Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 07)Part 1,2

Ishq Tera by Laiba Khan

کون ہو تم لوگ ۔۔۔؟؟

اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں ۔۔۔؟؟؟؟

رسیوں سے بندھی وہ ٹھنڈے فرش پر ناجانے کتنے گھنٹوں سے پڑی تھی

بابا ہیلپ کریں میری کوئی ہے مجھے نکالو یہاں سے ۔۔۔!!!!

ابھی وہ اور چیختی اسے اپنے بلکل قریب سے کسی کی آہٹ محسوس ہوتی ہے

جیسے اسکی جانب کوئی بھاگ کرآ رہا تھا

بے قراری میں بھاگتا وہ کچھ ہی لمحوں میں اسکے قریب پہنچا تھا

ایلی تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟؟

ہاں یہ آواز جانی پہچانی تھی اس اواز میں کتنی بے چینی تھی وہ اندازہ نہی لگا پائی تھی

اسکے انکھوں سے پٹی ہٹاتے ہی وہ کئی پل کچھ دیکھ نہی پائی تھی

شاید وہ صبح سے اس حالت میں تھی اس لئے

کچھ ہی لمحوں بعد اسکی نگاہ اوپر اٹھی تھی اور جیسے وقت رک گیا تھا

سیاہ جینز پر براؤں شرٹ جس پر مٹی کے کئی دھبے تھے

وہ ہاتھوں سے اسکی رسیوں کھول دکا تھا جس کی وجہ سے اسکی نظر اسکے زخمی ہوئے ہاتھوں پر گئی تھی

شرٹ کی آستین پر بھی خون کے کئی دھبے تھے

ت تم نے م مجھے ۔۔؟،،،

وہ ابھی کچھ کہ پاتی جب سامنے بیٹھے شخص کی سرخ وحشت بھری انکھوں میں بے یقینی ائی تھی

اس عاشق کو اس قدر گرا ہوئے لقب سے مت نوازنا ایلی ۔۔۔!

وہ زرغامان میر زر تھا جس کے لہجہ میں ہمیشہ چٹانوں سی سختی بولتی تھی

مگر کیا تھی وہ سامنے بیٹھی لرکی وہ اسے اس قدر نرم اور کمزور پر جاتا تھا

تم نے مجھے کیسے بچایا ۔۔؟؟

اپنے الفاظ مکمل کرتی وہ اٹھ کھری ہوئی تھی کچھ فاصلہ سمٹ کر

میرے دل کی دھڑکنوں نے سرگوشیاں کی تھی تو پہنچ گیا یہاں ۔۔۔!

رسیاں سائیڈ پر پھینکتا اپنے بازو پر رکھی شال وہ اتار کر اگے برھتا اس کے گرد لپیٹتا چکا تھا

معارج کی دی گئی اطلاع اور ساتھ وہ کیوں چھپا رہا تھا وہ نہی جانتا تھا

مگر اس وقت اسے باتوں سے زیادہ اس پاس کھرے وجود کی فکر زیادہ لا حق تھی

تم کہاں تھی بھول جاؤ صبح سے کوئی بھی تم سے سوال نہی کرے گا خاموشی سے ویسے جاؤگی گھر تم جیسے جاتی ہو اب چلو۔۔۔!

اگے کی جانب اشارہ کرتا وہ اس پر کوئی سحر پھونک کر اگے چلنے لگا تھا

زرغامان میر زر پر یقین کیوں تھا

یہ جاننے سے ایلاف احسن قاصر تھی

اس کے ساتھ چلتی وہ کار کا فرنٹ ڈور ایک نظر دیکھ بیک سیٹ پر آ بیٹھتی ہے

اسکے ساتھ وہ جتنا سیف فیل کرتی وہ تھا تو اسکے لئے ایک اجنبی

پیچھے کھرے زرغامان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی کیونکہ شاید اسے امید یہی تھی

۔۔۔۔۔

صبح کی روشنی چہرے پر پرتے ہی وہ بیدار ہو اٹھتی ہے

پردے ایک طرف تھے اور ایک سائیڈ پر علیزہ سینے پر بازو باندھے اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی

کل رات وہ خاموشی سے ائی تھی اس کیطرح باقی گھر والے بھی

خاموش تھے

بیند کی دوائی لے کر وہ سوئی تو اب اٹھی تھی

اور اب سامنے علیزہ تھی وہ کچھ نہی جانتی تھی گھر والے کے دماغ میں کیا چلرہا تھا وہ کیا جانتے تھے کیا نہی

یہ کل اچانک تنھاری دوست نے اپنے نکاح کا اعلان کر کے کچھ ادھم نہی مچا دیا ۔۔۔؟؟؟

یعنی کہ وہیں کے کپرے وہیں تیار نہ مجھے بتایا تمھیں شرم اتی ہے میرا بھی دل ہے مجھے کیوں نہی لے کر گئی ہاں ۔۔۔؟؟؟

علیہ کی بات سن کر ایلاف جو کچھ لمحہ سکتے میں چلی گئی تھی زرغامان کے الفاظ یاد کر وہ جیسے ہوش میں اتی سکھ کا سانس لیتی ہے

ہاں نہی وہ آپی سب بہت جلدی ہوا تو ۔۔۔!

جھوٹ بولتے اس کی زبان نے جیسے ساتھ نہ دینے کی قسم کھا رکھی تھی

خود کو کوستی وہ بھاگ کر خود کو واش روم میں بند کر لیتی ہے

بچو میں بھی دیکھتی ہو بارات پر اکیلے کیسے جاتی ہو ۔۔۔!

منہ بنا کر بولتی علیزہ کمرے سے باہر نکل اتی ہے

کل انہیں ایلاف کی ہی دوست نے کال کر کے یہ سب بتایا تھا اور یہ بھی کہ ایلاف سے ا سلئے بات نہی کروا رہے کہ کہیں اپ کو بلا نہ لے کہ اس لے جائیں ان لوگوں کو زرغامان نے اچھے سے ہینڈل کیا تھا یہ سوچ کر ہی ایلاف پرسکون تھی

اسے چھپانا نہی تھا مگر وہ جانتی تھی اسکے گھر والوں نے پریشان کو جانا تھا یہ سب جان کر

پہلے ہی کیا علیزہ کے دکھ اور پریشانیوں کم تھیں جو وہ بھی ایک پریشانی لے اتی

کل کا ہوا حادثہ کوئی چھوٹا نہی تھا ہاں مگر اس شخص کا شکریہ ادا وہ کرنا چاہتی تھی

واش روم سے باہرنکلتی وہ بئڈ پر پرا اپنا فون اٹھا کر لوگ میں اس انجان شخص کا نمبر ڈھونڈنے کگتی ہے

یہ سب عجیب تو تھا مگر شاید کیونکہ اج کل اسکی زندگی میں سب ہی عجیب چل رہا تھا

اسکا نمبر ملتے ہی وہ سوچ میں پر چکی تھی

کہ ملاتی یا نہی ۔،،،ملاتی یا نہی

اممم ہاں ایک میسج کر دوں ۔۔!

ارے نہی بلکہ کال کر کے اپنے سوال بھی پوچھ لیتی ہوں ۔۔۔؟!!!

بابا یا بھائی میں سے کسی کو پہلے بتا نہ دوں ۔۔۔!

ہاں بھائی کو بتا دیتی ہوں پھر کال کرونگی اگر انہیں ٹھیک لگا تو۔۔۔!؟؟؟

خود سے بربراتی وہکمرے سے باہر نکل اتی ہے

سیرھیاں اترتے ہوئے اسکی نظر اپنے بھائی پر اٹھتی ہے جو سامنے ہی کھرا تھا شاید وہ باہر جا رہا تھا مگر کال کی وجہ سے وہیں کھرے وہ فون پر بات کرتا باہر جانے لگتا ہے جب ائلاف سامنے اجاتی ہے

یقینا وہ سمجھ جاتا ہے اسے بات کرنی ہے

مگر وہ بعد میں کرنے کا اشارہ کرتا باہر پورچ مین نکل اتا ہے

ایکاف بھی اسکا پئچھے وہیں ا جاتی ہے

اسکے فون رکھتے ایلاف کار کے ساتھ لگ کر اسے سننے کا اشارہ کرتی کل کا ہوا ساری واقع اسے بتانے لگتی ہے

اسکے بتانے کے ساتھ ساتھ زوار کے ماتھے کے بل برھتے جا رہے تھے

فکر مت کرو تم نے اچھا کیا مجھے بتا دیا اور کال شام میں کرنا۔۔۔!

میں ساتھ میں کھرا ہونگا پہلے دیکھیں کہ وہ شخص سچ میں بھروسہ کے لائق ہے بھی کہ نہیں کہیں یہ اسی کا تو ٹریپ نہی تم بچی ہو تمھیں سمجھ نہی ہے تم جاؤ اندر میں زرا اپنے دوست سے مل کر اتا ہوں ۔۔۔!

اسے پلے والا معاملہ بھی بتایا تھا ۔۔

ایلاف کے سر پر تھپکی دیتا زوار کار میں بیٹھ کر باہر نکل جاتا ہے

ایلاف نے اب پرسکون سانس لیا تھا

جیسے کندھے ہرائک بوجھ سا تھا

جو زوار کو سب بتا دینے کے بعد اب ہلکا ہلکا لگ رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلاف ۔۔!

ایلاف جو ابھی اوپر کی طرف برھ رہی تھی اپنے بابا کی گرجداد اواز سن اسکے اگے جاتے قدم رکے تھے

جی بابا کیا ہوا ۔۔۔؟

بھاگ کر انکے کمرے میں داخل ہوتی وہ انکا غصہ سے بھرا چہرہ دیکھتی ہے

انہیں ایلاف نے کم ہی غصہ میں دیکھا تھا

اور وہ جانتی تھی ان کا غصہ کتنے غضب کا ہوتا تھا

کیا ہوا ہے ۔۔؟

پاس کھری علیزہ کو دیکھ کر پوچھتی وہ نا سمجھی سے اب ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

کیا ہوا ہے زرا بتاؤ نہ بہت بری ہو گئی ہے نہ یہ بس اپنے بھائی کو بتا دیا باپ کیا مر گیا ہے جو اپنے درد اپنے ڈر اپنے اندر ہی چھپا رہے ہو ارے ایسا کیا کر دیا ہے میں نے جو تم لوگون کی نظرں سے گر گیا ہوں ایلاف اج بتا دو میں نے تمھیں مظبوط ا سلئے بنایا تھا کہ تم اس طرح کی اتنی بری باتیں اپنے باپ سے چھپاؤ ۔۔۔؟؟؟

وہ بے یقینی میں بولتے خود کو کوستے ایلاف کو بھی رلارہے تھے

نہی بابا ایسانہی میں بس اپ کو پریشان نہی کرنا چاہتی تھی ۔۔۔!

علیزہ کو کھرے دیکھ وہ سمجھ گئیتھی یقینا اسکی اور زوار کی بات سن کر ا سنے اپنے بابا کو بتا دیا تھا اور یہ بات کوئی اتنی معمولیسی تو نہ تھی جو یوں وہ در گزر کرُجاتے ۔۔

بات عزت پر ائی تھی گھر کی بیٹی پر ائی ھی

ایک بار پھر اسکے باپ کو بیٹی کا غمم مل گیا تھا یہ سوچ کر ایلاف خود کو زمیں میں گرھتا محسوس کر رہی تھی

میں نے ایک فیصلہ کیا تھا اب لگتا ہے وقت اگیا ہے اسے اسکے انجام کو پہنچا دیا جائے ۔۔۔!

تمھارا نکاح تنھاری ہھوپھی زاد سے طہ کر چکا ہوں میں نکاح اگلے ماہ تھ مگر اب نکاح اسی جمعہ ہوگا اب ایک اور بھی کوتاہی نہی معاف ہوگی یہی بہتر ہے تنھارے لئے ناجانے کون ہے وہ جو میری بیٹی کے پیچھے لگ چکا ہے مجھے تم سیکیور چاہیے ہو محفوظ بلکل یہ کیس اب زوار اور میں خود ہینڈل کرینگے علیزہ لے جاؤ ایلاف کو اسکے کمرے میں ۔۔۔!

اپنے حکم سناتے وہ خاموش ہو کر کھرکی کے پا س کاکھرے ہوتے ہین

جیس وہ اب لچھ بھی نہی سننے والے تھے

نکاح رشتہ پکا ہونا وہ تو کچھ نہی جانتی تھی ۔۔

سات اسمان جیسے ایک ساتھ اس پر گرا دیے تھے

ایک نظر انکی پیٹ کو دیکھ وہ روتی بلکتی اوپر کی جانب بھاگ جاتی ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زوار اور علیزہ کو اپنے باپ کے فیصلہ سے کوئی اختلاف نہ تھا اور ایلاف وہ کیوں مان گئی تھی

وہ سب اس بات کو لے کر پریشان تھے

مگر وہ سب جانتے تھے ایلاف سمجدار ہے وہ زمدگی کا اچھا برا جانتی ہے

اس نے اپنے باپ کے فیصلہ کے اگے سر جھکایا تھا

کیونکہ وہ فیصلہاسکے باپ نے اسکی بھلائی کے لئ سوچ کر کیا تھا

پرسوں جمعہ تھا بس ایک دن اور اس کی زمدگی بدل جانی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا کیا کوئی رسم نہی کرنی ابھی ۔۔!

علیزہ احسن صاحب کے کمرے میں کھری کل کے نکاح ہونے سے پہلی کی جانے والی رسموں کے باری میں پوچھ دہی تھی سب کزنز نے اسکا سر کھا لیا تھا کہ انہیں جاگا کرنا ہے انہیں یہ کرنا ہے انہیں وہ کرنا ہے

کیوں نہی ہونگے سب کرو میری جان اور زرا ایلاف کو بھیجنا ۔۔۔!

مسرا کر جوا دیتے وہ کتاب اٹھا لئتے ہیں

پاس ہی انکے چائے کا کپ پرا تھا جو علیزہ ساتھ لائی تھی

جی بابا بھیجتی ہو ۔۔!

خوشی اسکے چہرے ہر صاف واضح تھی کیونکہ ایلاف تو لاڈلی تھی اسکی بے انتہا

۔۔۔۔۔۔

بابا بلایا اپ نے ۔۔۔؟؟؟؟اپنے والد کے کمرے کے باہر کھری سفید رنگ کے سوٹ پر گلابی دوبٹہ لئے وہ بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی

بلکل آجاؤ میرے جگر کا ٹکرا۔۔۔!

جی جان سے اسکی جانب متوجہ ہوتے وہ کتاب رکھ کر اسے اپنے پاس بلاتے ہیں

انکے پکارنے کی دیر تھی وہ بھاگ کر ان سے جا لپٹتی ہے

اپ ناراض تو مہی ہو نہ بابا ۔۔۔؟

اپ جانتے ہو اپ ناراض ہوتے ہو مجھے سکون نہی ملتا یو نو نہ ہاؤ مچ ائی لو یو ۔۔۔؟

اپ میرے پیارے بابا ہو نہ بس میں پریشان نہی کرنا چاہتی تھی۔۔! اس لئے بس بھائی کو بتایا سچ میں مجھے لگا وقت دیکھ کر وہ بتا دینگے میری کوئی بری اٹینشن نہی تھی بابا۔۔۔

ان کے سینے سے لپٹی وہ جو کل سے خاموش تھی اب بولنے پر ائی تھی

تو پورا دل کھول بیٹھی تھی

میری بیٹی میری شہزادی میری پیاری اور چھوٹی سی جان بس کر دو کیا ہوگیا ۔۔۔!

مجھے تو لگا میرا پٹاخہ مجھ سے ناراض ہوگا ۔۔۔!

گر یہاں تو سین الٹا ہے اسکا بازوسہلاتے وہ ساتھ میں اسکی چھوٹی سی ناک دبا دیتے ہیں

جس ہر ایلاف نے منہ بسور کر انکھیں دکھائی تھیں

علیزہ اور زوار جو دروازے میں کھرے تھے اپنی بہن اور باپ کی ان ہرکتوں ہر ہنس کر واپس مڑ جاتے ہیں

ان دونوں باپ بیٹی کو یقینا کچھ وقت دینا چاہیے تھا

جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے

Part 2

کیا بکواس کی ہے تم نے ایک بار اپنے الفاظ دہراؤ یہیں زمیں میں زندہ دفن کر دونگا ۔۔۔۔؟؟؟

اسکے منہ سے جیسے شعلے برس رہے تھے

میر زر جو ابھی باہر سے لوٹ کر ساپس ائے تھے گھر سے اتی اواز سن وہ ماتھے پر بل ڈالے برے برے قدم لئتے اندر اخل ہوتے ہیں

سامنے ہی زرغامان معارج کا کالر پکرے کھرا اس پر زغضب ناک ہو رہا تھا

یہ سب ان کے لئے حیران کن تھا کیونکہ اگر اسکی جگہ علی ہوتا وہ اتنا نہ چونکتہ وہ معارج تھا زرغامان کی جس میں جان بستی تھی

کیا ہو رہا ہے یہ زرغامان اور کیا طریقہ ہے چھورو اسے ۔۔۔!

اگے برھ کر زرغامان کے ہاتھ معارج کے کالر سے جھٹک کر وہ باواز بلند چلاتے ہیں

its none of your businees mr؛meer zar!just stay away!!!!

اپنی بات کہ کر وہ واپس معارج کی طرف قدم برھانے لگا تھا

جب معارج کی اواز وہاں گونجتی ہے

مجھے مارنے سے اگر کچھ ہوتا ہے تو مارڈال مگر یہ وقت ہوش سے کام لینے کا ہے یوں سر پر جنون سوار کرنے کا نہیں دماغ استعمال کر اپنا زرغامان۔۔۔!

اسکو بازو سےپکر کے معارج نے جھنجھور ڈالا تھا

وہ دونوں کس بارے میں بات کر رہے تھے

وہاں موجود ہر کوئی انجان تھا

میں نہی اب یہ شخص کچھ کریگا کیونکہ اس سب کی وجہ یہ ہے۔۔۔!

انگلی اٹھا کر میر زر کی طرف اشارہ کر کے بولتا زرغامان سب کو حیران کر گیا تھا

سب کی انکھوں میں سوال اترے تھے

کہ ایسا کیا تھا جو میرزر نے خراب کیا تھا اور ٹھیک بھی اب وہی کر سکتا تھا

مجھے ایلاف احسن چاہیے ۔۔۔!

سن رہے ہیں سب مجھے ایلاف احسن اپنے پاس اپنی قید میں چاہیے ۔۔۔۔!!!!

جنونیت میں بولتا وہ سامنے کھرے میر زر کو بھی خاموش کروا گیا تھا

اپنے بیٹے کا یہ روپ کسی ایک سستی سی لرکی کے لئے دیکھ وہ حیران تھے

ہم کسی دو ٹکے کے گھرانے مین نہی جانے والے یہ آخری فیصلہ ہے ۔۔۔!

اپنی ماں کی اواز پر سرخ انکھیں بند کر کے کھوکتا وہ انکی جانب ایڑھیوں جے بل مڑا تگا

وہاں سب اس پاگل شخص کی جنونیت سے واقف تھے

سیاہ چمکتی وحشت بھری نگاہوں میں دیجھنا سب کے لئے محال ہو چکا تھا

اس قدر ان نگاہوں سے وحشت اور ایلاف احسن کے لئے جنونیت ٹپک رہی تھی

وہ دنیا میں واحد ہوگی جو میرے مرنے پر روئیگی جس کو میں حق دونگا اس سے پہلے اس کے ایک بہے انسو کا بدلہ یہ جنونی کیسے لیگا واقف تو ہونگی اپ ۔۔۔۔!

اسکے ٹھنڈے سرسراتے لہجہ میں کہے گئے ولفاظ نے انہیں منجمد کیا تھا

ایلاف احسن زرغامان میر زر کا جنون ہے جنون سے برھ کر وہ عشق ہے میرا وہ میری ہے اور میری ہو کر رہیگی اس کو مجھ سے دور کرنے کی سوچ بھی دفن کر دیں ورنہ اپ ،،،،،!!!!!

انگشت شہادت اپنے باپ کی جانب اٹھاتے اس نے اپنی بات مکمل کی تھی

اپنے اس دیوانے جنونی بیٹے سے تو واقف ہی ہیں !!!!

یہ بولتے اس نے پوری وقت سے پاس پری میز پر زور دار ضرب رسید کی تھی کہ لمحہ میں وہ زمین بوس ہو کر کرچیوں میں بٹ گئی تھی

وہاں موجود ہر نظر میں خوف امڈ ایا تھا

ایسے میں اسکا باپ تھا جو سینہ چورا کیے اس کے سامنے کھرا تھا اور دوسری جانب وہ جنونی شخص

معارج ۔۔!

وحشت بھری اواز میں اسے ہکار کر زرغامان باہر نکل جاتا ہے

معارج بھی ایک افسوس بھری مظر سینہ چورا کیے کھرے میر زر پر ڈالتا زرغامان کے پئچھے بھاگا تھا

اب اسے ہر قدم پر ساتھ دینا تھا

سید زرغامان کا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپی پلیز اتنا ہیوی فیل ہو رہا ہے ۔۔۔!

بس یہ ایک نیکلس کافی ہے نہ !!!!

لال سرخ جوڑا زیب تن کیے سر پر سیاہ حجاب پر لال دوبٹہ سیٹ اپ کیے وہ بلکل تیار تھی کمی تھی تو بس جیولری کی

افف اچھا بابا اب ٹھیک ہے ۔۔۔!

ہارایک سائیڈ پر رکھتی وہ اسے اسکی مرضی کا نیکلس پہنا کر ہاتھوں میں چوریاں بھرتی ہیچھے ہٹتی ہے

اسے علیزہ نے خود تیار کیا تھا

لال رنگ کی لپسٹک اور لائٹ ائی شیڈ اس نے ہیوی میک نہی کیا تھا اس لئے ڈارک لپسٹک لگا دی تھی جس میں وہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی

اوپر ست حجاب سف پھوٹتا نور اسے اور بھی پیارا بنا رہا تھا

دو پل تو علیزہ کی نظر بھی نہی ہٹ پائی تھی

انکھ پر انگلی پھیر کر کاجل لگاتی وہ ایک بری نظر سے بچنے کا ٹکہ اس کے کان کے پئچھے لگا دیتی ہے

میری شہزادی۔۔!

ماتھا چومتی وہ بھیگے گوشے صاف کرتی وہیں بیٹھ جاتی ہے

جب اچانک برات اگئی کا شور اٹھا تھا

ماشاء اللہ اگئی بارات چلو بیٹھو میں زرا رسیو کر لوں سب کو ۔۔۔!

اسکا ہاتھ دبا کر علیزہ باہر نکل اتی ہے

اج اس نے پہلی بار سر پر حکاب کیا تھا

ورنہ وہ فنکشنز میں سر پر دوبٹہ لیے رکھتی تھی

ایلاف کے پوچھنے پر وہ اب اپنے بالوں کا پردہ کریگی یہ کہ چکی تھی

ریڈ لانگ فراق ساتھ بھاری دوبٹہ سر پر سیاہ ہی حجاب کیے وہ غضب ڈھا رہی تھی

بیٹا تم سب عورتوں کو بٹھاؤ میں زرا ایلاف سے مل لوں ۔۔۔!

احسن صاحب جو وہیں سے گزر کر ایلاف کے پاس جا رہے تھے پاس سے گزرتی علیزہ کو روک کر بولتے وہ اگے برھ جاتے ہیں

علیزہ بھی دوبٹہ سنبھالتی لیوینگ ایریا میں اجاتی ہے

جہاں کتنے ہی مہمان ا چکے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا بیٹا تیار ہے ۔۔۔؟

دروازہ کھول کر اندر اتے سامنے بیٹھی اپنی شہزادی کو انکھ بھر کر دیکھتے وہ بھیگے لہجہ میں پوچھتے ہیں

ایلاف جو سر جھکا کر بیٹھی تھی اہنے بابا کیا آواز سن کر جھٹکہ سے سر اوپر اٹھاتی ہے

انکا لہجہ بھیگا سا تھا جس کی وجہ سے وہ لہنگا سنبھالتی ان کے نزدیک اکر وہ انکا بازو پکر لیتی ہے

کیا ہوا میرے ہیرو کو ویسے کافی ڈیشنگ لگ رہے ہیں ۔۔۔

کہیں کوئی آنٹی پھسانے کا پلین تو نہی بتا دینا کان میں اپ جانتے ہو انٹیاں ہٹانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے !!!!وہ ہنستے ہوئی بولی تھی

چل بدمعاش ۔۔!

اسکئ چلتی زبان کے جوہر پر توبہ استغفار کرتے وہ ایک تھپر اسکے سر ہر رسید کرتے ہنس دیے تھے

یہ ہنر انکی اولاد میں تھا

وہ روتے ہوئے شخص کو ہنسانے کا ہنر رکھتی تھی

اداس نہ ہوں یہیں ہوں اپ کے پاس علیزہ اپو بھی ہیں ۔۔۔

اور میں فکر نہ کریں شام کی چائے اپ کے ساتھ رات کا کھانا بھی فکر نہ کریں پیچھا نہی چھورنا میں نے ۔۔۔!

انکے سینہ سے لگی اپنی نم انکھیں صاف کر کے وہ انہیں حوصلہہ دیتی بری پیاری لگی تھی

مجھے میری بیٹی کو سمجھانے کی ضرورت ہی نہی ہاں مگر ایک بات یاد رکھنا !

سہنا وہ جو سہنا ہے ورنہ زبان ہے تم بکری نہی بیٹی ہو جو ہر باغ میں نہی کھلتی!!! اس لئے جب کہیں کچھ غلط ہو اپنے لئے سٹینڈ لینا ان بے ضمیر باپوں کی طرح مت سمجھنا جو کہتے یہ دہلیز پار کرتے تم ہمارے لئے مر گئی!!!

اب جو ہے وہی ہے نہی تم اس گھر کی بیٹی ہو !!

اس گھر کی بھی بیٹی بننا مگر وہاں اگر تمھاری عزت ہر کوئی بھی لفظ ائے اپنے لئے بولنا چپ مت رہنا غلط پر چپ رہنا والا بھی ظلم کرنے والے سے کم نہی ہوتا اپنی بیٹی کے لئے بہتر سوچا ہے اسے بہترین میرا اللہ کریگا ۔۔۔۔!

اسکے دانوں ہاتھ تھام کر بیٹھے وہ اس وقت ایلاف کو اس قدر مظبوط

کر گئے تھے

کہ کبھی ہی کوئی اس مظبوط بابا کی بیٹی کو توڑ پاتا

بابا چلیں نکاح کا ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔!

اور تم یار پکی چریل لگ رہی ہو ۔۔۔!

زوار کمرے میں داخل ہوتا پہلے اپنے باپ سے مخاطب ہو کر کانوں کو ہاتھ لگا کر ایلاف کو چھیر کر باہر بھاگنے لگتا ہے

مگر کچھ یاد اتے وہ الٹے پاؤں واپس مڑا تھا

تمھارا بازو ہو میں اور رہونگا یہ یاد رکھنا !!!!

کچھ بھی ہو بس ایک فون کال کی دوری پر ہوں میں ۔۔۔۔

جب تک زندہ ہوں حفاظت کرتا رہونگا اس لئے کوئی بھی پریشانی ہو میں حاضر ہوں ۔۔۔!

سر پر ہاتھ رکھتا وہ اسے حوصلہ دینے کے ساتھ جو مان دے رہا تھا

وہ ایلاف کےئے بے انتہا قیمتی تھا

میں بھی ہوں۔۔۔!

عکیزہ کمرے میں جھانک کر بولتی منہ پھلا کر اندر اتی ہے

یار اج کیا سب چریلوں میں پھنس گیا ہون میں ۔۔۔!

اوئے مارا کیون ۔۔۔؟؟؟

اسکے چریل کہنے پر علیزہ اور ایلاف ایک ساتھ اسکی پٹائی شروع کر چکی تھیں

احسن صاحب خوش تھے کیونکہ ان کے تینوں بچہ خوش تھے

ہاں مگر کچھ خوشیاں دکھاوا بھی ہوا کرتی ہیں !!!

یہ علیزہ کو دیکھ وہ سمجھ گئے تھے

وہ خوش تھی

اپنی بہن کی شادی کے لئے

ورنہ خوشی شاید ا سسے روٹھ بیٹھی تھی

چلو بھی سب

علزک اور زوار کی اوازپع وہ ہوش میں لوٹتے ہیںزززز

اگے برھ کر وہایلاف کا بازو تھامتے ہیں

ایک ہاتھ اسکا زوار نے سنبھالا تھا

تو لہنگا علیزہ نے پکرا تھا

اپنے تین قیمتی ہیروں کے بیچ چلتی وہ کوئی شہزادی ہی لگی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے لان میں تیار کیے گئے صوفہ پر بٹھایا تھا

جو سرخ رنگ کا تھا

ارد گرد ا سکے کئی ہھول تھے

تو دوسری جانب دلہا اندر گھر میں موجود تھا

نکاح کے بعد وہ بھی باہر اکر ایلاف کے ساتھ بیٹھنے والا تھا

مگر ناجانے وہاں کیا ہوتا ہے

جو دلہے کو بھی باہر لے اتے ہیں

ان دونوں کے بیچ کافی فاصلہ کر کے بٹھاتے وہ مولوی کو بلاتے ہیں

جو سٹیج پر چرھ کے اتا کرسی پر بیٹھ کچھ کاغز دیکھنے لگتا ہے

ایلاف احسن۔ کیا اپ کو ۔۔۔،،،،

ابھی مولوی صاحب کے الفاظ شروع ہی ہوئے تھے

وہاں زور دار گولی چلنے کی اواز گونج اٹھتی ہے

چونکہ نکاح ہو رہا تبا اس لئے ہر کوئی خاموش تھا

مگر اس آواز سے سب ڈر کر یہاں وہاں بھاگے تھے

اور ان کے بیچ سے سینہ تان کر چل کے اتا زرغامان سرخ انگارہ انکھوں زے سر جھکا کر بیٹھی ایلاف کو دیکھ رہا تھا

جس کا چہرہ گھومگھٹ میں ڈھکا ہوا تھا

ایلاف احسن ۔۔۔!

یہ اواز اسے جس چیز ما ڈر تھا وہی ہوا تھا

وہ شخص اسکے سامنے کھرا تھا اور وہ سر کیوں نہی اٹھا پائی تھی

وہ انجان تھی یا بن رہی تھی

م

کیوں بھول بیٹھی تھی اسے ۔۔۔

کیا اتنی حیثیت تھی زرغامان میر زر کے عشق کی اس کے سامنے

کون ئو تم اور یہ کیا حرکت ہے ۔۔!؟؟

زوار اسے پہچان گیا تھا

مگر وہ سب کے سامنے کوئی بھی تماشہ اس وقت افورڈ نہی کر سکتا تھا

اس لئے دھمی اواز میں دانت ہیس کر بولتا وہ اہنا غصہدبا رہا تھا

یر یہاں اگر کوئی مہمان موجود نہ ہوتا وہ کچھ نہ کچھ کر گزرتا

شششش ۔۔!

ہونٹ پرانگلی رکھ کر اسے چپکراتے اس نے ایک لمحہ کو اس سرخ گھونگھٹ لیے وجود زے نظر نہی ہٹائی تھی

نکاح کینسل کوئی شادی نہی ہو رہی چلو تم زندگی عزیز ہے تو نکلو۔۔۔!

پاس بیٹھے شخص پر ناگوار نظر ڈالتا وہ ایک غصہ بھری نظر ان کے بیچ فاصلہ ہر بھی ڈال چکا تھا

ابے او ہے کون تو نکاح کینسل کرنے والا ۔۔۔؟

چہرے سے سہرہ ہٹا کر وہ شخص کھرا ہوتا سامنے کھرے سینہ چورا کیے شخص کو دیکھ دو کمحہ کچھ بھی بولنے کی پوشیشن مین نہ رہا تھا

مگر بات اسکی عزت کی تھی

اس لئے سہرہ نیچے ہھینکتا وہ اسکے نزدیک اکر چلا کے پوچھتا ہے

وہ شخص زرغامان کے سینے تک اتا تھا

اس پر ائک نظر ڈال وہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا کار کی چابی ہوا میں اچھال کر سامنے کھرے شخص کا کالر دبوچتا ہے

دفعہ ہوجا اس سے پہلے یہ تیری سستی سی جان چلی جائے ۔۔۔!خود ہر کنٹرول کرنے کے لئے انکھیں بند کر کے کھولتا گرفت ہلکی کر کے چھورتا وہ گال سہلا کر دو قدم پیچھے ہٹتا ہے

ہے کون تو اور روکنے کی وجہ کیا ہے ۔۔۔؟؟

زوار تم جانتے ہو اسے کون ئے یہ کہیں تمھاری بہن کا ۔۔۔،،،

ابھی اسکے گھٹیا الفاظ مکمل نہ ہوئے تھے

جب زرغامان کے پرنے والے بھاری مکہ سے وہ زمین پر جا گرا تھا

say a word men and I will kill you..!!!!

انگلی اٹھا کر دہشت زدہ لہجہ میں بولتا وہ وہاں موجود سب پر خوف طاری کر چکا تھا

اور تم اٹھو اور اندر جاؤ ۔۔۔!!!

ایک نظر ایلاف پر ڈالتا وہ وہاں موجود کچھ لرکیوں کو اسے لے جانے کا اشارہ کرتا واپس اس زمین پر پرے شخص پر نظر ڈاکتا ہے

جو ایک مکہ سے ہی ادھ مرا ہوا زمین پر منہ پکرے پڑا تھا

نکاح ہے میرا اج اور اپکی ہمت کیسے ہوئی یہ تماشہ کرنے کی کون ہوتے ہیں اپ میرا نکاح ہے آج اور ہو کر رہیگا مولوی صاحب اپ نکاح شروع کریں ۔۔۔!

گھونگھٹ اٹھا کر سر ہر رکھ کر بولتی وہ زرغامان پر سے نظریں ہٹا چکی تھی

نکاح کروگی ٹھیک ہے کر کے دکھاؤ تنھارے جان تو اس جنونی کے لئے بہت قیمتی ہے مگر اپنی ۔۔۔،،،

لفظ ادھورے چھورتا وہ گن نکال کر سر پر اپنے رکھ چکا تھا

بولو کروگی نکاح ۔۔۔؟؟؟

ٹریگر پر انگلی رکھتا وہ خاموش کھرے احسن صاحب پر نظر ڈالتا وہ غرائا تھا

ہاں کریگی وہ مجھ سے نکاح ۔۔۔!

زمین سے اٹھ کے کھرا ہوتا وہ واپس بیٹھ جاتا ہے

مولوی صاحب مے دوبارہ اپنے الفاظ دہرائے تھے

جب ایک گولی چلی تھی اور جیسے سب ساکت ہوا تھا

ایلاف میں ہمت نہی ہوئی تھی نظر اٹھانے کی

پاگل ہو گیا ہے نکاح کرنے ایا ہے کر نہی تو اٹھا لے پھینک اس گھٹیا چیز کو نیچے ۔۔۔!!

معارج جو کب سے خاموشی سے باہر کھرا تھا بھاگ کر اندر اتے اس نے گن اسمان کی جانب بروقت کی تھی جس سے ہوائی فائر ہوا تھا

معارج کی اواز پر ایلاف نے جھٹکہ سے سر اٹھایا تھا

جس سے اسکی نظریں ان سرخ وحشت بھری نظرون سے جا ملی تھی

معارج کی بات کسی بھی خاطے میں لائے بغر وہ واپس گن اہنے سر ہر رکھ چکا تھا

دو قدم چل کر ایلاف کے نزدیک اتا وہ گھٹنوں کے بل نیچے گرتا ہے

ایلی تو صرف میری ہے تو اسکا نکاح بھی مجھ سے ہوتا ورنہ میں مر جاؤنگا ہان میں مار دونگا سب کو خود کو اس شخص کو۔۔۔۔!!!

اسکے ہر لفظ میں جنون تھا

ایلاف خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

جیسے الفاظ تو سارے وہ ختم کر چکا تھا

یہ شخص پاگل ہے اور میں اس لرکی سے ہر گز شادی نہی کرنے ولاا۔۔۔!

چلا کر بولتا وہ سہرا جو زمین پر پڑا تھا اسے پاؤں تلے روند کر باہر جا چکا تھا

زوار بھی اسکگ پیچھے جانے لگتا ہے

جب معارج نے اسکا بازو تھاما تھا

یہیں رکو۔۔۔!

اسکا رخ واپس ایلاف کی جانب کرتا وہ بازو چھورچکا تھا

مولوی صاحب نکاح پرھوائیں سید زرغامان میر زر سے ولد میر زر !!!!!!!!

حق مہر میں حق ہوتا تو اپنی جان لکھوا دیتا مگر میں محبت لکھواؤنگا ہر تحجد اور فجر کی نماز میں تنھارے ساتھ ادا کرونگا لکھ دیں حقِ مہر ۔۔۔۔!!!!!

ویسے ہی بیٹھے ایلاف کو نظروں کے حصار میں لیے وہ جو جو بول رہا تھا

اسکے الفاظوں ہر سب ساکت کھرے تھے

احسن صاحب کیوں خاموش تھے وہ سب اس وجہ سے پریشان تھے کوئی بھی ریمئٹ نہ کرنے کی آخر کیا وجہ تھی

ان کی بیٹی کے ساتھ کیا کچھ ہو گیا تح

اور وہ خاموشی سے سینے ہر بازو باندھے کھرے تھے

ایلاف احسن ۔۔۔!

اور موی صاحب نے نکاح شروع کر دیا تھا

اوازیں جیسے دور ہو رہی تھی

تین بار وہ اس شخص کو قبول کرچکی تھی جس کی وجہ سے اج وہ محفوط بیٹھی تھی

تھن بار وہ اسے قبول کر چکا تھا وہ دونوں ایک مظبوط رشتے میں بندھ چکے تھے

وہاں موجود کسی بھی شخس کی ہمت نہی تھی ایلاف احسن کو ایلاف زیغامان بننے سے روکنے کے۔۔۔!!!!

لیزہ لیزہ

زوار کی چیخ پر ایلاف جھٹکہ سے اٹھتی سٹیج سے نیچے اترتی ہے

زرغامان جو اب کھرے ہو کر معارج سے مل رہا تھا

اچانک ائی چیخون پر وہ بھی ایاف کے ساتھ نئچے اترتا ہے

اپی کیا ہوا ہے علیزہ اپی ۔۔۔!

زمین پر گری علیزہ کے پاس بیٹھ وہ اسکا چہرہ سہلاتی ساتھ میں پکار بھی رہی تھی

مگر کسی کی انکھوں میں وحشت اجنبیت اور ایک ہی لمحہ حیرانی ایک ساتھ اتری تھی

الٹے قدم قدم چلتا وہ جیسے ہد لمحہ اس وجود سے دور جا رہاتھا

وقت کے کھیل انوکھے ہوتے ہیں ۔۔۔!

ایک جانب وہ ایلاف احسن سے ایلاف زرغامان بن گئی تھی تو دوسری جانب علیزہ کا ماضی لوٹ ایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *