Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 04)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 04)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
زرتشہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔
اس کی حیرت کی انتہا نا رہی۔
وہ جیپ پارک کرنے کے بعد کندھے پر بیگ لٹکائے آگے بڑھ گیا۔
ایک نظر زرتشہ پر ڈالنا بھی ضروری نہی سمجھا۔
جبکہ زرتشہ اس کے حصار میں قید سی کھڑی تھی۔
آنکھوں پر سیاہ چشمہ،ہیئر سٹائل،ڈریسنگ۔۔زرتشہ کی آنکھوں میں اس کا چہرہ سما سا گیا۔
نہی۔۔۔یہ نہی ہو سکتا!
زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔
نہی۔۔۔”یہ سمیر نہی ہو سکتا۔
زرتشہ کو لگا شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔
سمیر کے لمبے بال،اس کی مونچھیں،نہی۔۔وہ میرے کہنے پر ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
زرتشہ خود سے سوال کر رہی تھی۔
اگر اس نے میرے کہنے پر یہ سب کیا ہے تو اس کا مطلب!
زرتشہ نے سر نفی میں ہلایا۔
“تو کیا یہ سچ میں مجھ سے محبت کرتا ہے؟
“میرے لیے کیا اس نے یہ سب!
چند دنوں میں خود کو بدل ڈالا۔
“میرے لیے!
نہی ایسا نہی ہو سکتا!
“نہی اس کے پیچھے بھی ضرور اس کا کوئی مفاد چھپا ہو گا”
میں اس پر یقین نہی کر سکتی۔
یہ شخص ہر لمحے مجھے ایک نیا چہرہ دکھاتا ہے اپنا۔
اگر اس نے یہ سب میرے کہنے پر کیا بھی ہے۔ تو بھی مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔
جو دل میں آئے کرے!
مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔
زرتشہ اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔
پلر کے پیچھے چھپ کر کھڑے سمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
زرتشہ اس کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئی۔
اس نے سمیر کو نہی دیکھا۔
سمیر مسکراتے ہوئے آنکھوں سے گلاسز اتارتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔
زرتشہ کو اپنے ساتھ کسی کے ہونے کا احساس ہوا تو واپس پلٹی۔
پیچھے سمیر کھڑا تھا نظریں فون پر جمائے۔
زرتشہ کے رکنے پر وہ بھی رک گیا۔مگر زرتشہ کی طرف دیکھا نہی۔
زرتشہ کو حیرت ہوئی سمیر اس سے پہلے آیا تھا مگر ابھی تک یہاں ہی پہنچ پایا ہے۔
زرتشہ نے نوٹ کیا کہ سمیر اسے اگنور کر رہا ہے۔
زرتشہ پیر پٹختی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
سمیر نے بھی زرتشہ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے قدم بڑھا دئیے۔
زرتشہ اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔
دروازے پر رُک کر کچھ دیر بعد پلٹی۔
سمیر آگے بڑھ چکا تھا۔
زرتشہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
ڈرامے باز کہیں کا!
سارا ڈرامہ ہے اس کا سب سمجھتی ہوں میں۔
یہ سمجھتا ہے کہ میں اس کی پرسنیلٹی دیکھ کر اس پر مر مٹوں گی۔
مگر یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
میں ایسا کچھ نہی کرنے والی۔
جتنا مرضی ہینڈسم بن جائے یہ۔۔۔میرا فیصلہ نہی بدلنے والا۔
صرف حلیہ بدلا ہے اس نے”اپنی عادتیں نہی!
جو مرضی کر لے رہے گا تو لوفر کا لوفر ہی!
ہوں۔۔۔خیر مجھے کیا؟
میں کیوں اس کے بارے میں اتنا سوچ رہی ہوں۔
بھاڑ میں جائے میری بلا سے!
زرتشہ اپنے آپ کو کوستے ہوئے اپنا بیگ کھول کر اسائمنٹ چیک کرنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد نازیہ اور نیلم کلاس میں داخل ہوئیں۔
اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔!
زرتشہ تم نے دیکھا؟
نازیہ اور نیلم تیزی سے زرتشہ کے پاس آ بیٹھیں۔
زرتشہ تم نے سمیر کو دیکھا؟
نیلم نان اسٹاپ بولتی جا رہی تھی۔
دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے دونوں بھاگتی ہوئی آئیں ہو۔
کیا مسلہ ہے تم دونوں کے ساتھ؟
زرتشہ جھنجلائی ہوئی بولی۔
یاررر تم نے سمیر کو دیکھا؟
اب کی بار نازیہ بولی۔
ہاں ہاں دیکھا لیا ہے میں نے!
کیا کروں اب؟
زرتشہ غصے سے پھنکاری۔
نازیہ اور نیلم حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگیں۔
زرتشہ اس نے اپنے بال کٹوا دئیے!
اور مونچھیں بھی چھوٹی کروا دی ہیں۔!
نیلم تیزی سے بولی۔
تو میں کیا کروں اگر اس نے مونچھیں کٹوا دیں ہیں تو؟
تم دونوں کیا صبح صبح یہ سمیر کو لے کر بیٹھ گئی ہو۔
اسائمنٹ چیک کرو اپنی اپنی’آج جمع کروانی ہیں۔
جب دیکھو سمیر،سمیر لگائی ہوتی ہے تم دونوں نے!
اور کوئی کام ہی نہی ہے۔
زرتشہ کی آواز اب دھیمی ہو چکی تھی’
کیونکہ کلاس کا ٹائم ہو رہا تھا اور سارے سٹوڈنٹس آ چکے تھے کلاس میں۔
ہم تو بس یہ کہہ رہی تھیں کہ سمیر پہلے سے بھی زیادہ ہینڈسم ہو گیا ہے۔
نازیہ نے زرتشہ کے کان میں سر گوشی کی۔
تو کیا کروں میں؟
زرتشہ ان کی کوئی بھی بات سننے کو راضی نہی تھی۔
زرتشہ کو چڑ سی ہونے لگی سمیر کے ذکر پر۔
نہی تم کچھ مت کرو۔
بس ایک کام کرنا!
نازیہ اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے بولی۔
کیا۔۔۔؟
زرتشہ بھنوئیں اچکاتے ہوئے بولی۔
اب اگر تمہیں سمیر پرپوز کرے تو اسے ناں مت کہنا!
نازیہ ہنسی دباتے ہوئے بولی۔
زرتشہ نے سامنے پڑا رجسٹر اٹھا کر نازیہ کے سر میں دے مارا۔
اف۔۔۔پاگل ہو تم زرتشہ!
مجھے مارو گی کیا؟
نازیہ اپنا سر تھامتے ہوئے بولی۔
ہاں مار دوں گی میں تمہیں اگر دوبارہ تم نے ایسی گھٹیا بات کی تو۔
زرتشہ وہاں سے اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ گئی۔
نازیہ اور نیلم ہنسنے لگیں۔
اچھا یار۔۔ہم تو بس مزاق کر رہی تھیں۔
زرتشہ کے وہاں سے اٹھنے پر دونوں اس کے پیچھے بھاگیں۔
زرتشہ منہ پھلائے بیٹھی رہی۔
کلاس شروع ہو چکی تھی۔
اس کے بعد ان تینوں میں اس بارے میں کوئی بات نہی ہوئی۔
“سمیر کلاس کے باہر ہی رک کر فیصل اور نوید کا انتظار کر رہا تھا۔
وہ دونوں جیسے ہی وہاں آئے سمیر کو دیکھ کر دھنگ رہ گئے۔
نو نو نو۔۔۔سمیر یہ تم نہی ہو سکتے!
فیصل تو بس گرنے ہی والا تھا۔
نوید نے اسے تھام کر گرنے سے بچایا۔
سمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ دونوں بازو سینے پر باندھے ان کی حرکتیں دیکھنے لگا۔
اوہ مائی گاڈ!
سمیر یہ تم ہو؟
تم تو پہلے سے بھی زیادہ ہینڈسم لگ رہے ہو اب۔
فیصل دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
پھر گھٹنوں کے بل سمیر کے سامنے بیٹھ گیا۔
سمیر مجھ سے شادی کرو گے’
فیصل دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔
ایسے ہی ہاتھ جوڑے گی زرتشہ خان تمہارے سامنے!
فیصل آنکھ دباتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوئے۔
تینوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔
چلو بس کرو اب کلاس میں جانے کا ٹائم ہے۔
مس زرتشہ خان کو اچھا بچہ بن کر بھی تو دکھانا ہے۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔سمیر کی بات پر ایک بار پھر سے تینوں کا قہقہ گونجا۔
تینوں ہنستے مسکراتے کلاس میں داخل ہو گئے۔
سب سٹوڈنٹس کی نظریں سمیر پر ٹک سی گئیں۔۔سمیر کلاس میں!
پروفیسر صاحب بھی حیران ہوئے سمیر کو کلاس میں آتے دیکھ۔
ایک تو ساری کلاس سمیر کے کلاس میں آنے پر حیران تھی۔اوپر سے اس کا بدلا ہوا حلیہ دیکھ کر سب دیکھتے ہی رہ گئے۔
ہر طرف سمیر نامی سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
آو برخوردار!
آج کیسے رستہ بھول گئے کلاس کا؟
پروفیسر صاحب بھی ایسے کیسے جانے دیتے سمیر کو۔
گڈ مارننگ سر!
“سر یہ تو آپ کی خوش قسمتی ہے کہ میں آپ کی کلاس اٹینڈ کرنے آیا ہوں۔
ورنہ ایک دنیا ترستی ہے۔
“دی ڈان۔۔۔سمیر گجر سے ملنے کے لیے!
سمیر کی بات پر ساری کلاس ہنسنے لگی۔
پروفیسر صاحب نے وہی سے ڈسٹر کا نشانہ لگایا سمیر پر۔
جو سمیر نے با آسانی کیچ کر لیا۔
غلط نشانہ سر!
لگتا ہے آپ کی نظر کمزور ہو رہی ہے۔
اوہ۔۔۔آپ نے چشمہ اتارا ہوا ہے نا اسی لیے ایسا ہوا۔
چلیں کوئی بات نہی سر اگلی بار چشمہ لگا کر نشانہ لگانا آپ۔
ہو سکتا ہے سہی لگ جائے۔
پوری کلاس ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔
یو۔۔گیٹ آوٹ فرام دی کلاس!
پروفیسر صاحب غصے سے بولے۔
سمیر نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگا لیے۔
سر پلیز مجھے معاف کر دیں آپ!
آئیندہ ایسی غلطی نہی ہو گی سر۔
پروفیسر صاحب دھنگ رہ گئے سمیر کے اس رویے پر۔
اچھا ٹھیک ہے جاو بیٹھو اپنی سیٹ پر!
اگر حلیہ سدھار لیا ہے تو رویے بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کرو۔
ورنہ کوئی فائدہ نہی تمہارے اس حلیہ بدلنے کا۔
خود کو اندر سے بدلنے کی کوشش کرو!
اپنا رویہ،لہجہ سب درست کرو۔
ان کپڑوں اور بالوں کو درست کرنے کے علاوہ ایک اور کام بھی کرو۔
“اپنا اخلاق درست کرو”
“یہ مہنگے کپڑے اور مہنگی جیلز لگا کر بال سیٹ کر کے خوبصورت نظر آنے کا کوئی فائدہ نہی’جب تک تمہارا اخلاق ہی خوبصورت نا ہو!
“خود کو اندر سے سنوارو”
جی سر!
سمیر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوئے بولا۔
ٹھیک ہے اب کلاس کا وقت ضائع مت کرو جاو بیٹھو اپنی سیٹ پر!
پروفیسر صاحب اب کی بار تھوڑے نرم لہجے میں بولے۔
وہ تینوں مسکراتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گئے۔
لیکچر سٹارٹ ہو گیا۔مگر سن کون رہا تھا۔
سمیر اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہی کانوں میں کاٹن ڈالے بیٹھ گیا۔
پروفیسر صاحب بول رہے تھے اور وہ بس ان کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
چھٹی کا وقت ہوا تو تینوں کینٹین کی طرف بڑھی تا کہ لنچ کرنے کے بعد ہاسٹل جائیں۔
جیسے ہی تینوں کینٹین میں جا کر بیٹھیں۔سامنے والے ٹیبل پر سمیر،نوید اور فیصل آ کر بیٹھ گئے۔
سمیر کا رخ زرتشہ کی طرف ہی تھا۔
زرتشہ نے غصے سے اسے گھورا۔۔۔
مگر اسے کوئی فرق ہی نہی پڑا۔
وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے زرتشہ کو دیکھا ہی نا ہو اس نے۔
جیسے ہی زرتشہ دوسری طرف دیکھنے لگتی سمیر اس کی طرف دیکھنے لگ جاتا۔
مگر جیسے ہی زرتشہ اس کی طرف دیکھتی اس کی نظریں یا تو فون پر جمی ہوتیں یا پھر نوید اور فیصل سے باتیں کرتا دکھائی دیتا۔
زرتشہ کو کوفت سی ہونے لگی سمیر کو سامنے دیکھ کر۔
پچھلے چند دنوں میں اس کے دل میں سمیر کے لیے جو نرم گوشہ پیدا ہوا تھا اب کہیں دور رہ گیا تھا۔
نفرت کی آگ پھر سے جلنے لگی تھی۔
سمیر بھی تو یہ سب نفرت کی وجہ سے ہی کر رہا تھا۔
“اس دن جب زرتشہ نے اس کے ہاتھ میں چوڑیاں تھمائیں تو اسے بہت شدت سے اپنی بے عزتی کا احساس ہوا۔
ایک لڑکی اسے اس طرح چیلنج کر سکتی ہے۔اس نے کبھی سوچا نہی تھا۔
زرتشہ کے لیے اس کی نفرت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی تھی۔
آنکھوں میں درد تھا یا غصہ سمیر نہی جانتا تھا۔
وہ جانتا تھا تو بس اتنا کہ زرتشہ سے انتقام لینا ہے۔
بدلے کی آگ میں جلتا رہا وہ!
فیصل اور نوید جلدی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھے اور اس کے ہاتھ سے بہتا خون صاف کرنے کے بعد پٹی باندھی۔
سمیر کچھ نہی بولا۔
اب اس نے اپنا ہاتھ بھی واپس نہی کھینچا۔
شاید وہ خود بھی اس ازیت سے باہر نکلنا چاہتا تھا۔
وہ کسی گہری سوچ میں گُم سا بیٹھا تھا۔
آج تک کسی لڑکی نے اس کو جواب تک نہی دیا اونچی آواز میں’اور یہ زرتشہ خان تو چوڑیاں ہی تھما گئیں پہننے کے لیے۔
اس بات کا گہرا صدمہ پہنچا تھا سمیر کو۔
سمیر۔۔۔۔!
کیا ہوا ہے تمہارے ہاتھ پر؟
کچھ بولو تو سہی یار!
فیصل اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
سمیر نے خالی خالی سی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
زرتشہ خان!
سمیر بہ مشکل بس اتنا ہی بول سکا۔
زرتشہ خان۔۔؟
زرتشہ نے کیا یہ سب تمہارے ساتھ؟
فیصل بھنوئیں اچکاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے سمیر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
ہاں۔۔۔زرتشہ خان نے مجھے یہ چوڑیاں دیں تا کہ میں پہن لوں انہیں!
اس کا دماغ خراب ہو چکا ہے!
نوید نے دروازے سے اندر آتے ہوئے سمیر کی بات سن لی۔
وہ غصے سے کمرے میں بولتا ہوا داخل ہوا۔
اب مزید ایک اور دن نہی ٹکنے دیں گے ہم اسے اس یونیورسٹی میں۔
چلو فیصل میرے ساتھ!
نوید غصے سے فیصل کا ہاتھ تھامتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔
رک جاو تم دونوں!
سمیر کی آواز پر وہ دونوں رک گئے۔
ایسا کچھ نہی کرو گے تم دونوں!
یہ میری لڑائی ہے اور مجھے اب سمجھ آ گئی ہے یہ جنگ کیسے لڑنی ہے مجھے!
چوڑیوں کا جواب چوڑیوں سے ہی دینا پڑے گا مجھے۔۔!
وہ یہی چاہتی ہے ناں کہ میں اپنے بال کٹوا دوں،یہ مونچھیں کٹوا دوں۔
غنڈہ گردی بند کر دوں’
اب یہ سب کر کے دکھاوں گا میں اسے!
مس زرتشہ خان!
تیار ہو جاو تم!
آ رہا ہے “دی ڈان سمیر گجر”
ایک نئے انداز میں’تمہاری زندگی برباد کرنے!
سمیر اپنے پٹی باندھے ہاتھ پر نظریں جمائے سب بولتا چلا گیا۔
نہی سمیر!
ہم تمہیں ایسا نہی کرنے دیں گے۔۔۔تم ایک لڑکی کے لیے خود کو نہی بدلو گے۔
نہی۔۔۔میں ایک لڑکی کے لیے نہی’اپنے لیے خود کو بدلوں گا۔
سمیر نے فیصل کی بات کاٹ دی۔
“صرف اور صرف اپنے لیے!
اب پلیز کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو تم دونوں مجھے۔
میرا سر بہت چکرا رہا ہے۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔ہم دونوں ہمیشہ کی طرح آج بھی تمہارے ساتھ ہیں۔اور ہمیشہ رہیں گے۔
دونوں کمرے سے باہر نکل گئے۔
سمیر کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا۔مگر یہ فیصلہ اسے کرنا ہی پڑا۔
کیونکہ اب مردانگی کی تھی۔
“جب بات مردانگی پر آتی ہے تو مرد ہر حد پار کر جاتا ہے’اسے تو بس کسی بھی صورت اپنی مردانگی ثابت کرنی ہوتی ہے۔
پھر چاہے وہ راستہ سہی ہو یا غلط!
“چاہے وہ راستہ کسی کا دل توڑ کر ہی نا بنتا ہو۔مرد اس راستے سے بھی گزرنے سے گریز نہی کرتا”
ایسا ہی کچھ سمیر کے ساتھ ہو رہا تھا۔
وہ بدلے کی آگ میں خود بھی جل رہا تھا اور اس آگ کی لپیٹ میں زرتشہ کو بھی لینے والا تھا۔
زرتشہ کا قصور بس اتنا تھا کہ اس نے سمیر کا پرپوزل ایکسیپٹ نہی کیا۔
اب غلطی کی ہے تو سزا کی حق دار تو بنتی ہے ناں وہ۔۔۔
زرتشہ نے نازیہ کو اس کی جگہ سے ہٹا کر اپنی جگہ پر بٹھا دیا اور خود نازیہ کی سیٹ پر آ بیٹھی۔
اب سمیر اس کو نہی دیکھ سکتا تھا۔
زرتشہ پرسکون ہو کر برگر کھانے لگی۔
سمیر اور اس کے دوست وہاں سے اٹھ کر چل پڑے۔
ان کو جاتے دیکھ زرتشہ نے سکھ کا سانس لیا۔
نیلم اور نازیہ تو کھا کھا کر تھک ہی نہی رہی تھیں۔جبکہ زرتشہ بس ایک برگر کھا کر بیٹھ گئی۔
وہ ان دونوں کے انتظار میں تھی اب کہ جلدی سے یہ دونوں فری ہو لنچ سے تو وہ ہاسٹل پہنچے۔
اوہ۔۔مجھے تو بک لینی تھی لائبریری سے!
زرتشہ یاد آنے پر بولی۔
تم دونوں بیٹھو لنچ کرو۔میں آتی ہوں پانچ منٹ میں۔
زرتشہ اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے تیزی سے لائبریری کی طرف بڑھی۔
وہ لائبریری میں پہنچ کر اپنی مطلوبہ کتاب ڈھونڈنے لگی۔
اس نے رینک میں سے ایک کتاب اٹھائی تو دوسری طرف سمیر کا چہرہ نظر آیا اسے۔
اوہ۔۔۔زرتشہ ڈر کر نیچے بیٹھ گئی۔
اسے ڈر تھا کہ اگر سمیر نے اسے دیکھ لیا تو پتہ نہی کیسے ری ایکٹ کرے گا۔
زرتشہ نے اٹھ کر دوبارہ اٹھ کر رینک کے دوسری طرف دیکھا۔
سمیر نہی تھا وہاں۔
زرتشہ نے سکھ کا سانس لیا۔
سمیر رینک کی دوسری طرف سے زرتشہ کے پیچھے آ رکا۔
“مجھے ڈھونڈ رہی ہو؟
سمیر کی آواز پر زرتشہ پلٹی۔
جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا!
سمیر زرتشہ کے سامنے کھڑا تھا’چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے۔
زرتشہ بس پھٹی پھٹی سی نگاہوں سے سمیر کو گھورنے لگی۔
