الٹا اسی پر چلا رہی تھی۔
“زرتشہ اگر میں تمہارا ہاتھ نا تھامتا تو تم گر جاتی!
اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے سمیر مدھم لہجے میں زرتشہ کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔
زرتشہ کے دل کی دھڑکن میں ہلچل سی مچ گئی۔
وہ پیچھے دیوار سے جا لگی!
سمیر کی جزبات لٹاتی آنکھیں،مدھم سا لہجہ۔۔زرتشہ کو اپنا دل بے قابو ہوتا محسوس ہوا۔
سمیر نے قدم زرتشہ کی طرف بڑھائے۔
پیچھے دیوار تھی اور زرتشہ کے لیے فرار کا کوئی راستہ نہی تھا۔
زرتشہ کا چہرہ پسینے سے بھرنے لگا۔
سمیر کا یہ بدلہ ہوا رویہ اور بدلہ ہوا حلیہ،وہ پہلے والا سمیر تو لگ ہی نہی رہا تھا زرتشہ کو۔
یہ تو کوئی اور ہی چہرہ لگ رہا تھا زرتشہ کو۔۔سمیر کی اتنی قربت۔۔زرتشہ کو اپنا دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
“سمیر نے ہاتھ بڑھا کر زرتشہ کے ماتھے پر آئے پسینے کو ہاتھ سے صاف کیا اور مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔
ڈر گئی مس زرتشہ خان!
“بس اتنی سی قربت نہی برداشت کر سکی میری۔۔۔ابھی تو ساری زندگی ساتھ گزارنی ہے ہمیں!
سب کے سامنے تو بڑی بہادر بنتی ہو اور اب دیکھو کیسے بھیگی بلی بنی کھڑی ہو۔
ایسے ڈر رہی ہو جیسے میں انسان نہی شیر ہوں!
زرتشہ نے غصے سے سمیر کو گھورا۔
“شیر نہی۔۔۔گدھے ہو تم!
زرتشہ غصے سے چلائی۔
ششش۔۔سمیر نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے زرتشہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
یہ لائبریری ہے۔یہاں اونچی آواز میں بولنا منع ہے۔
سمیر مسکراتے ہوئے بولا۔
زرتشہ نے سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی مگر سمیر سے اپنا ہاتھ دیوار پر رکھ کر راستہ روک دیا۔
زرتشہ نے دوسری طرف سے نکلنا چاہا تو سمیر نے دوسری طرف بھی ہاتھ رکھ کر اس کا راستہ بند کر دیا۔
“عشق نے کیا سے کیا کر دیا۔
گل سے گلاب کو جدا کر دیا۔
“کیا تھے ہم اور کیا رہ گئے۔
تیرِی موہنی صورت نے نواب کر دیا۔
“جان یہ تجھ پر وار دوں!
تیری بکھری زلفیں سنوار دوں!
“جو تیری اجازت ہو!
زندگی تیرے پہلو میں گزار دوں!
” بدل ڈالا خود کو اِک تیری خاطر!
کوئی حکم دو نیا خود کو نثار کر دوں!
تیری بے رخی نا سہہ سکے۔
دل سینے سے نکال پھینک دوں!
“جو تیری اجازت ہو!
زرتشہ بنا پلک جھپکائے سمیر کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
زرتشہ کو سمیر حواس سے بیگانہ لگ رہا تھا۔
کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا کیا کرے۔
یہاں سے فرار کی کوئی راہ نظر نہی آ رہی تھی زرتشہ کو۔
سمیر بنا رکے بولتا چلا گیا۔
سمیر کی اتنی قربت زرتشہ کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
لو بدل ڈالا خود کو!
کٹوا دی مونچھیں!
کٹوا دئیے اپنے بال۔۔۔!
“اب کیا فیصلہ کیا تم نے میرے بارے میں؟
زرتشہ کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا!
جس سوال سے گھبراتی وہ سمیر سے دور بھاگ رہی تھی سمیر نے وہی سوال کر ڈالا۔
“اب تو مرد لگ رہا ہوں ناں میں؟
یا پھر اپنے مرد ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا مجھے؟
سمیر کے سر پر اس وقت جنون سوار تھا۔
وہ کچھ بھی کر سکتا تھا!
زرتشہ نے سوچا بھی نہی تھا اپنی بے عزتی کا بدلہ وہ اس طرح سے لے سکتا ہے۔
آخر تھی تو ایک لڑکی ہی ناں!
ایک کمزور سی لڑکی۔۔۔۔جو اس وقت ایک شکاری کے جال میں پھنس چکی تھی۔
زرتشہ کے ہاتھ پیر پسینے سے بھیگنے لگے۔۔۔سمیر نے یہ سب کچھ ضد میں آ کر کیا ہے۔زرتشہ کو یہ بات سمجھ آ چکی تھی۔
آخر کار زرتشہ نے خود کو سنبھالتے ہوئے ہمت کر ہی لی۔
اس نے دونوں ہاتھ سمیر کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا۔
مگر سمیر نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے مزید قریب کر لیا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے سمیر؟
چھوڑو مجھے !
“یہ ہاتھ چھوڑنے کے لیے نہی تھامے میں نے زرتشہ خان!
اب زندگی بھر کا ساتھ نبھانا ہے ہمیں۔۔سمیر ہوش و حواس سے بیگانہ لگ رہا تھا۔
یہ کیا گھٹیا باتیں کر رہے ہو تم سمیر چھوڑو مجھے۔
زرتشہ نے اپنے ہاتھ آزاد کروانے چاہے مگر سمیر کی گرفت مظبوط تھی۔
وہ ایک کمزور سی چڑیا شکاری کے جال میں پھنس چکی تھی۔
زرتشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر سمیر کی گرفت ڈھیلی پڑی۔
تم کیوں رو رہی ہو؟
پلیز یہ رونا بند کر دو!
سمیر کی بات پر زرتشہ کے رونے میں مزید روانی آ گئی۔
سمیر نے اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے اور زرتشہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
زرتشہ نے سمیر کا ہاتھ جھٹک دیا۔
ایک زور دار تھپڑ سمیر کے گال پر جڑ دیا۔
سمیر صدمے کی سی حالت میں گال پر ہاتھ رکھے زرتشہ کو دیکھنے لگا۔
دور رہو مجھ سے!
مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا اب دوبارہ!
خود کو مرد کہتے ہو!
“یہ ہے تمہاری مردانگی؟
ایک اکیلی لڑکی کو حوس کا شکار بنا کر ثابت کرنا چاہتے ہو تم اپنی مردانگی!
“تم انسان نہی درندے ہو۔
“مرد کہلانے کے لائق نہی ہو تم!
زرتشہ کے الزامات پر سمیر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
سمیر نے سر نفی میں ہلا دیا۔
نہی۔۔۔زرتشہ تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو!
میں تو بس تمہیں تنگ کر رہا تھا!
سمیر نے پھر سے قدم زرتشہ کی طرف بڑھائے۔
زرتشہ کے مارے تھپڑ کا اتنا درد نہی ہوا سمیر کو جتنا زرتشہ کا الزام سن کر ہو رہا تھا۔
دور رہو مجھ سے !
وہ چلائی۔۔۔
اب ایک اور قدم مت بڑھانا میری طرف!
“اگر تم نے میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی تو میں اس کھڑکی سے باہر کود جاوں گی۔
زرتشہ نے پاس ہی کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔
سمیر وہی رک گیا۔
ٹھیک ہے۔۔۔میں نہی آتا تمہارے پاس!
مگر میرا یقین کرو زرتشہ جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہی ہے۔
تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ۔
پلیز ایک بار میری بات سن لو!
نہی سنوں گی میں تمہاری کوئی بھی بات!
زرتشہ تیِزی سے دروازے سے باہر نکل گئی۔
سمیر بے یقینی سے زرتشہ کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔
وہ تیزی سے زرتشہ کے پیچھے دوڑا۔
زرتشہ تیز تیز بھاگتی یونیورسٹی کا گیٹ پار کر چکی تھی۔
سمیر دور کھڑا زرتشہ کو گیٹ سے باہر جاتے دیکھ رہا تھا۔
اس نے غصے سے دیوار پر زور دار مکا مارا۔
دیوار کو تو کوئی فرق نہی پڑا۔مگر اس کے ہاتھ پر درد سا محسوس ہوا سمیر کو۔
مگر اس وقت وہ یہ درد محسوس نہی کر رہا تھا۔اس کو تو زرتشہ کی بے اعتباری کا درد بے سکون کیے ہوئے تھا۔
وہ غصے سے پارکنگ کی طرف بڑھا۔
اپنی جیب سٹارٹ کرتے ہوئے یونیورسٹی سے باہر نکل گیا۔
زرتشہ تیز تیز چلتی ہاسٹل پہنچی۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر جلدی سے دروازہ بند کرتے ہوئے بیڈ پر آ بیٹھی۔
بیگ سائیڈ پر رکھتے ہوئے چہرہ ہاتھوں پر گرائے آنسو بہانے لگی۔
زرتشہ بہت ڈر چکی تھی سمیر کی حرکتوں پر۔
وہ لائٹ بند کیے اندھیرے کمرے میں آنسو بہاتی رہی۔
کمرے کا دروازہ بج رہا تھا۔
نیلم اور نازیہ زرتشہ کو آوازیں دے رہی تھیں۔
مگر زرتشہ ان کی آواز سن کر بھی انجان بنی آنسو بہاتی رہیں۔
جب کافی دیر تک زرتشہ کینٹین نہی آئی تو وہ دونوں لائیبریری چلی گئیں زرتشہ کو ڈھونڈنے۔
مگر زرتشہ وہاں نہی تھی۔
زرتشہ کو فون بھی کرتی رہیں مگر نمبر بند تھا اس کا۔
دونوں واپس ہاسٹل آ گئیں۔
وہ دونوں بہت پریشان ہو چکی تھیں۔
زرتشہ کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر ان کی جان میں جان آئی۔
زرتشہ کمرے میں تھی۔
وہ دروازہ ناک کر رہی تھیں۔مگر زرتشہ کوئی جواب نہی دے رہی تھی۔
زرتشہ۔۔!
دروازہ کھولو یار!
کیا ہوا ہے تمہیں زرتشہ؟
وہ دونوں آوازیں دے رہی تھیں مگر زرتشہ کوئی جواب نہی دے رہی تھی۔
پیچھے ہٹو تم دونوں!
سمیر کی آواز پر وہ دونوں چونک کر پلٹیں۔
تم یہاں؟
نازیہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
وہ دونوں حیران پریشان سی سمیر کو دیکھنے لگیں۔
“یہ ہاسٹل کا تمہاری جاگیر ہے جو میں یہاں نہی آ سکتا؟
سمیر بد مزہ ہوتے ہوئے بولا۔
اس کے کام میں کوئی دخل اندازی کرے اسے بلکل پسند نہی تھا۔
وہ پہلے ہی غصے میں تھا۔
نازیہ کے سوال کرنے پر اس کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا سمیر!
تم جیسے لوگ کبھی نہی بدل سکتے۔۔۔
یہ گرلز ہاسٹل ہے تم یہاں نہی آ سکتے۔
کس کی اجازت سے اندر آئے ہو تم؟
نیلم بھی بول پڑی۔
سمیر غصے سے اس کی طرف پلٹا!
بہت بولنے لگی ہو تم!
پر نکل آئے ہیں چڑیا کے’مگر یہ مت بھولو میں پر کاٹ بھی سکتا ہوں۔
سمیر نیلم کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولا۔
کیا کر لو تم؟
نازیہ نیلم اور سمیر کے درمیان آتے ہوئے بولی۔
سمیر غصے سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پلٹا۔
پھر اچانک واپس مڑا۔
نازیہ کے ہاتھ سے اس کا فون کھینچ کر تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا۔
نازیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
نازیہ جلدی سے آگے بڑھی۔۔نیچے سڑک پر اس کا فون بکھرا پڑا تھا۔
وہ غصے سے سمیر کی طرف پلٹی۔
یہ کیا کر دیا تم نے میرا اتنا مہنگا فون توڑ دیا؟
سمیر لاپرواہی سے کھڑا کمرے کا لاک گھما رہا تھا۔
تم سے بات کر رہی ہے وہ سمیر!
نیلم غصے سے سمیر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
سمیر غصے سے نازیہ کی طرف پلٹا۔
اپنا وائلٹ نکالا اور پانچ ہزار والے دس نوٹ بنا گنتی کیے نازیہ کے ہاتھ میں تھما دئیے۔
خود پھر سے دروازے کی طرف پلٹ گیا۔
مجھے نہی چاہیے تمہارے یہ پیسے!
واپس رکھو یہ۔۔نازیہ نے پیسے سمیر کی طرف بڑھائے۔
“جیسے تمہاری مرضی!
سمیر نے وہ پیسے لے کر واپس وائلٹ میں رکھ دئیے۔
نیلم اور نازیہ حیران رہ گئیں اس کی ڈھٹائی پر۔
سمیر دروازے کی طرف بڑھا اور پھر اچانک سے ان دونوں کی طرف پلٹا۔
“اب اگر تم دونوں میں سے کسی کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔۔۔تو ایک سیکنڈ نہی لگاوں گا میں تم دونوں کو یہاں سے نیچے پھینکنے میں۔
فون کا حال تو دیکھ ہی لیا تم دونوں نے!
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ پھر سے دروازے کی طرف پلٹ کر لاک گھمانے لگا۔
نازیہ غصے سے نیچے کی طرف بڑھ گئی اپنا ٹوٹا ہوا فون اٹھانے۔
نیلم چپ چاپ کھڑی سمیر کا کارنامہ دیکھنے لگی۔
اس کے ہاتھ میں ایک چابی بھی تھی۔
آخر کار وہ لاک کھولنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔
نازیہ بھی اپنا ٹوٹا ہوا فون لے کر واپس آ چکی تھی۔
سمیر نے جیسے ہی زرتشہ کے کمرے کا دروازہ کھولا زرتشہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
سمیر نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے لائٹ جلائی۔
زرتشہ پھٹی پھٹی سی نگاہوں سے سمیر کو دیکھ رہی تھی۔
تم یہاں کیوں آئے ہو اور تم نے دروازہ کیسے کھولا؟
زرتشہ حیران ہو چکی تھی۔
نیلم اور نازیہ کمرے میں داخل ہونے ہی لگیں تھیں کہ سمیر ان دونوں کی طرف پلٹا۔
ہاتھ کے اشارے سے ان دونوں کو باہر جانے کا اشارہ دیا۔
وہ دونوں پیر پٹختی ہوئیں دروازے سے باہر جا رکیں۔
