Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 01)

Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi

زرتشہ تم ہمیں بھول ہی جاتی ہو اپنے گھر جا کر۔۔۔۔۔۔،

اب ہم تمہیں جلدی نہی جانے دیں گی’ہمارا دل نہی لگتا تمہارے بغیر،

نیلم منہ بناتے ہوئے بول رہی تھی’

ہاں سہی کہا!

عافیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

اب ہم اسے کہی نہی جانے دیں گے’یہ گھر کیا چلی جاتی ہے۔

ہمیں بھول ہی جاتی ہے’ہم دونوں ناراض ہیں تم سے’

نیلم اور عافیہ منہ بناتے ہوئے بولیں۔

زرتشہ آج ہی واپس آئی تھی یونیورسٹی’کینٹین میں بیٹھی سب دوستیں گپیں لگا رہی تھیں۔

گپیں کم شکوے زیادہ چل رہے تھے’نیلم اور عافیہ کی”زرتشہ کے علاوہ کوئی دوست نہی تھی۔

کیا کروں یار جانا تو پڑتا ہے ناں’بھائیوں کے علاوہ اور ہے ہی کون میرا وہاں۔

تم دونوں جانتی تو بھابیوں کے رویوں کو’

ان کا بس چلے تو ایک منٹ نہ رہنے دیں مجھے وہاں۔

ان کے رویوں کے باوجو بھی میں وہاں جاتی ہوں’اپنے بھائیوں سے تعلق ختم نہی کر سکتی میں۔

بابا جان کے بعد اب بھائی ہی میرا سب کچھ ہیں!

زرتشہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔

اچھا اچھا بی بی جب دل چاہے چلی جایا کرو بس جلدی واپس آجایا کرو۔

چل چھوڑ یار تو چپ ہو جا’

نیلم،زرتشہ کو چپ کرواتے ہوئے بولی۔

ہاں زرتشہ تم دکھی مت ہوا کرو پلیز۔۔۔چلو جلدی سے اپنا لنچ ختم کرو۔

کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے۔

عافیہ ٹائم دیکھتے ہوئے بولی۔

تینوں لنچ کر کے جلدی سے کلاس روم کی طرف بڑھیں۔

زرتشہ اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے تیز تیز چلتی جا رہی تھی کہ اچانک اس کا پاوں کسی چیز کے ساتھ ٹکرایا۔

اس کے ہاتھ میں جوس والا گلاس سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے فون میں مصروف سٹوڈنٹ پر پڑا۔

عافیہ اور نیلم کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔

آئی ایم سوری!

زرتشہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔

سامنے والے کے فون پر جوس گِر چکا تھا اور وہ بس ظبط سے لب بھینچے زرتشہ کو گھور رہا تھا۔

“میرا کوئی قصور نہی ہے اس میں دراصل راستے میں یہ پتھر تھا۔

میرا پاوں ٹکرا گیا۔

زرتشہ شرمندہ سی نظریں جھکائے بول رہی تھی۔

ہاں۔۔۔اس کی کوئی غلطی نہی ہے’

غلطی سے ہو گیا اس سے آپ پلیز زرتشہ کو معاف کر دیں۔

عافیہ اور نیلم تیزی سے زرتشہ کے سامنے آ گئیں۔اس کے حق میں بولنے لگیں۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو یہاں سے جانے کو کہا اور اپنا فون ٹشو سے صاف کرنے لگا۔

زرتشہ نے حیرانگی سے اس کی اس حرکت کو نوٹ کیا اور پھر عافیہ اور نیلم کو گھورا۔

وہ دونوں اسے وہاں سے بازو سے کھینچتے ہوئے لے جا رہی تھیں۔

زرتشہ ان سے اپنے بازو چھڑاتے ہوئے تیزی سے اس گھمنڈو شخص کی طرف بڑھی۔

اے مسٹر!

زرتشہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔

اس کا فون صاف کرتا ٹشو والا ہاتھ رُکا اور وہ حیرانگی سے زرتشہ کی طرف دیکھنے لگا۔

“کیا سمجھتے ہو تم اپنے آپ کو؟

کیا تہماری نظر میں عورت کی کوئی عزت نہی ہے جو بنا بولے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں یہاں سے جانے کے لیے کہہ رہے ہو’

میری غلطی نہی تھی پھر بھی میں نے معافی مانگی۔

مگر تمہارے تو مزاج ہی نہی مل رہے’

کینٹین میں موجود سارے سٹوڈنٹس زرتشہ کو دیکھنے لگے۔

کیا ہو جاتا اگر منہ سے دو الفاظ بول دیتے تم؟

مگر نہی ایسا کرنے سے آپ کی شان میں فرق پڑ جانا تھا ناں،،

زرتشہ چلو یہاں سے!

عافیہ اور نیلم اسے وہاں سے لے کر جانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔

مگر زرتشہ ان کی کوئی بات سُن ہی نہی رہی تھی۔

وہ بہت غصے میں تھی۔

“آج کے بعد کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار مت کرنا”

زرتشہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے وارن کر رہی تھی۔

وہ بس حیران نظروں سے زرتشہ کو بولتے ہوئے سُن رہا تھا۔

اس کے دوست بھی حیران تھے کہ وہ کچھ بول کیوں نہی رہا۔

زرتشہ اسے وارن کرتے ہوئے وہاں سے چل پڑی اور وہ حیران پریشان سا اسے جاتے دیکھتا رہ گیا۔

کلاس سے وہ تینوں لیٹ ہو چکی تھیں’

کلاس لگ چکی تھی اور اب ان کی کلاس لگنے والی تھی۔

لیٹ آنے پر تینوں کو کلاس میں داخل ہی نہی ہونے دیا گیا۔

وہ تینوں کلاس سے باہر خاموش کھڑی تھیں۔

کیا زرتشہ۔۔۔دیکھو نا ہماری کلاس مِس ہو گئی’عافیہ نے بات شروع کی۔

سہی کہا۔۔نا یہ زرتشہ وقت ضائع کرتی نا یہ سب ہوتا’نیلم نے بھی عافیہ کا ساتھ دیا۔

زرتشہ نے دونوں کو گھوری سے نوازا۔

تم دونوں بہت بری ہو’میرا ساتھ دینے کی بجائے مجھے وہاں سے چپ چاپ کھسکانا چاہتی تھیں تم دونوں۔

ہاں تو اور کیا کرتی ہم؟

اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے’

تم جانتی نہی اسے کون ہے وہ!

اگر جان جاتی تو کبھی اس کے سامنے بولنے کی ہمت نہی کرتی۔

ڈان ہے وہ یونیورسٹی کا!

یونیورسٹی کے پہلے ہی دن اس کی دہشت دیکھ چکی ہیں ہم دونوں۔

تم ایک ہفتے بعد آئی تھی نا اسی لیے تم نہی جانتی اس کے بارے میں۔

جب سے تم آئی تب سے وہ غیر حاضر تھا’آج نظر آیا ہے ہمیں۔

سینئیر ہے وہ ہم سے اور سٹوڈنٹس ریگنگ وغیرہ کرنا اس کے شوق ہیں۔

اور حیرانگی تو اس بات کی ہے کہ کوئی بھی اس کے خلاف آواز نہی اٹھاتا۔

کیونکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والے کو وہ یونیورسٹی سے ہی آوٹ کر دیتا ہے۔

اسی لیے ہم تمہیں بولنے سے منع کر رہی تھیں۔

دونوں باری باری بول رہی تھیں۔

ہم کسی قسم کی مصیبت میں نہی پڑنا چاہتیں اور نا ہی تمہیں مصیبت میں پڑتے ہوئے دیکھ سکتی ہیں۔

تم نے جو اس کے ساتھ کیا ہے دیکھنا اب وہ اتنی آسانی سے تمہارا پیچھا نہی چھوڑے گا۔

پتہ نہی کیا کرے گا اب ہمارے ساتھ!

عافیہ اور نیلم دونوں پریشانی سے بول رہی تھیں۔

زرتشہ نے افسوس سے دونوں کو دیکھا۔

میں نہی جانتی تھی کہ میری فرینڈز اتنی ڈرپوک ہیں۔

کچھ نہی بگاڑ سکتا وہ ہمارا تم دونوں فضول میں ڈر رہی ہو۔

وہ ایک معمولی انسان ہے ہماری طرح’

میں ہوں تم دونوں کے ساتھ۔

میرے ہوتے ہوئے تم دونوں کو ڈرنے کی ضرورت نہی ہے۔

وہ مجھے بھی نہی جانتا ابھی’

“زرتشہ خان سے پالا پڑا ہے اس کا یاد رکھے گا”

________________________________________

کون تھی یہ لڑکی؟

زرتشہ کے جاتے ہی وہ اپنے دوستوں پر پھٹ پڑا۔

زرتشہ نام ہے شاید اس کا!

نوید کچھ سوچتے ہوئے بولا’

شاید نہی۔۔۔مجھے سارا بائیو ڈیٹا چاہیے اس لڑکی کا۔

اُس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔

غصے سے فون ٹیبل پر پھینکتے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

“میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی وہ”

آج تک کسی کی ہمت نہی ہوئی یونیورسٹی میں مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔

وہ مجھ سے ڈری بھی نہی!

اور پہلے کبھی دیکھا نہی میں نے اس کو آج ہی دیکھا ہے یونیورسٹی میں۔

شاید مجھے جانتی نہی وہ ابھی اسی لیے اتنی ہمت ہوئی اس کی۔

اس کے سامنے تو کچھ بولے نہی تم!

اب ہم پر غصہ نکال رہے ہو۔

فیصل نے بھی جواب دینا ضروری سمجھا۔

تم نے شاید سنا نہی!

اس کی فرینڈز اسے زرتشہ کہہ کر بلا رہی تھیں۔

“تم چپ رہو۔۔۔میں بس حیران تھا اس کی جرات پر وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا۔

اچھا خیر چھوڑو تم یہ جوس پی لو’ہم سب پتہ کروا لیں گے اس کے بارے میں۔

نوید نے اس کے سامنے جوس کا گلاس رکھا۔

نہی۔۔۔مجھے نہی چاہیے!

مجھے بدلہ لینا ہے اس لڑکی سے’

واٹ؟؟؟

نوید چلایا’

کیا کہا تم نے بدلہ لو گے؟

وہ بھی ایک لڑکی سے!

نوید نے افسوس سے اس اکڑو شخص کی طرف دیکھا۔

ہاں ٹھیک سُنا تم نے!

میں اس لڑکی سے بدلہ لوں گا۔

جب تک اس کو جواب نہ دے لوں میں’مجھے چین نہی آنے والا۔

آج اس نے ہمت کی ہے دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے سٹوڈنس بھی آواز اٹھانے لگیں گے میرے سامنے۔

آج اگر اس کو جواب نہی دیا تو بہت مشکل ہو جائے گی میرے لیے۔

تم دونوں میری مدد کرو گے یا نہی؟

بھنوئیں اُچکاتے ہوئے سوال پوچھا گیا۔

ظاہری سی بات ہے یار ہم دوست ہیں تمہارے ساتھ دیں گے تمہارا’

اس سے پہلے کہ نوید کچھ بولتا فیصل نے اسے کہنی ماری اور چُپ رہنے کا اشارہ کیا۔

ہاں بھئی سہی کہا اب دوست ہیں تو ساتھ تو دینا ہی پڑے گا’ہر اچھے برے کام میں۔

نوید زیرِِِ لب بولا۔

تو جاو پھر لگ جاو کام پے!

انداز حکم دینے والا تھا۔

وہ دونوں اٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔

وہ اپنے فون کو اٹھاتے ہوئے ٹشو سے صاف کرنے لگا۔

اگر میرا فون خراب ہوا تو جان لے لوں گا میں اُس لڑکی کی۔

تھوڑی دیر بعد نوید اور فیصل واپس آئے۔

بی ایس سی کی سٹوڈنٹ ہے’

زرتشہ خان نام ہے اس کا’

کہاں سے آئی ہے یہ بھی نہی پتہ چل سکا۔

ہاسٹل میں رہتی ہے اپنی فرینڈز کے ساتھ’

وہی جو دو لڑکیاں اس کے ساتھ تھیں ان کے ساتھ۔

کیونکہ ان دو لڑکیوں کے سوا کسی سے دوستی نہی ہے اس کی تو بس اتنی ہی معلومات مل سکی ہیں۔

دونوں جلدی جلدی سب بول گئے۔

ٹھیک ہے اتنا ہی کافی ہے!

چلو میرے ساتھ۔۔۔’

وہ تینوں اٹھ کر کینٹین سے باہر نکل گئے۔

وہ کلاس روم کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر سامنے سے آ رہی زرتشہ پر پڑی۔

عافیہ اور نیلم اس کے ساتھ نہی تھیں۔

زرتشہ نے اسے اپنی طرف دیکھ کر رکتے ہوئے دیکھ لیا۔

وہ دوسرے راستے کی طرف بڑھ گئی۔

اس نے دور سے ہی زرتشہ کو راستہ بدلتے دیکھ غصے سے آنکھیں سکوڑیں۔

تم دونوں جاو کلاس میں’آتا ہوں میں نوید اور فیصل سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کندھے اچکاتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئے۔

