Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 16)

Ishq Tera by Laiba Khan

میں جانتا ہوں ہر کھیل کے لئے کسی نا کسی کو چنا جاتا ہے مگر میں ہی کیوں آنی میں ہی کیوں…؟؟؟

کھرکی کے پار پھیلتی صبح کی روشنی دیکھتا وہ اس بے حرکت وجود سے یوں سوال کر رہا تھا جیسے اسے جواب مل جانا تھا

مگر اچانک اس ویل چیئر پر بیٹھے اس وجود نے حرکت لی تھی

گود میں پرے بے جان ہاتھ نہ جانے کیسے اج حرکت میں ایا تھا

اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اٹھاتیں وہ معارج کی پیٹ کی جانب کرتی منہ سے اون اون کے اوازیں نکالنے لگتی ہیں

جیسے اشارہ تھا وہ اسکی جانب متوجہ ہو

آنی ۔۔۔

کیا ہوا ہے ؟؟؟

اور یہ ،،،،

ان کے ہوا میں اٹھے ہاتھ کو وہ دو لمحہ سکتے کے عالم میں بیٹھے یوں ہی دئکھے گیا تھا

میں بہت خوش ہوں انی بہت اپ جانتی ہیں نہ میں بہت خوش ہوں ۔۔۔۔!!!

ان کے گلے سے لپٹتا وہ بے انتہا خوشی کے مارے اور کچھ نہ بول پایا تھا

یہ جادو تھا ،،

یا معجزہ !!

وہ نہ واقف تھا

مگر یہ اللہ کا دیا تحفہ تھا

بہترین تحفہ ،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ برے ارام سے تکیہ پر ایک ہاتھ رکھے دوسرا بیڈ پر رکھے پرسکون لینے میں مگھن تھی

جب شیشہ سے ٹکرا کر اتی روشنی نے اس کی نیند میں خلل ڈالا تھا

منہ بناتی وہ چہرے پر کمبل لیتی کروٹ بدل گئی تھی

تم نیند کی اتنی پکی ہو اگر مجھے پتا ہوتا تو یقینا میں اس گھری نیند میں ڈوبی شہزادی کا فائدہ اٹھا لیتا ۔۔۔؟!!!

اپنے کان کے قریب ہوئی اس بھاری سرگوشی پر اسکی نیند جیسے جھٹکے سے بھاگی تھی

اپنی موجودگی کا احساس کرتی وہ ہونٹ دانتوں میں دبا کر پوری طرح کمبل میں چھپ گئی تھی

معارج جو اس کے اوپر ہی جھکا ہوا تھا

اس کی اس حرکت پر ہنس کر اور قریب جھک جاتا ہے

کیا یہ تمھیں مجھ سے بچانے والا ہے ۔۔؟

کمبل کو ایک ہاتھ سے ہکر کر بورے اس نے اگلے لمحہ اس کمبل کو اس سے جھٹکہ سے دور کر پھینکا تھا

مجھ تم میں اور خود میں یہ بے جان چیز بھی گوارہ نہی ۔۔۔

اس کے چہرے کے بے انتہا نزدیک جھک کر اپنے شدت بھرے انداز میں بول کر وہ پیچھے ہو گیا تھا

وہ جانتا تھا اگر اور دو لمحہ وہ یوں ہی رہتا تو اسکی روح نے پرواز کر جانا تھا

میں فریش ہو رہی میرا مطلب جا رہی ۔۔۔،،!!!

اسکی ایکسرے کرتی نگاہوان سے گھبراتے لیزہ نے سیکینڈ میں خود کو واش روم میں جا بند کیا تھا

اس کے جاتے معارج کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ بکھری تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسی ہیں اپی اپ ۔۔۔۔

معارج کے کمرے سے باہر جاتے ہی وہ باہر نکلتی ہے

جب اچانک اسکا فون رنگ ہوتا ہے

فون ہر ااف کا نام جگمگا رہا تھا جو اس نے سیکینڈ کی دیر لگاتی رسیو کر لی تھی

میں ٹھیک !!بابا تم سب کیسے ئو ؟؟

بے صبری سے پوچھتی وہ گیلے بال ٹاول سے نکالتی ہے

سب ٹھیک ہے بھائی ابھی تو ایک دن نہی ہوا گئے اپی ۔۔!!

دوسری جانب سے کھکھلاتی ایlaف کی اواز سنتی وہ دھیمے سے ہنس دی تھی

وہ نہی سمجھ سکتے تھی

وہ ایک وعدے سے بندھی تھی ایک فرض سے

اسکی ماں نے جاتے وقت ان دونوں کو علیزہ کے حوالے کیا تھا

یہ ایک رات بھی اسے صدیوں کے برابر لگی تھی

تم لوگ ا رہے ہو کیا ۔۔؟؟

بالوں میں برش کرتے ہوئی پوچھتی کیچر میں بال باندھتی وہ سر پہ دوبٹہ اوڑھ کر اٹھ کھری ہوئی تھی

نہی میں نے تو کہا مگر معارج بھائی کو ایسی رسمیں اچھی نہی لگتیں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کھلا پلا سکتے ہیں ۔۔۔!

منہ بنا کر بولتی وہ علیزہ کے ہنسنے کا سبب بنی تھی

سیدھا کہو تم مجھے یاد کر رہی ہو ۔۔۔!

اسکا اداس لہجہ نوٹ کرتی علیزہ اسے چھیر کر بولتی آخر میں ہنس دی تھی

یوں ہی ان دونوں میں کئی لمحہ ایک دوسرے کی کھینچا تانی میں گزر جاتی ہے

اس کی ہنستی ہوئی انکھوں کو کسی نے اپنے حصار میں کب سے لیا ہوا تھا وہ ناواقف تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔

جھٹکہ سے معارج نے انکھیں کھولی تھی

ماضی ماضی ماضی !!

نفرت ہے مجھے اس گزرے ماضی سے ۔۔۔

اور عشق ہے ہر اس ماضی میں گزرے لمحہ سے جس میں تم تھی ،،،،

علیزہ معارج !!!!۔۔۔

صرف تم !!!! ،،،،،،

مگر تم کبھی نہی جان پاؤگی !،،،،

سگریٹ سلگا کر اس نے کار سٹارٹ کر ڈالی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *