Ishq Tera by Laiba Khan NovelR50603 Ishq Tera (Episode 13)
Rate this Novel
Ishq Tera (Episode 13)
Ishq Tera by Laiba Khan
(ماضی۔۔۔۔۔۔۔)
علیزہ ایلی جلدی کرو بچوں ہمیں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
گھری پر وقت دیکھتے وہ انہیں تیسری بار اواز دے رہے تھے
جو نجانے کونسے اہم کامووں میں مصروف ہو گئیں تھیں اور وہ کب سے انتظار میں تھے
کہاں رہ گئیں اپ کی بیٹیاں بابا میں کہ رہا ہوں میری بیوی ناراض ہوئی نہ ان سے بدلہ لینا ہے میں نے ۔۔۔
صوفہ پر منہ بنا کر بیٹھے زوار کی دہائیاں ببی ساتھ جاری تھیں
احسن صاحب اسکی بات سن کر بس گھور کر رہ گئے تھے
تبھی وہ دونوں برقعہ پہنے باہر نکلتی ہیں
دونوں اسے گھوری سے نوازتی ہوئی چل کے احسن صاحب کے قریب ائی تھیں یقینا انہوں نے اسکی بات سن کی تھی جو اس نے انہی کو سنانے کے لئے ہھینکی تھی
بیوی لینے کون جا رہا ہے لرکی دیکھنے جا رہے ہیں اگر ہوئی کوئی معصوم اچھی پیاری سی تو نہ بابا نہ ہم نے اس بیچاری کی زندگی تھوری مراب کرنی ہے اس کے بھلے کے لئے اٹھ کر اجائنگےے کیوں اپو ۔۔۔؟
علیزہ کے کندھے سے کندھا مار کر بولتی وہ اب زوار کا پھولہ ہوا منہ غصہ سے اگ بگولہ ہوتا دیکھ رہی تھی
میں نے کہ دیا اگلے ہفتہ ہی نکاح پرھا دینا اگر جلدئ ہو لرکی والوں کو تو مجھے کال کر دینا اجاونگا گھوری پہ ابھی۔۔۔!
وہ جانتا تاھ اب احسن صاحب کاُپارہ ہائی ہو چکا تھا
تبھی تو دوسرا پتہ پھینک کر ایک ہی سپیڈ میں کمرے میں جا گم ہوا تھا
چلیں بابا ۔۔!
وہ دونوں ہنستی ہوئی چہرے پر نقاب کرتی احصن صاحب کے ساتھ باہر نکل جاتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپ اہیں تو ہمارے خاندان کے بارے میں کچھ بھی پتہ کروا سکتی ہیں باقی ہماری طرف سے ہاں ہے ہمیں اپکی بیٹی بے حد بھلی لگی ہے بہن جی ۔۔!
بہو نہی ہمیں بیٹی چاہیے دیکھیں کیسے میری بیٹیوں سے گھل مل سی گئی ہے ۔،،،،
ان شاء اللہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو ضرور بھائی صاحب ہمیں بھی اپ کی فیملی اور لرکا اچھا لگا ہے بس کسی کا انتظار ہے وہ اجائے تو پھر اپ کو جواب دیتے ہیں ۔۔۔لے اگیا ۔۔۔،
ابھی وہ بول ہی رہی تھیں جب دروازے سے کوئی چلتا ہوا اندر داخل ہے
علیزہ اور ایلاف تو عائشہ سے یوں باتیں کرنے میں مگھن تھیں جیسے بچپن کی بچھری ہوئی سہیلیان ہوں دوسری جانب معارج کو وہاں دیکھ احسن صاحب اٹھ کھرے ہوتے ہیں
معارج تم بیٹا یہاں ۔۔؟
اسکی موجودگی کی بے شک انہیں توقع نہی تھی
کیونکہ جہان تک انہوں نے سنا تھا لرکی کا نہ باپ تھا نہ بھائی
کیسے ہیں اپ انکل خالہ کی باتوں سے لگ گیا تھا پتہ باقی جانچ پرتال سے یقین میں بدل گیا کہ میری بہن کا رشتہ اپ لا رہے ہیں ۔۔۔!
یہ ماما کی جاننے والی اور ہمسائی تھیں اسی لہے بچہن انہی کے ساتھ گزرا تھا میرا اور عائشہ بیٹی ہے میری باپ سمجھیں مجھے اسکا ۔۔۔!
ان کے بغل میں اکر بیٹھتا وہ انکی الجھنوں کو سلجھا گئا تھا
ارے اب تو رشتہ پکا کر دیں بہن جی بلکہ معارج تم نے باپ کہا ہے خود کو تو بتاؤ منظور ہے رشتہ میرے بیٹے کی اور بھی کوئی جانچ کرنی ہو کر لینا مگر مجھے عائشہ بیٹی بہت بھلی لگی ہے ۔۔۔!
عاشہ تیئس سال کی ایک خوبصورت لرکی تھی سانولہ رنگ تیکھے نقوش کی مالک وہ اپنی عمر کی لگی ہی نہ تھی انہیں اسے دیکھ کر وہ ان سب کو انیس سال کی لرکی لگی تھی
اور کیسی جانچ خالہ منظور ہے رشتہ ۔۔!؟؟؟
معارج احسن صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سامنے بیٹھی عایشہ کی والدہ جو مخاطب کرتا ہے
جو مسکرا دیں تھیں
یقینا انہیں بھی اس رشتہ سے کوئی اختلاف نہی تھا
معارج کے چہرے پر مسکراہٹ تھی
اس رشتہ کو طہ ہوتا دیکھ ،،،
اس مسکراہٹ میں کیا چھپا تھا اس لمحہ سب نا واقف تھے واقف تھا تو وہ خدا وقت اور معارج!
“ اور عورتوں کے بارے میں تم اللہ سے ڈرو،کیونکہ تم نے انہیں
اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے زریعے حلال کیا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بابا ابھی پرسوں تو لرکی دیکھی تھی اج منگنی اففف تھک گئی کام کر کر کے پتا نہی اپو کیسے کام پہ کام کئے جا رہی ہیں یا اللہ یہ انسان نہی ہیں کیا تھکتی ہی نہیں۔۔۔؟؟
ایلاف تھک کر صوفہ پہ گرنے والے انداز میں بیٹھ کر دہائی دیتی احسن صاحب کے چہرے پرُمسکراہٹ بکھیر گئی تھی
کیونکہ علیزہ ان کی سگھڑ بیٹی تھی اور ایلاف علیزہ کو بس کام کرتے ہوئی کام حرام کرنے کا کام انجام دیتی تھی
بس کر دو ایلی کیا کیا ہے تم نے بس میرا سر کھاے کے یہ ڈیکوریٹ اور صفائیاں سب تو میں نے کی ہیں دہائیاں دیکھیں اس نوٹنکی باز کی ۔۔۔!
اپنے باپ کو دیکھ کر ایلی کا کان مرورتی وہ اسے گھوری سے نوازتی اس کے پاس ہی بیٹھ جاتی ہے
میرے بچوں بات سنو اج منگنی ہے کچھ وقت تک وہ لرکی اس گھر کا حصہ بن کر اجائیگی تم لوگوں کو اسے ایکسیپٹ کرنے میں ٹائم لگے گا اپنے ساتھ اس لئے شادی سے پہلے ہی تم لوگ گہرے دوست بن جاؤ
دوستی تو محبت کا مطلب بتاتی ہے ۔۔۔
باقی اٹھو اب باتیں ختم اور تیار ہو جاؤ لیٹ مت کرنا پلیز ۔۔،،!
کمرے میں جاتے ہوئے وہ انہیں گھور کر بولنا نہی بھولے تھے
ہائے اب تیار ہونا ہے اللہ پوچھے تمھیں ۔۔۔!
وہاں سے گزرتے زوار کو ائلاف نے کشن اٹھا کر دے مارا تھا
مگر وہ بدلہ لے پاتا یا کچھ سمجھ ہاتا وہ اس سے پہلے کمرے میں بند ہوئی تھی
علیزہ ان دونوں کو دیکھ کر ہنستی اپنے کمرے کی جانب برھ جاتی ہے
دوسری جانب زوار بیچاری سے شکل لے کر اگے برھ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریب اپنے عروج پر تھی
ایسے میں علیزہ گجرے والی تھال اٹھانے گھر میں داخل ہوتی ہے
اورنج رنگ کا لہنگا پہنے بھاری دوبٹہ ملٹی شیڈ کا کندھے پر لئے سر پر خوبصورت سے طریقہ سے حجاب کیپ کے ساتھ حجاب کیے وہ اج آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی
میک کے نام پر ائی شیڈو اور لپس ٹک لگائی تھی جو ائلاف نے زبردستی اس کے چہرے پرُعلیزہ کے بقول تھوپی تھی
ایلاف نے بھی علیزہ کی طرح کا ہی لہنگا پئنا تھا
بس اس کے حجاب کا رنگ الگ تھا
وزنی دوبٹہ سے ایک ہاتھ سے الجھی دوسرے میں گجروں کی تھال تھامے وہ بغیر سامنے دیکھے چکی جا رہی تھی
جب اچانک ہی وہ کسی کے سینے سا جا ٹکراتی ہے
اس کا ماتھا سامنے کھرے شخص کے کندھے پر لگا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈسبیلنس ہوتی گرنے لگتی ہے
مگر سامنے کھرے شخص کے بازوں نے اسے تھام لیا تھا
دو لمحہ سے پہلے رلیزہ اس سے دور ہوئی تھی
کبھی سامنے دیکھ کر نہی چلتی کیا اپ ۔۔۔؟
علیزہ کو نظروں کے حصار میں لئے معارج بولتا اسکے یوں پیشانی سہلانے ہر مسکرا دیتا ہے
وہ نازک تھی وہ جانتا تھا پر اتنی نازک کے اسکا اسکی پوری پیشانی ہی سرخ ہو گئی تھی
نہی مجھے منع کیا گیا ہے ۔۔۔!
غصہ میں بھرے لہجہ میں جواب دیتے وہ ایک سائیڈ سے گزرنے لگتی ہے
جب ایلاف جو وہاں اسے ڈھونڈنے ائی تھی یوں اسے پیشانی مسلتے ہوئے چلتا دیکھ بھاگ کر اسکے قریب ائی تھی
معارج کی نظریں علیزہ پر پی ٹکی تھیں
جو معارج کی ہی برائیوں کرتی ہوئی ایلاف کے ساتھ باہر جا رہی تھی
تم خود پر ترس کھانے کے قابل نہی رہے معارج ۔۔۔!
یہ وہ اواز تھی جو وہ کتنے ہی دن سے نظر انداز کر رہا تھا
وہ اسکےا ندر کی اواز تھی
جو اسے ٹوک ٹوک تھکنے لگی تھی
ایسا کیا حاوی ہو گیا تھا جو معارج خود کی زات کو ہی فراموش کرنے پر تل گیا تھا
سر انگیجمینٹ شروع ہونے والی ہے اپُکو باہر بلا رہے ہیں ۔۔۔!
بھاگتا ہوا گارڈ اسکے زدیک اکر پیغام دیتا اسکے اشارہ پر باہر نکل جاتا ہے
“یہ کھیل زندگیوں کا کھیل ہے اس کی گھر میں سانس لیتی زندگیں کا”!!!!!!! ،،،،
اس گھر کو نفرت بھری نظروں سے دیکھتا وہ بھاری بھاری قدم لئتا باہر نکل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت جیسے ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلتے ہوئے گزر رہا تھا
زوار کی انگیجمینٹ عائشہ سے ہوئے دوسرا ہفتہ تھا
اور عائشہ کی والدہ یہاں کوئی خاص بات کرنے کے لئے اج موجود تھیں
علیزہ انہیں چائے کا کپ دیتی ان کے پاس ہی بیٹھ جاتی ہے
ایلاف کالج میں تھی زوار اور احسن صاحب سامنے ہی بیٹھے ان سے باتوں میں مصروف تھے
باتیں تو چلتی رہینگی بھائی صاحب مگر اج میں اپ سے کچھ مقنگنے ائی ہوں ۔۔؟
چائے کا کل سامنے رکھتی وہ احسن صاحب سے سیریس انداز میں بات کا آغاز کرتی ہیں
حکم کریں اپ بہن مانگنے کی کیا بات ہے ۔۔!
زوار اور علیزہ سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ انکھوں ہی امکھوں میں سوال کر رہے تھے
جب عائشہ کی والدہ اپنی بات کہنا شروع کرتی ہیں
معارج میرا بیٹا نہی ہے مگر اس نے بیٹے سے برھ کر میرے لئے سب کیا ہے عائشہ کا باپ بن کر کھرا رہا ہے وہ جب کہ اس کی اپنی ماں بھی اسے کچھ سال پہلے چھور کر چلی گئی تھی ۔۔!
اس کے باپ کا انتقال تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا ،،،
نہ اس کا کوئی بھائی ہے نہ بہن ،،
اسی لئے وہ کچھ اہم کام میرے ہی سپرد کرتا ہے !!!
میں اج معارج اپنے بیٹے کے لئے اس کی مان بن کر ائی ہوان اپ کی بیٹی علیزہ کا رشتہ لینے ۔۔۔!!!!!
