Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 07)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

وہ چاروں تصویریں دیکھنے میں مصروف تھیں کہ اچانک کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔

دروازے کی آواز پر وہ چاروں دروازے کی طرف متوجہ ہوئیں۔

عافیہ کی تو آنکھیں ہی پھٹی رہ گئیں سمیر کے حلیے کو دیکھ کر۔

سامنے سمیر کھڑا تھا اور اس کے ساتھ ایک آدمی بھی تھا۔

کچھ دیر کے لیے کسی دوسرے روم میں چلی جاو تم سب۔

مجھے یہ لاک ٹھیک کروانا ہے۔۔

سمیر لاک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

زرتشہ تپ کر رہ گئی۔مگر بولی کچھ نہی۔

جانتی تھی اس شخص سے بخث کرنے کا کوئی فائدہ نہی ہے۔

یہ کسی کی نہی سنتا!

بس اپنی ہی منواتا ہے۔

ہم ڈنر کرنے چلتی ہیں۔۔۔

زرتشہ ایک ایک لفظ چبا کر بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

ایک غصیلی نظر دروازے کے باہر کھڑے سمیر پر ڈالی۔

بدلٙے میں سمیر نے اس کی طرف پیاری سی مسکراہٹ اچھالی۔

زرتشہ پیر پٹختی ہوئی آگے بڑھ گئی اور وہ تینوں بھی اس کے ساتھ چل دیں۔

زرتشہ یہ سب کیا تھا؟

یہ سمیر اتنا چینج کیسے ہو گیا؟

یہ تمہارے کمرے میں کیا کر رہا تھا؟

یہ کب سے تمہارے کام کرنے لگا؟

عافیہ حیرتوں میں ڈوبی سوال پر سوال کرتی چلی گئی۔

یہ مصیبت میرا پیچھا نہی چھوڑنے والی۔

زرتشہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔

آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟

کوئِی مجھے بتائے گا کچھ؟

عافیہ ان تینوں کو گھورتے ہوئے بولی۔

یار بتانا کیا ہے؟

سب کچھ تمہارے سامنے ہی تو ہے!

نیلم جھنجلاتے ہوئے بولی۔

مطلب؟

عافیہ نے بھنوئیں اچکائیں۔

مطلب یہ کہ ہماری پیاری دوست زرتشہ خان کی محبت میں قید ہو چکا ہے”سمیر ڈان۔

یہ سب کچھ اس نے زرتشہ کی خاطر کیا ہے۔

تا کہ اس کو اپنی محبت کا یقین دلا سکے۔

نازیہ کے جواب پر عافیہ حیران سی زرتشہ کو دیکھنے لگی۔

زرتشہ کیا واقعی اس نے تمہارے لیے۔۔

میرے لیے نہی!

اس سے پہلے کے عافیہ مزید بولتی۔زرتشہ نے اسے ٹوک دیا۔

یہ سب وہ اپنے لیے کر رہا ہے۔اور ہم سب کو بے وقوف بنا رہا ہے۔

اسے جتنا کچھ میں نے سنایا تھا۔یہ تو ہونا ہی تھا پھر۔

اس کی مردانگی پر سوال جو اٹھا تھا!

خیر تم لوگ چھوڑو یہ سب۔۔۔۔اگنور کرو اسے۔

جو کرتا ہے کرنے دو!

زرتشہ لاپرواہی سے بولتی ہوئی کاونٹر کی طرف بڑھ گئی۔

اور یہ دروازے والا کیا سین ہے تم لوگ ہی بتا دو یار۔زرتشہ تو بتانے سے رہی۔

عافیہ بے زار ہوتے ہوئے بولی۔

دروازے والا سین۔۔۔۔شروع سے بتاتی ہوں۔

نازیہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔

دراصل آج چھٹی سے پہلے زرتشہ لائبریری گئی تھی۔

ہم دونوں کینٹین میں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔

اچانک کہہ لو یا پھر جان بوجھ کر۔سمیر بھی لائبریری پہنچ گیا۔

زرتشہ کا کہنا ہے کہ سمیر نے اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی۔

بس اسی لیے وہ وہاں سے اکیلی ہاسٹل آ گئی۔

اس کا فون بھی بند تھا۔

جب کافی دیر انتظار کرنے پر بھی زرتشہ نہی آئی تو ہم دونوں ہاسٹل واپس آ گئیں۔

زرتشہ خود کو کمرے میں بند کیے بیٹھی تھی۔ہم دونوں بہت دیر تک دروازہ بجاتی رہی مگر کوئی فائدہ نہی ہوا۔

پھر اچانک سمیر وہاں آ گیا اور اس نے دروازے کا لاک توڑ ڈالا اور میرا فون بھی۔

نازیہ نے اپنا ٹوٹا فون بیگ سے نکال کر عافیہ کے سامنے رکھ دیا۔

اوہ۔۔۔یہ سمیر کبھی نہی سدھرنے والا!

عافیہ افسوس کرتے ہوئے بولی۔

ناہ ناہ۔۔۔۔ایسا مت بولو۔

نیلم نے اسے ٹوکا۔

اگر آج سمیر اسے اپنے گھر واپس جانے سے نا روکتا تو ابھی زرتشہ ہمارے ساتھ نہ ہوتی۔

مطلب؟

عافیہ ناسمجھی سے بولی۔

مطلب یہ کہ زرتشہ ڈر کر اپنے گھر واپس جانے والی تھی۔

مگر ہم نے سمیر کو بتا دیا۔اور وہ ہم سے پہلے ہی بس اڈے پر پہنچ گیا۔

زرتشہ کو اپنی جیپ میں واپس چھوڑ گیا ہاسٹل۔

واہ۔۔۔آخر یہ سمیر ہے کیا میری تو سمجھ سے باہر ہے۔عافیہ سر تھامتے ہوئے بولی۔

تم لوگوں کو کیا لگتا ہے وہ واقعی زرتشہ سے محبت کرتا ہے؟

پتہ نہی!

نیلم نے کندھے اچکائے۔

مگر وہ وہ زرتشہ کو واپس لے آیا۔

آخر کیوں؟

یہ بات ہمیں بھی پریشان کر رہی ہے۔

بس میرے ایک میسیج پر وہ بس اڈے پہنچ گیا۔

چاہتا تو جانے دیتا زرتشہ کو۔

اس سمیر نامی بندے کو سمجھنا نا ممکن ہے۔

اف۔۔۔جب میں گئی تھی تم بھی سمیر،سمیر،سمیر!

واپس آئی ہوں تو اب بھی سمیر ہی زیرِ بخث ہے۔

کوئِی اور بات بھی کر لو یار۔۔۔۔۔

کیا ہوا بور کیوں ہو رہی ہو؟

زرتشہ آرڈر دے کر واپس گئی اور مسکراتے ہوئے بولی۔

زرتشہ!

اس سے پہلے کہ عافیہ کچھ بولتی زرتشہ کا نام کسی نے پکارا وہ بھی بہت غصے سے۔

زرتشہ نے پلٹ کر دیکھا۔سامنے باسط کھڑا تھا بہت غصے سے۔

جی باسط لالہ!

کیا ہوا آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں؟

زرتشہ مجھے بس ایک بات کا جواب دے دو۔

کیا سمیر نے آج تمہارے ساتھ بدتمیزی کی لائیبریری میں؟

زرتشہ کے ہاتھ،پیر پھول گئے باسط کی بات پر۔

وہ گھبرا کر ان تینوں کی طرف دیکھنے لگی۔

زرتشہ جواب دو مجھے؟

باسط غصے سے دھاڑا۔

جی۔۔زرتشہ بس اتنا بول کر سر جھکا گئی۔

اس کی اتنی ہمت۔۔۔۔

آج میں اس کو چھوڑوں گا نہی۔۔۔۔

باسط غصے میں وہاں سےچل پڑا۔

زرتشہ بھی اس کے پیچھے دوڑی۔

اوہ شٹ!

یہ اچھا نہی ہوا۔۔۔وہ تینوں بھی زرتشہ کے پیچھے دوڑیں۔

نہی باسط لالہ رک جائیں!

وہ اپنی غلطی کے لیے معافی مانگ چکا ہے۔

آئِندہ ایسا کچھ نہی کرے گا وہ۔وعدہ کیا ہے اس نے۔

آپ پلیز رک جائیں!

زرتشہ اس کے ساتھ ساتھ چلتی بول رہی تھی مگر باسط نے اس کی ایک نہی سنی۔

بوائز ہاسٹل پہنچ کر باسط سمیر کے کمرے کی طرف بڑھا۔

زرتشہ وہی گیٹ پر رک کر گارڈ سے اندر جانے کی اجازت مانگنے لگی۔

گارڈ کسی صورت بھی ان سب کو اندر جانے کی اجازت نہی دے رہا تھا۔

وہ چاروں بے بسی سے وہیں گیٹ کے باہر باسط کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگیں۔

باسط سمیر کے کمرے تک گیا تو اس کے کمرے کے دروازے پر تالا لگا تھا۔

باسط نے غصے سے دروازے پر ایک ٹانگ رسید کی۔

شور کی آواز پر اردگرد کے کمروں سے لڑکے باہر آنے لگے۔

کہاں گیا ہے یہ؟

باسط سامنے والے کمرے سے جھانکتے لڑکے کو دیکھتے ہوئے دھاڑا۔

سمیر بھائی تو اس وقت جِم جاتے ہیں۔

اس لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

کونسی جم؟

ایڈریس دو مجھے!

باسط پھر سے غصے سے بولا۔

یہ ہاسٹل کی پچھلی گلی میں جو جِم ہے وہاں۔

وہ لڑکا بس اتنا بول کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔

باسط غصے سے وہاں سے چل پڑا۔

زرتشہ نے اسے واپس آتے دیکھا تو جلدی سے اس کی طرف بڑھی۔

باسط لالہ آپ چھوڑ دیں اس بات کو خدا کا واسطہ ہے۔

زرتشہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔

زرتشہ تم مجھے خدا کا واسطہ مت دو۔

آج میں اس کو چھوڑنے والا نہی ہوں۔

اس کی بدتمیزیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔اسے لگام ڈالنی ہی ہو گی۔

یہ کیا تمہیں لا وارث سمجھتا ہے۔

تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔

سب مجھ پر چھوڑ دو!

تم ہاسٹل واپس جاو میں اس کو جم میں ہی دیکھ لوں گا۔

باسط غصے سے بولتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔

وہ چاروں بھی باسط کے پیچھے پیچھے دوڑیں۔

باسط لالہ رک جائیں پلیز!

زرتشہ بول رہی تھی۔مگر باسط سننے کے موڈ میں ہی نہی تھا۔

وہ غصے سے جم کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا۔

وہ چاروں بھی اس کے ساتھ جم میں داخل ہوئیں۔

کاونٹر پر بیٹھا جم کا مالک پریشانی سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔

سمیر کہاں ہے؟

باسط دونوں ہاتھ کاونٹر پر رکھتے ہوئے بولا۔

وہاں۔۔۔۔!

اس نے دور کھڑے سمیر کی طرف اشارہ کیا۔

مگر ہوا کیا ہے؟

وہ پریشانی سے بولا۔

باسط اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

سمیر مسکراتے ہوئے فیصل اور نوید سے باتیں کرنے میں مصروف تھا۔

اچانک اس کی نظر سامنے سے آتے باسط اور اس کے ساتھ آتی زرتشہ اور باقی سب پر پڑی۔

سمیر نے حیرت سے ان سب کو دیکھا۔

باسط تیزی سے سمیر کی طرف بڑھا اور ایک ہاتھ سمیر کی گردن پر رکھتے ہوئے اسے دھکا دیتے ہوئے دیوار سے لگا دیا۔

سمیر اس اچانک ہونے پر حملے پر کچھ سمجھ ہی نہی پایا۔

جب اپنی گردن پر دباو محسوس ہوا تو تو دونوں ہاتھ باسط کی گردن پر رکھ دئیے۔

سمیر کی گردن پر باسط کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔

سمیر چھوڑ دو انہیں!

زرتشہ تیزی سے آگے بڑھی۔

سمیر غصے سے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔

اگر تم کہتی ہو تو چھوڑ دیتا ہوں۔

سمیر نے باسط کو چھوڑا تو کھانستے ہوئے دیوار سے جا لگا۔

سمیر نے آگے بڑھ کر اس کے بال تھامتے ہوئے چہرہ اوپر کیا۔

ابھی بچے ہو تم بیٹا!

اس طرح کے کھیل کھیلنے کی کوشش مت کرنا آئیندہ چوٹ لگ جائے گی سمجھے؟

یہ باڈی میں نے تم جیسوں سے نپٹنے کے لیے ہی بنائی ہے۔

سمیر اپنے ابھرتے بازووں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

وہ اس وقت کالا ٹراوزر اور کالی بنیان پہنے کھڑا تھا۔

باسط جیسے ہی تھوڑا سنبھلا اس نے پھر سے سمیر پر حملہ کر دیا۔

اب کی بار اس نے سمیر کے پیٹ پر مکا رسید کیا۔

اوئے۔۔۔۔فیصل اور نوید تیزی سے آگے بڑھے۔

سمیر نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

اٹس اوکے!

بچے کو میں دیکھ لوں گا۔

کم آن۔۔۔لیٹس فائٹ۔۔۔۔

سمیر نے اسے پھر سے للکارا۔

باسط پھر سے آگے بڑھا۔

تیری ہمت کیسے ہوئی زرتشہ کو ہاتھ لگانے کی۔

باسط نے پھر سے ایک مکا سمیر کے پیٹ میں مارا۔

باسط لالہ بس کر دیں!

چلیں یہاں سے۔۔زرتشہ ان دونوں کے درمیان آ رکی۔

سمیر مسکرا دیا۔

اچھا تو یہ بات ہے!

بہن کا بدلہ لینے آئے ہو؟

سمیر ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

سب لوگ اپنی ورزش چھوڑ کر ان دونوں کو دیکھنے میں مصروف ہو گئی۔

دیکھو بیٹا بہنوئی ہوں تمہارا میں!

یہ مار پیٹ مہنگی پڑ سکتی ہے تمہیں،سمیر آنکھ دباتے ہوئے بولا۔

باسط مزید تپ گیا۔

زرتشہ کو پیچھے کرتے ہوئے پھر سے سمیر کی طرف بڑھا۔

میں تمہاری زبان کھینچ لوں گا۔اگر اب تم نے زرتشہ کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا۔

باسط نے سمیر کی طرف ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ سمیر نے اس کا ہاتھ روک لیا اور سر نفی میں ہلا دیا۔

ناں بیٹا اب اور نہی!

“میں کروں گا زرتشہ کی بات کیا کر لو گے تم؟

سمیر اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا۔

میں تمہاری جان لے لوں گا!

باسط غصے سے دھاڑا۔

وجہ؟

آخر مسئلہ ہی کیا ہے تمہیں ہم دونوں سے؟

زرتشہ میری ہونے والی بیوی ہے!

عزت ہے میری!

باسط غصے سے دھاڑا۔

سمیر نے مسکراتے ہوئے زرتشہ کی طرف دیکھا۔

اب کیا کہو گی تم؟

سارا دن جس کو باسط لالہ،باسط لالہ پکارتے نہی تھکتی تم۔وہ تو دل میں تم سے شادی کے ارمان لیے پھیرتا ہے۔

واہ۔۔۔۔۔کیا ہی بات ہے۔

سمیر کے الفاظ زرتشہ کو کانٹوں کی طرح چھبے۔

وہ غصے سے باسط کی طرف بڑھی۔

باسط لالہ!

آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟

میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں زرتشہ،

تم میری ہونے والی بیوی ہو۔

زرتشہ غصے سے وہاں سے پلٹی۔۔۔بس کر دیں آپ دونوں۔

“میری عزت کا مزید تماشہ مت بنائیں!

زرتشہ ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

سمیر دونوں بازو سیبے پر فولڈ کیے لب بھینچے زرتشہ کو دیکھنے لگا۔

آج اس بات کو یہی ختم کر دیا جائے اور میری زندگی میں دخل اندازی بند کر دیں آپ دونوں۔

چلو یہاں سے۔۔۔زرتشہ ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

رکو زرتشہ!

سمیر کی آواز پر زرتشہ پلٹی۔

“آج یہ معاملہ یہی ختم ہو گا!

سمیر زرتشہ سے بولتے ہوئے واپس فیصل اور نوید کی طرف پلٹا۔

وہ دونوں جِم سے باہر نکل گئے۔

کیا کرنا چاہتے ہو اب تم؟

زرتشہ،سمیر کی طرف بڑھی۔

بہت جلد پتہ چل جائے گا تمہیں!

بس پانچ منٹ انتظار کر لو۔

سمیر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں واپس آئے۔مگر اکیلے نہی!

ان کے ساتھ نکاح خواں بھی تھا۔

دروازے بند کروا دو سارے اور گارڈز کو اندر بلوا لو۔

سمیر کی بات پر زرتشہ نے حیرانگی سے سمیر کی طرف دیکھا۔

یہ سب کیا کر رہے ہو تم؟

وہ غصے سے چلائی۔

سمیر نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔

باسط بھی غصے سے آگے بڑھا۔

یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے؟

پریشان مت ہو بیٹا!

“تمہاری نمازِ جنازہ نہی پڑھوانے لگا!

“نکاح پڑھوانے لگا ہوں۔

“زرتشہ خان کے ساتھ!

سمیر کی بات پر سب کے چہروں پر حیرانگی چھا گئی۔

زرتشہ کو لگا جیسے وہ کوئی برا خواب دیکھ رہی ہے۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *