Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi NovelR50496 Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 12)
Rate this Novel
Ja Tujhy Maaf Kiya (Episode 12)
Ja Tujhy Maaf Kiya by Khanzadi
وہ کچھ دیر یونہی کھڑکی کے پاس رکی رہی پھر آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
صبح کھڑکی سے اندر آتی سورج کی روشنی سے آنکھ کھلی تو اٹھ کر تیزی سے واش روم کی طرف بڑھی۔
منہ ہاتھ دھو کر نیچے پہنچی تو سمیر کی امی اور بہن باہر لان میں بیٹھی تھیں۔
زرتشہ ان کو سلام کرتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔
حنا جاو بھابی کے لیے ناشتہ لے آو۔
ماں کے کہنے پر حنا چہرے پر مسکراہٹ سجائے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ میں رات کو کافی دیر جاگتی رہی اسی وجہ سے دیر سے آنکھ کھلی ورنہ میں جلدی اٹھ جاتی ہوں روزانہ۔
زرتشہ نے جیسے صفائی پیش کرنا چاہی اپنی غلطی پر۔
کوئی بات نہی بیٹا۔۔۔۔ہو جاتا ہے کبھی کبھی ایسا جب کسی نئی جگہ جائیں۔
تم آرام سے ناشتہ کر لو اور پھر تیار ہو جانا ڈرائیور تمہیں یونیورسٹی چھوڑ دے گا۔
“ڈرائِیور کیوں آنٹی؟
سمیر کہاں ہے؟
زرتشہ کے چہرے پر پریشانی چھا گئی ڈرائیور کا سن کر۔
سمیر تو چلا گیا صبح،اس نے کہا مجھ سے کہ جب تم اٹھ جاو تو تمہیں ڈرائیور کے ساتھ بھیج دوں۔
مگر آنٹی میں ڈرائیور کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں؟
تم فکر مت کرو بیٹا سمیر اتنا غیر زمہ دار نہی ہے۔یہ ڈرائیور برسوں سے ہمارے ساتھ ہے۔
فکر مندی والی کوئی بات نہی اور نہ ہی ڈرنے کی ضرورت ہے۔
تم فکر مت کرو آرام سے ناشتہ کرو ۔
یہ لیں بھابی گرما گرم ناشتہ۔۔حنا نے مسکراتے ہوئے کھانے کی ٹرے زرتشہ کے سامنے رکھی۔
زرتشہ کا ذہن بس سمیر پر ہی اٹک کر رہ گیا۔وہ بے دلی سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔
سمیر مجھے ڈرائیور کے بھروسے چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے’مطلب اس نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا۔
خیر جو بھی ہو مجھے یہاں سے جانا ہے بس!
سمیر میرے ساتھ جائے یا نہ مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد زرتشہ برتن اٹھانے لگی مگر حنا نے اس کے ہاتھ سے برتن لے لیے اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔
دل کا برا نہی ہے میرا سمیر۔۔۔بس غصے کا زرا تیز ہے۔
اپنی من مانی کا عادی ہے،بچپن سے ایسا ہی ہے اس نے ہمیشہ وہی کیا جو اس کا دل چاہا۔
جب اس نے ہمیں اس نکاح کے بارے میں بتایا تو ہمیں بہت افسوس ہوا۔
مگر اب کیا کر سکتے تھے ہم نکاح ہو چکا تھا۔
مجھے بہت افسوس ہے اس بات پر اگر ہو سکے تو میرے بیٹے کو معاف کر دو۔
جو بھی ہوا اب تم دونوں کے درمیان ایک رشتہ ہے۔وہ رشتہ جو دنیا کا سب سے پاک اور خالص رشتہ ہے۔
اسے بھی بہت سمجھایا ہے کہ اپنے غصے پر قابو رکھنا سیکھ لے اب اور تمہیں بھی یہی سمجھاوں گی کہ اس رشتے کو دل سے قبول کر لو۔
جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا اب کچھ نہی ہو سکتا۔
جیسے ہی تمہاری پڑھائی مکمل ہو گی ہم سب خود تمہارے گھر جائیں گے اور تمہارے بھائیوں سے بات کریں گے۔
سب ٹھیک ہو جائے گا بس تم دل لگا کر اپنی پڑھائی کرو۔
لیکن اگر میری پڑھائی سے پہلے ہی میری گھر والوں کو اس نکاح کا پتہ چل گیا تو؟
زرتشہ جو اب تک خاموشی سے سب سن رہی تھی آخر بول ہی پڑی۔
“میری عزت،میرے خواب تو سب کچھ خاک میں ملا دیا آپ کے بیٹے نے،ہر وقت ایک ڈر سا لگا رہتا ہے دل میں کہ کہی میرے بھائیوں تک یہ خبر نا پہنچ جائے،،
میری جان ہر وقت سولی پر لٹکی رہتی ہے۔ایک ہفتہ ہو گیا اس نکاح کو اور اس ایک ہفتے میں مجھے کن حالات سے گزرنا پڑا ہے بس میں ہی جانتی ہوں۔
میرے لیے وبالِ جان بن گیا ہے یہ رشتہ!
“بس اپنی انا اور ضد میں آ کر سمیر نے میری عزت کا سودا کر ڈالا،،
آنے والے وقت میں کیا انجام ہو گا اس فیصلے کا ایک پل کے لیے بھی نہی سوچا اس نے اور آپ کہتی ہیں کہ میں اسے معاف کر دوں؟
“آپ ماں ہیں معاف کر سکتی ہیں اپنے بیٹے کو مگر میرا اتنا ظرف نہی ہے کہ میں اسے معاف کر سکوں،،
میں معزرت خواہ ہوں میں آپ سے اس لہجے میں بات نہی کرنا چاہتی تھی مگر میں حالات کے ہاتھوں مجبور ہو چکی ہوں،ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں آپ۔۔۔وہ ان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔
نہی بیٹا تم معافی کیوں مانگ رہی تم نے کچھ غلط تو نہی کہا۔
میں جانتی ہوں میرا بیٹا غلط ہے.
مگر جیسا تم اس کو سمجھ رہی ہو ویسا نہی ہے وہ،
کچھ سچائیاں ایسی بھی ہیں اس کی جو تم نہی جانتی،جب جان لو گی تو معاف کر دو گی اسے۔
اس کا طریقہ غلط تھا مگر اس نے یہ نکاح تمہیں تخفظ دلانے کے لیے کیا ہے۔
تخفظ۔۔۔۔زرتشہ نے ان کا بولا لفظ دہرایا۔
ہاں بیٹا تخفظ دینے کے لیے ورنہ وہ کبھی ایسا قدم نہی اٹھاتا۔
امی بھائی کی کال ہے۔۔۔حنا اچانک وہی آئی تو زرتشہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
بیگ اٹھانے لگی تو میسیج ٹون بجی۔
“یہ کمرے کے دائیں سائیڈ جو پردہ ہے اسے ہٹاو تو ایک دروازہ ہے۔
اس دروازے کے ساتھ ایک بکس رینک ہے۔اس کی تیسری لائن کی بک نمبر سات اٹھاو تو اس کمرے کا دروازہ کھل جائے گا۔
میرے بارے میں جو بھی گمان تمہارے دل میں ہیں ان سب کے جواب ہیں اس کمرے میں،اچھی طرح دیکھ لو اس کے بعد تم سمجھ جاو گی کہ میں نے یہ نکاح کیوں کیا ہے،،
سمیر۔۔۔!
سمیر کا میسیج پڑھتے ہی زرتشہ دائیں طرف لگے اس پردے کی طرف بڑھی۔
پردہ ہٹایا تو واقعی وہاں ایک دروازہ تھا۔
یہ دروازہ اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ جیسا دیوار کا ہی حصہ ہو۔
غور سے دیکھنے پر زرتشہ کو وہ دروازہ نظر آ ہی گیا۔
اب اس نے بک رینک کی طرف ہاتھ بڑھایا اور تیسری لائن کی ساتویں کتاب اٹھائی تو وہ دروازہ کھل گیا۔
وہ حیرت اور بے یقینی سے اندر کی طرف بڑھی۔
کمرے میں اندھیرا تھا مگر جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی کمرے کی لائٹ جل گئی اور دروازہ بند ہو گیا۔
زرتشہ واپس دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر اسے کوئی ہینڈل نظر ہی آیا۔
آخر اس کی نظر بکس رینک کی طرف پڑی اس نے پھر سے وہی بک اٹھائی۔
دروازہ کھل گیا مگر کمرے کی لائٹ بند ہو گئی۔
جیسے ہی اس نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا تو لاِئٹ پھر سے روشن ہو گئی۔
وہ سمجھ گئی کہ دروازہ بند ہونے پر ہی اس کمرے کی لائٹ جلتی ہے۔
زرتشہ پلٹ کر آگے کی طرف بڑھی۔
یہ کافی بڑا کمرہ تھا مگر زرتشہ کو ایسا کچھ نظر نہی آیا کہ جس سے اسے کچھ حاصل ہو سکے۔
آخر اس کی نظر دیواروں پر پڑی تو دھنگ رہ گئی۔
یہ تو۔۔۔!
نہی یہ نہی ہو سکتا۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے؟
وہ بے یقینی سے ہر دیوار کو دیکھتی رہ گئی۔
پھر اس کی نظر دیوار ٹیبل پر رکھے اس البم پر پڑی جو کل رات سمیر نے اس کے ہاتھ سے چھین لیا تھا ایسے جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
زرتشہ البم کھول کر ایک ایک تصویر کو کھولتی چلی گئی۔
ہر تصویر اسے حیرانگی کے سمندر میں دھکیلتی چلی گئی۔
وہ تیزی سے البم بند کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی اور اپنا فون اٹھا کر سمیر کا نمبر ملانے لگی۔
سمیر کا نمبر بند تھا اور ایک میسیج اور آیا تھا اس کا۔
“ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا زرتشہ، میرا طریقہ غلط تھا مگر محبت نہی۔۔۔
تم ڈرائیور کے ساتھ یونیورسٹی چلی جاو،آج کے بعد تمہارے راستے میں نہی آوں گا جب تک تم نہی چاہو گی۔
جب تک تم میرا میسیج پڑھو گی میرا نمبر اس وقت بند ہو گا۔
ہو سکتا ہے جلدی نمبر آن نا ہو مگر اس کا مطلب یہ نہی کہ میں تمہیں بھول چکا ہوں۔
میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرنا،،
تمہارا سمیر
۔۔۔۔
ساتھ ایک دل والا ایموجی تھا۔
زرتشہ کو پتہ ہی نہی چلا کہ کب آنسو اس کے گال بھگونے لگے۔
فون بیڈ پر پھینک کر وہ گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔
یہ سب کیا ہو گیا ہے میرے ساتھ؟
آخر میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے ایسا،میں نے تو کبھی کسی کا برا نہی چاہا پھر کیوں اس نے میرے ساتھ ایسا کیا۔
کیا ہوا بھابی آپ رو کیوں رہی ہیں،حنا کی آواز پر زرتشہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی اور آنسو صاف کرنے لگی۔
ککچھ نہی میں بس ایسے ہی گھر والوں کی یاد آ رہی تھی اور کچھ نہی۔
گھر والوں کی یا پھر گھر والے کی؟
میرا خیال ہے آپ کو بھائی کی یاد ستا رہی ہے،آپ فکر مت کریں وہ جلدی واپس آ جائیں گے۔
وہ ایسے ہی ہیں کب آتے ہیں اور کب چلے جاتے ہیں کچھ پتہ ہی نہی چلتا۔
میرا دل چاہ رہا تھا کہ آپ کچھ دن اور رکیں ہمارے ساتھ مگر بھائی کا حکم ہیں کہ آپ آج ہی یونیورسٹی چلی جائیں۔
بھائی بہت اچھے ہیں،بہت محبت کرتے ہیں آپ سے۔
پچھلے ایک مہینے سے جب بھی گھر آتے تھے بس امی سے آپ ہی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
مگر انہوں نے اچانک یہ نکاح کر لیا۔
وہ آپ کا دل نہی دکھانا چاہتے تھے،سب کچھ بتانا چاہتے تھے مگر موقع ہی نہی مل سکا۔
اسی لیے بھائی نے مجھ سے وہ البم اس کمرے میں رکھنے کو کہا تا کہ آپ خود ہی سب جان لیں۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو تمہارا بھائی بہت اچھا ہے مگر شاید میں ہی اس کی محبت کے قابل نہی یوں،تب ہی تو اسے پہچان نہی سکی،،
وہ دل ہی دل میں سوچتی مسکرا کر اپنا بیگ اور فون اٹھائے باہر کی طرف بڑھی۔
حنا بھی اس کے ساتھ چلتی گئی۔
سامنے سمیر کی امی کھڑی مسکرا دیں اور زرتشہ کو گلے سے لگا لیا۔
جاو میری بیٹی خیریت سے،امید ہے جلدی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں تمہارے دل۔سے۔
نا جانے کیوں زرتشہ ان کے اس قدر نرم رویے پر ان سے لپک کر آنسو بہانے لگی۔
امی اب چھوڑ بھی دیں جانے دیں بھابی کو انہیں دیر ہو رہی ہے۔
بھابی گاڑی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔۔۔حنا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مسکرا کر ان سے الگ ہوئی اور حنا کے گلے لگتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔
لیکن جب اس کی نظر سمیر کی جیپ پر پڑی تو بے ساختہ قدم جیپ کی طرف بڑھا دئیے۔
ایک نظر جیپ پر ڈالی،ڈرائیونگ سیٹ پر نظر ہڑتے ہی سمیر کا چہرہ آنکھوں سے گزرا۔
سٹئیڑنگ وہیل کو چھوتے ہوئی بے بسی سے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
گاڑی میں بیٹھی تو گاڑی سٹارٹ ہوئی۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکلتے ہی کچے راستے پر چل پڑی۔
ایک ایک منٹ زرتشہ کے لیے بھاری ہو رہا تھا۔
کل جو راستہ اسے بہت بھلا لگ رہا تھا آج وہی راہیں اسے کسی کی کمی کا احساس دلا رہی تھی۔
توں رہے ساتھ ہر پل
بس اتنی آرزو ہے
دل کرے بس تیری آرزو
اب کہاں یہ میرے ساتھ ہے
بس گئے تم دل میں دھڑکن بن کر
یہ دھڑکن اب جو رکے
تیرے ہاتھوں میں ہاتھ ہو
توں رہے ہر پل ساتھ
بس اتنی آرزو ہے
آنسو تھے کہ تھم ہی نہی رہے تھے،زرتشہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔
کاش کل رات میں تمہاری بات سن لیتی سمیر۔۔۔کس منہ سے معافی مانگوں گی میں تم سے؟
تم نے جو احسان مجھ پر کیا ہے کیسے اس کا بدلہ چکاوں گی میں؟
وہ شرمندگی کے دلدل میں دھنستی چلی گئی۔
بہت برا بھلا بول دیا تمہیں مگر تم تو میرے محافظ بن کر آئے۔
میری حفاظت کی اپنے ہی رشتوں کے پیچھے چھپی سازشوں سے بچایا مجھے۔
مگر میں کیسے نہی پہچان سکی ان کی سازشوں کو۔
کیسے کروں گی میں اب حالات کا مقابلہ۔۔۔
“مجھے تمہاری ضرورت ہے سمیر،،
جلدی واپس آ جاو۔
مگر میں تو یہی ہوں تمہارے پاس،تمہارے دل میں دھڑکن بن کر۔۔۔اس آواز پر زرتشہ نے اپنے اردگرد دیکھا تو سمیر نہی تھا۔
بس ڈرائیور ہی تھا جو چپ چاپ گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔
اس نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہی دیکھا،وہ بھروسے مند تھا۔
بس یہی وجہ تھی کہ زرتشہ مطمئن ہو کر سفر کر رہی تھی۔
گاڑی ہاسٹل کے گیٹ کے پاس رکی تو زرتشہ اپنا بیگ اٹھائے گاڑی سے باہر نکل کر گیٹ سے اندر داخل ہو گئی۔
وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
وہ تینوں ابھی یونیورسٹی سے نہی آئی تھیں۔
زرتشہ دروازہ بند کرتے ہوئے بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر گئی۔
رونے کی وجہ سے سر میں بہت درد تھا اور تھکاوٹ کی وجہ سے کب سو گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔
دروازہ ناک ہونے پر وہ دروازے کی طرف بڑھی۔
وہ تینوں دروازے کے باہر کھڑی تھیں۔
زرتشہ کو دیکھتے ہی ان کے چہرے پر خوشی کی مسکان پھیل گئی۔
زرتشہ بھی پھیکا سا مسکرا دی اور باری باری ان سب سے گلے مل کر آنسو بہانے لگی۔
ارے زرتشہ رو کیوں رہی ہو یار؟
“تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ جو مرد سچی محبت کرتا ہے وہ نکاح کرتا ہے”
تو پھر یہ رونا دھونا کیوں؟
عافیہ نے زرتشہ کو اسی کے بولے گئے الفاظ یاد کروائے۔
زرتشہ نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔
کیسے لگے تمہیں سمیر کے گھر والے؟
اب سوال نیلم نے کیا۔
ان کا رویہ تو ٹھیک تھا تمہارے ساتھ؟
ہاں سب بہت اچھے ہیں،سمیر کی ایک چھوٹی بہن ہے حنا۔
وہ دل کی بہت اچھی ہے اور اس کے ماں باپ بھی بہت اچھے ہیں۔
مجھے ایسا محسوس ہی نہی ہوا کہ میں کسی غیر کے گھر میں ہوں وہ سب مجھے اپنے سے ہی لگ رہے تھے۔
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں اپنے گھر میں ہوں۔
اور سمیر؟
اس کے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا۔۔۔نازیہ اپنی عینک درست کرتی ہوئی بولی۔
سمیر۔۔۔۔۔!
زرتشہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔کیا مجھے ان تینوں کو سچ بتا دینا چاہیے؟
نہی۔۔ابھی نہی صحیح وقت آنے پر سب بتا دوں گی۔
سمیر ویسا ہی لگتا ہے مجھے جیسا پہلے لگتا تھا بدتمیز انسان۔
وہ اپنے گھر جا کر بدل تھوڑی جائے گا جیسا یہاں رہتا ہے ویسا ہی وہاں۔
چلو تم لوگ چھوڑو یہ سب لنچ کرنے جاتے ہیں بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے۔
میں فریش ہو کر آتی ہوں تم تینوں بھی فریش ہو کر آ جاو۔
ٹھیک ہے۔۔۔وہ تینوں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
وہ تینوں کچھ دیر بعد ایک ہوٹل میں پہنچ گئیں۔
کھانا کھا رہی تھیں کہ اچانک باسط وہاں آ گیا۔
ارے زرتشہ تم کب واپس آئی گھر سے؟
اس کے اچانک سامنے آنے پر زرتشہ گھبرا گئی اور ان تینوں کی طرف دیکھنے لگی۔
وہ میں۔۔۔میں۔۔۔وہ زرتشہ کے لیے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔
یہ کل آ گئی تھی مگر طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے آج یونیورسٹی نہی آ سکی۔۔۔تمہیں اس سے مطلب؟
نازیہ غصے سے بولی۔
جانتے ہو ناں تم یہ کون ہے؟
اب زرتشہ سے دور ہی رہو تم اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر سمیر کو پتہ چلا تمہاری اس حرکت کا تو اس کے غصے سے تو واقف ہو تم۔
ہاں ہاں واقف ہوں میں!
جا رہا ہوں میں تو بس پوچھ رہا تھا۔
وہ ایک غصے بھری نظر نازیہ پر گاڑے وہاں سے چلا گیا اور وہ تینوں مطمئن سی کھانا کھانے لگیں۔
چھوڑو تم اس کو نازیہ کیوں اس سے بخث میں پڑتی ہو۔
یہ تو ہے ہی بد تمیز!
تم چپ چاپ کھانا کھاو۔۔۔عافیہ بولی تو نازیہ غصہ کنٹرول کرتی ہوئی کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔
کھانا کھانے کے بعد چاروں ہاسٹل کی طرف بڑھ گئیں۔
زرتشہ تمہاری اسائمنٹ کا کیا بنا؟
نیلم کے سوال پر زرتشہ کے چہرے پر پریشانی چھا گئی۔
اسائمنٹ تو بنا ہی نہی سکی میں۔۔۔اب کیا کروں؟
تم فکر مت کرو ہم سب تمہاری مدد کروا دیں گے صبح تک تیار ہو جائے گی۔
ٹھیک ہے۔۔۔زرتشہ مسکرا دی تو وہ سب بھی مسکرا دیں اور سب اسائمنٹ بنانے میں مصروف ہو گِیں۔
اسائمنٹ مکمل ہوئی تو وہ تینوں اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں۔
زرتشہ بھی دروازہ بند کرتی ہوئی سونے کے لیے لیٹ گئی مگر پھر فون اٹھا کر سمیر کا نمبر ملایا نمبر بند تھا۔
وہ گہری سانس لیتے ہوئے آنکھیں موند گئی۔
اگلی صبح وہ چاروں خوشی خوشی یونیورسٹی کی طرف بڑھیں تو گیٹ کے باہر کا منظر دیکھ کر ان سب کے چہروں پر حیرانگی چھا گئی۔
خضر لالہ۔۔۔۔!
بس زرتشہ اتنا ہی بول سکی۔۔
وہ دونوں بھائی غصے سے زرتشہ کی طرف۔۔۔ان کو غصے سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ زرتشہ کے ہاتھ پاوں کانپنے لگے۔
لالہ آپ دونوں اتنی صبح صبح یہاں’سب خیریت ہے؟
“جب بہن کی غیرت مر جائے تو بھائیوں کی نیند مر جاتی ہے”
بشر ذرتشہ پر نظریں گاڑے بولا۔
زرتشہ کو اپنے پیروں تلے زمین سرکتی محسوس ہوئی۔
کککیا مطلب؟
وہ بس اتنا ہی بول سکی۔
خضر نے آگے بڑھ کر ایک زور دار طمانچہ زرتشہ کے گال پر مارا۔
اس کے قدم لڑکھڑائے،وہ نازک سی لڑکی یہ تھپڑ برداشت نہ کر سکی اس کے ہاتھ سے کتابیں گر گئیں۔
وہ تینوں آگے بڑھیں زرتشہ کو سہارا دیا مگر بشر اس کا بازو کھینچتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا۔
دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔
کہاں ہے وہ لڑکا؟
خضر غصے سے چلایا۔
ککککون لڑکا۔۔۔؟
نیلم گھبراتی ہوئی بولی۔
وہی جس کے ساتھ تم ہمارے گھر آئی تھیں۔مجھے ابھی وہ لڑکا چاہیے۔
ان دونوں ککو ایک ساتھ زندہ گاڑوں گا میں،اسے بچانے کیی کوشش مت کرنا تم لوگ ورنہ اچھا نہیی ہو گا۔
وہ ابھی یہاں نہی ہے لیکن آپ اپنی بہن کے ساتھ ٹھیک نہی کر رہے۔
بہتر یہی ہو گا کہ آپ اسے یہی چھوڑ دیں ورنہ سمیر آپ دونوں کو نہی چھوڑوں گا۔
زرتشہ پر اگر ایک آنچ بھی آئی تو اس کا انجام برا ہو گا۔نازیہ غصے سے پھٹ پڑی۔
اگر وہ اتنا ہی بہادر ہے تو ابھی بلاو اسے،بشر بھی اسی کے انداز میں چلایا۔
ابھی وہ یہاں نہی ہے لیکن بہت جلد آپ کے سامنے ہو گا۔
تو ٹھیک ہے اسے کہنا کہ ہو سکے تو آ کر بچا لے اپنی محبوبہ کو اور تیار ہو جائے مرنے کے لیے۔۔ان دونوں کو ایک ساتھ ہی پھانسی پر لٹکاوں گا۔
خضر غصے سے بولتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی وہاں سے تیزی سے بھگا کر لے گئے۔
یہ کیا کہا تم نے نازیہ؟
ایسا نہی بولنا چاہیے تھا تمہیں اس طرح تو زرتشہ کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
کچھ نہی ہو گا تم دونوں فکر مت کرو۔
ہمیں سمیر کو کال کرنی چاہیے۔۔۔نیلم نے جلدی سے اپنا فون نکالا۔
مجھے نمبر دو سمیر کا۔۔۔
نازیہ نے فون نکال کر سمیر کا نمبر ڈائل کیا مگر وہ بند تھا۔
وہ دونوں مسلسل فون کر رہی تھیں مگر کوئی فائدہ نہی سمیر کا نمبر بند تھا۔
اب کیا کریں ہم؟
وہ دونوں پریشان تھیں مگر نازیہ بہت مطمئن سی تھی۔
تم دونوں فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا چلو ہم واپس چلتی ہیں ہاسٹل میرا پڑھنے کا بلکل جی نہی چاہ رہا۔۔نازیہ کے واپس پلٹنے پر وہ دونوں بھی ہاسٹل واہس چلی گئیں۔
“میں جانتی تھی یہ وقت آئے گا مگر اتنی جلدی آئے گا یہ نہی سوچا تھا۔زرتشہ کی سسکیاں گاڑی میں گونج رہی تھیں۔
مگر ان دونوں بھائیوں نے پلٹ کر اپنی بہن کی طرف نہی دیکھا۔
وہ بہن جس نے ہمیشہ اپنے بھائیوں کی بات مانی تھی اور آج بے قصور ہوتے ہوئے بھی وہ اسے قصور وار سمجھ رہے تھے۔
یہ سب کچھ کس نے کیا،کیسے پتہ چلا لالہ کو یہ سب؟
زرتشہ کے لیے یہ بات حیران کن تھی۔
یاد آیا وہ باسط تھا جو یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس کھڑا مسکرا رہا تھا۔
نہی۔۔۔یہ تم نے ٹھیک نہی کیا باسط،تم۔پچھتاو گے۔
سمیر تمہیں نہی چھوڑے گا۔۔!
وہ دل ہی دل میں سوچتی آنسو بہانے لگی۔
(جاری ہے)