زرتشہ نے ابھی سیڑھیاں اترنے کے لیے قدم بڑھایا ہی تھا کہ وہ سامنے کھڑا تھا۔

زرتشہ ڈر کر پیچھے ہٹی’

کوئی اور سٹوڈنٹ بھی نظر نہی آ رہا تھا اسے وہاں۔

زرتشہ نے اردگرد نظر دوڑائی کوئی بھی نہی تھا ان دونوں کے سوا۔

زرتشہ کو اپنے راستہ بدلنے کے فیصلے پر بہت افسوس ہوا۔

زرتشہ نے جیسے ہی قدم آگے بڑھائے وہ سامنے آ کھڑا ہوا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے؟

زرتشہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی۔

مجھے بات کرنی تھی آپ سے!

زرتشہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

سیڑھیوں کے ساتھ بنی دیوار سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے نظریں جھکائے بولا۔

“اوہ۔۔۔آپ بولتے بھی ہیں؟

میں تو سمجھی تھی تم گونگے ہو۔

زرتشہ کی بات پر اس نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔

انگلی اٹھا کر کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ رُک گیا۔

اس کے لیے ظبط کرنا بہت مشکل تھا’

مگر پھر اپنا پلان سوچتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

آئی ایم سوری!

زرتشہ کی طرف دلفریب مسکراہٹ اچھالتے ہوئے بولا۔

زرتشہ حیران و پریشان اسے دیکھنے لگی’اس کا بدلتا رویہ زرتشہ کو حیرت میں ڈال گیا۔

“میں اپنے رویے پر شرمندہ ہوں۔

مجھے ایسا نہی کرنا چاہیے تھا۔

دراصل میں اپنے فون کی وجہ سے پریشان ہو گیا تھا۔

پریشانی میں ایسا کر دیا’آئیندہ دھیان رکھوں گا میں۔

اگر کوئی پرابلم ہو تو بلاجھجک مجھ سے شئیر کر سکتی ہیں۔

مائی سیلف سمیر!

اس نے زرتشہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

زرتشہ کسی خواب سی کیفیت میں اسے بولتے ہوئے سُن رہی تھی۔

اتنا اکڑو سخص اچانک اتنا نرم دل کیسے ہو گیا۔

سوری۔۔۔میں لڑکوں سے دوستی نہی کرتی۔

زرتشہ راستہ بناتے ہوئے بس اتنا بول کر تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی۔

سمیر نے ظبط سے اپنے آگے بڑھے ہاتھ کو دیکھا۔

زرتشہ جا چکی تھی۔

اتنی بے عزتی آج تک کسی نے نہی کی میری’

اس کا انجام تمہیں بھگتنا پڑے گا!

مس زرتشہ خان۔۔ایک ایک لفظ غصے سے چباتے ہوئے بولا۔

سمیر نے غصے سے مٹھی بند کر لی اور وہاں سے چل پڑا۔

پھر اس نے زرتشہ کے سامنے اچھا بننے کی ایکٹنگ شروع کر دی۔

نوید اور فیصل کو اسی کام پر لگا دیا اس نے’جیسے ہی زرتشہ کو دیکھتے وہ لوگ سمیر کو بتا دیتے کہ وہ اسی طرف آ رہی ہے۔

سمیر کسی نا کسی سٹوڈنٹ کو گھور کر اپنے ساتھ بٹھا لیتا۔

کبھی کسی کی مدد کر رہا ہوتا تو کبھی کسی کی’شروع شروع میں تو زرتشہ اگنور کرتی رہی۔

مگر پھر جلدی ہی اسے احساس ہونے لگا کہ سمیر اتنا برا لڑکا بھی نہی ہے جتنا میں نے سمجھا تھا۔

ایک دن زرتشہ نے خود اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔

مگر وہ اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

بھاڑ میں جاو تم!

زرتشہ پیر پٹختے ہوئے وہاں سے چل پڑی۔

سمیر کے ہونٹوں پر فاتخانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

کچھ دن بعد زرتشہ نیلم اور عافیہ کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی کینٹین سے باہر نکل کر پارک کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک سمیر اپنے دوستوں کے ساتھ اس کے سامنے آ رکا۔

عافیہ اور نیلم کی تو حالت خراب ہونے لگی’زرتشہ چلو یہاں سے ان دونوں نے زرتشہ کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔

مگر زرتشہ اپنی جگہ سے نہی ہلی۔

اچانک سمیر زرتشہ کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک گیا۔

زرتشہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

نیلم اور عافیہ کا بھی یہی حال تھا۔

زرتشہ ڈر کر تھوڑا پیچھے ہٹی مگر عافیہ اور نیلم نے اسے روک دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے سارے سٹوڈنس ان کے اردگرد دائرہ بنا کر جمع ہونے لگے۔

گھنی لمبی مونچھیں’ہلکی سی شیو’۔

‘کان میں بالی۔

لمبے کندھوں تک آتے براون شیڈ ڈائی کیے بال۔

اونچا قد۔

کالی شلوار قمیض پہنے’ہاتھ میں گلاب کا پھول تھامے’وہ ایک وجہیہ مرد لگ لگ رہا تھا۔

وہ پوری یونیورسٹی پر چھایا ہوا تھا۔

گھنٹوں کے بل بیٹھا اپنے دل کی بات کہنے لگا ہے وہ آج۔

سارے سٹوڈنٹس ان کے اردگرد دائرہ بنائے دم سادھے یہ منظر دیکھنے لگے۔

سب لڑکیاں دل پر ہاتھ رکھے اُس کے بولنے کا انتظار کر رہی ہیں۔

اُس لڑکی کی قسمت پر رشک کر رہی ہیں’جس کے سامنے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہے۔

مگر وہ لڑکی اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔

لانگ وائٹ شرٹ،بلیو جینز،گلے میں بلیو ڈوپٹہ اور اس کے کھلے لمبے سنہری بال ہوا میں لہرا رہے ہیں۔

وہ بار بار اہنے چہرے پر آتے بال ہاتھ سے کان کے پیچھے سمیٹتنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔

وہ یہاں سے جانا چاہتی ہے’مگر اس لڑکے کی دہشت ہی اتنی ہے یونیورسٹی میں کہ اس کی فرینڈز اسے زبردستی وہاں روکے ہوئی ہیں۔

آخر کار اس نے بولنا شروع کیا۔

“زرتشہ میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے”

“جب سے تمہیں دیکھا ہے پاگل سا رہنے لگا ہوں”

“اپنا ہوش ہی نہی رہتا مجھے”

“تم میری زندگی بن چکی ہو”

“کیا تم میری ہمسفر بنوں گی”

“میرے ساتھ میرے گاوں چلو گی”

“میری بھینسوں کو نہلاو گی”

“ہم ساتھ مل کر بھینسوں کو چارہ ڈالیں گے’ان کو نہلائیں گے”

“تم میری بھینسوں کی بھابی بنوں گی”

واٹ۔۔؟

وہ زیرِلب بولا’اور ایک نظر سامنے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے نوید اور فیصل پر ڈالی۔

وہ دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔اور صرف وہ ہی نہی پوری یونیورسٹی “دا ڈان سمیر گُجر کا یہ پرپوزل سُن کر ہنس رہی تھی۔

سمیر نے لب بھینچے دونوں کی طرف دیکھا’جیسے کہنا چاہ رہا ہو۔

آج تم دونوں کی خیر نہی۔

سمیر کو اپنے یہ دونوں دوست آج دشمن محسوس ہو رہے تھے۔

اس نے زرتشہ کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔

زرتشہ نے پاس کھڑی نازیہ کے ہاتھ سے پانی کی بوتل کھینچی۔

اور سارا پانی سمیر کے سر پر الٹ دیا۔

“فٹے منہ تم پر بھی اور تمہاری بھینسوں پر بھی”

زرتشہ سمیر کو حیران کرتے ہوئے وہاں سے چل پڑی اپنی دوستوں کو ساتھ لیے۔

سمیر کی اتنی بے عزتی کبھی نہی کی پہلے کسی نے۔

وہ چہرے پر آئے گیلے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے سمیٹتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔

سمیر نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی’فیصل اور نوید یہاں سے غائب ہو چکے تھے۔

اُس نے ایک غصیلی نظر اردگرد کھڑے قہقے لگاتے سٹوڈنس پر ڈالی۔

“کیا مسئلہ ہے’یہاں کوئی فلم چل رہی ہے کیا جو سارے منہ اٹھائے کھڑے ہو۔

سمیر چلانے کے انداز میں بولا۔

سارے سٹوڈنٹس دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گئے وہاں سے۔

سمیر نے ہاتھ میں پکڑا گلاب کا پھول مسل ڈالا۔

وہ پیپر جو فیصل اور نوید نے لکھ کر دیا تھا اسے وہ غصے سے پھاڑ کر پاس پڑی باسکٹ میں ڈال دیا’اور کلاس کی طرف بڑھ گیا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *